Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Last Episode)Part 1

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“زوہان کمرے میں داخل ہوا تو ایشال کو اپنے ڈوپٹے سے اُلجھتا دیکھ کر بے ساختہ مسکرایا

“آہمم۔۔۔”اُس نے گلا کھنکھار کر اُس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی تو وہ اُس کو دیکھ کر کھسیانی ہوئی

“سوری۔۔”دراصل مجھے یہ بہت زچ کررہا تھا۔۔”لب دانتوں تلے دبائے ایشال نے بتایا

“کوئی بات نہیں۔۔”زوہان نے سادہ لہجے میں کہا

“ایک منٹ۔۔”ایشال اچانک اُس کو دیکھ کر کہتی اپنا ڈوپٹہ اُٹھائے سر پر ڈال کر بیڈ پر بیٹھ گئ۔۔

“اب یہ کیا بات ہوئی؟”زوہان کو تعجب ہوا

“میں نے سُنا ہے شوہر تحفہ دیتا ہے۔۔”تو مجھے وہ دو جو میرے لیے لائے ہو۔۔”ایشال نے اپنی حنائی ہتھیلی اُس کے سامنے کی

“لیکن میں نے تمہارا چہرہ دیکھ لیا تھا پھر کیسی منہ دیکھائی؟”زوہان نے پوچھا

“تو کیا ہوا دیکھا جو اب گھونگھٹ اُٹھاؤ۔۔”تعریف کرو اُس کے بعد منہ دیکھائی بھی دو۔۔”نہ دینے کی صورت میں چہرہ دِکھانے کی کوشش نہیں کروں گی میں۔۔”ایشال نے شانے اُچکاکر آرام سے کہا

“یہ کیا بات ہوئی؟”یعنی اگر گفٹ نہیں دوں گا تو چہرہ بھی نہیں دیکھ پاؤں گا؟”زوہان نے پوچھا

“جی بلکل چہرہ دیکھنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔۔”ایشال نے اپنا سراثبات میں ہلاکر اُس کو بتایا

“اچھا تو پھر میں تمہیں گفٹ دے دیتا ہوں۔۔”زوہان نے سوچ ویچار کے بعد کہا

“بلکل گڈ فار یو۔۔۔”ایشال نے اپنا سراثبات میں ہلاکر کہا تو زوہان نے اُٹھ کر سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولا اور وہاں سے ایک مخملی کیس اُٹھا کر اُس کے روبرو بیٹھ کر اُس کے چہرے سے گھونگھٹ اُٹھایا تو ایشال نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ کو کنٹرول کیا۔۔”یہ سب اُس کو بہت عجیب لگ رہا تھا

“ہاتھ دو اپنا۔۔۔”زوہان نے کہا تو اُس نے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دیا

“یہ سب کتنا عجیب اور نیا نیا سا ہے نہ۔۔۔”ایشال کو اپنی کیفیت سمجھ میں نہیں آئی

“ہاں کیونکہ ہم دونوں کو پہلی شادی ہے تبھی تمہیں سب نیا لگ رہا۔۔۔”زوہان نے اُس کے ہاتھ کی انگلی میں ایک خوبصورت انگھوٹی پہناکر کہا تو وہ اُس کو گھورنے لگی

“تم کتنے بورنگ ہو نہ۔۔”مطلب شادی کی پہلی رات کون اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ آج ہماری پہلی شادی ہے۔۔”افکورس ہر انسان کی پہلی شادی ہوتی ہے۔۔”اب بندہ روز شادیاں تو نہیں کرتا نہ؟”ایشال نے اُس کی عقل پر گویا ماتم کیا

“سب کی پہلی شادیاں کہاں ہوتی ہیں؟”کوئی دو شادیاں کرتا ہے اور کوئی دو سے زیادہ۔۔۔”زوہان نے بتایا

“خیر چھوڑو یہ بتاؤ تمہیں کیسا لگ رہا ہے آج؟”ایشال نے سرجھٹک کر پوچھا

“اچھا لگ رہا ہے فیلنگ نائیس۔۔۔”زوہان کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے۔ ۔”اِس لیے جو منہ میں آیا وہ بول دیا تھا جس پر ایشال حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی

“یعنی میں نے غلط سُنا تھا۔ ۔”ایشال ہونک بنی بولی

“کیا غلط سُنا تھا؟ “زوہان کو سمجھ میں نہیں آیا

“یہی کہ جو لڑکے سڑو قسم کے نظر آتے ہیں۔۔”وہ درحقیقت کافی رومانٹک ہوتے ہیں۔ ۔”لیکن تم تو ویسے بلکل بھی نہیں۔ ۔”مجھے اگر ون پرسنٹ بھی انداز ہوتا تو

“وہ اِتنا کہتی کہتی چُپ ہوگئ

“تو؟ “زوہان نے بائیں آئبرو اُپر کرکے اُس کو دیکھا

“تو۔ ۔۔”ایشال کو سمجھ میں نہیں آیا

“ہاں بات کو مکمل کرو۔ ۔۔”زوہان نے اُس کو اُکسایا

“لِیو اِٹ بس تم نے نہ مجھے آج بہت مایوس کیا ہے۔ ۔”ایشال اُس کی پہنائی ہوئی انگھوٹی کو دیکھ کر بات بدلنے کے غرض سے بولی

“میں نے کیا کردیا ہے ایسا جو تمہیں مایوس

ِ ہوئی؟”زوہان ابھی تک سمجھ نہیں پایا تھا

“یہ بتاؤ میں کیسے لگ رہی ہوں؟”ایشال سیدھی طرح ہوکر بیٹھتی اُس سے پوچھنے لگی تو اپنے کان کی لو کُھجاتا زوہان اُس کو دیکھنے لگا

“بہت پیاری۔۔”زوہان نے بتایا تو ایشال نے دانت پیسے

“مسٹر زوہان زوریز شادی کی پہلی رات شوہر بیوی کی تعریف میں بس یہ نہیں بولتا کہ”بہت پیاری۔۔”غور سے دیکھو مجھے میں اِتنا سج دھج کے تمہارے لیے بیٹھی ہوں۔۔”کیا میری اِتنی ساری تیاری بس یہ ایک لفظ ڈیزرو کرتیں ہیں؟”ایشال کی باتیں اُس کو اُلجھن میں ڈال چُکی تھی۔۔”اگر اُس کو پتا ہوتا ایشال ایسی کوئی بات اُس سے کرنے والی ہے تو وہ رایان یا سکندر میں سے کسی ایک سے کلاس لازمی لے آتا لیکن اب کیا کرے؟”یہ بات اُس کو سمجھ میں نہیں آئی ابھی تو اُس کو اپنی طرف سے ایشال کو مطمئن کرنا تھا

” تم بتاؤ ایک شوہر ہونے کی حیثیت سے میں تمہاری کیسی تعریف کروں؟”یعنی کیسے اور کس انداز میں کروں جو تم خوش ہوجاؤ گی۔۔”زوہان نے کچھ سوچ کر سب کچھ اُس پہ ڈال دیا

“اچھا تم یہ کہو ایشال تم آج عروسی جوڑے میں ملبوس تمام دولہن بنی لڑکیوں کو مات دے رہی ہو۔۔”ایسا رنگ روپ کبھی کسی میں نہیں آیا جیسا آج تم میں آیا ہے۔۔”ایشال نے اُس کو دیکھ کر گردن اکڑا کر کہا

“لیکن اقدس آپو پر بھی بہت روپ آیا تھا اور آج کی بات ہے عیشو بھی دولہن بنی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔”انفکٹ تم دونوں کا ڈریس ایک جیسا تھا تو ہر کوئی دیکھنے والا کنفیوز ہورہا تھا کہ کونسی والی دولہن زیادہ پیاری لگ رہی ہے۔۔”زوہان نے اُس کی بات پر پرسوچ لہجے میں کہا تو دانت پیستی ایشال نے پاس پڑا کشن اُٹھاکر اُس کے منہ پر دے مارا

“یہ کیا ہے؟”زوہان کو حیرانی ہوئی

“کشن ہے۔۔”پھاڑ کھانے والے انداز میں جواب دیا گیا

“وہ میں دیکھ سکتا ہوں۔ ۔”لیکن یہ کیا حرکت ہے تمہاری ایسا کون کرتا ہے؟ “زوہان گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھ کر بولا

“ایکزائکلی میں بھی تم سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ایسا کون کرتا ہے؟”یعنی بیوی کے سامنے بیٹھ کر تم اپنی کزنز کی تعریفیں کررہے ہو۔ ۔۔”ایشال نے ایک اور کشن اُٹھاکر اُس کی طرف پھینکا لیکن اِس بار زوہان نے وہ کیچ کرلیا تھا

“میں نے ایک عام بات کی کیونکہ تم نے کہا ہی کچھ ایسا۔ ۔۔”زوہان نے صفائی پیش کی

“ڈفر ہر لڑکی کو اپنی شادی والے دن اپنا آپ خوبصورت لگتا ہے۔ ۔”لیکن اُس کو یہ بھی پتا ہوتا ہے کہ کوئی اور دولہن بنی اُس سے بھی زیادہ پیاری لگ رہی ہوگی۔ ۔”لیکن شوہر اپنی بیوی کی تعریف میں زمین آسمان ایک کردیتا ہے۔ ۔”یہ نہیں بولتا کہ فلاں وقت فلاں لڑکی خوبصورت لگ رہی تھی۔ ۔ایشال نے دانت کچکچاکر اُس کو دیکھ کر کہا

“ایشال تم مجھے یہ آرام سے بھی بتاسکتی ہو۔ ۔”مجھے کیسے پتا ہوگا کہ کیا کیسے ہوتا ہے؟ “میری پہلی شادی ہے۔ ۔”کوئی خاص ایکسپیرینس نہیں مجھے اِس بارے میں۔ ۔”زوہان نے اپنی باتوں سے مزید اُس کا پارہ ہائے کیا

“ہاں تمہارا فرسٹ ایکسپیرینس ہے۔ ۔”میرا تو چوتھا پانچواں ہے نہ جو تمہیں کلاسس دوں۔ ۔ایشال نے طنزیہ لہجے میں کہا

“اچھا سوری اب میں ایسا نہیں کہتا کچھ۔ “زوہان نے اُس کو پرسکون کرنے کی خاطر کہا

“بات نہ کرو تم بس دل جلا رہے ہو۔۔”ایشال نے چہرہ دوسری طرف کیے اُس سے کہا

“میں نے سوری کرلیا ہے۔ ۔”اب کیسی ناراضگی اور میں اب سوچ کر تمہاری تعریف بھی کرلوں گا۔ ۔”زوہان نے ہچکچاکر اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر کہا

“مجھے بس تم میری ایک بات کا جواب دو۔ ۔”ایشال نے کہا

“کونسی بات؟ “زوہان نے پوچھا

“تم نے مجھ سے شادی کیوں کی؟ “پلیز یہ مت کہنا کہ تم سے واعدہ کیا تھا۔ ۔”اور تمہاری ضد کی وجہ سے۔ ۔”کیونکہ میں نے اپنے واعدے سے تمہیں آزاد کرلیا تھا اور اپنی ضد سے بھی پیچھے ہٹ گئ تھی۔ ۔”ایشال نے پہلے ہی اُس کو وارن کیا

“تم مجھے اچھی لگنے لگی تھی۔۔”زوہان نے ہمیشہ کی طرح صاف گوئی کا مُظاہرہ کیا

“کب میں تمہیں اچھی لگتی تھی؟ “ایشال کو جاننے کا اشتیاق ہوا

“تب جب تم ڈوپٹے سے اُلجھتی ہوئی آتش لُغاری کو بار بار اپنا ڈوپٹہ سہی کرنے کے لیے اِشارے دے رہی تھی۔ ۔”اُس وقت تم مجھے کیوٹ لگی تھی یا شاید اچھی بھی۔ ۔”زوہان نے بتایا

“لیکن اگر ایسی بات ہے تو اُس دن روڈلی بات کیوں کی تھی؟ “ایشال نے پوچھا

“ایسے ہی تاکہ تمہارا دل خوشفہم نہ ہو۔ “اور میں بھی خود کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہتا تھا۔ ۔”زوہان نے بتایا

“پھر کب تمہیں سمجھ آیا؟ “اگلا سوال

“تب جب تم نے کہا کہ میں تمہیں اپنے واعدے سے آزاد کرتی ہوں۔ ۔”زوہان نے بتایا تو وہ مسکرائی

“اچھا پھر اُس وقت پرپوز کیوں نہیں کیا؟”ایشال نے منہ بناکر پوچھا

“کیونکہ تم میرے پرپوزل سے پہلے پٹ چُکی تھی۔ “زوہان نے کہا تو وہ ایک بار پھر اُس کو گھورنے لگی

“تمہاری یہ صاف گوئی ایک دن تمہیں پٹوائے گی۔ ۔”ایشال نے اُس کے کندھے پر چپت مارکر دانت پیس کر کہا تو وہ ہنس پڑا

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“یہ ہم کہاں جارہے ہیں؟ “اقدس نے اُلجھن آمیز لہجے میں گاڑی ڈرائیو کرتے آتش سے پوچھا جس نے گارڈز کو واپس بھیج دیا تھا۔ ۔”اور ڈرائیور کو بھی گاڑی سے اُتاردیا تھا اور اب گھر جانے کے بجائے پتا نہیں کہاں اُس کا اِرادہ تھا

“سرپرائز۔ ۔”آتش نے بتایا

“کیسا سرپرائز؟”اقدس تعجب سے اُس کو دیکھنے لگی

“سرپرائز بتانے کے بعد سرپرائز نہیں رہتا۔”آتش نے اُس کی معلومات میں اضافہ کیا

پر

“اقدس کچھ کہتے کہتے رُک سی گئ کیونکہ اُس کے سیل پر میسج ٹون بجی تھی۔ ۔”اُس نے سیل فون آن کیا تو المان کا میسج پڑھ کر اُس کو یقین نہیں آیا

You often asked who is my well visher? “I thought I would tell you today that it is a Atish laghari

ایک بار

دو بار

بار بار

جانے کتنی بار اُس نے میسج کو پڑھا اور وہ یقین کرنے سے قاصر تھی۔ ۔”اُس کو یقین نہ آیا کہ المان کی مدد کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ آتش لُغاری تھا وہ آتش جس کو کسی کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی اُس شخص نے المان کی اِتنی مدد کی تھی اور مدد بھی بغیر کسی غرض اور بغیر کوئی احسان جتائے۔ ۔”ایسے جیسے کسی کو کچھ پتا بھی نہیں چلا تھا۔۔”سب کچھ اُس کو اب سمجھ آیا کہ دیوار پر المان کی تصویر دیکھ کر وہ چونک کیوں پڑا تھا؟ “اور جب اُس کو المان کے آنے کا اُس نے بتایا تو اُس کا ری ایکٹ اِتنا ٹھنڈا کیوں تھا؟ “اور المان کیوں آتش کو حویلی میں دیکھ کر اُس سے گرمجوشی سے ملا تھا۔۔”اور کیوں باقیوں کی نسبت آتش نے المان کی ٹانگ کیوں نہ کھینچی تھی۔ “جیسے وہ رایان یا زوہان کو زچ کرتا ایسے کبھی المان کو کیوں نہ کیا۔ ۔”وہ المان کو بھی جانتی تھی اور آتش کو بھی دونوں اِظہار کے معاملے میں کنجوس تھے۔ ۔”بغیر دل کے مطمئن ہونے کے وہ کسی کو دیکھتے بھی نہ تھے۔ ۔”کجاکہ پہلی ملاقات میں ایسے ملنا ملانا۔ ۔”اُس کو پہلے ہی دن سے اُن کا لگاؤ یہ سالے اور بہنوئی جیسا نہ لگا تھا۔۔”پر پھر بھی یہ سارا کچھ سوچ جانے کے بعد بھی اُس کو ایسا لگ رہا تھا جیسا آتش اِتنا اچھا بھی نہیں۔۔”جیسا اُس نے نام جانے بغیر اُس کو تصور کرلیا تھا

“زوجہ ہماری منزل آگئ۔ ۔”آتش کی آواز نے اُس کو سوچو میں خلل ڈالا وہ چونک کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تو اُس کو علاقہ کافی سُنسان سا لگا

“یہ تم ہمیں کہاں لائے ہو؟ “اقدس نے پوچھا

“آؤ تو سہی۔۔”گاڑی سے باہر نکل کر وہ خود جلدی سے اُس کی طرف آتا اُس کے لیے دروازہ کھول کر ایک ہاتھ سینے پر رکھ کر مہذب انداز میں کھڑا ہوا تو وہ بس اُس کو دیکھنے لگی۔۔”لیکن پھر پٹاخوں کی آواز پر اُس نے گھبراکر آتش کا ہاتھ زور سے پکڑلیا

“اُپر دیکھو۔۔”آتش اُس کو اپنے حصار میں لیتا کہنے لگا تو وہ ناسمجھی سے اُس کو دیکھتی پھر اُپر کی جانب دیکھنے لگی تو حیران رہ گئ۔۔”آسمان میں خوبصورت جگمگاتی لائیٹس میں I’m sorry لکھا تھا اور پھر جب وہ غائب ہوا تو اُس کے بعد ہارٹ شیپ بن سا گیا تھا جس کے اندر اب جگمگا رہا تھا you are my soul Mate اقدس کُھلے منہ کے ساتھ یہ خوبصورت منظر دیکھ رہی تھی۔ ۔”آتش کا سرپرائز اُس کے لیے واقعی سرپرائزنگ تھا۔ ۔

“یہ سب؟”وہ حیرت سے آتش کو دیکھنے لگی جو اُس کا ہر بدلتا تاثرات دیکھ کر مسکرا رہا تھا

“جانتا ہوں ایسے کام ٹین ایجز لوگ کرتے ہیں۔ ۔”لیکن پھر خیال آیا ہر مرد اپنی بیوی کو ایسا سرپرائز دے سکتے ہیں۔ ۔”آتش نے شانے اُچکاکر کہا

“یہ سب تم نے ہمارے لیے کیا ہے؟”اقدس بے یقین تھی

“تمہارے لیے؟ “ایسا کس نے کہا؟ “یہ سب تو میں نے دعا خان کے لیے کیا بیچاری دور سے دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھر رہی تھی۔ ۔”سوچا کیوں نہ اُس کے دیکھنے پر انعام دیا جائے۔ ۔”آتش نے اُس کے سوال پر جل کر جواب دیا

“آپ کو یہ دعا خان کچھ زیادہ یاد نہیں؟ “اقدس کا موڈ بگڑا

“سیریسلی زوجہ؟”یقین کرو اگر یہ میں کسی اور کے لیے کرتا تو اب تک وہ مجھ سے اِظہارِ محبت کردیتی۔ ۔”لیکن واحد ایک تم ہو جس کو اِس رومانٹک ماحول میں بے تُکے سوالات سوجھ رہے۔ ۔”یعنی کبھی کسی نے تمہیں بتایا نہیں کہ تم کس قدر احمقانہ سوالات کرتی ہو۔ ۔”آتش نے اُس کو گھور کر کہا تو وہ اپنی جگہ پہلو بدلتی رہ گئ

“نہیں وہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آپ ہمارے لیے یہ سب کرسکتے ہو۔ ۔اقدس نے صاف گوئی کا مُظاہرہ کیا

“اب کرلوں یقین پرائم منسٹر سے سیدھا ٹین ایجر لور بن گیا ہوں۔ ۔”جو اپنی محبوبہ کو راضی کرنے کی جدوجہد میں ہے۔ ۔”آتش نے ٹھنڈی سانس بھر کر اُس کو دیکھ کر کہا

“ہم ابھی حیران ہیں۔ ۔”اقدس نے حیرانی سے کہا

“اِن شاءاللہ ساری عمر تم نے بس حیران رہنا ہے۔ ۔”آتش نے طنزیہ کہا۔ ۔”یعنی اُس نے کیا کچھ کیا تھا اور ایک اُس کی بیوی تھی جس نے خیر خوشی میں آکر آئے لو یو تو نہ کہا تھا پر ایک لفظ شکریہ کا بولنا بھی اُس نے گوارا نہ کیا تھا

“تم نے یہ سب کیوں کیا؟ “ایک اور بے تُکہ سوال

“بچپن میں سر پر چوٹ لگی تھی۔ ۔”اُس کے بعد دماغ خراب ہوگیا تھا تبھی یہ سب کیا۔ ۔”آتش نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“تم نارمل ری ایکٹ نہیں کرسکتے؟”اقدس نے منہ بناکر پوچھا

“ضرور کروں گا۔ ۔”جب تم عام لڑکیوں کی طرح بننے کی کوشش کرو گی۔ ۔”آتش نے تُرنت جواب دیا تو اقدس کی نظر اُس کے پیچھے گئ جہاں ٹینٹ لگا ہوا تھا۔۔”یہ سب دیکھ کر اقدس کو اپنی کم عقلی پر جی بھر کر افسوس ہوا تھا۔ ۔”اُس نے بے ساختہ آتش کو دیکھا جس کا موڈ شاید خراب ہوگیا تھا

“آپ نے سوری کیوں بولا؟ “اقدس نے بات کرنے کے غرض سے پوچھا

“بتایا جو بچپن میں سر پر چوٹ لگی تھی۔ ۔”اُس کے بعد دماغ خراب ہوگیا تھا۔۔”آتش نے بنا دیکھے اُس کو بتایا

“سہی سے بات کرے نہ۔ ۔اقدس نے اُس کا رُخ اپنی طرف کیا

“زوجہ تم میرا اچھا خاصا موڈ بگاڑ چُکی ہو۔ ۔”آتش نے سنجیدگی سے کہا تو اقدس اُس کے پل میں بدلتے رنگ کو بس دیکھتی رہ گئ

“سوری۔ ۔”ہم نے شاید اور ری ایکٹ کردیا۔ ۔”اقدس نے کہا

“اِس میں کوئی شک نہیں۔ ۔”آتش نے کہہ کر اپنا سرجھٹکا

“سب کچھ بہت اچھا تھا۔ ۔”پر آپ سیریس ہوکر بتائے نہ یہ سب اور سوری کیوں کیا آپ نے؟ “اقدس نے پوچھا۔ ۔”المان کے ایک میسج پر اُس کے دل میں آتش کے لیے جو میل تھا وہ سب ختم ہوگیا تھا

“مجھے پتا چلا چاند میں داغ میری وجہ سے آیا تھا۔ ۔”تمہارے گُذشتہ سالوں کا خسارہ ختم نہیں کرسکتا لیکن جو اختیار میں جو تھا وہ کیا۔ ۔”آتش نے سنجیدگی سے جواب دیا

“وہ داغ اگر آپ کی وجہ سے آیا تھا تو صاف بھی ہوگیا تھا وہ آپ کی وجہ سے۔ ۔”اقدس نے اُس کو دیکھ کر جواباً کہا

“تو تم نے ایزلی مجھے معاف کردیا؟ “آتش چونک پڑا

“جی کیونکہ بس ہم چوہے بلی کا کھیل ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ۔”اقدس نے کہا تو آتش تھوڑا اُس کے قریب آتا اُس کا ماتھا چھونے لگا

“یہ کیا کررہے ہو آپ؟ “اقدس نے حیرت سے اُس کو دیکھا جو بار بار اُس کو حیران کررہا تھا

“بُخار چیک کررہا تھا۔ ۔”مجھے لگا شاید تمہیں بُخار نہ ہوگیا ہو۔ ۔”پر سب نارمل ہے لیکن تمہارا ری ایکشن مجھے نارمل نہ لگا۔ ۔”آتش نے کہا تو وہ اُس کو گھورنے لگی

“سرپرائز دیکھ کر ہمیں بھی آپ پر ایسا شک ہورہا۔ ۔”اقدس نے کہا تو آتش نے مسکراکر اُس کا ماتھا چوما

“مجھے بُخار نہیں ہوا میں معصوم تو بس چاہ رہا تھا تمہارے چہرے پر شرمگین مسکراہٹ آئے۔ ۔”لیکن کمبخت یہ حیرانی والا تاثر جائے گا تو کوئی اور تاثر آئے گا۔۔۔”آتش نے جس انداز میں اُس سے کہا ایسے میں مسکراہٹ کیا اُس کی ہنسی چھوٹ گئ

“ویسے آج رات ہم یہی رہنے والے ہیں۔۔”یہ خوبصورت خیمہ دیکھو تمہاری طرح پیارا ہے۔۔”آتش نے بتایا

“میں انسان ہوں۔۔”اقدس نے یاد کروایا

“اچھا ہوا بتادیا ورنہ مجھے تو پتا ہی نہ تھا۔۔”آتش نے ہنس کر کہا تو اقدس غور سے اُس کو دیکھنے لگی۔۔”اُس نے سُنا تھا وہ جیسا دِکھتا تھا ویسا تھا نہیں اُس نے اپنے اُپر خول چڑھایا ہوا ہے۔۔”لیکن اُس کو ایسا نہیں لگا۔۔”اُس کی مسکراہٹ”اُس کا ہنسنا دیکھ کر اُس کو یہ محسوس ہوا جیسے اُس کو کوئی پرواہ نہیں۔۔”دُنیا کی جھنجھٹوں سے وہ بلکل آزاد تھا۔۔”اُس کو کسی کی کوئی فکر نہ تھی۔۔”وہ اپنی زندگی کے لمحات ایسے گُزارتا جیسے یہ لمحہ اُس کی زندگی کا آخری لمحہ ہو

“سمجھ نہیں آتا آپ اصل میں ہو کیا۔۔”اقدس نے اُس کو دیکھ کر اچانک سے کہا

“مجھ سے پوچھو میں بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں۔۔”آتش نے اُس کو دیکھ کر کہا

“پھر بتائے کیا ہو آپ؟”کیونکہ جیسے ہم نے آپ کو سوچا تھا ویسے آپ بلکل بھی نہیں ہو۔۔”اقدس نے کسی ٹرانس کی کیفیت میں کہا

“اصل میں نہ۔۔آتش نے ایک قدم اُس کی طرف بڑھایا

“بتائے نہ۔۔”اپنے گرد اُس کا حصار محسوس کرتی اقدس پوچھنے لگی

“میں چیز بڑی ہوں مست مست۔۔”آتش نے کافی سنجیدہ انداز میں ایک غیرسنجیدہ بات کی تو اقدس بس اُس کا منہ تکتی رہ گئ۔۔”جبکہ آتش اُس کے ایکسپرینیشنز سے لطف اندروز ہوتا اُس کو اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *