Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 33)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 33)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
السلام علیکم ۔۔۔۔۔”فاحا نے اُن لوگوں کو آتا دیکھا تو سلام کیا
وعلیکم السلام ۔۔۔۔وردہ بیگم اُن کو سلام کا جواب دیتی۔۔”اُن کے پیچھے دیکھنے لگی۔۔”جہاں رایان زوہان”سکندر قطار میں کھڑے تھے۔
“یہ ہمارے بھانجے ہیں۔۔”فاحا نے اُن کی نظروں کا تعاقب کیے بتایا
“میرا نام رایان ہے
“میں زوہان
“میں سکندر عاشر ہوں۔۔
“اُن تینوں نے باری باری اپنا تعارف کروایا۔۔”لیکن زوہان ایشال کو دیکھ کر ٹھٹک گیا تھا جو اُس کے دیکھنے پر آنکھ کا کونا دباگئ تھی۔۔”لیکن وہ حیران بس اُس کے کپڑوں کو دیکھ کر ہورہا تھا
“اندر آئے۔۔”فاحا بلو شلوار قمیض میں ملبوس بے نیاز کھڑے آتش پر نظر ڈالتی بولی تو وہ اندر کی طرف بڑھے تھے
“ماں مغربی اور اولاد مشرقی۔۔۔ڈرائینگ روم میں داخل ہوتے سکندر نے آہستہ آواز میں کہا تو رایان نے مسکراہٹ دبائی۔۔
________________________
“آپو مہمان آگئے ہیں۔۔”ماہا کمرے میں داخل ہوتی اقدس کو بتانے لگی۔۔”پاس بیڈ پر بیٹھی عیشا کسی کو میل سینڈ کرنے مصروف تھی
“اچچ اچھا۔۔اقدس کو جانے کیوں گھبراہٹ سی ہونے لگی
“جی لیکن آپ اِتنا پریشان کیوں ہیں؟”ماہا اُس کے پاس بیٹھ کر بولی تو عیشا نے چونک کر سر سیل فون سے اُٹھائے اُس کی طرف دیکھا۔۔”جو اسکائے بلو کلر کے شلوار قمیض میں ملبوس سیم ڈوپٹہ سر پر اچھے سے لیا ہوا تھا۔۔”اور ساتھ میں اسکن کلر کی شال اپنے اطراف اُوڑائی ہوئی تھی۔”لیکن چہرے سے وہ کافی اُلجھی ہوئی تھی
“پریشان تو نہیں ہم۔۔”اقدس زبردستی مسکرانے کی کوشش کرتی ہوئی بولی
“آپ کا رویہ کافی عجیب ہے۔۔”ایسا تو کبھی آپ نے بیہیو نہیں کیا۔۔”رشتے تو پہلے بھی آپ کے لیے آتے رہے ہیں۔۔”ماہا نے پھر کہا تو عیشا اُٹھ کر اقدس کے پاس آئی۔۔”عیشا کا ڈریسنگ اسٹائیل بدل گیا تھا۔۔”جب سے وہ آفس کو وقت دینے لگی تھی تب سے عام حالات میں بھی اُس کی ڈریسنگ کیجوئل ہوتی تھی۔۔”آج اُس نے وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ پہنی ہوئی جبکہ شرٹ کے اُپر بلیک کوٹ لیا تھا۔”اسٹریٹ بال کندھے کے دائیں بائیں طرف تھے۔۔”چہرے پر مسکراہٹ کی ہلکی رمق تک نہ تھی۔۔”اپنے حلیے سے وہ ایک پروفیشنل بزنس وومن ہی معلوم ہوتی تھی۔
“اگر آپ خوش نہ تھی تو انکار کردیتی۔۔عیشا ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی ہوتی اُس سے بولی
“ہم خوش ہیں۔۔”بس کنفیوز سے ہیں۔۔”جانے آج کیا بنے گا۔۔اقدس نے اُس کو دیکھ کر بتایا
“جو بھی ہوگا اچھا ہوگا۔۔”آپ پریشان نہ ہو۔۔”ماہا اور عیشو آپو باہر جاتے ہیں۔۔”یہ دیکھنے کہ لڑکا ہے کیسا کیونکہ اِس بار وہ بھی آیا ہے۔۔”آپ تب تک یہاں انتظار کرے۔۔ماہا نے اُس کو دیکھ کر کہا تو وہ محض سر کو جنبش دے پائی۔
_______________________
“واہ کیا پیار ہے بہن بھائی کا یہ دیکھ کر تو میری آنکھوں میں تو آنسوؤ آگئے ہیں۔۔سکندر صوفے پر “رایان اور زوہان کے درمیان بیٹھا سامنے “آتش اور عیشا کو دیکھ کر بولا جن کا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں تھا۔۔”آتش مسلسل اپنے سیل فون میں مصروف تھا جبکہ فاحا وردہ لُغاری کے کسی سوال کا جواب دے رہی تھی۔۔”لیکن سکندر کی بات پر رایان اور زوہان نے بیک وقت اُس کو گھورا تو وہ گڑبڑا سا گیا
“یہ ہوتی ہے بہن۔۔”دیکھو کیسے اپنے بھائی کے ساتھ جُڑ کر بیٹھی ہے۔۔”اور ایک میری انوکھی بہن ہے جو میری طرف دیکھنا تک گوارہ نہیں کررہی۔۔”عیشا کو باہر آتا دیکھ کر رایان دُکھی لہجے میں بولا تو سکندر ہمدردی سے اُس کا کندھا تھپتھپانے لگا
“ویسے یہ وہی ہے نہ۔۔رایان نے غور سے ایشال کو دیکھ کر سکندر سے کہا
“وہ کون؟”سکندر نے پوچھا
“ارے وہی پُھلجڑی جو یونی ایسے آتی تھی جیسے باپ کا گھر ہو۔۔”رایان نے بتایا تو اُس کے دماغ میں اچانک سے کچھ کلک ہوا۔۔”جبکہ زوہان خاموش بیٹھا تھا
“ارے ہاں یہ تو پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئ ہے۔۔”لیکن میں پہچان نہ پایا شاید اپنا ڈریسنگ اسٹائل اِس نے چینج کیا ہے۔۔سکندر اُس کی بات سے اتفاق کرتا بولا
“پتا ہے کیا۔۔”جس طرح سے اپنے سر سے سرکتا ڈوپٹہ وہ بار بار ٹھیک کرنے میں لگی ہوئی ہے نہ اِس سے میری جنرل نالج یہی بول رہی ہے کہ ضرور اِس نے پہلی بار اِن کپڑوں کو دیکھا ہے۔۔”رایان اندھیرے میں تیر پھینک کر بولا
“لیکن یہ تو کافی امیر ہے۔۔”پھر ایسے کپڑے کبھی کیوں نہ دیکھے؟”لینے کی سکت نہ تھی تو گوگل کرلیتی۔۔سکندر کو کافی افسوس ہوا جان کر
“گونچو میرے کہنے کا مطلب تھا کہ اِس نے پہلی بار ایسا ڈریس پہنا ہے۔۔”تبھی کیری کرنا نہیں آرہا۔۔”رایان بے اُس کی عقل پر گویا ماتم کیا
“ہاں اب سمجھا یعنی یہ پُھلجڑی اب ستی ساوتری بن گئ ہے۔۔”سکندر سمجھنے والے انداز میں سر جو جنبش دے کر بولا
“السلام علیکم ۔۔ماہا نے مسکراکر سب کو سلام کیا اور فاحا کے ساتھ بیٹھ گئ۔۔”عیشا جبکہ اب کھڑی “غور سے ایشال کو دیکھتی اُس کے پاؤ کو دیکھنے لگی۔۔”جہاں جوگرز جو اُس نے پہنے تھے وہ اُس کے ڈریس سے میچ نہیں تھے۔۔”ایشال کا چہرہ اُس کو کافی جانا پہچانا سا لگا۔۔”لیکن اُس کو یاد نہ آیا تھا۔۔”وہی ماہا غور سے آتش کو دیکھ کر اُس کو پہچاننے کی کوشش کررہی تھی۔۔”جو اُس کو دیکھا دیکھا سا لگ رہا تھا۔۔
وعلیکم السلام ۔۔”سب نے اُس کو سلام کا جواب دیا
“میرا ہاتھ چھوڑو اب پسینے سے تر ہوگیا ہے۔۔”ایشال نے قدرے دھیمی آواز میں آتش کے کان کے پاس سرگوشی نما آواز میں کہا تو وہ اُس کو ایک گھوری سے نوازتا اپنا ہاتھ پیچھے کرنے لگا
“لڑکی کو بلوائے اب۔۔وردہ لُغاری نے فاحا کو دیکھ کر کہا
“جی لیکن ابھی بابا سائیں نہیں آئے وہ ڈیرے پر ہیں۔۔”ماہا نے جواباً کہا
“اُنہوں نے کیا کبھی اپنی بیٹی کو نہیں دیکھا جو اُن کے آنے کا انتظار ہے۔۔”آتش بولے بغیر نہ رہ پایا
“دراصل سارے معاملات وہ طے کرینگے نہ۔۔”اِس بار فاحا نے سنجیدگی سے کہا تو آتش نے اپنی آئبرو پر انگھوٹا مسلا
“میرا نہیں خیال کہ خالو آئے گے۔۔”رایان نے اپنی رائے دی
“وہ کیوں نہیں آئے گے؟”سکندر کو تعجب ہوا
“جس قدر اقدس آپو اُن کو پیاری ہے میرا نہیں خیال وہ کبھی اُن کی شادی کروائے گے۔۔۔”رایان نے اندازہ لگایا
“بیٹیاں بادشاہوں کی بھی رُخصت ہوتیں ہیں۔۔”جیسا تمہیں لگ رہا ہے۔۔”ویسا کچھ بھی نہیں۔۔”میں بس یہ سوچ رہا ہوں اقدس آپو اِس مغرور انسان کے ساتھ کیسے ایڈجسٹ کرینگیں۔۔”اِس بار زوہان نے کہا
“ہاں کافی رعب اور دبدبے والا لگ رہا ہے۔۔”بیٹھا ایسا ہے جیسے ہم پر احسان کررہا ہے۔۔”سکندر کو اُس کی بات سہی لگی۔
“کافی پُہنچی ہوئی چیز لگ رہا ہے۔۔”مجھے بھی۔۔”رایان بھی اتفاق کرتا بولا
“عزت کر پرائم منسٹر ہے۔۔”سکندر نے ملامتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“ناکر مذاق۔۔۔رایان کو حیرت ہوئی
“سچ ہے۔۔”توں کس دُنیا میں رہ رہا ہے۔۔”سکندر نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا تو رایان حیرت سے آتش کو دیکھنے لگا
“توں نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ اِتنی بڑی شخصیت ہمارے ساتھ موجود ہے۔۔”رایان نے اُس کو دیکھ کر کہا
“مجھے پتا نہیں تھا نہ کے آتش لُغاری کے حصے کا کام تم کرتے ہو۔۔”جو تمہیں آس پاس کا ہوش نہیں رہتا اور نہ کسی چیز کا پتا ہے۔۔جواباً سکندر نے طنز کیا تو رایان نے چپ سادھ لی
“یہ لوگ کافی انتظار کروا رہے ہیں۔۔”اگر انٹرسٹ نہیں تھا تو وقت نہ دیتے۔۔۔”کیا اِن کو ہماری پوزیشن کا علم نہیں۔۔”ایشال نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا
“پانچ منٹ انتظار کروں گا۔۔”اُس کے بعد جو کچھ ہوگا اُس کے زمیدار یہ لوگ ہوگے۔۔”آتش کا لہجہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا۔۔
السلام علیکم ۔۔ بھاری گھمبیر آواز پر سب نے ڈرائینگ روم کی دروازے کی طرف نگاہیں کی تھی۔۔”جہاں کاٹن کے براؤن کلر کے شلوار قمیض میں ملبوس کندھوں پر وائٹ شال اوڑھے اسیر ملک کھڑا تھا۔
“یہ لڑکی کا باپ تو تمہاری عمر کا ہے۔۔”ایشال اسیر کو دیکھ کر ایمپریس ہوتی ستائش لہجے میں آتش کو دیکھ کر بولی تو جانے کیوں وہ اُس کو دیکھ کر ٹھٹک گیا تھا۔۔”جس وجہ سے وہ ایشال کی بات پر غور نہ کیا تھا۔”ورنہ اچھا خاصا جواب دیتا۔۔”جبکہ اُس کو آتا دیکھ کر۔۔”ساری کزن پلٹن اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔”تو ایشال بھی آتش کو کھڑا ہونے کا اِشارہ کرنے لگی تو اپنی انا کو درمیاں میں نہ لاتا وہ بھی کھڑا ہوا
وعلیکم السلام ۔۔اُن لوگوں نے سلام کا جواب دیا تو اسیر ایک سنگل صوفے پر بیٹھ گیا تو وہ لوگ بھی اپنی جگہ دوبارہ بیٹھ گئے
“یہ کیا تھا؟”ایشال واپس بیٹھتی حیرت سے بڑبڑائی۔۔”اُس کو ینگ جنریشن کا کھڑا ہونا سمجھ میں نہیں آیا تھا
“احترام۔۔”آتش نے یکلفظی جواب دیا
“آفاق لُغاری نہیں آئے؟”اسیر نے سنجیدگی سے سوال کیا
“راستے میں ہیں۔۔
“آگئے”آتش ابھی کچھ کہنے لگا تھا جب حویلی کے ملازم کے ساتھ “آفاق لُغاری کو آتا دیکھ کر ایشال بول اُٹھی
“اب لڑکی کو بلوالینا چاہیے۔۔وردہ لُغاری نے کہا تو کزن پلٹن پوری کھڑی ہوگئ۔۔
“لگتا ہے اِن کے بیٹھنے کی جگہ پر چیونٹیاں ہیں۔۔’جو بار بار ایسے اُچھل رہے ہیں۔۔”اُن کو ایک بار ایک ساتھ کھڑا ہوتا دیکھ کر آتش اپنا سر نفی میں ہلاتا بولا
“تم لوگ اقدس کو لے آؤ۔۔فاحا نے کہا تو وہ پانچوں ایک ساتھ ڈرائینگ روم سے نکل گئے۔۔”جس پر آتش کو سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا ری ایکٹ کرے۔۔۔”ہر ایک کا سر
گھومانے والے کا سر آج اِس کزن پلٹن نے گھوما دیا تھا۔
“کچھ منٹس گُزرے کے اقدس اُن کے درمیاں ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی تھی۔۔”اُس کو آتا دیکھ کر آتش اب تھوڑا رلیکس ہوا تھا۔۔”لیکن تھوڑا کیونکہ وہ جس صوفے پر بیٹھی تھی اُس کے بلکل پاس زوہان اُس کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔”باقی چاروں اُس کے پیچھے کھڑے ہوگئے تھے۔۔”آتش نے خاصی ناپسندیدہ نظروں سے زوہان کو دیکھا جو کنفیوز سی”اقدس کو دیکھ رہا تھا۔۔”وہ انجان تھا کہ دونوں کے درمیاں چھ سال کا ایج ڈفرنس تھا۔۔”دوسرا ویسے بھی یہ چیز اُس کو کافی ناگوار لگ رہی تھی۔۔”کیوں؟”اِس بات سے وہ انجان تھا
“ماشااللہ آپ کی بیٹی بہت پیاری ہے۔۔وردہ لُغاری نے مسکراکر اقدس کو دیکھ کر کہا تو ماہا نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔”چہرہ دوسری طرف کیے آتش جبکہ خود پر ضبط کرنے میں مصروف تھا۔۔”لیکن ایک خیال کے تحت اُس نے لوازمات سے سجی ٹیبل کو دیکھا پھر ایک جوس کا گلاس اپنے ہاتھ میں پکڑا۔۔”اور سب پر ایک طائرانہ نظر ڈالے کسی کا بھی دھیان خود پر ناپاکر آتش نے جوس اپنے کپڑوں پر گِرایا
“اُففففف
“آتش اپنی قمیض جھاڑتا پریشانی سے اُٹھ کھڑا ہوا۔۔”جو کی مصنوعی تھی۔۔”جبکہ باقی سب بھی پریشانی سے اُس کو دیکھنے لگے۔
“سوری جانے یہ کیسے ہوگیا۔۔”خیر واشروم کہاں ہیں؟”آتش اُن کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔
“زینی صاحب کو واشروم تک چھوڑ آؤ۔۔زوہان نے چائے سرو کرتی ملازمہ سے کہا تو آتش جو پہلے ہی اُس پر بھرا ہوا تھا۔۔”زوہان کی ایسی بات پر اُس کو مزید تاؤ آیا۔۔”لیکن صبر کا کڑوا گھونٹ بھر کر خاموش ہوگیا
“آئے تھنک کسی فیملی میمبر کو آنا چاہیے۔۔”آتش نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو ایشال نے ناگواری سے اُلٹا آتش کو دیکھا۔۔”جس کو اُس کا زوہان کو ایسے دیکھنا پسند نہ آیا تھا
“آپ کو واشروم جانا ہے نہ تو جائے پھر۔۔”ساتھ کوئی بھی اُس سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔”ایشال نے کوفت زدہ لہجے میں کہا
“ماہا آپ کو واشروم تک چھوڑ آتی ہے۔۔”اُس کے چہرے پر چھائی ناگواری دیکھ کر ماہا جلدی سے آگے بڑھ کر بولی
“تم یہی بیٹھو۔۔”آئے آپ کو میں لے چلتا ہوں۔۔”سکندر ماہا کو تنبیہہ کرتی نظروں سے دیکھتا آتش کو دیکھ کر بولا
“اور میں بھی۔۔۔”رایان نے بھی حصہ ڈالا
“اقدس آپ جائے۔۔فاحا نے اقدس کو کہا تو وہ سٹپٹائی۔ “جبکہ آتش کے چہرے پر فاتحانہ قسم کی مسکراہٹ آئی تھی
“چلو کوئی تو عقلمند انسان یہاں رہتا ہے۔۔”فاحا کو دیکھ کر آتش بڑبڑایا
“آؤ بھی اب۔۔”اقدس کو کشمش میں مبتلا دیکھ کر آتش نے کہا تو مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق اقدس اُٹھ کھڑی ہوئی
“آئے۔۔اقدس نے آنے کا کہا تو وہ اُس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا
“یہ تمہاری ساری کزن پلٹن یہی رہتی ہے؟”ڈرائینگ روم سے باہر نکلتے ہی آتش نے اُس سے پوچھا
“نہیں یہ آج آئے ہیں۔۔”اقدس نے مختصر بتایا
“اور بلیوں کے جیسی آنکھوں والا جو تمہارے ساتھ بیٹھا تھا وہ کیوں بیٹھا تھا؟آتش کی اِس بات پر اقدس نے رُک کر اُس کو گھورا
“ہانی کی آنکھوں کا رنگ نیلا ہے تو آپ اُس کو نیلی آنکھوں والا بول سکتے ہیں۔۔”بلیوں کی آنکھوں والا نہیں۔۔اقدس نے اُس کی بات پر محض اِتنا کہا
“بلوں آنکھیں تو بلیوں کی ہوتی ہے نہ۔۔آتش نے ناک منہ چڑھایا
“اُس کی آنکھوں کا رنگ نیلا ہے۔۔”اقدس نے اپنی بات پر زور دیا
“تو نیلے کو انگلش میں بلو ہی کہا جاتا ہے۔۔”انگلش نہیں پڑھی کیا تم نے؟”آتش کو جیسے افسوس ہوا
“اِتنی زیادہ نہیں پڑھی۔۔”خیر اب آپ آئے۔۔اقدس نے سرجھٹک کر اُس سے کہا
“اچھا ایک بات سنو۔۔آتش اُس کے پیچھے پیچھے چلتا بولا
“سُنائیں؟”اقدس نے بیزارگی سے کہا
ہم تم ایک کمرے میں بند ہو اور۔۔۔۔آتش اقدس کو دیکھتا کافی رومانی انداز میں بس اِتنا گانا گاتا خاموش ہوگیا تھا
“اور؟اُس کے برعکس اقدس نے خاصے چُبھتے لہجے میں آگے گانے کا اِشارہ کیا
“اور چابی کھوجائے۔۔”اُس کے بعد سوچا آگے کیا ہوگا؟آتش دانتوں کی نُمائش کرتا آخر میں اُس سے پوچھنے لگا
“اور ہم چابی ڈھونڈنے لگ جائے۔۔۔اقدس چبا چبا کر جواباً بولی تو آتش کا دماغ بھک سے اُڑا تھا وہ خاصا بدمزہ ہوتا اقدس کو دیکھنے لگا”جو اب اُس کو اگنور کرنے میں لگی ہوئی تھی۔
“انتہا کی کوئی ان رومانٹک لڑکی ہو۔۔۔آتش اُس کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھ کر بولا تبھی اُس کی نظر دیوار پر موجود تصویروں پر گئ تو وہ چونک سا گیا۔۔”جہاں دیوار پر حویلی کے سب لوگوں کی تصویریں چسپاں تھی۔۔”آتش کی نظر ایک بڑی تصویر پر رُک سی گئ تھی۔۔”جہاں بادامی کلر کے شلوار قمیض میں اسیر کُرسی پر شان سے بیٹھا تھا اور اُس کے ساتھ مسکراتی ہوئی فاحا بیٹھی تھی۔۔”جبکہ اُن کے پیچھے اقدس۔۔”المان اور ماہا کھڑے مسکرا رہے تھے۔۔”یہ اُن پانچوں کی تصویر تھی ایک ساتھ.۔۔”جس میں آتش اقدس کو نہیں بلکہ المان کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔۔”جس نے تصویر میں سیم اسیر کے جیسی ڈریسنگ کی ہوئی تھی۔۔”دونوں کی شخصت میں کوئی فرق نہ تھا۔۔”وہ ہوبہو اُس کو اسیر کے جیسا لگا تھا۔۔
“یہ کون ہے؟”آتش نے بے ساختہ المان کی تصویر کی طرف اِشارہ کرکے پوچھا
“یہ ہمارا بھائی ہے مان۔۔۔اقدس نے بتایا
“کہاں ہے؟”آتش نے غور سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“لندن رہتا ہے۔۔اقدس نے نظریں چُراکر جواب دیا تو آتش خاموش ہوگیا۔۔۔
“واشروم۔۔کچھ قدم چل کر ایک جگہ اقدس نے اُس کو لاکر کہا تو آتش خاموشی سے واشروم میں داخل ہوگیا تھا۔
_____________________
“وہ ڈرائینگ روم میں واپس آئے تو ہر کوئی اُن کو انتظار کررہا تھا۔۔”جس پر اقدس جہاں پہلے بیٹھی تھی۔۔”وہی بیٹھ گئ۔۔”اور آتش ایشال کے پاس بیٹھ گیا۔۔
“لڑکا اور لڑکی نے پہلے سے ر
“مجھے لگتا ہے کہ اب بات کو آگے بڑھانا چاہیے۔۔”آفاق لُغاری آتش کو بیٹھتا دیکھ کر ابھی کچھ کہنے لگا تھا۔۔”جب آتش اُس کی بات درمیاں میں کاٹ کر بولا
“بات بڑھانے سے پہلے میں ہم ایک بات کرنا چاہے گے۔۔”اسیر نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں کہا
“آپ کو جو بات کرنی ہے۔۔”وہ آپ بلاجھجھک کر کرے۔۔”آپ کی بیٹی کو ہماری طرف کوئی بھی تکلیف نہیں ہوگی۔۔”وہ جو چاہے گی اُس کو ملے گا۔۔”آفاق لُغاری نے اُس کی بات پر کہا
“جی شکریہ۔۔”بات آگے بڑھانے سے پہلے۔۔”کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ہم آپ کے بیٹے یعنی آتش لُغاری کا کریکٹر سرٹیفکیٹ دیکھنا چاہے گے۔۔۔اسیر نے کہا تو اُس کی بات پر ہر کوئی خاموش ہوگیا تھا۔۔”کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایسی بھی کوئی ڈیمانڈ کرسکتا ہے۔۔”لیکن اقدس نے گھبراکر آتش کو دیکھا تھا جس کا پورا چہرہ خون چھلکانے کی حدتک سرخ ہوگیا تھا۔”اِتنے سارے لوگوں کے سامنے اسیر کا اُس سے کریکٹر سرٹیفکٹ کا کہنا کسی تماچے سے کم نہ لگا تھا۔۔”دوسرا اُس سے کبھی کسی نے ایسی چیز دینے کا کہا بھی نہیں تھا۔۔
“کریکٹر سرٹیفکٹ؟”آفاق لُغاری نے کافی متعجب نظروں سے اُس کو دیکھا عموماً لڑکی کا باپ”ہونے والے داماد کی جاب یا کمائی اور ڈگری کے مطلق بات کرتا ہے لیکن یہاں معاملہ کسی اور چیز کا نکل آیا تھا۔
“جی اسکول سے نکلوایا ہوگا نہ۔۔اسیر نے کہا تو آفاق لغاری اور وردہ لُغاری ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے جبکہ ایشال آتش کو وہ جانتی تھی آتش ایک Self obsessed انسان تھا۔۔”جس کو اپنی زات کے مطلق کوئی بھی غلط کمنٹ یا کوئی غلط بات برداشت نہ ہوتی تھی
“کریکٹر سرٹیفکٹ کا آپ نے کیا کرنا ہے؟”آپ کے سامنے بیٹھا ہوں۔۔”جو پوچھنا ہے۔”پوچھ لیجئے۔۔”لیکن یوں کریکٹر سرٹیفکٹ مانگ کر آپ میری انسلٹ کررہے ہیں۔۔آتش نے بڑے ضبط سے خود کو کچھ بھی سخت کہنے سے روک کر اِتنا کہا
“ہم بیٹی کے والد ہیں۔۔”ہمیں پتا ہونا چاہیے کہ جس شخص کو ہم اپنی بیٹی کا ہاتھ دے رہے ہیں۔۔”وہ کیسے کردار کا مالک ہے۔۔”اُس کا کوئی کردار ہے بھی یا نہیں۔۔”ہمارا نہیں خیال ایک سرٹیفکٹ کو آپ کو اِتنا اوور ری ایکٹ کرنا چاہیے۔۔۔”آپ کے بارے میں جاننا ہمارا حق ہے۔۔”آپ کا کریکٹر سرٹیفکٹ دیکھ کر ہمیں پتا چلے گا کہ جو خبریں ٹی وی پر آپ کے مطلق آتیں ہیں۔۔”وہ سہی ہوتی ہیں یا محض خبریں ہی ہوتیں ہیں۔۔اسیر نے اُس کے برعکس کافی تحمل کا مُظاہرہ کیا۔۔”باقی سب لوگ خاموش تماشائی کا رول پلے کررہے تھے
“اگر ایسی بات ہے تو ہر ڈاکیومنٹس کی طرح کریکٹر سرٹیفکٹ بھی غلط ہوسکتا ہے۔۔آتش نے اُس کی بات کے جواب میں بس یہ کہا
“وہ غلط نہیں ہوتا۔۔”آپ وہ میرے سامنے کرے۔۔”اُس کے بعد ہم کوئی فیصلہ لینگے۔۔۔اسیر نے کہا تو آتش نے کاٹ کھاتی نظروں سے زوہان کے ساتھ بیٹھی اقدس کو دیکھا جو اُس کے ایسے دیکھنے پر نظریں جُھکا گئ تھی۔۔”اُس کا دل زوروشور سے دھڑک رہا تھا۔۔”آتش پر اُس کو کوئی بھروسہ نہیں تھا وہ جانتی تھی۔۔”آتش فشاں کی طرح پھٹنے میں وہ وقت نہ لگائے گا۔۔”اور نہ کسی کا کوئی لحاظ کرے گا۔۔
“میں آتش لُغاری ہوں.۔۔”میں نے کبھی اپنی ذات مطلق کسی کو صفائی پیش نہ کی۔۔”کردار کی صفائی دینا تو بہت دور کی بات ہے۔۔”آتش اپنی جگہ جھٹکے سے اُٹھ کر بے لچک انداز میں گویا ہوا تو رایان اور سکندر نے ایک دوسرے کو دیکھا
“تیرا کریکٹر سرٹیفکٹ ہے؟”سکندر نے رایان سے پوچھا
“ہاں لیکن اُس سرٹیفکٹ میں کیا ہوتا ہے؟”یہ دیکھنے کی میں نے کبھی زحمت نہ کی۔۔رایان نے بتایا
“سیم یار اور جس طرح ماموں نے سرٹیفکٹ کو مانگا ہے۔۔”اور جس طرح آتش لُغاری ری ایکٹ کررہا ہے۔۔”ایسے میں لگ رہا ہے کہ گھر جاکر پہلی فرصت میں اُس کو دیکھنا پڑے گا۔۔”سکندر اپنی ڈارھی میں ہاتھ پھیر کر جواباً بولا
“بابا سائیں نے ایویں کریکٹر سرٹیفکٹ کی ڈیمانڈ کی ہے۔۔”ورنہ ماہا نے کبھی اِن کو کسی لڑکی کے ساتھ نہیں دیکھا۔۔”نیوز والوں کا تو دماغ خراب ہے۔۔”ماہا نے عیشا کو دیکھ کر کہا
“کیا تم آتش لُغاری کی پرسنل اسسٹنٹ ہو؟”عیشا نے اُس کی بات سن کر سوال کیا
“نہیں۔۔ماہا نے اپنا سر نفی میں ہلایا
“چوبیس گھنٹے اُس کے ساتھ رہتی ہو؟”اگلا سوال
“نہیں۔۔”وہی جواب
“اُس کو ہر جگہ فالو کرتی ہو؟
“بلکل بھی نہیں۔۔اِس بار ماہا نے اپنا سر زورشور سے ناں میں ہلایا
“پھر تمہیں کیا پتا کہ اُس کا کردار کیسا ہے؟”خالو نے جو کیا ہے۔۔”وہ ایک سہی بات ہے۔۔”ہر باپ کو ایسے تسلی کرنی چاییے۔۔”عیشا اُس کے جواب پر اپنا سر نفی میں ہلاکر بولی
“لیکن لوگ تو ڈگریاں چیک کرتے۔۔”ماہا نے کہا
“ہر ایک کی اپنی سوچ ہے۔۔عیشا نے بتایا
اچھا تو اِن کا حال دیکھ کر ماہا نے سوچ لیا ہے کہ جب اُس کی باری آئے گی تو اپنے والے کو کہے گی کہ کریکٹر سرٹیفیکیٹ گلے میں تعویذ کی طرح پہن کر آئے۔۔”تاکہ پہلی بار میں ایسی بدمزگی ہو ہی نہ۔۔۔ماہا نے غُصے سے لال بھبھو ہوتا آتش کا چہرہ دیکھ کر گہری سانس بھر کر کہا
“بیٹھ جاؤ پرسکون ہوکر۔۔”ہر بات کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا جاتا۔۔”اِس میں تمہاری کوئی انسلٹ نہیں۔۔۔”تمہاری انسلٹ تب ہوتی۔۔”جب آپ نے اپنے آنے کا بتایا اور ہم نے انکار کرلیا ہوتا۔۔اسیر نے اُس کو بیٹھنے کا اِشارہ کرتے ہوئے کہا تو اپنے ہونٹوں کو سختی سے بھینچتا آتش واپس بیٹھ کر اپنے پاؤ جہلانے لگا
“کریکٹر سرٹیفکٹ آپ کے لیے زندگی اور موت کی طرح ضروری ہے تو ٹھیک ہے وہ آپ کو مل جائے گا۔۔”آپ دیکھ لینا۔۔”لیکن ابھی کیا جس مقصد کے لیے آئے ہیں۔۔”اُس بارے میں بات ہوجائے؟”میرا آدمی سرٹیفکٹ لیکر آجائے گا۔۔کچھ وقت میں۔۔”آفاق لُغاری نے کہا تو اسیر نے سر جنبش دینے پر اکتفا کیا۔۔”لیکن آتش خاموش رہا تھا۔۔۔”جبکہ وردہ لُغاری نے کال پر گارڈز سے مختصر بات کرکے اندر آنے کا کہا تو اُن کو ڈھیر سارا سامان لاتا دیکھ کر ہر کوئی اپنی جگہ حیران ہو رہا تھا۔
“یہ سارا سامان؟”اور مٹھائیاں بھی لگتا ہے کسی نے شیورٹی دی تھی کہ ہاں ہوگی۔۔”سکندر حیرانگی سے بولا اور اُس کے الفاظ یہ اقدس کے کانوں پر بھی پڑے تھے۔۔”جس پر وہ اپنی جگہ چور سی بن گئ تھی۔
“اِن تکلفات کی کیا ضرورت تھی؟”فاحا مٹھائیوں فروٹس کے ٹوکرے اور دیگر سامان دیکھ کر وردہ لُغاری سے بولی
“زیادہ تو نہیں بس اِن سارے ڈریسز سے آپ ایک جوڑا اقدس بیٹی کو دے کر تیار کرے تاکہ پھر منگنی کی رسم ادا ہو۔۔”باقی کے سارے فنکشن تو بہت دھوم دھام سے ہوگے۔۔وردہ لُغاری نے کہا تو فاحا نے اسیر کو دیکھا جس نے نظروں ہی نظروں میں حامی بھری تو فاحا اقدس کی طرف بڑھی تھی۔
