Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 38)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 38)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
ہوسکتی ہے بات؟”اُس کو کچھ بھی نہ بولتا دیکھ کر المان نے ایک بار پھر کہا
“بیٹھو۔۔”عیشا نے سامنے پڑے صوفے پر اُس کو بیٹھنے کا اِشارہ کیا۔۔”اور خود وہ سنگل صوفے پر آرام سے بیٹھ گئ۔۔
“کیسی ہو؟”المان نے بات شروع کرنے سے پہلے حال احوال لینا ضروری سمجھا
“خاص یہ پوچھنے آئے ہو؟”جواب دینے کے بجائے عیشا نے پوچھا۔۔”آج پہلی بار وہ یوں ایک دوسرے سے سنجیدہ انداز میں بات کررہے تھے۔۔”ورنہ جب کبھی ساتھ ہوتے تھے۔۔” زبان درازی کرنے سے باز نہ آتے تھے
“نہیں بات کوئی اور کرنے آئے ہیں ہم۔۔”المان نے بتایا
“تو وہ کرو۔۔”عیشا نے سنجیدہ سے کہا
“ہم چاہتے
“ابھی المان نے اِتنا بولنا شروع کیا تھا۔۔”جب ملازمہ اُن کے لیے ریفریشمنٹ کا سامان لائی۔۔”شاید اُس کو رایان نے بولا تھا
“بات جاری رکھو اپنی۔۔”ملازمہ کے جانے کے بعد عیشا نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا”جس کی نظریں جُھکی ہوئیں تھیں۔۔”اُس کا یوں اِس طرح بیٹھنا عیشا کی سمجھ سے بلآتر تھا
“تمہارا حجاب کہاں ہے؟۔۔”اپنے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو آپس میں باہم ملائے وہ اُس سے جو پوچھنے لگا۔۔”اُس کی توقع عیشا کو نہ تھی
“تمہارا اُس سے کنسرن نہیں اِس سے۔۔”اور نہ تمہارا ایسا سوال کرنا بنتا ہے۔۔”عیشا نے بے لچک انداز میں اُس سے کہا
“تم ڈریس چینج کر آؤ۔۔”یا کچھ اور پہن آؤ۔۔”ہم یوں ایسے تم سے بات نہیں کرسکتے۔۔”المان اُس کو بغیر دیکھے بولا تو عیشا کی پیشانی پر بلوں کا جال بِچھ گیا تھا
“مجھے باشن دینے سے اچھا ہے وہ بات کرو۔۔”جو کرنے آئے ہو۔۔”عیشا نے بڑی مشکل سے اپنے لہجے کو نارمل بنایا تھا
“ہم کوئی بارشن نہیں دے رہے۔۔”المان نے کہا۔۔”سچ یہی تھا کہ اُس نے کبھی عیشا کو بے حجاب نہیں دیکھا تھا اور آج یوں اُس کا ایسا بیٹھنا اُس کو پسند نہیں آیا تھا
“تم نے ایسے بات نہیں کرنی تو فائن۔۔”میں جارہی ہوں۔۔”کیونکہ تمہاری بات سُننے کے لیے میں بے تاب یا بے چین نہیں۔۔”ناگواری سے کہتی وہ اُٹھ کر جانے لگی۔
“ہم چاہتے ہیں تم ہم سے طلاق مانگو۔۔”وہ جو جانے لگی تھی. “المان کی ایسی بات پر وہ رُک کر پلٹ کر حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی۔۔”جو نیچے بِچھی قالین کو گھور رہا تھا۔۔”عیشا کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ خاص گاؤں سے یہاں اکیلے میں اُس سے یہ بات کرنے آیا تھا۔۔
“اگین کہنا؟”بازو سینے پر باندھے عیشا نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا جو ہلکے گرین کلر کی گول گلے والی شرٹ کے ساتھ وائٹ پینٹ میں ملبوس کافی اضطرابی حالت میں تھا۔۔”اُس نے المان کو کبھی یوں پریشان یا خاموش نہ دیکھا تھا۔۔”اور جب آج وہ ایسا تھا کہ اُس نے وجہ جاننے پر غور نہ کیا تھا
“تمہیں ہم سے طلاق مانگ لینی چاہیے۔۔”المان نے کہا تو عیشا چل کر تھوڑا اُس کے پاس آئی جو اپنی ڈریسنگ میں بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔”اُس کے چہرے پر چھائی سنجیدگی نے جیسے اُس کے وقار کو نکھار دیا تھا۔۔”اُس کی شخصیت میں چار چاند لگادیئے تھے۔۔”اُس کے چہرے سے نظر ہٹاتی وہ ٹیبل کی طرف دیکھنے لگی۔۔”جہاں ملازمہ کھانے پینے کا سامان سجا کر گئ تھی۔۔”عیشا نے جُھک کر جوس کا گلاس اُٹھایا اور “المان کے سر پر آرام سے اُلٹ دیا تو اپنے بال میں ہاتھ ڈالتا وہ ہڑبڑا کر اُٹھ کھڑا تھا۔۔”جبکہ گلاس واپس رکھتی عیشا پُراعتماد طریقے سے وہاں چلی گئ تھی۔۔”پیچھے المان کو سمجھ نہیں آیا کہ آخر عیشا نے ایسا ری ایکٹ کیوں کیا تھا؟
“ہماری شرٹ؟”اپنی سوچو کو جھٹکتا وہ اپنے کپڑے دیکھنے لگا تو شرٹ پر جوس کا نشان دیکھ کر وہ پریشانی سے بڑبڑایا۔۔”کیونکہ اُس کی شرٹ اُپر سے خراب ہوگئ تھی
“تڑپ تڑپ کے اِس دل سے آہ
“نکلتی رہی مجھے کو سزا دی
پیار کی
“ایسا کیا گُناہ کیا جو
“لٹ گئے ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔”لٹ گئے
“تو لُٹ گئے ہم تیری محبت میں
“وہ ابھی اپنی شرٹ کو صاف کرنے کا سوچ رہا تھا۔۔”جب رایان ہاتھ میں کول ڈرنک کی بوتل لیئے شرٹ کے اپُر کے تین سے چار بٹن کھول کر لڑکھڑاکر اُس کی طرف آتا گانا گانے لگا۔۔شو وہ ایسے کروا رہا تھا جیسے کافی نشے میں ہو۔۔”اور ایسا اُس کا عمل دیکھ کر المان پریشان ہوگیا
“جگو آر یو اوکے؟”المان اُس کی طرف دیکھتا پریشان کُن لہجے میں بولا
“یہ آنکھیں۔۔۔۔
“آنگشت کی اُنگلی اور دوسرے نمبر والی انگلی کو اُپر کرتا آپس میں ملائے کھولتا وہ دوسرا گانا گانے لگا
“رایان
اُس کو پاگلوں کی طرح ری ایکٹ کرتا دیکھ کر وہ عیشا کا ری ایکشن بھول چُکا تھا۔۔
“یہ آنکھیں
یہ مستی
یہ پلکیں
یہ کاجل
یہ زُلفے
یہ خوشبوں
یہ چوڑی
“یہ پایل
قیامت قیامت قیامت
قیامت قیامت قیامت
“بوتل رکھ کر دونوں بانہیں کھول کر وہ کسی ماہرانہ ڈانسر کی طرح ڈانس کرنے لگا تو المان نے یہاں سے جانے میں ہی عافیت جانی تھی۔۔”وہ جان گیا کہ اُس کا مذاق کا موڈ آن ہوگیا ہے۔۔”لیکن ایسا موڈ المان کا نہیں تھا تبھی وہ وہاں سے جانے لگا۔۔”رایان بھی اُس کے پیچھے جانے لگا تھا جب اُس کا تصادم زوہان سے ہوا۔
“خیر ہے پروفیشنل نشئ لگ رہے ہو؟”زوہان کافی تعجب بھری نظروں سے اُس کا حُلیہ دیکھ کر بولا جس کی شرٹ بھی اُپر سے گیلی تھی
“یہ چہرہ
رایان جواب میں اُس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتا دلکش انداز میں گانا گانے لگا۔۔
