Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 19)Part 2

Salam Ishq by Rimsha Hussain
 

“کون ہے بھئ؟ماہا جو مسلسل دروازہ پیٹنے لگی تھی۔۔”اندر سے عیشا کی آواز سن کر اُس کی جان میں جان آئی تھی۔

“عیشو آپو یار میں ہوں ماہا۔۔”پلیز دروازہ کھولیں۔۔ماہا نے منت کرنے والے انداز میں اُس سے کہا

“ماہی تم یہاں میرے کمرے کے باہر کیا کررہی ہو؟”وہ بھی رات کے اِس وقت۔۔عیشا حیران ہوتی اُس سے بولی”لیکن کمرے کا دروازہ نہیں کھولا تھا

“آپو یار کمرے کا دروازہ کھولو۔۔”ورنہ میری جان پاؤں سے نکل جائے گی۔۔ماہا بے چینی سے بولی”دوسری طرف اُس جن کا بے ہنگم قہقہقہ اور قریب ہوتا جارہا تھا۔۔”جیسے وہ اُس کے پاس آرہا ہو

“یہ ہنس کون رہا ہے؟”ایسا جناتی قہقہقہ کون لگ رہا ہے؟عیشا نے جب کسی کے ہنسنے کی آواز سُنی تو اُس سے پوچھا”جس پر ماہا کا دل چاہا اپنا سر دیوار پر مارے۔۔”یہاں اُس کی جان ہتھیلی میں تھی۔۔”اور وہ کسی اینکر کی طرح بس اپنے سوالوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھی۔

“آپو میرے پیچھے جن ہے۔۔”پلیز نہ دروازہ کھولوں۔۔ماہا نے منت کی

“تمہارے پیچھے جن ہے؟”ہاہاہاہا ڈیئر ماہی میرے پیچھے بھی بہت خطرناک آتما کھڑی ہے۔۔”تم ایسا کرو کسی اور کے پاس جاؤ۔۔عیشا اُس کی بات پر ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوتی بولی

“یار نہ کرے آپو قسم سے میں سچ بول رہی ہوں۔۔”ماہا نے بے چینی سے کہا

“کیا موت پڑی ہے تمہیں؟”عیشا بلآخر اپنے کمرے کا دروازہ کھولتی ماہا کو گھور کر بولی

“میں ہوں موت۔ ۔۔جواب ماہا کے بجائے اُس کے پیچھے کھڑے جِن نے دیا تھا

“ایک منٹ صبر نہیں ہورہا؟”میں ماہی سے بات کررہی ہوں نہ؟ “تم کیوں بیچ میں کود رہے ہو؟یہاں وہاں دیکھے بغیر عیشا نے اُس کو جھڑکا تو ماہا نے اپنا ماتھا پیٹا تھا۔ ۔

“آپو وہ جن ہے۔ ۔۔ماہا نے اُس کو دیکھنے کا اِشارہ کیا

“میں بھوتنی ہوں۔ ۔۔”اب بتاؤ ایسا بھی کیا ہوگیا ہے؟”جو تم نے میری سویٹ نیند کو خراب کیا۔۔۔عیشا اپنے علاوہ کسی اور کو بولنے کا موقع دیئے بنا بولی

“سب سے پہلے میں اب تُجھے کھاؤں گا۔۔وہ جلال میں آکر بولا تو ماہا کو ہٹاتی وہ اُس کو گھورنے والی تھی”لیکن سامنے کھڑی عجب مخلوق کو دیکھ کر عیشا کو اپنے سامنے تارے ناچتے دیکھائی دیئے تھے۔

“یہ ہارر مووی کا جن لگتا ہے اِس حویلی میں رہ گیا۔۔عیشا نے ماہا کا ہاتھ زور سے پکڑ کر کہا

“لگتا ہے ہانی نے ٹی وی سہی سے بند نہیں کیا تھا۔۔۔”اور یہ اپنے ساتھیوں سے بِچھڑ گیا۔۔ماہا نے بھی افسوس کا اِظہار کیا تو جن کا دماغ گھوم گیا

