Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 16 (Part 2)
Rate this Novel
Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 16 (Part 2)
Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan
میں اور تم۔۔۔۔۔!!!!
رات بھی دیکھو کتنی خوبصورت تاروں بھری ہے۔۔۔۔۔۔۔
میرا تمہارا حسین ساتھ۔۔۔۔۔!!!
کچھ تم مجھ سے کہو۔۔
کچھ میں تمھیں اپنے دل کی سنائوں ۔۔۔!!
تم میرے سینے پر سر رکھ کے سو جاؤ اور میں تمہارے سر کے بالوں سے شرارت کرتا رہوں ………
چاند میری ان شرارتوں پر مسکراتا رہے ۔۔۔!!!
مجھے کچھ نہیں سننا اور کہنا مجھے دوسرے روم میں سونا ہے…..!!
اگر آپ نے کوئی الٹی سیدھی حرکت کی نہ تو میں ۔۔………….
وہ انگشت شہادت سے اس کو دھمکاتے ہوئے بولی تھی …..
جبکہ لہجہ بری طرح سے خوف کی زیادتی سے کانپ رہا تھا ۔۔۔
کیا تم مجھ سے خوفزدہ ہو؟؟؟
وہ اس کو دیوار سے لگا کر اس کے فرار کی تمام راہیں مسدود کر کے بولا ۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔نن۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔!!
میں خوف زدہ کیوں ہونے لگی بھلا آپ سے ۔۔۔؟؟؟
وہ تھوک نگل کر بولی۔ ۔۔۔
چلو یہ تو اچھی بات ہے کہ تم مجھ سے خوفزدہ نہیں ہو۔۔۔۔ ۔
لآئبہ۔ ۔ ۔ ۔۔۔!!!
آنکھیں کھولو اور محسوس کرو ان لمحات کو رات کے اس فسوں کو ۔۔۔۔
میری اس خوبورت رفاقت کواور باتیں کرتی اس خاموشی کو ۔۔۔!!!
سنو اور سمجھو کہ یہ تنہائی تمہیں کیا سمجھانا چاہ رہی ہے ؟؟؟؟
اس کے ماتھے سے لبوں تک ایک صراط کھینچتے ہوئے بکہنے لگا۔۔۔۔
امی مجھے بچالیں۔ ۔۔۔۔ !!!
بچائیں مجھے اپنے اس آوارہ خبیس بھتیجے سے۔۔۔۔۔
وہ اب باقاعدہ زوروشور سے!! عمر سے شدید خوفزدہ ہوئے!! زاروقطار رونے کے ساتھ ساتھ چیخنے کا بھی شغل فرما رہی تھی ۔۔۔
عمر نے جھٹ اپنا بھاری ہاتھ اس کے لبوں پر رکھا تھا۔۔۔
تاکہ اس کی چنگھاڑتی ہوئی چیخوں کو دبا سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں تو پورا عملہ ان کے کمرے کے باہر کھڑا ہوجانا تھاآکر ۔۔۔
جب کہ عمر کو بہت ہنسی بھی آئی تھی ۔۔۔
اس کےاس طرح رونے پہ بلکل بچوں کی طرح۔۔۔۔!!!!
مگر ساتھ ہی اس کے لازئبہ کہ آندھی طوفان کی طرح رونے سے اسکے ہاتھ پاؤں بھی بھول گئے تھے ۔۔۔۔۔
وہ اس کو بازو سے تھام کر خود میں چھپا گیا تھا جیسے اس کے خوف کو زائل کرنا چاہ رہا ہوں ۔۔۔
لایبہ ری ریلیکس۔۔۔۔ !!!
میں تمہیں تنگ کر رہا تھا ۔۔
بیوقوف لڑکی اتنا بھی بھروسہ نہیں ہے مجھ پہ ۔۔۔؟؟؟؟
شاباش اب رونا بند کرو ۔۔۔!!!!
بھروسہ کرو مجھ پہ۔ ۔۔۔
میں چاہ کر بھی تمہارے ساتھ کبھی بھی کچھ غلط نہیں کروں گا اورنہ ہی کسی کو کرھنے دوں گا۔۔۔۔۔۔۔ !!!
پلیزابتو ریلکس ہو جاؤ ۔۔۔!!!
وہ اس کے سینے میں سر چھپائے روئے چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔
عمر نے اس کا سر تھپتھپا کر گویا اس کو پرسکون کرنا چاہا ۔۔۔
میری جان چلی جاتی اور تمہارا مذاق ہو جاتا۔۔۔۔!!!!