“یہ کیا بیہودہ حرکت ہے۔۔”سچ میں پی کر آئے ہو کیا؟”اُس کا ہاتھ جھٹکتا زوہان گھور کر اُس کو بولا
یہ تیور
“رایان نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دبائے سُریلی آواز میں گانا گاتا آنکھ وِنک کرگیا تو زوہان کی آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ گئ تھی۔۔۔”اُس کو رایان ٹھیک نہیں لگا تھا
یہ قاتل۔۔۔۔۔
ادائیں
“اب کی اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُس کے گرد چکر کاٹتا وہ مزید گانے کو آگے بڑھ کر گانے لگا۔۔
یہ پریمی
یہ پاگل
“یہ چاہت
یہ محبت
قیامت قیامت قیامت
قیامت قیامت قیامت
“سر یہاں سے وہاں گھوماتا رایان پورے جوشیلی انداز میں گانا گانے لگا اور ڈانس کرنے لگا۔۔”تو زوہان بس حیرت زدہ سا اُس کو اُپر سے نیچے دیکھنے لگا جس کو اچانک سے جانے کیا ہوگیا تھا۔۔
“جگو توں ٹھیک ہے نہ؟”زوہان کو اب فکرمندی ہوئی تھی۔۔”جو زورشور سے اپنا سر ہلا رہا تھا۔۔”اُس کو ڈر تھا کہ رایان کا چہرہ گردن سے گِر ہی نہ جائے۔
“شی شی “شی۔۔”اگر اِتنی آگ لگی ہے تو شادی کرلو۔۔”یہ کیا گند شروع کیا ہوا ہے گھر پر۔۔”سکندر جو کسی کام سے آیا تھا۔۔”اُن دونوں کو ایسے دیکھ کر جھرجھری لیکر بولا تو زوہان اپنا سر نفی میں ہلاتا بدک کر رایان سے دور کھڑا ہوا۔۔”جو ایک ادا سے سکندر کی طرف اپنا رُخ کرگیا تھا
“ا ایسا کچھ نہیں۔۔”یہ جگو کو کچھ ہوگیا ہے۔۔”زوہان کے لہجے میں لڑکھڑاہٹ واضع تھی۔۔”اُس کو ایسا اب فیل ہوا جیسے لاہور رہنے کے بعد وہ کسی غلط کاموں میں ملوث ہوگیا تھا۔
“نظر آرہا ہے۔۔”اور بس رایان کو نہیں تُجھے بھی کچھ ہوگیا ہے۔۔”مجھ تم سے تو ایسی اُمید نہ تھی۔۔”سکندر نے زوہان کو دیکھ کر کہا اُس نے ابھی رایان کو نہیں دیکھا تھا جو دلبرانہ نظروں سے اب اُس کا چہرہ تک رہا تھا۔
عاشق ہے کون وہ؟
“تم عاشقی ہو جس کی۔۔۔
“شاعر ہے کون وہ
“تم شاعری ہو جس کی
“رایان آہستہ آہستہ چلتا ہوا اب سکندر کے قریب آنے لگا تو سکندر کا بھی وہی حال ہونے کا جو کچھ دیر پہلے زوہان کا تھا۔”المان تو اپنی جان بچاتا جانے کہاں چُھپ کر بیٹھا تھا۔۔
“یہ تُجھ میں نورا فاتحی کی روح گُھس گئ ہے کیا؟”سکندر سرتا پیر اُس کو دیکھتا حیرت سے گویا ہوا
“ہوئے تم دیوانے یونہی تو نہیں
“چلا جادو کوئی کہی نہ کہی
کہی نہ کہی
ہاں کہی نہ کہی
“یہ جلوہ
یہ جلوہ
یہ جوانی
رایان آنکھوں میں والہانہ محبت سموئے سکندر کو دیکھتا اُس کے سینے لگنے والا تھا۔۔”جب سکندر کے ہوش خطا ہونے لگے تھے۔۔”معاملے کو نازک ہوتا دیکھتا زوہان بلند آواز میں گھر کے بڑوں کو آوازیں دینے لگا۔
“میری عزت لُٹنے سے بچاؤ کوئی۔۔”سکندر کسی اچھوت کی طرح رایان کو خود سے پرے کرتا وہاں سے بھاگنے لگا
“موم
ڈیڈ
خالہ
چاچوں
“یہاں آئے جگو کو کچھ ہوگیا ہے۔۔”سکندر تو بھاگ گیا تھا اور زوہان بھی وہاں سے نکلتا اُن کو آوازیں دینے لگا۔۔
“کیا ہوا ہے؟”سوہان زوریز کے ساتھ ہال میں آتی حیرت سے زوہان کو دیکھنے لگی۔۔”جس کے چہرے کی رنگت اُڑی ہوئی تھی۔
“جگو کو کچھ ہوگیا ہے۔۔”زوہان نے جلدی سے بتایا
“کچھ نہیں بہت کچھ ہوگیا ہے اُس کو۔۔”سکندر پُھولے ہوئے سانس کے ساتھ بتانے لگا
“خیریت ہے نہ؟”وہ دونوں بھی پریشان ہوئے
“لاونج میں ہے وہ آپ آئے اور اپنی نظروں سے دیکھے۔۔”زوہان نے بتایا تو زوریز لاؤنج میں آیا تو کافی حیران ہوا کیونکہ رایان پوری دلجمی کے ساتھ پاستا کھانے میں مصروف تھا۔۔”اور اُس کی حالت بھی بہت اچھی تھی۔۔”کچھ دیر پہلے جو کچھ اُس نے کیا اُس کی ہلکی شبیہہ تک اُس کے چہرے سے عیاں نہیں ہورہی تھی۔
“یہ تو رانی سے رایان بن گیا ہے۔۔”سکندر حیرت سے گویا ہوا
“رایان آر یو فائن؟”سوہان “زوہان اور سکندر کو گھورتی نگاہوں سے دیکھتی رایان سے بولی
“یس ٹوٹلی فائن آپ کے سامنے بیٹھا ہوں۔۔”خیر آپ یہ پاستا ٹیسٹ کرے بہت مزے کا ہے۔۔”رایان نے سادہ لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا
“تم کھاؤ ہمیں کسی اور کام سے باہر جانا ہے۔۔”زوریز نے مسکراکر کہا
“شیور۔۔”رایان شانے اُچکاکر کہتا دوبارہ سے پاستا کھانے میں محو ہوگیا تھا۔”اپنی شرٹ صاف کرکے آتا المان بھی معاملہ جاننے کی کوشش کرنے لگا۔
“مذاق کی بھی حد ہوتی ہے۔۔”اور ہانی تم کب سے ایسی نانسنس حرکت کرنے لگ پڑے۔۔”اندازہ ہے کچھ تم دونوں کے چہروں کو دیکھ کر ہم کتنا پریشان ہوئے تھے۔۔”سوہان افسوس سے اُن کو دیکھ کر بولی تو بغیر کسی غلطی کے وہ شرمندہ ہوکر رہ گئے تھے۔
“کوئی بات نہیں ہوتا رہتا ہے۔۔”آپ آئے ہمیں دیر ہورہی ہے۔۔”زوریز نرمی سے بولا تو سوہان ایک آخری نظر اُن دونوں ڈالتی اُس کے ساتھ باہر چلی گئ۔۔۔
“دل نے یہ کہا ہے دل سے
“ٹن ٹن ٹاں
“ہاں
دل نے یہ کہا ہے دل سے
محبت ہوگئ ہے تم سے۔۔۔۔
“میری جانوں میرے کزن
ٹناں ٹن
میرا اعتبار کرلوں
ہاں ٹناں ٹن
جتنا حیران ہو تم اُتنا حیران مجھے ہونے دو
میری شرارتوں کو سمجھو
تم لوگ بھی مجھے اب معاف کردو
تم لوگ بھی اب مجھے معاف کردو
“پاستا ختم کرنے کے بعد وہ ہاتھ جہاڑ کر ایک بار پھر گانا گانے لگا تو وہ دونوں خونخوار نظروں سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگے۔۔
“توں آج مجھ سے نہیں بچ سکتا۔۔”سکندر دانت پیس کر کہتا خطرناک تیور لیے اُس کی طرف بڑھنے لگا تو رایان کی ساری شوخی اُڑن چھو ہوئی تھی۔۔
“سنی لیون جاگی تھی نہ تمہارے اندر اب میرے اندر عمران ہاشمی جاگا ہے۔۔”اچانک زوہان نے یہ کہا تو رایان تو رایان سکندر بھی آنکھیں پھاڑے زوہان کو دیکھنے لگا جس کی نظریں رایان پر جمی ہوئیں تھیں
“ہ ہانی۔۔۔رایان کی زبان لڑکھڑائی تھی اور بے ساختہ اُس نے اپنے ہاتھ آگے پھیلائے تھے۔۔”خود کو اُن کی نظروں سے جیسے چُھپانے کی کوشش کی تھی۔۔”جیسے وہ کوئی نازک حسینہ ہو اور یہ دونوں لُٹیرے۔۔۔”جس پر سکندر نے مسکراہٹ ضبط کی تھی۔۔”البتہ المان خاموش کھڑا تھا
“جسٹ کال می ہنی۔۔زوہان آنکھ کا کونا دباکر کہتا اُس کی طرف بڑھنے لگا تو رایان کا پورا چہرہ لال ہوگیا تھا۔۔”اُس نے اُس وقت پر لعنت بھیجی جب ایسا مذاق اُس کے دماغ میں سوجھا تھا۔۔”اُس کو پچھتاوا ہوا کہ زوہان کے ساتھ اُس نے ایسا مذاق کیوں کیا؟”المان جبکہ کافی حیران نظروں سے زوہان کو دیکھا تھا اُس نے کبھی زوہان کو ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا
“نہیں
نہیں
ہانی دیکھ اپنے اندر موجود عمران ہاشمی کو لوری سُناکر سلادے جب شادی ہو تو اُس کو جگا دینا لیکن یار آئے ریکوئسٹ یو۔۔”میری عزت کو یوں پامال مت کرو۔۔”میں ایسا ویسا لڑکا نہیں ہوں۔۔”میں شریف سا انسان ہوں۔۔”رایان نے اُس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا۔۔”سکندر کا حال اُس سے زیادہ بُرا حال تھا کیونکہ وہ اپنی ہنسی ضبط نہیں کرپارہا تھا۔
ٹرسٹ می۔۔”تم انجوائے کرو گے۔۔”زوہان اب ایک قدم کی دوری پر کھڑا اُس کو بولا تو رایان نے بھاگنا چاہا جب سکندر نے جلدی اُس کو روک لیا۔۔
“کیا ہوا۔۔”پہلے تو بڑی ادائیں دِکھا رہے تھے۔۔”سکندر نے اُس کو دیکھ کر دلنشین لہجے میں کہا
اور یہ بھی کہا کہ جتنا حیران ہو تم اُتنا حیران مجھے ہونے دو۔۔زوہان نے جیسے یاد کروایا
“ششش شرم کرو۔۔۔”ماں باپ کی تتت تربیت کا یہ صلہ دے رہے ہو۔۔؟”رایان ہکلا کر بولا
“ججج جس ننن نے ککک کی ششش شرم۔۔” اُاا اُس کے ٹتت ٹوٹے کرم۔۔”زوہان اُس کے انداز میں ہکلا کر بولا تو سکندر کا فلک شگاف قہقہقہ گونج اُٹھا تھا۔۔”اُس کو رایان کی پتلی ہوتی حالت اِتنا مزہ نہیں دے رہی تھی۔۔”جتنا زوہان کے فیس ایکسپریشن کو دیکھ کر مزہ آرہا تھا
“اسٹاپ اِٹ۔۔۔”وہ ابھی آپس میں لگے ہوئے تھے۔۔”جب المان اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر اُونچی آواز میں چلانے لگا تو وہ تینوں چونک کر اُس کو دیکھنے لگے۔۔”جس نے اپنی آنکھوں کو بند کیا تھا۔۔”عیشا جو شور کی آواز سے باہر آئی تھی۔۔”المان کو ایسے کرتا دیکھ کر وہ بھی اپنی جگہ حیران ہوئی
“تم ٹھیک ہو؟”عیشا اُس کے پاس کھڑی ہوتی بولی۔۔”غیرشعوری طور پر اُس نے اپنا ہاتھ المان کے بازو پر رکھا تھا جس پر اُس سے دور ہٹتا المان اُس کے ہاتھ جھٹک گیا تھا۔
“مان کیا ہوا ہے آر یو اوکے؟”زوہان بھاگ کر اُس کے پاس آیا تھا۔
“نہیں
ڈونٹ ٹچ می۔۔”المان اپنے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھتا نیچے بیٹھتا چلاگیا تھا۔۔
مان یار رلیکس تُجھے کیا ہورہا ہے؟”ہانی تو جسٹ مذاق کررہا تھا۔۔”سکندر المان کی کنڈیشن دیکھ کر پریشان ہوگیا تھا
“دور رہو تم لوگ مجھ سے۔۔۔المان غُصے سے اُن کو دیکھ کر چلایا
“اِن کو چھوڑ توں پانی پی اور رلیکس کر۔۔”رایان اپنے دماغ کے گھوڑے ڈوراتا کچن سے اُس کے لیے پانی لاتا رسانیت سے بولا
“نہیں پینا۔۔”المان نے اپنا سر نفی میں ہلایا
“مان کیا ہوا تمہیں؟”تم بچوں کی طرح ہوں سہمے ہوئے کیوں ہو؟”عیشا کو پہلے لگا تھا شاید اُس کو اُس کا ایسے چھونا پسند نہ آیا تھا۔۔”لیکن اُن تینوں سے اُس کا ایسا گریز وہ جان نہ پائی تھی۔۔”تبھی نیچے گھٹنوں کے بل اُس کے روبرو بیٹھ کر بولی
یہ لوگ۔۔”المان اُن تینوں کی طرف اِشارہ کرتا بتانے لگا
“کیا ہوا ہے؟”عیشا نے اُس کے ہاتھ کانوں سے ہٹائے اپنے ہاتھ میں لیے
“یہ لوگ وہ۔۔المان سے کچھ بولا نہیں جارہا تھا
“آئے تھنگ ہمیں ڈاکٹر کو کال کرلینی چاہیے۔۔”سکندر اُن کو دیکھ کر بولا
“وہ تو ٹھیک پر مان ایسا برتاؤ کیوں کررہا ہے۔۔”چہرہ دیکھو کا فق ہوگیا ہے۔۔”رایان حیران ہوکر بولا
“اِن سے کہو کہ یہ جائے۔۔”المان عیشا کو دیکھ کر بولا
“ہاں پر تم اُٹھو اور صوفے پر بیٹھو۔۔”عیشا کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہے
“اِن سے کہو یہ جائے۔۔”المان اُونچی آواز میں بولا تو عیشا نے رایان کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیا اور المان کے چہرے پر اُلٹ دیا تو۔۔”کچھ پل کے لیے سناٹا چھاگیا تھا۔۔”اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا المان الرٹ ہوا تھا۔۔”وہ حیرت سے اپنے آگے کھڑے ہوئے اُن لوگوں کو دیکھنے لگا۔۔”جو پریشان کھڑے تھے۔۔۔”اور المان جیسے نیند سے جاگا تھا
“کچھ ہوش آیا تمہیں؟”عیشا نے پوچھا
“تمہارے سامنے کس کو ہوش نہیں آسکتا۔”اچھے اچھوں کے ہوش ٹھکانے لگادیتی ہو۔۔”رایان کی زبان میں کُھجلی ہوئی
“مان تم ٹھیک ہو؟”زوہان اُن سب کو اگنور کرتا المان سے پوچھنے لگا
“ہاں ہم ٹھیک ہیں۔۔”المان کھڑا ہوتا سنجیدگی سے بتانے لگا
“یہ تمہیں کیا ہوگیا تھا۔۔؟”سکندر نے پوچھا
“کچھ بھی نہیں۔۔سنجیدگی سے جواب دیتا وہ اُن کے درمیاں سے گُزرگیا تو وہ چاروں اُلجھن زدہ نظروں سے اُس کی پشت کو دیکھنے لگے
“مجھے ایسا لگا جیسے وہ کسی ٹروما کے زیر اثر ہے۔۔سکندر پرسوچ لہجے میں بولا تو عیشا چونک کر اُس کو دیکھنے لگی
“مرد بھی ٹروما میں جاتا ہے؟”رایان کو حیرت ہوئی
“ہاں کیوں کیا یاد نہیں تمہیں؟”سالوں پہلے ٹروما تمہیں بھی ہوا تھا جس کی بدولت یہاں سے چلے گئے تھے۔۔عیشا نے اُس کی بات سن کر طنز انداز میں کہا اور وہاں سے چلی گئ تو رایان کا منہ لٹک گیا تھا۔۔”لیکن اچانک سے اُس کو زوہان کو دلربا والا روپ یاد آیا تو فوراً سے وہ نو دو گیارہ ہوگیا







“واقعی تمہیں آج عفان ملا؟”خوریہ نے حوریہ کو بتایا تو اُس کو کافی حیرت ہوئی
“ہاں اور وہ رُخصتی کی بھی بات کرے گا۔۔”خوریہ نے سنجیدگی سے بتایا
“تو کیا اب وہ ہمارے گھر بھی آئے گا؟”حوریہ چونک کر بولی
“ظاہر ہے بات کرنے اُس نے یہی آنا ہے۔۔”خوریہ اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر بولی
“یعنی باتیں بہت آگے تک ہوئیں ہیں۔۔”اور تم نے اُس کو گھر کا اتا پتا بھی دے دیا۔۔”حوریہ سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دیتی بولی
“ایسی کوئی بات نہ تھی۔۔”اُس نے کہا وہ خود پتا کروائے گا۔۔”تو مطلب جب اُس کو پتا لگ جائے گا گھر کا وہ آئے گا۔۔”خوریہ نے کافی سنجیدگی سے اُس کو بتایا
“تمہیں کوئی مسئلہ نہیںں ہوگا؟”اگر وہ یہاں آئے گا تو؟”کسی خیال کے تحت حوریہ نے اُس سے پوچھا
“مثلاً کیسا مسئلہ؟”خوریہ جان نہ پائی
“تم جانتی ہو۔۔”میں کیا کہنا چاہتی ہوں۔۔”اور میں یہ جانتی ہوں کہ وہ شخص تمہیں پسند کبھی نہیں آیا تھا تو کیا اِتنے سالوں بعد جب اُس کا اور تمہارا آمنا سامنا ہوا تو تم اُس کے ساتھ زندگی گُزارنے کو تیار ہو؟”حوریہ نے تفصیل سے بتاکر کہا
“میں کوئی فیصلہ نہیں کرپارہی۔۔”اگر اُس کو چھوڑ کر کسی اور مرد کا ہاتھ تھاموں گی تو کیا گارنٹی ہے کہ وہ اچھا ہوگا؟”خوریہ کافی اُلجھن میں تھی
“کسی مرد کا ساتھ ضروری ہے کیا؟”ہم اپنی زندگی میں سیٹل ہو تو گئے ہیں۔۔”حوریہ نے کہا تو اُس نے ٹھنڈی سانس بھری
“اِس کو تم سیٹل ہونا کہتی ہو؟”خوریہ نے پوچھا
“کیا نہیں کہنا چاہیے؟”حوریہ نے اُلٹا اُس سے سوال کیا
“عورت کے لیے مرد کا ساتھ ہونا یا بس ساتھ کھڑا ہونا ہی بہت بڑی بات ہوتی ہے۔۔”عورت جس مقام پر بھی کھڑی ہو۔۔”اُس کا چاہے جتنا بھی بڑا نام ہو۔۔”لیکن اُس کی زندگی میں اگر مرد ہو تو لڑکی کی عزت مزید بڑھ جاتی ہے۔۔”کیونکہ اُس کے ساتھ اُس کا مرد ہوتا ہے۔۔”اور حور یقین کرو۔۔”ساری فنٹاسی باتیں ایک طرف اور یہ سچائی ایک طرف کہ اگر عورت کے پیچھے مرد ہے تو ہی وہ آزادی سے گھوم سکتی ہے کیونکہ اُس کو پتا ہوتا ہے کہ کوئی ہے جو اُس پر یا اُس کی عزت پر کبھی آنچ نہیں آنے دے گا۔۔”کیونکہ مرد چاہے جیسا بھی ہو اپنے گھر کی عورتوں کے لیے اُس کی غیرت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔۔”خود جیسا بھی ہو لیکن اپنے گھر کی کسی عورت پر کسی دوسرے کی غلیظ نگاہ برداشت نہیں کرتا۔”یہ المیہ ہے ہمارے معاشرے کا ایک مرد سے بچنے کے لیے دوسرے مرد کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔۔خوریہ نے کسی ٹرانس کی کیفیت میں اُس سے کہا
“ہر انسان کا اپنا نظریہ ہوتا ہے۔۔”اور مجھے نہیں لگتا ایسا۔۔”خیر تمہیں اگر عفان کے ساتھ زندگی گُزارنی ہے تو یہ تمہارا فیصلہ ہے۔۔”حوریہ اُس کی بات پر سرجھٹک کر بولی
“میں نے ایسا کب کہا کہ مجھے اُس کے ساتھ زندگی گُزارنی ہے؟”میں نے بس ایک بات کہی تھی۔۔”خوریہ نے بتایا
“ٹھیک ہے اگر ایسی بات ہے تو جب وہ آئے تو کہنا صاف لفظوں میں کہ وہ تمہیں طلاق دے۔۔”حوریہ نے کہا تو خوریہ محض سراثبات میں ہلا پائی تھی۔
