Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 45)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 45)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“اقدس آپو کیسی ہیں؟”سب سے پہلے زوہان نے بے قراری سے پوچھا تھا۔۔”جس پر آتش وہاں سے اُٹھ کر چلاگیا تھا۔۔”وہ اِس وقت تنہائی چاہتا تھا
“سرجری ہوگی۔۔ایشال نے سب پر ایک نظر ڈالے بتایا
“تم لوگوں کی فیملی کا سسٹم کیسا ہے؟”کوئی بھی آتا ہے گھر کو آگ لگاکر چلا جاتا ہے۔۔”کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔۔”اور تم لوگ باہر جاتے ہو تو قطار گارڈز کی ہوتیں ہیں۔۔”لیکن کیا گھر میں یہ سیکیوریٹی سسٹم ہے؟”زوہان سخت غُصے کی حالت میں اُس کو دیکھ کر بولا۔۔۔”اُن کے ساتھ آئے اسیر اور فاحا تو خاموش تھے پر زوہان کو پہلے اُن کی لاپرواہی اور پھر آتش کا ایسے اُٹھ کر جانا سخت تپاگیا تھا
“All this has happened suddenly, we had no inspiration.
“زوہان جتنے غُصے میں بولا تھا۔۔”ایشال نے اُتنا تحمل مُظاہری کا اِظہار کیا تھا۔۔”جہاں اُس نے کبھی کسی کی اُونچی آواز تک نہ سُنی تھی وہی وہ آج زوہان کا غُصہ بلاوجہ خود پر سہن کررہی تھی۔۔
Take care of yourself. “Your anger will do nothing.
“سوہان نے معذرت خواہ نظروں سے ایشال کو دیکھ کر زوہان سے کہا
“نو موم آپ مجھے بات کرنے دے۔۔”زوہان اِس وقت کسی کی بھی سُننے کو تیار نہ تھا
“وہ گھر میں اکیلی تھی۔۔”اور یہ سب ہوگیا۔۔”ایشال نے بتایا اور پہلی بار کوئی بات کرتے ہوئے اُس کو شرمندگی کا احساس ہورہا تھا
Where were you all dead?
“زوہان بھڑک اُٹھا تھا۔۔”اور اِس بار ایشال کو بھی غُصہ آیا لیکن ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر اُس نے گہری سانس بھر کر خود کو پرسکون کیا
At that time you are not in your senses, it would be better if you sit in one place
(اِس وقت تم اپنے حواسو میں نہیں ہو بہتر ہوگا اگر تم ایک جگہ بیٹھ جاؤ)”ایشال اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولی تو زوہان اضطرابی حالت میں اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا
“توں کہاں جارہا ہے؟”سکندر نے رایان کو جاتا دیکھا تو سنجیدگی سے پوچھا
“لاہور میں بہت انگریزی پڑھ لی ہے۔۔”لیکن یہاں اِس وقت انگلش کی کلاس لینے کا کوئی موڈ نہیں۔۔”رایان نے بھی سنجیدگی سے جواباً کہا پر سکندر کو کچھ خاص سمجھ نہیں آئی تھی اُس کی بات۔۔”سمجھ تب آئی جب زوہان نے کہا
If anything happens to Aqdas Appo, I will set your entire family on fire.
“حد کرتا ہے جگو۔۔”یہاں ہمارا سانس خشک ہوا پڑا ہے اور تمہارے دماغ میں ابھی تک ایسی فضول خُرافاتیں ہیں۔۔”سکندر کو جیسے یقین نہ آیا
“مجھے بس ایک بات سمجھ نہیں آتی لوگ ایموشنل جب ہوتے ہیں یا غُصے میں ہوتے ہیں تو انگریزی کیوں بولتے ہیں؟”اب اِن دونوں کو دیکھ لو ایسا فیل ہورہا ہے جیسے انگلش ڈپارٹمنٹ کا وائیوا ہورہا ہے۔۔”اور ایک میں ہوں جس کو ایموشنل سین میں اور غصے کی کیفیت میں ٹھیک سے کچھ بولا بھی نہیں جاتا۔”رایان نے سرجھٹک کر کہا تو سکندر بس خشمگین نگاہوں سے اُس کو دیکھنے لگا۔۔”لیکن کہا کچھ نہیں۔۔”دوسری طرف ایشال بس خاموش نگاہوں سے زوہان کو دیکھنے لگی جو کافی غُصے میں تھا۔۔”پھر سب کو جہاں سب کے چہرے اُترے ہوئے تھے اُن کو دیکھ کر وہ اُن سب کی دلی حالت کا اندازہ لگاسکتی تھی۔
“اسیر اقدس۔۔۔”فاحا نم نظروں سے اسیر کو دیکھنے لگی جو دیوار کو دیکھے جارہا تھا
“اماں سائیں اقدس آپو کو کچھ بھی نہیں ہوگا آپ پریشان نہ ہو۔۔”فاحا کو اپنے ساتھ لگائے ماہا نے تسلی آمیز لہجے میں اُس سے کہا اسیر البتہ خاموش سا تھا۔۔
“تم نے اچھا نہیں کیا ایشال کے ساتھ ایسے بات کرکے۔۔”اُس بیچاری کا کیا قصور تھا؟”عیشا نے زوہان کو دیکھ کر کہا
میں اِس وقت کچھ نہیں سُننا چاہتا۔۔”زوہان کے اندر ایشال کے لیے کوئی بھی احساس نہیں تھا جاگا۔۔”دوسری طرف ایشال زوہان کے رویے کے بارے میں سوچ رہی تھی جو کافی ہتک آمیز تھا۔۔”اُس کو یاد تھا وہ کبھی احترام کرنا نہ بھولتا تھا پر آج اپنی اقدس آپو کے لیے جس طرح اُس نے اُس سے بات کی تھی ایسے میں وہ کافی ہرٹ ہوئی تھی۔۔”کیونکہ زوہان وہ شخص تھا جس سے بس اُس نے محبت کی چاہ رکھی تھی۔








“آتش دروازہ زور سے کھول کر آفاق لُغاری کے روبرو کھڑا ہوا تھا جنہوں نے ہوٹل میں اپنی بُکنگ کروائی تھی۔۔”آج جو کچھ ہوا تھا وہ اُس چیز کا فائدہ اُٹھانا چاہتے تھے
“گھر کے تمام گارڈز کو آپ نے کہاں غائب کیا تھا؟”اور اقدس سے آپ کی کیا دُشمنی تھی جو بس اُس کو گھر میں اکیلا چھوڑدیا؟”آپ کو پتا تھا۔۔”پتا تھا آپ کو کہ یہ سب ہوگا لیکن اُس کے باوجود آپ نے کوئی بھی ری ایکشن لینے کے بجائے۔۔”مجھے بتانے کے بجائے یہ سب ہونے دیا۔۔”میں پوچھتا ہوں کیوں؟”آتش اُن کے سامنے کھڑا ہوتا دھاڑ کر پوچھنے لگا
“اپنی ٹون سنبھالو۔۔”آفاق لُغاری نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا
“ہر چیز میں نفع نقصان نہ دیکھا کریں۔۔”ہر چیز کو سیاست نہ بنایا کرے۔۔”اگر میری زوجہ کو کچھ ہوجاتا تو آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ آتش لُغاری کیا کرتا۔۔آتش اُن کی بات پر مزید اُونچی آواز میں بولا
“تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتا؟”پی ایم بننے کے باوجود بھی تمہیں پولیٹکس کی سمجھ نہیں۔۔”ہماری پارٹی کے اگینسٹ بہت سارے لوگ ہیں۔۔”اور آج جو حملا ہم نے اپنے گھر پر ہونے دیا۔۔”تمہیں اندازہ ہے اُس سے ہمیں کتنا فائدہ ہونے والا ہے؟”پوری میڈیا چیخ چیخ کر بول رہی ہو کہ ہمارے خلاف سوچی سمجھی سازش کی گئ ہے۔۔”اور ہم اِس خبر سے بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔۔”یوں سمجھو سیاست میں ہمارے قدم مضبوطی سے جم گئے ہیں۔۔”اور اگر بات کی جائے تمہاری بیوی کی تو وہ سیو ہے۔۔”تو بھی اب رلیکس رہو۔۔آفاق لُغاری کی بات نے اُس کا دماغ گُھماکر رکھ دیا تھا
“میرے ساتھ دُشمنی اُس کمینے ساجد نے نہیں بلکہ اصل میں آپ نے نبھائی ہے ڈیڈ۔۔”مجھے تو آپ سے گِھن آرہی ہے۔۔”عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے آپ نے میری بیوی کی جان داؤ پر لگائی۔۔”آتش سوچ سوچ کر پاگل ہونے کے در پہ تھا
“تم
“اُس کا پورا چہرہ خراب ہوگیا ہے ڈیڈ۔۔”اور چہرہ یونہی نہیں جلتا میں نہیں تھا اُس کے پاس کوئی بھی نہیں تھا اُس کے پاس۔۔”آگ یونہی اچانک سے بھڑک نہ اُٹھی ہوگی آگ آہستہ آہستہ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوگا۔۔”اور اِتنے وقت میں وہ اپنی مدد کے لیے بھاگی ہوگی۔۔”چیخی ہوگی۔۔”مجھے آواز دی ہوگی۔۔”تڑپ رہی ہوگی۔۔”جانے کتنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہوگا اُس کو۔۔”آپ کو اِس بات کی پرواہ نہیں اگر ہے تو بس یہ کہ کوئی اور پارٹی ہم سے جیت نہ جائے۔۔”پاکستان پر حکومت کوئی اور نہ کرلے۔۔”آپ کی زندگی ساری تو بس ووٹ اور نوٹ کے گرد گُزرتی آئی ہے۔۔”لیکن میرا سانس رُک رہا ہے ایک خیال کہ جب تھوڑی آگ میں اِتنی تکلیف ہوتی ہے تو آج اُس کو کتنی تکلیف سہنی پڑی ہوگی؟”ملازمین”گارڈز کو بچالیا۔۔”کیونکہ گواہی جو دلوانی تھی آپ کو لیکن میری بیوی کو اندر جلنے کے لیے چھوڑدیا۔۔”کیونکہ اُس کے باپ نے آپ کی بات نہ مانی تھی۔۔”وہ آپ کی پارٹی میں انویسٹ کرنے میں انٹرسٹ نہیں رکھتا تھا۔۔”اُس کی ماں سی ایس ایس کمشنر نے آپ کو سپورٹ نہیں کیا۔۔”اور جواب میں آپ نے اُس کی جان کو سستا قرار دے دیا۔۔آفاق لُغاری کچھ کہنے والا تھا اُس سے پہلے آتش پاس پڑی کُرسی کو ٹھوکر مارتا چیخ پڑا تھا
“آگ میں نے نہیں تھی لگائی۔۔آفاق لُغاری کو اُس کا پاگل ہونا سمجھ میں نہیں آیا
“آگ لگنے والی ہے کوئی ایسا کرنے والا ہے۔۔”آپ کو یہ بات پتا بھی تھی تو آپ نے کچھ نہیں کیا ارے نہ کرتے آپ کچھ بھی۔۔”لیکن اپنی اِس سیاست میں میری بیوی کو انوالو کیوں کیا؟”اُس کی جان کیا بے مول تھی؟”وہ کوئی لاوارث ہے آپ کی نظر میں جو اُس کو گھر میں اکیلا چھوڑ کر انتظار کرنے لگے کہ گھر میں کب آگ لگتی ہے۔۔”اور کب آپ روتی دھوتی شکل بناکر میڈیا کے سامنے کھڑے ہوتے بتائے گے کہ یہ حال ہوا ہے آپ کے گھر کا۔۔۔”آتش کا پورا چہرہ غُصے کی شدت سے سرخ پڑگیا تھا۔۔”اگر سامنے کھڑا شخص اُس کا باپ نہ ہوتا تو اب تک وہ جانے کیا کرچُکا ہوتا
“لگتا ہے دوائی نہیں لی تم نے؟”غُصہ نہ کرو سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔”آفاق لُغاری نے اُس کو پرسکون کرنے کی خاطر کہا لیکن آتش نے اُن کا ہاتھ جھٹکا دیا
“آپ کے اور موم کے اِس لاپرواہ بیہیو نے مجھے ذہنی مریض بنادیا ہے۔۔”یہاں میں بات ایک کررہا ہوں اور آپ پر کوئی اثر نہیں ہورہا۔۔”کوئی ندامت محسوس نہیں ہورہی۔۔۔”آتش اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہتا یہاں سے وہاں ٹہلنے لگا۔۔”اُس کے انگ انگ میں بے چینی کی لہریں تھی۔۔”اپنا وجود اُس کو آک میں جھسلتا محسوس ہورہا تھا۔۔
“پانی پیو۔۔”آفاق لُغاری نے پانی کا گلاس اُس کی طرف بڑھائے کہا۔۔”وہ جیسے بھی کرکے اُس کو پرسکون کرنا چاہتے تھے
“بھاڑ میں گیا آپ کا پانی اور آپ کی یہ سیاست میں اب استیعفیٰ نہ دوں تو آپ کہنا۔۔۔”آتش کٹیلی نظروں سے اُن کو دیکھ کر کہتا جس تیز طوفان کی طرح آیا تھا ویسے چلا بھی گیا تھا۔۔”پیچھے آفاق لُغاری حق دق سے رہ گئے تھے









“پرائم منسٹر بنا پِھرتا ہے۔۔”بیوی کا خیال تو رکھ نہیں پایا۔۔”اب مُلک سنبھالے گا۔۔”زوہان ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر بولا
“ہانی ہمیں پتا ہے کہ توں بچپن سے اقدس آپو سے بہت اٹیچ ہے پر یار اب تم اپنا ٹیمپر کیوں لوز کررہا ہے؟”رلیکس رہ اِن شاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔”رایان نے اُس کو دیکھ کر تسلی آمیز لہجے میں کہا۔۔”سکندر جبکہ اُٹھ کر روتی ہوئی ماہا کے پاس جاکر بیٹھا تھا۔
“رونے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔”اُن کے لیے دعا کرو کہ جلدی صحتیاب ہوجائے۔۔”اپنا رومال اُس کی طرف بڑھائے سکندر نے کہا تو وہ سوں سوں کرتی اُس کو دیکھنے لگی۔
“وہ ماہا کی بہن ہے۔۔”آپ کو کیا لگتا ہے کہ ماہا اُن کے لیے دعا نہیں کرے گی؟”ماہا اُس کو دیکھ کر بولی
“میں نے ایسا نہیں کہا میں بس یہ بول رہا ہوں کہ رو نہیں تمہارے رونے سے ماموں جان اور مامی جان مزید پریشانی کا شکار ہورہے ہیں۔۔”سکندر نے کہا تو اُس کی بات پر ماہا اُن دونوں کو دیکھنے لگی۔۔”جہاں فاحا تو رو رہی تھی۔۔”لیکن اسیر جب سے آیا تھا ایک لفظ تک نہیں بولا تھا
“بابا سائیں بہت پریشان ہیں۔۔”ماہا اسیر کو دیکھ کر بولی
“جانتا ہوں موم اکثر بتاتی تھیں کہ وہ اقدس آپو سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔”سکندر نے اُس کی بات کے جواب میں کہا
“Congratulations to all of you, the surgery was successful.
“ڈاکٹر نے آکر اُن سب کو دیکھ کر پروفیشنل انداز میں بتایا تو وہ جو خاموش بیٹھے کسی اچھی خبر کے انتظار میں تھے بے ساختہ اُن سب نے شکر ادا کیا تھا۔
“کیا ہم مل سکتے ہیں؟”فاحا نے بیقراری سے پوچھا
“نہیں ابھی نہیں۔۔۔”ڈاکٹر نے کہا تو اُس کا چہرہ تھوڑا بُجھ گیا تھا۔
“بابا سائیں اب تو مسکرائے۔۔۔”ماہا اسیر کے ساتھ لگتی بولی تو اُس نے اُس کا ماتھا کا بوسہ لیا
“ہم ٹھیک ہیں۔۔”آپ اُداس نہ ہو۔۔۔”اسیر نے کہا تو وہ مسکرا بھی نہ پائی
“تمہیں ایشال سے معافی مانگنی چاہیے۔۔”کافی مس بیہیو کیا تھا تم نے صبح اُس کے ساتھ۔۔۔”عیشا نے زوہان کو دیکھ کر کہا تو زوہان اپنے اطراف دیکھنے لگا۔۔”جہاں ایشال اُس کو نظر نہ آئی
“تمہاری بدتمیزی کے بعد وہ یہاں سے چلی گئ تھی۔۔”عیشا نے اُس کی نظروں کو بھانپ کر بتایا تو زوہان کو شرمندگی کا احساس شدت سے ہوا تھا۔۔”لیکن ایک خیال کے تحت وہ سائیڈ پر ہوتا سیل فون جیب نکالے اُس کا نمبر ڈائل کیا۔۔”آج پہلی بار وہ خود سے اُس کو کال کررہا تھا۔۔۔
“ہیلو کہاں ہو؟”دوسری طرف جیسے ہی کال ریسیو ہوئی زوہان نے پوچھا
“تمہیں مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔”ایشال نے کافی بے رُخی کا مُظاہرہ کیا
“مجھے تم سے بات کرنی تھی۔۔”زوہان نے کہا
“صبح کوئی کثر رہ گئ تھی کیا؟”اگر رہ گئ تھی تو پوری کردو۔۔”ایشال کا لہجہ طنزیہ سے بھرپور تھا۔
“ایشال وہ
“اپنے لیے کفن خرید لیا ہے تم بس بتادو۔۔”آگ لگانے کب آرہے ہو؟”زوہان اُس سے کچھ کہنے لگا تھا۔۔”جب ایشال اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی تو زوہان نے لب بھینچ لیے
“سوری۔۔”زوہان نے کہا
“اچار نہیں ڈالنا مجھے تمہارے سوری کا۔۔۔”ایشال نخوت سے سرجھٹک کر بولی
“میں کافی روڈ ہوگیا تھا۔۔”مجھے واقعی میں اُس کا افسوس ہورہا ہے۔۔”زوہان نے کہا تو جانے کیوں ایشال کی آنکھ سے آنسو پِھسلا تھا۔۔”جس کو بیدردی سے اُس نے صاف کیا
“ایشال؟”اُس کو خاموش دیکھ کر زوہان نے اُس کو آواز دی
“تم بہت بُرے ہو۔۔”جیسا میں نے تمہیں سوچا تھا تم ویسے نہیں ہو۔۔”ایشال کا دل بھر آیا تھا۔۔”اور اُس کی بھرائی ہوئی آواز کو وہ اچھے سے محسوس کرگیا تھا۔۔”جس پر اُس کو شدید پچھتاوا ہوا
“تم رو رہی ہو؟”زوہان نے کہا
“نہیں تو میں۔۔”میں گلا پھاڑ کر قہقہقہ لگا رہی ہوں۔۔”ایشال نے اُس کی بات کے جواب میں طنزیہ کہا
“میں اپنی اقدس آپو سے بہت پیار کرتا ہوں۔۔”بچپن سے وہ مجھے اپنے اخلاق کی وجہ سے بہت پسند ہیں۔۔”مجھے اُن میں موم کی جھلک نظر آتی ہے۔۔”باوقار مضبوط شخصیت کی۔۔”میری کوئی بہن نہیں تھی۔۔”اُن کے ہوتے ہوئے کسی اور بہن کی ضرورت پڑی بھی نہ تھی۔۔”اُنہوں نے مجھے بڑی بہنوں کا پیار دیا تھا۔۔”اور جب مجھے پتا چلا کہ اُن کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا تو مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا تھا۔۔”میں شاید اوور ری ایکٹ کرگیا تھا لیکن میں شدید گھبراگیا تھا۔۔”زوہان نے اُس کو وضاحت دیتے کہا تو ایشال خاموشی سے اُس کی سُنتی رہی
“میں جانتی ہوں۔۔”میری تمہاری نظر میں کوئی ویلیو نہیں ہے۔۔”یہ پتا تھا پر آج احساس شدت سے ہوا۔۔”اور ڈونٹ وری میں تمہیں تمہارے واعدے سے آزاد کرتی ہوں۔۔”مجھے تمہارے ساتھ زور زبردستی والا رشتہ قائم نہیں کرنا۔۔”بکاز ٹوڈے آئے فیلٹ کہ جس چیز کی آس لیکر میں تمہاری زندگی میں شامل ہونا چاہتی ہوں۔۔”میری وہ آس حسرت بن کر رہے گی۔۔”ایشال نے کہا تو زوہان کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیسے اُس کو سمجھائے۔۔”اگر تھوڑا بھی اُس کو اندازہ ہوتا کہ وہ اُس کی بات پر یوں اِتنا ہرٹ ہوگی تو شاید وہ کبھی اُس سے ایسے بات نہ کرتا
“مجھ سے مل سکتی ہو؟”زوہان نے کچھ سوچ کر پوچھا
“مجھے تم سے نہیں ملنا۔۔”بلکہ مجھے تم سے کوئی بات ہی نہیں کرنی۔۔”تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنی۔۔”ایشال اُس کی بات پر چڑچڑے پن سے بولی
“ایشال پلیز۔۔۔زوہان نے کہا تو اُس کا ایسا انداز دیکھ کر ایشال نے اپنی آنکھوں کو میچ لیا۔۔”اُس کے دل نے اعتراف کیا جیسے وہ جس کو چاہتی ہے وہ کمبخت کافی ظالم اور اپنی باتوں سے دل موہ لینے والا تھا۔۔
“اپنی باتوں سے۔۔”اپنے لہجے سے آج تم مجھے مارچُکے ہو۔۔”مُبارک ہو تمہیں کسی ہتھیار کا استعمال کرنا نہیں پڑا۔۔”ایشال نے کہا تو زوہان مزید شرمندہ ہوکر رہ گیا تھا۔
“تم آج جس انداز میں بات کررہی ہو۔۔”یہ تمہاری شخصیت کا خاصا نہیں ایشال لُغاری۔۔”تم پٹاخا انداز میں جچتی ہوں۔۔زوہان نے نرمی سے کہا تو اُس کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی
“اور جس لہجے میں آج تم نے مجھ کو سب کے سامنے مخاطب کیا۔۔”وہ انداز وہ لہجہ بھی تمہاری شخصیت کا خاصا نہیں اگر دوبارہ ایسا کیا نہ تو ٹرسٹ می ایشال لُغاری تمہیں جان سے ماردے گی۔۔”ایشال نے اُس کی بات پر کہا تو زوہان جانے کیوں مسکرایا
“تم ایک بات کلیئر کرلوں۔۔۔زوہان نے کہا
“کیا؟”ایشال جان نہ پائی
“تمہیں میرے لہجے نے تکلیف دی یا سب کے سامنے میں نے جس طرح سے تم سے بات کی۔۔”اُس بات نے تمہیں ہرٹ کیا؟”زوہان نے پوچھا تو اُس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر ایک گہرا سانس بھرا
“میں یہ نہیں کہوں گی کہ میں ایسے لہجے کی عادی نہیں۔۔”میں بس اِتنا کہوں گی کہ آئے لو یو۔۔مجھے نہیں پتا مجھے تم کب؟”کیسے؟”کیوں پسند آئے؟”اور میں بس اِتنا کہوں گی کہ اگر تم مجھے پیار سے بات نہیں کرسکتے تو خُدارا یوں تزلیل بھی مت کیا کرو۔۔۔”ایشال نے صاف گوئی کا مُظاہرہ کرتے ہوئے اُس سے کہا
“میں سوری بول چُکا ہوں۔۔”زوہان نے کہا
“یقین کرو۔۔”ایک لفظ سوری کسی کی تکلیف کو کم نہیں کرسکتا۔۔”یہ لفظ ایک رسم ہے۔۔”جس کو اِنسان اپنا گلٹ کم کرنے کے لیے نبھاتا ہے۔۔”ایشال اُس کی بات پر تلخ مسکراہٹ سے بولی تو آج اُس کی گہری باتوں کو سن کر زوہان حیران بھی نہ ہوپایا۔۔”وہ بس اِس وقت اپنے عمل پر ندامت تھا۔۔”اُس کو احساس ہوا جیسے وہ آج ایشال سے زیادتی کرگیا تھا۔۔
“ہوسپٹل واپس آجاؤ۔۔”پاس جو کیفے ہے نہ وہاں میں تمہارا انتظار کروں گا۔۔”زوہان نے اُس کی بات کو اگنور کرکے بات کو بدلنا ضروری سمجھا
“میں آتی ہوں۔۔”ایشال نے کہا
I’m waiting.
زوہان نے کہا تو ایشال نے کال ڈراپ کردی۔۔










“ہمیں پتا نہیں تھا کہ آپ آپو سے اِس قدر محبت کرتے ہوگے۔۔”آتش بینچ پر سر ہاتھوں میں گرائے اکیلا بیٹھا تھا۔۔”جب المان اُس کے ساتھ بیٹھتا اُس کو دیکھ کر بولا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور کپڑے بھی کافی شکن زدہ تھے۔۔”وہ اپنی حالت سے کافی لاپرواہ تھا آج۔۔”اِس وقت اُس کو دیکھ کر کوئی بھی نہیں بول سکتا تھا کہ یہ آتش لُغاری دا مسٹر کول ہے۔۔”جو اچھے اچھو کی بینڈ بجایا کرتا تھا۔
“محبت؟”آتش نے اُس کا لفظ دوہرایا
“جی۔۔”اور آپ اُن سے ملنے کیوں نہیں جارہے ہیں؟”المان نے پوچھا
“جب اُس کے چہرے سے پٹی اُترے گی تو جاؤں گا۔۔”اور ملوں گا۔۔”لیکن اب اگر ایسے اُس کو دیکھوں گا تو مرجاؤں گا۔۔”آتش کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولا
“سرجری سہی سے ہوگئ اُس کی مبارکباد آپ کو دینی چاہیے تھی۔۔”ویسے کل جو ہوا اُس کے بہانے ہماری آپو کا وہ داغ بھی مٹ گیا ہوگا۔۔”جو اکثر اُن کو محرومی میں ڈال لیا کرتا تھا۔۔۔”المان نے کہا تو آتش نے گردن موڑ کر اُس کو دیکھا
“وہ نشان مجھے بہت اٹریکٹ کرتا تھا خیر یہ بتاؤ کیسا نشان ہوتا تھا اُس کے چہرے پر؟”آتش کے من میں آیا تو سوال پوچھ ڈالا
“آپ کو نہیں پتا کیا؟”کیا کبھی آپ نے اُن سے پوچھا نہیں؟”المان نے پوچھا تو آتش کا سر خودبخود نفی میں ہلا تھا
“سہی سے یاد نہیں لیکن اُن کے اسکول یا کالج میں یہ ہوا تھا۔۔”دو گروپس میں اُن کے اکثر لڑائیاں ہوتیں تھی۔۔”اور ایک شاید کوئی بگڑا ہوا اسٹوڈنٹ تھا اُس نے غُصے میں شیشے کی بوتل کو کھینچ کر اپنے مُخالفین پارٹی کو مارنے کے لیے پھینکی تو جانے کیسے سامنے آپو آگئ۔۔”اُن کو پتا نہیں تھا اور وہ بوتل اُن کے گال پر یہ زخم چھوڑ گئ۔۔”آپو نے خود سے کبھی اُس لڑکے کا نام نہ لیا۔۔”بابا نے تفتیش کروائی تو جو شخص سامنے آیا وہ غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا تبھی بابا سائیں نے اُس کو معاف کردیا تھا۔۔”آتش کے چہرے کی بدلتی رنگت سے بے نیاز المان اُس کو تفصیل سے بتاتا گیا۔۔”جبکہ آتش بے یقینی جیسی کیفیت میں المان کو دیکھتا رہ گیا تھا
“تم نے ہی تو کہا تھا نہ کہ چاند خوبصورت اپنے داغ کی وجہ سے ہوتا ہے۔۔”تو اپنا بدلا بھی ہم نے لیا اور تحفے میں تمہیں داغ بھی دیا۔۔””
“کانوں میں اقدس کے الفاظ گونجے تو آتش کو اب سمجھ آیا کہ اقدس نے اُس کے ساتھ شادی کی پہلی رات یہ کیوں کیا تھا؟”اُس کو بے اختیار اپنی کم عقلی پر افسوس ہوا تھا۔۔”اُس نے اب جانا کہ جس داغ نے اُس کو اٹریکٹ کیا تھا۔۔”جس داغ کا وہ دیوانہ تھا۔۔”وہ داغ بھی اقدس کو اُس کی کرم نوازی کی بدولت ہوا تھا۔۔”اور اُس کو یہ بھی پتا لگا کہ اقدس کیوں اُس سے اِتنا خار کھاتی تھی؟”کیونکہ وہ جانتی تھی اُس کو یاد تھا کہ جو کچھ بھی اُس کے ساتھ ہوا تھا اُس میں کسی اور کا نہیں بلکہ انجانے میں ہی سہی لیکن آتش لُغاری کا ہاتھ تھا
