Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 19)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 19)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“تمہارے پاؤں پر چپکلی تھی”اور تم نے اِتنا نارمل ری ایکٹ کیا؟سکندر اُس کے کچھ فاصلے پر بیٹھتا اُس کو گھور کر بولا تھا۔۔
“چپکلی تھی۔۔۔۔اُس کو دیکھتی”ماہا نے”تھی”پر خاصا زور دیا
“جو بھی لیکن تمہیں اُچھلنا کودنا چاہیے تھا۔۔۔سکندر سے برداشت نہیں ہورہا تھا۔۔”اُس کا ایسے بیٹھنا
“وہ چپکلی تھی”کوئی ڈسکو میوزک نہیں تھا”جس کو سن کر ماہا خوشی سے اُچھلتی کودتی۔۔آپ بھی نہ کبھی کبھار حد کرتے ہو۔۔۔ماہا نے سرجھٹک کر اُس سے کہا۔۔”جس پر سکندر کو تاؤ آیا
“تمہیں چپکلی سے ڈر نہیں لگتا؟سکندر نے پوچھا
“چپکلی سے بھی ڈری تو تُف ہے ماہا کی زندگی پر۔۔ماہا نے گردن اکڑا کر اُس سے کہا
“حیرت ہے تمہیں چپکلی سے ڈر نہیں لگتا ہلانکہ اگر تمہاری جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی”تو ابھی تک اُس کا سانس خشک ہوچکا ہوتا۔۔۔۔سکندر ابھی تک ہضم نہیں کرپارہا تھا۔۔۔
“کوئی اور کوئی اور ہوتا۔۔”لیکن یہاں ماہا ہے۔۔”ماہا اسیر ملک۔۔۔”جس کو اِن چھوٹے چھوٹے کیڑوں مکڑوں سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔ماہا شانِ نے نیازی سے بولی تو سکندر نے ضبط سے اُس کو دیکھا
“اچھا تو پھر تمہیں کس چیز سے ڈر لگتا ہے؟سکندر نے اپنا لہجہ سرسری سا کیا
“آپ کو کیوں بتائے ماہا؟ماہا نے گردن موڑ کر ترچھی نگاہوں سے اُس کو دیکھا
“میں تمہارا کزن ہوں۔۔”اور ایک کزن ہونے کے ناطے مجھے پتا ہونا چاہیے۔۔”تمہاری ہر چیز کے بارے میں۔۔”جیسے عیشو کا پتا ہے۔۔”رایان اور زوہان کا پتا ہے۔۔”مان کا بھی پتا ہے مجھے۔۔سکندر نے سنبھل کر اچھے لفظوں کا چُناؤ کیا تاکہ ماہا کو شک نہ ہو۔۔
“ماہا کسی سے نہیں ڈرتی۔۔”بلکہ ڈر بھی ماہا سے ڈرتا ہے۔۔۔ماہا ناک منہ چڑھا کر بولی تھی
“ایسا تو پاسیبل ہوتا نہیں کہ یعنی تمہاری کوئی تو کمزوری ہوگی نہ؟سکندر کو اب بے چینی سی ہونے لگی تھی۔
“ہاں ہے تو سہی۔۔ماہا نے اعتراف کیا
“کیا؟سکندر نے تقریباً چیخ کر پوچھا
“آپ کو کیوں بتاؤں؟”بابا سائیں کہا کرتے ہیں کہ زندگی میں کبھی کسی کو اپنی طاقت”یا کمزوری کا نہ بتایا کرو۔۔”کیونکہ آپ کی کمزوری دوسری کی طاقت بن سکتی ہے۔۔”پھر وہ جب چاہے اِس طاقت کا غلط فائدہ اُٹھاکر آپ کو نقصان پہچان سکتا ہے۔۔۔”طاقت کا بھی نہیں بتانا چاہیے”کیونکہ انسان کی اصل کمزوری وہ ہوتی ہے”جس کو وہ اپنی طاقت سمجھتا ہے۔۔۔ماہا نے لمبی چوڑی تقریر کرکے اُس کو بتایا تو سکندر سخت بدمزہ ہوا تھا
“اِتنی تقریر کرنے کی تمہیں قطعاً کوئی ضرورت نہ تھی۔۔۔”کیونکہ ایسا گریز دشمنوں کے لیے ہوتا ہے۔۔۔سکندر نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو دیکھ کر کہا
“جی بلکل یہ گریز “دُشمنوں”کے لیے ہوتا ہے۔”اور ماہا ٹرائے بھی وہاں کرتی ہے۔۔۔ماہا نے اپنی بات پر زور دیتے کہا
“تم اِن ڈائریکٹلی مجھے اپنا دُشمن بول رہی ہو۔۔۔”سکندر کو جیسے یقین نہ آیا
“ماہا نے بس آپ کو آپ کی بات کا جواب دیا ہے اور کچھ نہیں۔۔۔ماہا نے شانے اُچکائے جواب دیا۔۔۔”جبھی حویلی کا گیٹ کُھلا تھا۔۔۔”اور ایک سیاہ گاڑی داخل ہونے لگی”جس کو دیکھ کر ماہا اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھی۔
“کون ہے گاڑی میں؟سکندر ایک نظر گاڑی پر ڈالتا”ماہا سے پوچھنے لگا
“اقدس آپو ہیں”اور کون ہوگا۔۔ماہا جواب دیتی پاؤں میں چپل اُڑستی اندر کی طرف بڑھ گئ تھی۔۔”اور جب اقدس گاڑی سے باہر آئی تو اُس کو دیکھ کر سکندر کے دماغ میں اچانک سے کچھ کلک ہوا تھا۔
“السلام علیکم اقدس آپو۔۔سکندر اقدس کی طرف آیا تھا
وعلیکم السلام تم سب آگئے؟اقدس نے سلام کا جواب دینے کے بعد پوچھا
“جی ہم لوگ تو آگئے”لیکن آپ کہاں سے آئیں ہیں؟سکندر نے پوچھا
“ہم دراصل اپنی سہیلی کے گھر گئے تھے۔۔”اُس کی شادی ہونے لگی ہے نہ۔۔اقدس نے بتایا
“اچھا سہی اور میں نہ دراصل آپ سے ایک بات پوچھنا چاہ رہا تھا۔۔سکندر نے کان کی لو کُھجاکر کہا
“کیا پوچھنا چاہتے ہو تم؟اقدس نے لان میں ایک کُرسی پر بیٹھ کر سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
“وہ ہم نے نہ ایک گیم شروع کی ہے۔۔”جس میں ہمیں یہ جاننا ہوتا ہے کہ”جو بھی گیم میں شامل ہیں”اُس انسان کی ہر چھوٹی سے بڑی چیز کا ہمیں پتا ہونا چاہیے۔۔”جیسے اُس کو کھانے میں کیا پسند ہے”کیا ناپسند ہے۔۔”اُس کو گھومنے میں کونسی جگہ اٹریکٹ کرتی ہے کہ وہ جب کبھی”اور جتنی بار بھی جائے اُس کو ایسا فیل ہوتا ہے”جیسے وہ پہلی بار آیا ہے۔۔”اور ایک موسٹ جو ضروری ہے کہ وہ ڈرتا کس چیز سے ہے۔۔سکندر نے بڑھا چڑھا کر اُس کو بتایا”تاکہ اقدس کو کوئی شک نہ ہو۔۔”اور واقعی میں اُس کو شک نہ ہوا تھا۔۔”کیونکہ وہ ایک سادہ لڑکی تھی”عام باتوں کو گہرائی میں جاکر سوچتی نہیں تھی
“گیم کافی عجیب ہے۔۔”لیکن تم لوگوں کو تو ایک دوسرے کی ہر چیز کا پتا ہوتا ہے”پھر تم مجھ سے کیا پوچھنا چاہتے ہو؟اقدس مدعے کی بات پر آئی
“جی سب پتا ہے”پر مجھے یہ نہیں پتا کہ ماہا ڈرتی کس چیز سے ہے۔۔سکندر نے کہا تو اقدس چونک پڑی
“تمہیں یہ کیوں جاننا ہے؟اقدس ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولی
“گیم جیتنے کے لیے۔۔”اب آپ کو تو پتا ہے۔۔”میرے اور اُس کے ریلیشن کے بارے میں”ہر وقت لڑائی ہوتی ہے۔۔”کبھی ایک دوسرے کی پسند ناپسند جاننے میں کوئی انٹرسٹ نہیں لیا تو۔۔”ہوسکتا ہے کہ مجھ سے ماہا کے بارے میں پوچھا جائے۔۔اور مجھے پتا نہ ہو تو ایسے میں ہار جاؤں گا نہ۔۔سکندر نے سنبھل کر جواب دیا
“ماہی تو ویسے ماشااللہ سے بہت بریو ہے۔۔”اُس کو کسی سے ڈر نہیں لگتا۔۔”پر۔۔۔۔۔اقدس اِتنا کہتی خاموش ہوگئ
“پر کیا؟پھیلتے ہوئے سسپینس نے گویا سکندر کو پاگل کردیا تھا
“رات کے وقت اُس کو ڈر بہت لگتا ہے۔۔”جیسے بارشوں کا موسم ہو تو بجلی کے کڑکنے سے۔۔”دوسرا بھوتوں سے۔۔اقدس نے بتایا
“بھوتوں سے؟سکندر نے بے اختیار امڈنے والی مسکراہٹ کا گلا گھونٹا تھا
“ہاں اُس کو بھوتوں سے ڈر بہت لگتا ہے۔۔”اگر کبھی ہارر مووی دیکھ لے نہ تو اُس کی جان ہاتھ میں ہوتی ہے۔۔”تین چار دن اُس کو نیند بھی نہیں آتی۔۔۔اقدس نے تفصیل سے بتایا تو سکندر نے سوچ لیا کہ اُس کو اب کیا کرنا ہے۔۔
“ویری اسٹرینج۔۔۔سکندر بس یہی بول پایا
“ہاں اور اب ہم جائے یا تمہیں کچھ اور جاننا ہے؟اقدس نے اُٹھتے ہوئے اُس سے کہا
“آپ جائے۔۔”مجھے جو پوچھنا تھا وہ میں نے پوچھ لیا۔۔سکندر نے کہا تو اقدس مسکراکر اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔”سکندر بھی کچھ سوچتے ہوئے اُٹھ کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔








“یک کتنا خراب گھر ہے۔۔”ہر جگہ دھول مٹی”دھول مٹی۔۔”مجھے تو چھیکے آرہی ہیں۔۔۔زاویار”زاویان کو لیکر اپنے پُرانے گھر آیا تو اُس نے آس پاس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔۔”زاویار جو آس پاس صوفے سے کپڑا اُٹھا رہا تھا۔۔”اُس کی بات سن کر اپنا سر نفی میں ہلایا تھا۔۔
“سالوں سے بند تھا”لیکن میں ٹھیک کرلوں گا۔۔”کچھ لڑکوں سے بھی کہا ہے۔۔”وہ بھی آنے والے ہیں۔۔”تم فکر نہ کرو۔۔زاویار نے اُس کو تسلی بخش جواب دیا
“تو جب گھر ٹھیک سے انسانوں کے رہنے کے قابل بن جاتا”مجھے آپ تب لاتے یہاں۔۔”ابھی لانا ضروری تھا؟”ہم کسی ہوسٹل میں بھی تو رہ سکتے تھے۔۔”دیکھے کتنا ہانٹڈ ہوم لگ رہا ہے۔۔۔زاویان منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولا۔۔”یہاں آکر اُس کو اچھا فیل نہیں ہورہا تھا۔
“زاوی میں جانتا ہوں تمہیں۔۔”تمہارا اِرادہ کرلی گرل کے والدین کے پاس رُکنے کا ہے۔۔”لیکن ہم یہاں جس خاموشی سے آئے ہیں۔۔”اُس خاموشی سے چلے بھی جائے گے۔۔”بغیر کسی کو بتائے۔۔زاویار نے اُس کی بات پر سنجیدگی سے کہا
“کیا آپ کسی سے ڈرتے ہو؟زاویان نے سوال کیا
“میں زاویار اسحاق خانزادہ ہوں۔۔”جس کے نام سے لوگ ڈرا کرتے ہیں۔۔”لیکن وہ کسی سے ڈرے گا۔۔”یہ کوئی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا۔۔۔زاویار نے اُس کی بات سن کر اپنے لفظوں پر زور دیتے کہا
“آئے نو یو آر بریو۔۔اور آگے جاکر میں آپ کی کُرسی سنبھالوں گا۔۔”ایز آ دبئ کا ڈون بن کر۔۔واؤ کتنا مزہ آئے گا”لوگوں پر حکومت کرتے ہوئے۔۔۔زاویان کافی پرجوش لہجے میں بولا
“تمہارے دماغ میں ایسی خُرافات کون ڈالتا؟زاویار نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا
“کوئی بھی نہیں”میرا اپنا خود کا پرسنل دماغ ہے۔۔زاویان فخریہ انداز میں گردن تان کر اُس سے بولا
“Let me fix this.
“زاویار اُس کی بات پر کف فولڈ کرتا اُس کی طرف بڑھنے لگا تھا۔ ۔”جب زاویان گڑبڑا کر اُس سے دور کھڑا ہوا
“آپ کام کرو نہ اپنا۔ ۔”میں کوئی ہیلپ کروں؟ زاویان مسکا لگاتا اُس سے بولا
“خاموشی سے ایک جگہ بیٹھ جاؤ۔۔”یہی میرے لیے تمہاری بڑی مدد ہوگی۔۔زاویار نے سرجھٹک کر اُس سے کہا
“اِس بھوت بنگلے کوئی جگہ بیٹھنے لائق ہو تو میں بیٹھوں۔ ۔۔۔زاویان کا منہ بن گیا تھا
“اچھا ویٹ میں پہلے تمہارے کمرے کی صفائی کرلیتا ہوں” اُس کے بعد کچھ اور۔ ۔۔۔زاویار نے کچھ سوچ کر کہا
“میں اکیلے کہی نہیں بیٹھوں گا۔ ۔”مجھے کوئی شوق نہیں جن” بھوت” کا ڈنر بننے کا میں یہی سہی ہوں۔ ۔۔زاویان نے کانوں کو ہاتھ لگاکر کہا تو زاویار بس اُس کو دیکھتا رہ گیا۔ ۔”جس نے”راحت” کی کمی کو پورا کرلیا تھا۔ ۔”اپنی اِس چِک چِک سے۔ ۔۔








“یااللہ آپ کے دماغ میں یہ بیہودہ ہارر مووی دیکھنے کا شوق کیوں لاحق ہوا ہے؟ ماہا نے چور نگاہوں سے سامنے چلتی ٹی وی اسکرین کی طرف دیکھ کر اُن لوگوں سے کہا جو پاپ کارن کھاتے بہت مزے سے ہارر مووی کو دیکھ رہے تھے۔۔”اُن میں سے ایک زوہان بھی تھا جو بُری شکل بنائے سامنے چلتی ٹی وی کے مناظر دیکھ رہا تھا۔۔”یہ اُس کو ہارر مووی کم بورنگ مووی زیادہ لگ رہی تھی۔۔
“کیوں کیا تمہیں ڈر لگ رہا؟ سکندر نے مصنوعی فکرمندی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“نہیں بھلا ماہا کو ڈر کیوں لگے گا؟ “وہ تو بس ایسے ہی پوچھا۔ ۔۔ماہا سنبھل کر بولی
“یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ ۔”اب انجوائے کرو۔ ۔۔عیشا نے آلو کی چپس اُس کی طرف بڑھا کر کہا تو اُس نے بے دلی سے وہ لی۔ ۔۔
“تم سب ابھی تک جاگ رہے ہو؟اسیر ملک جو اپنے کسی کام کی وجہ سے گاؤں سے باہر تھا۔۔”وہ جب حویلی لوٹا تو ٹی وی لاؤنج سے آتی تیز آواز سن کر وہ وہاں آیا تھا اور”اُن سب کو ٹی وی دیکھتا دیکھ کر وہ سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں بولا تو اُن سب کی چیخیں بے ساختہ تھیں۔۔”ایک تو اُن لوگوں نے ٹی وی لاؤنج کو سیئنما بنا لیا تھا”ساری لائیٹس آف کرکے۔۔”صرف ٹی وی اسکرین کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔۔”اور دوسرا اُن لوگوں نے آواز بھی تیز کی ہوئی تھی۔۔تیسرا ٹی وی پر سین بھی کافی بدن میں سنسی خیری ڈورانے والا تھا۔۔”اور چوتھا سونے پر سُہاگہ جو کثر تھی۔۔”وہ اسیر کی بھاری آواز نے پوری کردی تھی۔۔۔
“بابا سائیں آپ نے تو ہماری جان نکال دی تھی۔ ۔المان موبائل فون کی ٹارچ آن کرتا اسیر کی طرف کرکے بولا تو وہ اُس کو گھورنے لگا۔ ۔”جبکہ زوہان نے اُٹھ کر لاؤنج کی ساری لائٹس آن کی تو پورا لاؤنج روشن ہوگیا تھا۔۔”جس پر ماہا کی جیسی اٹکی سانس بحال ہوئی تھی۔
“رات کے گیارہ کا وقت ہوا ہے۔ ۔اور ابھی تک جاگے ہوئے ہو۔ ۔”کیا یہ وقت ہے جاگنے کا؟ اسیر نے سب پر ایک سخت نظر ڈالی
“بابا جان ماہا نے بھی اُن سے کہا کہ ایسی کوئی فلم نہ لگائے۔ ۔”لیکن ماہا کی سُنتا کون ہے؟ماہا نے جھٹ سے کہا
“لیکن خالو جان ہم تو ایک بجے تک جاگتے ہیں۔۔”اور یہ فلم بس اب آدھا گھنٹہ بچی ہے۔ ۔عیشا نے جلدی سے کہا
“بچہ آپ لوگ شہر میں جاگتے ہوگے۔ ۔”وہاں دیر تک جاگنے کو بھی اسٹائیل کا نام دیا جاتا ہے۔ ۔”لیکن یہاں رات کے کھانے کے بعد ہر کوئی اپنے کمرے میں سونے جاتا ہے۔ ۔۔اسیر اُس کی بات کے جواب میں بولا
“وہ تو آٹھ بجے کا کھاچُکے ہیں تو کیا ہر کوئی آٹھ بجے سو جاتا ہے؟ رایان کو جیسے یقین نہ آیا” کیونکہ المان کے ساتھ گپ شپ لیٹ نائٹ تک اُن کی ہوا کرتی تھی۔ ۔”اور وہ اب سالوں بعد یہاں رات رُکنے والے تھے
“بلکل۔ ۔اسیر نے سر کو خم دیا
“ماہا کو نیند آنے لگی ہے۔ ۔”وہ تو چلی اپنے کمرے میں۔ ۔ماہا جمائی لیتی بولی” کیونکہ وہ اب مزید یہاں رُکتی تو ٹی وی سے آتی آواز نے جیسے اُس کو بیہوش کردینا تھا۔
“آپ سب بھی جاؤ اپنے کمرے میں۔۔”فلم کو کل پورا کرلینا۔۔اسیر نے کہا تو ہر کوئی اپنے کپڑے جہاڑتا اُٹھ کھڑا ہوا
“یہ سارے ریپرز اُٹھا لے اُس کے بعد جاتے ہیں۔ ۔زوہان نے لاؤنج کا حشر دیکھا تو کہا
“آپ لوگ جائے۔۔”صبح فاحا اپنی نگرانی میں صفائی کروا لے گی۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا تو وہ لوگ اپنے سر کو جنبش دیتے”باری باری اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگے تھے۔۔”اسیر بھی کمرے کی لائیٹس آف کرتا اپنے کمرے کے راستے چل پڑا




ماہا اپنے کمرے میں آئی تو کھڑکیوں کے پردوں کو ہوا کی دوش میں اُڑتا دیکھ کر اُس کا سانس خُشک ہوا تھا۔ ۔”کیونکہ بار بار نظروں کے سامنے تو فلم کے مناظر آب وتاب سے چل رہے تھے۔ ۔”جنہوں نے تین چار دن تک اُس کا پیچھا چھوڑنا نہیں تھا
“یااللہ آپ ماہا کی مدد کرنا۔ ۔آہستہ آہستہ کھڑکیوں کے قریب جاتی ماہا”اللہ پاک کا ورد کرنے لگی۔ ۔”پھر جلدی جلدی میں کھڑکیوں کو لاک لگاتی پردوں کو آگے کرکے اُس نے سکون بھرا سانس لیا تھا۔ ۔
“شکر ہے اماں سائیں نے پانی رکھا ہوا ہے۔ ۔سائیڈ ٹیبل پر پانی کا بھرا جگ دیکھ کر ماہا نے گہری سانس لی اور اپنا نائٹ سوٹ نکال کر چینجنگ روم کی طرف بڑھ گئ۔۔”کچھ منٹس بعد آئی تو کمرے میں آتی تیز ہوا کا جھونکا اُس کے حواس سلب کرگیا تھا۔ ۔۔”وہ آنکھیں پھاڑے کھڑکی کے کُھلے پٹ دیکھنے لگی۔”جہاں سے ہوا آرہی تھی۔ ۔آج موسم کافی سرد تھا۔ ۔”باہر ہوائیں زوروں کو تھیں ۔”لیکن ماہا کو جس بات نے پریشان کیا تھا۔ ۔”وہ کھڑکی کو کُھلے پٹ تھے۔ ۔”جن کو اُس نے بند کیا تھا۔ ۔”اور ابھی وہ کُھلے ہوئے تھے
“اااا ایسا کک کیسے ہ ہوسکتا ہے؟ ماہا سہمی نظروں سے کھڑک کی جانب دیکھتی آہستہ سے اپنے پیر بیڈ کی جانب کھسکنے لگی تھی۔
“وہ آہستہ آہستہ چلتی بیڈ پر آئی تو نظر سائیڈ ٹیبل پر موجود جگ پر گئ تو اُس کے رہے سہے ہوش بھی اُڑ گئے تھے۔ ۔”کیونکہ پانی کا رنگ سُرخ ہوگیا تھا۔ ۔۔”ماہا نے بے ساختہ تھوک نگلا تھا۔”اُس نے فاحا اور اسیر کو پُکارنے کے لیے مُنہ کھولنا چاہا تھا” پر اُس کے گلے سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ ۔”جبکہ دل الگ انداز میں بہت ڈر رہا تھا۔۔”کھڑکیاں کُھلتی بند ہوتی کمرے کی خاموش فضا میں عجیب سا ارتعاش پیدا کررہی تھی۔ “پھر اچانک ماہا کو جانے کہاں سے اِتنی ہمت آئی کہ وہ ڈور کر اپنے کمرے سے باہر نکلی تو ہر طرف اندھیرہ ہی اندھیرہ تھا۔ ۔”اُس کو زندگی میں پہلی بار یہ خیال آیا تھا کہ وہ حویلی میں پیدا کیوں ہوئی؟ “کیونکہ آج اپنی یہ بڑی حویلی اُس کو کسی بھوت بنگلے سے کم نہ لگی تھی۔
“گُمان ہے کوئی
“بدنام ہے کوئی
“کس کو خبر؟ ؟؟
“کون ہے وہ؟
انجان ہے کوئی
“گُمان ہے کوئی
“اپنے پیچھے ایسی ڈراؤنی آوازیں سُن کر اُس کا دل اُچھل کر حلق میں آیا تھا۔”قدموں نے آگے چلنے سے انکار کرلیا تھا۔”اُس نے ڈرتے ڈرتے اپنے پیچھے دیکھا تھا۔۔”تو جانے کون تھا؟”جس کے اُپر سفید چادر تھی۔۔”اور عجب انداز میں کھڑا ماہا کی جان نکالنے کے در پر تھا۔۔
“ککک ک کون ہو تت تم؟ ماہا نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا
“تمہاری موت۔ ۔۔”تمہاری بربادی۔ ۔۔”ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔وہ خوفناک لہجے میں بتاتا”بے ہنگم قہقہقہ لگانے لگا
“موت؟”کیا تم واقعی میں بھوت ہو؟ماہا نے ڈرتے ہوئے ایک اور سوال کیا۔ ۔”جبکہ بیک گراؤنڈ میں ابھی تک یہ گانا بج رہا تھا۔۔۔
گُمان ہے کوئی
“بدنام ہے کوئی
“کس کو خبر؟ ؟؟
“کون ہے وہ؟
انجان ہے کوئی
“میرے پاس آجاااا۔۔۔”آجا میرے پاس۔۔۔وہ اپنی بانہیں کھول کر اُس سے بولا
“نہیں۔۔۔۔”ماہا کسی بھوٹ کا ڈنر نہیں کرے گی۔۔”تمہاری خوراک بننے سے اچھا ہے۔۔”ماہا چھت سے کود جائے۔۔”یا ایک چٹکی زہر کھالوں گی۔۔”اگر پھر مرنے کے چانس نہ ہو تو میں پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلو۔۔۔”یا پھر کسی ٹرک کے سامنے آجاؤں۔۔۔ماہا فر فر بولتی چلی گئ
“تم انسان ہوتے ہی خودغرض ہو۔۔”مرنے کے بعد بھی کسی کا بھلا کرتے ہوئے نہیں مرتے۔۔”لیکن لڑکی تمہاری موت میرے ہاتھوں میں ہے۔۔””میں تمہارے جسم کے چھوٹے چھوٹے پیس بناؤں گا۔۔اور پھر میں پہلے تمہاری ٹانگوں کا گوشت کھاؤں گا۔۔”پھر ناشتے میں تمہارے بازوں کا گوشت۔۔۔”اُس کے بعد لنچ میں تمہارے پیٹ کا گوشت کھاؤں گا۔۔”اُس کے بعد تمہاری گردن کا حصہ بچے گا۔۔”اُس کے بعد پھر میں دوبارہ ڈنر کروں گا۔۔”ہو ہو ہو”ہاہاہاہاہا۔۔۔وہ بات کرتا کرتا پھر سے بے ہنگم قہقہقہ لگانے لگا۔
“تم جن لوگ واقعی میں عقل سے پیدل ہوتے ہو۔۔”اگر عقل سے پیدل نہ ہوتے تو یوں آج جن نہ ہوتے۔۔۔ماہا خود کو چُھپانے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی اُس سے بولی
مُرخ لڑکی یہ تم کیا بولی؟وہ جلال میں آتا اپنے کالے ناخن والا ہاتھ اُس کے آگے لہرانے لگا تو ماہا بس رونے کے در پر تھی
“جن بھوت جی میں سولہ سال کی کم سن نوجوان نوخیز کلی ہوں۔۔۔”گوشت پوشت نہیں ہے۔ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوں.۔۔”تم پلیز کسی اور کے پاس جاؤ نہ۔۔ماہا نے منت کی
“مجھے زیادہ چربی والا گوشت پسند بھی نہیں ہوتا۔۔”تمہاری خوشبو مجھے پسند آگئ ہے۔۔”جب تم بال کھول کر درخت کے پاس بیٹھا کرتی تھی”تو میں نے سوچ لیا تھا۔۔”ایک دن تمہیں میں دانتوں کے درمیان ضرور چبا کر کھاؤں گا۔۔ہاہاہاہاہاہا۔۔وہ قہقہقہ لگاتا اپنے عزائم سے آگاہ کرنے لگا
“دیکھو یہ میرے نقلی بال ہیں۔ ۔”وِگ ہیں۔ ۔”کہو تو جڑ سے نکال کر تمہیں پکڑاؤں۔۔”رہی بات خوشبو کی تو اُس کے لیے تمہیں مجھے کھانے کی کیا ضرورت ہے؟”میں وہ پرفیوم بھی تمہیں دے دوں گی۔۔”اور جہاں سے لیا تھا۔۔”وہ ایڈریس بھی دوں گی۔۔”پھر تم جانو اور پرفیوم بنانے والا”لیکن میری جان چھوڑدوں۔۔”اور پلیز یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔اپنے سامنے جن کو دیکھنے کے بعد بھی ماہا کا دماغ فل کام کررہا تھا
“تم مجھے گمراہ نہیں کرسکتی۔۔۔”جن ایک بار پھر اپنے اشتعال میں آیا تھا
“اور تم یوں مجھے کھاء نہیں سکتے۔۔”میں کوئی تمہاری پراپرٹی نہیں ہوں۔۔”میں ماہا اسیر ملک ہوں۔۔”ماہا جھٹ سے بولی تھی۔۔”ازلی اعتماد عود آیا تھا۔۔”لیکن کچھ وقت کے لیے کیونکہ اچانک پھر لائٹس آن اور آف ہوئیں تھیں۔ ۔”اُس کے بعد ماہا نے بنا دیر کیے جو کمرہ نظر آیا”اُس کو پیٹ لیا۔ ۔
“ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا
“اپنے قریب ہوتے اُس کے جناتی قہقہقہ کو وہ باآسانی سے سُن سکتی تھی۔۔”لیکن دیکھنے کی ہمت اُس میں ناپید تھی۔۔”وہ بس دروازہ پیٹ کر یہ دعا کرنے لگی کہ دروازہ کُھل جائے اور وہ اُس میں گُھس جائے




“ُتم نے اِتنی رات کو مجھے کال کی ہے وہ بھی ویڈیو کال۔۔”اور یہ سہی نہیں ہے۔۔حوریہ نے پریشانی کے عالم میں موبائل فون کی اسکرین پر اُبھرتے رایان کے چہرے کو دیکھ کر اُس سے کہا
“مجھے نہ بہت ضروری کچھ تمہیں بتانا ہے۔۔۔رایان نے دانتوں کی نُمائش کرتے ہوئے اُس سے کہا
“کیا بتانا ہے؟”پہلے تو آپ نے یہ بولا تھا کہ عیشا نے مجھ سے ضروری بات کرنی ہے”اور اب آپ بول رہے ہیں”کہ آپ نے بات کرنی ہے۔۔۔حوریہ اُلجھ سی گئ تھی۔۔
“ہاں تو عیشو کا نام نہ لیتا تو کونسا تم نے کال اُٹھانی تھی۔۔رایان نے وجہ بتائی
“آج نہ ہم نے ہارر مووی دیکھی۔۔رایان نے اُس کو ایسے بتایا جیسے بہت بڑی بات ہو
“اچھا تو اب آپ کو ڈر لگ رہا ہے؟”اور ڈر دور کرنے کے لیے مجھ سے بات کررہے؟حوریہ نے گویا تُکہ لگایا
“افکورس ناٹ”میں کوئی جن پریت سے ڈرتا تھوڑئی ہوں۔۔”یہ تو بس ایسے ہی بتایا۔۔۔رایان نے جھٹ سے اُس کی بات پر اپنا سر نفی میں ہلایا
“تو جو بات ہے۔۔”آپ وہ کرے نہ مجھے سونا ہے۔۔۔حوریہ نے بہت دھیمی آواز میں اُس سے کہا کیونکہ بیڈ کی دوسری سائیڈ خوریہ گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی۔
“تم کیسے سوسکتی ہو؟”تم ایک رائٹر ہو۔۔رایان نے اُس کی بات پر جلدی سے کہا
“ہاں تو میں رائٹر ہوں”ڈاکٹر نہیں۔۔”جو مریضوں کے لیے جاگتی رہوں۔۔حوریہ نے اُس کی عقل پر ماتم کیا تھا
“رائٹر جاگتی ہے”کیونکہ وہ رائٹر ہوتی ہے۔۔”رات سے بہتر وقت کسی رائٹر کے لیے نہیں ہوتا۔۔”رات کے وقت وہ اکیلی ہوتی ہے۔۔”اُس کا دماغ پرسکون ہوتا ہے۔۔”کوئی کام نہیں ہوتا۔۔”کسی کے بلانے کا خدشا نہیں ہوتا۔ ۔فل آزادی میں ہوتی ہے۔ ۔”اور لکھنے کا وقت بھی یہی ہوتا ہے۔ ۔”یہی وہ وقت ہوتا ہے جب مائینڈ میں اچھے اچھے آئیڈیاز آتے ہیں۔۔۔رایان نے اُس کو پتے کی بات بتائی
“کیا ایسا ہوتا ہے؟ حوریہ اُس کی بات پر سوچنے پہ مجبور ہوگئ
“ہاں اور نہیں تو کیا۔ ۔یہ جو بڑے بڑے لکھاری ہوتے ہیں۔ ۔”لکھنے کا انتخاب وہ رات کے وقت کرتے ہیں۔ ۔رایان نے مزید بتایا
“میں کوشش کروں گی۔ ۔اور اب آپ بتائے کہ کیا بات کرنی ہے آپ نے؟حوریہ نے پوچھا
“آپ تو نہ کہو۔۔رایان نے اُس کو ٹوکا
“تم نے کیا بات کرنی ہے؟ حوریہ نے گہری سانس بھر کر اُس سے پوچھا
“تمہیں پتا ہے تم کم عرصے میں نہ میری دُنیا بن گئ ہو۔ ۔۔رایان حوریہ کو دیکھتا کافی دلفریب لہجے میں آخرکار بول اُٹھا
“لیکن دُنیا تو فانی ہے اور ایک نہ ایک دن اُس کو ختم ہی ہوجانا ہے۔ ۔جواب میں حوریہ نے بڑے معصوم انداز میں کہا “تو رایان کے چہرے کا رنگ بھک سے اُڑا تھا
“تم ناول نگار ہوکر اِس قدر ان رومانٹک ہو” میں یقین کرنے سے قاصر ہوں۔ ۔۔رایان بے ساختہ جھرجھری لیکر بولا” وہ حوریہ کے اِس جواب پر اچھا خاصا بدمزہ ہوا تھا۔۔”جبکہ اُس کی پہلی بات سن کر حوریہ نے بڑی مشکل سے اپنے تاثرات کو نارمل رکھا تھا۔ ۔”یونی میں اُس کو یہی لگتا تھا کہ وہ ایسے ہی اُس سے فلرٹ کررہا ہے۔ ۔”لیکن آج اُس کا آنچ دیتا لہجہ سن کر اُس کو خوف محسوس ہوا تھا۔۔”اُس کو پیارے کے جھمیلو میں نہیں تھا پڑنا۔”وہ فنٹاسی کہانیاں لکھتی ضرور تھی۔ “لیکن اُن میں جیتی نہیں تھی۔ ۔”وہ جانتی تھی اُس کی زندگی کسی فیری ٹیل کہانی جیسی نہیں ہے۔ ۔”اُس کے ابا نے اگر آگے پڑھنے کی اُس کو اجازت دی بھی تھی تو پاؤں میں زنجیریں ڈال کر۔۔
“اگر آپ بُرا نہ مانے تو میں کال کٹ کرلوں؟حوریہ نے اپنا سر ہر سوچ سے جھٹک کر اُس سے کہا
“ابھ
“آریان اُس سے کچھ کہنے والا تھا۔ ۔”جب اُس کو ایسا محسوس ہوا کہ کھڑکی کے پاس سے کوئی گُزرا ہے۔”اُس کو ایک سایہ سا دیکھائی دیا تھا۔ ۔
“شیور۔ ۔۔رایان نے پھر سے تیزی سے ایک سایہ جاتا دیکھا تو اُس سے بولا تو حوریہ نے جھٹ سے کال کٹ کردی تھی۔ ۔”جبکہ رایان اپنے سوکھے لبوں پر زبان پھیرتا بیڈ سے اُٹھ کر کھڑکی کے پاس آیا۔۔”کھڑکی کے قریب پُہنچ کر اُس نے یہاں وہاں دیکھا لیکن اُس کو کوئی بھی نظر نہیں آیا۔ ۔”اپنا وہم سمجھ کر وہ واپس جانے لگا تھا۔ ۔”جب اچانک سے اپنے کندھے پر کسی کا لمس محسوس ہوا تو۔۔رایان کا اُپر کا سانس اُپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔ ۔”لیکن اللہ کا نام لیکر اُس نے گردن ترچھی کرکے اپنے کندھے پر دیکھا تو کسی کا خون میں لت پت ہاتھ اپنے کندھے پر دیکھ کر اُس کی چیخ برجستہ تھی۔۔۔








“زاویار اپنے کام سے فارغ ہوا تو صوفے پر زاویان کو سوتا ہوا پایا۔ ۔”جو لاؤنج میں ٹی وی دیکھ کر نیند کی وادی میں اُتر گیا تھا۔۔”زاویار نے سب سے پہلے ٹی وی کو آف کیا۔۔”اور زاویان کو بانہوں میں اُٹھا کر ایک کمرے میں آیا۔۔”جس کا حال اُس نے اب قدرے بہتر کرلیا تھا۔۔”جو رہنے کے قابل بھی تھا۔۔”یہ وہ گھر تھا۔۔”جہاں راحت کو وہ لایا تھا۔۔”جب وہ چل پِھر نہیں سکتی تھی۔۔اُس کے جانے کے بعد وہ یہاں اُس کے ساتھ بس ایک یا دو بار آیا تھا۔۔”اُس کے بعد یہ گھر ہمیشہ لاک رہا تھا۔۔
“گُڈ نائٹ میری جان۔۔۔۔زاویان کا ماتھا چوم کر زاویار آہستہ آواز میں کہتا اُس پر کمفرٹل سہی کرتا وہ اپنا سیل فون اُٹھاتا۔۔”راحت کو کال کرنے لگا تھا جب اُس کے کانوں میں پایل کی آواز پڑی تو اُس نے چونک کر دروازے کے پاس دیکھا
“یہ آوازیں کیسی؟چوڑیوں کی کھن کھن نے اُس کو متعجب کرلیا تھا۔ ۔”تبھی سائیڈ ٹیبل کے دراز سے اپنا ریوالر اُٹھاتا اُس میں گولیاں چیک کرکے اُس کو لوڈ کیا۔ ۔”پھر ایک آخری نظر سوئے ہوئے زاویان پر ڈال کر وہ کمرے سے باہر نکل کر اُن آوازوں کا تعاقب کرنے لگا۔۔
“آئے گی آئے گی۔ ۔۔۔
“کبھی تو ہماری یاد آئے گی۔ ۔۔
“ہاں۔ ۔۔
“آئے گی آئے گی
کبھی تو تمہیں ہماری یاد آئے گی۔ ۔۔۔
“زاویار جو اُس آواز کا تعاقب کررہا تھا۔ ۔”ٹی وی لاؤنج سے کسی گانے کی آواز کو آتا دیکھ کر وہ حددرجہ حیران ہوا تھا۔۔”کیونکہ اُس کو یاد تھا کہ اُس نے ٹی وی بند کیا تھا۔۔”اور اب وہاں سے گانوں کی آوازوں کو آتا سن کر اُس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ ہو کیا رہا تھا۔۔”پہلے پایل اور چوڑیوں کی آوازیں اُس کے بعد یہ۔۔۔اگر اُن دونوں کے علاوہ گھر میں کوئی موجود ہوتا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ انسان “زاویار کی چیل جیسی نگاہ سے بچا ہوا تھا۔۔”خیر وہ جو کوئی بھی تھا۔۔”اُس کا پتا تو زاویار نے لگانا ہی تھا۔”تبھی اپنے قدم اُس نے لاؤنج کی طرف بڑھائے جہاں اب کوئی ہارر ڈرامہ چل رہا تھا۔۔”اور ایک جو بقول “جن”تھا وہ باورچی خانے میں بیٹھا کچا گوشت کھا رہا تھا۔۔”اُس کو ایسے دیکھ کر زاویار کو ڈر تو نہیں”ہاں البتہ اُبکائی ضرور آئی تھی۔۔”تبھی فورن سے پہلے اُس نے ٹی وی کو بند کیا۔۔”اور وہ جانے کے لیے جیسے ہی پلٹا کہ ٹی وی خودبخود پھر سے آن ہوئی اور اُس پر پھر سے وہ سین چلنے لگا۔۔
مجھے ایسا لگ رہا اُس گھر میں اب جن”بھوت آتما”سب کچھ آگیا ہوگا”یہ سب خالی گھر میں ہی شفقٹ ہوتے ہیں۔۔”اور خیر سے وہ گھر بڑا بھی ہے تو ہر کوئی آرام سے اپنی فیملی کے ساتھ ایڈجسٹ ہوگیا ہوگا”کیونکہ آپ کا وہ گھر قبرستان سے بس تھوڑا دور ہے”
“اپنے سامنے ایسے مناظر دیکھ کر اُس کے کانوں میں” بے ساختہ زاویان کا کہا جُملا گونجنے لگا۔ ۔”اور ابھی اپنا سر وہ ہر سوچ سے آزاد کرنے لگا تھا جب لاؤنج کی لائٹس تیزی سے آن آف ہونے لگی۔۔اور کسی کے قدموں کی چاپ کے ساتھ”چوڑیوں کی کھن کھن اور پایل کی چھن چھن بھی اُس کو سُنائی دینے لگی۔۔”تو دا گریٹ میجر زاویار اسحاق خانزادہ جس کے نام سے ہر کوئی ڈرا کرتا تھا۔ ۔”جس نے ہر ایک کو عبرت کا نشانہ بنایا تھا۔”اب اُس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگی تھیں۔۔۔
“سٹاپ زی یہ جسٹ الیکٹرانک پرابلم ہے۔ ۔زاویار گہری سانس بھرتا خود کو پرسکون کرگیا تھا۔ ۔”اور ایک کے بعد ایک فائر اُس نے چھوڑا تھا۔۔’یہ سوچ کر کہ یہاں اگر کوئی انسان ہوگا تو اچانک گولیوں کی تیز آواز سن کر وہ چیخ ضرور مارے گا “لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔
“زاااوووووویااااااااااااررررررررر۔۔۔۔
“ایک دلفریب لہجہ کم اور خوفناک آواز میں اچانک بیک گراؤنڈ میں “اُس کا نام گونجنے لگا تو زاویار نے اپنا گلا تر کیا تھا۔۔
“زاوی کیا یہ تم ہو؟
“اگر یہ تمہارا کوئی گیم ہے تو آئے پرومس میں تمہیں ٹیرس پر اُلٹکا لٹکا دوں گا۔۔۔زاویار نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں کہا تھا۔۔”جبھی کوئی کھی کھی کرتا اُس کے پیچھے سے گُزرگیا جس کا سایہ دیکھ کر زاویار کو اندازہ ہوا کہ اِس کے گھر میں اُن دونوں کے علاوہ بھی کوئی اور ہے۔۔۔
“اگر کوئی باہر ہے تو یہاں بھی ہے؟”کیونکہ ٹی وی آن آف کون کررہا تھا۔۔۔؟زاویار نے اِس بار اُس سائے کا پیچھا نہیں کیا تھا”بلکہ اپنا دماغ یوز کرنے لگا۔۔