💮
💮
💮
💮

ببب ببب بھوت۔ ۔۔رایان وہ ہاتھ دور کرتا اپنے کمرے سے باہر بھاگا تھا

“بچاؤ

“بچاؤ

سم بڈی ہیلپ می۔۔۔رایان نے ڈرنے میں سب کو پیچھے چھوڑدیا تھا۔۔۔”لیکن اُس کی آواز کوئی بھی سُننے سے قاصر تھا۔۔”کیونکہ حویلی میں ہر کمرہ ساؤنڈ پروف تھا۔۔”رایان بس چیختا اپنا گلا خُشک کرتا بھاگے جارہا تھا۔۔”جب ایکدم اُس کے پاؤں کو بریک لگی۔۔”اُس نے کُھلے دروازے کے اندر جھانکا جہاں سائیڈ ٹیبل پر سرخ پانی نظر آرہا تھا۔۔”رایان کو احساس ہوا جیسے اُس کو شدید پیاس لگی ہے۔۔”اُس نے آس پاس دیکھا جہاں اندھیرا تھا۔۔”لیکن سب کچھ نارمل سا محسوس ہوا۔۔”اُس کمرے کی لائیٹس آن دیکھ کر وہ جان گیا کہ یہ ماہا کا کمرہ ہے”کیونکہ سامنے اُس کی لارج تصویر لگی ہوئی تھی”لیکن وہ اپنے کمرے میں نہیں تبھی دبے پاؤں وہ اُس کے کمرے میں داخل ہوتا سائیڈ ٹیبل پر پڑا جگ اُٹھایا اور بنا گلاس کو استعمال میں لائے گھٹا گھٹ وہ سرخ پانی پینے لگا۔۔”جو اُس کی ٹھوڑی سے ہوتا گردن تک کا سفر منٹوں میں کرگیا تھا۔۔”اور اب اُس کی وائٹ شرٹ بھی جگہ جگہ سُرخ ہوگئ تھی۔۔”پورا جگ خالی کرکے رایان نے ایک لمبی سانس اپنے اندر کھینچی۔۔”جیسے سارا دن بھوکا رہ کر اُس نے اب افطاری کی ہو

“لائیف لائیف ریفریشر”کرشی جامی شیریں۔۔۔اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیر رایان گُنگُنانے لگا

“ماہی کو کیا ہوجاتا جو شربت بنانے کے بعد اُس میں تھوڑی برف ڈال لیتی تو۔۔”خوامخواہ میں نے گرم شربت پیا۔۔”لیکن جو بھی تھا بڑے مزے کا۔۔رایان ہونٹوں پر زبان پھیر کر انگڑائی لیکر بولا تو یکدم اُس کو خیال آیا کہ اپنے کمرے میں اُس نے بھوت کے ہاتھ کو دیکھا تھا۔۔”یعنی اُس کے کمرے میں بھوت تھا”یہ خیال آتے ہی وہ ایک بار پھر تیزی سے بھاگا تھا۔۔”اب اُس کا رُخ”زوہان کے کمرے کی طرف تھا۔۔”کیونکہ باہر اندھیرے میں اُس کو کوئی شوق نہیں تھا کہ لمبی سیڑھیاں پار کرے

“ہانی

ہانی

اُٹھ

رایان زوہان کے کمرے میں آتا اُس کے کمرے کی لائیٹس آن کرکے اُس کو جگانے کی کوشش کرنے لگا۔۔”جو کمبل تان کر کافی گہری نیند میں معلوم ہورہا تھا

“آگ لگے بستی میں ہمارا ہانی اپنی مستی میں۔ ۔اُس کو پرسکون نیند میں سوتا دیکھ کر” رایان تپ کر بڑبڑایا تھا۔

“ہانی یار اُٹھ نہ کیا پہلی بار زندگی میں نیند آئی ہے تمہیں؟ اُس کے اُپر بیٹھتا رایان نے کمبل چہرے سے ہٹاکر اُس کے بالوں کو کِھینچا تو اپنے اُپر وزن اور بالوں میں کھینچاؤ محسوس کرکے زوہان نے مندی مندی آنکھیں کھول کر معاملہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگا

“جگو توں؟زوہان حیرت سے اُس کو دیکھنے لگا۔۔”رایان کو دیکھ کر اُس کو ایسا لگا جیسے وہ کسی کا خون پی کر آیا ہو

“ہاں میں”اگر تُجھے لگتا ہے تیری خوابوں کی ملکہ تیری بانہوں میں ہے تو بیٹا جی”خواب ٹوٹ چُکا ہے۔۔رایان نے دانت پر دانت جمائے اُس سے کہا

“بکواس نہ کر۔۔اور بتا ایسی حالت کیوں بنائی ہوئی ہے؟”اور کیا صبح ہوگئ ہے؟زوہان نے جمائی لیتے اُس سے کہا

“اگر تمہارا یہی حال رہا نہ تو قسم سے کل کا سورج میں نہ دیکھ پاؤں گا۔۔۔رایان بیڈ کی دوسری سائیڈ پر آتا اُس کو دیکھ کر بولا

“بہکی بہکی باتیں کیوں کررہے ہو؟”اپنے کمرے میں جاؤ اور سوجاؤ۔۔۔زوہان نے بیزارگی سے کہا

“ہانی یار میں اپنے کمرے میں نہیں جاسکتا۔۔رایان نے بتایا

“کیوں؟زوہان نے پوچھا

وہاں بھوت ہے۔۔رایان نے ڈر کر بتایا تو زوہان اُس کو ایسے دیکھنے لگا جیسے اُس کو رایان کی دماغی حالت پر شک ہو

“اِس وقت مجھے تمہارا حُلیہ کسی جن یا ویمپائر سے کم نہیں لگ رہا۔۔۔زوہان طنز ہوا

“ہانی میں سیریس ہوں۔۔”مجھے میرے ہیدائشی دن کی قسم میں نے بھوت کو اپنی اِن دلنشین آنکھوں سے دیکھا ہے”اگر میں جھوٹا تو تاریخ سے میری پیدائش کا دن ختم ہوجائے۔۔رایان نے بہت سنجیدہ انداز میں کہا

“تمہاری پیدائشی دن کونسا ہے؟جواباً زوہان نے بھی بڑی سنجیدگی سے پوچھا

“میں رات کے وقت پیدا ہوا تھا۔ ۔”تمہیں پتا نہیں ہوگا بہت چھوٹے تھے تم اُس وقت۔۔”لیکن فلحال یہ ضروری نہیں ہے یار۔رایان نے سرجھٹک کر اُس سے کہا تو زوہان نے بڑے ضبط سے اُس کو دیکھا

“تمہیں اگر یہاں سونا ہے تو فائن” سوجاؤ لیکن پلیز من گھڑت کہانیاں نہ بناؤ۔۔زوہان نے اُس کو دیکھ کر کہا پھر لیٹ گیا

“تمہیں یقین نہیں آتا تو کمرے سے باہر نکل کر دیکھو۔۔رایان نے جھٹ سے کہا

“مجھے نیند آرہی ہے۔۔زوہان نے کروٹ بدل کر اُس سے کہا

“کیا تمہیں مووی یاد نہیں آرہی؟رایان کو اُس کا اِتنا پرسکون ہونا آنکھ نہ بھایا

“میں بورنگ چیز کو یاد نہیں رکھتا۔۔حواب تُرنت آیا تھا جس پر رایان نے منہ بنایا تھا۔۔”لیکن زوہان کو پیاس کا احساس ہوا تو اُس نے سائیڈ ٹیبل پر جگ کی طرف دیکھا جو خالی تھا۔۔”پہلے خیال آیا سوجائے”لیکن پیاس بڑھنے لگی تو وہ بیڈ سے اُٹھ کھڑا ہوا

“کہاں جارہے ہو مجھے چھوڑ کر؟اُس کو اُٹھتا دیکھ کر رایان کا دل اُچھل کر حلق میں آیا تھا”تبھی اُس سے ایسے بولا جیسے وہ اُس کی” محبوبہ” ہو

“تمہاری بارات لینے۔۔زوہان نے اُس کو گھور کر جواب دیا

“یار ہانی آج میرا موڈ مذاق کا نہیں۔۔رایان نے گویا منت کی

“پانی لینے جارہا ہوں۔۔”تم چلو گے۔۔زوہان نے گہری سانس بھر کر کہا

“کیوں کیا اکیلے جانے سے تمہیں ڈر لگ رہا ہے؟رایان شوخ ہوا

“تمہیں اکیلے کمرے میں ڈر نہ لگے۔۔اِس لیے کہا۔۔زوہان نے کہا تو رایان کی شوخی پل بھر میں غائب ہوئی تھی

“باہر بھوت ہے میں یہی سہی ہوں۔”یہاں کوئی” جن”بھوت” آتما نہیں آسکتے۔”کیونکہ اِس کمرے میں قرآن پاک موجود ہے۔۔۔رایان یہاں وہاں دیکھ کر پُریقین لہجے میں بولا

“کیا تمہارے کمرے میں نہیں تھا؟زوہان نے پوچھا

“بھوت کا ڈر اِس قدر غالب تھا کہ دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ ۔رایان نے پتے کی بات بتائی

“میں پانی لیکر جلدی آجاتا ہوں۔ ۔زوہان نے کہنے کے ساتھ اپنے کمرے سے باہر جانے لگا

“اگر آیة الکرسی آتی ہے تو وہ پڑھتے جانا” بھوت سے میں تمہیں بچاؤں گا۔۔۔”ایسی اُمید نہ لگانا مجھ سے۔۔۔رایان نے پیچھے سے ہانک لگائی لیکن زوہان نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

💮

“تم مُرخ لڑکیوں نے مجھے سمجھا کیا ہے؟وہ اب آہستہ آہستہ اُن دونوں کی طرف بڑھنے لگا تھا

“جی ہمیں سمجھنا کیا ہے آپ کو؟ “آپ جن ہو تو ظاہر سی بات ہے جن ہی لگو گے۔۔۔ماہا نے لب کُشائی کی

“ہاہاہاہاہا سہی بولا اب یہ جن تم دونوں کا خون نچوڑ دے گا۔ ۔جناتی قہقہقہ لگاتا وہ عیشا کی طرف بڑھتا گیا۔ ۔”جس پر ماہا اپنی جان بچاتی کمرے میں گُھس گئ تھی۔

“آپو جلدی سے آجائے تاکہ دروازہ بند کروں۔۔۔خود کمرے میں جانے کے بعد ماہا نے عیشا سے کہا جو سانس روکے اُس جن کے کالے ناخن دیکھ رہی تھی۔

“مومممممممم

“اپنے ناخن اُس نے جیسے ہی عیشا کے گال پر مارا تو اُس کی چیخ نکل گئ۔

“کیا ہورہا ہے یہ؟ کوریڈرور کی لائیٹس آن کرتا زوہان اُن کی طرف آیا تھا۔ ۔”وہ جانا تو باورچی خانے میں چاہتا تھا۔ ۔لیکن شور کی آواز سن کر وہ یہاں آیا تو حیرت سے استفسار ہوا۔ ۔

“ہانی جن۔ ۔عیشا کھسکتی اُس کے پاس آنے لگی

“رُک مُرخ لڑکی میں تیرا خون پی لوں گا۔ ۔۔وہ جلدی سے عیشا کا بازو پکڑ کر بولا

“چھوڑو میری عیشو آپو کو۔ ۔۔عیشا کا دوسرا بازو ماہا نے پکڑلیا تھا۔ ۔”اور اُس کو اپنی طرف کھینچنے لگی

“نہیں چھوڑوں گا۔ ۔وہ بھی عیشا کو اپنی طرف کھینچنے لگا۔ ۔”تو زوہان کبھی ماہا کو دیکھتا تو کبھی سفید چادر میں چُھپے جن کو”اور پھر قابلِ رحم حالت میں عیشا کو دیکھنے لگا” جس کے بازو کو اُنہوں نے شاید ربر کا سمجھ لیا تھا۔

“چھوڑو تم۔ ۔عیشا زور سے لات جن کے پاؤ میں مار کر بولی تو اِس بار برجستہ چیخ اُس جن کی تھی

“”جن کو تکلیف بھی ہوتی ہے کیا؟”کافی نازک جن معلوم ہوتا ہے ۔۔ماہا قدرے حیرانگی سے بولی تھی

“جن پر ریسرچ بعد میں کرلینا ابھی اندر بھاگو۔۔”ہانی خود نپٹ لے گا۔۔عیشا خود بھی کمرے میں آتی” ٹھاہ” کی آواز سے دروازہ بند کیا

“آپو عیشو جن کو آنے کے لیے کسی کُھلے دروازے کی تو ضرورت نہیں ہوتی۔ ۔”وہ ایسے بھی گُھس سکتا ہے۔۔۔ماہا کو چین نہ آیا

“میری ماں سوجا۔ ۔بیڈ پر چڑھ کر عیشا نے باقاعدہ اُس کے سامنے ہاتھ جوڑے۔ ۔”تو منہ بسور کر ماہا بھی بیڈ پر آئی۔ ۔”اور اُس سے چپک کر سونے کی کوشش کرنے لگی

“ماہی مجھے سانس نہیں آرہی۔ ۔عیشا نے اُس کا سر اپنے سینے پر محسوس کیا تو دانت پیس کر کہا

“عادت ڈال لے۔ ۔”شادی کے بعد کام آئے گی۔۔”ماہا نے اپنا سر ہٹانے کے بجائے اُس کو مفید مشورے سے نوازہ

“لکھ دی لعنت ہو۔ ۔اُس کی بات پر عیشا کا دماغ گھوم گیا

“اِتنی مہنگی لعنت کا ماہا نے کیا کرنا ہے۔ ۔”ماہا نے کونسا خراب بات کہی ہے۔ ماہا نے جمائی لیتے ہوئے اُس سے کہا

“ہاں جی بڑا پتا ہے تمہیں۔ ۔اُس کی بات پر عیشا جیسے تپ اُٹھی

“پتا کیا ہے۔ ۔”شادی کے بعد جب لڑکیوں کے بچے ہوتے ہیں۔ ۔”تو اپنی اولاد کو سینے پر رکھ کر سُلاتی ہیں۔۔ہمیں بھی تو ہماری مائیں ایسے سُلاتی تھیں۔ ۔ماہا نے مزید کہا تو خفت کے مارے” عیشا کا چہرہ سُرخ پڑگیا تھا۔ ۔”کیونکہ پہلے پہل وہ اُس کی بات کا الگ مطلب نکال بیٹھی تھی۔ ۔”لیکن پھر سرجھٹک کر خود بھی اپنی آنکھوں کو موند کر سونے کی کوشش کرنے لگی

💮

“تمہاری وجہ سے میرا شکار گیا ہے۔ ۔”اب تیری خیر نہیں۔ ۔وہ بھاری بھاری قدم اُٹھاتا زوہان کی طرف آیا۔ ۔

“میں

“سکی سٹاپ ناؤ۔۔”بہت ہوگیا ہے۔۔اور رات بھی بہت ہوگئ ہے۔۔”مجھے سونا ہے اور فجر کے وقت اُٹھنا ہے۔۔”تاکہ یہاں سے جلدی نکل کر شہر یونی پہنچ پائے۔۔وہ زوہان کی گردن پر جھکنے لگا تھا۔”جبکہ اپنے قدم پیچھے لیتے زوہان نے خاصے اکتائے لہجے میں کہا اور بنا اُس کا جواب سنے وہ جانے کے لیے جیسے ہی پلٹا۔ “اچانک اپنا تصادم کسی اور کے ساتھ ہوتا دیکھ کر ایک پل کو وہ بھی سانس لینے بھول گیا تھا۔کیونکہ دوسری طرف سامنے کوئی فل مونسٹر کے لباس میں ملبوس تھا” اور چہرے پر کافی ڈراؤنا ماسک چڑھایا ہوا تھا جس کو رات کے پہر دیکھ کر ڈر جانا “ایک فطری عمل تھا۔”لیکن وہ زوہان تھا۔ “جس نے جلدی خود کو کمپوز کرلیا تھا

“ہاہاہاہاہاہا ہمارا ہانی بھی ڈر گیا۔۔المان اپنے چہرے سے ماسک اُتارتا ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوا تھا”تو سفید چادر میں چُھپا جو اور کوئی نہیں”بلکہ سکندر تھا وہ بھی خود کو اِس جھنجھٹ سے آزاد کرواتا “ہنسے لگنے لگا تھا

“میں کیسے بھول گیا کہ تم دونوں کرائم پارٹنرز ہو۔۔”اور ایسا گیم تم دونوں ہی مل کر کھیل سکتے ہو۔۔”اُن کو ہنستا دیکھ کر زوہان نے تپ کر کہا

“یو آر ویری معصوم۔ ۔۔سکندر نے اُس کے گال کھینچ کر کہا

“ماہی اور عیشو کی حالت دیکھی تھی؟ “عنقریب اُن کا ہارٹ فیل ہونے لگا تھا۔ ۔زوہان نے خشمگین نظروں سے دونوں کو گھورا جو ایک ساتھ جڑ کر کھڑے تھے

“اُن دونوں کا تو نہیں پتا” لیکن کسی اور کا ہارٹ ضرور فیل ہونے والا تھا۔ ۔المان نے ہنسی کے درمیاں کہا

“تو جگو کے کمرے میں تم تھے؟ زوہان جیسے ساری بات سمجھ گیا۔

بھوتتتتتتت

“رایان جو ڈر ڈر کر کمرے سے باہر آیا تھا۔ “تاکہ زوہان کو تلاش کرپائے” کیونکہ اُس نے کافی دیر لگائی تھی” لیکن سامنے المان اور سکندر کو دیکھ کر وہ ایک بار چیخا تھا۔

“آہ آہ آہ آہ

“خون

امی بچاؤ

“اُن دونوں نے جب رایان کی شرٹ میں سرخ رنگ دیکھا تو وہ الگ سے چیخ پڑے تھے

“نو نو ناٹ خون۔۔”،جسٹ جامِ شیریں۔۔رایان نے جلدی سے اُن کی غلط فہمی کو دور کیا”تو المان کے دماغ میں کچھ کلک ہوا

“توں ماہی کے کمرے میں گیا تھا؟ المان نے پوچھا

“ڈونٹ ٹیل می کہ مجھے ڈرانے والے تم تھے؟ رایان نے جب دونوں پر غور کیا تو سوال کیا

“یہ میرے سوال کا جواب نہیں۔ ۔المان نے اُس کو گھورا

“ہاں پ

“شیم آن یو۔ ۔”رات کے پہر تمہیں جوان جہاں لڑکی کے کمرے میں جاتے ہوئے شرم نہ آئی؟رایان نے ابھی بات مکمل بھی نہ کی تھی۔ “جب سکندر نے اُس کو ملامتی نظروں سے دیکھ کر کہا

“تمہیں تو بڑی شرم آئی جوان لڑکیوں کی رنگت اُڑانے میں۔ ۔زوہان نے جیسے رایان کا بدلا لیا تھا

“شاباش میرے بہادر کزن۔ ۔رایان نے اُس کا کندھا تھپتھپایا تھا

“ویسے میں نے تو پانی میں روح افزا شربت ڈالا تھا۔ “یہ جامِ شیریں کہاں سے آگیا؟”المان کی سوئی ایک بات پر اٹکی ہوئی تھی

“شربت ڈالا تھا تو تھوڑی برف ڈالنے کی بھی زحمت کردیتے”نکمے انسان “کافی گرم شربت تھا۔ ۔رایان نے افسوس سے اُس کو دیکھ کر کہا

“اب ہر کوئی اپنے کمرے میں جائے اور سوجائے۔ ۔زوہان نے باتوں کا سلسلا ختم کردینا بہتر سمجھا

“نہیں میں تو اکیلے کمرے میں نہیں جانے والا۔ ۔”دوسروں کو ڈرانے والا سکندر اب خود ڈر رہا تھا۔ ۔

“کیوں نہ ہم سب ایک کمرے میں سوئے۔؟”المان نے آئیڈیا دیا

“میرے کمرے میں آجاؤ۔۔۔زوہان نے باری باری اُن کو دیکھ کر کہا تو وہ دانتوں کی نُمائش کرتے اُس کے پیچھے پیچھے جانے لگے۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“یہاں جو بھی موجود ہے۔۔”وہ سامنے آئے۔۔”کیونکہ اگر میں پُہنچ گیا تو میرے رلوالر کی آخری گولی کا نشانہ تم ہوگے۔۔۔زاویار احتیاط سے چاروں اِطراف دیکھتا سنجیدگی سے بولا”لیکن سب بے سود۔۔”کوئی بھی اُس کے سامنے نہ آیا تھا۔۔”کچھ سوچ کر زاویار لاؤنج سے باہر نکل گیا تو۔۔”،لال بڑے سے ڈوپٹے کے گھونگھٹ میں اُس کو ایک وجود سڑھیاں چڑھتا ہوا دیکھائی دیا۔۔۔”اندر زاویان تھا یہ خیال آتے ہی زاویار تیز قدموں سے اُس کی طرف جانے لگا

“رُک جاؤ ورنہ میں تمہیں شوٹ کرلوں گا۔۔۔زاویار نے اُس کو وارننگ بھرے لہجے میں کہا

“چھم چھم

“پایل کی آواز دور ہوتی گئ۔۔”وہ جو کوئی بھی تھا۔۔”اُس پر زاویار کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔ “تبھی زاویار تیز قدموں سے بلآخر اُس تک پہنچتا بازوں سے پکڑے اپنے روبرو کھڑا کیا۔۔”پھر ایک ہی جست میں گھونگھٹ اُلٹ لیا تو۔۔۔۔”اُس کا چہرہ اُس کے بالوں نے چُھپالیا تھا

“کون ہو تم؟زاویار کا دل اِس بار الگ انداز میں دھڑکا تھا۔۔”وہ اُس کا چہرہ دیکھ سکتا تھا۔۔”لیکن اُس کے بال رُکاوٹ بنے ہوئے تھے۔۔”یہ وجود اُس کو اپنا اور جانا پہچانا سا لگا تھا۔۔۔

“تم مجھ تک پہنچ گئے۔۔”اب شوٹ کرو۔۔۔اور اپنی بات کو پورا کرو۔۔۔اپنے ایک ہاتھ سے چہرے سے بال ہٹاتی دوسرے ہاتھ سے اُس کا ریوالر پکڑے ہاتھ کو تھام کر ریوالر کی نوک اپنی پیشانی پر ٹِکائے وہ خاصے دلسوز لہجے میں بولی تو۔۔”اُس کو اپنی طرف کھینچ کر زاویار نے ریوالر کو نوک کو اُس کی شہ رگ پر رکھا تھا

“ٹریگر دبادوں؟نرم نگاہ۔۔”آنچ دیتا لہجہ”کسی کا بھی دل دھڑکانے کے لیے کافی تھا۔

ہمت ہے تو دبادو۔۔۔اُس نے کُھلے دل سے اِجازت دی تو زاویار نے ریوالر کو کھینچ کر دور پھینکا اور اُس کا اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔

“کیسا لگا میرا سرپرائز۔۔مسکراہٹ دبائے پوچھا گیا

“بہت خوفناک۔۔۔برجستہ جواب سن کر وہ زور سے ہنسی تھی۔

“تم کبھی بھی”کوئی بھی کام انسانوں کی طرح نہیں کرسکتی۔۔۔بار بار اُس کے چہرے پر آتے “کرلی بالوں کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں سے ہٹاتا وہ تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولا

“میں راحت زاویار اسحاق خانزادہ ہوں۔۔”جس کی سوچ وہاں سے شروع ہوتی ہے”جہاں سب کی سوچ ختم ہوتی ہے۔۔۔۔گردن تان کر فخریہ لہجے میں جواباً کہا گیا

“یا ریئلی۔۔”سڈنلی آنے کی میں توقع تو تم سے رکھ سکتا ہوں۔۔”لیکن اِس ریڈ وِچ میں بھٹکی ہوئی آتما کی طرح تمہاری اینٹری کا تصور کبھی بھی نہیں کرسکتا۔۔زاویار نے سرجھٹک کر اُس سے کہا

“مائے ہسبنڈ مسٹر پردہ نشین اِس لیے تو میں نے کہا کہ میں راحت زاویار اسحاق خانزادہ ہوں۔۔”جس کی سوچ وہاں سے شروع ہوتی ہے”جہاں سب کی سوچ ختم ہوتی ہے۔۔۔۔راحت نے ایک بار پھر سے کہا

“تم یہاں کیوں آئی ہو؟زاویار نے اِس بار سنجیدگی سے پوچھا

“میں یہاں اپنے بیٹے کے لیے آئی ہوں۔۔”جس کو تم میرے بغیر لائے ہو۔۔۔راحت نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“اپنے بیٹے کے لیے؟زاویار نے اُس کو گھورا

“یس۔۔اب بتاؤ کہاں ہے وہ؟راحت نے یہاں وہاں دیکھ کر پوچھا

“اور شوہر کے بارے میں کیا کہنا پسند کرینگی آپ؟زاویار کا لہجہ کافی طنز تھا

“اُس کے بارے میں نو کمنٹ۔۔۔۔سرتا پیر اُس کو دیکھ کر شانِ بے نیازی سے کہا گیا

“تو پھر آپ پہلی فرصت میں یہاں سے چلی جائے۔۔۔زاویار بازوں سینے پر باندھتا اُس سے بولا

“آپ کیوں چاہتے ہیں کہ آپ کا ہوائیاں اُڑا چہرہ زاوی دیکھے۔۔”اور دن رات پردہ نشین کے رکارڈ بنائے۔۔اُس کے سامنے اپنا سیل فون لہراکر معنی خیز لہجے میں راحت نے اُس سے کہا تو زاویار کے حواس زندگی میں پہلی بار سلب ہوئے تھے

“یہ کیا بدتمیزی ہے کرلی گرل!”تم نے کیا کیا ہے؟زاویار نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا

“وہ دراصل ہمیشہ آپ میری جان خشک کرتے رہتے ہو۔۔اور چسکا لگا کر زاوی کو بتایا کرتے ہو تو میں نے سوچا کیوں نہ تھوڑا چسکا میں بھی لوں۔۔بڑی معصومیت سے بتایا گیا

“تم کیوں چاہتی ہو کہ میں تمہارا سیل فون توڑوں؟زاویار نے ضبط سے اُس کو دیکھا

“تم ایسا کچھ نہیں کرنے والے۔۔زاویار کو اپنی قریب آتا دیکھ کر راحت نے اُس کو وارن کیا

“میں ایسا کروں گا۔۔زاویار نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“تمہارا مسئلہ کیا ہے یار”ہوجاتا ہے۔۔”لگ جاتا ہے انسان کو ڈر۔۔اب یہ کوئی انا کا مسئلہ بنانے والی بات تو نہیں۔۔راحت نے بٹرنگ کرنا شروع کردی

“میں نہیں ڈرا۔۔زاویار نے اُس کو گھورا

“آئے نو تمہیں ڈر نہیں لگا۔۔۔”تم نے سوچا یہ کوئی ٹیکنیکل ایشو ہوسکتا ہے”لیکن تم ہڑبڑائے ہوئے تھے تو تم نے سوچا شاید الکٹرانک ایشو ہو۔۔”ہوجاتا ہے۔۔”انسان کہنا کچھ اور چاہتا ہے۔۔”اور منہ سے نکل دوسرا جاتا ہے۔۔”اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ تم واقعی میں بہت بہادر ہو۔۔”بس ہلکا سا پسینا تمہارے ماتھے پر چمکنے لگا تھا۔۔اور کچھ نہیں۔۔راحت نے مسکراہٹ دبائے زچ کرنے والے انداز میں اُس سے کہا

“تمہیں کوئی اور طریقہ نہیں ملا تھا اینٹری مارنے کا؟”بھوتنی بن کر آنا ضروری تھا؟زاویار زچ ہوکر بولا

“بلکل ضروری تھا۔۔”میری اینٹری تھی۔۔”زرا دھوم سے تو ہونی چاہیے۔۔”بس شوہر جی اپنا جو دل ہے نہ اُس کو مضبوط رکھے۔۔راحت نے گرن اکڑا کر اُس سے کہا تو زاویار نے اپنی آنکھوں کو گُھومایا تھا

“تم ویسے کیا اکیلی آئی ہو؟زاویار کو اچانک خیال آیا

“نہیں مجھے پاکستان چھوڑنے پورا دبئ آیا ہے۔۔راحت نے جواب تو برجستہ دیا تھا”لیکن تھا بے تُکہ جس پر زاویار نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا

“اگر آنا تھا تو میرے ساتھ آجاتی۔۔”یوں اکیلے آنے کی کیا ضرورت تھی؟اُس کے گرد اپنا حصار بناتا۔۔”وہ ایک کمرے کی طرف اپنا رُخ کیے بولا

“ڈونٹ وری عبایا پہن کر آئی تھی۔”اور تم خوامخواہ کے وہم مت پالا کرو۔۔”ویسے بھی خود تمہیں خیال نہ آیا کہ بیٹے کو لے جارہا ہوں تو بیوی بھی لے جاؤں؟اُس کے سینے پر مُکہ مار کر راحت نے کہا

“اگر بیوی ایسی حرکتیں کرے گی۔۔”شوہر جہاں کہی بھی جائے گا۔۔،آگے اپنے بیوی کو کرے گا۔۔۔زاویار کمرے کا دروازہ کھول کر بولا”جہاں زاویان خواب وخروش کے مزے لوٹ رہا تھا۔۔

“میرا زاوی۔۔۔راحت فورن زاویار کی طرف بڑھی تھی

“میرا زاوی میری زاوی بول کر اب تو اِس کو جگا مت دینا۔۔”ورنہ جو فلم تم نے سٹاپ کی ہے”وہاں سے شروع یہ کرے گا۔۔۔زاویار نے راحت کو والہانہ انداز میں”زاویان کا چہرہ چومتا ہوا دیکھا تو اُس کو وارن کیا

“قسم سے جس قدر سوتیلوں جیسا رویہ تم میرے بیٹے کے ساتھ رکھتے ہو نہ میرا بڑا دل خراب ہوتا ہے۔۔”مطلب تم اِس کو دیکھتے ایسے ہو”جو تمہارا یہ کچھ لگتا ہی نہیں بس میں اِس کو جہیز میں لائی تھی۔۔راحت خشمگین نگاہوں سے اُس کو دیکھ کر بولی

“اگر جہیز میں تم ایسا سیمپل لاتی نہ تو اُٹھاکر واپس کردیتا”تمہارے والدین کو اور بولتا کہ ایک کافی ہے”دوسرا آپ اپنے پاس رکھ لو۔۔زاویار نے جواب دیا تو اُس کا منہ پورا کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا

“اب سوجاؤ چُپ چاپ۔۔۔بیڈ کی دوسری سائیڈ پر آتا زاویار اُس کو بولا

“بہت بے مروت انسان ہو تم۔۔راحت اُس کا ہاتھ جھٹک کر بولی جو اُس نے زاویان کے اُپر رکھا تھا۔

“شکریہ۔۔۔”اب اِجازت ہو تو میں سوجاؤں؟زاویار نے جمائی لیتے پوچھا تو راحت نے منہ موڑ لیا تھا۔”اِس بات سے انجان کہ اُس کے پردہ نشین نے بہت چلاکی سے اُس کے ہاتھ سے سیل فون اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *