Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 27)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“رایان بغیر ہمیں کچھ بتائے تم یہ کیا کرنے والے تھے۔۔۔”عیشا نے گھر آکر میشا اور آریان کو آج رونما ہوا سارا واقعہ سُنادیا تھا۔۔”جس پر میشا تاسف سے اپنے سپوت کو دیکھ کر بولی

“موم آئے لائیک ہر۔۔۔”پھر اگر میں اُس کو پرپوز کرنے والا تھا تو اُس میں کوئی ایشو کیا تھا۔۔رایان منمناکر بولا

“ایشو یہ ہے کہ تمہاری اسپوپڈ حرکت کی وجہ سے حوریہ مشکل میں آگئ ہے۔۔”تم نے اُس پر غور نہیں کیا۔۔؟” وہ کس قدر سہمی ہوئی تھی۔۔۔زوہان نے افسوس سے اُس کو دیکھ کر کہا جس کو کوئی ملال نہ تھا کہ وہ کیا کُرچکا ہے

“ٹھیک ہے میں نے جلدبازی کا مُظاہرہ کیا پر موم ڈیڈ آپ اُس کو سہی بھی کرسکتے ہو۔۔۔رایان نے آریان اور میشا کو باری باری دیکھ کر کہا

“تم کہنا کیا چاہتے ہو؟”آریان نے پوچھا

“آپ حور کے گھر جائے۔۔”اُن کے پیرینٹس سے ملے اور ہمارے مطلق بات وغیرہ کرے۔۔۔رایان نے کہا

“جگو وہ آلریڈی انگیجڈ ہے تم کیوں چاہتے ہو کہ چچی اور چاچوں کی بھی انسلٹ ہو۔۔”تم نے حوریہ کے فادر سے مل کر اندازہ نہیں لگایا؟”وہ کس قدر شکی مزاج کے شخص تھے۔۔زوہان اُس کی ایک ہی رٹ پر چڑ سا گیا

“تم لوگوں نے جیسا کچھ بتایا ہے اُس کو سن لینے کے بعد آئے تھنگ ہمیں ملنا چاہیے۔۔”ہوسکتا ہے اُس نے والد کا برتاؤ اُس لڑکی سے سہی نہ ہو۔۔اِس بار خاموش بیٹھی سوہان نے کہا

“رائٹ ویسے بھی میرا نہیں خیال بغیر پوری بات جانے اُن محترم کو اپنی بیٹی پر تشدد کرنا چاہیے۔۔”اور اگر اُنہوں نے کچھ غلط کیا تو حرجانہ عائد کرنا پڑے گا۔۔”اُس کی بیوی کو اعتماد میں لیکر۔۔میشا بھی سوہان سے اتفاق کرتی بولی

“ہمیشہ پھڈے والی بات سوچنا۔۔آریان نے اُس کو گھور کر کہا

“اِس میں غلط کیا ہے؟”میں پولیس میں ہوں جہاں ناانصافی دیکھوں گی وہاں اپنی وردی کے فرائض نبھاؤں گی۔۔۔میشا بھی جواباً اُس کو گھور کر بولی

“ویسے جگو تم نے آج ثابت کردیا کہ تمہارے مطلق جو تمہاری ماں کہتی تھی وہ ٹھیک کہتی تھی تم واقعی میں مجھ پر گئے ہو۔۔۔آریان سرجھکائے رایان کو دیکھ کر بولا

“بٹ ڈیڈو مجھے حوریہ کی فکر ہورہی ہو۔۔۔”اُس کا سیل فون بھی آف ہے۔۔۔عیشا آریان کے ساتھ بیٹھتی اُس سے بولی

“پریشان نہ ہو آریان اور میشا جائے گے اُن کی طرف اِن شاءاللہ سب بہتر ہوگا۔۔۔سوہان نے اُس کی فکر دیکھ کر تسلی آمیز لہجے میں کہا

“پر سوہان ہوسکتا ہے یہ جگو کی وقتی اٹریکشن ہو ہم ایسے کیسے ابھی سے اُس کی بات مان کر رشتہ لینے جاسکتے ہیں۔۔”ابھی اِن کی ایج بھی نہیں جو ہم اِن کے فیصلوں کو مان لے۔۔۔میشا کو یہ سب سہی نہیں لگا

“میں نے تم سے کب کہا کہ تم دونوں رشتے کی بات کرنے جاؤ۔۔۔”تم دونوں اُن کی غلط فہمی دور کرو۔۔۔’تاکہ اُس بچی پر آئی مشکل دور ہوجائے۔۔۔سوہان نے اُس کی بات کے جواب میں کہا تو رایان کا منہ کُھل گیا

“خالہ عرف چچی ایسے تو نہ کہو۔۔۔رایان نے دُھل کر کہا

“رایان بیٹا ہمیں آپ کی فیلنگز کی قدر ہے۔۔”لیکن آپ کی جو ابھی ایج ہے اُس میں آپ کو چاہیے کہ اپنے فیوچر کے بارے میں سوچو۔۔۔”پیار محبت یہ ساری بعد کی باتیں ہیں۔۔”ابھی اپنا آج اور کل خوبصورت بناؤ۔۔”اپنی پہچان بناؤ۔۔”نام کماؤ۔۔۔”اِس دُنیا میں اپنا ایک الگ مقام بناؤ۔۔۔”باقی رہی اُس لڑکی کی بات تو چاہے درمیاں میں جتنے بھی سال بیت جائے۔۔”اگر وہ تمہاری قسمت ہوئی تو مل جائے گی۔۔۔سوہان نے اُس کو دیکھ کر رسانیت سے کہا تو آریان اور میشا خاموش رہے کیونکہ وہ بھی یہی چاہتے تھے

“میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں لیکن یہ سب میں کروں گا پر ابھی۔۔۔”جسٹ ایک رشتے کی بات کرنے میں کیا جاتا ہے۔۔۔رایان کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اُن کو کیسے منائے

“جگو تمہیں موم کی بات سے ایگری ہو تو اُن کو وہ کرنے دو جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔۔زوہان نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا تو رایان بنا کچھ کہے خاموشی سے اُٹھ کر چلاگیا

“ایک دو دن منہ غبارے جیسا منہ بناکر گھومے گا لیکن پھر آہستہ آہستہ خود ہی پہلے جیسا ہوجائے گا۔۔۔میشا نے رایان کی پشت کو دیکھ کر اُن لوگوں سے کہا

“ہممم تم دونوں بس جانے کی تیاری کرو۔۔”زوریز آئے گا تو میں اُن کو بتادوں گی۔۔۔سوہان نے اُس کی بات پر ہونکارہ بھر کر کہا تو دونوں نے سراثبات میں ہلایا تھا

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“اماں آپ کیوں پریشان ہوکر خود کو ہلکان کررہی ہیں؟اقدس نے فکرمندی سے فاحا کو دیکھ کر کہا جو المان کی وجہ سے حددرجہ پریشانی کا شکار تھی

“میرا بیٹا ہے میں اُس کے لیے کیسے پریشان نہ ہوں؟”گیا ہے تو ایک مسیج تک نہیں کیا۔۔۔فاحا اُس کو دیکھ کر بولی

“بابا جان کوشش کررہے ہیں نہ اُس سے رابطہ کرنے کی تو آپ ٹینشن نہ لے۔۔”اِن شاءاللہ مان جہاں بھی ہوگا۔۔’خیریت سے ہوگا۔۔۔اقدس اُس کو اپنے ساتھ لگائے کہا

“ماہا بھی پریشان ہے اُن کے لیے اور ابھی دعا کرکے آئی ہے۔۔۔ماہا اُن کے ساتھ بیٹھ کر بولی

“اللہ بس وہ مسیج کرکے بتائے کہ وہ ٹھیک ہے تو مجھے سکون آئے۔۔”ایسے میرے بے چین دل کو قرار نہیں آئے گا۔۔۔فاحا کی فکر لمحہ بلمحہ بڑھنے لگی تھی۔۔”ایک دھڑکا سا اُس کو لگا رہتا تھا المان کے لیے۔۔۔

“بابا جانی آئے تو ماہا اُن سے کہے گی کہ لندن ایک بار وہ خود جائے۔۔”وہاں رہائش کا بندوبست بھی تو اُنہوں نے کیا تھا تو ایسے وہ جاکر مان بھائی کے کان بھی کھینچ سکتے ہیں۔۔۔ماہا فاحا کے کندھے پر سر رکھ کر بولی

“ہاں یہ سہی رہے گا۔۔۔فاحا نے اُس کی بات سے اتفاق کیا

“ویسے اگر آپ کو اُس کی فکر ہونے لگی ہے تو شروع میں ہی نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔۔”بابا جان ویسے بھی مان کے باہر جانے کے حق میں نہ تھے۔۔۔اقدس فاحا کا ستایا ہوا چہرہ دیکھ کر گہری سانس بھر کر بولی

“مجھے خود افسوس ہورہا ہے لیکن اب کیا ہوسکتا ہے۔۔۔فاحا محض یہی بول پائی

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“کیسی ہو اب آپ؟”خوریہ کو عفان قریبی ہسپتال لایا تھا جہاں اُس کو معلوم ہوا کہ اُس کا بے پی لو ہوگیا تھا۔۔”پھر ایک گھنٹے بعد جب اُس کو ہوش آیا تو اُس کو دیکھ کر عفان نے سنجیدگی سے پوچھا

“جیسی بھی ہوں۔۔”تمہیں تو کافی خوشی ہورہی ہوگی ہمیں ایسے دیکھ کر۔۔”کیونکہ ہم عورتوں کی بے بسی دیکھ کر تم مرد لوگوں کی انا کو تسکین ہوتی ہے نہ۔۔۔خوریہ نفرت سے اُس کو دیکھ کر بولی

“آج جو کچھ ہوا اُس میں میرا کوئی قصور نہیں اور نہ میں ساری بات سے آگاہ ہوں۔۔۔اُس کو ایسے بدگمان دیکھ کر عفان نے بتایا

“پتا ہے عفان خُدا نے تم مردوں کا مقام اُونچا رکھا ہے تو اُس کی ایک وجہ ہے۔۔”تم مردوں کا کام ہے کہ اپنی عورت کی عزت کرو۔۔”اُس کی ڈھال بنو اُس کو اعتماد سونپوں۔۔۔”پیار محبت کے سانچے میں ڈالوں۔۔”ناکہ اپنی مردانگی کے زور پر اُن کو مارو پیٹوں اور گالی گلوچ کرو۔۔۔”میری نظر میں وہ مرد ہی نہیں جو عورت پہ ہاتھ اُٹھاکر غیرت کا نام دیتا ہے یا خود کو طاقتور سمجھتا ہے۔۔۔خوریہ کو اُس کی کسی بات کا یقین نہ آیا تھا

“آپ کی باتیں سُن کر لگ رہا ہے کہ اب آپ کافی بہتر ہیں تو ہمیں اب گھر جانا چاہیے۔۔۔عفان اُس کی بات کے جواب میں محض یہی بول پایا تو خوریہ بستر سے اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی تو سہارا دینے کے لیے عفان آگے آنا چاہتا تھا پر خوریہ نے ہاتھ کے اِشارے سے اُس کو منع کردیا

“تمہاری مدد لینے سے اچھا میں یہی بیٹھی رہوں۔۔”اگر مجھے کسی چیز کا ہوش ہوتا تو میں اِس وقت تمہارے ساتھ ہرگز نہ ہوتی۔۔۔خوریہ اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں بولی

“جب کوئی مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے تو اُس ہاتھ کو تھام لینا چاہیے۔۔”کیونکہ زندگی میں مدد کے لیے کم اور گِرانے کے لیے ہاتھ زیادہ اُٹھتے ہیں۔۔۔عفان نے کہا تو اُس کی بات پر خوریہ طنز مسکرائی تھی

“سوری ٹو سے لیکن تمہارے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتی۔۔”ویسے بھی یہاں تمہارا بھائی نہیں تو میرا احترام کرنے کا ڈرامہ تمہیں نہیں کرنا چاہیے۔۔۔خوریہ اُس کی بات سن کر کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی لیکن جواب میں عفان نے اِس بار اُس سے کچھ نہ کہا تھا۔۔”وہ جانتا تھا کہ خوریہ کے تلخ رویے کی وجہ آج عباس صاحب کا غُصہ ہے جس کے وہ زیرِ اثر تھی

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“ابا ایسے کیوں ہے اماں؟حوریہ رافیہ بیگم کے ماتھے پر آئی چوٹ پر ڈریسنگ کرکے اُن سے بولی

“ساری عمر گُزرگئ ہے بیٹا۔۔”سمجھ میں نہیں آیا تمہارے باپ کا مزاج ہلانکہ اُن کو پہلے میں نے اسجد کی صورت میں ایک بیٹا دیا تھا۔۔۔رافیہ بیگم افسردہ لہجے میں اُس سے بولی

“اسجد بھائی نے جو کیا اُن کی سزا ابا ہمیں دے رہی۔۔”باہر جاکر غیرملکی لڑکی سے شادی تو اُنہوں نے کی۔”پھر ہم سے کیسی نفرت ہے اُن کی۔۔۔حوریہ اُن کو دیکھ کر بولی تبھی باہر کا دروازہ بجا تھا

“میں دیکھ آتی ہوں۔۔۔”رافیہ بیگم سے کہتی حوریہ اُٹھ کر باہر گیٹ کے پاس آتی دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے لوگوں کو دیکھ کر وہ اُلجھن کا شکار ہوئی

السلام علیکم آپ لوگ کون؟”اور کس سے ملنا ہے؟”حوریہ نے اُن دونوں کو دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھا

“وعلیکم السلام میرا نام آریان دُرانی ہے اور یہ میری مسز ہیں میشا دُرانی۔۔۔”یہاں ہم عباس صاحب سے ملنے آئے ہیں۔۔”آریان نے سنجیدگی سے اپنا تعارف کروانے کے بعد بتایا

“ابا تو گھر پر نہیں۔۔”آپ اندر آجائے۔۔حوریہ نے جھجھک کر اُن دونوں کو اندر آنے کا کہا۔۔”اُن کو باہر کھڑا رکھنا اُس کو مناسب نہ لگا

“شکریہ اور کیا آپ کا نام حوریہ ہے؟”میشا نے اِس بار اُس کو مخاطب کیا

“جی لیکن آپ کو کیسے پتا؟”حوریہ نے چونک کر پوچھا

“دراصل میں رایان کی والدہ ہوں۔۔”مجھے پتا لگا آج جو کچھ ہوا تبھی ہم آپ کے والد سے مل کر اُن کی غلطفہمی کو دور کرنے آئے ہیں۔۔۔میشا نے بتایا تو حوریہ کے چہرے کی رنگت متغیر ہوئی

“اُس کا کوئی فائدہ نہیں۔۔”اگر اُن کو کچھ سُننا ہوتا تو میرا یہ حال نہ ہوتا۔۔”خوریہ جو ابھی گھر میں داخل ہونے لگی تھی اُس نے میشا کی بات سُنی تو تلخ لہجے میں کہا

“یہ آپ کے چہرے پر کیا ہوا ہے؟”میشا اُس کی بات اگنور کرکے بولی

“میرا پاؤں پھسل گیا تھا۔۔”منہ کے بل گِری تو پتا چلا سنبھل کر اور دیکھ کر چلنا چاہیے۔۔”کیونکہ پھر انسان نقصان سے بچ جاتا ہے۔۔۔خوریہ نے جواباً کہا

“آپ کا نام کیا ہے؟”آریان نے جاننا چاہا

‘خوریہ۔۔۔”خوریہ نے بتایا

“یہ کیسا نام ہے؟”میشا اُس کا نام سن کر بولی

“میں اپنے والدین کی تیسری بیٹی ہوں۔۔”میری پیدائش سے پہلے جب میری ماں نے الیکٹرا ساؤنڈ کروایا تو اُن کو بیٹا بتایا گیا۔۔۔”شاید لیبارٹری میں کوئی ایشو تھا۔۔”خیر بیٹا تو نہیں بدقسمتی سے میں پیدا ہوگئ اور غُصے میں آکر پہلے میرے ابا نے اماں کو گھر سے بے دخل کردیا تھا۔۔”لیکن پھر اماں واپس آگئ تو میرا نام خوریہ رکھا گیا۔۔”خوریہ”نام نہیں ہے کوئی تو اِس کا مطلب بھی کوئی نہیں میرے ابا نے یہ نام اِس لیے رکھا کیونکہ اُن کو لگتا تھا بیٹاں بوجھ کے سِوا کچھ نہیں ہوتی اُن کو اِس دُنیا میں آنے کا کوئی حق نہیں۔۔”یہ دُنیا تو بس اُن مردوں کی ہے۔۔۔”خوریہ نے خاصے افسوس لہجے میں بتایا تو میشا کو اُن دونوں میں اپنا آپ نظر آیا تھا۔۔”اُس کو یقین سا آگیا کہ جیسا اُس کا باپ تھا ویسے اور بھی مرد اِس دُنیا میں زندہ ہیں۔۔”جو بیٹی کو نیچ ذات سمجھتے ہیں۔۔

“میں حوریہ ہوں۔۔”میں اپنے ابا کو بتانا چاہتی ہوں کہ ایک لڑکی بس روٹی پکا نہیں سکتی بلکہ روٹی کمانے کی بھی سکت رکھتی ہے۔۔”حوریہ خوریہ کے ساتھ کھڑی ہوتی اُن دونوں کو دیکھ کر بولی

“آپ دونوں یہاں آئے شکریہ اندر آکر چائے وغیرہ بھی لے۔۔”لیکن ہمارے ابا سے آپ دونوں کوئی بات نہ ہی کریں تو اچھا ہوگا۔۔”وہ اگر کوئی بدتمیزی کرے گے تو ہمیں بُرا محسوس ہوگا۔۔۔خوریہ نے سنجیدگی سے کہا

“ہم آپ لوگوں کی مدد کرسکتے ہیں۔۔”اگر آپ تعاون کرے تو۔”آپ اُن کی قید سے اِس گھر سے چُھٹکارا مل سکتا ہے۔میشا نے کہا

“ہم آپ سے کیا مدد چاہیے؟”کیا آپ کو لگ رہا ہے ہم اپنے والد کے خلاف کھڑی ہوگی تو ایسا نہیں ہے۔۔”ہمیں پتا ہے ہمارے ابا جیسے بھی ہیں۔۔”لیکن یہ گھر ہمارا آشیانہ ہے جہاں ہم محفوظ ہیں۔۔حوریہ نے اُس کی بات پر کہا تو میشا نے لمبا سانس خارج کیا تھا

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“اچھا ہوا جو تم دونوں آئیں۔۔لالی مسکراکر اقدس اور ماہا کو دیکھ کر بولی

“آپ نے یاد کیا تھا پھر ہم کیسے نہ آتے۔۔۔ماہا نے مسکراکر کہا

“یہ تو ہے اب دونوں اندر آؤ اور بتاؤ حویلی میں سب کیسے ہیں؟”مان سے کوئی رابطہ ہوا یا ابھی تک اُس کی طرف سے خاموشی ہے؟لالی اُن دونوں کو اندر آنے کا کہہ کر پوچھنے لگی تو وہ دونوں اُس کی تقلید میں چلنے لگی۔۔”لیکن ماہا کو رُکنا پڑا کیونکہ اُس کے سیل فون پر کال آنے لگی تھی۔۔”جس پر سکندر جو باہر کی طرف جارہا تھا۔۔”ماہا کو دیکھ کر کھٹک سا گیا۔۔”جو بجتے سیل فون کو آنکھیں چھوٹی کیے گھورنے میں مصروف تھی۔۔۔”لیکن مسلسل کال کو آتا دیکھ کر اُس کو ماہا پر شک سا ہوا

“کس کا فون ہے جو تم اُٹھا نہیں رہی؟سکندر نے مشکوک نظروں سے ماہا کو دیکھ کر پوچھا

“مجھے ایک ہی شخص بار بار فون کرتا ہے۔۔”اپنی موجودگی کا احساس کرواتا ہے۔۔”میں اُس کا ایک نمبر بلاک کرتی ہوں تو دوسرے نمبر سے کال آتی ہے اور دوسرا کروں تو تیسرے سے کال کرلیتا۔۔۔ماہا کال ڈسکنیٹ کرتی اُس کو بتانے لگی

“کون ہے وہ؟”جواب میں سکندر نے سنجیدگی سے پوچھا

“ون اینڈ اونلی کمپنی والے۔۔۔”جن کی محبت بھرے مسیجز تک میرے پاس محفوظ ہیں۔۔”کوئی بھی ماہا کو یاد نہیں کرتا لیکن اللہ بھلا کرے ان کمپنی والوں کا جو دن میں پچاس سے زائد دفع مسیج کرتے ہیں۔۔”اور چار پانچ بار کال بھی کرتے ہیں۔۔”کبھی کبھی تو یہ بھی بتاتے کہ کونسا پکیج زیادہ بیسٹ ہے۔۔موبائل فون کی اسکرین اُس کے سامنے کرکے ماہا نے پرجوش لہجے میں اُس کو ایسے بتایا جیسے کوئی بڑی شخصت اُس کو یاد کرتی ہو

” تم نہ دماغ سے کافی کھسکی ہوئی ہو۔۔”ساری بات جان کر سکندر اچھا خاصا تپ کر بولا

“لو بھلا ماہا کا دماغ کیوں کھسکا ہوا؟”اُس نے تو وہ بتایا جو آپ نے پوچھا۔۔”ماہا نے اُس کی بات پر ناک منہ چڑھایا تھا۔۔

“میں ضروری کام سے باہر جارہا ہوں۔۔”ورنہ اچھا جواب دیتا تمہیں۔۔۔سکندر گھور کر کہتا باہر کی طرف بڑھ گیا

“ضروری کام تو بس اِن کو ہوتے ہیں باقی سب تو جیسے ویلے ہیں۔۔ماہا سرجھٹک کر بڑبڑاتی خود بھی اندر کی طرف بڑھ گئ تھی۔۔”جہاں لالی اور اقدس آپس میں باتوں میں مصروف تھیں۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“یہ چادر لو اور جاؤ یہاں سے۔۔۔حوریہ بے تاثر نگاہوں سے بیڈ پر موجود نکاح کا جوڑا دیکھ رہی تھی۔۔”جب خوریہ نے ایک چادر اُس پر اوڑھا کر کہا

“کہاں جاؤں میں؟”حوریہ نے حیرت سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“جہاں جانا ہے جاؤ۔۔”لیکن رات سے پہلے واپس نہ آنا۔۔”خوریہ اُس کو دیکھ کر عجلت میں بولی

“خوریہ شاید تم بھول گئ ہو کہ آج میرا نکاح ہونے جارہا ہے۔۔۔حوریہ نے جیسے اُس کو یاد کروایا

“میں اچھے سے جانتی ہوں کہ دو بجے تمہارا زبردستی نکاح عفان کے ساتھ ہوگا۔۔”اور اگر تمہیں اپنا مستقبل سیو کرنا ہے۔۔”خود کے لیے کچھ کرنا ہے تو وہ کرو۔۔”جو میں کرنے کا بول رہی ہوں۔۔۔”خوریہ اُس کو بیڈ سے اُٹھاتی ہوئی بولی

“میں اگر یہاں سے گئ نہ تو ابا میرا گلا گھونٹ کر مار دے گا۔۔حوریہ نے جیسے اُس کی عقل پر ماتم کیا

“عفان سے نکاح کرکے پل پل مرنے سے اچھا ہے۔۔”آج ایک ہی بار میں مرجاؤ۔۔”خوریہ اُس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر بولی

“کیا کہہ رہی ہو؟”مجھے تمہاری کوئی بھی بات سمجھ میں نہیں آرہی۔۔”لگتا ہے کل والے واقعے کو تم نے زیادہ دماغ پر سوار کرلیا ہے۔۔حوریہ چادر اُتار کر عجیب لہجے میں اُس سے بولی

“حور یہ وقت باتیں کرنے کا نہیں۔۔”بلکہ کچھ کر دِکھانے کا ہے۔۔”اگر آج تمہارا نکاح عفان سے ہوگیا نہ تو تمہارا کل ویسا ہوگا۔۔”جیسا آج ہماری ماں کا ہے۔۔”خوریہ نے کہا تو حوریہ کی زبان کو جیسے قفل لگ چُکا تھا

“میں کہاں جاؤں گی؟”یہ بھی بتادو ابا گھر پر ہے۔۔”تمہیں کیا لگتا ہے اگر میں کہوں گی اُن سے کہ مجھے باہر جانا ہے تو کیا وہ دروازہ کھول کر کہے گے۔۔”ہاں بیٹا جاؤ۔۔حوریہ کچھ توقع بعد بولی

“عفان کی فیملی آنے والی ہے۔۔”ایک بار اگر وہ پہنچ گئ تو تمہارا جانا ناممکن سا ہوجائے گا۔۔”اِس لیے تمہیں خُدا کا واسطہ ہے۔۔”کچھ گھنٹوں کے لیے چلی جاؤ۔۔۔خوریہ نے باقاعدہ اُس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے

“کہاں جاؤں میں؟حوریہ نے گہری سانس بھر کر پوچھا

“اپنی کسی دوست کے پاس چلی جاؤ۔۔۔”لیکن جاؤ۔۔۔خوریہ نے دوبارہ چادر اُس کو تھمائی

“ابا باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔۔۔”میں کیسے جاؤں؟حوریہ پریشانی سے بولی

“ابا کمرے میں ہیں۔۔”تم آرام سے جاؤ ویسے بھی عفان جتنا غیرتمند بنتا ہے دیکھنا آج کے بعد تم سے شادی کرنا تو دور کی بات تک کرنا پسند نہیں کرے گا۔۔۔خوریہ نے کہا تو حوریہ نے چادر اچھے سے اپنے گرد لپیٹی۔۔

“میں واپس آؤں گی تو ابا گھر سے بے دخل تو نہیں کرے گا نہ؟حوریہ کو نیا خدشہ لاحق ہوا

“فضول باتیں بعد میں سوچنا ابھی نکلو یہاں سے۔۔خوریہ نے اُس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا جس کو اُس کی کوئی بھی بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔

“میں جارہی ہوں۔۔”لیکن یہاں تم سب سنبھال لینا۔۔حوریہ اُس کے گلے لگ کر بولی

“بے فکر ہوکر جاؤ۔۔خوریہ اُس کا ماتھا چوم کر بولی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *