Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Last Episode)
Rate this Novel
Salam Ishq (Last Episode)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“تم نے اِتنی رات مجھے کیوں کال کی ہے؟”حوریہ نے جمائی لیکر کال پر رایان سے پوچھا
“کتنی بُری بات ہے یہاں میری جان سولی پر لٹکی ہوئی ہے اور تمہیں اپنی نیند پوری کرنے کی پڑی ہے؟”رایان کو جیسے اُس کی بات سن کر افسوس ہوا
“کیوں کیا ہوا سب خیریت؟”حوریہ کو تشویش ہوئی
“میں پروبلم میں ہوں۔۔”اور مجھے اِس پروبلم سے بس تم نکال سکتی ہو۔۔”رایان نے بتایا
“صاف بات کرو ہوا کیا ہے؟”حوریہ نے پوچھا
“دیکھو اگر تمہارے ناول کے کسی لڑکے کو پیار ہوجاتا۔۔”لڑکا یعنی ہیرو تو اگر وہ شادی کرنا چاہتا تو کیا کرتا؟”رایان نے پوچھا تو حوریہ کو رایان کے دماغ پر شک گُزرا
“رایان لگتا ہے تمہیں سارے دن کی تھکاوٹ لگی ہوئی ہے۔۔”ایسا کرو تم آرام کرو۔۔”ہم اِن شاءاللہ کل بات کرے گے۔۔”سرجھٹک کر حوریہ نے اُس سے کہا
“نہیں مجھے ابھی بات کرنی ہے۔۔”اور میں تھکا ہوا نہیں۔۔”تم بس مجھے میری بات کا جواب دو۔۔”جو میں نے تم سے پوچھی ہے۔۔”رایان نے بضد ہوکر کہا
“رایان تم سیدھی سی بات کرو۔۔”یہ ناولز اور کریکٹرز مجھے سمجھ نہیں آرہے۔۔”حوریہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اُس سے بولی
“تم رائٹر ہو تو ظاہر سی بات ہے۔۔”تمہیں ایسی باتیں سمجھ آئے گی۔۔”جیسے ڈاکٹر بس مریضوں کو سمجھتا ہے۔۔”وکیل اپنے کلائنٹ کو سمجھتا ہے۔۔”طوطا طوطی کو سمجھتا ہے۔۔”رایان نے کہا تو حوریہ سیل فون کان سے ہٹاتی موبائل اسکرین کو گھورنے لگی جیسے سامنے رایان کھڑا ہو
“رایان تم نے تو یار میرا رائٹر کیریئر کا مذاق بنایا ہوا ہے۔۔”یقین کرو میں نے سوچا نہیں تھا کہ جس شخص سے میری شادی ہوگی۔۔”وہ میرے رائٹر ہونے کا سن جانے کے بعد ایسے بات کرے گا۔۔”حوریہ پریشان ہوئی تھی
“ارے یار یقین کرو میرا میں نے مذاق نہیں بنایا ہوا۔۔”وہ تو میں بس اِس لیے کہہ رہا کیونکہ تم ناول لکھتی ہو تو ایک کردار کی زندگی میں سؤ مشکلات دیتی ہو۔۔”پھر ساری مشکلاتوں کو چٹکی بجاکر حل بھی کردیتی ہو تو یہ اِس بات کی علامت ہے کہ تمہارے پاس ہر مسئلے کا حل ہے۔۔”تم کچھ بھی کرسکتی ہو۔۔”تو ظاہر سی بات ہے اپنا علاج کروانے بندہ حکیم کے پاس آئے گا یا پھر ڈاکٹر کے پاس۔۔”رایان نے پرجوش ہوکر اُس سے کہا تو حوریہ پاس پڑے جگ میں سے پانی گلاس میں انڈیلٹی گھٹاگھٹ پینے لگی
“وہ اِس لیے کیونکہ اُن کہانیوں میں کسی اور کا عمل دخل نہیں ہوتا۔۔”وہاں کی چیزوں پر ہمارا ہر طرح کا اختیار ہوتا ہے۔۔”پر عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔۔حوریہ نے بتایا
“اچھا سینٹی نہ ہو زیادہ اور بتاؤ اگر ہیرو جلدی شادی کرنے کے حق میں ہو تو اپنے والدین کو کیسے راضی کرے۔۔”رایان نے پوچھا
“اُن سے بات کرے۔۔”حوریہ نے کہا
“اگر بات سے بات نہ بن پائے تو پھر؟”رایان نے پھر پوچھا
“تو ایموشنلی بلیک میل کرے۔۔”حوریہ نے گہری سانس بھر کر اُس کو بتایا
“وہ کیسے؟”رایان چونک پڑا
“اگر ایسا کچھ میرے ناول کے ہیرو میں ہوتا تو وہ اپنے والدین کو راضی کرنے کے لیے چوہے مار دوائی کھاتا۔۔حوریہ نے مسکراہٹ دبائے کہا تو رایان کے چہرے کا رنگ بھک سے اُڑا تھا
“سیریسلی چوہے مار دوا؟”رایان کو یقین نہ آیا
“ہاں کیوں کیا آپ میرے لیے اپنے والدین کو دِکھانے کے لیے چوہے مار دوائی نہیں کھاسکتے؟”حوریہ نے مصنوعی افسوس سے کہا تو وہ گڑبڑا سا گیا
“شادی کرکے شیروانی پہننا چاہتا تھا۔۔”مرکر کفن نہیں۔۔”میری سادگی دیکھ میں کیا چاہتا ہوں؟”تمہارے رائٹر ہونے کا کیا فائدہ؟”جو تم میرا ایک عدد مسئلہ حل نہیں کرسکتی۔۔”چاندنی چاند سے ہوتی ستاروں سے نہیں۔۔”محبت ایک بار ہوتی ہے تبھی تم سے کی اگر پتا ہوتا۔۔”محبت پانے کی شرط چوہے مار دوائی کھانی ہے تو محبت ہزار بات کرکے کہتا شادی ایک سے ہوتی ہزاروں سے نہیں۔۔”رایان شروع ہوگیا تو ایک بس ہونے کا نام تک نہیں لیا
“لگتا ہے آپ کے دماغ پر اثر ہوا ہے۔۔”حوریہ رایان کی ایسی باتوں پر یہی بول پائی
“حور یار ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ۔۔”ٹپس ہیرو والی دو۔۔”چوہے مار دوا کھانا ہیرو کی پرسنائلٹی پر سوٹ نہیں کرتا۔۔”رایان نے سرجھٹک کر سنبھل کر کہا
“تم نے ایک رائٹر سے پوچھا ہے تو ظاہر سی بات ہے مشورہ بھی میں وہ دوں گی۔۔”حوریہ نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ کو قابو میں کیا
“ہاں تو میں نے تو نہیں سُنا کہ کسی ہیرو نے محبت میں آکر چوہے مار دوائی ہے۔۔”رایان نے احتجاجاً کہا
“تم آپ ایسا کرکے نیا رواج قائم کردے۔۔”حوریہ نے مشورہ دیا
“اِس سے اچھا نہیں کہ میں ایک چٹکی زہر کھالوں۔۔”رایان منہ بناکر بولا
زہر کی پوری بوتل یا ایک چٹکی اُس کو کھانے کے بعد بندہ مرجاتا ہے۔۔”حوریہ نے کہا
“چوہے مار دوائی تو جیسے امرت کی طرح مجھے لگے گا نہ۔۔”رایان نے تپ کر کہا
“مجھے کاٹ کھانے کو کیوں ڈور رہے ہیں؟۔۔”میں نے بس اپنی عقل کے مطابق آپ کو جواب دیا۔۔۔”حوریہ اُس کا زچ ہونا نوٹ کرتی بولی
“تمہاری عقل بس ناول لکھنے تک ہے۔۔”ورنہ تم کم عقل ہو۔۔”کوئی بندہ تم سے مشورہ نہیں لے سکتا۔۔”خیر میں ہیرو کی طرح بلیک میل کروں گا۔۔”آخر میں رایان کا لہجہ فخریہ ہوگیا تھا
“اچھا جیسے کہ؟”حوریہ نے جاننا چاہا
“جیسے کہ میں پسٹل اُٹھاؤں گا۔۔”اور ہال کے بیچوں بیچ کھڑے ہوکر میں اپنے والد صاحب سے کہوں گا کہ یا تو میری شادی کروائے یا پھر کفن دفن کا بندوبست کرے۔۔”اُس کے بعد دیکھنا کیسے سب کی رنگت اُڑ جاتی ہے۔۔”رایان نے کہا تو حوریہ نے بے ساختہ اپنا ماتھا پیٹا
“رایان وہ تمہارے باپ ہیں تم اُن کے باپ بننے کی کوشش نہ کرو تو اچھا ہے۔۔”ورنہ پسٹل سے نکلتی گولی سیدھا تمہارے بھیجے میں جائے گی۔۔”حوریہ نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا
“یہ کہتے ہوئے تمہاری روح نہ کانپی؟”زلزلہ کیوں نہیں آیا؟”آسمان کیوں نہیں گِرا؟”زمین کیوں نہیں پھٹی؟زور شور والا میوزک کیوں آن نہیں ہوا؟دھوم تانانانانانانناناناناناناناناناناناننانانااننانانانا”رایان کا ڈرامہ شروع ہوچکا تھا۔۔”جس پر حوریہ کا سر خودبخود نفی میں ہلا تھا۔۔
“تم ایک بار خود اُن سے بات کرو ویسے بھی جلدی کس چیز کی ہے تمہیں؟”ابھی تو تمہارے امتحان باقی ہے نہ۔۔”حوریہ نے اُس کے اندر جاگے ہوئے شاعر کو سُلانے کی اپنی سی ایک کوشش کی
“سیانے لوگ کہتے ہیں۔ ۔”کل کرے سو آج کرے سو کل صبح کیوں نہ کرے؟ “رایان نے جواباً کہا تو وہ جان گئ۔ ۔”وہ اُس کی سُننے کے موڈ میں نہیں
“تم اُن سے کیا بات کروگے؟ “حوریہ نے پوچھا
“میں اُن سے کہوں گا کہ میری شادی کی عمر ہوگئ ہے تو میری شادی کروادو۔ ۔”ورنہ میں خود کو شوٹ کرلوں گا۔ ۔”رایان نے مزے سے کہا تو حوریہ کو سمجھ نہیں آیا وہ کیسے اُس کو سمجھائے








ڈیڈ میں ہاتھ جوڑ کر آپ کو التماس کرتا ہوں کہ میری بات کو سُنے۔ ۔”اُس کو سمجھے گے اور میری توقع مُطابق جواب دے گے۔ ۔۔”صبح سویرے ہر کوئی ناشتہ کرنے باہر آیا تو رایان ایشال اور زوہان کو وِش کرتا سنجیدگی سے چور لہجے میں آریان کو دیکھ کر بولا جو زوریز کے ساتھ بیٹھ کر اپنے آفس کے معاملات ڈسکس کررہا تھا
“یہ التماس کیا ہوتی ہے؟ “آریان نے اُس کو گھورا
“جب میں کروں گا تو آپ کو پتا چل جائے گا۔ ۔”رایان نے دانتوں کی نُمائش کرتے کہا
“مجھے لگ رہا اُردو ناول رائٹر کو پسند کرنے کے سائیڈ ایفکٹس ہیں۔ ۔”میشا سوہان کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل سجاتی اُن لوگوں کو دیکھ کر بولی
“آپ کو بھی بولنے کا پورا پورا حق دیا جائے گا۔ ۔”لیکن پلیز فلحال آپ میری بات سماعت فرمائے۔ ۔”رایان نے کہا تو وہ بھی آریان کی طرح اُس کو گھورنے لگی
“فرمائیے۔ ۔”آریان نے اُس کو بولنے کا اِشارہ دیا تو وہ زوریز کو دیکھنے لگا جو خود اُس کی جانب دیکھتا اُس کی گوہر افشانی سُننے کا منتظر تھا۔ ۔”جبکہ ایشال صبح صبح اُن کو ایک ساتھ موجود دیکھ کر جہاں تھوڑا حیران ہوئی تھی وہی اُن کی ایسے باتوں کو سن کر وہ زوہان کو دیکھنے لگی۔۔”جو ٹیبل پر پلیٹس رکھتی سوہان کی مدد کروانے میں مصروف تھا
“جیسا کہ عام والدین کی طرح ہر والدین کی ایک دلی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کے بچوں کے بھی بچے ہو۔ ۔”تو ظاہر سی بات ہے آپ کی بھی ایسی خواہش ہوگی کہ اپنے پوتے اور نواسوں کو ہاتھ میں کِھلائے۔۔”رایان نے اصل بات کرنے سے پہلے تقریر کرنا ضروری سمجھا
“آگے؟”آریان کسی اسکول کے پرنسپل کی طرح بیٹھتا اُس کو آگے بولنے کا کہا
“پہلے آپ بتائے ایسی خواہش آپ کی بھی ہے نہ؟ “رایان نے پوچھا تو میشا نے مسکراکر اپنا سرجھٹکا جبکہ زوریز نے اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیا تھا وہ جانتا تھا آریان کا جواب کیا ہوگا
“بتائے نہ آپ کی بھی ایسی خواہش یقیناً ہوگی۔ ۔”رایان اُس کو چُپ پاکر پھر سے پوچھنے لگا
“نہیں تو میری ایسی کوئی خواہش نہیں۔ ۔”کیونکہ ابھی تو تم خود بچے ہو۔ ۔”اور میں اُن والدین میں سے نہیں ہوں جو اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اپنے بچوں کے ناتواں کندھوں پر بوجھ ڈالے۔ ۔۔آریان نے اُس کی طرح سنجیدگی سے کہا تو رایان نے مدد طلب نظروں سے زوریز کو دیکھنے لگا جو اُپر لگے جھومر میں جانے کیا دیکھ رہا تھا
“آپ اپنے دل کو مار کر میرا نہ سوچے بلکہ کُھلے دل کا اعتراف کرے جو بھی ہے۔ ۔”اور بتائے آپ کی ایسی کوئی خواہش ہے۔ ۔؟”رایان نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجائے پوچھا
“نہیں۔ ۔”نو بکواس ڈائریکٹلی نو بول دیا آریان نے
“مگر ڈیڈ میری خواہش ہے کہ میں شادی کروں۔ ۔”اور آپ کے گھر کا آنگن بچوں سے بھردوں سوچے چھوٹے چھوٹے بچے کتنے پیارے لگے گیں باہر ۔”رایان نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا
“آنگن میں پھول جچتے ہیں جو بہت خوبصورت لگ رہے ہیں۔ ۔”اپنے بچوں کو تم رہنے پاکستان میں مادم شُماری ویسے بھی پہلے سے زیادہ ہے۔۔”آریان نے کہا تو ایشال کی ہنسی چھوٹ گئ تھی
“مادم نہیں مردم ہوتا ہے۔۔۔”رایان نے اپنے تڑپتے دل کو تھپتھپاکر بتایا
“جو بھی ہے۔ ۔”اب تمہاری التماس پوری ہوگئ ہے تو ہمیں ناشتہ کرنے کی اجازت ہے؟”آریان نے پوچھا
“ڈیڈ یار آپ کو میری آنکھوں میں شادی کی خواہش نظر کیوں نہیں آتی؟ “آپ کو پتا نہیں اسلام میں حکم ہے کہ اولاد جیسے بالغ ہوجائے اُس کی شادی کروائے ایسے وہ بہت گُناہوں سے بچ جاتا ہے۔ ۔”رایان نے اُس کو اہم معلومات دی
“بلکل ایسا ہے قرآن میں۔ ۔”لیکن جگو اُس کے لیے اولاد کا بس بالغ ہونا کافی نہیں اُس میں سمجھ بوجھ ہونا چاہیے اور سب سے بڑی بات اُس کا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا لازمی ہے۔۔”وہ بھی آریان تھا جس کے پاس ہر سوال کا جواب تھا
“دیکھو تو بول کون رہا ہے۔۔”آریان کی بات پر میشا ہنس کر بولی تو سوہان نے اُس کو گھورا
“ڈیڈ غور اور توجہ کے ساتھ دیکھے یہ میری اپنی پرسنل ٹانگیں ہیں جس کے ساتھ میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں کسی سے اُدھار نہیں لی ہوئیں اور نہ لوہار سے کہا کہ لوہا گرم کرکے یہ ٹانگیں مجھ میں فکس کریں۔۔۔”اور بِگ ڈیڈی نے کہا تھا جب آپ کی شادی ہوئی تھی تو آپ آوارہ سڑکوں پر گھومتے تھے کوئی کام کاج نہیں ہوتا تھا آپ کو کرنے کے لیے سوائے موم کی نگرانی کرنے کے علاوہ۔۔”رایان ضرورت سے زیادہ بول گیا جس کا اندازہ اُس کو آریان کی گھوریوں سے ہوا تھا
“تم نے تو میرا نام بدنام کرلیا ہے۔۔”آریان رایان کو گھورنے کے بعد زوریز سے بولا
“نام بنانے کے لیے بدنام تو ہونا پڑے گا ویسے بھی سامنے تمہارا اپنا خون ہے اثر تو دِکھائے گا نہ؟”زوریز نے شانے اُچکاکر کہا
“اچھا ویسے جگو
“ارشاد
“ارشاد
“آریان ابھی کچھ کہنے والا تھا جب جوش میں آتا رایان اُس کی بات کاٹ کر کہنے لگا
“تمہاری ایج کیا ہے؟”آریان نے پوچھا
“تو گویا آپ کو میری عمر بھی یاد نہیں؟”رایان افسوس سے اُس کو دیکھنے لگا
“بتاؤ نہ کتنے سالوں سے یہ زمین تمہارا بوجھ اُٹھارہی ہے؟”آریان نے اُس کو بچوں کی طرح پچکارا تو ایشال کی موجودگی میں رایان کو جیسے ایسے لفظوں پر شرم سی آگئ
“الحمد اللہ پورے چوبیس سالوں سے۔ ۔”رایان نے بتایا
“میری جب شادی ہوئی تھی تو میں ستائیس اور اٹھائیس سال کا تھا۔ ۔”آریان نے پرسوچ لہجے میں بتایا
“کچھ لوگوں کی قسمت میں تالا لگا ہوا ہوتا ہے۔۔جبھی دیر شادی ہوتی ہے خیر آپ بتاؤ یہ بتانے کا مقصد۔۔”رایان نے سرجھٹک کر کافی افسوس لہجے میں جواباً کہا
“مقصد صاف ہے تمہاری شادی بھی تب ہوگی جب تم ستائیس سال کے ہوجاؤ گے۔۔”آریان نے آرام سے اُس کے سر پہ دھماکا کیا تھا تو رایان کو لگا جیسے صدمے میں ابھی اُس کا ہارٹ فیل ہوجائے گا
“یہ میری سماعت کیا سُن رہی ہے؟”رایان بے یقین لہجے میں بولا
“تمہاری شادی آج سے تین سال بعد نو نومبر کو ہوگی۔۔”آریان نے مزے سے کہا
“نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہو نہیں سکتاااااااااااااا
“رایان نے تیز آواز میں کھینچ کر الفاظ نکالے تو بے ساختہ سب کے اپنے کانوں پر ہاتھ جمائے تھے
“ایسا ہوگا کیونکہ میں کروں گا۔۔”آریان نے بتایا
“نو ڈیڈ آپ اِتنے سنگدل نہیں بن سکتے۔۔”میں ایسا ہونے نہیں دوں گا۔۔”رایان اپنا سر نفی میں ہلاکر بولا
“میں تو کروں گا۔۔”آریان نے لاپرواہ انداز میں کہا
آپ خاموش کیوں ہو؟”میرے ساتھ دے نہ؟”رایان نے التجائیہ انداز میں زوریز کو دیکھ کر کہا
“یہ کچھ نہیں بولے گا۔۔”یہ خود جلدی شادی کرنے کے خلاف ہے۔۔”تم اندازہ لگادو جب یہ اکتیس سال کا تھا تو تب اِس نے شادی کی تھی۔۔”زوریز کے کچھ کہنے سے پہلے آریان بول پڑا
“جو بھی ہے ہانی کی تو اِنہوں نے جلدی کروالی۔۔”پھر یہ رسٹرکشن صرف میرے لیے کیوں؟”رایان رونے کے در پہ تھا
“تم کب شادی کرنا چاہتے ہو؟”زوریز نے رایان کو پوچھا
“مجھ سے میری رائے نہ لے۔۔”میں تو یہی کہوں گا۔۔”صبح مایوں کا فنکشن ہو۔۔”دوپہر کو مہندی ڈھولکی شام کو نکاح اور رات کو بارات۔۔۔”رایان نے شرمانے کی ناکام کوشش کرتے کہا تو اپنی بائیں آئبرو اُپر کرتا زوریز یہاں وہاں دیکھنے لگا۔۔”اُس کو پتا چلا جیسے شادی کی جلدی سالوں پہلے آریان کو بھی اِتنی نہ تھی جتنی رایان کو ہے۔۔”یقیناً پھر اِس کی اولاد نے چوسنی چوسنے کے وقت دولہن کی ڈیمانڈ کرنی ہے۔۔”اپنے اِن نادر خیالات پر زوریز نے بے ساختہ اَسْتَغْفِرُاللّٰه پڑھا تھا
“ٹمہاری شادی تو آج سے تین سال بعد نو نومبر کو ہوگی۔۔”ایسا کرو کارڈ ابھی سے بنوالوں۔۔”بعد میں ٹائیم یہ بھی بچ جائے گا۔۔”آریان اپنی بات پر ڈٹا رہا
“ڈی
“جگو ابھی آرام سے ناشتہ کرو بیٹا۔”ہانی اور مان کا خیر سے ولیمہ ہوجائے۔۔”اُس کے بعد میں اور میشو تمہارا رشتہ لینے جائے گے۔۔سوہان کو اُس کی حالت پر ترس سا آگیا تھا تبھی کہا جس پر رایان کی بتیسی پوری کُھل چُکی تھی
“گھر کی بوس تو خالہ عرف چچی ہیں۔۔”یہاں تو وہ ہوتا ہے جو وہ چاہتی ہیں۔۔”اور میں کتنا پاگل ہوں نہ جو آپ سے بات کرکے ٹائیم ویسٹ کیا۔۔”آپ کے خوامخواہ نخرے برداشت کیے۔۔”رایان کو سوہان کی سپورٹ ملی تو وہ آریان کو دیکھ کر بولا
“اپنی بیوی کو سمجھادو۔ ۔”آریان نے زوریز کو دیکھ کر کہا تو جواب میں جن نظروں سے اُس کو زوریز نے دیکھا اُس پر وہ گڑبڑاتا اُس کے پاس سے اُٹھ گیا
“اچھا ہوا جو آپ نے معاملہ سنبھال لیا ورنہ آج بہت کچھ ہوجاتا۔ ۔”رایان اپنے لیے کرسی گھسیٹ کر بیٹھتا سوہان کو دیکھ کر بولا
“جیسے کہ کیا ہوتا؟ “میشا کلاس میں جوس انڈیلتی کِن اکھیوں سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“میں نے سوچا تھا اگر آپ میں سے کسی نے میری بات کو نہ مانا تو میں اپنی کنپٹی پر گِن تان لوں گا۔ ۔”اور اپنی بات آگے رکھوں گا۔ ۔”رایان نے کہا تو سب ناشتے سے ہاتھ اُٹھاتے رایان کو دیکھنے لگے جو بڑے مزے سے بریڈ کھانے میں لگا ہوا تھا
“میر ہادی بننا چاہتے تھے کیا؟ “زوہان نے پوچھا
“وہ تو میں آلریڈی ہوں۔ ۔”بس ایک آخری کیل ٹھوکنا چاہتا تھا پر اُس کی بھی ضرورت نہ پڑی کیونکہ بات تو میری پوری ہوگئ۔ ۔”رایان کو جیسے افسوس ہوا تھا
“پھر تو آپ نے غلطی کردی۔ ۔”ایک بار یہ گن لاتا تو میں اچھی والی چھترول لگاتا۔ ۔”آریان سوہان کو دیکھ کر بولا
“کیوں کیا موم کی طرح آپ کے ہاتھوں میں بھی اب کُھجلی ہونے لگی ہے؟ “رایان نے شرارت سے اُس کو دیکھ کر کہا
“بیٹا جی زیادہ خالہ کی سپورٹ پر اچھلو مت آخری فیصلہ میرا ہونا ہے۔ ۔”اب خود سوچو تمہاری ہونے والی بیوی کی ماں نہیں پوچھے گی کہ لڑکے کا باپ کہاں ہیں؟”آریان نے زچ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو رایان کی شکل دیکھنے لائق ہوگئ تھی۔
“ایشال آپ کچھ لوں نہ۔ ۔”سوہان نے ایشال کو مسکراکر دیکھ کر کہا تو اُس نے مسکراکر سراثبات میں ہلایا پھر رایان کو دیکھا جس کا کان میشا کھینچے ہوئے تھی
“یہ سب کیا ہے؟”ایشال نے زوہان کے کان کے پاس جُھک کر سرگوشی نما آواز میں پوچھا
“عادت ڈالو یہ تو یہاں کا روز کا معمول ہے۔ ۔”اور ابھی سکی مان اور میشو”ماہی اقدس آپو بھی نہیں ورنہ مزید شغل میلا لگتا۔ ۔”زوہان نے اُس کا حیران چہرہ دیکھ کر بتایا
“یہ سب روز ہوتا؟ “ایشال نے پوچھا
“بلکل یہ روز ہوتا ہے۔ ۔”زوہان نے بتایا
“اچھا واقعی۔ ۔”ایشال جوس کا گھونٹ بھرنے لگی
“تمہیں بھی تو یہی سب چاہیے تھا نہ۔ ۔”زوہان نے بے حد آہستگی سے پوچھا
“ہاں پر اندازہ نہیں تھا اِتنا۔ ۔”کافی یونیک فیملی ہے تمہاری۔ ۔”ایشال نے بتایا
“تمہاری نہیں ہماری۔۔”زوہان اپنی بات پر زور دے کر بولا تو وہ پہلی بار مسکرائی









“ایک ماہ بعد:
آتش کے اندازے مطابق ایک مہینے بعد آج واقعی رایان اور حوریہ کا نکاح تھا۔ ۔”جس پر رایان بہت خوش تھا۔ ۔”اُس کی خوشی کا اندازہ ہر کوئی اچھے سے لگا پارہا تھا۔ ۔”دوسری طرف حوریہ بھی بہت خوش تھی۔۔”اور رافیہ بیگم پرسکون تھی جو اپنی بیٹیوں کو فرض سے سبکدوش ہوچکیں تھیں۔ ۔
“ماہی مجھے تم سے بات کرنی ہے ایک۔ ۔”سکندر نے ماہا کو دیکھ کر کہا
“کونسی بات؟ “ماہا نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
“میں نے دعا کو چھوڑدیا۔ ۔”سکندر اچانک یہ بولا تو ماہا کو سمجھ نہیں آیا کہ یہ اُس کو کیوں بتارہا ہے؟
“افسوس کا اِظہار کروں یا مبارکباد دوں؟ “ماہا نے سرجھٹک کر جواباً کہا تو سکندر نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھا
“میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ ۔”سکندر سیدھا مدعے کی بات پر آیا
“آپ ہوش میں ہیں؟ “آپ کو کیا لگتا ہے آپ ماہا کو ایسا کہینگے اور وہ مان جائے گی؟ “آپ نے ہمیں سمجھا کیا ہوا ہے؟ “دعا آپ کے لیے اچانک سے بددعا ہوگئ تو آپ نے سوچا چلو ایک گئ تو ماہا تو ہے نہ۔ ۔”ماہا اچانک سے پھٹ پڑی جس پر سکندر نے آس پاس دیکھا جہاں صد شکر موجودہ لوگوں کا دھیان اُن کی طرف نہیں تھا
“وہ نہیں گئ۔۔”میں نے اُس کو تمہارے لیے چھوڑدیا۔۔”سکندر نے بتایا
“اپنا کیا ماہا سر پر نہ تھوپے۔۔”ہم نے آپ کو ایسا کرنے کا نہیں تھا بولا۔۔”ماہا نے طنزیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“ہم بیٹھ کر آرام سے بات کرتے ہیں۔ ۔”سکندر نے اُس کو دیکھ کر نرمی سے کہا
“آج آپ کا اندازِ گفتگو کافی الگ ہے۔ ۔”پر ہم بتادے کہ ماہا آپ کے جال میں آنے والی نہیں۔ ۔”اور
“آئے لو یو ماہا۔ ۔”آئے ریئلی لو یو۔ ۔”ماہا اُس کو دیکھ کر ابھی کچھ کہنے لگی تھی۔ ۔”جب وہ اچانک سے اُس کی بات کے درمیان میں بولا تو وہ حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی
“آپ ہوش میں ہیں؟ماہا بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی
ہوش میں آیا ہوں تبھی ایسا بولا۔ ۔”پہلے کلاس ڈفرنس اُس کے بعد ماموں جان کا میرے سنگر ہونے پر اعتراض جان کر مجھ میں ہمت کبھی نہیں ہوئی کہ میں اپنے دل کی بات کسی دوسرے پر عیاں کروں۔ ۔”لیکن اب مزید مجھے برداشت نہیں ہوا تو بول دیا۔”میں نہیں چاہتا کہ ماموں جان تمہارے لیے باہر رشتے تلاش کریں۔۔۔”سکندر نے کہا تو وہ بے اختیار ہنس پڑی
“ہنسنے والی کیا بات تھی؟ “سکندر کو ناگواریت محسوس ہوئی
“آپ اب بھی سنگر ہو۔ “ماہا کے بابا کے اُمیدوں پر آپ پورا نہیں اُترتے۔ ۔”اور کلاس کی بات بھی آپ نے خوب کہی ہمت نہیں تھی بس آپ میں وہ ہمت جو عاشر پھوپھاں میں تھی۔ ۔”ماہا نے کہا تو سکندر بس اُس کو دیکھتا رہ گیا
“میں کچھ وقت بعد وہ چھوڑدوں گا۔ ۔”بس تم بتاؤ اپنا جواب۔۔”سکندر نے کہا
“ماہا کا جواب بابا سائیں کا جواب ہوگا۔۔”ماہا کا لہجہ پختگی سے بھرپور تھا
“میں جانتا ہوں۔۔”تم بھی مجھ میں انٹرسٹڈ ہوں پھر ایسا برتاؤ کیوں؟”سکندر کو جیسے اُس کا جواب پسند نہیں آیا
“اسٹیج پر آجائے رایان بھائی کا نکاح ہونے والا ہے۔۔”مسکراہٹ دبائے کہتی وہ اسٹیج کی طرف بڑھ گئ۔۔”تو اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا سکندر بھی اُس کے پیچھے گیا۔۔
“تمہیں نہیں لگتا ہمیں اب ہنی مون پر جانا چاہیے؟”آتش اقدس کو دیکھ کر بولا
“ہمیں نہیں لگتا ایسا۔۔”اقدس نے ترنت جواب دیا
“پر مجھے لگتا ہے اِس لیے میں نے پورے تین ماہ کا کام سے گیپ لیا ہے۔۔”خوب انجوائے کرینگے۔۔”جائے گے دو اور واپس تین آئے گے۔۔”آتش نے مزے سے بتایا
“تیسرا کون ہوگا؟”اقدس نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“ہمارا بچہ اور کون۔۔”آتش نے کہا تو وہ اُس کو گھورنے لگی
“بچہ جن کا ہوگا جو تین ماہ میں پیدا ہوجائے گا۔۔”اقدس نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا
“کیا جن کے بچے تین ماہ میں پیدا ہوجاتے؟”آتش نے کافی حیرانگی سے پوچھا۔۔”کیونکہ اُس بیچارے نے تو کچھ اور کہا تھا جیسے وہ پریگننٹ وغیرہ ہوگی۔”لیکن اُس کا ایمپریشن سب پر ایسا تھا کہ اُس کی سیدھی بات بھی لوگوں کو اُلٹی لگتی تھی۔۔۔
“ہمیں کیا پتا؟”کونسا ہمارا خلائی مخلوق کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا ہے۔۔”اقدس کو اُس کا سوال نامعقول سا لگا
“سرچ کرلوں گوگل سے۔۔”کافی اچھا ساتھی ہے۔۔”وہ دیتا ہے ہر سوال کا جواب۔۔آتش نے اُس کی معلومات میں اضافہ کیا
“کوشش کی تھی۔۔”سرچ کیا آتش کیا بلا ہے؟”تو جواب آیا آتش ایک آگ ہے جس میں لوگ جل کر بھسم ہوجاتے۔۔”اقدس نے منہ کے زاویئے بگاڑ کر بتایا تو آتش سر نیچے کرتا ہنس پڑا
“تمہیں ہنسی آرہی؟”اقدس افسوس سے اُس کو دیکھنے لگی
“یار میرے مطلق تمہیں اگر کچھ پوچھنا ہے تو مجھ سے پوچھو نہ گوگل مامے کو چھوڑدو۔۔”آتش نے مسکراہٹ دبائے کہا
“تم سے پوچھتے ہیں تو تم آنکھ ونک کرکے کہتے میں چیز بڑی ہوں مست مست۔۔”اقدس نے سرجھٹک کر کہا
“ہاں تو اِس میں غلط کیا ہے؟”میں مست ہوں اور تم میری مستانی ہو۔۔”آتش نے معنی خیز نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو اِس بار اقدس اُس کو گھور بھی نہ پائی
“تم نے ماہا کو پرپوز کیا؟”زوہان سکندر کو دیکھ کر پوچھنے لگا جس کی نظریں اسٹیج پر حوریہ کے ساتھ بیٹھی ماہا پر تھیں
“ہاں۔۔سکندر نے مختصر بتایا
“کیوں؟”زوہان نے پوچھا
“تم اِتنے کاکے کب سے بن گئے ہو؟”یعنی تمہیں پتا نہیں کہ پرپوز کیوں کیا جاتا ہے؟”سکندر نے جیسے اُس کی عقل پر ماتم کیا
“مجھ پر غُصہ کرنے کی ضرورت نہیں میں نے تو اِس لیے پوچھا کیونکہ تم نے پوری دُنیا کے سامنے دعا خان کو پرپوز کیا تھا۔۔”اور اب جو اسکینڈل بنے گے اُس کا اندازہ تمہیں مجھ سے زیادہ ہوگا۔۔”اور ایک بات جب تک یہ سارے معاملات حل نہیں ہوجاتے خالو جان تمہیں ماہا کا ہاتھ کبھی نہیں دے گے۔۔”زوہان نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
“موم کی کوئی بھی بات وہ نہیں ٹالتے ویسے بھی اگر بہن کسی چیز کی مانگ کرے گی تو بھائی انکار نہیں کرتا۔۔”سکندر بس یہی بول پایا
“آئے ایگری۔۔”لیکن خالو ماہا سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔”زوہان نے بتایا
“تو میں کوئی غیر یا رنڈوا تو نہیں جس کو اپنی بیٹی دینے سے ماموں جان کو سوچنا پڑے۔۔”اُن کا بھانجا ہوں میں۔۔”سکندر نے گہری سانس بھر کر کہا
“بات یہ نہیں تم نے جلدبازی کا مُظاہرہ کیا تھا۔۔”زوہان نے بتایا
“اُن کا اٹیٹیوڈ ایسا ہوتا تھا میں کیا کرتا تھا پھر؟”دل کی بات بس دل میں رہ جاتی۔۔”باہر آنے کے لیے اُس کو وجہ نہ ملتی۔۔”سکندر نے کہا تو زوہان اِس بار مسکرایا
“ڈونٹ وری اگر اِس بار تم نے مضبوط اِرادہ باندھ لیا ہے تو خالو جان بھی انکار نہیں کرے گے۔۔”ابھی چلو جگو کے پاس بے شرموں کی طرح مسکرائے جارہا ہے۔۔”زوہان نے رایان کو دیکھ کر اُس کو کہا
“مسکرائے گا کیوں نہیں؟”صدیوں کا شادی کے لیے ترسا ہوا تھا۔۔”سکندر جواباً بولا تو زوہان ہنس پڑا
“میرے پاس تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔۔”رایان نے اپنے ساتھ بیٹھی حوریہ کو دیکھ کر بتایا
“ہماری شادی میرے لیے کسی سرپرائز سے کم نہیں۔۔”حوریہ کسی ٹرانس کے زیر اثر بولی
“اوئے ہوئے آج تو کافی موڈ میں لگ رہی ہو۔۔”رایان نے اُس کو چھیڑا تو وہ خجل ہوئی
“آپ بتائے کونسا سرپرائز دینے والے ہیں آپ مجھے؟”حوریہ نے بات بدل کر پوچھا
“پہلے میں اگر تم سے ناراض ہوگا تو مجھے ویسے مناؤں گی نہ جیسے تمہارے ناولز میں ہیروئن اپنے چپٹے جیسے شوہر کو مناتی ہیں۔۔”رایان نے اُس کو دیکھ کر پوچھا تو وہ جو پہلے اُس کی بات پر شاک میں جانے والی تھی۔۔”لفظ “چپٹے”پر بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھے گئ
“کیا کہا آپ نے چپٹے جیسے؟”حوریہ بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی
“ہاں وہ مجھے اپنے علاوہ ہر کوئی ایسا لگتا ہے اور تم نہ زیادہ کسی کی تعریف نہ کیا کروں۔۔”تمہارے ناول کے ہیرو کی پرسنائلٹی پڑھ کر میں نے جانے کیسے برداشت کیا تھا۔۔”رایان نے بُری شکل بناکر کہا
“حد ہے اب کی جیلسی کی بھی۔۔”حوریہ تاسف سے اُس کو دیکھتی رہ گئ
“تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔۔”رایان گھوم پِھر کر ایک بات پر آیا
“کونسی بات؟”حوریہ انجان بنی
“میں نے کہی پڑھا تھا کہ رائٹر خود کو امیجن کرکے اپنے ناول کی ہیروئن کو تحریر کرتی ہے تو ظاہر سی بات ہے تم بھی ویسی رومانٹک ہوگی نہ۔۔”رایان نے دانتوں کی نُمائش کرتے ہوئے اُس سے کہا
“یہ آپ نے کہاں پڑھا تھا؟’زرا مجھے بتائیے گا تاکہ میں بھی پڑھوں۔۔”حوریہ اُس کو دیکھ کر طنزیہ بولی
“کیا تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں؟”جو تمہیں ثبوت چاہیے؟”ارے تمہارے ناولز کی ہیروئن تو بہت فرمانبردار ہوتی ہے جو اپنے شوہر کی آنکھوں سے دُنیا دیکھتی ہیں تمہیں اُن سے کچھ سیکھنا چاہیے ناکہ لکھ کر بھول جانا چاہیے۔۔”رایان نے افسوس کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو حوریہ کو لگا جیسے اُس نے لکھاری بن کر غلطی کردی ہے یا پھر رایان کو اپنے رائٹر ہونا کا بتاکر اُس نے سب سے بڑی غلطی کردی ہے۔۔”یا غلطی یہ تھی کہ رایان نے اُس کے ناولز پڑھ لیے ہیں۔۔”اور شاید بیوی رائٹر ہو تو شوہر کو اُس کا لکھا ہوا پڑھنا نہیں چاہیے۔۔”یہ اُس کی سوچ تھی جو رایان کی باتوں پر اُس کو آئی کیونکہ وہ جان گئ۔۔”جو لکھا ہے اب تک اپنے ناولز میں وہ کسی ڈرامے میں آئے یا نہ آئے رایان نے عملی طور پر گِن گِن کر اُس سے وہ سب کروانا ہے۔۔”یہ سب سوچتے حوریہ کو اپنے آپ پر ترس آیا اور یہ خیال بھی کہ کاش کچھ بھی لکھنے سے پہلے وہ رایان کو امیجن کرتی تو شاید اُس کے ناولز میں ہیروئنز کچھ مختلف ہوتیں۔۔”ایسی جو رایان اُن کا ذکر تک نہ کرتا
“تم کہاں کھوگئ ہو؟”رایان نے اُس کے آگے ہاتھ لہرایا تو وہ چونک پڑی
“کہیں نہیں میں یہی ہوں۔۔”حوریہ نے سنبھل کر کہا
“اچھا پھر اپنے سرپرائز کا پوچھو نہ۔۔”رایان نے مسکراکر کہا
“کیا سرپرائز ہے؟”حوریہ نے ڈر کر پوچھا کیونکہ رایان کی جیسی شخصیت تھی ایسے میں کسی سیدھے کام کی توقع رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے برابر تھا
“وہ دیکھو۔۔”رایان نے ہال کے داخلی دروازے کی طرف اِشارہ کیا تو حوریہ نے اُس کے اِشارے کا تعاقب کیا تو اُس کو اپنی بینائی پر شک ہوا
“ابا۔۔”عباس صاحب کو آتا دیکھ کر زیر لب بڑبڑاتی وہ جھٹکا کھاکر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔”عباس صاحب کو دیکھ کر عفان سے بات کرتی خوریہ بھی ایک پل کو چونک سی گئ تھی۔۔”اُس نے حیرت سے عفان کو دیکھا جس کے تاثرات نارمل تھے
“عفان۔۔”خوریہ نے عفان کو پُکارا
“رلیکس۔۔”اُس کے چہرے پر خوف دیکھ کر عفان نے اُس کو اپنے بازوں کے حلقے میں لیا
“ابا آپ یہاں؟”عباس صاحب کو اپنے روبرو کھڑا دیکھ کر حوریہ کی آنکھیں اشکبار ہوئیں تھیں لیکن عباس صاحب نے بنا کوئی بات کیے اُس کے آگے ہاتھ جوڑے تو پورے ہال میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں تھیں۔۔
“نہیں آپ یہ۔۔”حوریہ نے جلدی سے اُن کے ہاتھ نیچے کیے
“مجھ بدقسمت باپ کو معاف کردو۔۔”عباس صاحب ندامت سے چور لہجے میں بولا تو رافیہ بیگم سپاٹ نظروں سے اُن کا ملگجا حلیہ دیکھنے لگیں
“آپ نے اپنا یہ کیا حال بنادیا ہے۔۔”حوریہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا اِتنے سال بعد اپنے باپ کو دیکھ کر وہ کیسا ری ایکٹ کرے؟”دور کھڑیں”سوہان۔۔”میشا۔۔”فاحا کو عباس صاحب میں نوریز ملک نظر آیا تھا۔۔”جو آج سے پندرہ سال پہلے اِس فانی دُنیا سے گُزر چُکے تھے۔۔”اور اُن کو اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بس اُن تینوں کی معافی چاہیے تھی۔۔”تو کیسے ممکن تھا کہ مرتے ہوئے کی وہ آخری خواہش کو پورا نہیں کرتیں؟”شخص بھی وہ جو جیسا بھی تھا پر اُن کا باپ تھا۔۔”تبھی اپنا فیصلہ اللہ پر چھوڑ کر اُنہوں نے نوریز ملک کو معاف کردیا تھا جو شاید زندہ بھی بس اُن کی معافی کے لیے تھے۔۔”تبھی ایک طرف اُن کے ہونٹوں سے معاف کردینے والے الفاظ نکلے تھے تو دوسری طرف نوریز ملک کے جسم سے روح پرواز کرچُکی تھی
“تم سب کے جانے کے بعد احساس ہوا تھا کہ میں نے اپنا کیا خسارہ کرلیا ہے۔۔”ایک جنت تھی جس کو ٹھکر مارکر اُس کو دوزخ بنادیا۔۔”تم لوگوں کے جانے کے بعد وہ خالی گھر مجھے کاٹ کھانے کو ڈورتا تھا۔۔۔عباس صاحب نے شرمندگی کے گہرے احساس میں کہا تو حوریہ ہمدرد بھری نگاہوں سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی۔۔”پھر بغیر اُن کی کوئی بھی زیادتی کو خاطے میں لائے وہ اُن کے سینے سے لگی تو عفان نے بھی خوریہ کو دیکھ کر اُن کی طرف جانے کا کہا پر وہ اپنا سر نفی ہلانے لگی تو وہ زور دینے لگا تو لب بھینچ کر اُس کو دیکھتی وہ بھی عباس صاحب کی طرف بڑھی تھی۔۔”یہ سارا منظر کزن پلٹن مسکراکر دیکھ رہا تھا اور آتش کول ڈرنک کا گلاس پکڑے اُن کو ایسے دیکھنے لگا جیسے سامنے۔۔”کبھی خوشی کبھی غم فلم چل رہی ہو۔۔
“شادی میں کیا کیا دیکھنا پڑ رہا ہے”ایسا لگ رہا ہے جیسے دُنیا میں آکر غلطی کرڈالی ہے۔۔”مطلب زندگی نہیں اسٹار پلس کا ڈرامہ بن گیا جہاں شادیوں میں کوئی نہ کوئی بچھڑا ہوا اچانک سے آجاتا ہے۔۔”ایک ٹوئسٹ پیدا کرنے۔۔”آتش بوریت کا شکار ہوتا بڑبڑایا تو اقدس تاسف سے اُس کو دیکھنے لگی
“آپ کو جنوں کی دُنیا میں پیدا ہونا چاہیے تھا کیونکہ انسانوں والی آپ میں کوئی خصوصیت نہیں ہے۔۔”اقدس نے بھگو کر طنز کیا
“ہاں تو پھر تمہیں چڑیلوں کے پاس جنم لینا تھا۔۔”اگر نہ بھی لیتی تو میں نے جن بن کر بھی انسان سے محبت کرتا کیونکہ آتش لُغاری کو تو وہاں ہونا ہے جہاں اُس کی زوجہ ہے۔۔”آتش اُس کی بات کا بُرا مانے بغیر بولا تو وہ بس اُس کو دیکھتی رہ گئ۔۔۔
“اللہ نے کافی یونیک قسم کا بندہ ہماری قسمت میں لکھا ہے۔۔”اقدس آتش کو دیکھ کر بولے بغیر نہ رہ پائی
“جس کے لیے تم جتنا بھی شکر ادا کرو کم ہے۔۔”تمہارے تو بس میں نہیں ورنہ یہی جائے نماز بِچھاکر شکرانے نفل پڑھنے لگ جاتی۔۔”آتش اپنے مطلب کی بات کرکے بولا تو اقدس اُس کا کانفڈنس لیول دیکھ کر بس مسکرا پائی۔۔”اِس نے جان لیا تھا اور اعتراف بھی کرلیا تھا کہ آتش لُغاری جیسا کوئی اور نہیں اپنی شخصیت کا وہ بس ایک پیس ہے جس کے بننے کے بعد شاید کمپنی بند ہوگئ تھی۔۔۔
“میں ماموں سے بات کرکے آیا ہوں۔۔سکندر ماہا کے ساتھ کھڑا ہوتا بتانے لگا
“تو؟”ماہا نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
“تو اُنہوں نے کہا جس دن کانفرنس میں تم اپنے سنگنگ کیریئر کو خداحافظ بولو گے اُس دن تمہارا ہماری بیٹی سے نکاح ہوگا۔۔”سکندر نے مسکراکر بتایا
“پھر آپ نے کیا جواب دیا؟”ماہا نے جاننا چاہا
“میں نے کہا پھر آپ تیاری کرلے تین دن بعد میں انکار کردوں گا اور آپ کی بیٹی سے نکاح کروں گا۔۔”سکندر نے اُس کو دیکھ کر آنکھ کا کونا دباکر بتایا۔۔”تو وہ یہاں دیکھنے لگی
“ویسے آج آپ کے لہجے میں ماہا کے لیے یہ چاشنی کیسے آگئ؟”ماہا نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“محبت کا امرت گھول کر پیا ہے۔۔”سکندر کا برجستہ جواب اُس کو ہنسنے پر مجبور کرگیا تھا۔۔”جبکہ المان والوں نے اِشارے سے اُن کو اپنے پاس آنے کا کہا تو وہ ماہا کے ساتھ اسٹیج کی طرف آیا جہاں فیملی فوٹو کھینچی جارہی تھیں۔۔
“شکریہ۔۔ایشال زوہان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر بولی
“شکریہ کس بات کا؟”زوہان جو کیمرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔”ایشال کی بات پر اُس کی طرف متوجہ ہوا
“تمہاری وجہ سے مجھے یہ پیار کرنے والی فیملی ملی ہے۔۔”جہاں آکر مجھے محسوس نہیں ہوا کہ میں سسرال میں ہوں۔۔”بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے یہی میری فیملی ہے جہاں سے میں بس بچھڑ گئ تھی۔۔”ایشال نے اپنا سر اُس کے کندھے پر ٹِکاکر بتایا تو زوہان نے مسکراکر اُس کے بالوں کا بوسہ لیا
“ہم نے ایک چیز نوٹ کی ہے۔۔”المان نے ڈوپٹہ سہی کرتی عیشا کو دیکھ کر بتایا
“کیا نوٹ کیا ہے؟”عیشا نے چونک کر اُس کو دیکھا
“یہی کہ ہمارا رشتہ جو ہے اُس میں ہم یا تم سمجھوتہ نہیں کررہے۔۔”المان نے گہری مسکراہٹ سے اُس کو دیکھ کر بتایا تو اُس کی بات کا مطلب سمجھتی عیشا آنکھیں چھوٹی کیے غور سے اُس کو دیکھنے لگی
“کیا تم مجھ سے اِظہارِ محبت کررہے ہو؟”عیشا نے محفوظ ہوکر اُس کو دیکھ کر پوچھا
“تمہیں کیا لگ رہا ہے؟”المان نے اُلٹا اُس سے پوچھا
“مجھے تو لگتا ہے جیسے تم دل کی گہرائیوں سمیت مجھ سے اِظہارِ محبت کرنا چاہتے ہو۔۔”عیشا اُس کے گالوں پر نمایاں ہوتے ڈمپلز کو فوکس کرتی بتانے لگی
“بابا سائیں نے سہی کہا تھا۔۔”المان اپنے کان کی لو کُھجاتا اُس کو دیکھ کر بولا
“کیا بتایا تھا؟”عیشا نے پوچھا
“یہی کہا تھا کہ عیشا کافی سمجھدار ہیں۔۔”المان نے کہا تو عیشا دل کھول کر ہنسی تھی کیونکہ اُس کو المان کی بات کا مطلب جو سمجھ آگیا تھا۔۔۔
“وہ سارے تو بس خود سے باتیں کرنے میں مصروف تھے دوسرے طرف فوٹوگرافر اُن سب کی خوبصورت تصاویر کیمرے میں قید میں کررہا تھا
