Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 12)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 12)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“آپ اندر نہیں جاسکتی۔۔۔میشا کچھ اہلکاروں کے ساتھ لُغاری ہاؤس آئی تو گارڈز نے اُن کا راستہ روکا
“ہاتھ پیارا نہیں یا دو ٹانگوں میں سے ایک کا وزن اُٹھایا نہیں جارہا۔۔اپنی گن کو پھونک مارتی میشا نے وارننگ بھری نظروں سے دیکھ کر پوچھا تو اُس کا گلا خُشک ہوا تھا
“دیکھے بڑے صاحب گھر پر نہیں ہے آپ پلیز بعد میں آئیے گا۔۔گارڈ نے اٹک اٹک کر کہا
“چھوٹا صاحب تو ہوگا ضرور ہوگا اور میں اُس سے ملنے آئی ہوں سُنا ہے وہ رات کو آوارگردی کرتا ہے اور پھر پورا دن سو کر گُزارتا ہے۔۔میشا نے طنز نظروں سے دیکھ کر کہا
“ہاں پر وہ ابھی آپ سے مل نہیں سکتے۔۔دوسرے گارڈ نے بتایا
“اِس بات کا فیصلہ وہ نہیں میں کروں گی۔۔میشا نے دانت پر دانت جمائے کہا
“آپ کے پاس اپائمنٹ لیٹر ہے؟دوسرے نے پوچھا
“اپائمنٹ لیٹر تو نہیں ہاں البتہ اریسٹ وارنٹ ضرور ہے۔۔میشا نے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائے بتایا تو وہ دونوں گارڈز ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے
“چھوٹے صاحب سے ملنے کے لیے آپ کے پاس اپائمنٹ لیٹر ہونا چاہیے وہ اُس کے بغیر نہیں ملتے۔۔۔گارڈ کی بات پر میشا کو انتہا کا غُصہ آیا تھا لیکن وہ ضبط کرگئ کیونکہ وقت تحمل مُظاہری کرنے کا تھا
“گھر میں اپائمنٹ لیٹر سے کون ملتا ہے۔۔کانسٹیبل کی زبان میں خُجلی ہوئی
“آتش صاحب ملتے ہیں اُن کی مرضی کے بغیر یہاں کوئی نہیں آتا اُن سے ملنے اور اگر کسی نے ملنا ہو تو وہ ایک یا دو دن اول بتاکر اُن سے وقت لیتے ہیں۔۔گارڈ نے بتایا تو میشا کو پہلی بار اُس آتش لُغاری سے ملنے کا اشتیاق ہوا جس کا بس نام سُنا تھا اُس نے اور اخباروں میں اُس کی تصویروں کو دیکھا تھا لیکن ملنے کا اتفاق کبھی نہیں ہوا تھا پر ابھی جو اُس کے لیے باتیں سُننے کو ملی تھیں اُس کے بعد وہ فیس ٹو فیس اُلٹی کھوپڑی والے آتش لُغاری کو دیکھنا چاہتی تھی۔
“خالد محمود اِن کو سائیڈ پر کرکے اندر آجانا۔۔۔میشا اُن سے کہتی خود اندر کی طرف بڑھنے لگی”جہاں بہت گارڈز موجود تھے پر اُن سے ہاتھوں کی خُجلی ختم کرتی میشا بلاآخر اُس شاندار گھر میں اینٹر ہوگئ تھی جہاں کی دیواریں بھی کسی سونے کی طرح چمک رہی تھی ہر دیکھنے والے کی نظر کو خیرہ کردینے والا منظر تھا۔۔
“آپ کون؟ایک ملازمہ میشا کو دیکھتی سوال کرنے لگی
“سرجن ہوں آتش لُغاری کہاں ہے؟”اُس کے دماغ کا علاج کرنا ہے۔۔۔خود پولیس یونیفارم ہونے کے باوجود ملازمہ کا ایسا سوال سُن کر میشا نے تپ کر جواب دیا تھا
“آپ آتش بابا سے نہیں مل سکتی؟مُلازمہ نے اپنا سر نفی میں ہلا کر کہا
“کیوں مایوں میں بیٹھا ہوا ہے وہ جو میں اُس سے مل نہیں سکتی۔۔میشا نے اُس کو گھورا
“یہ وقت اُن کے سونے کا ہوتا ہے”اور بغیر اُن کے بلائے پر اُن کے کمرے میں کوئی بھی نہیں جاتا۔۔مُلازمہ نے بتایا
“یہ وقت سونے کا نہیں ہوتا اور اب تم جاؤ اُس سے کہو کہ نیچے آئے”اور یہاں کیا ہوتا ہے یا کیا نہیں مجھے اُس سے کوئی سروکار نہیں۔میشا اُس کو گھورتی نگاہوں سے دیکھ کر بولی
“دیکھے میڈم جی
“نو آرگیومنٹ جو کہا ہے بس وہ کرو۔۔۔وہ کچھ کہنے والی تھی جب میشا نے اُس کی بات کو درمیان میں کاٹ کر کہا
“آتش بابا غُصہ کرجائے گے۔۔مُلازمہ کشمش میں مبتلا ہوگئ وہ جانتی تھی اگر اُس نے اپنا پاؤ آتش کے کمرے میں رکھا تو پھر اُس کی خیر نہ تھی
” تم کیوں میرے ارتکاب کا نشانہ بننا چاہتی ہو؟میشا نے ضبط سے اُس کو دیکھ کر سوال کیا تب تک اُس کے ساتھ آئے باقی لوگ بھی گھر میں داخل ہوئے تھے
“میڈ
“کیسا شور ہے یہ؟ملازمہ ابھی کچھ کہنے والی تھی جب اُپر سے کسی کی گھمبیر بھاری آواز سن کر سب نے اپنا سر اُپر کیے ریلنگ کی طرف دیکھا تھا جہاں چھبیس ستائیس سالہ آتش لُغاری اپنی تمام تر وجاہت سمیت شرٹ لیس سیڑھیاں اُتر رہا تھا”اُس کے سِکس پیکس اور اُس کا چوڑا برہنہ سینہ دیکھ کر میشا اَسْتَغْفِرُاللّٰه پڑھتی اپنی نظروں کا زاویہ بدل چُکی تھی اُس کے تو وہم و گمان بھی نہ تھی کہ وہ ایسے حُلیے میں اینٹری مارے گا
“آتش بابا یہ پتا نہیں کیسے آگئ ہیں ہم نے کوشش کی باہر نکلوانے کی لیکن یہ آپ سے ملنے پر بضد ہیں۔۔مُلازمہ نے فر فر بتایا تو ہاتھ کے اِشارے سے اُس کو جانے کا کہتا آتش میشا کے روبرو کھڑا ہوا جو تند نگاہوں سے اُس کو گھور رہی تھی جس کی گردن پر بچھو کا ٹیٹو موجود تھا
“یہاں آنے کا مقصد؟آتش سنجیدہ نظروں سے سب کو دیکھنے لگا
“تمہارے پاس کپڑے نہیں پہننے کے لیے؟میشا نے تپ کر بلآخر بول دیا
“اگر میں کہوں نہ تو کیا تو کیا آپ مجھے مشہور مال لے جائے گی کپڑے خرید کر دینے کے لیے؟جواب میں آتش فوراً بولا تھا
“پہلے کچھ پہن آؤ پھر ساری بات ہوگی۔۔میشا نے اُس کو گھورتے ہوئے کہا
“پینٹ پہنی ہوئی ہے آپ بتاؤ کیا بات کرنی ہے۔۔آتش پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھساتا بولا تو جہاں میشا کے ہاتھوں میں کُھجلی ہوئی تھی وہی باقی اہلکاروں کی ہنسی چھوٹ گئ تھی”لیکن آتش کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا اُس کی زندگی کا ایک اصول تھا جو جیسے بات کرے اُس کو جواب بھی ویسے دینا چاہیے
“تمہیں اریسٹ کرنے آئی ہوں۔۔۔میشا نے اُس کے سامنے ہتھکڑیاں لہرائی
“اریسٹ وہ بھی آتش لُغاری کو؟کول۔۔۔عادت موجب ہونٹون کو گول شیپ دیتا آتش اُس کو دیکھنے لگا جس کا چہرہ غُصے کی وجہ سے سرخ انار ہوگیا تھا
“ہاتھ دو اپنا۔۔۔میشا کو اُس کا اِتنا اطمینان سے کھڑا ہونا سمجھ میں نہیں آیا
“کول لیکن اپنی بیٹی کے لیے مانگنے آئی ہیں یا خود کے لیے۔۔۔آتش بے باکی سے کہتا آنکھ کا کونا دبا گیا تو میشا کے سر پہ لگی تھی اور تلوؤ پر بجھی تھی
“انتہا کے گھٹیاں انسان ہو تم میں تمہاری ماں کی عمر کی ہوں۔۔۔میشا تپ کر بولی تھی اُس نے بڑی مشکلوں سے اپنے ہاتھوں پر قابو پایا تھا ورنہ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ آتش کے گورے چِٹے گال تھپڑوں سے سرخ کردیتی
“میری زندگی کا ایک اصول ہے میں خوبصورت لڑکیوں کو بہن نہیں بناتا اور نہ ماں بناتا ہوں۔۔۔اپنے گِھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا آتش احساس سے عاری لہجے میں بولا
“تمہاری ڈائیلاگ بازی ختم ہوگئ تو تھانے چلنے کی تیاری کرو۔۔۔میشا طنز انداز میں کہتی اُس کی مضبوط کلائی میں ہتھکڑیاں پہنانے لگی تھی جب آتش اُلٹے پاؤ چلتا اُس سے دو قدم دور جاکر کھڑا ہوا
“میری غلطی کیا ہے؟آتش نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں سوال کیا
“تمہاری غلطیاں مجھے بتانے کی ضرورت تو ہے نہیں میں شیور ہوں اخباروں کی سرخیوں میں اپنے کارنامے روز پڑھتے ہوگے۔۔۔میشا اُس کے سوال پر طنز کیے بنا نہ رہ پائی
“کول”پر میرے لیے لیٹیسٹ نیوز ہے کہ میں اخباروں کی سرخیوں میں چھایا رہتا ہوں کیونکہ میرا کبھی اخبار پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا”میں بچپن سے سر درد کرنے والی چیزوں سے دور بھاگتا ہوں۔۔۔آتش اپنی شیو پر ہاتھ پھیر کر بولا تو میشا اُس کو دیکھتی رہ گئ جو خود کسی سر درد سے کم نہ تھا”کیونکہ اُس نے اِتنی باتیں آتش سے کی نہ تھی پر جیسے وہ بول رہا تھا اُس سے میشا کا اپنا سر درد کرنے لگا تھا
“اب کیا سارے کارنامے اپنے تم نے میرے منہ سے سُننے ہیں؟سرجھٹک کر میشا طنز ہوئی
“کیا آپ کو اور بھی بات پتا ہے میرے بارے میں؟”لگتا ہے آپ کے دن رات میرے بارے میں سوچ کر گُزرتے ہیں”میں بھی کیا کرو سالا پیار ہی اِتنا ہوں کہ جو دیکھتا ہے بس پھر سوچتا ہی رہ جاتا ہے۔۔۔آتش صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھتا پرسکون لہجے میں بولا تو میشا نے گہرا صبر کا گھونٹ پیا تھا
“تمہیں واقعی میں شرم نہیں ہے تبھی تو مجھ سے ایسی باتیں کررہے ہو ہلانکہ میں تمہاری ماں سے بس دس سال چھوٹی ہوگی۔۔میشا نے کہا تو وہ جو اپنی بیئرڈ پر ہاتھ پھیر رہا تھا میشا کی بات پر گردن پیچھے کی جانب جُھکاتا دل کھول کر ہنسا تھا اِتنا کہ اُس کی ہیزل گرین آنکھوں میں ہنسی کی وجہ سے پانی جمع ہوگیا تھا”میشا کی بات اُس کو ضرورت سے زیادہ فنی لگی تھی۔۔
“مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے مجھے اپنا بیٹا بنانے میں آپ کافی انٹرسٹڈ ہیں۔۔اپنی ہنسی کو دبائے آتش نے اُس سے سوال کیا تو میشا کو حد سے زیادہ وہ بُرا لگا تھا
“شٹ اپ ورنہ ایسے کیس میں پھساؤں گی نہ کہ ساری زندگی تمہاری حوالات میں چکی پیستے ہوئے گُزر جائے گی۔۔میشا نے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر اُس سے کہا تو ایک حولدار جلدی سے اُس کے پاس آیا اور کان کے پاس آکر بولا
“میڈم آتش لُغاری کے بارے میں ایک اہم بات تو آپ کو بتانا بھول گیا میں۔۔خالد نے کہا تو میشا چونک کر اُس کو دیکھنے لگی
“کیسی بات؟میشا ایک نظر پرسکون بیٹھے آتش پر ڈالتی خالد سے بولی
“یہ بہت فلرٹی قسم کا انسان ہے اِتنا کہ فلرٹ کرنے سے عورتوں کو بھی نہیں بخشتا۔۔۔خالد نے بتایا تو میشا کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے
“مجھے بتائے میری کونسی خطا کی وجہ سے آپ خود چل کر یہاں آئیں ہیں؟آتش نے سوال کیا
“تم نے کل رات نشہ کیا تھا۔۔میشا نے پوچھا
“الکوحل پیا تھا۔۔آتش نے جمائی لیتے جواب دیا
“وہ بھی کوئی آبِ حیات نہیں۔۔میشا تپ اُٹھی
“اچھا پر میں نے زم زم سمجھ کر پیا تھا۔۔آتش نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا تو میشا نے افسوس سے اُس کو دیکھا اُس کا دل چاہا تھا وہ اُس کی ایسی بات پر کچھ سخت بولے لیکن اللہ کی نظر میں کس کا؟”کیا مقام تھا یہ بس خُدا بہتر جانتا تھا اور یہی سوچ کر میشا نے خود پر قابو پایا تھا”لیکن اُس کا الکوحل کو زم زم بولنا میشا کو بہت ناگوار لگا تھا
“تم نے الکوحل پی کر کل رات ایک ٹرک کو ٹھوک دیا تھا۔۔میشا نے اُس کی بات کو اگنور کرکے بتایا
“تو کیا آج صبح وہ ٹرک میرے خلاف ایف آر آئے لکھوانے پہنچ گئ؟آتش نے پوچھا تو اُس کی ایسی بے تُکی باتوں پر میشا کو سمجھ آیا کہ جو مینٹل پیس اُس کے گھر میں موجود ہیں وہ تو کچھ بھی نہیں اصل دماغ کی دہی کرنے والا تو یہ شخص تھا۔
“اُس کا مالک آیا تھا تمہارے خلاف کمپلیٹ لکھوانے اُس کا بہت نقصان ہوا ہے۔۔۔میشا نے بتایا
“مجھے یاد ہے ٹرک میں اُس کا مالک بیٹھا ہوا نہیں تھا اور مجھے راستہ کراس کرنا تھا پر اُس ٹرک کی وجہ سے میری جیپ کو گُزرنے میں مسئلہ آرہا تھا تو میں نے دو تین بار ٹھوکر مار کر اُس کو سائیڈ پر کرنا چاہا پر مجھ سے ہو نہیں پایا پھر میں اپنی جیپ سے اُتر کر ٹرک کے سامنے آیا تو پتا چلا وہ تو خالی ہے لیکن اچھی بات تھی کہ چابی ٹرک میں لگی ہوئی تھی پھر میں پہلی بار ٹرک میں بیٹھا اور اُس کو سائیڈ پر کھڑا کیا اُس کے بعد گھر آیا تھا تو آپ کو ٹرک ڈرائیور سے پہلے پوچھنا چاہیے تھا کہ اُس کا نقصان کیا اور کیسے ہوا؟”خوامخواہ میرا اور آپ کا ہم دونوں کا ٹائیم ویسٹ کیا۔۔۔آتش سرجھٹک کر اُس کو کل رات کی ہوئی اپنی ساری کاروائی بتاتا اُٹھ کھڑا ہوا تو حوالداروں کے ساتھ ساتھ میشا بھی حیران نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی اُن کو لگا تھا”آتش نے نشے کی حالت میں ٹرک کو ٹھوکر ماری تھی پر یہاں تو ماجرا ہی کچھ اور تھی اور اُس نے جان کر ٹرک کو ٹھوکر ایک سے دو تین بار ماری تھی تب جب اُس کو پتا بھی نہیں تھا کہ ٹرک میں اُس کا مالک بیٹھا ہے بھی یا نہیں
“کیا چیز ہو تم۔۔۔میشا اپنا سر پکڑنے پر مجبور ہوگئ”اِتنے سال ہوئے اُس نے پولیس کی جاب کو جوائن کیا تھا لیکن آج سے پہلے کبھی اُس کا پالا آتش جیسے شخص سے نہیں ہوا تھا”حیرت انگیز طور پر بات یہ تھی کہ وہ غیرضروری اور بے تُکی باتیں بھی سنجیدگی سے ایسے بول رہا تھا جیسے جانے وہ کتنی اہم ہو اور ایسی باتوں پر نہ اُس کے چہرے پر مسکراہٹ کا تاثر تھا اور نہ ہیزل گرین آنکھوں میں شرارت” پر بہت عجیب تھا وہ کم سے کم میشا کو تو سمجھ نہیں آیا تھا کہ آتش لُغاری اصل میں ہے کیا؟
“چائے پیئے گی یا کافی؟”یا پھر لنچ یہی کرنے کا اِرادہ ہے بتادے کُک بنادے گا”لغاری ہاؤس آئی ہیں تو خالی پیٹ جا نہیں سکتی آپ” ویسے بھی سالوں پہلے کسی کے منہ سے سُنا تھا اگر آپ کسی کے گھر جاؤ اور وہاں سے خالی پانی کا گلاس بھی نہ پیو تو یہ ایسے ہوا جیسے آپ قبرستان سے ہوکر واپس آئی اِس لیے میں نہیں چاہوں گا کہ ہمارا گھر قبرستان کی طرح ہو تو بتائیے گا کیا لینا پسند کرینگی آپ؟آتش اُن کے گرد چکر کاٹتا پوچھنے لگا
“مجھے تمہاری مہمان نوازی دیکھنے کا کوئی شوق نہیں تم خود کو ہمارے حوالے کردو پھر ہم خالی پانی کا گلاس ضرور پیئے گے۔۔میشا اُس کی بات پر گھور کر بولی
“خالی ٹرک کو ٹھوکر ماری تھی یہ کوئی بڑا جُرم نہیں جو آپ اریسٹ وارنٹ کے ساتھ نکل کر آئی ہیں یہاں۔۔آتش بازو سینے پر باندھ کر اُس کو دیکھ کر بولا
“میں نے تمہاری باڈی کا مسلز کا اچھے سے جائزہ لے لیا ہے اب برائے کرم تم شرٹ پہن لو اپنی۔۔میشا اُس کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھ کر بولی جو ابھی تک شرٹ لیس کھڑا تھا
“میں شرٹ لیس ہوں شرمانا مجھے چاہیے آپ کو کیوں شرم آرہی ہے”اگر آپ میری ماں کی عمر کی ہیں تو یقیناً پھر میں آپ کے بیٹے کی عمر کا ہوگا۔۔۔”زیادہ نہیں تو مجھ سے دس سال چھوٹا ہوگا آفٹر آل آپ میری ماں سے جو دس سال چھوٹی ہوئیں۔۔آتش ہوا میں تیر پھینک کر بولا جو سیدھا نشانے پر لگا تھا اور اُس کی بات پر میشا بے ساختہ پہلو بدلنے پر مجبور ہوگئ تھی کیونکہ سامنے کھڑا آتش اگر ستائس سال کا تھا تو اُس کا رایان بھی تو خیر سے اٹھارہ سال کا تھا۔
“تم نے جان کر ٹرک کو ٹھوکر ماری تھی اور تمہیں تب پتا بھی نہیں تھا کہ ٹرک میں کوئی ہے یا نہیں اور تمہاری اِسی لاپرواہی کی وجہ سے ٹرک میں پڑا اناج سارا خراب ہوگیا تھا جس وجہ سے ٹرک ڈرائیور کا نقصان ہوا ہے اور اب تمہیں تھانے تو چلنا ہوگا کیونکہ نشے کی حالت میں ویسے بھی ڈرائیونگ الاؤ نہیں۔۔۔میشا نے دانت پر دانت جمائے اُس سے کہا
“میرا وکیل آگیا۔۔آتش سامنے کی طرف دیکھ کر بولا تو میشا نے چونک کر مڑ کر دیکھا جہاں ایک آدمی آرہا تھا۔
“میں آتش لغاری ہوں کوئی سڑک چھاپ غنڈا نہیں جس کو جو کوئی آئے گا اور اپنے ساتھ لے جائے گا۔۔۔آتش میشا کو دیکھ کر چڑاتی مسکراہٹ لبوں پر سجائے بولا تو میشا کو اب سمجھ آیا کہ وہ جان کر اب تک اُس کو باتوں میں اُلجھائے ہوئے تھا کہ تاکہ اُس کا وکیل پہنچ جائے اور اُس کی بیل گھر میں ہی ہوجائے”میشا تو آتش کی چلاکی پر عش عش کر اُٹھی تھی وہ اُس کی سوچ سے کئ گُنا شاطر نکلا تھا یہ بات میشا مان چُکی تھی
“یہ اِن کے ضمانت کے پیپرز ہیں اور یہ اُس بات کا ثبوت کے آتش لُغاری کی وجہ سے ٹرک ڈرائیور کا جو بھی نقصان ہوا تھا اُس کی بھرپائی کی جاچُکی ہے اور اب آپ تھانے جائے گی تو آپ کو پتا لگے گا کہ کمپلینٹ بھی واپس لی جاچُکی ہے۔آتش کا وکیل ایک فائل میشا کی طرف بڑھائے بولا تو وہ غُصے سے آتش کو دیکھنے لگی جس نے خوامخواہ اُس کا وقت ضائع کیا تھا
“اگر تمہاری یہی پلائننگ تھی تو میرا ٹائیم ویسٹ کیوں کیا؟میشا کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی
“پانی پیئے اور اپنا غُصہ بھی پی جائے”اگر آپ پانی پیئے گی تو مجھے ثواب ملے گا اور اگر آپ اپنا غُصہ پیئے گی تو وہ آپ کو ثواب ملے گا۔۔۔آتش خاصے پرسکون لہجے میں بولا لیکن اُس کے ساتھ بات کرنے والا آخر کیسے پرسکون رہ سکتا تھا”اُس کو خالد کی بات سہی لگی تھی آتش لُغاری واقعی میں اُلٹی کھوپڑی کا مالک تھا یا پھر اُس کے پاس کوئی کھوپڑی تھی ہی یا نہ
“تم
“میڈم جی پانی۔۔۔میشا آتش کو سُنانے والی تھی جب ملازمہ ٹرے میں پانی کے گلاس لاتی باری باری سب کو دینے لگی
“نیکسٹ ٹائیم جب آئے تو بتاکر آنا میں کھانے کا اچھا سا احتتام کرواؤں گا۔۔۔میشا نے ناچاہتے ہوئے بھی ملازمہ سے پانی کا گلاس لیا تو آتش نے اُس کو سُلگانے کی نیت سے کہا جس میں وہ کامیاب بھی ہوگیا تھا کیونکہ زندگی میں پہلی بار ایسا کوئی کام تھا جو میشا کرنا چاہتی تھی پر ہوا نہیں تھا وہ آتش کو اریسٹ کرنے کا پکا اِرادہ کرکے آئی تھی پر جو وہ چاہتی تھی وہ ہوا نہیں تھا پر اُس نے بھی مضبوط اِرادہ باندھ لیا تھا کہ وہ آتش کے کیس کی ہر نئ پرانی فائل کو کھول کر دیکھے گی”اور پتا لگائے گی کہ اُس نے کونسے کونسے جُرم کیے ہیں
“دماغ کچھ ٹھنڈا ہوا؟میشا پانی کا گلاس خالی کرگئ تو آتش نے پوچھا
“میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتی اِس لیے خاموش رہو۔۔۔میشا کاٹ کھانے والے انداز میں بولی
“ظاہر ہے وہ تو آپ اپنے میاں کے لگے گی میرے کیوں لگے گی۔۔آتش شانے اُچکاکر بے نیازی سے بولا تو دل میں ہزار صلواتیں آتش کو سُناتی میشا اپنے ساتھیوں کو اِشارہ کرتی باہر کی طرف بڑھی تھی
“باہر جتنے بھی گارڈز کھڑے ہیں یا کھڑے تھے اُن کی ابھی اِسی وقت چُھٹی کرو”میں نے اگر اُن میں سے دوبارہ کسی کو بھی دیکھا تو میرے ریواالر کی گولی سے اُن کو کوئی بھی بچا نہیں پائے گا۔۔۔اُن سب کے جانے کے بعد آتش کے چہرے کے تاثرات یکدم بدل سے گئے تھے جبھی وہ ملازمہ اور وکیل کو سرد نگاہوں سے دیکھ کر باور کرواتا اندر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا







“کیا ہوا تم چُپ کیوں ہو اِتنا؟وہ لوگ گھر جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھے تو زوہان کو خلاف معمول چُپ دیکھ کر سکندر نے پوچھا
“کل میں تم لوگوں کے ساتھ یونی نہیں آ پاؤں گا۔۔۔زوہان نے بتایا
“وہ کیوں؟ڈرائیونگ کرتے رایان نے چونک کر پوچھا
“مان نے بتایا کل اقدس آپو کو کچھ لوگ دیکھنے آرہے ہیں تو میں گاؤں جاؤں گا۔۔۔زوہان نے بتایا
“ارے واہ تو بہت اچھی بات ہے میں بھی پھر تمہارے ساتھ گاؤں چلوں گی یونی سے چُھٹی۔۔۔فرنٹ سیٹ پر رایان کے ساتھ بیٹھی عیشا نے پرجوش لہجے میں کہا
“کافی ٹائیم ہوگیا ہے میں بھی گاؤں نہیں گیا تو کیوں نہ سب کے سب جائے۔۔سکندر نے بھی کہا
“بات تو سہی ہے اور خوشی کی بھی ہے پر ہانی تمہارا کیوں منہ بنا ہوا ہے؟رایان نے بیک ویو مرر سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“تم لوگ اِتنے انجان ایسے بن رہے ہو جیسے آپو اقدس کے لیے یہ کوئی پہلا رشتہ آیا ہو تم لوگوں کو پتا ہے اگر ایسا ہوتا ہے ایٹ دا لاسٹ ٹائیم وہ کتنا ڈس ہارٹ ہوتیں ہیں۔۔”خالو جان کو پتا بھی ہے ساری بات لیکن پھر بھی اُن کو جانے کیا جلدی ہے اقدس آپو کی شادی کروانے کی”مجھے پتا ہے اُنہوں نے ہی پریشرائیز کیا ہوگا ورنہ وہ کبھی نہ مانتی۔۔۔زوہان سرجھٹک کر ناپسندیدہ لہجے میں بولا جب سے اُس کو یہ بات پتا لگی تھی تب سے اُس کا موڈ بُری طرح سے آف ہوگیا تھا
“ہانی ضروری تو نہیں جو ہر بار ہوتا ہے اِس بار بھی وہ ہو”اقدس آپو کی قسمت میں جو ہوگا اچھا ہی ہوگا اور تمہیں بھی اچھے کی اُمید رکھنی چاہیے ویسے بھی اُن میں کوئی خامی بھی نہیں بس سرجری کی بات ہے اگر وہ مان جائے تو ایسا کچھ ہو ہی نہ۔۔عیشا زوہان کی بات پر بولی
“سرجری؟سیرسیلی کیا وہ معمولی سی سرجری اِتنی ضروری ہے؟”اگر کسی نے اقدس آپو کو ایکسپیٹ کرنا ہے تو وہ جیسی ہیں اُن کو ویسے کیوں نہیں ایکسپیٹ کیا جارہا ہے اُن کے گال پر ایک گھاؤ ہے جو خودبخود بھر سکتا تھا پر وہ نہیں ہوا کیونکہ آپو نے لاپرواہی برتی خیر جو بھی اگر اُن کے لیے رشتہ آرہا ہے تو خالو کو چاہیے کہ وہ پہلے اُن کو اقدس آپو کی کنڈیشن بتائے تاکہ پھر کوئی مسئلہ ہو ہی نہ ہو۔۔۔زوہان سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں بولا
“اگر تمہیں اقدس آپو کی اِتنی پرواہ ہے اُن کو ڈس ہارٹ ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے”تکلیف ہوتی ہے تمہیں تو ایسا کرو خود خالو کے پاس جاؤ اور اُن سے کہو تمہیں اقدس آپو سے شادی کرنی ہے وہ جیسی بھی ہیں تمہیں پسند ہیں”بس آپ یوں اُن کے لیے کسی اور کا رشتہ نہ تلاش کیا کریں۔۔عیشا اب کی بار زچ ہوتی بولی تو زوہان کے چہرے پر نافہم قسم کے تاثرات نمایاں ہوئے تھے لیکن اُس کی بات پر رایان اور سکندر نے بے ساختہ عیشا کو دل میں کوسا تھا جس نے زوہان کے اندر موجود بیسٹ کو جگانے کی کوشش کی تھی”چاہے وہ کول اور کام رہنے والا نظر آتا تھا پر یہ تو سب کو پتا تھا اگر اُس کو غُصہ آتا تھا تو بہت آتا تھا پھر وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتا تھا چاہے پھر سامنے والا جو کوئی بھی ہو۔۔۔
“رایان گاڑی روکو۔۔ایک اچٹنی نظر عیشا پر ڈالے زوہان نے رایان کو مُخاطب کیا تھا”وہ عیشا کی اِس قدر فضول گوئی پر اُس کو کوئی جواب دینا نہیں چاہتا تھا کیونکہ اُس کو پتا تھا اگر وہ کچھ بولا تو کچھ سخت بول جائے گا۔۔۔
“ہانی چِل کرو عیشو کا تو تمہیں پتا ہے کچھ بھی بولتی رہتی ہے۔۔رایان نے بیک ویو مرر سے اُس کو دیکھ کر کہا ہلانکہ اِس نے گاڑی کی اسپیڈ کو کم کردیا تھا۔
“ایک بار میں میری بات سُنائی نہیں دی؟”میں نے کہا گاڑی روکو۔۔۔۔زوہان نے اِس بار سخت لہجہ اپنایا جس پر مجبوراً رایان کو گاڑی روکنی پڑی
“ہانی یہاں کوئی تمہیں ٹرانسپوٹ نہیں ملے گی کہاں جارہا ہے توں بیٹھ چُپ چاپ۔۔اُس کو گاڑی سے باہر نکلتا دیکھ کر سکندر نے بھی اِس بار اُس کو روکنا چاہا
“ہان
“خاموش ایک لفظ بھی اپنے منہ سے مت نکالنا۔۔۔عیشا بھی کچھ کہنے والی تھی جب زوہان نے اُس کی بات کاٹ کر دھاڑنے والے انداز میں کہا تو وہ حق دق اُس کو دیکھتی رہ گئ جس پیشانی میں لاتعداد بلوں کا جال بِچھا ہوا تھا۔۔
“میں نے ایسا بھی کیا بول دیا؟عیشا خود کو کمپوز کرتی ہوئی بولی
“”جو کہا نہ وہ کہہ دیا لیکن آج تم نے یہ بات کرلی تھی”اور میں نے سُن لی لیکن عیشا دُرانی میری ایک بات تم کان کھول کر سُن لو آج کے بعد ایسے الفاظ اپنے منہ سے مت نکالنا میں اقدس آپو کا دل سے احترام کرتا ہوں اور میں اُن کے بارے میں تمہاری ایسی کوئی بکواس نہیں سنوں گا رہی بات شادی کرنے کی تو یقین جانو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا پر میں ایسا کروں گا نہیں کیونکہ میرے دل میں اُن کے لیے جو عزت جو چاہ”جو احترام ہے وہ مجھے اُن کے بارے میں کچھ ایسا سوچنے نہیں دیتا میں چاہتا ہوں اُن کو لیکن ویسے جیسے ایک چھوٹا بھائی اپنی بڑی بہن کو چاہتا ہے اُس کی خوشی سے خوش ہوتا ہے”اُس سے لگاؤ رکھتا ہے لیکن آہستہ آہستہ مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے خونی بہن بھائی کے علاوہ یہ دُنیا لڑکا لڑکی چاہے جس عمر میں بھی ہو پر اُس کو غلط ہی سمجھتے ہیں”پر کیا کریں ہم بھی مجبور ہیں ورنہ ماتھے پر ٹیگ لگائے گھومے کہ فلاں لڑکی سے ہمارا یہ رشتہ ہے”اور فلاں لڑکی سے ہمارا وہ رشتہ ہے تو برائے مہربانی آپ لوگ اپنی چھوٹی سوچ کا مُظاہرہ نہ کرے تو بہتر ہوگا۔۔”آج تم نے بس ایک بات نہیں کی بلکہ ہمارے رشتے کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے”اپنی اِس قدر گھٹیا سوچ کو ظاہر کرکے اور تمہاری بات کو سُن کر ایسا لگتا ہے جیسے میں اب کبھی اُن سے نظریں بھی ملا نہیں پاؤں گا۔۔۔زوہان احساس سے عاری لہجے میں کہتا گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا تھا پیچھے عیشا کو اپنا آپ شرم سے ڈوب مرنے والا لگا”دوسری طرف سکندر اور رایان نے بھی خاصی افسوس بھری نظروں سے اُس کو دیکھا تھا”جو بولنے سے قبل سوچنا گوارا نہیں کرتی تھی۔
