Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 14

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 14

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

غزل۔۔۔۔۔ غزل۔۔۔۔۔!!!

جی آگئی بس ۔۔۔۔۔۔۔!!!!

حماد کے بلاوے پر وہ کچن سے چلی گئی تھی داود کو بری طرح پریشانی نے آگھیراتھا ۔۔۔

وہ الجھا الجھا سا کمرے میں آیا تھا مگر وہ دشمن جاں کہیں بھی نہ تھی مگر واشروم سے آواز آرہی تھی پانی کی گرنے۔۔

داؤد نے گھڑی رسٹ واچ اتار کے اچھال کر ڈریسنگ ٹیبل پہ پھینکی اور خود بیڈ پہ اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ کر گرتے ہوئے یکدم چونکہ۔۔

بیٹھ کے بیچوں بیچ ایک لفافہ رکھا ہوا تھا ۔۔۔

اسنے وہ جھپٹنے کے انداز میں لفافہ اٹھایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

جیسے جیسے و ہ لفافے میں موجود پیپرز کو پڑتا جا رہا تھا خوشی اس کے چہرے پہ پھوٹی پڑھ رہی تھی ۔۔۔

کیا ہوا تمہاری طبیعت کیوں خراب ہے؟؟؟؟

وہ لفافہ اس کے واش روم سے آنے سے پہلے ہی تکیہ کے نیچے چھپا چکا تھا ۔۔۔۔

بھابھی نے نہیں بتایا آپ کو؟؟؟؟

وہ نظریں ملائے بغیر ڈریسنگ سے ہیئربرش ا ٹھاکر خوامخواہ سلجھے ہوئے بالوں کو دوبارہ سے سمجھانے لگی۔۔۔۔۔۔

نہیں انہوں نے تو کچھ بھی نہیں بتایا ۔۔۔

سوائے اس کے کہ تمہاری طبیعت خراب ہے۔ ۔۔۔

کس وجہ سے تمہیں ڈاکٹر نے آرام کا کہا ہے ؟؟؟

وہ ایسے کہ رہا تھا جیسے واقعی لاعلم ہو۔۔۔۔

عائشہ نے گہرا سکون کا سانس لیا اور بڑے مزے سے ٹی وی چلا کر اس کے برابر میں اکر بیٹھ گئ ۔۔۔

داود نے اس کو بڑی دلچسپی سے دیکھتے ہوئے کہا لاؤ رپورٹس مجھے دو میں دیکھوں ۔۔۔

سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس کی پشت کے پیچھے اپنا بھی تکیہ رکھ کر اس کو ٹیک لگا کر بٹھایا ۔۔۔۔۔۔

آپ بھابھی سے پوچھ لیں نہ۔ ۔۔۔

اس کے چہرے پر سرخی پھوٹی پڑھ رہی تھی۔۔۔ خوشی کے رنگ واضح تھے۔۔۔

شرم سے اٹھتی گرتی پلکیں داود کو مدہوش کر رہی تھیں۔ ۔۔۔

بھابھی سے کیوں پوچھو ؟؟؟

پوچھونگا تو اپنی بیوی سے ہی پوچھوں گا نہ ۔۔۔۔۔۔

وہ اب مصنوعی ناراضگی سے پر لہجے میں بولا ۔۔۔۔

یار چلو میں ہی تمہیں خوشخبری سناتا ہوں۔۔۔۔۔

وہ اب آنکھوں میں شریرسی چمک لیے اس کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔

کیا ؟؟؟

وہ جھٹ بولی۔۔۔۔

بتا دو؟؟؟؟

پکانا ؟؟؟؟؟

بابا بتا دیں آپ جلدی سے نہیں تو مجھے نیند نہیں آئے گی ۔۔۔۔۔۔

پہلے مجھے مبارکباد تو دو۔ ۔۔

مبارک ہو۔۔۔۔

اب تو کہدیں۔ ۔۔۔

وہ زچ ہوئی ۔۔

میں اور تم۔۔۔۔

مطلب ہم دونوں بہت جلد اماں ابا بننے والے ہیں ۔۔۔۔۔۔

وہ اپنی پوری بتیسی کی نمائش کرتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔۔۔

آپ کو پتہ تھا پھر بھی آپ مجھے اتنا تنگ کیوں کر رہے تھے؟؟؟؟؟

وہ اب شرم و حیا کو بالائے طاق رکھے اس کو بری طرح تکیہ سے خواطر تواضع کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

کیا ہے آہستہ نہیں چلا سکتے گاڑی؟؟؟؟

میرا پورا دماغ ہل چکا ہے۔۔۔۔

وہ اپنا سر تھامے دھاڑی تھی ۔۔

میرے ساتھ اگر سفر کرنا ہے محترمہ تو گاڑی کی اسی اسپیڈ کے ساتھ ہی کرنا ہو گا۔۔۔۔۔

وہ بڑے مزے سے اپنی بات کہہ کر اب سگریٹ کے کش لگانے لگا۔۔۔

عمر پلیز۔ ۔۔۔۔

ٹھیک ہے میں گاڑی کی تیز اسپیڈ تو برداشت کر سکتی ہوں ۔۔۔

مگر پلیز یہ سگریٹ مت پئیں۔۔

وہ بری طرح سے کھانستے ہوئے بولی۔۔۔۔۔

یار اگر یہ نہیں پیونگا تو میں ڈرائیو کیسے کروں گا؟؟؟؟!!

وہ چہرے پہ بلا کی مظلومیت تاری کرکے بولا تھا جیسے دونوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات رہے ہوں ۔۔۔

وہ غصے میں رخ پھیر گئی تھی اور اپنی طرف کا شیشہ کھول کر آنکھیں موند گئی۔۔۔

جیسے کہہ رہی ہوں دور فٹھ منہ جو کرنا ہے کرو میری بلا سے۔ ۔۔۔۔

وہ اس وقت کسی بھی قسم کی بحث میں الجھنا نہیں چاہتی تھی۔۔

آدھی رات ہو چکی تھی وہ مسلسل چار گھنٹے سفر میں تھے ۔۔۔

لائبہ کو سخت کوفت ہوا کرتی تھی لمبے لمبے سفر کرنے سے اور آج مجبوری تھی جواس کو لمبا سفر بھی کرنا پڑ رہا تھا ۔۔۔

وہ بھی ایک ایسے شخص کے ساتھ کرنا پڑ رہا تھا جس کے ساتھ وہ ایک لمحہ بھی لڑے بغیر نہیں رہ سکتی تھی ۔۔

عمر فل اسپیڈ میں ڈرائیو کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کو سلگانے کے لئے اب دوسری سگریٹ بھی جلا کر پھونکنے لگا تھا ۔۔

ایک دفعہ ماموں کے گھر پہنچ جاؤں پھر دیکھنا میں اس سفر کو تمہاری زندگی کا ایسا سفر بنا دوں گی کہ تم چاہ کر بھی اس عظیم یادگار سفر کو بھول نہیں سکو گے ۔۔

۔

اس وقت میری مجبوری ہے کہ میں تمہارے رحم و کرم پر ہوں مگر چند گھنٹوں بعد میں نے بھی تمہیں ماموں سے پھینٹی نہ لگوائی تو میرا نام بھی لائبہ نہیں۔۔۔

وہ دل ہی دل میں منصوبہ بنا رہی تھی ۔۔

چین سے تو میں بھی نہیں بیٹھنے دو گا تمہیں پورا سفر تمہارا میرے ساتھ بہت خوشگوار گزرنے والا ہے ڈرامہ کوئن ابھی تو شروعات ہوئی ہے ۔۔۔

ھاھاھا چڑیل نہ ہو تو ۔۔۔

نہ تمہیں جواپنی انگلیوں پہ نچو آیا تو میرا نام بھی عمر رحمان نہیں۔۔۔۔

بہت خود کو ہلاکو خان سمجھتی ہو نہ۔۔

اب دیکھتا ہوں کب تک برقرار رہے گی تمہاری یہ خودساختہ ہوشیاری میرے سامنے ۔۔۔

وہ دونوں اپنی اپنی دھن میں تھے اس بات سے بے خبر کے سامنے سے ایک گاڑی غلط سمت سے آ رہی ہے ۔۔

میں شفا سے آج شام ہی سادگی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔

وہ آفس سے سیدھا ڈائننگ ایریا میں ہی آ گیا تھا جہاں اس وقت سے رحمان صاحب موجود تھے عائمہ اور غزل کچن میں تھیں۔ ۔۔

جبکہ رحمان صاحب لیپ ٹاپ میں مگن کچھ کام کر رہے تھے ۔۔

انہوں نے چونک کر اپنے سر پہ دندناتے حمزہ کو دیکھا تھا اور چہرے پہ نرم تاثرات لیے لیپ ٹاپ کو بند کر کے سائیڈ پہ رکھا پھر اشارے سے حمزہ کو بیٹھنے کا کہا ۔۔

میں اس وقت یہاں بیٹھ کر وقت برباد کرنے نہیں آیا ہوں۔۔۔

وہ بے انتہا بدتمیزی سے مخاطب تھا ۔۔۔۔

بیٹا یہ معاملات اس طرح تے نہیں تہہ کیے جاتے تم صبر سے بیٹھو سکون کا سانس لو پھر تمہاری ماں کے سامنے ہیں بات کی جائے گی ۔۔

انہوں نے پیار سے سمجھایا۔۔۔۔

بہت جلدی خیال آگیا میری ماں کا ؟؟؟؟

کیا بات ہے۔ ۔۔۔

وہ تمسخر اڑاتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بھرپور انداز میں طنز کے تیر چلاتے ہوئے بولا تھا ۔۔

رحمان صاحب اس کے اتنا سختی سے کہنے پر خاموش سے ہو گئے تھے ۔۔۔

خیر یہ بحث کسی اور وقت کے لئے ادھار رکھ لیتے ہیں۔۔۔

ابھی فی الحال آج شام نکاح ہے میرا شفا سے۔۔۔

آپ لوگ تیاری کریں ۔۔۔۔۔

اس نے اب تمام تر لحاظ بالائے طاق رکھ کے حکم صادر کیا ۔۔۔۔۔

مگر حمزہ مجھے پہلے شفا سے بھی تو اس کی مرضی معلوم کرنا ہو گی نہ بیٹا ۔۔۔

اس بار ان کا لہجہ کچھ بیچارگی لئے ہوئے تھا ۔۔۔۔

شفا کی مرضی۔۔۔۔

ھاھاھا۔ ۔ ۔ ۔

پہلے کبھی کسی معاملے میں آپ نے ائمہ کی مرضی معلوم کی ہے؟؟؟

جو اب اپنی بیٹی کے وقت آپ کو کسی کی خواہش یا مرضی جاننے کی فکر لاحق ہو رہی ہے ۔۔۔؟؟؟؟

کیا اب شفا ء سے کسی راضی نامہ پہ دستخط کرانا!! آپ کے لیے بہت ضروری عمل ہو گیا ہے ۔۔؟؟؟؟

خیر میں آپ سے پوچھ نہیں رہا ہوں اور یاد رہے کہ۔۔۔۔۔

بس گھر ہی گھر کے افراد اس نکاح میں شریک ہونےچائیے! کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے رشتے داروں میں سے ۔۔

برائے مہربانی ایک دفعہ پھر یاد دہانی کروا رہا ہوں کہ کسی بھی باہر کے بندے کو بلاوا دینے کی زحمت نہ کیجئے گا ۔۔۔

بیٹا یہ دلوں کے سودے ہوتے ہیں جذبات سے ان نازک معاملات میں کام نہیں لیا جاتا۔۔۔۔۔

وہ نرمی سے گویا ہوئے ۔۔۔۔۔

دل اور جذبات کی بات تو آپ رہنے دے میں عمر نہیں ہوں جس کو ماضی کا کچھ بھی علم نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔

حمزہ بہت جتلاتے لہجے میں رحمان صاحب کو بہت کچھ سمجھا گیا تھا ۔۔۔

جو تم سوچ رہے ہو اور جوتم نے دیکھا وہ ادھورا سچ ہے ۔۔۔۔۔

سچ سچ ہوتا ہے۔۔۔۔!!!

چاہے آدھا ہو یا پھر پورا ۔۔۔۔۔۔۔۔

یاد رکھیے گا میری ایک بات اگر آج میرا شفا سے نکاح نہیں ہوا تو میرا اس گھر سے تو کیا۔ ۔۔

گھر میں موجود کسی سے بھی فرد سے تعلق نہیں رہے گا سوائے میری ماں کے۔ ۔۔۔۔

پھر آپ اپنے مرحوم بھائی کو جواب دیتے رہیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے آخری حربہ استعمال کیا جس کے بعد وہ جانتا تھا کہ فتح اس کا مقدر ضرور ٹھہرے گی ۔۔۔

بیٹا تم میرے سب سے بڑے بیٹے ہوں اور مجھے میرے سب اولادوں میں سب سے زیادہ عزیز تر بھی۔۔۔۔۔

تمہاری یہ خواہش میرے لیے بہت چھوٹی ہے ۔۔

تم گر زندگی میں مجھ سے میری سانسیں بھی مانگو گے تو میں وہ بھی دینے سے دریغ نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔

یہ تو پھر میرے دل کے ٹکڑے نے جگر کا ایک حصہ پانے کی خواہش کی ہے۔۔۔۔۔

تم مطمئن ہو جاؤ اور شام میں تمہارا نکاح ہے شفا سے ۔۔۔

ایک منٹ نکاح کے ساتھ ساتھ آج ہی رخصتی بھی ہے ۔۔۔

وہ اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے بولا ۔۔

امی۔۔۔ ۔

نا ممکن۔ ۔۔۔۔۔۔!!!!!

ابو نے مجھے کیا کوئی کھلونا سمجھ رکھا ہے؟؟؟؟

میں ہرگز بھی اس جیسے ہوس کے مارے شخص سے شادی نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔

شفانے روتے ہوئے سمیرا سے کہا ۔۔۔۔

رہنے دو بس یہ ڈرامہ بازی کسی اور کے سامنے کرنا پہلے تم نے خود حمزہ کو اس فیصلے کے لئے مجبور کیا ہے۔۔۔۔۔

اور اب خود کو بچانے کے لئے میرے سامنے فضول قسم کے ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔

امی آپ بھی۔۔۔۔۔۔؟؟؟

مجھے ہی قصور وار ٹھہرا رہیں ہیں ۔۔۔۔۔

کیا آپ کو بھی اپنی بیٹی پر ذرا برابر یقین نہیں ہے ؟؟؟؟؟

وہ حیرت اور بے یقینی سے گویا تھی۔۔۔۔۔۔

دیکھو شفاءیہ حمزہ کا بڑا پن ہے کہ وہ تمہاری کی گئی اس قدر گری ہوئی حرکت کے باوجود بھی تمہیں اپنی عزت بنا رہا ہے۔۔۔۔

تاکہ اس کے ماں باپ پہ کوئی ایک انگلی نہ اٹھا سکے ۔۔۔

وہ جتنا سخت لگتا ہے وہ اتنا ہی اپنی فیملی کے لئے مخلص بھی ثابت ہو رہا ہے۔۔۔۔

اس کا ثبوت اس نے آج اپنے فیصلے سے دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے یعنی آپ لوگ مکمل طور پر فیصلہ کرچکے ہیں ۔۔۔۔۔

ہاں بالکل ٹھیک سمجھا تم نے اور میں اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ یہ تمہاری بھی خواہش ہے ۔۔۔

یہ تمہارا جوڑا ہے شام کو بیوٹیشن تمہارا میک اپ کر جائے گی اور ابھی بھی مہندی لگوانے کے لئے تمہیں حمزہ لینے آ رہا ہے ۔۔۔۔۔

خاموشی سے بغیر کوئی واویلا مچائے ڈھنگ سے تیار ہو کے اس کے ساتھ جاؤ ۔۔۔

دیکھ لو کیسا بچہ ہے۔۔۔

سب کچھ بھول بھال کر تمہاری ہر خواہش کو پورا کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔

امی عمر بھائی کو تو آنے دے اس نے ایک کمزور سی کوشش کی تھی شاید عمر یہ نکاح رکوا سکتا تھا ۔۔۔۔نن

وہ بھی تمہاری رخصتی سے پہلے آ جائے گا لائبہ کو لے کر ۔۔۔

کیا مطلب؟؟؟؟؟؟؟

رخصتی بھی ۔۔۔؟؟؟

شفاء کے سر پے سمیرا نے آخری بم بھی پھوڑ دیا تھا ۔۔۔

بیٹا شفا کی والدہ کا فون آیا تھا وہ انہوں نے آج شام کو بھی بلایا ہے شفا کا نکاح ہے آج۔۔

تم سو رہی تھی اس لئے میں نے تمہیں اٹھانا مناسب نہ سمجھا ۔۔۔۔

لیکن اتنی جلدی کیسے؟ ؟؟!

وہ حیرت سے پوچھنے لگی بیٹا یہ تو مجھے خود بھی نہیں معلوم تم اب فون کرکے خود معلومات حاصل کرلینا اور پہلے ذرا میرے ساتھ ناشتہ کر لو۔۔۔۔۔۔

پیار سے بیٹی کو دیکھتے ہوئے بولے ۔۔۔