وہ اب دوبارہ سےآپ سے تم پر آ چکی تھی ۔۔۔
ایویں جان چلی جاتی ۔۔۔
خیر سے پوری جنی ہو۔۔۔
بلکہ نہیں جنیوں کی سردارنی ٹھیک رہے گا کہنا زیادہ ۔۔۔۔۔!!!
وہ اسکو صوفہ پر بیٹھا کر اسکے لئے جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر لایا تھا اور سسکیاں بھرتی لائبہ مسکراتی نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنے ہاتھ سے پانی پلانے لگا ۔۔۔
یار میں تو تمہیں تنگ کر رہا تھا تم تو بہت ہی زیادہ کوئی ڈرپوک قسم کی لڑکی نکلیں۔ ۔۔
میں تو تمھیں شیرنی اور لومڑی پتہ نہیں کیا کیا سمجھتا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟
وہ ہنستے ہوئے ماحول کو تھوڑا ہلکا پھلکا کرنا چاہ رہا تھا ۔۔۔
جبکہ لائبہ اب کچھ نارمل ہو چکی تھی اور اس کو ایک دفعہ پھر خونخوار نظروں سے گھورتے گھورتے واپس سیدھی ہوئی تھی ۔۔
“تمہاری اس حرکت کا ایسا کرارا جواب میں تمہیں دوں گی!! کہ تم خود گھٹنوں کے بل مجھ سے معافی مانگو گے”۔۔
” مگر ابھی میں تم سے مزید پنگا نہیں لے سکتی ۔۔۔ !!!
وہ اس کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی ۔۔
چلو لائبہ اب سو جاؤ صبح تک گاڑی مکینک ٹھیک کر دے گا پھر سفر لمبا ہے۔۔
وہ یکدم حواسوں میں لوٹی تھی اور اس سے دور ہٹی تھی۔۔۔۔
اگر یہ مذاق تھا تو بہت ہی گھٹیا مذاق تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!۔
او واقعی صحیح فرمایا تم نے ویسے اگر تمہارا حافظہ اگر ٹھیک ہے تو تم نے بھی ایک دفعہ مجھے میری گرل فرینڈ کے ساتھ ریسٹورانٹ میں ڈیٹ مارتے ہوئے ریڈ پروائ تھی ۔۔۔
اور پھر مجھے گھر پہ جاکے جس طرح کی جوتیاں اور چپلیں پڑی تھی نہ۔ ۔ !!!
سمجھ لو یہ بس اسی کا حساب برابر کیا ہے میں نے ۔۔۔
وہ اس کو شرمندہ کرنے کو بولا اور ساتھ ہی آؤ دیکھا نہ تاؤ بیڈ پہ چوڑ کر لیٹ چکا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ ابھی تک صوفے پر ٹکی ہوئی تھی اس کے اس طرح کہنے پر مزید سکھڑ سمٹ کر صوفے پر گھٹنے موڑ کر بیٹھ گئی ۔۔
چاہو تو ادھر آکر لیٹ جاؤ میں کوئی شیر نہیں ہوں جو تم جیسی چڑیا کو نگل جاؤں گا ۔۔
شیر نہیں تم آکٹوپس ہو۔۔!!
میں یہیں صحیح ہوں۔ ۔
جب کہ وہ عمر سے خوف زدہ اب بھی تھی۔۔
مگر ظاہر نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
خود کو بہت نڈر اور مضبوط دکھا رہی تھی عمر کے سامنے ۔۔۔۔
شفا کو مہندی لگانے کےبعد حورم (حمزہ کے دوست آدم کی بیوی) نے اس کے آگے ہمزہ کا لایا ہوا عروسی جوڑا لہرایا تھا ۔۔۔
دیکھو شفا کتنا خوبصورت جوڑا ہے یہ۔۔۔۔
حمزہ بھائی خود لے کر آئے ہیں تمہارے لیے پتہ ہے تمہیں یہ؟ ؟؟ ۔۔۔
کل کی پوری دوپہر جو ہے مجھے اور آدم کو حمزہ بھائی نے خوار کرکے رکھا تھا ان کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔
ویسے ٹھیک بھی ہے جب اتنی پیاری اور خوبصورت لڑکی ہو تو!! اس کے لئے ذرا کچھ بھی منتخب کرنا مشکل کام ہے ۔۔۔
حورم اس کو چھیڑتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
جی آپ نے ٹھیک کہا ۔۔۔!!!
جبکہ شفا بس آہستہ سے یہ کہہ کر اس کے ہاتھ سے اپنا عروسی جوڑا لے کر واش روم میں جا گھسی ۔۔۔
حور م نے الجھی نظروں سے واشروم کے بند دروازے کو دیکھا تھا ۔۔۔
کیا دلہن ایسی ہوتی ہے ؟؟؟
یہ معصوم سی لڑکی اتنی اداس کیوں ہے ؟؟؟
اس کو اپنا وقت یاد آ گیا تھا جب اس کا نکاح بھی اچانک آدم سے ہوا تھا۔۔۔
وہ بھی ایسے ہی اداس اور خاموش ہو گئی تھی ۔۔۔
اس بات سے بے خبر تھی کہ اس کیآئندہ زندگی کتنی خوبصورت اس کے شوہر آدم نے بنا دینی تھی . ۔۔۔۔
زندگی کے ایک ایک لمحے میں سے آدم نے اس کے لیے خوشیاں کشید کر اس کی جھولی میں بھر دی تھیں۔۔۔
آئومیں تمہارا ہلکا ہلکا سہ میک اپ کرو ں۔۔
شفاء وا شروم سے باہر آئی تھی جب حورم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بٹھایا تھا ۔۔۔
وہ کچھ کچھ سمجھ رہی تھی ۔۔
شفا کے ہرہر انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اس شادی سے دلی طور پر آمادہ نہیں ہے ۔۔۔
اس کی آنکھوں میں صرف اور صرف ویرانی تھی ۔۔۔
آنکھوں کی جوت جھلملانے سے پہلے ہی ٹمٹما رہی تھی ۔۔!!!
کہیں سے بھی وہ حورم کو دلہن نہیں لگ رہی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی لڑکی کو ئی ریبوٹ ہے۔۔۔۔
جو اس کے ہر ہر آرڈر پہ بس جیجہ کر رہی ہے ۔۔۔
وہ شفا کے پور پور کو سجا رہی تھی۔۔
دلہن کے روپ میں ڈھال رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
مگر وہ تھی کہ کسی زندہ لاش کی طرح بت بنی پتھرائی ہوئی نظروں سے آئینے کے سامنے اپنے جھلملاتے عکس کو تکے جا رہی تھی ۔۔۔
ھورم کا دل چاہا تھا کہ اس معصوم لڑکی سے پوچھے کہ کیا دکھ ہے تمہیں ؟؟؟
جس نے تمہیں اس قدر کملا کہ رکھ دیا ہے ؟؟؟؟
ہنستے مسکراتے چہرے پہ ہزن بکھیر دیا ہے ۔۔
ایسا کیا ہے جس کی وجہ سے تم خوشیوں سے روٹھ بیٹھی ہوں ۔۔۔۔؟؟؟
عجیب سی ویرانی کیوں ہے تمہاری ان خوبصورت آنکھوں میں ؟؟
جیسے تم تمام خوابوں کو اپنی پلکوں سے نوچ کر کہیں دور پھینکچکی ہوں ۔۔۔۔؟؟
آخر کار اس کا ضبط جواب دے گیا اور وہ ہلکے سے شفا کو مخاطب کر کے ٹھہر ٹھہر کر بولی تھی ۔۔۔
میں نہیں جانتی کہ تم کن حالات کی کشتی میں سوار ہو مگر۔۔۔۔۔،!!!۔۔
کیونکہ مجھے جہاں تک لگ رہا ہے کہ میں تمہاری ہی کشتی میں کئی سالوں پہلے سفر کر کے اپنی منزل تک پہنچ چکی ہوں اور یقین مانو جس منزل کو مجھے اس کشتی نے پہنچایا تھا وہ میرے لئے دنیا میں کسی جنت سے کم نہیں ہے ۔۔۔
وہ گھمبیر لہجے میں ایک ایک لفظ کا ٹھیک ڑھیک چناؤ کرکے اس کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی . ۔۔۔
مگر بھابھی کیا یہ سب کچھ ٹھیک ہے؟؟؟
کیا ایک لڑکی اتنی کمزور ہے کہ کبھی اس کو پیدا ہونے کے ساتھ ہی زندہ درگور کر دیا جاتا ہے ۔۔؟؟؟
اور کبھی اس کو بے جا رسموں، ضدوں اوت انتقام کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے؟؟؟
کیا ایک لڑکی ہنر جرم ہے ؟؟؟
حورم چند ثانیوں کو تو کچھ کہہ ہی نہ سکی تھی کتنی چھوٹی تھی وہ لڑکی اور کسی قدر گہرے دکھ بول رہے تھے اس کے لہجے میں ۔۔۔۔!!
نہیں ہرگز نہیں عورت بالکل بھی کمزور نہیں ہے جرم اگر بیٹی ہوتی تو خود سوچو کیا آج میں اور تم ہوتے ؟؟؟
یا پھر یہ کائنات ہوتی اس میں رنگ ہوتے ۔؟؟
اتنا ہی نہیں پھر یہ مرد جو کہ عورت کے ہی وجود سے جنے گئے ہیں !! یہ ہوتے؟؟؟
بس اپنے خوابوں کو اپنی آنکھوں میں ہمیشہ سنبھال کر رکھنا ۔۔۔
خود کو کبھی بھی کم ہمت اور بے بس مت سمجھنا اور کبھی تمھارے حوصلے گر جو پست ہونے لگیں تو بس اتنا سوچ لینا کہ تم ہرگز بھی کمزور نہیں ہو ۔۔۔۔۔
تم بنت ہوا ہو ۔۔۔!!
اور ایک عورت اگر چاہے تو اپنے ایک وار سے مضبوط سے مضبوط چٹان کو بھی اپنے سامنے گرا سکتی ہے جھکس سکتی۔ ۔۔۔!!!
بس میری بات کا مقصد یہ ہے کہ تم اگر چاہو تو سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے ۔۔۔
اللہ پر بھروسہ رکھو اور خود میں اتنی ہمت کرو کہ حالات کو اپنے مطابق ڈھال سکو۔۔
نہ کہ خود ان حالات کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر رہ جاؤ اور کبھی بھی پھر اس بھول بھلیاں سے نکل ہی نا سکو ۔۔۔۔۔
مرد چاہے کتنا بھی خراب کیوں نہ ہوں؟؟
کتنا بھی خفا کیوں نہہ عورت اگر چاہے تو ایک لمحے میں اس کو اپنا اسیر بنا سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔
اسکے دل کو موم کرنے کی صلاہیت رکھتی ہے۔ ۔۔!!!
عورت ہرگز بھی بےبس اور لاچار نہیں ہے۔ ۔۔۔۔!!
۔۔
دیکھو حمزہ میری بات سنو شادی بیاہ جو ہے وہ کسی بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔۔۔
تم کیوں بدلے اور انتقام کی آگ میں خود بھی جل رہے ہوں اور ایک معصوم لڑکی کی زندگی بھی داؤ پر لگانے کو تلے ہوئے ہو ؟؟؟
آدم بھائی یہ آپ کہہ رہے ہیں آپ تو میری زندگی کے ایک لمحہ سے واقف ہے ۔۔۔۔
میں میری شخصیت میرا وجود آپ کے سامنے کسی کھلی کتاب کی طرح روشن ہے ۔۔۔۔۔
تم ٹھیک کہہ رہے ہو مگر۔۔۔۔۔
صرف تم مجھے بس ایک جوابدے دو۔۔۔۔
کیا واقعی تمہارے یہ سب کچھ کرنے سے تمہارا ضمیر اور تمہاری روح بعد میں پھر مطمئن رہ سکے گی کبھی ؟؟
یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ۔ ۔۔
پھر تمہارے جیسا ہی کوئی شخص!!! تمہاری اگر بیٹی ہوئی تو وہ بھی تمہارا انتقام اسکے ذریعہ تم۔ سے پورا کرے۔ ۔۔۔۔۔
پھر کیا کرو گے ۔۔۔؟؟؟؟
اگر کوئی جواب ہے تو مجھے دو تاکہ میں بھی مطمئن ہوں ۔۔۔
دیکھو میں تم سے عمر میں اور تجربے میں بھی کافی بڑا ہو ۔
آدم اس کو سمجھانے کی اور اس کے دل کو موم کرنے کی تگ و دو کر رہا تھا ۔۔۔
مما تو بلاو بابا۔ ۔۔۔
بس بیٹا ابھی ماما آ رہی ہیں صبر تو کر جاؤں اب گڑیا ۔۔۔۔!!
ساتھ ساتھ وہ اپنی بیٹی کو بھی سنبھال رہا تھا ۔۔۔۔
بھائی مجھے آج تک وہ وقت یاد ہے جب میری ماں کی سسکیاں کمرے میں گونجا کرتی تھی ۔۔۔
میں برابر والے کمرے میں دبک کے بس کانوں پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہتا تھا ۔۔۔۔
میرا دل چاہتا تھا کہ میں دروازہ توڑ کے باہر نکل کر اپنی ماں کے لیے کچھ کرسکوں ۔۔۔
دیکھو تم اپنا فیصلہ اللہ کے اوپر چھوڑ دو !!
وہ بہتر انصاف کرنے والا ہے۔۔۔۔
کیا تمہارا انصاف خدا کے انصاف جیسا ہو گا؟؟؟
ہرگز نہیں ۔۔۔۔!!؛
