Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 23)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

مان

مان

سرجھٹک کر اسیر المان کی طرف بڑھا تھا۔۔۔”اور اُس کے گال تھپتھپاکر ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا”لیکن کچھ بھی کارآمد ثابت نہ ہوا۔۔”کچھ سوچ کر اسیر نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا پانی کا جگ اُٹھایا اور اُس پانی کے چِھینٹے اُس کے چہرے پھینکنے لگا تو آہستہ آہستہ وہ اپنی آنکھیں کھولنے لگا

“یہ کیا لڑکیوں جیسی حرکت تھی مان۔۔۔اُس کو ہوش میں آتا دیکھ کر اسیر نے سخت لہجے میں المان سے کہا

“لڑکیوں جیسی حرکتیں؟”سیریسلی بابا جان۔۔”یعنی آپ نے یہ بات کرتے ہوئے زرا بھی نہیں سوچا کہ ہمارا دل بند بھی ہوسکتا تھا۔۔المان گہرے گہرے سانس بھرتا اُس سے بولا

“بکواس مت کرو۔۔اسیر نے اُس کو ٹوکا

“پھر آپ کہے جو کچھ آپ نے ابھی کہا وہ جھوٹ ہے۔۔المان آس بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا اُس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اُس کا اِتنا بھیانک خواب حقیقت کا روپ دھاڑنے والا تھا

“مان ہماری بات آپ غور سے سُنو۔۔۔عیشا بہت اچھی لڑکی ہے اور آپ کے لیے اُس کے علاوہ کوئی اور پرفیکٹ میچ نہیں ہوسکتا۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا

“پرفیکٹ میچ؟”وہ بھی ہمارا اُس عیشو کے ساتھ؟”آپ کو کیا پتا نہیں کہ ہماری آپس میں کبھی بھی نہیں بنتی اور ایک آپ ہیں جو ساری عمر کے لیے ایک اِن چاہے رشتے میں باندھ رہے ہیں۔۔”اگر ایسی ہی بات تھی تو آپ ہم پہلے بتادیتے۔۔”ہم باہر جانے کے خُواب کبھی نہ دیکھتے۔۔”ہمیں پتا ہے اُس عیشو کا نام آپ نے جان کر لیا ہے کیونکہ آپ کو اچھے سے پتا تھا کہ اُس سے شادی کے لیے ہم قطعاً راضی نہیں ہوگے۔۔۔المان کے لہجے میں ناگواری تھی پر اسیر نے اُس کی بات کا بُرا نہ منایا کیونکہ وہ جانتا تھا اِس وقت اُس کا یہ ردعمل فطری تھا

“سیم ایج کے ہو دونوں۔۔۔”دوسری بات ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے ہو۔۔۔اسیر نے ایک اور کوشش کی

“نہیں بابا جان ہم کبھی اُس سے شادی نہیں کرینگے۔۔”ہمیں وہ بلکل بھی پسند نہیں پھر شادی یا نکاح کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔المان نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا

“سوچ لو مان۔۔۔”عیشا سے نکاح کروگے تو ہی ہم باہر جانے کی اِجازت دینگے لیکن اگر تم ہماری اجازت کے بغیر جانا چاہتے ہو تو یہ چیزیں ہم تمہارے حوالے کرتے ہیں۔۔”اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔”ہمیں ناراض کرکے جانا چاہتے ہو یا اپنے والدین کی دعاؤں سمیت رُخصت ہونا چاہتے ہو۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہہ کر سارے اختیارات اُس کو سونپ دیئے تھے۔۔”جس پر وہ کشمکش میں مبتلا ہوگیا تھا۔۔”کیونکہ جو کچھ اسیر اُس کو بول رہا تھا وہ دونوں کام اُس کے بس میں نہ تھے۔۔”نا تو وہ اسیر اور فاحا کو ناراض کرکے جانا چاہتا تھا اور نہ اپنی زندگی میں عیشا کو شامل کرنا چاہتا تھا۔۔”جس سے اُس کی کبھی نہیں بنی تو آگے جاکر کیا ہی بنے گی۔۔

“بابا جان پلیز ہمیں اِس پریشانی میں مت ڈالیں۔۔”نہ تو ہمیں آپ کی ناراضگی گوارہ ہے اور نہ عیشو سے نکاح کرنا ہمارے اختیار میں ہے۔۔”نکاح کرنا ایک بہت بڑی زمیداری ہے جو ایک ناپسندیدہ شخص کے ساتھ اُٹھانا ایک ناممکن سی بات ہے۔۔المان نے کہا تو اسیر نے لب بھینچ کر اُس کو دیکھا

“والدین اپنی اولاد کے لیے بہترین فیصلہ لیتے ہیں یہ بات دماغ میں بیٹھا لو اور ہاں بول دو۔۔”ویسے بھی ابھی تم امیچیور ہو۔۔”اور عیشو بھی آگے جاکر تم دونوں آج کی طرح ٹوم اینڈ جیری طرح لڑنا نہیں ہے۔۔”تم باہر جارہے ہو نہ فرصت سے اُس کے بارے میں سوچنا۔۔”وہ آریان دُرانی اور میشا کی بیٹی ہے۔۔۔”اُن دونوں کی جن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سنجیدہ ہونا اُن دونوں نے جیسے سِکھا ہی نہیں ہے پر اُن دونوں نے اپنے حصے کی زمیداریوں کو اُٹھایا ہے اور بخوبی سے نبھایا بھی ہے۔۔”عیشا بھی اپنی ماں کا عکس ہے ظاہری طور پر لابالی ہے لیکن ہے نہیں۔۔۔اسیر نے کہا تو المان خاموش ہوگیا تھا پر مطمئن نہیں ہوا

“عیشو کیوں؟المان نے بے بسی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا

“تمہارا اُس کے لیے بار بار انکار اب ہمیں غُصہ دِلا رہا ہے۔۔”وہ کوئی سڑک چھاپ نہیں ہے نہ کسی سے کم جو تم یا کوئی اور اُس کے لیے انکار کرے۔۔۔”تم اُس سے نکاح نہ بھی کرو تو اُس کی ذات میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔”کیونکہ ایک کے بعد ایک اچھے رشتے اُس کے لیے موجود ہیں۔۔۔”لیکن ہم نے تمہارے بھلائی کے لیے تمہارے لیے اُس کو سوچا ہے۔۔۔اسیر نے اِس بار کچھ سخت لہجے میں کہا

“ہم آج آپ کی باتوں کو مان کر اُس کو اپنے نکاح میں لے بھی تو کیا گارنٹی ہے کہ ہم ہمیشہ آپس میں خوش وخرم زندگی گُزارے گے جبکہ ہم دونوں آپس کی نہیں بنتی۔۔المان نے ایک اور کوشش کی

“تم بس اپنا جواب دو۔۔”باقی وقت بتادے گا۔۔”اسیر نے کہا تو لب بھینچ کر المان نے اپنا سراثبات میں ہلایا تھا

“ٹھیک ہے ہم تیار ہیں۔۔”لیکن بعد میں ہم سے آپ شکوہ نہ کرنا۔۔”بیڈ سے اُٹھ کر المان اپنے کپڑے جہاڑ کر بولا

“کپڑے چینج کرلوں۔۔۔۔اسیر نے اُس کو دیکھ کر کہا جو سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھا”جس کی آستین اُس نے فولڈ کرکے کہنیوں تک چرھائی ہوئیں تھیں”المان اُس کا آئینہ تھا اُس کی تصویر جس کو دیکھ کر اُس کو لگتا تھا کہ وہ خود کو دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ ہوبہو اُس کے جیسا دِکھتا تھا

“ہم اِنہی کپڑوں میں ٹھیک ہیں۔۔المان نے اپنا سرجھٹک کر کہا

“مان موڈ سہی کرو اپنا۔۔۔اسیر نے اِس بار نرمی سے اُس کو دیکھ کر کہا

“اِس سے اب فرق نہیں پڑتا بابا جان۔۔۔المان نے کہا تو اسیر نے مزید بحث نہ کی تھی بس خاموشی سے اُٹھ کر اُس کے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔”جبکہ المان اپنے سر ہاتھوں میں گِرائے بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“ٹھیک ہے۔۔میشا کی ساری بات سُن کر عیشا نے جو جواب دیا۔۔”اُس کی توقع کوئی بھی نہیں کررہا تھا۔۔”جس پر آریان نے میشا کو دیکھا اور میشا نے فاحا کو جو خود اُس کے جواب کو جان کر حیرت زدہ ہوکر سوہان کو دیکھنے لگی۔۔”جس پر سوہان نے گہری سانس بھر کر زوریز کو دیکھا جس کی پرسوچ نظریں پرسکون بیٹھی عیشا پر تھیں

“عیشو آپ نے شاید میشا کی بات پر غور نہیں کیا۔۔۔”زوریز نے سوہان کی نظریں خود پر محسوس کی تو عیشا سے کہا

“نو بِگ ڈیڈ میں نے اُن کی بات کو سُنا اور سمجھا بھی ہے۔۔”موم نے کہا آج میرا نکاح ہے وہ بھی المان سے تو کوئی بات نہیں میں راضی ہوں۔۔عیشا کا سکون قابلِ دید تھا

“مان سے نکاح ہے تمہارا اور تمہیں کوئی فرق نہیں پڑا۔۔”مطلب ہم سب تمہارا اِتنا ٹھنڈا ری ایکشن ایکسپیٹ نہیں کررہے تھے۔۔فاحا نے بھی اُس سے کہا

“خالہ جان آپ میں سے کسی نے مجھ سے میری رائے نہیں مانگی۔۔”بس بتایا ہے کہ آج میرا نکاح ہے مان کے ساتھ۔۔”تو عین نکاح کے وقت مجھے میرے موم ڈیڈ نے بتائی ہے اِتنی بڑی بات تو ظاہر سی بات ہے۔۔”اُنہوں نے آلریڈی یہ دماغ میں سوچا ہوگا کہ میں کوئی انکار نہیں کروں گی۔۔”وہ جو کہے گے میں مان لوں گی تو میں نے مان لیا۔۔۔”کیونکہ میں جانتی ہوں۔۔”ہنسی خوشی یا زور زبردستی لیکن میرا نکاح آج کی تاریخ میں ہوکر رہے گا۔۔”تو ٹائیم ویسٹ کیوں کرنا؟۔۔عیشا شانے اُچکاکر بولی

“نہیں بیٹا مجھے تم سے اب اِتنی فرمانبرداری کی بھی اُمید نہ تھی۔۔”میشا ابھی بھی بے یقین تھی۔۔۔”تبھی بولے بغیر نہ رہ پائی کیونکہ اُس نے تو اپنی طرف سے عیشا کو راضی کرنے کے لیے آج کے دن کے دن کے لیئے سؤ دلیلیں تیار کی تھیں لیکن اُس کی بیٹی تو بغیر کسی چوں چراں کے مان گئ تھی

“ایسی بات نہیں ہے عیشو اگر تمہاری خوشی اِس میں شامل نہیں تو ابھی بتادو۔۔۔”کوئی بھی تمہیں فورس نہیں کرے گا۔۔۔سوہان اُس کے پاس بیٹھ کر یقین دلوانے والے لہجے میں بولی

“ہاں جو بھی بات ہے اُس کو تم کرو۔۔”ہم نے یہ بات تم سے چُھپائی تھی کیونکہ اسیر ایسا چاہتا تھا۔۔۔آریان نے بھی کہا

“اگر میں انکار کرتی ہوں تو اُس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مان کا نکاح نہیں ہوگا۔۔”آج کے دن کے لیے تو ملتوی ہوجائے گا۔۔”شاید پھر خالو اُس کو جانے بھی نہ دے۔۔”ایسی صورتحال میں مان بھی جو پہلے سے بھرا بیٹھا ہوا ہے وہ مزید بدگمان ہوجائے گا اور میں نہیں چاہتی کہ ہماری فیملی میں کوئی بھی بدمزگی ہو۔۔”آج نہیں تو کل میرا نکاح ہونا ہی ہے۔۔”پھر چاہے وہ مان ہو یا کوئی اور اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ میں نے شادی جیسا بڑا فیصلہ آپ لوگوں کی رضا خوشی اور پسند سے ہی لینا تھا۔ عیشا نے سادہ انداز میں کہا تو اُس کے لفظوں نے وہاں موجود ہر شخص کو جیسے لاجواب کردیا تھا۔

“ہمارا بچہ تو بہت سمجھدار نکلا۔۔۔زوریز اُس کی بات پر مسکرایا تھا

“تمہارا بہت شکریہ تمہیں پتا نہیں کہ تم نے ہماری کتنی بڑی مشکل آسان کردی ہے۔۔۔فاحا نے اُس کا ماتھا چوم کر بولی

“بِگ ڈیڈی بتاتے ہیں کہ اگر ایک ساتھ خوشی خوشی رہنا ہے۔۔”سب رشتوں کو ایک ساتھ لیکر۔۔”ساتھ جوڑنا ہے تو قربانی دینا ضروری ہوتی ہے تو آپ جان لے کہ آج میں نے اپنے حصے کی قربانی دے ڈالی۔۔”میں نہیں چاہتی کہ ہمارے درمیاں کوئی بھی خلش پیدا ہو۔۔۔عیشا نے زوریز کو دیکھ کر آخر میں فاحا کو دیکھتے ہوئے کہا تو آریان کی گردن فخر سے بلند ہوئی تھی۔۔”آج اُس کی بیٹی نے اُس کا مان رکھا تھا ایک باپ کو اور کیا چاہیے تھا پھر

“ٹھیک ہے پھر میں اقدس اور ماہا کو تمہارے پاس بھیجتی ہوں وہ تیار ہونے میں تمہاری مدد کرینگیں۔۔میشا نے اُس کو دیکھ کر کہا

“جی لیکن نکاح کا جوڑا تو آپ لوگوں نے اچھا لیا ہے نہ؟عیشا کو اپنے ڈریس کی فکر لاحق ہوئی

“ڈونٹ وری فاحا نے اپنی اکلوتی بہوو کے لیے لیٹیسٹ ڈیزائن کا لہنگا پسند کیا ہے۔۔فاحا نے اُس کو اپنے ساتھ لگائے کہا

“ہائے آپ کو یاد تھا جب میں نے کہا تھا اپنے نکاح والے دن میں لہنگا چولی پہنوں گی۔۔عیشا کی پوری بتیسی کُھل چُکی تھی

“بلکل یاد تھا۔۔فاحا نے مسکراکر کہا تو عیشا چہکی

___________________________

“بتیسی بند رکھو اپنی۔ ۔۔المان نے کھینچ کر تکیہ اُٹھا کر رایان اور سکندر کی طرف پھینکا جن کا ہنس ہنس کر بُرا حال ہوگیا تھا۔ ۔”اور اُن کو ایسے ہنستا دیکھ کر المان کو مزید تاؤ آرہا تھا۔۔۔”اور ابھی وہ انجان تھا کہ رایان نے اپنے سیل فون کا کیمرہ آن کرلیا تھا اور ایسی جگہ اپنا موبائل رکھا تھا جہاں اب جو کچھ بھی کمرے ہورہا تھا یا ہونے والا تھا اُس میں رکارڈ ہونے والا تھا۔۔”اِن پلوں کو وہ کبھی بھولنے والے تو تھے نہیں لیکن اُس کے باوجود یادگار بنانے کے لیے ویڈیو بنانے کا اُن لوگوں نے سوچا تھا تاکہ جب کبھی اُن کا دل کرے وہ دیکھ

پائے”اسپیشلی المان کا ری ایکشن جو ماسٹر پیس تھا۔۔۔

“نہیں مطلب آپس کی بات ہے تم عیشو کا نام سُن کر سیدھا بیہوش ہی ہوگئے”او مائے گوش۔۔۔سکندر نے اِتنا کہا اور ایک بار پھر سے ہنسنا شروع ہوگیا تھا

“میری بہن تو خوبصورتی میں ایشوریا رائے کو مات دے جائے۔۔”وہ کوئی ڈریکولہ تھوڑئی تھی جس سے نکاح کا سن کر تم نے اِتنا بڑا شاک لیا۔۔۔رایان نے بھی لُقمہ دیا

“ہانی تم اِن دونوں سے کہو خاموش ہوجائے ورنہ میں یہاں جانے سے پہلے اِن کا سر پھوڑ دوں گا۔ ۔المان نے ضبط سے زوہان کو کہا جو یہاں وہاں دیکھ کر خود کو لاتعلق ظاہر کررہا تھا۔ ۔”اُس کی خون چھلکانے کی حد تک سُرخ رنگت دیکھ کر” المان بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا جس کی آنکھوں میں پانی جمع ہورہا تھا۔ ۔

“ہانی تم بھی۔ ۔۔۔المان اُس کا جائزہ لیکر سمجھ گیا کہ”زوہان خود اپنی ہنسنی ضبط کرنے کے چکروں میں لال گُلال ہوئے جارہا ہے۔۔۔”اور یہ جھٹکا اُس کے لیے اور بڑا تھا کیونکہ زوہان سے اُس کو ایسی اُمید ہرگز نہ تھی

“ہانی کیا ہوگیا ہے اِدھر آ اور ہماری طرح کُھل کر ہنسو ۔۔رایان نے اپنی بانہیں پھیلا کر اُس کو دعوت دی

“مان وہ

“خبردار

خبردار ہانی جو توں نے مجھے اِس وقت کوئی بھی لیکچر دیا ہے تو میں آلریڈی ٹینس ہوں۔۔”مجھے مزید اپنی باتوں سے پریشان نہ کرنا۔ ۔۔خود کو کمپوز کرتا زوہان اُس سے کچھ کہنے لگا تھا جب المان نے اُس کی بات کو درمیاں میں کاٹ لیا۔ ۔۔

“مان یار ٹھنڈے دماغ سے میری بات تو سُن۔ ۔۔زوہان نے کہا تو جہاں المان نے سرجھٹکا تھا وہی سکندر کی نظر جگ پر پڑی تھی جس میں ٹھنڈا پانی موجود تھا

“جگو ایسا کر آئس کوپ لیکر آ۔ ۔۔سکندر نے رایان کو دیکھ کر کہا

“آئس کوپ کیوں؟ رایان نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“کیونکہ ابھی جو میں کرنے والا ہوں نہ اُس کے بعد میرے سر پر ایک گھومڑ کا نشان ہونے کا خدشہ ہے اور کیا پتا تم بھی اُس میں شراکت کرو۔ ۔۔”تو ہم دونوں کو اُس کی اشد ضرورت ہوگی۔ ۔سکندر نے کہا اور اپنے ہاتھ جگ کی طرف بڑھائے تھے اور پھر کسی کو بھی سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے بنا وہ پانی سے بھرا جگ اُس نے المان پر اُلٹ دیا

“لو جی ہوگیا اِس کا دماغ ٹھنڈا اب تُجھے جو بات کرنی ہے وہ کُھل کر کرنا۔ ۔۔اپنی کاروائی سے مطمئن ہوتا سکندر”زوہان کو مشورہ دینے لگا جس نے بے اختیار اپنا ماتھا پیٹا تھا۔ ۔”المان اُس کو خون آشام نظروں سے دیکھنے لگا تھا۔ ۔

“بُرا نہ مانو ٹھنڈا پانی ہے۔ ۔۔رایان نے اُس کے خطرناک اِرادوں کو جان کر دانتوں کی نُمائش کرتے ہوئے اُس سے کہا

“یار کیا کردیا تم نے اِس کا نکاح ہے مولوی صاحب باہر انتظار میں ہیں۔ ۔۔زوہان نے تاسف سے سکندر کو دیکھا

“انتظار کیسا اُن کو بتانا چاہیے تھا فی الوقت دولہا شدید صدمے کا شکار ہے۔۔۔سکندر باز نہ آیا تھا

“ہاں اچھا ہوا اِسی بہانے اب یہ شیروانی بھی زیب تن کرلے گا۔ ۔۔رایان نے بھی سکندر کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ ۔۔

“میں تمہیں چھوڑوں کا نہیں۔ ۔۔المان اپنے گیلے بالوں کو جھٹکا دیتا سکندر کی طرف بڑھ گیا تھا

“کچھ بھی نہیں کرنا مان۔ ۔۔”اب ہم تیرے سالے ہیں۔ ۔”تُجھ پر فرض ہے ہماری عزت کرنا۔ ۔۔رایان کسی چٹان کی طرح سکندر کے آگے کھڑا ہوتا المان سے بولا

ہاں اور ماموں نے اچھا کیا تیرا رشتہ کرکے تُجھے تیر کی طرح سیدھا عیشو ہی کرسکتی ہے۔ ۔۔”جیجا جییییی۔ ۔۔۔سکندر نے بھی آج جیسے قسم اُٹھائی تھی المان کو چھیڑنے کی” پر المان کی بس ہوگئ تھی تبھی اُن دونوں کو گردنوں سے پکڑتا اُن کے چودہ طبق روشن کرگیا

“مستی کررہے ہیں یہ دونوں چھوڑو اِن کو اور جلدی سے کپڑے چینج کر آؤ۔۔۔زوہان نے اُس کو اُن دونوں سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا

“نہیں ہم دونوں سیریس ہیں۔۔۔۔”جیجا جییییی۔۔۔رایان کی بھلی گردن المان کے قبضے میں تھی لیکن اُس کی زبان کو کوئی بھی اپنے کنٹرول میں نہیں کرسکتا تھا

“میں تم دونوں کو جیجا نہیں۔۔۔المان نے اُس کی گردن پر اپنا دباؤ بڑھایا

“میری اکلوتی بہن کے خُصم بننے جارہے ہو تو جیجا جیییی تو ہوئے نہ۔۔۔۔رایان نے گویا ایک آخری کیلی ٹھوکی تھی۔۔۔”المان پھر خود ہی بیزار ہوکر اُن کو چھوڑتا واشروم میں گُھس گیا تھا جبکہ وہ دونوں بیڈ پر ایک ساتھ گِرتے تالی مار کر ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہونے لگے

“حد کرتے ہو تم دونوں۔۔۔۔زوہان نے تاسف سے اُن دونوں کو دیکھ کر کہتے اپنا سر نفی میں ہلایا

“ہاں واقعی ایسا کون کرتا ہے۔۔۔”مطلب میں تو اِتنی دیر تک اپنی ہنسی کو کنٹرول نہ کرپاؤں۔۔۔رایان نے گہری سانس بھر کر اُس سے کہا

“اچھا اب بس کرو اور فون دِکھاؤ اپنا کہ رکارڈنگ کہاں تک پُہنچی ہوئی ہے۔۔زوہان نے بات کو بدل کر کہا تو رایان بیڈ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا

_________________________

“کیا ہوا ایسے کیوں دیکھا جارہا ہے مجھ معصوم کو۔۔۔۔؟عیشا بغور آئینے میں خود کا جائزہ لیتی اقدس اور ماہا سے بولی جو دونوں اُس کے سامنے کھڑیں کافی تعجب سے اُس کی تیاری کو دیکھے جارہی تھیں

“عیشو آپو واقعی میں آپ کو اِس نکاح سے کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔؟ماہا نے بلآخر پوچھ لیا

“اگر مسئلہ ہوتا تو کیا میں یوں سجتی سنورتی؟ہونٹوں پر لپ اسٹک لگائے عیشا نے جواباً اُن سے پوچھا تھا

“تمہیں کیا شاک نہیں لگا؟”یعنی اچانک کوئی تم سے کہتا ہے کہ آج تمہارا نکاح ہے فلاں کے ساتھ تو کیا تمہیں یہ بات عجیب نہیں لگی؟اِس بار اقدس نے اُس سے کہا

“یار آپو شاک میں جانے کے لیے نہ ابھی پوری زندگی پڑی ہے۔۔آج میرا نکاح ہے۔۔”اور نکاح ایک بار ہوتا ہے۔۔”میری زندگی کا آج سب سے بڑا دن ہے جو میں حیرانگی کی کیفیت میں غرق ہوکر ضائع نہیں کرنا چاہتی۔۔”میں آج کا دن بھرپور طریقے سے جینا چاہتی ہوں۔۔”اور آپ لوگ بھی یار کیسی کزنز ہیں میری مدد کر تو ہیں نہیں رہی۔۔”آئے اور یہ نیکلس پہننے میں میری مدد کرے۔۔۔عیشا نے کافی مصروف لہجے میں اُن سے کہا تو آگے بڑھ کر ماہا نے اُس کے ہاتھ سے وہ نیکلس لیا اور اُس کے بال سائیڈ پر کرکے نیکلس پہنانے لگی

“ہمیں پتا ہے کسی بھی لڑکی کے لیے آج کا دن بڑا ہوتا ہے لیکن اُن کا ری ایکشن ایسا نہیں ہوتا جیسے ابھی تمہارا ہے۔۔”آئے مین تمہاری شادی مان سے ہونے والی ہے۔۔”اُس مان سے جس سے تمہاری بلکل بھی نہیں بنتی۔۔۔اقدس کو جو بات پریشان کررہی تھی وہ اُس نے بول دی

“ہاں نہ یہ تو ایسے ری ایکٹ کررہی ہیں جیسے لو میریج ہورہی ہو۔۔۔ماہا بھی منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی

“شاک میں دن گُزارنے کے لیے مان ہے نہ۔۔”اُس کو منانے دے میں تو بھئ پورا فوکس اِس وقت خود پر دوں گی۔”ویسے کیا ہوجاتا خالو کو اگر مجھے ایک دو دن پرسنلی پہلے بتادیتے۔۔زیادہ نہیں تو چہرے پر فیشل وغیرہ کروالیتی اسکن دیکھے زرا میری کس قدر ڈل ہے۔۔”ہاتھوں کا بھی کچھ کردیتی۔۔”اور بال دیکھو میرے زرا اِس کو بھی توجہ کی ضرورت ہے۔۔۔عیشا چہرے کے عجیب تاثرات بنائے بولی تو اُس کا ایسا ری ایکشن دیکھ کر اقدس اور ماہا بس ایک دوسرے کا چہرہ دیکھتی رہ گئ تھیں۔۔

“ماہا کو لگ رہا ہے جیسے آپ مان بھائی سے شادی کا سن گہرے صدمے میں پہنچ گئ ہیں۔ ۔”تبھی ایسی بہکی بہکی حرکتیں کررہی ہیں۔ ۔۔ماہا بولے بغیر نہ رہ پائی

“ُپلیز یار ماہی ایسی کوئی بات نہیں رلیکس۔ ۔۔۔”خیر میں فل تیار ہوگئ ہوں۔ ۔۔”اب ایسا کرو تم کہ میری پیاری پیاری پکچرز لو۔ ۔۔”تاکہ میں اسٹیٹس لگاؤں اپنا۔۔”دیکھنا پھر کیسے میری فرینڈز جلتی ہیں کہ ابھی اُن کی منگنی بھی نہیں ہوں اور میرا نکاح ہونے جارہا ہے۔۔۔”واؤ ساؤنڈ از ویری کول نہ۔۔۔۔عیشا اپنا لہنگا سنبھال کر اُٹھ کھڑی ہوکر ہلکا سا جھوم کر بولی تو ماہا اور اقدس کو جھرجھری سی آئی

“لائے فون۔۔۔ماہا نے اپنا ہاتھ آگے کیا

“ہاں یہ لو میں گول گول گھومنے لگی ہوں پر جیسے ہی میرے چہرے کی سائیڈ اچھی آئے تم نے فورن سے پِک کلک کرنی ہے۔۔۔۔اپنے بالوں کو سہی کرتی عیشا اُس کو ہدایتیں دینے لگی۔۔۔”جبکہ اقدس اُن دونوں کو دیکھتی کمرے سے باہر جانے لگی۔۔”اُس کا اِرادہ اب المان کے پاس جانے کا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی۔۔”عیشا کی طرح وہ پرسکون تو ہرگز نہیں ہوگا۔ ۔

_________________________

“بہت پیارے لگ رہے ہو۔۔۔فاحا المان کو محبت پاش نظروں سے دیکھ کر بولی جس نے اب اسیر کی طرح کاٹن کے کالے رنگ کے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جس کی آستیں اُس نے فولڈ کرکے کہنیوں تک چڑھائی ہوئی تھی اور کندھوں پر بلیک ہی گرم شال اُوڑھی ہوئی تھی بال جبکہ اُس کے بے ترتیب سے تھے آج۔

“شکریہ۔۔۔المان نے محض اِتنا کہا

“ناراض ہو؟؟فاحا نے مسکراکر پوچھا

“کیا نہیں ہونا چاہیے؟المان نے شکوہ کناں نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا

“بلکل بھی نہیں کیونکہ فاحا نے اپنے بیٹے کے لیے چاند جیسی بیوی منتخب کی ہے۔۔۔فاحا نے نرمی سے اُس کا کان پکڑ کر اُس کا رُخ سیڑھیوں کی جانب کیا جہاں وائٹ خوبصورت لہنگے میں ملبوس عیشا بہت دھیمے قدموں کے ساتھ زینیے پار کررہی تھی۔۔”اُس کے دائیں ماہا کھڑی لہنگا سنبھال رہی تھی تو بائیں اقدس موجود تھی جبکہ اُس کے پیچھے ملازمائیں الگ سے آرہی تھیں جنہوں نے اُس کے اُپر سے لال ڈوپٹہ پکڑا ہوا تھا۔۔۔”اِس وقت سیڈھیاں اُترتی عیشا کسی شہزادی سے کم نہ لگ رہی تھی۔۔”المان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اِس وقت اُس کو دیکھ کر مبہوت رہ جاتا پر المان کے دماغ تو فی الوقت کوئی اور باتیں چل رہی تھیں۔۔۔۔

“ہاتھ اپنا تم مان کو دو۔۔۔۔وہ لوگ اسٹیج کی طرف آئے تو فاحا نے مسکراکر عیشا سے کہا تو المان نے فاحا کو دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو یہی رہ گیا تھا

“شرما کیوں رہا ہے ہاتھ آگے بڑھا۔۔۔رایان دائیں کندھے پر اُس کے بازوں حائل کرتا اور سکندر بائیں کھڑا ہوتا اُس سے بولا تو المان نے اندر شدت سے یہ خواہش جاگی کہ اُن دونوں کا جبڑا توڑ ڈالے لیکن اپنی خواہش پر فاتح پڑھتا وہ عیشا کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا جس پر اقدس نے مسکراکر عیشا کا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دیا تھا۔۔

“ویسے تم بلیک اور وہ وائٹ تم دونوں کا ایسا کومبینیشن دیکھ کر لگ رہا ہے جیسے دودہ میں مکھی۔۔۔۔سکندر نے عیشا کو وائٹ لہنگے میں اور المان کو کالے شلوار قمیض میں دیکھ کر ایک بار پھر اُس کا مزاحیہ اُڑایا تو المان سِوائے ضبط کرنے کے کچھ اور نہ کرپایا تھا ورنہ”خود کا مکھی سے میل بنانا سکندر کا اُس کو تپاگیا تھا

“کیسے ہو؟المان اسٹیج پر عیشا کو لیکر بیٹھ گیا تو اُس نے تھوڑا اُس کے پاس کِھسک کر پوچھا

“مجھ سے بات نہ کرو تم۔۔۔۔المان نے گردن موڑ کر اُس کو گھورا جس کا چہرہ گھونگٹ کی آڑ میں چُھپا ہوا تھا

“ہیں ہیں ہیں؟”ایسے کیسے بات نہ کروں تو اب تو ساری عمر تم نے مجھ ناچیز سے ہی بات کرنی ہے۔۔۔عیشا نے بڑی معصومیت سے کہا

“تم نے انکار کیوں نہیں کیا؟؟”المان مطلب کی بات پر آیا

“میرا بھی یہی سوال ہے تم سے تم نے انکار کیوں نہیں کیا؟عیشا نے جیسے باقیوں کی طرح سوچا ہوا تھا کہ المان کو تنگ کرکے رہنا ہے

“میں نے ہاں نہیں کی۔۔۔”زبردستی ہاں بلوائی گئ ہے۔۔۔المان نے سرجھٹک کر اُس سے کہا

“اوووو ریئلی؟؟؟؟؟؟

“تو کیا کچھ وقت کے لیے تمہاری زبان نکال کر خالو نے اپنی زبان تمہارے منہ میں ڈالی تھی تاکہ تم”ہاں بول پاؤ؟عیشا نے بھگو کر اُس پر طنز کیا تھا

“دیکھو عیشا میرے دماغ کا میٹر پہلے ہی گھوما ہوا ہے بہتر اِسی میں ہوگا کہ تم اپنی زبان بند رکھو۔۔۔المان نے اُس کو وارن کیا

“تمہیں نہ میرا شکرگُزار ہونا چاہیے۔۔”اگر میں آج راضی نہ ہوتی تمہاری طرح شاک میں ہونے کا ڈرامہ کرتی تو کمرے میں بیٹھے اِس وقت رو رہے ہوتے اور باہر مُلک جاکر سِنگنگ کرنے کا خواب تمہارا خواب ہی رہ جاتا ہے۔۔”اور اب اگر تم کامیاب ہوتے بھی ہو تو اُس کا سارا کریڈٹ مجھ کو جائے گا کیونکہ میرے نکاح کرنے پر ہی ایسا پاسیبل ہوا ہے۔۔۔”اِس لیے کہتے ہیں نہ ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔”تو تمہاری کامیابی کے پیچھے بھی نہ میرا ہاتھ ہوگا۔۔دا گریٹ عیشا دُرانی کا۔۔۔عیشا نے اُس کی بات پر جتانے والے لہجے میں کہا

“اور اگر میں برباد ہوجاؤں تو؟۔۔”المان نے طنز پوچھا

“تو اُس میں تمہارا اپنا ہاتھ ہے کیونکہ تم میں شکریہ بولنے کی عادت نہیں۔۔۔عیشا نے ہاتھ جہاڑ کر کہا

“کتنی پرسکون ہوں نہ تم مجھے یوں بے بس دیکھ کر۔۔۔۔المان کو اُس کا ایسا نارمل رہنا پسند نہ آیا

“تم کونسا اسٹریچر پر لیٹے آخری سانسیں اپنی گِن رہے ہو جو میں تمہیں بے بس سمجھوں؟””یا کونسا تم ہوسپٹل کے کسی ایمرجنسی وارڈ میں بیڈ پر ساکت لیٹے ہو۔۔۔عیشا نے اُس کی بات ہوا میں اُڑائی تھی لیکن المان بس اُس کو اِس بار گھورتا رہ گیا جو سیریس بلکل بھی نہ تھی بس فضول ہانکنے میں لگی ہوئی تھی۔۔

“اپنی اب کھسر پُھسر بند کرو۔۔۔۔سکندر سب گھروالوں کے ساتھ مولوی کو لیکر اسٹیچ پر آیا تو اُن دونوں کو باتیں کرتا دیکھ کر بولا

“کرنے دو نہ یار پھر چار پانچ سال بعد مُلاقات ہوگی۔۔۔رایان نے اُس کو ٹوکا تھا۔۔”جس پر المان نے کھاجانے والی نظروں سے اُن دونوں کو دیکھا جو آج جانے کس جنم کا بدلا لینے میں لگے ہوئے تھے۔۔۔

“ایسے مت دیکھو مجھے شرم آنے لگتی ہے۔۔۔سکندر شرمانے کی ناکام کوشش کرتا اُس سے بولا تو المان نے اپنی نظروں کا زاویہ بدلا

مولوی صاحب آپ نکاح پڑھانا شروع کریں۔۔۔اسیر نے مولوی صاحب کو اِشارہ کیا تو اُنہوں نے سر کو خم دے کر نکاح کے کلمات پڑھانا شروع کیے تو سب سے پہلے اُنہوں نے عیشا سے رضامندی جانی اُس کے بعد المان سے جس نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر “قبول ہے”بول دیا تھا۔۔۔”دونوں طرف سے باہمی رضامندی جان کر ہر طرف مبارک باد کا شور اُٹھا تھا۔۔۔

“اب تم عیشو کا چہرہ دیکھ سکتے ہو۔۔۔۔فاحا نے مسکراکر المان سے کہا جس کے برابر اب عیشا کو بیٹھایا گیا تھا

“مجھے ایسی خواہش نہیں۔۔۔۔”المان یہ بولنا چاہتا تھا لیکن کہا نہیں بس باری باری سب کو دیکھ کر اُس نے گہری سانس بھر کر خود کو پرسکون کیا اور جُھک کر عیشا کا گھونگٹ اُٹھایا تو سب لوگوں نے ہوٹنگ کرنا شروع کردی تھی۔۔”المان عیشا کو دیکھنے لگا جو آج معمول سے ہٹ کر بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔”وہ خوبصورت تھی بہت یہ بات اُس کے دل نے تسلیم کرلی تھی لیکن اُس کی انا کو یہ بات گوارا نہ تھی تبھی ایک نظر ڈالنے کے بعد اُس نے عیشا پر دوسری نظر ڈالنا ضروری نہیں سمجھ تھا۔۔۔”جس پر اقدس نے عیشا کی طرف آکر اُس کو اپنے ساتھ لے جانے لگی

“ہمارے یار کا آج نکاح ہوگیا اووو بلے بلے اووو شاواں شاواں۔۔۔۔۔سکندر اور المان بڑوں کے جانے کے بعد المان کے گرد بھنگڑا ڈالنے لگے

“یہ آج کیا ہوگیا ہے تم دونوں کو؟”کیوں میرا خون جلانے میں اہم کردار ادا کررہے ہو۔۔۔؟المان بس اپنے بال نوچنے کے قریب تھا

“نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہم تو خوش ہیں تیرے نکاح کا سُن کر۔۔”ہاں بس ایک حسرت بھی ہے کہ کاش میرا وی تیرے ساتھ ویاہ ہوتا پھر کتنا اچھا ہوتا۔۔۔رایان حسرت بھری آہیں بھر کر بولا تو زوہان نے اُس کو ایک کہنی ماری

“آٹھ بج گئے ہیں نو بجے تیری فلائٹ ہے۔۔۔۔سکندر نے اِس بار اپنے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھ کر سنجیدگی سے اُس کو کہا تو رایان کے چہرے پر بھی شوخی کا عنصر غائب ہوگیا تھا

“میں سب سے مل لیتا ہوں۔۔۔۔المان نے گہری سانس بھر کر اُس سے کہا تو زوہان نے ایک نظر اُس پہ ڈال کر اپنے قدم عیشا کی طرف بڑھائے جو اقدس اور ماہا کے ساتھ باتوں میں مگن تھی”المان جبکہ حویلی کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گیا تھا

“تم نے اِتنی آسانی سے ہاں کردی؟زوہان نے عیشا کو دیکھ کر کہا

“ہاں کیوں کیا نہیں کرنی چاہیے تھی؟عیشا نے اُلٹا اُس سے سوال کیا

“نہیں مجھے لگا مان کی طرح تم بھی واویلہ مچاؤں گی۔۔۔زوہان نے شانے اُچکاکر اُس سے کہا

“تو اُس کے واویلا کرنے سے کچھ حاصل ہوا؟عیشا نے کہا تو زوہان کا سر نفی میں ہلا تھا

“ایسے ہی اگر میں بھی انکار یا واویلا کرتی تو کوئی بھی میری نہ سُنتا۔۔۔عیشا نے اُس کو دیکھ کر کہا

“تم اگر انکار کرتی تو تمہاری ہر کوئی سُنتا۔۔”یہ نکاح تمہارے لیے نہیں مان کے لیے ضروری تھا اِس لیے اُس نے واویلا تو مچایا لیکن کوئی شدید ردعمل نہیں دیا کیونکہ وہ جانتا تھا نکاح کرنا اُس کے لیے کتنا ضروری ہے۔۔۔۔اِس بار اقدس نے کہا تھا

“مجھے اندازہ ہے پر میں اپنے انکار سے ڈیڈو یا موم کا بھرم ختم نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔”میری زندگی کے سارے اختیارات اُنہوں نے مجھے سونپے ہیں پر میں نے ضروری نہیں سمجھا اُن اختیارات کا غلط فائدہ اُٹھانا۔۔۔۔عیشا نے کہا تو اقدس نے جُھک کر اُس کا ماتھا چوما تھا

“تم نے ایک اچھی بیٹی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔۔۔۔اقدس نے اُس کو دیکھ کر مسکراکر کہا

“کاش ایسا کوئی ثبوت ہم سے بھی مانگا جائے۔۔رایان ترسے ہوئے انداز میں بولا تو اُس کی اچانک آمد اور بات پر عیشا کی ہنسی نکل گئ تھی

“پریشان کیوں ہوتے ہو آج نہیں تو کل تمہاری بھی نیا پار لگے گی۔۔۔سکندر نے اُس کو دلاسہ دیا جس پر رایان اپنا دل مسوس کرکے رہ گیا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *