Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 46)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 46)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“پندرہ سالہ آتش اپنے کلاس روم میں داخل ہوا تو اپنی سیٹ پر ایک چِٹ دیکھ کر اُس کو تعجب ہوا۔۔”لیکن جب اُس چٹ کو ہاتھ لیکر کھول کر دیکھا تو اُس میں بڑا سا Loser”لکھا تھا۔۔”اور یہ پڑھ کر اُس کا خون کھول اُٹھا تھا۔۔”کیونکہ کلاس میں جو اسٹوڈنٹس تھے وہ قہقہقہ لگانے لگے تھے۔۔”اپنے بیگ کو سیٹ پر رکھتا وہ کف فولڈ کرتا غُصے سے کلاس سے باہر آیا تھا۔۔”ایک کے ہاتھ میں شیشے کی بوتل دیکھ کر اُس کو جانے کیا سوجھی جو اُس کے ہاتھ سے وہ بوتل چھینتا گراؤنڈ میں آیا جہاں بچے فری پیریڈ میں کِھیلنے میں مصروف تھے۔۔”لیکن آتش کی متلاشی نظریں اِس وقت کسی اور کو دیکھنا چاہتیں تھیں۔۔”جو جلدی اُس کو نظر آگیا اپنے دوستوں کے ساتھ قہقہقہ لگا رہا تھا۔۔”اُس کو ایسے دیکھ کر وہ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجاتا ہاتھ میں پکڑی بوتل کو دیکھنے لگا۔۔۔”اُس بوتل کو پوری قوت سے اپنے بازو پر مارتا وہ مسکراکر بازو سے بہتے پہلے اپنے خون کو دیکھنے لگا پھر وہ بوتل ساجد کے چہرے کا نشانہ لیکر اُس کی طرف پھینکی۔۔”لیکن اُس سے پہلے وہ بوتل ساجد کو لگتی کوئی اچانک سے سامنا آگیا تو آتش ہکہ بُکہ سا اُس کو دیکھنے لگا جہاں کوئی بچی زور سے چیخے مار رہی تھی۔۔”اُس کو محسوس ہوا جیسے وہ اُس کو بہت زور سے لگی تھی۔۔”اُس کے گرد بچوں کا جھڑمٹ جمع ہوگیا تھا۔۔”اپنے بالوں میں پریشانی سے ہاتھ پھیرتا وہ گومگو کی کیفیت میں وہی کھڑا رہا تھا۔۔”پہلا خیال آیا کہ جاکر دیکھے کہ کس کو لگی؟”اور کہاں لگی۔۔”لیکن ابھی اپنی وہ اُن سوچو میں تھا جب اُس کے دوست کھینچ کر اُس کو وہاں سے لے گئے تھے۔۔










I will not go anywhere.
صوفے پر بیٹھے پاؤں جہالتے آتش نے سرد لہجے میں اپنے ماں باپ سے کہا جو ملازمین سے کہہ کر اُس کا سامان پیک کروا رہے تھے۔۔”پاس سات سے آٹھ سالہ ایشال اپنی گُڑیا کو پکڑے یک ٹک اُس کو دیکھ رہی تھی۔۔”جس کا پورا چہرہ سُرخ تھا۔۔”اور اُس کے بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی
Do you have any idea what you have done today?
“وردہ لُغاری نے کاٹ کھاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“میں نے کہا میں کہی نہیں جاؤں گا سُنا آپ نے۔۔”اپنی جگہ سے اُٹھتا وہ چیخ کر بولا
“چٹاخ۔۔۔
“وردہ لُغاری نے ایک زناٹے دار تھپڑ اُس کے گال پہ مارا تھا۔۔”جس پر ایشال سہم کر اُن دونوں کو دیکھنے لگی۔
“چیخنا۔۔”چلانا۔۔”مارنا پیٹنا بس یہی کام ہے جو تمہیں آتا ہے۔۔”مہنگی سے مہنگی تعلیم تمہیں اخلاقیات حاصل کرنے کے لیے دلوا رہے ہیں۔۔”اور تم وہاں جاکر مزید بدتمیزیوں پر اُتر آئے ہو۔۔”وردہ بیگم سخت نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا جس کا سانس غُصے کی شدت سے پُھول گیا تھا۔
“موم نے آتش بھائی کو مارا۔۔۔۔”آفاق لُغاری جو کال سُننے کے لیے وہاں سے اُٹھ گئے تھے۔۔”وہ جب واپس آئے تو ایشال نے بتایا
“اپنے کمرے میں جاؤ۔۔”ورنہ تمہیں بھی ایک کھینچ کر ماروں گی۔۔”جب سے یہ دونوں میری زندگی میں آئے ہیں۔۔”میرا جینا اجیرن کردیا ہے۔۔”وردہ لُغاری نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو اُس کا حلق تک خشک ہوا تھا
“اُس کو کیا ڈرا رہی ہیں۔۔”مجھ سے بات کرے آپ۔۔”ڈری ہوئی ایشال کو گود میں اُٹھاتا آتش اپنی ماں کو گھورنے لگا
Control yourself, you are talking to your mother, not to anyone else.
“آفاق لُغاری اُس کو جھڑک کر بولے
“یہ ماں تب کہاں ہوتی ہے؟”جب ہمیں اِن کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔۔”دو دن پہلے ایش بُخار کی شدت سے مرنے کے قریب تھی۔۔”اِن کو پتا تھا لیکن جانے کہاں تب اِن کی ممتا مری ہوئی تھی؟”اِن کو پارٹیوں سے فُرصت ملے تو پتا ہو نہ اِن کی اولاد بھی ہے۔۔”میری تو خیر ہے میری چھوڑے میں بڑا ہوگیا ہوں۔۔”لیکن اگر بچہ کیری اِن سے ہو نہیں سکتا تو ابارشن کروالیا کرے نہ۔۔”ایش کو جنم دے کر ملازموں کے آگے پھینک دیتی ہیں جیسے وہ اُن کی زمیداری ہیں۔۔۔”آتش آفاق لُغاری کی بات پر بھڑک اُٹھا تھا
“بات کو طویل دینے کی ضرورت نہیں۔۔”ایش مجھے دو اور خود لندن جانے کی تیاری کرو۔۔”تمہارا علاج وہی ہوسکتا ہے۔۔”ہمارے ہاتھوں سے نکل چُکے ہو تم۔۔”ایشال کو اُس سے لیتی وردہ لُغاری سنجیدگی سے بولی
“میں یہاں سے کہی نہیں جاؤں گا۔۔”اور میں چلاگیا بھی تو پیچھے کون ہے ایش کا خیال رکھنے والا؟”ملازمائیں تو آپ کی جانے کس خراب برتنوں میں اِس کو کھانا دیتی ہیں۔۔”اور کبھی آپ نے ایش کا لنچ بوکس دیکھا ہے؟”کس قدر اُس میں سے سمیل آتی ہے۔۔”کبھی اُس کی ہوم ورک کی کاپیاں دیکھی ہیں؟”آئے دن ٹیچر کی طرف سے کوئی نہ کوئی نوٹ لکھا ہوتا ہے اُس میں۔۔”اور آپ لوگوں نے جو احسان کیا ہے ٹیوٹر رکھ کر وہ پڑھاتا ورھاتا کچھ بھی نہیں اُلٹا اِس کو بگاڑتا ہے۔۔۔”آتش ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر غیض وغضب کے عالم میں دھاڑ کر بولا
“اِس کی فکر چھوڑو اپنی فکر کرو۔۔”آج جو تم نے کارنامہ کیا ہے نہ اُس کا انجام بہت بھیانک نکل سکتا ہے۔۔”کسی عام انسان کی بیٹی نہیں
“بھاڑ میں جائے جس کی بھی بیٹی وہ تھی۔۔”میرا کوئی قصور نہیں تھا۔۔”بیچ میں آنے کا شوق اُس کو خود تھا۔۔”اب بھگتے اُس کا انجام۔۔”میں آتش لُغاری ہوں۔۔”ڈرتا تو میں کسی کے باپ سے بھی نہیں اور اُس میں یہ بھی شامل ہوتے ہیں۔۔۔”وردہ لُغاری کی بات کو درمیان میں کاٹتا وہ آخر میں آفاق لُغاری کی طرف اِشارہ کرنے لگا جو اُس کی بات پر سرجھٹک کر رہ گئے تھے
“جیل ہوسکتی ہے تمہیں۔۔”تمہارا فیوچر متاثر ہوسکتا ہے۔۔”بات کو سمجھنے کی کوشش کرو۔۔”وردہ لُغاری نے اِس بار کچھ نرم لہجے میں اُس کو مُخاطب کیا
“ہمارا کوئی فیوچر نہیں۔۔”میرا فیوچر متاثر نہیں ہوگا۔۔”میں جانتا ہوں آپ کا شوہر ہر چیز کو خریدنے کی طاقت رکھتا ہے۔۔”اور یہ سب معاملہ بھی وہ خود سے سنبھال دے گا۔۔”صوفے پر بیٹھ کر کہتا وہ اُن کا سکون غارت کرگیا تھا
“اِس قدر بداخلاق کیوں ہو؟”آفاق لُغاری نے بڑے ضبط سے سوال کیا
“اخلاق کا درس دینے والے والدین مصروف رہتے تھے۔۔”جواب تُرنت آیا تھا
“آتش میری جان۔۔”تمہیں کس چیز کی کمی ہے جو ایسا زہر اُگلتے ہو؟”اپنا مزاج دیکھو۔۔”اِتنی سی عمر میں اگر یوں چیخ کر بات کروگے تو دماغ کی نس بھی پھٹ سکتی ہے تمہاری۔۔”خود پر قابو پانا سیکھو۔۔”اپنے غُصے کو قابو میں لاؤ۔۔”غُصے کو خود پر حاوی ہونے نہ دو۔۔۔”وردہ لُغاری اُس کے ساتھ بیٹھ کر بولی
“یہ بات پہلے سمجھاتی تو شاید میں سمجھ جاتا لیکن اب بہت دیر ہوگئ ہے۔”آتش نے کافی سنجیدگی سے کہا
“جب تک اسکول والا معاملہ حل نہیں ہوتا تب تک کے لیے تمہارا یہاں سے دور رہنا بہتر ہوگا۔۔”آفاق لُغاری نے تحمل سے کہا
“فائن پھر ایش بھی میرے ساتھ آئے گی۔۔”آتش نے آرام سے کہا تو”ایشال کی آنکھوں میں چمک آئی تھی۔
“میں بھی بھائی کے ساتھ جاؤں گی۔۔”ایشال خوشی ہوتی تالی بجاکر خوشی سے اُچھل کر بولی تو وہ اِتنے ٹینشن میں ہونے کے باوجود بھی مسکرا پڑا تھا
“ایش بچی ہے ابھی تمہارے ساتھ کیسے آسکتی ہے۔۔”اور یہ ہماری زمیداری ہے۔۔”تم بس وہاں جاکر اپنا سارا فوکس اپنی پڑھائی پر دینا کسی دوسری چیز میں انوالو ہونے کی تمہیں قطعاً ضرورت نہیں۔۔”ایش سے فون کال پر بات کرنا۔۔”بوا ایش کا بہت اچھے سے خیال رکھتی ہے۔۔”وردہ لُغاری نے اُس کو دیکھ کر رسانیت سے کہا
“بُوا کو آپ لوگ ابھی کام سے فارغ کرے۔۔”اُس کی لاپرواہی سے ایش مرنے کے در پہ تھی۔۔”آتش طیش میں آکر بولا
“نو بوا کو مت بھیجنا کہیں۔۔۔”ایشال جھٹ سے بولی
“وہ اچھی نہیں وہ تمہیں اُس دن ایکسپائر دوا پِلانے لگی تھی۔۔”آتش نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
“آئے لو بُوا۔۔”وہ یہاں سے نہیں جائے گی۔۔”مجھے اُن کے ساتھ رہنا اچھا لگتا ہے۔۔”وہ بہت پیار کرتی ہے مجھ سے۔۔۔”ایشال منمناکر بولی
“اِس کو چھوڑے آپ پہلی فُرصت میں اُس کو کام سے فارغ کریں۔۔”ایش کے لیے کسی اچھی بے بی کیئر ٹیکر کا انتظام کریں جو ایجوکیٹڈ ہو۔۔”اُس کو سنبھالنا آپ کی بس کی بات نہیں۔۔”آتش ایشال کو اگنور کرتا اُن سے بولا
“بُوا کہیں بھی نہیں جائے گی۔۔”آپ کو میری بات سُنائی نہیں دے رہی؟”ایشال اپنی جگہ سے اُٹھ کر اِس بار غُصے سے بولی
“لو جی اب یہ چُٹکی بھی غُصے سے بات کرے گی۔۔”یہ آتش سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے تمہیں غُصہ کرتا ہوا دیکھ کر اِس کا مزاج بھی ایسا بن گیا ہے۔۔وردہ لُغاری ایشال کو دیکھ کر آتش سے بولی
Don’t be angry, a new caretaker will come for you.
“آتش نے اُس کو دیکھ کر نرمی سے کہا
“ساری ملازمائیں مجھے ڈانٹتی ہیں۔۔”لیکن بُوا بہت اچھی ہے۔۔”وہ یہاں سے نہیں جائے گی۔۔”ایشال اپنی جگہ بضد تھی
“وہ تمہاری ماں نہیں جو تم اُس کے لیے یوں پریشان ہورہی ہو۔۔”وردہ لُغاری چڑ کر بولی
“آپ سب میری بات سُن لو اگر وہ یہاں سے گئ تو آپ میں سے کسی سے بھی میں بات نہیں کروں گی.۔۔”ایشال اپنے گال پُھولائے اُن کو دیکھ کر بولی
“ایش۔۔۔”آتش نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا
“میرے ڈوگی کو بھی مارا تھا آپ نے۔۔”اور اب بوا کو مجھ سے دور کررہے۔۔”ایشال روہانسی ہوگئ تھی
“اُس نے تمہارے پاؤ کو کاٹا تھا۔۔”انجکیشن لگے تھے تمہیں اور تم کیا چاہتی تھی اُس جانور کو تمہارے آس پاس چھوڑدیا جاتا۔۔”تاکہ دوبارہ تمہیں نقصان پہنچائے؟”آتش اُس کو تپی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگا
You are bad person, and I don’t like you.
“ایشال اِتنا کہتی اپنی گُڑیا کو پھینک کر وہاں سے بھاگ گئ تھی۔۔۔
“ایش میری بات سُنو۔۔”میں نے تمہاری سیفٹی کے لیے کیا تھا۔۔”وہ سب کے لیے خطرہ تھا۔۔”آتش نے پیچھے سے اُس کو آواز دیتے کہا لیکن ایشال سُن نہ پائی تھی
“اُس کو چھوڑو۔۔”اِس کے نخرے ختم نہیں ہوتے۔۔”تم بس فریش ہوجاؤ تمہاری فلائٹ ہے پھر۔۔”وردہ لُغاری نے اُس کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا
“وہ کون تھی؟”بوتل کیا زیادہ لگی تھی اُس کو؟”میں سوچ رہا تھا۔۔”مجھے ایک بار اُن سے مل کر معافی مانگ لینی چاہیے۔۔”جانے میں یا انجانے میں لیکن چوٹ تو اُس کو میری وجہ سے آئی۔۔۔۔”آتش کا دماغ تھوڑا پرسکون ہوا تو اُس نے کہا جس پر وہ دونوں سر پکڑ کر اُس کو دیکھنے لگے
“کوئی ضرورت نہیں۔۔”سارا کچھ ہینڈل ہوگیا ہے۔۔”جو کارنامہ تم نے سرانجام کیا ہے اُس کا الزام ڈرائیور کے بیٹے پر لگایا ہے۔۔”مسئلہ نہیں ہوگا۔۔”لیکن اگر تمہارا نام سامنے آیا تو سب لوگ کہے گے کہ آفاق لُغاری کا بیٹا ذہنی مریض ہے۔۔”آفاق لُغاری اُس کو جھڑک کر بولے
“میں پاگل نہیں۔۔”آتش نے سرد لہجے میں کہا
“تمہارا غُصہ تمہاری ویک پوائنٹ ہے۔۔”یہ جب تمہیں آتا ہے تو تمہیں کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا۔۔”ایسا نہیں ہوتا غُصے سے معاملات بگڑ جاتے ہیں۔۔”اِن کو آرام سے ہینڈل کیا جاتا ہے۔۔”وردہ لُغاری نے سنجیدگی سے کہا
“کول بٹ میں ایسا ہی ہوں۔۔”زبان سے زیادہ ہاتھوں سے بات کرنے میں مزہ آتا ہے۔۔”آتش بھی جواباً سنجیدگی سے بولا تو وہ دونوں بس اُس کو دیکھتے رہ گئے








حال:
“آپ کہاں کھوگئے ہیں؟”المان نے اُس کے آگے ہاتھ لہرایا تو آتش جیسے ہوش میں آیا
“یہی ہوں مجھے کہاں جانا ہے۔۔”اپنی حالت کو ٹھیک کرتا وہ بولا
“آپ بہت اچھے انسان ہیں۔۔”آپ نے آپو اقدس سے شادی کی وہ جیسی تھیں۔۔”آپ نے ویسے اُن کو قبول کیا۔۔”المان نے اُس کو دیکھ کر کہا تو آتش کچھ بول نہ پایا تھا۔۔”وہ بس سوچ پایا کہ اگر اِن سب کو پتا لگ جائے کہ اقدس کے چہرے پر جو نشان ہے اُس کی بدولت آیا تھا تو کیا اُس کے باوجود بھی اِن سب کا رویہ ایسا ہوگا؟”
____________________________
“کیا بات ہے؟”کیفے آکر ایشال نے زوہان کو دیکھ کر پوچھا
“بیٹھو۔۔”زوہان نے اُس کو بیٹھنے کا اِشارہ کیا تو ایشال ایک نظر اُس پر ڈالتی سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گئ
“میں اگین سوری کروں گا۔۔”مجھے واقعی میں تم سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔”زوہان نے اُس کو بیٹھتے ہی کہا
“اچھا ہوا جو تم نے مجھ سے ایسے بات کی۔۔”تمہارے ری ایکشن نے میری آنکھیں کھول دی۔۔”ایشال سنجیدگی سے بولی
“میں سمجھا نہیں؟”زوہان کو واقعی میں سمجھ میں نہیں آیا
“تم نے جس طرح کل مجھ سے بات کی۔۔”ظاہری بات ہے اب زندگی میں جب کبھی تمہیں غُصہ آئے گا۔۔”تم ایسے بات کرو گے۔۔”اِس لیے میں نے سوچا میں تم سے شادی کا خواب دیکھنا ختم کردوں گی۔۔”ایشال نے کہا تو زوہان خاموش ہوگیا
“تم دل سے بول رہی ہو یہ؟”زوہان نے پوچھا
“زبان سے بول رہی ہوں۔۔”ایشال نے کہا تو اُس نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھا
“میں نے ڈیڈ سے بات کرلی تھی۔۔”اور اُنہوں نے موم سے میری فیملی میں اب یہ بات پھیل گئ ہے تو اب تم اپنی بات سے مکر نہیں سکتی اور نہ میں پیچھے ہٹ سکتا ہوں۔۔”زوہان نے شانے اُچکاکر لاپرواہ انداز میں کہا
“یہ کیا بات ہوئی؟”ایشال نے اُس کو گھورا
“ہر بار وہ نہیں ہوسکتا جو تم چاہتی ہو۔۔”اِس بار تمہیں میری بات ماننی ہوگی۔۔”زوہان اُس کے برعکس کافی سنجیدگی سے بولا
“جو بھی پر مجھے ایسے شخص سے زندگی نہیں گُزارنی جس کا اپنے غُصے پر اختیار نہ ہو۔۔”ایشال نے سرجھٹک کر کہا
“تم سکھادینا پھر میں اپنے غُصے پر قابو پانا سِیکھ لوں گا۔۔۔زوہان نے کہا تو ایشال آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو دیکھنے لگی۔
“کیا ہوا؟”زوہان کو اُس کا ایسے دیکھنا سمجھ میں نہیں آیا
“تم میرے ساتھ فلرٹ کررہے ہو؟”ایشال نے پوچھا
“نہیں تو۔۔”زوہان نے اپنا سر نفی میں ہلایا
“پھر؟”ایشال نے اپنی آئبرو اُپر کیے پوچھا
“میں نے بس یونہی ایک بات کی۔۔”زوہان نے کہا
“تم رومانٹک بننے کی کوششوں میں ہو۔۔”ایشال نے کہا تو وہ دوبارہ اپنا سر نفی میں ہلانے لگا
“میں ایسی کوشش کیوں کروں گا؟”زوہان نے پوچھا
“وہ تمہیں بہتر پتا ہوگا۔۔”ایشال نے شانے اُچکاکر اُس سے کہا
“کافی پیو۔۔۔”ویٹر اُن کے سامنے کافی کے کپ رکھ گیا تو زوہان نے اُس سے کہا
“تم نے کوئی خاص بات کرنا تھی؟”ایشال نے کافی کا کپ پکڑے اُس سے پوچھا
“تم مجھے آواز سے کافی اپسیٹ لگی تھی۔۔”زوہان نے بتایا
“تو؟”ایشال کو سمجھ نہ آیا
“تو مجھے لگا مجھے تمہاری غلطفہمی کو دور کردینا چاہیے۔۔”زوہان نے بتایا
“کیسی غلطفہمی؟”ایشال کو سمجھ میں نہیں آیا
“تم نے مجھے کافی غلط سمجھ لیا ہے۔۔”جبکہ میں ایسا نہیں ہوں۔۔”زوہان جانے کیوں اُس کو وضاحتیں دے رہا تھا یہ بات اُس کو بھی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔۔”بس اُس کو آج ایشال کا ایسا اجنبیو بھرا برتاؤ پسند نہیں آرہا تھا۔۔۔
“پھر تم کیسے ہو؟”ایشال نے پوچھا
“جیسا تم نے سوچا تھا ویسا ہوں۔۔”زوہان نے کہا تو سرجُھکاتی وہ ہنس پڑی
“کیا ہوا؟”تم ہنسی کیوں؟”زوہان کو سمجھ نہیں آیا
“ہنسنے پر پابندی ہے کیا؟”ایشال نے پوچھا
“نہیں پر وجہ تو معلوم ہونی چاہیے۔۔”ورنہ مجھے لگے گا تم مجھ پر ہنس رہی ہو۔۔”زوہان نے کہا تو وہ سیریس ہوئی
“تم گرین فلیگ ہو۔۔”اور مجھے بھی تمہارے جیسا کوئی چاہیے تھا۔۔زوہان کی بات کو اگنور کرتی وہ بولی
“گرین فلیگ؟”زوہان کو اُس کی بات کچھ خاص سمجھ نہیں آئی
“تمہارے ڈیڈ سے میں مل چُکی ہوں۔۔”وہ کافی سوبر سے نائیس پرسنائلٹی کے مالک ہیں۔۔”اور میں تم سے بھی یہ توقع رکھوں گی کہ تم اُن کی طرح ہوگے۔۔”ایشال نے اُس کی بات کے جواب میں محض یہ کہا
“کیا ڈیڈ سے مل کر تم نے مجھے پسند کیا تھا؟”زوہان نے پوچھا
“نہیں۔۔”ایشال نے اپنا سر نفی میں ہلایا
“پھر؟”
“پھر بس میں چاہتی ہوں۔۔”جیسا میرا پاسٹ رہا ہے۔۔”میرا فیوچر ویسا نہ ہو۔۔”ایشال کے لہجے میں سنجیدگی کا عنصر نمایاں تھا
“اگر پسند کرلیا تھا تو اب اپنی پسند پر یقین بھی رکھو۔۔”زوہان نے اُس کی بات جیسے ساری جان لی
“یقین ہے۔۔”اگر نہ ہوتا تو تمہارے کہنے پر تم سے ملنے نہ آتی۔۔”ایشال نے جتایا تو زوہان نے سر خم دیا۔
“تمہاری آپو ٹھیک ہوجائے تو اپنے پرینٹس کو بھیجنا۔۔”ایشال نے کہا
“اِن شاءاللہ۔۔”زوہان نے اُس کو دیکھ کر ہلکی مسکراہٹ سے کہا تو وہ بھی مسکرائی









“کیسا لگ رہا ہے؟”آج اقدس کے چہرے سے پٹی اُتر گئ تھی۔۔”اور اُس کے ایسے وقت میں آتش اُس کے ساتھ بیٹھا اُس کا چہرہ دیکھ رہا تھا جو ہاتھ میں مرر پکڑے ہر اینگل سے اپنے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
“زوجہ؟
“اُس کو کچھ بھی نہ بولتا دیکھ کر آتش نے اُس کا چہرہ اپنی طرف کیا
“تم کیوں آئے ہو ہماری زندگی میں؟”اقدس نے بیدردی سے اُس کا ہاتھ جھٹکا تو وہ لب بھینچ کر اُس کو دیکھنے لگا۔۔”اُس کو اقدس کا ایسے کرنا پسند نہ آیا تھا پر وہ مزید اُس کو خود سے بدگمان کرنا نہیں چاہتا تھا تبھی اُس کی حرکت کو نظرانداز کرگیا
“زوجہ۔۔۔”آتش نے نرمی سے اُس کو پُکارا جو اپنا سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھی ہوئی تھی
“ہم سے مخاطب نہ ہو آپ۔۔۔”اقدس ہذیاتی انداز میں چلائی تھی
“مجھے پتا تھا تمہارا ری ایکشن میرے ساتھ ایسا ہوگا۔۔”میں تبھی خود پر جبر کرکے اِتنے وقت بعد تمہارے سامنے آیا لیکن پھر بھی تمہارا برتاؤ ایسا ہے میرے ساتھ۔۔”آتش کو افسوس ہوا
“فرق پڑتا ہے تمہیں؟”اقدس طنز نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی
“فرق کیوں نہیں پڑے گا؟”تم میری بیوی ہو۔۔”اور میں اپنی تزلیل برداشت نہیں کروں گا۔۔”آتش سنجیدگی سے بولا
“ہمیں تمہارے ساتھ نہیں رہنا۔”اقدس کو اُس سے چڑ ہونے لگی
“کیوں نہیں رہنا؟”میرے ساتھ نہیں رہنا تو کس کے ساتھ رہنا ہے؟”آتش نے بڑی مشکل سے خود پر ضبط کیا
“وہاں جہاں تمہاری پرچھائی تک نہ ہو۔۔”اقدس نفرت بھرے لہجے میں بولی
“جانتا ہوں تمہیں میرا خوبصورت چہرہ پسند نہیں لیکن ڈرالنگ دلبر جانِ جہاں تمہیں کمپرومائز کرنا پڑے گا کوئی اور آپشن نہیں ہے۔۔”ویسے آئینہ غور سے دیکھو تمہارا چہرہ پہلے سے زیادہ نکھر گیا ہے۔۔”آتش اپنی ٹون میں واپس آتا اُس کو دیکھ کر بولا
“ہمیں نہیں دیکھنا اپنا چہرہ۔۔”تم جاؤ ہمیں ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہنا جس کو رشتوں کی قدر نہ ہو۔۔”جس کو اپنی اکلوتی بیوی کی فکر نہ ہو۔۔”اقدس نے اُس کو ناگوار نظروں سے دیکھ کر کہا تو آتش اُس کو بتا نہ پایا کہ تم فکر کی بات کررہی ہو۔۔”میرا تو سانس رُک گیا تھا تمہارے لیے۔۔۔
“فکر تو بچوں کی کری جاتی ہے تم کونسا بچی ہو۔۔”آتش اُس کے گال کھینچ کر بولا
“آئے ہیٹ یو۔۔”اقدس نے دوبارہ سے اُس کے ہاتھ جھٹکے
“آئے لو یو ٹو۔۔”آتش اپنے سینے پر ہاتھ رکھتا دلفریب لہجے میں بولا تو اقدس تپ اُٹھی تھی
“ایسے بھی شوہر ہوتے ہیں۔۔”اقدس روہانسی ہوگئ تھی
“ایسے شوہر ہوتے ہیں۔۔”لیکن قسمت والوں کو ملتے ہیں اور تم قسمت والی ہو۔۔۔”آتش مزے سے بولا
“اللہ تمہارے جیسا شوہر کسی کو نہ دے۔۔اقدس کاٹ کھانے والی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی
“بلکل میرے جیسا کوئی اور نہیں ہوسکتا اور نہ کسی کی قسمت اقدس آتش لُغاری جیسی ہوسکتی ہے۔۔”تو بے فکر رہو میں یا میرا ڈوبلیکیٹ کسی اور کا نہیں ہوگا ہاں ہمارا بچہ ہوسکتا ہے۔۔”آخر میں آتش آنکھ کا کونا دباکر بولا
“تم سے بس بے شرمی والی باتیں کروالوں۔۔”اقدس اپنا چہرہ دوسری طرف کرکے بولی
“یہاں دیکھو۔۔۔”آتش نے اُس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیا
“کیا ہے؟”پھاڑ کھانے والا انداز
“تمہیں لگتا ہے کہ آتش لُغاری کو اپنی اکلوتی پرسنل بیوی جو پورے بتیس سال انتظار کروانے کے بعد ملی ہے اُس کو۔۔”وہ اُس کی قدر نہیں کرے گا؟”آتش نے مسکراہٹ ضبط کیے اُس سے سوال کیا تو اقدس خاموش رہی
“چُپ کیوں ہو؟”آتش نے پوچھا
“ہمارے گھروالوں کو واپس کیوں بھیجا؟”وہ ہمیں اپنے پاس رکھنا چاہتی تھی۔۔”اقدس کے جواب پر وہ خاصا بدمزہ ہوا تھا
“اِتنے سال رہی ہو وہاں ابھی تک تمہارا وہاں سے دل نہیں بھرا۔۔”تھوڑی چینجنگ لاؤ زندگی میں۔۔”آتش تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولا
“آپ کبھی ہماری بات سمجھ نہیں سکتے۔۔”اقدس بھی تاسف سے اُس کو دیکھنے لگی
“تم کیا چاہتی ہو۔۔؟”شکن آلود کپڑے پہن کر بالوں کو پیشانی پر لاپرواہ انداز میں چھوڑ کر آنکھوں کو سرخ کرکے بیئرڈ بڑھاکر میں تمہارے سامنے آتا اور کہتا کہ تم نے تو میری جان ہی نکال دی تھی. “اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو میں پھر جیتے جی مرجاتا۔۔”مجھے تو ابھی تمہارے ساتھ کاپریٹ کرکے بیس تیس بچے پیدا کرنے ہیں۔۔”پھر اُن بچوں کو بڑا کرکے اُن کے بچوں کے بچوں کی شادی کروانی ہے۔۔”ہاں بتاؤ یہ ایموشنل تقریر کرتا تو تمہیں یقین آجاتا کہ مجھے تمہاری کتنی پرواہ ہے۔۔۔”آتش اُس کو کندھوں سے تھام کر اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنجیدگی سے چور لہجے میں بولا تو اقدس ہونک بنی اُس کا منہ دیکھنے لگی۔
“تم نہ ہمیں معاف کردو۔۔”اقدس سرجھٹک کر بولی
“میں آج میں کل کے بُرے دنوں کو یاد کرنے کا عادی نہیں ہوں۔۔”آتش نے اِس بار جو کہا اُس پر وہ چپ رہ گئ۔۔
“تم میری زوجہ ہو۔۔”میری عمر بھر کی ساتھی۔۔”تمہارے بغیر میرا وجود ادھورا ہے۔۔”میں لفظوں میں نہ بھی کہوں تو خود ہی جان لیا کرو۔۔”آتش لُغاری تمہیں پریشان دیکھ کر بے چین ہوجاتا ہے۔۔۔”آتش اُس کو چپ دیکھ کر مزید بولا تو اقدس کچھ کہنے کے قابل نہ رہی تھی۔۔”اُس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسا اِظہار اُس سے آتش لُغاری نے کیا تھا۔۔”عام لفظوں میں اُس نے اُس کو گہری بات سمجھادی تھی
“ایک منٹ۔۔۔”آتش کے سیل فون پر کال آنے لگی تو وہ اُٹھ کر کمرے سے باہر آگیا۔
کیا بات ہے؟”کال اُٹھاکر آتش نے سنجیدگی سے پوچھا
“سر ساجد نے بھاگنے کوشش کی تھی۔۔”دوسری طرف سے جو کہا گیا اُس کو سُن کر آتش کے تاثرات تن چُکے تھے
“پکڑے رکھو میں آتا ہوں۔۔”سرسراتے لہجے میں کہتا وہ کال کاٹ گیا تھا









“ایک ماہ بعد
“ایک ماہ گزرچکا تھا۔۔”اور اقدس اب پہلے جیسی ہوگئ تھی۔۔”لُغاری فیملی نے اپنا انتظام دوسرے گھر میں کرلیا تھا۔۔”ایشال نے آفاق لُغاری کو بول دیا تھا زوہان اُن کے یہاں آئے گا۔۔”وہ ماننے کو تیار ہرگز نہ تھے لیکن آتش نے اُن سے بات کی تو ناچار اُن کو ہاں کرنا پڑی تھی۔۔”دوسری طرف ساجد کو آسمان کھا گیا تھا یا زمین نگل گئ کسی کو کچھ پتا نہیں تھا۔۔”میڈیا میں ہلچل مچ گئ تھی۔۔”اُس کی گمشدہ ہونے پر اُس کا باپ بھی پریشان ہوگیا تھا۔۔”اپنے سارے سورسز اُس نے لگادیئے تھے لیکن افسوس کچھ ہاتھ نہ آیا تھا۔۔”آفاق لُغاری نے بہت بار آتش سے پوچھا تھا پر اُس نے کبھی بتایا نہیں مجبوراً پھر اُنہوں نے پوچھنا ہی چھوڑدیا تھا
__________________________
“کھانا لگ گیا ہے۔۔”آئے تھنگ وہ کھانا چاہیے۔۔۔”آج زوریز سوہان اور پوری کزن پلٹن کے ساتھ لُغاری ہاؤس زوہان اور ایشال کے رشتے کی بات کرنے آیا تھا۔۔”شادی کی تاریخ طے ہونے کے بعد وردہ لُغاری نے کہا تو سب اُٹھ کھڑے ہوئے تھے
“ڈائنگ ہال میں آکر ہر ایک نے اپنی جگہ سنبھالی۔۔”زوہان کو ایک قطار میں بیٹھا دیکھ کر وہ اُس کے عین سامنے والی چیئر پر بیٹھ گئ۔۔”عیشا بھی اُس کے ساتھ بیٹھ گئ تھی۔۔”زوہان کے ساتھ جبکہ المان تھا اور پھر رایان سکندر کا نمبر آتا تھا۔۔”اِن ساروں کو آتش نے دعوت دی تھی۔۔”
“یہاں آنا۔۔۔”ایشال نے عیشا کو دیکھ کر سرگوشی نما آواز میں کہا تو اُس نے اپنا کان اُس کے پاس کیا پھر جانے ایشال نے اُس کے کانوں میں کیا کہا جس پر عیشا کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ آئی تھی
“ہانی چاولوں کی پلیٹ پاس کرنا۔۔”رایان نے زوہان کو دیکھ کر کہا
“آرام سے یہ ہمارے باپ کا گھر نہیں۔۔”زوہان نے اُس کو گھور کر کہا
“ہمارے باپ کا گھر نہیں ہے تیرا سسرال تو ہے نہ اِس لیے باتیں کم اور کام زیادہ۔۔”رایان نے اُس کی بات ہوا میں اُڑائی لیکن ابھی زوہان اُس سے پہلے کچھ کہتا اُس کو عجیب محسوس ہوا۔۔۔”چاولوں کی پلیٹ رایان کو دیتا وہ ٹیبل سے تھوڑا نیچے دیکھنے لگا جہاں ایشال کا پاؤ اُس کے پاؤ کے اُپر تھا۔۔”یہ دیکھ کر وہ سیدھا ہوکر بیھتا ایشال کو دیکھنے لگا جو اُس کے ایسے دیکھنے پر شرارت آنکھ ونک کرگئ تھی۔۔”زوہان کے گلے کی ہڈی اُبھر کے معدوم ہوئی تھی
“کھا میں رہا ہوں۔۔”چہرہ تیرا لال ہورہا ہے۔۔”رایان نے زوہان کی سرخ پڑتی رنگت دیکھ کر کہا۔۔”تبھی المان کو کھانسی کا دورا پڑا تھا
“تم ٹھیک ہو مان؟”سوہان کھانے سے ہاتھ اُٹھاتی فکرمندی سے المان کو دیکھنے لگی۔۔
“جج جی۔۔۔”عیشا کو دیکھتا وہ ہکلاہٹ زدہ آواز میں بولا
“اہممم۔۔”گلا کھنکھارتا زوہان اِشاروں کِناروں ایشال کو باز رہنے کا کہنے لگا۔۔”لیکن اُس کے پاؤ تو اب اُس کی ٹانگ پر تھا۔۔”زوہان کو اپنا وہاں بیٹھنا محال لگا تھا۔۔”اور یہی حال المان کا تھا۔۔”عیشا کا ٹھنڈا پاؤ اپنے پاؤ سے گُزرتا ٹانگ پر محسوس کرتا کافی پریشان ہوگیا تھا۔۔”اُس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کرے۔۔”وہاں سے اُٹھنا بھی آسان نہ تھا۔۔”کیونکہ عیشا نے اپنا پاؤ کافی مضبوطی سے اُس کے پاؤ کے اُپر رکھا تھا۔۔”یہ سارا کچھ رایان کی موجودگی میں ہورہا تھا تو پھر کیسے ممکن تھا کہ یہ سب اُس کی زیرِ نگاہ سے پوشیدہ رہتا وہ اپنے دماغ کے گھوڑے ڈوراتا تھوڑا جُھکا تو اُس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا کہ یہ سب اُس کے سامنے کُھلم کُھلا کیا ہورہا تھا
“میں پیدا کیوں ہوا؟”پانی کا گلاس منہ کو لگاتا یہ خیال بے ساختہ اُس کے دماغ میں آیا
“ہائے میری بھی کوئی ہوتی تو یہ سب کرتی۔۔”رایان کے اندر ارمان جاگ اُٹھے۔۔”جس پر کچھ سوچ کر وہ اپنے ایک پاؤ کو شوز سے آزاد کرتا خود ہی دوسرے پاؤ پر پھیرنے لگا اب کسی بھی طرح اپنے سنگل ہونے کا غم اُس کو کم تو کرنا تھا۔۔
“بالوں میں سفیدی آجائے گی۔۔”لیکن دولہن نہیں آئے گی میری۔۔ وہ اپنے نا آنے والے آنسوؤ کو صاف کرتا بریانی سے ہاتھ صاف کرنے لگا۔۔”
“کیا ہے یہ؟”آتش کی نظر رایان پر پڑی تو تعجب سے پوچھنے لگا
“میرے ارمان جو آنسوؤ کی شکل میں بہہ رہے ہیں۔۔”جواب تُرنت آیا تھا۔۔
“خیال کرنا ناک سے بھی نہ بہنے لگے۔۔۔”آتش نے کہا تو ماہا کی ہنسی نکل گئ۔۔”وہ دونوں جبکہ ایشال اور عیشا کو اب منت کرتی نظروں سے دیکھنے لگے۔۔”پھر تنگ آکر دونوں نے اپنا پاؤں کھینچنا شروع کیا تو ایشال اور عیشا نے بھی پانی کا گلاس منہ کو لگائے اچانک سے اپنا پاؤ اُٹھالیا تو وہ دونوں دھڑام سے نیچے گِرے تھے۔۔”اُن کے گِرنے کی آواز پر وہ دونوں جو پانی پینے لگی تھی۔۔”سارا پانی منہ سے فوارے کی صورت میں چھوٹ گیا تھا
“خیریت ہے ایسی بھی کیا خوشی جو فرش پر نورا فاتحی ہی بن گئے۔۔”جہاں سب لوگ حیرت زدہ ہوکر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے وہی آتش اپنی عادت سے مجبور ہوکر بولا تو وہ مزید بلاوجہ شرمندہ سے ہوگئے تھے۔۔”البتہ رایان کے جلتے دل پر جیسے کسی نے ٹھنڈی بوچھاڑ کردی تھی۔۔”اُس کو اپنے اندر توانائی سی محسوس ہوئی
“میں سنگل ہی ہوں اور اِن کو منگل کرنے کی پڑی ہے۔۔”ہونہہ۔۔”میرے سنگل رہتے ہوئے تو ایسا یم پاسیبل ہے۔۔”کھانے سے بھرپور انصاف کرتا رایان خود سے بڑبڑانے لگا
