Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 31)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 31)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“دعا سب سے پہلے میں ماہا کو ڈراپ کروں گا تو تب تک کے لیے تم پیچھے بیٹھ جاؤ۔۔گلا کھنکھار کر سکندر نے دعا کو دیکھ کر کہا
“نو ڈارلنگ پلیز نہ اپنی کزن سے کہو کہ وہ بیک سیٹ پر بیٹھے۔۔”دعا اپنی جگہ بضد تھی۔۔”
“آئے تھنگ ماہا کو گاڑی میں ہی نہیں ہونا چاہیے۔۔”ماہا اُن کی بحث پر بیزارگی سے کہتی دروازہ کھول کر جانے لگی تھی۔۔”جب سکندر نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا
“دعا ضد نہیں کرو بیٹھ جاؤ۔۔”کیا میں تم سے ایک چھوٹی سی بات منوانے کی بھی اُمید نہ لگاؤں؟”سکندر نے اُس کو دیکھ کر کہا تو وہ چہرے کے ہزار زوایئے بناکر بیک سیٹ پر بیٹھ گئ۔۔”تو سکندر بھی شکر بھرا سانس خارج کرتا ڈرائیونگ اسٹارٹ کردی۔۔








“دیکھو ہم تم سے نکاح کرے گے۔”لیکن پلیز ویسے نہیں جیسے تم چاہتے ہو۔۔”اُس کو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر اقدس نے سختی سے آنکھوں کو میچ کر کہا تو آتش ٹھٹھک سا گیا
“مطلب؟”اُس نے پوچھا
“مطلب کہ تم ہمارے گاؤں آؤ اور ہمارے بابا سائیں سے ہمارا ہاتھ مانگو۔۔۔اقدس نے کہا
“اچھا۔۔اِتنا کہتا آتش ہنس پڑا
“ہاں اور یقین کرو ہم ہاں کرینگے تو بابا سائیں بھی انکار نہیں کرینگے۔۔”پر پلیز تم ابھی ہمیں جانے دو۔”ہماری بہن ہمیں ناپاکر پریشان ہوگی۔۔”ہماری زندگی میں پہلے ہی بہت پریشانیاں ہیں۔۔”آپ پلیز زبردستی نکاح کرکے ہماری مشکلوں کو بڑھاواں نہ دے۔۔اقدس نے اِس بار باقاعدہ اُس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا تو اُس کی نم ہوتی آنکھوں اور لہجے میں بے بسی کو محسوس کرکے آتش نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھا
“کیا گارنٹی ہے تم میری بات مانو گی اور اگر یہاں سے میں جانے دوں گا تو تم کوئی واویلا نہیں کرو گی۔۔”میڈیا میں میرے خلاف کوئی ایکشن نہیں لو گی؟”آتش نے سنجیدگی سے پوچھا
“تم ہماری طرف سے مطمئن ہوجاؤ۔۔”ہم ایسا کچھ نہیں کرے گے۔”بلکہ تمہیں اپنی حویلی کا ایڈریس بھی دیتے ہیں۔۔”تم جب چاہوں اپنے والدین کے ساتھ آسکتے ہو۔۔اقدس نے جھٹ سے کہا اُس کو بس یہاں سے جانے کی پڑی تھی
“میرا وہی سوال ہے کہ تم سچ بول رہی ہو اُس بات کی کیا گارنٹی ہے؟”آتش نے پھر سے کہا
“تم ہماری بات پر یقین کرسکتے ہو۔۔اقدس نے کہا
“میں تمہاری بات پر یقین کیوں کروں؟”تم کونسا میرے چچا کی بیٹی ہو۔۔”اِس لیے نکاح تو آج یہی ہوگا۔۔آتش اُس کو دیکھ کر کہتا شانے اُچکا گیا
“چچا کی بیٹی نہیں تو نکاح کیوں کررہے؟”اقدس جیسے تپ اُٹھی
“بس دل آگیا ہے۔۔آتش نے کہا
“دیکھو آتش ایسے نہ کرو۔۔”ہماری بات کو سمجھو تم کو نکاح سے مطلب ہے نہ تو وہ ہم کرنے کو تیار ہے پر پلیز ابھی جانے دو۔۔”اقدس نے پھر سے عاجزی لہجہ اپنایا
“ایسا کرو قرآن پر ہاتھ رکھ کرو قسم اُٹھاکر کہو۔۔آتش کی نظر کمرے میں موجود قرآن پاک پر پڑی تو اُس سے کہا جس پر اقدس کو یقین نہ آیا کہ وہ اِتنی چھوٹی بات کے لیے اُس سے قسم اُٹھوائے گا۔
“کیا ہوا؟”آتش نے اُس کو چُپ دیکھ کر سوال کیا
“قرآن پاک اللہ نے عبادت کرنے کے لیے نازل کیا ہے۔۔”ناکہ اُس پر ہاتھ رکھ کر قسم اُٹھانے کے لیے۔۔”وہ ایک مقدس کتاب ہے۔۔”ہم اِتنی سی بات پر قسم نہیں اُٹھاسکتے۔۔”ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ قرآن جب ہاتھ میں لے تو کوئی قسم اُٹھانے کے لیے نہیں بلکہ عبادت کے لیے اُٹھائے۔۔اقدس اُس کی بات پہ سنجیدگی سے بولی
“مجھے پھر تم پر یقین نہیں۔۔”آتش آرام سے بولا
“ہماری زبان پر یقین کرسکتے ہو تم۔۔”ویسے بھی رسولﷺ کا یقین ہے کہ اُس کی اُمتی کبھی جھوٹ نہیں بول سکتی تو تم یقین کرو اقدس اسیر ملک اِس وقت تم سے کوئی جھوٹ نہیں بول رہی۔۔”وہ جو کہہ رہی ہے ویسا کرے گی بھی۔۔اقدس نے پُختگی سے کہا تو اِس بار آتش لاجواب ہوا تھا۔۔”اور ایسا کبھی کبھار ہوتا تھا کہ کوئی اُس کو لاجواب کرتا تھا۔۔
“اب اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کو لائی ہو تو میں تمہاری بات مان لیتا ہوں۔۔”تمہیں باحفاظت تمہارے آشیانے چھوڑ آتا ہوں۔۔۔آتش نے گویا اُس پر احسان کیا
“کیا واقعی؟”اقدس کو یقین نہ آیا
“ہاں واقعی اب میں تمہارے عشق میں اِتنا ڈوب بھی نہیں گیا کہ آج اگر نکاح نہ ہوا تو مرجانے کا خوف ہو کوئی۔۔آتش نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر اُس سے کہا
“ہم اپنی چادر لے۔۔”اقدس جلدی سے کہتی بیڈ کے پاس گِری اپنی چادر اُٹھانے لگی
“گاؤں جانا ہے تم نے؟”آتش نے پوچھا
“نہیں یہاں اپارٹمنٹ ہے وہاں جانا ہے۔۔”گاؤں ویکنڈ پر جائے گے۔۔”اقدس نے بتایا
“ٹھیک ہے پھر اُتوار کو میری فیملی لنچ تمہارے گاؤں کرے گی۔۔”اور ہاں اُس دن مجھے ہاں میں جواب چاہیے۔۔”ایسا نہ ہو تمہارے بابا سائیں میری خوبصورت شکل سے جیلس ہوکر انکار کردے۔۔”آتش نے اُس کو وارن کیا
“ہاں جو تم کہہ رہے ہو ویسے ہوگا۔۔”اقدس نے جان چُھڑوائی
“یہ کیا توں تراں کرکے بات کررہی ہو۔۔”ہونے والا مجازی خُدا کا ہوں تمہارا عزت سے مُخاطب کرو”آپ جناب کہو۔۔آتش نے اُس کو گھور کر کہا
“جی جیسا آپ کہو۔۔”لیکن کیا ابھی ہم جاسکتے ہیں۔۔”اقدس نے ضبط سے کہا
“میرے ساتھ جانا ہے نہ تو اگر میں یہاں ہوں تو تمہیں یہاں سے جانے کی جلدی کیوں ہے؟”آتش نے دوبارہ اُس کو گھورا
“ہماری بہن اکیلی ہوگی۔۔”اُس وجہ سے پریشان ہیں۔۔اقدس نے بتایا
“اچھا سہی اور زرا باہر آورگردی کم کرو چھوٹی بچی نہیں ہو کہ کوئی بھی کہی سے بھی تمہیں اُٹھاکر چلاجاتا ہے۔۔”اگر باہر جانا ہے تو اپنی سیفٹی کے ساتھ باہر نکلو ورنہ گھر میں اچھی ہو۔۔آتش نے مزید کہا
“جی اب پچاس آگے اور دو سؤ سے پیچھے گارڈز لیکر چلے گے۔۔اقدس کا ضبط جواب دے گیا تھا
“اب ایسا بھی نہیں کہا کہ پوری فوج کے درمیان آؤ جاؤ۔۔آتش اُس کی بات پر بولا
“پلیز ہمیں ہمارے گھر چھوڑ آئے۔۔اقدس رونے کے در پہ تھی۔۔
“اچھا روؤ نہیں لے چلتا ہوں تمہیں تمہارے گھر۔۔آتش اِتنا کہتا باہر کی طرف بڑھا تو اقدس بھی اُس کی تقلید میں چلنے لگی








“کھانا ٹھیک سے نہیں کھاتے کیا؟”میشا نے فکرمندی سے رایان کو دیکھ کر کہا وہ آج اُس سے اسکائپ پر بات کرنے میں مصروف تھی۔
“آپ کو نہیں لگتا میں موٹا ہوگیا ہوں؟”رایان اُس کی بات پر اپنی طرف اِشارہ کرکے کہا روز جم جانے کی وجہ سے اُس کا جسم کافی مضبوط ہوگیا۔۔”مسلز بھی کافی پِھولے ہوئے سے تھے۔۔”ہلکی سی بیئرڈ آنکھوں پر نظر کا چشما لگائے رایان آریان جو کسی زمانے میں نان سیریس انسان ہوتا تھا۔۔”اب وہ ایک میچیور پرسن بن گیا تھا جو کام کے علاوہ کسی اور سے مخاطب ہونا تک پسند نہیں کرتا تھا۔۔”آنکھوں میں جہاں ہر وقت شرارت بھرا تاثر ہوتا تھا اب وہاں سوائے سرد پن کے کچھ اور نہ ہوتا تھا۔۔
“موٹے کہاں سے ہو؟”خیر یہ بتاؤ باڈی شاڈی بنانے کے لیے ایکسٹرا ڈوز میڈیسن تو نہیں لیتے نہ؟”میشا مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی
“کیا آپ کو ایسا لگتا ہے؟”یقین کرے یہ میرے جم جانے کا کمال ہے۔۔”اور میری محنت بھی جو روز صبح سویر اُٹھ کر ڈور لگاتا ہوں پارک میں۔۔رایان نے بتانے کے ساتھ کافی کا سِپ لیا
“یہ بتاؤ سی ایس ایس کی تیاری کیسی چل رہی تمہاری؟”میشا نے پوچھا
“کافی اچھی جارہی ہے۔۔”رایان نے مختصر بتایا
“کزنز سے بات ہوتی؟”میشا نے پوچھا
“ہاں سکی اور ہانی سے کانٹیکٹ میں رہتا ہوں۔۔”کل سکی کا کنسرٹ تھا وہ میں نے دیکھا تھا اور کچھ دن پہلے ہانی کا لائیو شو بھی۔۔۔رایان نے بتایا
“ہاں تمہیں ہانی نے بتایا ہوگا نہ اُس کو بیسٹ بزنس مین کا آوارڈ ملا تھا۔۔”وہ اور خوشی کافی دلجمعی سے کام کرتے ہیں۔۔”میشا نے بتایا
“جی اندازہ ہے تبھی آپ کی بیٹی اِن چھ سالوں میں مجھ سے ایک بار بھی بات کرنا ضروری نہیں سمجھتی۔۔رایان نے کہا تو میشا خاموش ہوئی
“وہ تم سے ناراض ہے۔۔”میشا نے بتایا
“یہ کیسی ناراضگی ہے موم؟”جو ختم ہونے کا نام تک نہیں لیتی۔۔”میں ہر روز سوری کا مسیج کرتا ہوں پر شاید اُس نے میرا نمبر بلاک لسٹ میں ڈالا ہوا ہے۔۔۔”آپ بتائے کون کرتا ہے ایسا؟”میں بھائی ہوں اُس کا. رایان نے شکایتی لہجے میں کہا
“تمہیں اندازہ نہیں وہ بہت بدل گئ ہے۔۔”اور جب جب اُس کا رشتہ آتا تو سوا نیزے پر اُس کا غُصہ چڑھ جاتا۔۔میشا نے جواباً کہا
“مان کا بتائے وہاں کہاں روپوش ہے؟”رایان نے پوچھا
“نہیں پتا لگا کچھ۔۔”اب تو کوئی اُس کا نام تک نہیں لیتا۔۔میشا نے افسردہ لہجے میں بتایا
“موم آپ کو پتا ہے نہ مان کا وہ لاپرواہ نہیں ہے۔۔”بلکل بھی نہیں ہے۔۔”خالہ اُس کی جان ہے۔۔”خالوں سے لڑائی کیے بغیر اُس کو چین نہیں ملتا۔۔”ماہی کی ٹانگ نہ کھینچے تو اُس کا دن نہیں گُزرتا اور جب تک اقدس آپو سے ڈانٹ نہ کھالے اُس کو کھانا ہضم نہیں ہوتا تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ اِن چاروں کو چھوڑ کر اپنی الگ دُنیا بسائے گا؟”کیونکہ وہ ہر چیز ڈنکے کی چوٹ پر کرنے والا ہے وہ سنگنگ کی دُنیا میں اپنا نام کمانا چاہتا تھا۔۔”پاکستان کا روشن تارا بننا چاہتا تھا۔۔”یوں گُمنام ہونے کا تو کبھی اُس نے مذاق میں بھی نہ کہا تھا۔۔رایان اُس کی بات سن کر بولا”اُس کو تکلیف ہوئی تھی یہ سُن کر کہ اب کوئی اُس کا نام نہیں لیتا
“جگو میں جانتی ہوں۔۔”مان کو ہاتھوں سے کِھلایا ہے اُس کی ہر بات سے واقف ہوں میں۔۔”میں نے لندن میں اپنے سورسز بھی چھوڑے ہوئے ہیں۔۔۔میشا نے اُس کی بات سن کر جواباً کہا
“بس اللہ کرے وہ واپس آجائے خیریت سے۔۔رایان نے دعائیہ انداز میں کہا
“آمین۔۔۔میشا جواباً بولی









” نقاب کیوں کرنے لگی ہو تم؟”خوریہ حوریہ کے کمرے میں داخل ہوئی تو اُس کو نقاب کرتا دیکھ کر اُلجھ کر پوچھنے لگی۔۔۔
“(رافیہ بیگم اپنے تینوں بچوں کو لیکر کراچی شفٹ ہوگئ تھیں۔۔”جہاں آکر اُنہوں نے ایک کرائے کا گھر لیا تھا۔۔”ساتھ میں اُنہوں نے ایک دفتر میں نوکری بھی کرلی تھی جہاں سلائی کڑائی کا کام کرنا پڑتا تھا۔۔”اِس سے اُن کا گُزر بسر اچھا ہونے لگا تھا۔۔”کچھ وقت ایڈجسٹ ہونے کے بعد خوریہ نے بھی وہاں نوکری کرلی تھی۔۔”حوریہ ساحر پڑھائی کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائیم میں جاب بھی کیا کرتے تھے۔۔”رات میں تھوڑا بہت جب حوریہ کو وقت ملتا تو وہ اپنے لکھنے کا بھی شوق پورا کرلیا کرتی تھی۔۔”خوریہ نے نوکری کے ساتھ پروائیوٹ اسٹڈی کرنا بھی شروع کردی تھی۔۔”کیونکہ اُس کو پتا چل گیا تھا کہ تعلیم انسان کے لیے کتنا ضرور ہوتی ہے۔۔”اُس کو اپنے کم پڑھے لکھے ہونے کا افسوس ہوتا تھا۔۔”لیکن پھر سنبھل کر جلدی اُس نے اسٹڈی کو ترجیح دی تھی۔۔”ایک سال بعد حوریہ کے لکھے میں نکھار آگیا تھا ہر ماہ ڈائجسٹ میں اُس کا کوئی نہ کوئی ناول آنے لگا تھا۔۔”ادارے والے خود اُس سے ناول لکھنے کا کہتے تھے۔۔”اُس کو فیس بھی مل جایا کرتی تھی۔۔”جس وجہ سے خوش ہوکر حوریہ نے اپنی چھوٹی موٹی جاب کو چھوڑ کر پڑھائی کے بعد ناول لکھنے کو وقت دیا تھا۔۔”اُس نے اپنا ایک نام بنالیا تھا لوگ اُس کو جاننے لگے تھے۔۔”ایک نے اُس کو ڈرامے کی آفر کی تھی حوریہ نے جوش میں آکر اپنا ناول دے بھی دیا تھا لیکن جب وہ چینل پر آیا تو رائٹر نام کسی اور کا ایکسپوز ہوا تھا اُس کو دھوکہ ایسا ملا کہ پھر اُس نے توبہ کرلی تھی یوں منہ اُٹھائے کسی کو بھی اپنی کہانی نہیں دے گی۔۔”کیونکہ چینل والوں سے بات کرنے کے بعد بھی اُس کو کوئی فائدہ نہ ہوا تھا۔۔”چینل والوں کو بس ریٹنگ سے فرق پڑتا تھا جو اُن کو مل رہی تھی۔۔”رائٹر نام چاہے کسی کا بھی ہو اِس سے اُن لوگوں کو فرق نہ پڑتا تھا۔۔”حوریہ ڈائجسٹ ادارے کو اپنا ناول دینے کے ساتھ ساتھ الگ سے اپنا ناول شائع کرواتی تھی جس سے اُس کی ارننگ اچھی خاصی ہوجایا کرتی تھی۔۔”اور اب اُن لوگوں نے کرائے کا گھر چھوڑدیا تھا۔۔”حوریہ نے اپنی کمائی سے ایک چھوٹا لیکن خوبصورت اپارٹمنٹ لیا تھا جہاں وہ پرسکون ہوکر رہتے تھے۔۔۔
“ضروری کام سے جارہی ہوں۔۔”ایک ویب والوں کو ناول دیا تھا نہ اُنہوں نے آنے کا کہا تھا۔۔”کچھ پوائنٹس اُن کو ڈسکس کرنا تھی۔۔حوریہ نے مصروف لہجے میں بتایا
“میں ابھی تک جان نہ پائی تم کونسا یوں نقاب کرتی ہو؟”سب خیریت ہے نہ؟”خوریہ نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا
“ہاں ایسی ویسی کوئی بات نہیں۔۔”دراصل میں نے ایک حجاب بیس ناول لکھنا شروع کیا ہے تو بس اب خود بھی حجاب کے ساتھ نقاب کروں گی۔۔”کیونکہ کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ جو چیز آپ دوسروں میں دیکھنا چاہتے ہیں وہ چیز سب سے پہلے آپ کو خود میں لانی ہوگی۔۔”اِس سے آپ کے لفظوں میں تاثیر ہوگی۔۔”حوریہ نے بتایا
“بات تو تمہاری ٹھیک ہے پر کسی کو کیا پتا کہ لکھنے والی خود حجاب کرتی ہے یا نہیں؟”بیڈ پر بیٹھتی خوریہ شانے اُچکاکر بولی
“اللہ کو تو پتا ہے نہ اور میں نہیں چاہتی کہ کبھی ایسا دن آئے جس وقت میرے قارئین میرے سامنے ہو۔۔”اور مجھے ویسا نہ پائے جیسا میرے لفظوں کو پڑھ کر اُنہوں نے تصور کیا تھا۔۔”میں چاہتی ہوں مجھے بڑھ کر دیکھے وہ۔۔۔”حوریہ نے گہری سانس بھر کر اُس کو بتایا
“تمہاری باتیں کافی عجیب ہوتی ہیں حور۔۔”خوریہ بس یہی بول پائی
“میں ایک رائٹر ہوں۔۔”میرے الفاظ عجیب نہ ہوگے تو کیا ہوگے خیر وِش می آل دا بیسٹ۔۔۔حوریہ نے سرجھٹک کر کہا تبھی اُس کے سیل فون میں کال آنے لگی تو وہ اُس کی طرف متوجہ ہوئی
“السلام علیکم ۔۔۔حوریہ نے سلام کرنے میں پہل کی
وعلیکم السلام آپ مس حوریہ بات کررہی ہیں؟”دوسری طرف سے پوچھا گیا
“جی آپ کون؟”حوریہ نے بتانے کے بعد پوچھا
“میں ایک چینل کا آنر ہوں۔۔”ہم نے آپ کی اسٹوریز پڑھی ہیں۔۔”اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ ایک اسٹوری ہمارے چینل کے لیے لکھے۔۔۔دوسری طرف سے بتایا گیا تو حوریہ نے شاک کی کیفیت میں خوریہ کو دیکھا جو اپنے ناخن دیکھنے میں مصروف تھی
“مجھے خوشی ہوئی لیکن سوری میں کسی چینل والوں پر ٹرسٹ نہیں کرسکتی۔۔”دو سال قبل میرا ناول چوری ہوگیا تھا۔۔”وہ ڈرامے کی شکل میں ٹی وی چینل پر آیا بہت مشہور بھی ہوا لیکن افسوس مجھے خوشی ہونے بجائے احساس کمتری ہوئی کیونکہ رائٹر کا کریڈٹ کسی اور کو ملا۔۔”پزیرائی کسی اور کی ہوئی۔۔”حوریہ نے جواباً کہا تو خوریہ چونک کر اُس کو دیکھنے لگی
“جی ہمیں پتا چلا تھا لیکن یہاں کوئی ایسا مسئلہ آپ کو پیش نہیں ہوگا۔۔”ایک ایگریمنٹ ہوگا ہمارے درمیان اور ہمیں ویسی کہانی چاییے بلاک باسٹر پھر پیمنٹ جو آپ کا حق ہے وہ پانچ لاکھ ہوگی۔۔”اُس کا چیک آپ کو تب ملے گا جب ہمیں آپ پانچ اقساط دے گی۔۔”اُس شخص نے بتایا تو حوریہ کو اپنے کانوں میں پر یقین نہ آیا
“پانچ لاکھ؟”حوریہ کو لگا شاید اُس کو سُننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے ورنہ ایک کہانی کی اِتنی قیمتی کوئی اُس کو دے کیسے سکتا ہے
“جی اِس سے زیادہ بھی ہوگی اگر ریٹنگ اچھی آئی تو ہم آپ سے ڈرامے لکھواتے آئے گے۔۔”اُس کے بعد آپ ناول رائٹر نہیں بلکہ اسکرپٹ رائٹر بن جائے گی۔۔”دوسری طرف سے جواب آیا
“کیا میں کچھ دن بعد آپ کو جواب دے سکتی ہو؟”بار بار اِشارے سے بات پوچھتی حوریہ نے خوریہ کو خاموش رہنے کا اِشارہ کرکے کال پر کہا
“جی لیکن ہمیں جواب جلدی چاہیے۔۔”اور اسٹوری ہمیں اسٹرونگ چاہیے۔۔”جس کا بیس یہ ہو کہ ڈرامہ دیکھنے والے کو موٹیویشن ملے اُس میں بس ہیرو ہیروئن کا رومانس نہ ہو۔”اُن دونوں کے علاوہ بھی ایک کہانی ہو۔۔”اُس نے کہا تو حوریہ نے اپنے لب کُچلے
“جی ویسی کہانی ہوگی موٹیویشنل۔۔۔حوریہ نے جواباً کہا اور ایک دو بات مزید کرنے کے بعد اُس نے کال کاٹ دی
“کیا ہوا؟”کون تھا؟”تم کافی خوش لگ رہی ہو۔”خوریہ نے ایک ساتھ بہت سارے سوالات اُس سے کر ڈالے
“بتاتی ہوں پر یار یہ لوگ کافی ڈبل اسٹینڈرڈ کے ہیں۔۔”اب دیکھو نہ جب میں موٹیویشنل ناول لکھتی تھی تو اِن ویب سائٹ اور اداروں نے کہا کہ کہانی لڑکا لڑکی کے گرد گھومنے والی ہونی چاہیے۔۔”جس کو پڑھ کر لوگ خود کو فنٹاسی دُنیا میں تصور کرے۔۔”کوئی موٹیوشنل باتیں جاننا چاہے گا تو مدرسہ جائے گا۔۔”ناول نہیں پڑھے گا۔۔”اور اب جب اپنا رائٹنگ اسٹائیل میں نے ویسے بنایا تو کہا جارہا کہ بس رومانس نہ ہو کہانی میں کچھ اور چیزیں بھی ہو۔۔۔”حوریہ نے عجیب چہرے کے تاثرات بناکر کہا
“تم تھوڑی تھوڑی باتوں پر اپسیٹ مت ہوجایا کرو۔۔”بات اب کیا ہوئی یے وہ بتاؤ۔۔”خوریہ نے اُس کا موڈ سہی کرنے کی خاطر کہا
“مجھے ڈیٹیل ساری مل گئ ہے اور پاکستان کے بڑے ڈرامہ چینل والوں نے مجھے آفر کی ہے کہ میں ایک کہانی اُن کے چینل کو دوں۔۔”اور پتا ہے اِس بار چینل والوں نے خود رابطہ کیا ہے۔۔”حوریہ نے پرجوش لہجے میں اُس کو سب کچھ بتایا
“نا کرو۔۔خوریہ کو یقین نہ آیا
“قسم سے یار۔۔حوریہ نے جھٹ سے کہا
“اگر ایسی بات ہے تو پھر منع کیوں کیا تھا؟”خوریہ کو اچانک خیال آیا تو پوچھا
“پہلے جو دھوکہ ہوا۔۔”دوبارہ اب یقین کرنے میں مسئلہ آرہا تھا۔۔”خیر چھوڑو اِن باتوں کو اور یہ سُنو کہ مجھے پانچ لاکھ ملے گے ایک ڈرامے کا۔۔حوریہ نے خوش ہوکر بتایا
“بڑی رائٹرز کو اِس سے زیادہ پیسا ملتا ہے اور تمہیں ہے۔۔”اگر ریٹنگ اچھی آئی تو یہ چینل والے زیادہ کماتے ہیں۔۔”خوریہ نے اُس کی بات سن کر کہا
“پر اگر میرا وہاں کام بن گیا تو تمہیں اور اماں کو نوکری کرنی نہیں پڑے گی۔۔”اور ساحر بھی اپنی زندگی کو انجوائے کرسکے گا۔۔”حوریہ نے حسرت بھرے لہجے میں کہا
“اللہ نے دروازے کھول دیئے ہیں۔۔”اب جاکر اماں کو بتا آؤ۔۔۔خوریہ اُس کی بات پر مسکراکر بولی
“ہاں میں جاتی ہوں اور میں تو بھول گئ تھی کہ مجھے باہر جانا تھا کام سے۔۔”حوریہ کو اچانک خیال آیا تو اپنے سر پہ ہاتھ مارتی وہ باہر کی طرف بھاگی تھی۔۔”پیچھے اُس کی حرکت پر خوریہ اپنا سر نفی میں ہلاتی رہ گئ۔۔
