Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 28)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 28)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“کچھ دیر بعد عفان ابھی اپنی فیملی کے ہمراہ پُہنچ گیا تھا۔۔”جس کا استقبال گرمجوشی سے کیا گیا تھا
“خوریہ جاؤ اور حور کو لے آؤ۔۔رافیہ بیگم نے خوریہ کو دیکھ کر کہا جو اب کافی حدتک پرسکون ہوگئ تھی۔
“اماں وہ آپ زرا آئے میری بات سُننا۔۔خوریہ اُن کی بات کے جواب میں بولی
“یہ وقت بات سُننے یا سُنانے کا نہیں تم بس جلدی حور کو لے آؤ۔۔”نکاح خواہ انتظار میں ہے۔۔رافیہ بیگم نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
“اماں میری بات بھی ضروری ہے۔۔”آپ دو منٹ آئے۔۔”خوریہ اپنی بات پر بضد رہی تو رافیہ بیگم تھوڑا پریشان ہوئی اور اُس کو لیکر کمرے میں آئیں
“حور کیا ابھی تک تیار نہیں ہوئی؟”اور نکاح کا جوڑا جوں کا توں کیوں پڑا ہے؟”رافیہ بیگم کی نظر بیڈ پر موجود نکاح کے جوڑے پر گئ تو خوریہ سے سوال کیا
“اماں یہ جوڑا حور نہیں پہنے گی۔۔خوریہ نے بتایا
“کیا مطلب نہیں پہنے گی؟”ہے کہاں وہ ابھی میں بات کرتی ہوں اُس سے۔۔۔۔رافیہ بیگم اُس کی بات سن کر بولی
“وہ نہیں ہے یہاں۔۔۔خوریہ نے بتایا
“نہیں ہے؟
“کہاں گئ وہ؟”گھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے اُس کو پتا تھا کہ اُس کا نکاح ہے۔۔”وہ کیسے جاسکتی ہے پھر۔؟
حور
حور
“جہاں کہی چُھپ بیٹھی ہو سامنے آؤ۔۔رافیہ بیگم اُس کی بات سن کر پریشانی میں مبتلا ہوتی واشروم چیک کرنے لگی اُن کو لگا شاید وہ وہاں لیکن خالی واشروم دیکھ کر وہ واپس خوریہ کے سامنے کھڑی ہوئی
“سچی سچی بتاؤ کہاں ہے وہ۔۔؟رافیہ بیگم نے سنجیدگی سے پوچھا
“جہاں بھی ہے محفوظ ہے۔۔خوریہ نے بتایا
“خوریہ میں نے پوچھا حور کہاں ہے؟”رافیہ بیگم اپنی بات پر زور دے کر بولی
“وہ گھر پر نہیں ہے۔۔خوریہ نظریں چُرا کر بولی
“گھر پر نہیں؟”تو کیا تمہارا ابا کل ٹھیک بات کررہا ہے وہ کسی لڑکے
“رافیہ بیگم مزید بول نہ پائی
“ایسی کوئی بات نہیں ہے اماں میری رات کو حور سے بات ہوئی تھی اِس متعلق اُس نے مجھے سب بتایا۔۔”اُس کی ایک چھوٹی سی غلطی پہاڑ بن گئ تھی۔۔خوریہ اُن کو کندھوں سے تھام کر بولی
“اگر ایسی کوئی بات نہ تھی تو وہ کہاں ہے؟”آج اُس کا نکاح ہے اور نکاح کے دن اُس کو یہی رہنا تھا۔۔رافیہ بیگم کا دل انجانے ڈر سے خوفزدہ ہوگیا تھا۔
“وہ اماں میں نے اُس کو گھر سے باہر جانے کا بول دیا۔۔”اُس کا نکاح عفان سے نہیں ہوگا۔۔”اُس کی ساری زندگی برباد ہو
“چٹاخ
“خوریہ اُن کو ابھی سب کچھ بتانے لگی تھی۔۔”جب رافیہ بیگم نے تھپڑ اُس کے چہرے پر مارا
“بدبخت یہ کیا کردیا۔۔”پوری زندگی کی کمائی ہوئی عزت میلا میٹ کردی۔۔”بیڑا غرق ہو تمہارا خوریہ یہ کیا کردیا تم نے۔۔رافیہ بیگم اُس کو جھنجھوڑ کر بولی جو اپنے گال پہ ہاتھ رکھ کر کھڑی تھی
“مار مار کر جان سے ماردے۔۔”لیکن میں یہی کہوں گی۔۔”ہم انسان ہیں جانور نہیں جس کو جہاں مرضی چاہے باندھ دینگے آپ لوگ۔۔”سوری ٹو سے لیکن آنکھ دیکھی مکھی کوئی نہیں نگلتا تو پھر میں کیسے حور کو نگلنے دیتی۔۔خوریہ کو اپنے عمل پر کوئی پچھتاوا نہ تھا
“عفان کو تو تم نے مکھی بنالیا لیکن اِتنا بڑا قدم اُٹھانے سے پہلے یہ سوچا کہ اُس کی غیرموجودگی میں لوگ کس طرح کی باتیں بنائے گی۔۔”اُس کے بھاگ جانے پر کیسے کیسے بہتان لگایا جائے گا۔۔”تم نے کوئی اُس کے لیے آسانی پیدا نہیں کی بلکہ اُس کے لیے مزید مشکلیں کھڑی کردی ہیں۔۔”تمہارا ابا اُس کو ڈھونڈ کر جان سے مردے گا۔۔”تمہیں پتا ہی کیا ہے اپنے باپ کے بارے میں۔۔رافیہ بیگم کو سمجھ نہیں آرہا تھا ورنہ وہ جانے کیا کرجاتی
“اماں لوگوں کو تو آپ چھوڑدے۔۔”کل جب ابا ہوش گنوا چُکے تھے تب یہ محلے کے لوگ ہمیں بچانے نہ آئے تھے۔۔”بس گھر میں بیٹھ کر چسکا لے رہے تھے۔۔”خوریہ نے سرجھٹک کر کہا
“اب جو گھر میں آفت آئی ہے اُس کو کیسے ہینڈل کرو گی؟”تم اپنے ابا کو یہ بتاؤ گی تو کیا وہ تمہیں شاباشی دینگے؟”رافیہ بیگم نے طنز لہجے میں سوال کیا
“میں نے آپ کو اِس لیے بتایا تاکہ آپ عفان کی فیملی کو جانے کا بولے۔۔”خوریہ بیڈ پر بیٹھتی ایسے بولی جیسے سارا کچھ چٹکیوں میں ہوجائے گا
“جتنی آسانی سے تم نے یہ سارا کارنامہ انجام دیا ہے نہ۔۔”اگر یہ سب اِتنا آسان ہوتا تو کوئی مسئلہ نہ تھا۔۔”اب تم اُٹھو اور یہ جوڑا پہن کر آؤ۔۔۔رافیہ بیگم نے کہا تو خوریہ سراُٹھائے اُن کو ایسے دیکھنے لگی جیسے کچھ سُن لیا ہو
“کیا کہا آپ نے؟”بیڈ سے اُٹھ کر وہ ناسمجھی سے اُن کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“میں نے کہا اُٹھو اور یہ جوڑا پہن کر آؤ۔۔۔رافیہ بیگم نے اپنے الفاظ دوبارہ دوہرائے
“اماں یہ جوڑا میں کیسے پہن سکتی ہو؟”یہ میرا نہیں حوریہ کے لیے آیا تھا۔۔خوریہ نے جیسے یاد کروایا
“حور کہی نظر آرہی ہے تمہیں؟”رافیہ بیگم نے پوچھا
“اماں لیکن میں کیوں پہنوں؟”خوریہ ابھی تک اُن کی بات کا مفہوم سمجھ نہیں پائی تھی۔
“دو ماہ بعد تم بیس سال کی ہوجاؤ گی۔۔”اِتنی کوئی چھوٹی کاکی نہیں جس کو میری بات سمجھ آ نہیں رہی۔۔۔رافیہ بیگم نے طنز کہا
“یقین کرے میں آپ کی بات واقعی میں نہیں سمجھی۔۔خوریہ اُلجھن بھری نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولی
“تمہارے ابا کو میں جیسے تیسے کرکے مہمانوں کی موجودگی تک سنبھالوں گی تم بس تیار ہوجاؤ۔۔”عفان سے تمہارا نکاح ہوگا۔۔۔رافیہ بیگم نے صاف الفاظوں میں اُس کو بتایا تو خوریہ سکتے کے عالم میں آگئ
“اماں عفان سے میں نکاح؟”آپ کو پتا بھی ہے کہ آپ بول کیا رہی ہیں؟”خوریہ جیسے ہوش میں آئی
“ہاں میں جانتی ہوں کہ میں کیا بول رہی ہوں۔۔”وقت نہیں ہمارے پاس اِس لیے تم جلدی کرو۔۔رافیہ بیگم نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں کہا
“اماں شاید آپ کو یاد نہیں تو میں بتادو۔۔”میں عرفان کی منگ ہوں۔۔خوریہ ضبط سے بولی
“عرفان ہو یا پھر عفان اُس سے کیا فرق پڑتا ہے؟”شادی کرکے جانا تو ایک ہی گھر میں ہے نہ۔۔رافیہ بیگم نے کہا تو خوریہ کو یقین نہ آیا کہ یہ الفاظ ادا کرنے والی اُس کی ماں ہے۔۔”وہ ماں جنہوں ہمیشہ اُن کا ساتھ دیا تھا۔۔”اور آج جو بات اُنہوں نے کی تھی۔۔”اُس بات پر وہ چاہ کر بھی یقین نہیں کرپارہی تھی
“یہ آپ کہہ رہی ہیں؟”خوریہ سے کچھ بولا نہیں گیا
“ہاں یہ میں بول رہی ہوں۔۔”تم نے جو کارنامہ انجام دیا ہے۔۔”ظاہر سی بات ہے اُس کا انعام تو اب تمہیں ملے گا۔۔رافیہ بیگم نے طنز کہا
“اماں وہ عفان؟” میں اُس سے شادی کیسے کرسکتی ہوں؟”خوریہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے
“حور کو یہاں سے نکالنے سے پہلے تم سوچتی تو ایسی نوبت ہی نہ آتی۔۔۔رافیہ بیگم تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولی
“جو بھی وہ مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا میں اُس کو حور کے لیے ناپسند کرچُکی ہوں تو خود کیسے اُس سے نکاح کرسکتی ہوں۔۔خوریہ نے زور شور سے اپنا سر نفی میں ہلایا
“اپنی عزت بچانے کا یہی ایک واحد طریقہ ہے ہمارے پاس۔۔رافیہ بیگم اُس کو دیکھ کر بولی
“اچھا طریقہ ہے اپنی عزت بچانے کے چکر میں بیٹوں کو قُربان کردیا جائے۔۔خوریہ افسوس سے اُن کو دیکھ کر بولی
“خور۔۔۔رافیہ بیگم نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا
“نہیں اماں۔۔۔خوریہ اُن کی بات ماننے کو تیار نہ تھی
“خور اِس سے پہلے کسی کو شک ہوجائے تم جلدی سے کپڑے پہن لو۔۔”میں تب تک باہر کے معاملات دیکھتی ہوں۔۔رافیہ بیگم نے جوڑا اُٹھاکر اُس کو پکڑایا
“اماں مجھ پر یہ ظلم نہ کرے۔۔خوریہ نے ہاتھ جوڑ کر منت کی
“یہ ظلم میں نے نہیں تم نے خود اپنے ساتھ کیا ہے۔۔”ناکہ حور کو بھگاتی اور نہ تمہارا عفان سے نکاح ہوتا۔۔”اب اگر غلطی کی ہے تو سزا کے لیے بھی تیار ہوجاؤ۔۔رافیہ بیگم نے بے رُخی سے کہا تو اُس کا سر نفی میں ہلنے لگا۔۔”عفان کے بارے میں خیال آتے ہی اُس کو وحشت سی ہونے لگی تھی
“اماں آپ ابا کا غُصہ ٹھنڈا کرواسکتی ہیں۔۔خوریہ نے اُن کو سمجھانا چاہا
“خوریہ پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس جلدی سے کپڑے بدل لو۔۔۔رافیہ بیگم اُس سے کہتی کمرے سے باہر نکل گئ۔۔”پیچھے خوریہ کا پورا چہرہ آنسو سے تر ہوگیا تھا۔۔”اُس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ پل بھر میں اُس کی زندگی نے یہ کیسا موڑ کھایا تھا۔۔”وہ جس دلدل سے حوریہ کو باہر نکالنا چاہتی تھی۔۔”وہاں اب خود بُری طرح سے پھس چُکی تھی۔۔”اِتنا کہ اب واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا اُس کے پاس









“آتش بیٹھو تم سے بات کرنی ہے۔۔آتش جو گھر سے باہر جارہا تھا۔۔”آفاق لُغاری کی بات پر چونک کر اُن کو دیکھنے لگا
“آپ کو مجھ سے بات کرنی ہے۔۔؟”مجھ سے یہ حقیقت ہے یا میرا خواب۔۔”جو میں چلتے پِھرتے دیکھ رہا ہوں۔۔آتش حیرانگی کی انتہا کرتا بولا
“ڈرامہ ختم ہوگیا ہو تمہارا تو یہاں بیٹھ جاؤ۔۔۔آفاق لُغاری نے اُس کو گھور کر کہا تو آتش اپنے ہاتھ کھڑا کرتا صوفے پر آرام سے براجمان ہوا
“فرمائے مجھ سے آپ نے کیا گفتگو کرنی ہے۔۔”ہم آپ کی گفتگو کا محو جاننا چاہتے ہیں۔۔آتش اب بھی غیرسنجیدگی سے بولا
“محو؟آفاق لُغاری نے تپی ہوئی نظروں سے اُس کو دیکھا
“ٹاپک۔۔آتش نے کان کی لو کُھجاکر جواب دیا
“پنجاب میں الیکشن کی تیاریاں شروع ہوچکیں ہیں۔۔”یہاں تو نہیں لیکن اب تمہیں پنجاب شفٹ ہوجانا چاہیے۔۔”کیسے بھی کرکے تمہیں الیکشن میں کھڑا ہونا ہے اور جیتنا بھی ہے۔۔۔آفاق لُغاری نے سنجیدگی سے کہا
“بس یا کچھ اور؟”آتش نے پوچھا
“آتش یہ ایک سیریس میٹر ہے۔۔”تمہیں سیریس بننا چاہیے۔۔”تم کوئی چھوٹے بچے نہیں ستائیس سال کے میچیور مرد ہو۔۔”تمہیں ایسی مزاحیہ باتیں مزاحیہ انداز زیب نہیں دیتا۔۔۔آفاق لُغاری نے سخت لہجہ اپنایا
“میں نے آپ سے کون سے مزاکرات کیے ہیں۔۔”آپ نے جو کہا وہ میں نے سُنا تو ظاہری سے بات ہے اب میں اپنے کام سے جاؤں گا نہ۔۔آتش نے بیزارگی سے کہا
“تمہاری اِس بیزارگی سے میں کیا مطلب اخذ کروں کہ تم اپنی زندگی میں یوں آوارہ اپنے باپ کے پیسوں پر عیاشی کرنا چاہتے ہو؟”آفاق لُغاری نے غُصیلے انداز میں کہا
“ہاں کیوں اِس میں کوئی بُرائی تو نہیں باپ کماتا بھی تو اولاد کے لیے ہے نہ تو اگر اُن کی کمائی سے اولاد بغیر ہاتھ پاؤ چلائے اُن کے پیسوں پر زندگی جینا چاہتی ہے تو اِس میں مسئلہ کیا ہے؟”یہ تو ایک اچھی بات ہے آپ کو تو فخر ہونا چاہیے مجھ پر۔۔۔آتش بڑے سکون سے کہتا اُن کا سکون غارت کرگیا
“آتش اگر تم نے الیکشن میں دلچسپی ظاہر نہ کی تو پچھتاؤ گے۔۔۔آفاق لُغاری نے اُس کی پشت کو دیکھ کر کہا جو اب جانے کی تیاری میں تھا
“سیدھی سی بات ہے ڈیڈ سیاست میں داخل ہوکر میں یہ بڑی بڑی گھیردار شلوار نہیں پہن سکتا اور نہ گُھٹنوں تک آتی قمیض کہ اُپر واسکٹ۔۔”اُففففف بہت اریٹیٹنگ ڈریسنگ ہے۔۔”جسٹ فیل لائیٹ ڈیٹ کہ میں کوئی پنجابی کُڑی ہوں جس نے پٹیالا شلوار قمیض پہننی ہے۔۔”میں اپنی زندگی میں بہت پرسکون ہوں(دوسروں کا سکون غارت کرکے)”خود کا سکون ضائع کرنے کا مجھے کوئی شوق نہیں تو مجھے تو بس آپ بخش دے۔۔آتش نے ہاتھ کھڑے کیے کہا
“سیریسلی آتش پچکانہ باتوں کی بھی حد کرتے ہو تم یعنی تم اِس لیے سیاست میں قدم نہیں رکھنا چاہتے تاکہ تمہیں شلوار قمیض نہ پہننا پڑے۔۔آفاق لُغاری نے بہت بُری طرح سے اُس کو گھورا۔۔”اُن کو کم از کم آتش سے اِس سوچ کی اُمید ہرگز نہ تھی
“اور بھی مسئلہ ہے۔۔”مجھ سے دونوں ہاتھ کھڑے کیے یہ نہیں بولا جائے گا کہ
السلام علیکم پیارے لوگوں کیا حال چال ہے میرے سیاست میں آنے کے بعد تم لوگوں کے حال سنبھلے ہیں یا مزید بیڑا غرق ہوا ہے۔۔۔”آلو پیاز ٹماٹر پہلے کتنے کلو تھے اور اب کتنے کلو ہیں۔۔”یہ ایک طرح کی چاپلوسی ہے جو میں نہیں کرسکتا۔۔آتش کی بات پر آفاق لُغاری بال نوچنے کے قریب ہوئے تھے
“سیاست میں آنے کے بعد مجھے تو ہر سبزی کی قیمت کی خبر رکھنی ہوگی۔”اور یہ بھی کہ انڈے کتنے درجن ہوتے ہیں۔۔”آتش جھرجھری لیکر بولا
“تمہیں باہر جانا تھا نہ جاؤ۔۔آفاق لُغاری نے ضبط سے کہا جس طرح سے آتش نے سیاسی لوگوں کا نقشہ اُتارا تھا یہ سارا نقشہ اُس کی زبانی سُن کر اُن کا پورا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا تھا
“ہاں میں جارہا ہوں۔۔”اور میں کیا کہہ رہا تھا کہ میڈیا والوں کی نظر تو ویسے بھی مجھ پر ہوتی ہے آئے دن کوئی نہ کوئی اسکینڈل چھپا رہتا ہے۔۔”اب جب سیاست میں آؤں گا تو دن میں کتنی بار واشروم میں آتا جاتا ہوں یہ بھی اخباروں کی سُرخیوں میں آئے گا۔۔”یعنی پھر میں اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں ہوگا۔۔آتش ٹیبل پر موجود فروٹ باسکٹ سے ایک اورینج اُٹھا کر مزید کہا
“تم جاسکتے ہو لیکن میری بات سُن لو جو سیٹ میں نے تمہارے لیے سوچی ہوئی ہے پھر اُس سیٹ پر کوئی اور بیٹھ جائے گا۔۔آفاق لُغاری نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
“ظاہر ہے وہ میری ملکیت میں تو ہے نہیں “جو میں نہ بیٹھا تو کوئی اور بھی نہ بیٹھ پائے گا۔۔میرے نہ بیٹھنے پر تو کوئی نہ کوئی بیٹھ ہی جائے گا۔۔آتش نے سرجھٹکا
“وہ ماجد ہوگا۔۔آفاق لُغاری نے کہا تو آتش الرٹ ہوا
“ماجد؟”آتش کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا
“ہاں ماجد اب تمہاری مرضی ہے۔۔”پنجاب والی سیٹ چاہیے یا نہیں۔۔”اگر اِس بار تم نے میری بات مانی تو پھر کچھ سالوں بعد سی ایم کی کُرسی تمہاری۔۔۔آفاق لُغاری نے بغور اُس کے تاثرات جانچ کر کہا
“دبائی تو آپ نے میری دُکھتی رگ ہے خیر آپ اِتنی منتیں کررہے ہیں تو آپ کے لیے میں اپنی زندگی کے خوبصورت پرسکون پانچ سال آپ پر ضائع کرلیتا ہوں۔۔آتش نیم رضامند ہونے کے باوجود آگ میں پیٹرول کا کام کرتا وہاں سے نو دو گیارہ ہوگیا تو پیچھے آفاق لُغاری بس ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کے رہ گئے










“رایان کیوں اُداس بُلبل بنا ہوا ہے۔۔عیشا نے رایان کو دیکھ کر چھیڑنے والے انداز میں کہا
“موم ڈیڈ کہاں ہیں مجھے اُن سے ضروری بات کرنی ہے۔۔جواب میں رایان نے سنجیدہ انداز میں پوچھا تو عیشا چونک سی گئ
“جگو از ایوری تھنک آلرائٹ؟۔”عیشا کو اُس کا اِس قدر سنجیدہ ہونا ہضم نہ ہوا
“مجھے موم ڈیڈ سے بات کرنی ہے۔۔”اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہتا رایان کمرے سے باہر نکل گیا تو عیشا بھی اُس کے پیچھے جانے لگی جو باہر نکل کر بہت تیزی سے سیڑھیاں اُتر رہا تھا
“جگو ایک منٹ رُک کر بتاؤ تو سہی کہ بات کیا ہے؟”عیشا بھی اُس کے ساتھ ساتھ سیڑھیاں اُترتی پریشانی کے عالم میں پوچھنے لگی
“موم
“ڈیڈ
آپ دونوں کہاں ہیں؟رایان عیشا کو نظرانداز کیا اور ہال کے بیچوں بیچ کھڑا ہوتا اُونچی آواز میں اُن کو پُکارنے لگا تو اُن کے ساتھ ساتھ سوہان بھی نیچے آتی رایان کو دیکھنے لگی
“رایان کیا بات ہے؟”سوہان کو وہ ٹھیک نہ لگا
“میں لاہور جانا چاہتا ہوں۔۔رایان نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بتایا تو عیشا کی جیسے اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی۔۔”ورنہ جیسا رایان نے اپنا روپ ظاہر کیا تھا ایسے میں اُس کو لگ رہا تھا کہ دو تین لوگ تو وہ مار گِرائے گا
“میں تو ڈر گئ تھی کہ جانے کیا بات ہوگی۔۔عیشا پرسکون ہوکر صوفے پر بیٹھتی بولی
“لاہور کیوں جانا ہے؟”میشا نے سنجیدگی سے پوچھا تو عیشا نے اپنی عقل پر ہاتھ مارا
“اسٹڈی کے لیے۔۔رایان نے جواب دیا
“یہاں بھی تمہاری اسٹڈی ہورہی ہے۔۔آریان اُس کو دیکھ کر بولا
“جی لیکن میں یہاں نہیں رہ سکتا۔۔”میں لاہور جاکر پڑھنا چاہتا ہوں تاکہ میرا دھیان صرف اور صرف اپنی اسٹڈی کی طرف ہو۔۔۔رایان نے بتایا
“رایان یہ سب اچانک تمہارے دماغ میں خیال کیسے آیا؟”کل تک تو تم نے ایسی کوئی بات نہ کی تھی۔۔سوہان حیران ہوئی تھی
“آج کی ہے دوبارہ نہیں کرے گا۔۔”میں سب سمجھ رہی ہوں تمہارا ڈرامہ۔۔”اب بس بہت ہوگیا اپنے کمرے میں جاؤ۔۔میشا کو تاؤ آیا
“آپ اگر واقعی میں مجھے اور میری فیلینگز کو سمجھتی تو بات یہاں تک آتی ہی نہ۔۔رایان اُس کو دیکھ کر دُکھ سے بولا
“رایان تم رلیکس مائینڈ کے ساتھ بیٹھو زوریز آئے تو پھر بات ہوگی۔۔سوہان نے نرمی سے کہا
“اب بات نہیں ہوگی خالہ میں نے فیصلہ کرلیا ہے اور میرا فیصلہ اٹل ہے۔۔”اگر میری بات مانی نہ گئ تو میں ہر چیز سے بائیکاٹ کرلوں گا۔۔رایان کا آج انداز ہی بدلا بدلا ہوا سا تھا
“تم ابھی اِتنے بڑے نہیں ہوئے جو فیصلے کرپاؤ۔۔میشا نے اُس کو ٹوک کر کہا
“اٹھارہ سال کا بالغ انسان ہوں۔۔”اور میرے پاس یہ رائٹ ہے کہ میں اپنی زندگی کا کوئی بھی فیصلہ بخوبی کرسکتا ہوں۔۔۔رایان بے لچک انداز میں بولا
“یہ بیٹھے بیٹھائے تم میں لاہور جانے کا بھوت کیسے سوار ہوگیا ہے؟”آریان جان نہ پایا
“آپ کا جگو اب مجنوں ہوگیا ہے۔۔عیشا نے لقمہ دیا
“خود تمہیں تو ہر چیز بنی بنائی پلیٹ میں سجی ہوئی ملتی ہے۔۔”تو ظاہری بات ہے دوسروں کے لیے تو تمہیں یہی کہنا ہے۔۔عیشا کو دیکھ کر رایان طنز بولا تو عیشا کو گویا صدمہ لگ چُکا تھا وہ حیرت کا بُت بنی اُس کو دیکھنے لگی جس نے زندگی میں پہلی بار اُس سے روڈلی بات کی تھی
“بیہیو یوئر سیلف رایان میں تمہیں اجازت نہیں دوں گا کہ بہن کے ساتھ ایسے پیش آؤ۔۔آریان اُس کو جھڑک کر بولا
“مجھے بھی یہاں کسی سے کوئی بات کرنی ہے بھی نہیں میں بس یہاں سے دور لاہور جانا چاہتا ہوں۔۔رایان نے سنجیدگی سے کہا
“لاہور جاکر کونسے تیر مارنے ہیں جو یہاں نہیں مارسکتے؟”میشا نے سنجیدگی سے پوچھا
“میں نے سوچ لیا ہے کہ میں ASP بنوں گا اور اُس کے لیے پہلے”میں BS کروں گا جس میں چار سال لگ جائے گے۔۔”اُس کے بعد ماسٹر کروں گا جس کی minimum (تقریباً) دو سال ہوگی تو اِتنی ایجوکیشن مسٹ ہے۔۔”اے ایس پی بننے کے لیے اُس کے بعد ہوگی۔”CSS کی تیاری پھر اُس کے جو ایکزامز ہوتے رہنگے جیسے گرینڈ فائنل میں پُہچنے کے لیے پھر لاسٹ میجر میں جو پاس ہوا اور پھر فائنل انٹرویو ڈسکشن ہوگا۔۔رایان نے بنا رُکے بتایا تو عیشا ہونک بنی اُس کا منہ تکتی رہ گئ اُس کو یقین نہ آیا کہ اِتنی پڑھائی کا جذبہ اُس کے بھائی جگو میں جاگا ہے جس سے ایک اسائمنٹ نہیں بن پاتا تھا وہ آج CSS سے کرنے کی بات کررہا تھا۔
“یہ سب کرنے میں تم لگ بگ تیس سال کے ہوجاؤ گے۔۔۔جس طرح رایان نے اپنی پڑھائی کا حساب لگایا ٹھیک ویسے عیشا نے اُس کی ایج کا حساب لگایا
“Does not matter.
رایان نے مختصر کہا تو آریان اور میشا ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔”اُن کو سمجھ آگئ کہ رایان اپنی جگہ بضد ہے اگر وہ کسی صورت میں اُس پر روک ٹوک کرینگے تو وہ باغی ہوجائے گا۔۔”دوسرا وہ اگر سنجیدگی سے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ انکار کر بھی نہیں سکتے تھے۔
“لاہور ہی کیوں؟”یہاں کیوں نہیں؟”اُس کی ساری بات سُن کر سوہان نے پوچھا
“آپ نے بھی اپنی اسٹڈی پاکستان سے باہر کی تھی۔۔’سنگر بن نے کے لیے مان بھی باہر گیا ہے۔۔”میں تو پھر بھی شہر سے باہر جارہا ہوں تو آپ لوگوں کو اِتنا ایشو کیوں ہورہا ہے؟رایان اِس بار چڑ کر بولا
“تمہاری یونی میں بات کرکے ہم تمہارے لاہور جانے کا بندوبست کرتے ہیں۔۔”اِس اُمید کے ساتھ کہ جو تم نے کہا ہے وہ کروگے۔۔آریان اُس کا مزاج دیکھ کر سنجیدگی سے بولا جبکہ میشا سوہان کو لیکر اندر کی طرف بڑھی تھی۔۔”آج تک اُس نے یا فاحا میں سے کسی نے بھی سوہان سے ایسے بات نہ کی تھی اور رایان کا اُس سے ایسے بات کرنا اُس کو شرمندگی میں مبتلا کرگیا تھا۔
“خالو اسیر نے سہی بولا تھا کہ مان باہر نہ جائے کیونکہ اگر وہ جائے گا تو دوسروں کو بھی رستہ مل جائے گا۔۔”اب دیکھ لے مل گیا سب کو رستہ۔۔۔سوہان اور میشا کے جانے کے بعد عیشا نے خاموش کھڑے آریان کو دیکھ کر کہا پھر وہ بھی اُٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔۔
