Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 36
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 36
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
نہیں پلیز میں اس پر چڑھ کر بیٹھنا تو دور کی بات سفر تک نہیں کر سکتی۔۔۔
وہ رنوے پہ موجود ہیلی کاپٹر کو دیکھ کر جیسے بوکھلائی تھی اور خوفزدہ ہو کہ سہمی ہوئی آواز میں کہہ رہی تھی ۔۔اس کے دل کے جیسے ہول اٹھ رہے تھےمتوقع ہوائی سفر کے متعلق سوچ سوچ کہ۔ ۔۔۔
یار تم تو مجھ جیسے بقول تمہارے ہلا خان سے گھبرائی نہیں کبھی۔۔۔ یہ تو پھر بے ضرر بے جان ہے۔ ۔۔۔۔۔۔
وہ سوہا کے سراسیمگی لیے تاثرات پہ محظوظ ہوا اور ساتھ ہی ہیلی کاپٹر کے اندر جا کے اس کو ہاتھ دیا تھا اندر آنے کے لئے ۔۔۔
مجھے نہیں آنا اندر آپ بھی واپس آئیے نیچے فوری۔۔۔۔
وہ ضدی لہجے میں بولی آنکھوں میں خوف کی تحریری رقم تھی ۔۔۔
یار تمہارا مسٹر پائلٹ پوری دنیا کو بڑے بڑے جہازوں میں ادھر سے ادھر ہواؤں میں لے کر گھومتا ہے اور تم ہو کہ اعتبار کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہو۔۔۔۔۔۔
افسوس ہوا بہت ۔۔ ۔۔۔!!!
وہ چہرے پر مصنوعی خفگی سجا کہ کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
بس میں کچھ نہیں جانتی آپ نیچے اترئیے ۔۔
تم اندر آ رہی ہو خود چڑھکے یا پھر میں تمھیں چڑھاؤ؟؟؟
بعد میں مجھ سے پھر گلا نہ کرنا۔۔۔
وہ اب دھمکیوں پر اتر آیا تھا پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ مسلسل نہی نہی کی گردان کئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔
میں جارہی ہوں اگر آپ نے آنا ہو تو واپس آجائیے گا ہم لوگ بائی روڈ بھی جا سکتے ہیں ۔۔۔
وہ کہتے کے ساتھ ہی الٹے قدموں پلٹ چکی تھی۔۔
بیوقوف لڑکی میں ہوا کو چیرتے ہوئے بادلوں سے باتیں کرتا پھرتا ہوں اور محترمہ کہہ رہی ہیں کہ بائی روڈ جانا ہے ۔۔
وہ خائف سہ ہوا اور جمپ لگا کہ ہیلی کاپٹر سے نیچے اتر آیا ۔۔۔
شکرکہ آپ آ گئے ۔۔۔۔
ویسے مجھے پتا تھا آپ کبھی مابدولت کا حکم نہیں ٹالیں گے۔۔۔
وہ فرضی کالر اس اچکا کہ بولی تھی۔۔۔
بجا فرمایا آپ نے ۔۔۔
میں تو آپ کے حکم کا غلام ہونا؟؟؟
اسی لئے تو مجھے دنیا میں بھیجا گیا ہے آپکی چاکری کرسکوں۔ ۔۔۔
وہ دانت پیس کہ ایک ایک لفظ چبا چبا کے بولا تھا اور ساتھ ہغیر سوہا کو سمجھنے کا موقع دیا اپنے بازو میں بھر کر بانہوں میں اٹھا گیا ۔
یہ۔۔۔۔ یہ ۔۔۔کیا۔۔۔۔؟؟؟
چھوڑیں مجھے اتارئیے نیچے۔۔۔
میں نے آپ کو کتنا کہا ہے کہ مجھ سے دور رہیں اور پلیز مجھے یہ دو مہینے کے بچوں کی طرح ہر وقت گود میں مت اٹھا لیا کریں۔۔۔۔۔!!
وہ چڑھ سی گئی تھی ۔خفا خفا سے لہجے میں گویا ہوئی ۔ ۔۔
خاموش ایک دم خاموش اب اگر ایک لفظ بھی تمہارے منہ سے نکلا نہ تو ہیلی کاپٹر کے ونگز کے اوپر بٹھا کہ خود ہیلی کاپٹرکے اندر بیٹھ کے چلا دوں گا ۔۔۔۔
پھر کھیلتی رہنا ہواؤں کے ساتھ گلی ڈنڈا۔ ۔۔۔۔
وہ خشمگیں نظروں سے گھورتے ہوئے برہمی سے بولا تھا۔ ہیلی کاپٹر اس کی ذاتی ملکیت تو نہ تھا ایک مقررہ وقت پر اس کو واپس بھی ادارے کے حوالے کرنا تھا اور وہ پرکالہ تھی کہ نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے تھے ۔
کک۔۔۔۔۔ کیا کہا ۔۔۔۔؟؟؟
کیا آپ مجھ پہ اتنا بڑا ظلم بھی کرسکتے ہیں ؟؟؟
حیرت سے اس کا منہ کھلا رہ گیا تھا جبکہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور لہجے میں اچھبنا تھا ۔۔
میں اس سے بھی زیادہ ظالم ہو اور ظلم کی تو بات ہی نہیں کرو۔۔۔۔ جب گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلتا تو میں مظالم کی انتہا بھی کردیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔!!
جانے کیوں وہ سفاک ہوا تھا یا پھر سوہا کو لگا ۔
وہ اس کو اٹھا کہ ہیلی کاپٹر کے اندر اپنے برابر والی نشست پہ بیٹھاکہ تیزی سے اپنی نشست سنبھال چکا تھا ۔۔۔۔
سیٹ بیلڈ باندھ لو اب ہم کچھ ہی سیکنڈ میں ہواؤں سے باتیں کرنے لگیں گے ۔۔ ۔۔
وہ سوہاکے بھولے ہوئے چہرے پہ۔ ایک شریر سی مسکراہٹ اچھال کہ بولا تھا کچھ لمحوں پہلے والی لفگی و جھنجھلاہٹ کی جگہ اب نرمی نے لے لی تھی جبکہ سوہا بغیر اس کی طرف دیکھے سیٹ بیلٹ باندھ رہی تھی ۔۔۔۔
ساتھ ہی لبوں پہ خوف کے مارے آیت الکرسی کا ورد بھی جاری تھا۔۔۔
ہاتھوں میں واضح لڑکھراہٹ تھی جیسےمتوقع سفر سے خوفزدہ ہو۔۔
بے حواسی اس قدر تھی کہ سیٹ بیلٹ بھی لگ کے نہیں دے رہی تھی ۔
ادھر لاؤ میں باندھ دیتا ہوں۔۔
وہ کہہ کر تھوڑا سہ جھکا تھا سیڈ بیلڈ لگانے کو۔۔۔۔۔۔
مجھے گدگدی۔ ہورہی ہے۔۔۔
پلیز دور ہٹئے مجھ سے۔ ۔۔۔
کھلکھلاتی ہوئی بولی۔۔۔
یار میں نے کونسا تمہیں جان کہ چھوا ہے۔۔۔۔؟؟؟
ابھی تمہارا یہ حال ہے تو بیوی بن کہ تو تم میرے قریب آنے پر پورے کمرے میں کلانچیں بھرتی پھروں گی ۔۔۔۔
وہ بھنوٹ ہوچکا تھا اور سو ہا سیٹ بیلٹ لگانے کےبعد پیچھے بھی ہٹ چکا تھا۔ ۔۔۔
ہیلی کاپٹر کا انجن اسٹارٹ کرتے ہوئے مصطفی نے خونخوار نظروں سے سوہا کو دیکھا تھا
ّوہ اب بھی کھی کھی کھی کر رہی تھی ۔۔۔۔
ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو تی وہ مصطفی کو بھی ہنسنے پر مجبور کر دے ۔۔۔۔۔
چلو شفا ابھی باہر چلو انکل کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
(عاشیر رحمان کے کزن کا بیٹا جو کہ بزنس کے سلسلے میں کراچی آیا ہوا تھا )نے شفاء کو سنبھالا دیا تھا ۔۔
شفا کا وہ ایک بہترین دوست تھا۔۔ ہسپتال آتے وقت آ شیر نے شفا کے اترے چہرے اور اڑی اڑی رنگت دیکھ کر بغیر کسی قسم کی تمہید باندھے اس کی اداسی کا سبب دریافت کیا تھا اور شفا جو کہ خود بھی اپنا دل ہلکا کرنا چاہتی تھی ایک دوست بہترین ہمدرد پاکہ جیسے اپنا ضبط کھو بیٹھی اور اپنے اوپر گزری ایک ایک بات اس کے گوش گزار کرتی چلی گئی۔۔۔
عا شیر تمام داستان سن کہ خاموش سا رہ گیا وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اس پھولوں سے کندی لڑکی کو کس طرح دلاسہ دے اور اب جب حمزہ کو سامنے دیکھ کہ شفا کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا ایک جا رہا تھا ۔۔۔
حمزہ اور رحمان صاحب کے مابین ہوئی گفتگو سن کر وہ شفا سے کچھ اسی طرح کا ردعمل توقع کر رہا تھا ۔۔
حمزہ چہرے پر شدید اشتعال لیے شفاء کی طرف بڑھا تھا۔۔۔ وہ اس پل یہ تک بھول بیٹھا تھا کہ کہاں اور کس جگہ موجود ہے ؟؟
کن حالات سے وہ لوگ گزر رہے ہیں ۔؟؟؟مگر جیسے اس کی مردانگی اور انا یک دم مجروح ہوئی تھی ۔۔
یاد تھا تو بس اتنا کہ اس کی شفا کو کسی نامحرم نے ہاتھ لگایا ہے ۔۔۔۔
بازو سے تھام کر سہارا دے رکھا ہے اس کا خون کھول اٹھا تا دل کر رہا تھا کہ ہر چیز کو تہس نہس کر دے یا پھر عاشیر کا سرتوڑڈالے ۔
مگر پھر ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے اپنے باپ جیسے چچا کا خیال آگیا اور وہ مٹھیاں بھینچ کہ بڑی مشکل سے خود کو کچھ بھی سخت سست سنانے سے روک سکا تھا ۔۔۔
دھپ۔ ۔۔ دھپ۔ ۔۔ دھپ ۔۔
وہ کتنےہی قدم کا فاصلہ صرف تین قدموں میں تہ کر گیا تھا ۔۔بھاری بوٹوں کی آواز اسپتال میں تاری سناٹے کو چیر سی گئی تھی ۔۔
میں تمہیں تھام سکتا ہوں۔۔۔
تمہیں سہارا دینا میرا کام ہے نہ کہ ہر ایک ایرہ غیرہ تمہیں لڑکھڑاتا دیکھ اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے پہنچ جائے ۔۔۔۔
وہ شفا کی مرمی کلائی کو اپنے ہاتھ میں جکڑ کہ ایک لفظ کو چبا چبا کہ بولا تھا۔۔۔
انداز ایسا تھا کہ یا تو مرجائے گا یا پھر مار ڈالے گا ۔۔۔۔
پہلی بات یہ کہ جس کو آپ ایرا غیرا کہہ رہے ہو وہ میرا بہترین دوست ہے اور دوسری اور آخری بات جواب آپکو بہت اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے اور اپنے دماغ میں بیٹھا لیں جلدازجلد تو آپکے لئے بہتر ہے ۔۔
کیا تم بھول رہی ہوں شفا کہ تم اس وقت اس سے بات کر رہی ہو؟؟؟
تمہارا مخاطب اس وقت کون ہے؟ ؟؟؟ وہ غور آیا ۔۔
ایک منٹ ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی ہے ۔۔۔وہ اس سے زیادہ تیز آواز میں دھاڑی تھی ۔۔
یہ جس قسم کے آپ دعوے اس وقت میرے سامنے کھڑے ہو کہ کر رہے ہو نا یہ اختیار تو خود آپ اپنے ہاتھوں سے گواہ بیٹھے ہیں اور اب میں آپکو کوئی حق نہیں دیتی خود کو سہارا دینے کا ۔۔۔۔۔!
قطعیت بھرے لہجے میں کہا گیا ۔۔۔اور پھر ھانپتے ہوئے گہرہ سانس لے کےہایک دفعہ پھر سے اپنی بات کو جاری کیا ۔۔۔
سہارا وہ لوگ دیتے ہیں جو کبھی خود مشکل گھڑی میں لڑکھڑائے نہ ہو۔۔۔۔
نہ کہ وہ جو عورت کو ہتھیار بنا کر خود کو طرم خان سمجھتے ہیں ۔۔۔۔
اور سینہ چوڑا کر نکل پڑتے ہیں دنیا کو فتح کرنے ۔۔۔۔
وہ ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے اپنی مرمریں کلای چھڑا گی تھی ۔۔آنکھوں میں حقارت جبکہ لہجے میں تزہیک اور ر کھائی کا عنصر محسوس کیا جاسکتا تھا ۔۔۔۔
یہ مت بھولو کہ ابھی ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے جس کی بنا پر تم اس قدر اچھل رہی ہو اور نہ میں اب تمہیں خود سے دور کروں گا چاہے تو اس کو تم میری ضد سمجھ لو یا پھر میری آنا ۔۔
مگر اب تم زندگی بھر مسز حمزہ ہی بن کے رہوں گی میں تم سے اپنا نام ہرگز بھی الگ نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔وہ جیسے بہت بڑے فیصلے کو پہنچ چکا تھا
آنکھوں کی ڈورے غصے کی سرخی لئے ہوئے تھے۔ ۔۔
میں بھی یہی ہوں آپ بھی یہیں ہیں۔ ۔۔
دیکھتے ہیں کون کس قدر اپنی بات پر قائم رہتا ہے ۔۔۔!!!
وہ اپنے تئیں جیسے حمزہ کو کھلا چیلنج کر گئی تھی
عاشیر خاموش تماشائی بنا ان دونوں کے مابین ہوئی تلخ کلامی کو سن رہا تھا وہ چاہ کر بھی ان دونوں کے درمیان نہیں بول سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
چلیں عا شیر بہت سن لی اور بہت کہہ لی ۔۔۔وہ تلخی سے کہتی عا شیر کا ہاتھ پکڑ کہ وہاں سے جا چکی تھی ۔
حمزہ نے اپنے ہاتھ کی مٹھی کو گول کرکہ۔ مکا بنا کہ شیشے کے دروازے میں دے مارا ۔۔۔
جبکہ رحمان صاحب ہر بات سے بے خبر دواؤں کے زیر اثر نیند میں تھے ۔۔۔۔۔
ہم لوگ حویلی جا رہے ہیں۔۔۔۔
مان نے ناشتے کے بعد ہلکے پھلکے انداز میں بتایا اس طرح جیسے کوئی معمول کی بات ہے ۔۔۔
مگر کیوں ؟؟؟
تم جانتے بھی ہو تب تک ٹھیک تھا جب تم ویلے ہوا کرتے تھے مگر فجر نئی نویلی دلہن ہے اور نئی نویلی دلہن کے وجود میں ایک خاص خوشبو ہوتی ہے جو اوپری مخلوق کو کھینچتی ۔۔
دادی نے نرمی سے سمجھانا چاہا تھا ۔
وہ ہرگز نہیں چاہتی تھیں کہ مانی دلہن کو اس ویران آسیب زدہ خالی حویلی میں لے کر جائے۔۔
ہاں بیٹا آپ کی دادی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔
میرا نہیں خیال آپ کا فجر کو حویلی لے جانا ٹھیک ہوگا ۔۔
بابا سائین جو کب سے خاموش بیٹھے تھے مزید چپ نہ رہے سکے اپنے اور اپنے خاص روب دھار لہجے میں بولے تھے جبکہ فجر بغیر کوئی بھی تاثر دئے بس چہرہ جھکائے چائے پینے میں مصروف تھی جیسے یہ زندگی کا سب سے اہم کام ہو ۔۔۔
مان ہم تمہارا برا نہیں چاہیں گے ۔۔پہلے کی بات اور تھی مگر اب خیر سے تمہاری بیوی ہے کل کلاں کو اللہ کا کرم ہو گا تم باپ کے درجے پہ بھی فائز ہو جاؤ گے ۔
میں نہیں سمجھتی کہ اب تمہارا اپنی بیوی کو حویلی لیکرجانا مناسب ہوگا ۔۔
غزل نے بیٹے کو باز رکھنا چاہا تھا ۔۔
مان نے ایک نظر اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی فجر پہ ڈالی تھی وہ اس کو یکلخت بہت بجھی بجھی سی لگی ۔۔۔۔
ماما ہم ا بھی نکل رہے ہیں۔۔
بس رات تک آ جائیں گے۔ آپ لوگ پریشان نہ ہوں میں تھوڑی تھوڑی دیرمیں فون کرتا رہوں گا کچھ نہیں ہوتا اور پھر یہ سب پرانے وقتوں کی باتیں ہیں ۔
میں خود بھی تو اب اپنی گڑیا سے ملنا چاہتا ہوں کافی دن ہوگئے میں اس سے ملا نہیں ہوں وہ کھوئے کھوئے سے انداز میں بولا تھا جیسے یہ جملہ ادکے لبوں سے خود ادا نہ ہو اہو۔ ۔بلکہ شاید کسی اور کی زبان وہ بولا تھا ۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا جس طرح آپ لوگ مناسب سمجھیں۔ ۔۔۔
حماد صاحب بہت اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ وہ اب وہاں جا کر ہی دم لے گا ۔۔۔۔
یہ کیا تم نے منع کیوں نہیں کیا ہماد ؟
تم نہیں جانتے کیا کہ وہ کتنی خطرناک حویلی ہوچکی ہے ؟؟؟
تم نے سنا نہیں گاوں والے کیا کیا باتیں بتا رہے ہیں اور ہم نے تو خود اس حویلی سے آتی ہےحد خوفناک آوازیں سنی ہے ۔۔۔
پھر یہ سب ٹھیک ہے کیا؟ ؟؟
تم ایک دفعہ اس کو سختی سے کہہ سکتے تھے کہ وہ نہ جائے۔ ۔۔
دادی نے غصے سے بیٹے کو جھاڑ پلائی فجر اور ارمغان کے جانے کے بعد ۔۔
آ ماں جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو وہ ماں باپ کی باتوں کو اہمیت دینا چھوڑ دیتے ہیں اور میں نے نہ جانے کیوں مان کی آنکھوں میں بغاوت دیکھی ہے اپنے لئے ۔
تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اب اس کی ہر جائز اور ناجائز باتوں کو مانو گےاسکی؟ ؟؟
شادی ہوگئی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ماں باپ اور بڑوں کا احترام ہی بھول جائے۔۔
ہماری باتوں کو اہمیت ہی نہ دے ۔۔
دادی کا غصہ کسی طرح بھی کم ہونے کو تیار نہ تھا
اماں میں نے دیکھ لیا ہے اس کی آنکھوں میں وہ اپنی بیوی کے ہاتھوں مجبور ہے وہ خود سے یہ سب کچھ نہیں کر رہا جو اس کی بیوی کہہ رہی ہے وہ اسی طریقے سے چل رہا ہے ۔۔۔!!!
میرا خیال ہے حماد آپ صحیح کہہ رہے ہیں اگر اس وقت ہم نے کسی بھی طریقے سے مان کو روکنا چاہا تو وہ ہم سے بدظن ہو جائے گا ۔۔۔۔
بہتری اسی میں ہے کہ ہم خاموش رہیں بچوں کا شوق ہے پورا کرلیں نے دیں اللہ مالک ہے اللہ کے اوپر چھوڑ دیں سب وہ سب بہتر کرے گا ۔۔۔
غزل نے ساس کو پرسکون کرنا چاہا تھا مبادا کہیں ان کی طبیعت ہی نہ بگڑ جاتی ۔۔۔۔
نہیں غزل اور ہماد تم تو میری بات سمجھنے کی کوشش کرو میں جو دیکھ رہی ہو وہ تم لوگ نہیں دیکھ پا رہے ہو ۔۔۔
نہ جانے مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے یہ کل کی آئی لڑکی مان کو و رغلا رہی ہے یہ ایسی نہیں ہے جس طرح سے نظر آ رہی ہے ۔۔۔۔
اماں آپ کی سوچ ہے یہ۔ ۔ فجر بہت اچھی ہے بس تھوڑا سا وقت دے اس کو اللہ سب بہتر کرے گا۔۔ حماد نے بھی ماں کو مطمئن کرنا چاہا جبکہ ان کی خود کی آنکھوں میں کی سوچوں کی لکیریں غزل واضح طور پر پڑھ سکتی تھی
وہ دھیمی آواز میں گنگنا رہی تھی ۔۔
جیسے جلد از جلد اپنے ساتھ ہوئے اس حادثے کو دماغ کی سلیٹ سے مٹانے کی تگ و دو کر رہی ہو۔۔
ایک خواب خوفناک خواب سمجھ کر بھول جانا چاہ رہی ہو۔۔۔
عمر نے اس کو بہت بڑے امتحان سے بچایا تھا اس کو اپنا نام دیا تھا ۔۔۔
عمر میں خود کو سمجھانے کی کوشش کر رہی
میں جانتی ہوں ان سب میں آپ کا تو کوئی قصور نہیں ہے تو پھر میں کن وجوہات کے تحت آپ کو آپکی خوشیوں سے محروم رکھو؟؟؟
یہ میرے اوپر گناہ بھی ہے اور عذاب بھی ۔مگر میں ابھی خود کو فوری طور پہ اس رشتے سے وابستہ تقاضوں پہ عمل کرنےپہ امادہ کرنے سے قاصر ہوں۔۔۔۔۔
میں چاہ کر بھی آپ کو آپ کا جائز اور شرعی حق نہیں دے سکتی ۔۔
کچھ عرصے تک۔۔۔۔۔۔۔!!
یا اللہ پاک مجھ میں مت ڈال کہ۔ میں عمر کے ساتھ بنے اس بندھن کو جلدازجلد تسلیم کر سکوں۔۔۔۔۔
اے اللہ پاک تو میری مدد کر میرے مالک اور عمر کو حوصلہ دے کے وہ آگے بھی مجھ جیسی برباد ہوئی لڑکی کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر سکے ۔۔
“بے شک تو ہرچیز پہ قادر ہے” ۔۔
لائبہ میں برش کر کہ چینج بھی کرچکا۔۔
واش روم سے فریش ہو کر بھی آ گیا اور تم تب سے یہیں کھڑی ہو جب سے میں بیٹھ روم میں آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
عمر ٹاول سے اپنے نم بالوں کو خشک کرتا ہوا ٹیرس میں ہی نکل آیا تھا اور آکر اس کے شانے کو ہلاکہ جیسے سوچ کی دنیا میں سے واپس گھسیٹ لایا ۔۔۔
نہیں بس عمراندر گھٹن سی ہو رہی تھی اس لئے کچھ دیر تازہ ہوا لینے کی غرض سے یہاں چلی آئی۔۔ ۔
وہ کہہ کر واپس اندر کمرے کی طرف بڑھنے لگی تھی جب یکدم عمر اس کے راستے میں حائل ہوا تھا۔۔۔۔۔
لائبا کیا ہم اچھے دوست نہیں بن سکتے ؟؟؟
وہ گھمبیر لہجے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر استفسار کر رہا تھا ۔۔
کیا اب ہم دوست نہیں ہیں؟؟؟؟
وہ الٹا سوال کر گئی تھی۔۔۔
نہیں ہم دونوں توازل سے ایک دوسرے کے دشمن رہے ہیں مگر اب میں تم سے تمہاری دوستی چاہتا ہو محبت بھری شرارتوں سے بھرپور ۔۔!!!
آپ میرے شوہر ہیں میں آپ کی بہت قدر اور عزت کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔!
او یار زبردست یہ ہوئی نہ بات ۔۔
تو پھر بس اس لحاظ سے تو میرا ہر حکم سر آنکھوں پہ ہوا تمہاری ۔۔۔
وہ مسکرایا ۔۔
میں خود کو اس رشتے کے تقاضے اور آپ کے حقوق کی ادائیگی کے لئے دلی طور پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔۔۔
نظریں جھکائے ہوئے بہت ٹھہر ٹھہر کے بولی تھی ۔۔۔
وہ دھیمی آواز میں گنگنا رہی تھی ۔۔
جیسے جلد از جلد اپنے ساتھ ہوئے اس حادثے کو دماغ کی سلیٹ سے مٹانے کی تگ و دو کر رہی ہو۔۔
ایک خواب خوفناک خواب سمجھ کر بھول جانا چاہ رہی ہو۔۔۔
عمر نے اس کو بہت بڑے امتحان سے بچایا تھا اس کو اپنا نام دیا تھا ۔۔۔
عمر میں خود کو سمجھانے کی کوشش کر رہی
میں جانتی ہوں ان سب میں آپ کا تو کوئی قصور نہیں ہے تو پھر میں کن وجوہات کے تحت آپ کو آپکی خوشیوں سے محروم رکھو؟؟؟
یہ میرے اوپر گناہ بھی ہے اور عذاب بھی ۔مگر میں ابھی خود کو فوری طور پہ اس رشتے سے وابستہ تقاضوں پہ عمل کرنےپہ امادہ کرنے سے قاصر ہوں۔۔۔۔۔
میں چاہ کر بھی آپ کو آپ کا جائز اور شرعی حق نہیں دے سکتی ۔۔
کچھ عرصے تک۔۔۔۔۔۔۔!!
یا اللہ پاک مجھ میں مت ڈال کہ۔ میں عمر کے ساتھ بنے اس بندھن کو جلدازجلد تسلیم کر سکوں۔۔۔۔۔
اے اللہ پاک تو میری مدد کر میرے مالک اور عمر کو حوصلہ دے کے وہ آگے بھی مجھ جیسی برباد ہوئی لڑکی کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر سکے ۔۔
“بے شک تو ہرچیز پہ قادر ہے” ۔۔
لائبہ میں برش کر کہ چینج بھی کرچکا۔۔
واش روم سے فریش ہو کر بھی آ گیا اور تم تب سے یہیں کھڑی ہو جب سے میں بیٹھ روم میں آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
عمر ٹاول سے اپنے نم بالوں کو خشک کرتا ہوا ٹیرس میں ہی نکل آیا تھا اور آکر اس کے شانے کو ہلاکہ جیسے سوچ کی دنیا میں سے واپس گھسیٹ لایا ۔۔۔
نہیں بس عمراندر گھٹن سی ہو رہی تھی اس لئے کچھ دیر تازہ ہوا لینے کی غرض سے یہاں چلی آئی۔۔ ۔
وہ کہہ کر واپس اندر کمرے کی طرف بڑھنے لگی تھی جب یکدم عمر اس کے راستے میں حائل ہوا تھا۔۔۔۔۔
لائبا کیا ہم اچھے دوست نہیں بن سکتے ؟؟؟
وہ گھمبیر لہجے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر استفسار کر رہا تھا ۔۔
کیا اب ہم دوست نہیں ہیں؟؟؟؟
وہ الٹا سوال کر گئی تھی۔۔۔
نہیں ہم دونوں توازل سے ایک دوسرے کے دشمن رہے ہیں مگر اب میں تم سے تمہاری دوستی چاہتا ہو محبت بھری شرارتوں سے بھرپور ۔۔!!!
آپ میرے شوہر ہیں میں آپ کی بہت قدر اور عزت کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔!
او یار زبردست یہ ہوئی نہ بات ۔۔
تو پھر بس اس لحاظ سے تو میرا ہر حکم سر آنکھوں پہ ہوا تمہاری ۔۔۔
وہ مسکرایا ۔۔
میں خود کو اس رشتے کے تقاضے اور آپ کے حقوق کی ادائیگی کے لئے دلی طور پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔۔۔
نظریں جھکائے ہوئے بہت ٹھہر ٹھہر کے بولی تھی ۔۔۔
کیا میں نے تم سے اپنے حق کا تقاضہ کیا ہے ؟؟
میں زور زبردستی سے اپنا حق وصول نے والوں میں سے نہیں ہوں تمہاری دلی اماد گی میرے لئے پہلی ترجیح ہے ۔۔
مجھے نہیں یاد پڑتا کہ ان 24گھنٹوں میں میں نے تم سے کسی بھی قسم کا تقاضا کیا ہو یا پھر اپنا حکم صادر کیا ہو۔ ۔۔۔؟
وہ دیوار سے ٹیک لگائے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے لائبہ کے چہرے کے اتار چڑھاو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا جیسے دنیا کا سب سے اہم کام یہی تو تھا اس کے لئے ۔
جبکہ لائبہ اس کی خود پہ جمی جائزہ لیتی نظروں سے سٹپٹائی تھی کہاں عادت تھی اس کو عمر کے اس انداز تخاطب کی ۔۔۔!
نہیں ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔!!
الفاظ جیسے لبوں تک آنے کا راستہ کھو چکے تھے ہوائیں زوروشور سے رقص کرنے میں مصروف تھیں چاند کی روشنی جیسے ان دونوں کو ہی تو اپنے حصار میں لینے کے لئے اس قدر روشن تھی ۔۔۔
میں چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے ڈھیر ساری باتیں کرو ایک بہت اچھا ہمسفر جان کہ ۔۔اور میرا اعتبار کرو میں تمہیں تمہاری تمام امیدوں پہ پورا اتر کر دکھاؤں گا ۔۔۔
تمہارا مان اور بھروسہ کبھی بھی ٹوٹے گا نہیں انشاءاللہ ۔۔
لائبہ نے ایک خاموش نظر عمر پہ ڈالی تھی پھر اسی خاموشی سے واپس پلکوں کی چلمن گرا گئی تھی جیسے عمر کی پرحدت آنکھوں میں مزید کچھ دیر اور جھانکتی تو پتھر کی ہوجاتی ۔۔
و ہ کسی گہری سوچ میں تھا نظریں ہنوز لائبہ کے چہرے کا طواف کررہی تھی وہ آنکھوں کے ذریعہ اس کے پرنور چہرے کو دل میں آتا رہا تھا ۔۔
آنکھوں میں بسا رہا تھا ۔۔
دونوں کے درمیان خاموشی اپنی زبان میں نہ جانے کیا کیا گنگناھٹیں بکھیر رہی تھی۔۔۔
اچانک ہی بادل زور سے گرجا تھا اور چھم سے بارش آئی تھی ۔۔۔
بارش کی وجہ سے مٹی سے اٹھتی مسہور کن خوشبو ماحول میں فسوں سہ تاری کررہی تھی ایک دوسرے کی ذات کا احساس دلانے پہ اسرار کر رہی…….
عمر اس کا ہاتھ تھام کہ بغیر کچھ کہے اس کو ٹیرس کے سرے پر واپس لے آیا تھا خود بھی بھیگا تھا اور اس کو بھی پورا بھگا چکا تھا ۔۔
چھم چھم برستی برسات میں وہ دونوں ہی خاموشی سے پور پور بھیگ رہے تھے ۔۔بارش کی بوندیں ٹپ ٹپ کرتی ماحول میں سریلا سہ ارتعاش پیدا کرنے پہ آمادہ تھی ۔۔
لفظ جیسے کہیں گہری نیند جا سوئے تھے بس کچھ تھا تو وہ تھی تنہائی اور۔۔۔۔۔
اور وہ دونوں شایر آنکھوں کی زبان جانتے تھے ۔۔۔؟؟؟سمجھتے تھے کہی آن کہی کو ۔۔۔۔!!
عمر اس کی طرف بغور دیکھ رہا تھا جبکہ وہ اس کی طرف دیکھنے سے حددرجہ گریزاں تھی ۔۔
ہلکے فیروزی رنگ کےلونگ کرتے اور فان کلر کے ٹراؤزر میں وہ عمر کو بہت پیاری اور اپنی اپنی سی لگی تھی ۔۔۔۔
صرف اور صرف اس کی ۔۔۔
فیدر کٹ بالوں نے شانوں کو ڈھانپا ہوا تھا جبکہ شریر لٹو نے چہرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا وہ لرز رہی تھی۔۔
نظریں ملانے سے قاصر تھی ۔۔
ہچکچا رہی تھی شاید نئے نئے رشتے کی وجہ سے۔۔۔۔۔ عمر سے کترا رہی تھی ۔۔۔
اب جیسے اس میں مزید عمرکی لوہ دیتی نظروں کا سامنا کرنے کی سکت نہ رہی تھی وہ تیزی سے واپس مڑی تھی مگر ہائے ری قسمت جیسے سارے ستم آج ہی ایک ساتھ کرنے پہ طلی تھی ۔۔۔
بارش کی وجہ سے فرش کا بھیگا ہونا اس کے لئے بہت بڑا امتحان بنا تھا ۔۔۔
وہ پیچھے ہٹی تھیی کایک قدم لڑکھڑائے اور وہ پوری طرح سے زمین بوس ہونے کو تھی ۔۔
اس نےگرنے کے خوف سے بے ساختہ عمر کے شانوں کو تھاما تھا ۔۔
اس کے بالوں نے دانستہ عمر کے چہرے سے شرارت کی تھی جبکہ عمر نے تیزی سے اس کو سہارا دیا تھا کمر سے تھام کر اس کو اپنے مضبوط بازوں میں جکڑ لیا ۔۔
اپنے حصار میں لیے وہ اس کو اندر روم میں لے آیا تھا ۔۔
مم۔ ۔۔می۔ ۔۔۔وہ گرنے لگی تھی اس لئے آپ کو۔۔
اسے آگےوہ خاموش ہو گئی تھی۔۔۔
میں تمہیں کبھی گرنے نہیں دوں گا میرے زور بازو میں اتنی طاقت ضرور ہےکہ اپنی بیوی کی حفاظت کرسکو ں۔
لہجہ دھیمہ مگر سخت تھا ارادوں کی پختگی چھلکا تھا ۔۔
وہ محسوس کر رہی تھی اس کی بولتی قربت کو اس پہ تضاد جائز شرعی رشتہ اور یہ تنہائی ۔۔۔۔
عمر اس کے چہرے پہ بکھرے کوس و فزا کے رنگوں کو محظوظ ہو کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔
محسوس کر رہا تھا ۔۔
وہ ایک لمحے میں اس کو مزید خود سے قریب تر کر گیا تھا اتنا کہ وہ بہ آسانی لائبہ کی ا ٹھل پھتل ہوتی سانسوں کو سن سکتا تھا ۔۔
لائبہ اس کی نرم گرم سانسوں کی تپش کو محسوس کر رہی تھی چہرے پہ اپنے جب کہ رخسار سرخ ہوئے تھے نگاہیں ہنوز جھکی ہوئی تھی ۔۔
عمر نے اس کی کمر کے گرد حصار مزید تنگ کیا۔
اتنا کہ لائبہ کو اس کی مضبوط انگلیاں اپنی کمر کے گرد پیوست ہوتی محسوس ہورہی تھیں۔ ۔
وہ تھوڑا سہ مزید اس کے اوپر جھکا تھا اور اس کی گردن پر اپنے دہکتے ہوئے انگارے کی مانند لب رکھ دئیے تھے ۔۔۔
وہ تھم سی گئی تھی ۔۔۔
اپنی جگہ سن سی رہ گی تھی ۔۔
پورا وجود جیسے آگ کی زد میں آ گیا
تمہیں حمزہ کے ساتھ اس طرح پیش نہیں آنا چاہیے تھا تمہارا رویہ میرے حساب سے تو اسکے ساتھ بالکل ہی غیر مناسب تھا آفٹر آل یوآر اسٹل ہز وائف۔ ۔۔۔۔ ۔
آشیر باہر لان میں بیٹھا ہوا اس کو سمجھا رہا تھا اب ۔وہ دونوں قدرے پرسکون ہو چکے تھے رات کے کھانے کے بعد تازہ ہوا سے اپنے دماغ کو پرسکون کر رہے تھے ۔۔ رحمان صاحب صبح کو ڈسچارج ہو کہ گھر آگئے تھے طبیعت بھی کافی بہتر تھی ۔۔۔
اب ان کے گھر کا ماحول بھی ہلکا پھلکا ہو چکا تھا حمزہ اور رحمن صاحب کے دلوں پہ جمی گرد صاف ہونے سے جبکہ حمزہ کل ہاسپٹل کے بعد اس کو نظر نہیں آیا تھا یا پھر دانستہ وہ حمزہ کا سامنا کرنے سے گریزاں تھی۔
اس وقت بھی وہ اپنے لیے چائے بنانے کیلئے کچن میں آئی تھی جب وہاں پہلے سے موجود عاشیر بھی اپنے لئے چائے کا پانی چڑھا رہا تھا ۔۔
چائے بنانے کے بعد وہ دونوں ہی ہواخوری کرنے لان میں نکل آئے تھے۔۔۔۔
وہ تو اس سے بھی زیادہ میرا بدترین رویہ ڈیزرو کرتے ہیں ۔۔تم جانتے ہو میرے دل میں ہمزہ کے لئے سوائے نفرت کے اب کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے۔۔۔۔۔۔
شفا اگر وہ تمہاری لیے عمل جنسی رہے تو نفرتوں کو پالنے کے بجائے معاملہ فہمی سے بھی تو کام لیا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
معاملہ فہمی اور جھکنے کی تو بات ہی مت کرو تم نہیں جانتے کہ میں نے کس قدر خود کو گرایا ہے اس شخص کے آگے میں۔۔۔۔۔ وہ وہ سب کچھ میں تمہارے سامنے لفظوں میں بیان کرنے سے بے بس ہوں ۔۔۔۔
میں تمھیں یہ نہیں کہوں گا کہ تم اپنا گھر بر باد کر لو۔۔۔ میں یہی چاہوں گا کہ تمہارا گھر ہمیشہ آباد رہے ۔
اور پھر شفا اپنے ماں باپ کے بارے میں سوچو اپنی چھوٹی بہن کے بارے میں سوچو کہ اس اقدام کے بعد سب کچھ ٹھیک ہو سکے گا ۔؟؟؟؟
بابا جانی ٹھیک ہو جائیں تو میں اس نام نہاد رشتے کو وائنڈ اپ کرتی ہوں تاکہ یہ چیپٹرکلوزہو جلد از جلدکسی ایک طرف ہوسکیں اور میں ایک طرف ہوں۔ ۔۔بلکل جینے اور مرنے سے بہتر ہے کہ یہ چیپٹر اب جلدازجلد کلوز کر دینا چاہیے ۔۔۔۔
یہ چیپٹرز جو تم کہہ رہی ہو یہ اتنی آسانی سے کلوز ہونے والے نہیں ہوتے دیکھو شفاء اچھی طرح سے سوچو سمجھو آگے کی حالات کو ہر ایک زاویے سے سمجھ ۔۔۔اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا۔۔۔۔۔
یہ زندگی کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے بات کو سمجھو میری۔۔۔
وہ مستقل اس کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا وہ چاہتا تھا کہ ان دونوں کی زندگی ایک دفعہ پھر سے خوشیوں سے بھر جائے مگر جیسے شفاء اب کسی بھی قسم کی مفاہمت نہیں چاہ رہی تھی یہ شاید اس کے ساتھ گزرے حالات نے اس کو اس قدر کٹہور بنا دیا تھا ۔۔
نہ عاشیر اب سوچنے سمجھنے کا وقت گزر گیا ہے جب پانی سر پر سے گزر جائے تو پھر بس اوریا پار کوئی فیصلہ کر دینے میں ہی بھلائی ہے وہ اپنے آنسوؤں کو بیدردی سے ہاتھ کی پشت سے رگڑتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
نہیں شفا ان حالات میں خود کو مضبوط کرو اس طرح سے روکیں تو کیا سب کچھ بھی اتر ہو سکے گا ؟؟؟؟؟
وہ شفا کے گول کین کی ٹیبل پر دھرے نازک ہاتھوں پہ اپنا ہاتھ رکھ کے دلاسہ دے رہا تھا وہ اس کو ایک چھوٹی بہن کی طرح عزیز تھی۔۔۔۔۔
اچانک تیز گاڑی کے ڈپر کی روشنی شفا کی آنکھوں پر پڑی تھی وہ اپنے سیدھے ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھوں کو ڈھانپ کر روشنی سے بچنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔
مگر آنے والا شاید اس احساس سے عاری تھا کہ کسی کو اس کی ذات سے تکلیف ہوئی ہے ڈے پر کی تیز روشنی سے شفا آنکھوں کو کھولنے سے قاصر تھی ۔۔۔۔
گاڑی کا دروازہ کھلا تھا اور دھپ سے ایک سوٹ کیس بھٹکنے کے انداز میں کار پوچ کی زمین پر گاڑی میں سے پھیکا گیا تھا۔۔۔
عاشیر نے بھی چونک کر پیچھے مڑ کے دیکھا تھا ۔
شفا کی نظریں ابھی تک گاڑی میں سے اترنے والے شخص کی متلاشی تھی جس کی وہ ابھی تک شکل نہیں دیکھ سکی تھی ڈیپر مستقل آن تھا
