Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 08)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

موم آپ یہاں؟عیشا نے اپنا خشک پڑتا گلا تر کیا

“ہاں میں اور تم کیا بول رہی تھی زرا پھر سے کہنا؟میشا نے اپنے پاؤ سے چپل اُتار کر ہاتھ میں لی”اب اولاد پر بھی تو ہاتھ صاف کرنے تھے

“موم میں تو کچھ بھی نہیں تھی بول رہی اور آپ پلیز یہ چپل نیچے کرے کیا ہوگیا ہے”سب لوگ یہاں موجود ہیں۔۔۔عیشا سٹپٹاکر راہِ فرار تلاش کرنے لگی”وہاں موجود ہر کوئی اپنی مسکراہٹ ضبط کرنے کے چکروں میں تھا”سوائے زوہان کے کیونکہ یہ اُس کے لیے روزانہ کا معمول تھا اور وہ یہ سنز دیکھنے کا عادی تھا”تبھی اُس کو کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا۔

“تمہاری تو میں آج چمڑی اُڈھیر دوں گی۔۔میشا نے دانت کچکچاکر اُس سے کہا

“ہائے کیوں کنکال بنانا ہے کیا۔۔عیشا ہونک بنی اُس کا چہرہ تکنے لگی

“ابھی بتاتی ہوں ماں کا مذاق اُڑاتی ہے اُس کی بُرائی کرتی ہے۔۔میشا نے کہنے کے ساتھ ہی چپل اُس کی طرف پھینکی تھی جس پر عیشا جلدی سے صوفے کے نیچے ہوئی

“موم بہت بیڈ شوٹ تھا۔۔رایان نے افسوس کا اِظہار کیا

“یہاں میری جان کے لالے پڑے ہیں اور تمہیں کمینٹری سوجھی ہے۔۔عیشا نے تپ کر میشا کی وہ چپل رایان کی طرف پھینکی جو رایان کے جلدی سے اُٹھنے کی وجہ سے المان کو لگی تھی

“تم جاہل لڑکی۔۔۔المان جلدی سے اُٹھتا اپنی قمیض جھاڑنے لگا وہ اِس وقت بوسکی کلر کے شلوار قمیض میں تھا”بال اُس کے لاپرواہ انداز میں ماتھے پر گِرے پڑے تھے”سرمئ آنکھوں میں ناگواریت کے تاثرات نمایاں ہوئے تھے”جس کا فرق عیشا کو رتی برابر بھی نہ پڑتا لیکن ستم یہ تھا اب میشا کڑے تیوروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔

“مان کوئی بات نہیں غلطی سے لگی ہے آپ کو۔۔اقدس نے غُصے میں اُس کو دیکھا تو نرمی سے کہا

“یہ جان بوجھ کر کرتی ہے۔۔المان اُونچی آواز میں دھاڑا تھا

“او ہیلو آواز آہستہ رکھو اپنی یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے۔۔۔عیشا نے طنز لہجے میں اُس سے کہا

“عیشو ایک تو غلطی کرتی ہے اُپر سے بدتمیزی بھی سوری بولو مان سے۔۔۔میشا نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا

“سوری وہ بھی میں اِس المان کو نو نیور ایور۔۔۔عیشا نے استہزائیہ نظروں سے المان کو دیکھ کر کہا

“سوری کرنے سے کوئی چھوٹا نہیں ہوجاتا۔۔۔ماہا المان کی قمیض پر ہاتھ مار کر اپنی طرف سے اُس کو صاف کرنے کی کوشش کرتی ہوئی بولی جو آلریڈی صاف تھی

“سُنو چٹکی میری اگر کوئی غلطی ہوتی تو میں معافی بھی مانگتی پر میری کوئی غلطی نہیں تو سوری کیسا؟ عیشا ماہا کو گھور کر بولی تو اُس نے منہ بسورا

“رلیکس گائیز بات اِتنی بڑی نہیں جو تم سب نے اِتنا ایشو بنایا ہوا ہے۔ ۔سکندر نے سنجیدگی سے کہا

“عیشو تم بہت بدتمیز ہوگئ ہو آنے دو آریان کو اُس کو بتاتی ہوں تمہارے کرتوت۔ ۔میشا اُس کو گھور کر کہتی ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئ” پیچھے عیشا ہونک بنی اُس کی پشت کو تکنے لگی تھی۔

“تم میرے منہ مت لگنا دوبارہ۔۔المان عیشا کو دیکھ کر بے لچک انداز میں کہتا خود بھی ڈرائینگ روم سے نکلنے لگا تو اُس کی دیکھا دیکھی میں ماہا نے اپنا سیل فون صوفے سے اُٹھایا اور المان کے پیچھے جانے لگی۔

“مان بہت وقت بعد آیا تھا اور تم نے اُس کو خفا کردیا۔ ۔۔رایان کو افسوس ہوا

“میں نے اُس کو خفا نہیں کیا اُس کو ہی عادت ہے بات کا بتنگر بنانے کی اب سکی اور ہانی تم دونوں بتاؤ اگر بائے مسٹیک وہ چپل تم دونوں میں سے کسی کو لگتی تو کیا ایسے ری ایکٹ کرتے جیسے مان نے کیا؟ عیشا رایان کو جواب دیتی آخر میں زوہان اور سکندر سے مُخاطب ہوئی

“تم ہمیں ایک ترازو میں مت تولو میں رایان اور سکی تمہاری ہر بات کو برداشت کرسکتے ہیں” لیکن مان نہیں کرسکتا کیونکہ وہ الگ نیچر کا مالک ہے اُس کو ایسی چیزیں پسند نہیں تو بہتر نہیں تم وہ کام اُس کے سامنے نہ کرو” مانا وہ ہمارا کزن ہے پر تمہیں چاہیے کہ ہر ایک کو اُس کی عادت موجب ٹریٹ کرو ایسے اُس کو کسی چیز کا بُرا بھی نہیں لگے گا اور جب بُرا نہیں لگے گا تو کوئی لڑائی وغیرہ بھی نہیں ہوگی۔ ۔جواب میں زوہان نے سنجیدگی سے کہا

“ہانی سہی بول رہا ہے ہمارے بھائی کو ایسی حرکتیں پسند نہیں ہوتی اور تم ہمیشہ اُس سے اُونچی آواز میں بات کرتی ہو اور یہ باتیں کسی بھی مرد کو ناگوار لگ سکتی ہے” چاہے پھر وہ ہمارا کوئی کزن ہی کیوں نہ ہو۔ ۔اقدس نے بھی سنجیدگی سے کہا تھا

“سوری ٹو سے آپو اقدس لیکن آپ کے بھائی کی سوچ وہی ٹپیکل گاؤں کے پینڈوں لوگوں جیسی ہے” جبھی وہ ایسا ری ایکٹ کرتا ہے” بندے میں کوئی صبر نام کی بھی چیز ہوتی ہے۔ ۔۔عیشا اپنی غلطی مانے بنا بولی

“شاید۔ ۔اقدس محض اِتنا کہتی اپنی چادر اُٹھائے ڈرائینگ روم سے باہر نکل گئ

“جس سے جس طریقے سے بات کرنی ہے کرلوں لیکن میں تمہارا ایسا لہجہ اقدس آپو کے لیے برداشت نہیں کروں گا۔ ۔زوہان نے جاتی ہوئی اقدس کے چہرے پر اُداسی بھانپ لی تھی تبھی عیشا کو وارن کرتا وہ اقدس کے پیچھے گیا تھا”

“حد ہے یعنی ہر کوئی مجھے ایسے سُناکر گیا ہے جیسے میں کوئی فالتو پرسن ہوں” ایک چپل تھی جو میں رایان کو مارنا چاہتی تھی پر غلطی سے اگر اُس مان کو لگ گئ تو کیا قیامت ٹوٹ پڑی میں نے کوئی گولا باری تو نہیں تھی کی۔ ۔عیشا خاصی حیرانگی سے بولی تھی اُس کو زوہان سے ایسے بات کرنے کی توقع نہ تھی کیونکہ وہ ہمیشہ اُس سے اچھے سے بات کرتا تھا اور آج اُس کا ایسا انداز دیکھ کر اُس کو یقین نہیں ہورہا تھا۔

“چِل کرو نہ کیا بڑی بات ہے ہانی کا تو پتا ہے تمہیں سڑا ہوا بینگن ہے اور اقدس آپو سے اُس کا لگاؤ کچھ زیادہ ہے اِس لیے ایسے بات کی ابھی دیکھنا آئے گا اور تم سے سوری بولے گا۔۔۔رایان اُس کے ساتھ بیٹھتا اُس کو پرسکون کرنے لگا

“میں کیا کروں گی اُس کے سوری کا؟”یعنی یہ اچھا طریقہ ہے پہلے اپنے دل کی بھڑاس نکالو پھر آکر مسکین شکل بنا کر سوری بول دو۔۔عیشا نے اپنا سرجھٹکا

“وہ سوری نہیں بولے گا تمہیں تب تک جب تک تم اقدس آپو سے سوری نہیں کرو گی۔۔سکندر جو خاموش تھا وہ بولا

“اب آپو پر میں نے کونسا پہاڑ گِرایا ہے۔۔عیشا نے اُس کو گھورا

“تمہارا اُن سے ایسے بات کرنا ہانی کے لیے کسی پہاڑ گِرانے سے کم نہیں۔۔رایان نے اُس کے سر پہ چپت لگائے کہا

“جانے کیسا لگاؤ ہے جو میری سمجھ سے تو بلکل بلآتر ہے۔۔عیشا منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی تھی

💮
💮
💮
💮
💮

“یہ منظر اسلام آباد کے چھوٹے محلے کا تھا جہاں کے ایک گھر میں فیملی لوگ کھانے کے دسترخوان پر موجود تھے۔ ۔”اور ابھی رافیہ بیگم اپنے شوہر کو کھانا سرو کرنے لگی تھی”جب ایک آواز نے اُن سب کا دھیان اپنی طرف کھینچا

السلام علیکم اماں السلام علیکم ابا اور چھوٹو

وعلیکم السلام کہاں سے آرہی ہو؟عباس صاحب نے سنجیدہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر سوال کیا

“ابا وہ۔ ۔سترہ اٹھارہ سالہ حوریہ نے مدد طلب نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا جس نے سِرے سے اُس کو نظرانداز کیا تھا۔

“ناولز کی دُنیا میں گئ ہوگی۔ ۔اُس کا چھوٹا پندرہ سالہ بھائی نے بیحد آہستہ آواز میں بڑبڑایا تو حوریہ نے اُس کو بڑبڑاتا دیکھا تو گھورنے لگی۔

“تم سے سوال کررہا ہوں بہری ہو کیا؟عباس صاحب نے غُصیلے انداز میں سوال کیا تو حوریہ کا دل اُچھل کر حلق میں آیا تھا اُس نے سہمی نظروں سے اپنے باپ کو دیکھا جو کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا

“کیا ہوگیا ہے کچن کا سامان ختم ہوگیا تھا میں نے بازار بھیجا تھا آپ تو بس بچی کی جان نکال دیتے ہو۔ ۔رافیہ بیگم نے افسوس بھری نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھ کر جواب دیا جن کا انداز اپنی بیٹیوں سے بات کرتے ہوئے کافی ہتک آمیز ہوتا تھا۔ “اُن دونوں کی چار بیٹیاں اور ایک چھوٹا بیٹا تھا جس کی عمر پندرہ سال تھی اور نام اُس کا ساحر تھا” اِس آگے چلتے ہوئے زمانے میں بھی عباس صاحب کی سوچ کافی چھوٹی تھی”اُن کا شُمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا تھا جو اپنی بیٹیوں کو کم زات سمجھا کرتے تھے” اور اپنی دو یٹیوں کی شادی اُنہوں نے اُن کی کم عمری میں کروادی تھی جب وہ محض پندرہ سوالہ سال کی تھیں” حوریہ اور خوریہ پر بھی اُنہوں نے ایسی عجلت کا مُظاہرہ کیا تھا”لیکن جیسے تیسے کرکے بات بس منگنی تک ہوئی تھی” خوریہ تو حوریہ سے دو سال بڑی تھی” اور اُس نے پانچویں کے بعد پڑھنا چھوڑ دیا تھا بس گھر میں سلائی وغیرہ کا کام کیا کرتی تھی البتہ حوریہ کا پڑھائی میں شوق زیادہ تھا وہ پڑھنا چاہتی تھی اور اپنی زندگی میں کچھ کرنا چاہتی تھی” لیکن عباس صاحب جس مزاج کے مالک تھے ایسے میں اُس کی خواہشات کا پورا ہونا ناممکن سی بات تھی” پر اُس نے بھی ہزار جتن کرکے اپنے باپ کو راضی کرلیا تھا” اور یہ تب ممکن ہوا تھا جب اُس کو اسکالر شپ ملی تھی” اگر وہ نہ ملتی تو حوریہ کبھی کالج میں جاکر نہ پڑھ پاتی کیونکہ عباس صاحب کے گھر کے حالات ایسے نہ تھے جو وہ کالج اور یونیورسٹیوں کا اِتنا خرچہ اُٹھاتے وہ بھی اپنی بیٹی کا “لیکن یہ حوریہ کی خوشقسمتی تھی جو قسمت نے اُس کو ایسا موقع فراہم کیا تھا۔

“سامان کہاں ہے تمہارا جو لینے گئ تھی؟رافیہ بیگم کی بات پر عباس صاحب نے جانچتی نظروں سے حوریہ کو دیکھا جو کالی چادر میں خود کو چُھپائے ہوئی تھی۔

“ابا سامان تو میں

“کچن میں رکھ آئی ہے کچن کا سامان تھا”اب آپ کھانا کھائے ٹھنڈا ہورہا ہے۔ ۔”حوریہ سے کوئی بہانا نہیں مل رہا تھا” اور رافیہ بیگم اپنی بیٹی کے مزاج سے واقف تھی تبھی اِس بار بھی اُس کی حمایت میں بولی

“اُس کے منہ میں مونگ پھلی کے دانے ہیں جو اُس کے بجائے تم جوابات پیش کررہی ہو؟ عباس صاحب طنز نظروں سے اپنی بیگم کو دیکھ کھانا کھانے میں مصروف ہوئے تو موقعِ غنیمت جانتی حوریہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔ “جہاں خوریہ الماری سے سارے کپڑوں کو باہر نکالے ہوئے تھی۔

“آگئ تم کام بنا تمہارا؟خوریہ نے حوریہ کو کمرے میں داخل ہوتا دیکھا تو سوال کیا

“ایک منٹ سانس تو لینے دو۔ ۔۔حوریہ چادر کو بیڈ پر رکھتی سائیڈ ٹیبل پر پانی کا جگ اُٹھائے گلاس میں پانی انڈیلا اور گھٹا گھٹ پینے لگی

“کیا ہوا اِتنی ٹینشن میں کیوں ہو؟ خوریہ چل کر اُس کے پاس بیٹھی

“میں آج ہرٹ ہوئی ہوں۔ ۔حوریہ نے اپنی آنکھوں کو بند کرکے کھول کر جواب دیا

“لیکن کیوں کیا ہوا؟خوریہ پریشان ہوئی

“میں گھر آئی تو ابا بہت شکی نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے” جیسے اُن کو ڈر ہو کہ میں کچھ ایسا ویسا کردوں گی” چلے مان لیا اُن کو ہم پر بھروسہ نہیں پر اپنی پرورش پر تو اعتبار ہونا چاہیے نہ۔ ۔۔حوریہ نے مایوسی سے بتایا

“ابا کا تو تمہیں پتا ہے اور تمہیں اب اُن کی نظروں اور لہجہ خاص طور پر اُن کی باتوں کی عادت ڈال لینی چاہیے” پھر کبھی ہرٹ نہیں ہوگی۔ ۔خوریہ اُس کو تسلی دیتی ہوئی بولی

“ابا ہے وہ میرے کیسے اُن کی باتیں دل پر نہ لوں” نا چاہتے ہوئے بھی اُن کی باتوں کو سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہوں اور تم نے آج کی اخبار دیکھی؟حوریہ نے اُس کو دیکھ کر سوال کیا

“نہیں میں کہاں پڑھتی ہوں یہ اخباریں۔ ۔خوریہ نے شانے اُچکاکر بتایا

“ایشال لغاری کی بڑی تصویر آئی تھی شاید اُس کی اٹھاروہویں سالگرہ تھی کل اور اُس کی سالگرہ کے دن بڑے پیمانے پر لوگ آئے تھے اور تمہیں پتا ہے اُس کے باپ نے پورا فائیو اسٹار بُک کروایا تھا صرف اور صرف ایک دن کی سالگرہ کا اُنہوں نے اِتنا زیادہ احتتام کیا تھا تو سوچو جب اُس کی شادی ہوگی تو اُس کا باپ کیا کرے گا؟حوریہ نے بنا رُکے اُس کو بتایا” اُس کے لہجے میں کہی رشک تھا تو کہی حسرت جس کو محسوس کرتی خوریہ بے ساختہ مسکرائی تھی۔

“حور تم نے بات کا حوالہ بھی دیا تو کس کا اُس ایشال لغاری کا جس کی تصویر آئے دن اخبار کی زینت بنی ہوتی ہے اور وہ کوئی ہماری طرح عام لڑکی نہیں وہ پاکستان کے نامور شخصیت کی اکلوتی بیٹی ہے تو ظاہر سی بات ہے اُس کی سالگرہ اِتنی شان وشوکت سے تو ہوگی نہ۔ ۔۔خوریہ نے جیسے اُس کی عقل پر ماتم کیا تھا

“بات یہ نہیں ہے خوریہ بات اہمیت اور پیار محبت توجہ کی ہے جو اُس کا باپ اُس کو دیتا ہے یہاں ہمارے ابا کو دیکھو چلو اخبار میں اسکینڈل آنا تو بہت دور کی بات ہے ابھی کوئی ابا سے یہ بولے نہ کہ آپ کی بیٹی کو فلاں مرد کے ساتھ دیکھا ہے تو یقین کرو ابا مجھ سے ساری بات جانے بنا مجھے شوٹ کردے۔ ۔۔حوریہ کے لہجے میں نمی گُھلنی لگی تھی یہ سب برداشت کرنا اُس کے لیے ازحد مشکل تھا

“حور بہادر بنو تمہیں ایسی باتیں زیب نہیں دیتی اور اُٹھو ہاتھ منہ دھو کر آؤ پھر بتاؤ تمہارے کام کا کیا بنا۔۔خوریہ نے اُس کا دھیان بٹانا چاہا

“ہاں جاتی ہوں اور کام کا ابھی کچھ خاص نہیں بنا۔ ۔۔حوریہ نے سنجیدگی سے بتایا

“پر کیوں؟خوریہ حیران ہوئی

“یار سمجھ نہیں آتا جانے میرے ناولز ڈائجسٹ کی زینت بنے گے بھی یا نہیں ڈائجسٹ ادارو میں جانے کتنے ناولز ہوتے ہیں ہر طرح کی رائٹرز کے اور میرے ناولز پتا نہیں اُن کو ملے بھی یا نہیں اور اگر ملتے بھی ہیں تو پتا نہیں وہ ڈائجسٹ میں شعاع کرینگے بھی یا نہیں کچھ پتا نہیں میں تو چار ماہ سے انتظار کی سولی پر لٹکی ہوئی ہوں۔ ۔حوریہ تھکے ہوئے انداز میں جواب دینے لگی

“دیکھو حور رائٹر بننے کا شوق تمہارا ہے کیونکہ تم اچھا لکھنا چاہتی تھی” اپنی باتیں اپنی سوچ اپنی زندگی جینے کا نظریہ لوگوں تک پہُچانا چاہتی تھی” اور تم تو قارئین کو ہمت باندھنا سِکھانا چاہتی ہو پھر خود ایسی ناامید والی باتیں کیوں کررہی ہو؟خوریہ نے اُس کو سمجھانا چاہا

“چار ماہ کم عرصہ نہیں ہوتا اِن چار ماہ میں تین ناولز میں اپنے اُن کو بھیج چُکی ہوں پر مجال ہے جو اُن کی طرف سے مجھے کوئی رسپانس ملا ہو یا کوئی جواب بھی آیا ہو حوصلہ افزائی کا ہر بار جب میں کال کرتی ہوں تو جواب آتا ہے کہ ابھی انتظار کرو”اب ایسی باتوں پر انسان مایوس نہ ہو تو کیا ہو۔ ۔حوریہ سرجھٹک کر بولی

“ابھی تم نے کہا اُن کے پاس ڈھیر سارے ناولز آتے ہیں تو پیاری بہن وہ بھی انسان ہوتے ہیں ایک ساتھ میں سارے ناولز چیک تو نہیں کرتے ہوگے ظاہر سی بات ہے وقت لگے گا اور انتظار کرو چار ماہ یا ایک سال بھی ہوجائے لیکن تمہارا لکھا ہوا ناول ڈائجسٹ میں ضرور آئے گا یہ میرا دل کہتا ہے تم اپنے زمانے کی مشہور رائٹر ضرور بنوں گی۔۔میرا یقین کرو۔ ۔خوریہ نے اُس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ بڑھائے کہا تو حوریہ اُس کے گلے لگی تھی

“میں اپنے گھر کے حالات سُدھارنا چاہتی ہوں”میں اچھی رائٹر بن کر کمانا چاہتی ہوں تاکہ ابا کو بتا پاؤں کی کمانا بس مردوں کو نہیں آتا لڑکیاں بھی کماسکتی ہیں وہ بھی گھر میں بیٹھ کر اور اپنا اُونچا نام بھی بناسکتی ہیں۔۔حوریہ اُس کے گلے لگتی بتاتی گئ۔۔

“اِن شاءاللہ اللہ تمہیں تمہارے نیک مقاصد میں کامیاب کرے”آمین۔۔۔خوریہ نے اُس کو دعا دیتے کہا تو حوریہ مسکرائی تھی۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮

“کل میں گاؤں گی اور تم میرے ساتھ آؤ گی۔۔رات کے کھانے کے وقت میشا نے سنجیدہ انداز میں عیشا سے کہا

“میں کیوں؟”اور آپ کو تو پتا ہے مجھے گاؤں جانے میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہوتا۔۔عیشا ناک سکیڑ کر بولی

“آج تم نے اپنے باپ کو بہت مایوس کیا ہے۔۔آریان نے اُس کی بات پر کہا تو عیشا نے چونک کر آریان کو دیکھا پھر رایان کو جو کھانا کھانے میں بُری طرح سے غرق تھا جیسے یہ کھانا اُس کی زندگی کا پہلا اور آخری ہو”رایان پر وہ تاسف سے نگاہ ڈالتی عیشا نے زوہان کو دیکھا جو وہاں بیٹھا تو تھا پر اپنے سیل فون کی طرف متوجہ تھا کھانے کو اُس نے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔

“ڈیڈ میں نے ایسا کیا کیا جو آپ مایوس ہوئے ہیں؟عیشا نے جاننا چاہا

“تم نے گھر آئے مہمان سے بدتمیزی سے بات کی۔”جو کہ اخلاق سے بہت غیر حرکت ہے اور تم میشو کے ساتھ گاؤں جاؤ گی اُن سے ایکسکیوز کرنے۔۔آریان نے جیسے اپنا فیصلہ سُنایا

“پر ڈیڈ ایک مرتبہ آپ میری بات بھی سُن لے اُس المان نے چھوٹی بات کا پہاڑ بنایا ہے ورنہ ایسا کچھ نہیں میرا یقین کرے۔۔عیشا نے اُن کو یقین دلِواتے ہوئے کہا

“اقدس تم سے بہت بڑی ہے اگر تم اُس کے سامنے اُس کے بھائی کو پینڈو جیسے القابات سے نوازو گی تو کیا وہ ہرٹ نہیں ہوگی؟میشا نے اِس بار سخت انداز میں اُس سے کہا تو عیشا نے اِس بار زوہان کو دیکھا جو بے نیاز ہر چیز سے لاتعلق بیٹھا تھا”اُن کی باتوں کے درمیان زوریز یا سوہان بھی نہیں آئے تھے”اور نہ رایان نے اپنا بولنا ضروری سمجھا تھا۔”وہ ایک بات پر یقین رکھتا تھا کہ پہلے پیٹ پوجا پھر کام دوجا

“یہ بات آپ لوگوں سے ہانی نے کی ہوگی؟عیشا کھانے سے اپنے ہاتھ اُٹھاتی بولی تو سوہان نے بے ساختہ زوریز کو دیکھا تھا

“ہانی کا یہاں کوئی ذکر نہیں ہے۔ ۔آریان نے نرمی سے اُس کو دیکھ کر کہا

“نو ڈیڈ اُس کا ذکر ہے کیونکہ یہ ساری باتیں اُس کے ذکر کے بنا بے معنی اور بے مقصد ہے اور مجھے بتائے کہ آخر ہانی اقدس آپو کو اِتنی امپورٹنس کیوں دیتا ہے؟”ہماری خالہ کی بیٹی تو ماہا ہے پھر یہ کیوں اقدس آپو کے نام کا دم بھرتا ہے” کلوز کزن میں ہوں پر اقدس آپو کے سامنے یہ کسی کو جانتا تک نہیں ایسا کیا لگاؤ ہے ہانی کا اقدس آپو کے ساتھ۔۔عیشا اپنی جگہ سے اُٹھ کر جیسے پھٹ پڑی تھی اور سب دم بخود اُس کا اِس قدر شدید قسم کا ردعمل دیکھ رہے تھے”لیکن حیرت انگیز طور پر رایان نے اُس کی اِتنی بڑی تقریر پر بھی کوئی خاص ردعمل نہیں دیا تھا وہ ڈنر ایسے کررہا تھا جیسے کھانے کی ٹیبل پر اُس کے علاوہ کوئی اور نہ ہو

“عیشا۔ ۔اِس بار سوہان نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا

‘خال

“عیشا ابھی کچھ اُس سے کہنے والی تھی جب یکدم زوہان زور سے اپنی چیئر کو پیچھے گھسیٹتا وہاں سے چلاگیا” اُس نے کسی سے کچھ کہا نہیں تھا پر وہ غُصے میں تھا اِس بات کا اندازہ ہر ایک کو بخوبی ہوگیا تھا

“دن بدن بدتمیز ہوتی جارہی ہو میرے ساتھ وقت زیادہ اسپینڈ کیا کرو تاکہ میری صحبت کا زیادہ نہیں تو تھوڑا اثر ہو۔ ۔۔رایان نیپکن سے ہاتھ صاف کرتا عیشا کو دیکھ کر بولا

“تمہارے لہجے میں اِتنی کڑواہٹ کیسے آگئ ہے؟ میشا حیران نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پر ندامت کے تاثرات صاف نمایاں ہوئے تھے

“سوری لیکن ہانی ڈفرنس شو کرتا ہے” “جو بات مجھے پسند نہیں ہوتی اور آج اِتنا بڑھاوا بات کو المان نے دیا تھا اور موم تھی وہاں اُن کو پتا ہے میں نے جان کر المان کو چپل نہیں ماری تھی۔ ۔عیشا اپنے دفاع میں بولی

“میری جان تم کیوں بھول جاتی ہو وہ مسٹر” ہم ہم” کا بیٹا ہے جس کو اپنی ناک پر مکھی برداشت نہیں ہوتی تو تمہاری چپل وہ کیسے برداشت کرے گا۔ ۔”چاہے سب کے کہنے پر اُس نے ہم ورڈ یوز کرنا چھوڑ دیا ہے پر بیٹا تو وہ مسٹر” ہم” ہم کا ہے رگوں میں خون بھی اُس کا ڈور رہا ہے۔ ۔۔میشا نے بڑی تحمل مظاہری کا اظہار کیا

“عیشو آپ اپنے کمرے میں جاؤ اور اگر آپ گاؤ جانا نہیں چاہتی تو کوئی بات نہیں اِٹس اوکے لیکن آپ کال پر مان سے سوری بول دینا۔۔۔زوریز نے پہلی بار لب کشائی کی

“پر بڑے ابا

“مجھے آپ پر یقین ہے ایسا نہیں کہ میں یہ سب آریان یا میشا کی باتوں کی وجہ سے کہہ رہا ہوں”اور ایک لفظ سوری سے کچھ جائے گا تو نہیں نہ پھر کیا مسئلہ ہے۔۔عیشا کچھ کہنے والی تھی جب زوریز نے اُس کی بات کو درمیان میں کاٹ کر نرمی سے کہا

“ٹھیک ہے لیکن میں بس آپ کی وجہ سے سوری کہوں گی۔۔عیشا نیم رضامند ہوئی تو سوہان مسکرائی

“اچھا اب بیٹھو اور کھانا کھاؤ اپنا۔۔زوریز نے کہا

“میرا ہوگیا ہے میں اب بس سوؤں گی۔۔عیشا نے کہا اور وہاں سے اپنے کمرے میں جانے کے لیے باہر نکل گئ

“ہم نے اِتنا سمجھایا پر ہماری باتوں میں تو نہیں آئی اور تمہارے ایک بار کہنا پر یس بوس بول دیا۔ ۔عیشا کے جانے کے بعد آریان خاصے حیران لہجے میں بولا

“بچی ہے وہ سمجھانے کا ایک طریقہ ہوتا ہے اور تم دو طرفوں سے بات سُنے بنا بس اُس کو بلیم کروگے تو ایسے وہ باغی ہوجائے گی اور اُس کو لگے گا کہ ہمیں اُس پر اعتبار یا پیار نہیں ہے” جبکہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ ۔زوریز نے آریان کی بات پر سنجیدگی سے کہا

“وہ سب تو سہی پر آپ نے دیکھا نہ اُس نے کیسے بدتمیزی سے بات کرکے زوہان کو ناراض کردیا اور وہ یہاں سے غُصے سے اُٹھ کر چلاگیا۔ ۔میشا بھی بولی

“ایک طرح سے اگر دیکھا جائے تو عیشو کا ردعمل فطری ہے” کزنز میں ایسی تھوڑی بہت جیلسی عام ہوتی ہے کوئی بڑی بات نہیں ہے اور اہم بات عیشو کو اپنی غلطی کا احساس ہے وہ بس روانگی میں ایسا بول گئ ہے ورنہ ہمیں بھی پتا ہے اُس کا دل صاف ہے۔ ۔زوریز نے تحمل کا مُظاہرہ کیا

“ہاں لیکن جو الفاظ روانگی میں اُس نے ادا کیے وہیں وہ اگر کسی اور کے سامنے نکالے تو؟ “یا پھر مسٹر ہم ہم کے سامنے اپنے منہ پھٹ ہونے کا ثبوت دیا تو آپ کو جانتے ہیں پھر ہمیں کتنی شرمندگی اُٹھانی پڑے گی۔”اُس کو تو ویسے بھی اُن تینوں کا آنا جانا خاص پسند نہیں ہوتا۔ ۔میشا کو ایک الگ فکر لاحق تھی

“اب میری بیٹی اِتنی بے وقوف بھی نہیں ہے۔ ۔آریان نے سرجھٹکا

“ہاں تم تو ایسا کہو گے کیونکہ یہ سب تمہاری ڈھیلی کا نتیجہ ہے”تم نے اُس کو لاڈ پیار دے کر بگاڑا ہے۔ ۔میشا نے اپنی توپوں کا رخ آریان کی طرف کیا

“ہاں سہی بات ہے اب مجھے دیکھو نہ لاڈ پیار ملا اور نہ میں بگڑا ہوں۔۔رایان نے اپنی تعریف کرنا ضروری سمجھا

“ہاں جی تمہاری شرافت کی داستان تو اخباروں کی پہلی سطح میں آنی چاہیے۔ ۔آریان نے طنز کہا

‘بس دیکھ لے پھر۔ ۔رایان نے کالر جہاڑا تو سب کا سر نفی میں ہلایا تھا۔

💮

“ہشش

ہش ہش

عیشا جانا اپنے کمرے میں چاہتی تھی پر کچھ سوچ کر وہ ٹیرس پر آئی تھی جہاں زوہان اپنے دونوں ہاتھ ریلنگ پر رکھے سنجیدہ سا کھڑا تھا

“کوئی کام ہے؟ زوہان نے سنجیدگی سے پوچھا

“تم ناراض ہو؟ عیشا نے بغور اُس کو دیکھا جس پر زوہان نے گردن موڑ کر عیشا کو دیکھا جو رات کے نائٹ سوٹ میں ڈھیلی شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس تھی بالوں کی پونی ٹیل بنائے ایک کندھے پر رکھی ہوئی تھی اور وہ خود معصومیت کا مجسمہ بنی ہوئی تھی۔

“نہیں۔۔زوہان اپنی نظریں چاند پر ٹِکاتا انکار کرنے لگا

“ہانی تمہیں میری نیچر کا پتا ہے میں بدھو ہوں”منہ پھٹ ہوں کبھی کبھار اوور بول جاتی ہوں پر یقین کرو میرے دل میں کچھ نیگیٹو نہیں ہوتا۔۔عیشا نے سنجیدہ ہوکر اُس سے کہا

“میں جانتا ہوں۔۔زوہان نے محض اِتنا کہا

“پھر سڑے ہوئے بینگن جیسی شکل کیوں بنائی ہوئی ہے؟ “اور اِتنا روڈلی بیہیو کیوں ہے تمہارا؟ عیشا نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر اُس سے سوال کیا

“میں ایسے ہی ہوتا ہوں اور اِس وقت میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں” رات بہت ہوگئ ہے تمہیں بھی اپنے کمرے میں جانا چاہیے۔ ۔۔زوہان نے بنا دیکھے اُس کو کہا

“کیا تم آپو اقدس کی وجہ سے مجھ سے ایسے بات کررہے ہو؟ ‘کیونکہ میں نے اُن کی شان میں گُستاخی کی تھی۔ ۔عیشا تُکہ لگاکر بولی

“تم خود سوچو کیا تمہیں اُن کے ساتھ ایسے بات کرنا چاہیے تھی؟ وہ ہم سے بڑی ہیں ہمیں اُن کا احترام کرنا چاہیے لیکن تم یہ نہیں دیکھتی کہ سامنے بڑا کون ہے اور چھوٹا کون ہے بس جو منہ میں آتا ہے وہ بول دیتی ہو۔ ۔زوہان تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولا

“ہانی رلیکس مجھے احساس ہے میں غلط تھی پر کل میں جارہی ہو نہ اقدس آپو سے سوری کردوں گی ویسے بھی اُنہوں نے اِتنا بُرا نہیں منایا ہوگا جتنا تم نے منایا ہے۔ ۔عیشا اُس کو پرسکون کرتی بولی

“وہ اِس لیے کیونکہ وہ آج یہاں پورے دو ماہ بعد آئی تھی اور ناراض ہوکر چلی گئ ہیں جو مجھے اچھا نہیں لگا۔زوہان نے جیسے وجہ بتائی

“اچھا نہ تم اپنا موڈ سہی کرو میں نے جو رائتہ پِھیلایا ہے اُس کو سمیٹ لوں گی۔ ۔عیشا نے کہا تو زوہان نے سر کو جنبش دینے پر اکتفا کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *