Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 11)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 11)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“میرا نام رایان ہے گھر والے پیار سے اور غُصے میں مجھے نکھٹو بولتے ہیں”اور کزنز میرے مجھے کام چور فضول گو بولتے ہیں”خیر یہ تو ہوا میرا تعارف اب تم اپنا بتاؤ۔۔رایان زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہ سکتا تھا تبھی لیکچر کے دوران اُس نے حوریہ کو مُخاطب کیا تو وہ چونک کر اُس کو دیکھنے لگی جو مسکراکر اُس کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے دونوں کے درمیان برسوں کی جان پہچان ہو۔۔
“سوری؟حوریہ کو لگا شاید وہ کسی اور سے مُخاطب ہو
“سوری یہ کچھ یونیک نیم نہیں؟”ویسے تو میں کبھی کسی کو سوری بولتا نہیں لیکن اب لگ رہا ہے ساری عمر” سوری سوری ہی کرتا رہوں گا۔۔۔رایان اُس کے لفظ کا الگ مطلب نکال کر بولا تو حوریہ کا سر نفی میں ہلنے لگا
“نہیں ایسا نہیں ہے میرا نام سوری نہیں اور آپ پلیز مجھ سے مُخاطب نہ ہو ورنہ پروفیسر رج کر بے عزتی کرینگے۔۔حوریہ نے جیسے التجا کی
“بہت کوئی مغرور قسم کی اور ناشکری لڑکی ہو”میرے اُپر تو لڑکیاں مرتی ہیں اور تم مجھے اٹیٹیوڈ دیکھا رہی ہو یہ تو ناانصافی ہے میرے ساتھ۔۔رایان کی دوہائیاں عروج پر تھیں
“آپ غلط سمجھ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے لیکچر کے دوران بات کرنا الاؤ نہیں اور میں لیکچر کو غور سے سُننا چاہتی ہوں آپ پلیز مجھے ڈسٹرب نہ کرے۔۔حوریہ کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیسے اُلٹی کھوپڑی والے بندے کو سمجھائے جس کو سمجھا تو آج تک اُس کے ماں باپ نہیں پائے
“پہلے تو میں کوئی بزرگ نہیں جو تم مجھے”آپ جناب بول رہی ہو میرا نام رایان دُرانی ہے اور تم مجھے رایان نہیں تو جان”سویٹ ہارٹ”ڈارلنگ یا ایسے ہی کچھ اور ناموں سے پُکار سکتی ہو تمہیں اِجازت ہے میں مائینڈ نہیں کروں گا۔۔رایان نے جیسے اُس پر احسان کیا اور حوریہ حیرت سے اُس کا منہ تکنے لگی جو بڑی جلدی اُس سے فرینک ہونے کی کوشش کررہا تھا۔
“مجھے لیکچر پر فوکس کرنے دے۔۔حوریہ سرجھٹک کر بولی
“ارے چھوڑو نہ لیکچر کو اِس سے زیادہ لیکچر تو ہمیں ہمارے گھروالوں سے ملتے ہیں پھر یونی میں الگ سے لیکچر سُننے کی کیا تک ہے؟”گھروالوں کے لیکچرز نے کبھی اکثر کیا ہے جو پروفیسر کا اثر کرے گا خوامخواہ ویسٹ آف ٹائیم۔۔رایان بُری شکل بنائے بولا تو چور نگاہوں کے ساتھ حوریہ پروفیسر کو دیکھنے لگی جن کی توجہ اُن پر نہ تھی اور یہ دیکھ کر اُس نے شکر کا سانس لیا تھا۔
“ہیلو ہینڈسم۔۔زوہان بیٹھا ہوا تھا جب ایک لڑکی نے اُس کو مُخاطب کیا تو زوہان نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
“یس؟زوہان نے سنجیدہ نظروں سے اُس کو دیکھا
“تمہیں اِس جگہ بیٹھنا نہیں چاہیے تھا۔۔اُس نے بہت دھیمی آواز میں زوہان کو کہا
“کیوں؟سنجیدگی سے بھرپور لہجہ
“کیونکہ یہاں ایشو بیٹھتی ہے اور اُس کے علاوہ کوئی بھی نہیں ایشال کو اپنی چیزوں پر کسی اور کا ہاتھ تک لگانا برداشت نہیں ہوتا اور تم اُس کی سیٹ پر بیٹھ گئے ہو اگر اُس کو پتا چلا نہ تو بہت ہنگامہ کرے گی۔۔اُس نے وجہ بتائی تو زوہان کو”ایشال”نام پر چٹ یاد آئی جس کو وہ پھاڑ کر پھینک چُکا تھا
“یہ یونی یہ کلاس یہ سیٹ کسی ایشال لُغاری کی نہیں جو جلدی آتا ہے وہ سیٹ پر بیٹھ سکتا ہے ایک کے بیٹھنے پر جگہ اُس کے نام پر نہیں ہوجاتی اور وہ اگر اپنی چیزوں کو لیکر اتنا پوزیسیو ہے تو اُس کو چاہیے اپنے گھر سے الگ سیٹ لیکر آئے اور اپنی تصویر کا بڑا سا پوسٹر سیٹ پر لگادے تاکہ سب کو پتا لگے کہ یہ سیٹ کس کی ہے۔۔زوہان اُس کی بات کے جواب میں کہتا کِتاب کھول کر بیٹھ گیا تو وہ لڑکی حیرت سے زوہان کو دیکھنے لگی جس نے”ایشال”نام پر کوئی اچھا رسپانس نہیں دیا تھا کیونکہ پوری یونی میں تو وہ بیوٹی کوئین سے جانی جاتی تھی ایک ماہ میں اُس نے جانے کتنے اسٹوڈنٹس کو گرویدہ بنالیا تھا ہر لڑکی اُس کے اسٹائیل کو کاپی کرتی تو لڑکے اُس کے آگے پیچھے پِھرتے لیکن ایک وہ تھی جو کسی کو دیکھنا تک گوارا نہیں تھی کرتی جس پر اب کچھ اسٹوڈنٹس نے اُس کو اٹیٹیوڈ گرل کہنا شروع کیا تھا جس کا فرق ایشال کو رتی برابر بھی نہیں پڑتا تھا۔
“تمہیں بیٹھنے کے لیے یہی جگہ ملی تھی؟المان عیشا کو دیکھ کر بولا جو اُس سے مخاطب نہیں ہوئی تھی
“سوری لیکن عیشا دُرانی ناپسندیدہ لوگوں سے مخاطب ہونا ضروری نہیں سمجھتی۔۔عیشا جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی کیونکہ وہ کل والی اپنی بے عزتی ابھی تک بھولی نی تھی
“اوو یہاں آکر اب میں ناپسندیدہ شخص ہوگیا ماشااللہ۔۔۔المان تو گویا تپ اُٹھا
“تمہارا آخر مسئلہ کیا ہے؟”تم سے بات کروں تو تمہیں مسئلہ ہوتا ہے اور جب نہ کروں تو بھی تمہیں مسئلہ ہوتا ہے آخر تم کرنا چاہتے کیا ہو؟عیشا پوری طرح سے اُس کی طرف متوجہ ہوئی
“میں نے کب بولا ایسے کہ مجھے تمہارے مخاطب نہ ہونے سے مسئلہ ہے؟المان ایک بات پر اٹک سا گیا
“ظاہر تو ایسے ہورہا ہے۔۔عیشا طنز ہوئی
“آنکھوں کا چیک اپ کرواؤ مجھے جو مسئلہ ہے وہ تمہارے یہاں بیٹھنے سے ہے۔۔المان نے باور کروایا
“سب جانتی ہوں میں تمہاری چلاکیاں اور تم زیادہ خوش نہ ہو یہاں میں اپنے فائدے کے لیے بیٹھی ہوں تمہارے ساتھ بیٹھنے کے لیے میرا کوئی دل مچل نہیں رہا تھا۔۔عیشا سرجھٹک کر بولی
“مچلنا چاہیے بھی نہیں کیونکہ پاؤ کے نیچے آکر کُچلا بھی جاسکتا ہے۔۔المان کے خوبصورت چہرے پر اِس بار طنز مسکراہٹ کا بسیرا تھا
“بڑا کوئی ناز ہے تمہیں خود پر خیر اب میرا مزید وقت ضائع کرنے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے خود بھی اپنا کام کرو اور مجھے بھی کرنے دو۔۔۔عیشا نے کہا اور اُس سے اپنا دھیان ہٹایا تو المان کچھ پل اُس کو گھورتا پوری کلاس میں نظریں ڈورانے لگا۔۔۔
کتنی بورنگ کلاس ہے یار کیا ضرورت تھی اندر گُھسنے کی جب خود پروفیسر باہر نکال رہا تھا تو۔۔سکندر اپنی گردن پر ہاتھ پھیرتا منہ ہی منہ میں بڑبڑایا تھا”پروفیسر جو بول رہا تھا اُس کو سُن کر سکندر کو جمائیاں آنی شروع ہوگئ تھیں

“اچھا سُنو اب تو کلاس ختم ہوگئ اب بتاؤ تمہارا کیا نام ہے؟رایان کلاس ختم ہونے کے بعد حوریہ کا پیچھا کرتا ہوا بولا
“آپ کو میرا نام جاننے کا اِتنا تجسس کیوں ہے؟حوریہ کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیوں اُس کے پیچھے پڑگیا ہے
“رایان ہم کیفے جارہے ہیں تو آرہا ہے نہ؟رایان ابھی اُس سے کچھ کہنا چاہ رہا تھا جب وہ چاروں ایک ساتھ رایان کے پاس آکر بولے
“ہاں میں بھی آرہا ہوں اور یہ بھی آئے گی”میٹ مائے نیو فرینڈ۔۔۔رایان نے کہنے کے ساتھ حوریہ کی طرف اِشارہ کیا تو وہ ہونک بنی رایان کا چہرہ تکنے لگی جس نے بغیر کسی جان پہچان کے اُس کو اپنا دوست بنالیا تھا
“واؤ لڑکی تو بڑی پیاری ہے پر اِتنی معصوم تمہاری دوست کیسے ہوسکتی ہے۔۔عیشا غور سے حوریہ کا جائزہ لیتی ہوئی بولی جو اُس کے ایسے دیکھنے پر خوامخواہ پر خجل ہورہی تھی۔
“نام کیا ہے تمہاری دوست کا؟سکندر نے بغور رایان کے تاثرات جانچے جس کی سِٹی گم ہوئی تھی
“نام میں کیا رکھا ہے میں کوئی نام رکھ کر دوستی تھوڑئی کرتا ہوں خیر اگر تم لوگوں نے نام جاننا ہے تو یہ حور پری ابھی تم سب کو اپنا پورا نام بتائے گی۔۔رایان سنبھل کر بولا تو المان اور زوہان کے علاوہ”عیشا سکندر وہ دونوں حوریہ کو دیکھنے لگے جبکہ رایان یہ دعا مانگنے میں مصروف تھا کہ وہ اُس کی عزت رکھ دے
“ہاں تمہارا نام کیا ہے تاکہ ہماری دوستی بھی ہوجائے۔۔عیشا اُس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا کر بولی
“میرا نام حوریہ عباس عباسی ہے۔۔۔حوریہ نے ہچکچاہٹ سے اپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھا کر بولی
“نام تو تمہاری شخصیت پر کافی سوٹ کررہا ہے۔۔رایان ایمپریس ہوا
“شکریہ۔۔حوریہ نے محض اِتنا کہا
“گائیز میں لائبریری جارہا ہوں۔۔زوہان نے بتایا
“پر کیوں ہم نے تو کیفے جانا تھا۔۔عیشا نے اُس کو دیکھ کر کہا
“ابھی میرا لائبریری جانا بہت ضروری ہے اور پھر اگلے دس منٹ بعد گراؤنڈ میں ملے گے۔۔۔زوہان نے باری باری اُن کو دیکھ کر کہا
“اچھا چل میں تمہارے ساتھ آتا ہوں۔۔۔المان نے کہا
“سہی ہے۔۔زوہان نے کہا پھر وہ دونوں لائبریری کی طرف جانے لگے
“تم آؤ ہمارے ساتھ۔۔عیشا نے مسکراکر حوریہ سے کہا جو یہاں سے جانے پر تول رہی تھی
“نہیں مجھے کچھ کام ہے آپ جائے۔۔۔حوریہ نے انکار کیا وہ بھلا ایسے کیسے اُن کے ساتھ چل پڑتی”دوسرا اُس کے پاس پیسے بھی نہیں تھے جو وہ کیفے جاکر کچھ کھالیتی
“کیا ہوا ہے ہم کونسا تمہیں اغوا کرنےکا اِرادہ کیے ہوئے ہیں جو تم اِتنا پریشان ہورہی ہو دونوں کا تعارف ہوگیا ہے دوستی ہوگئ ہے پھر ہچکچائٹ کیسی؟رایان نے اُس کو راضی کرنا چاہا
“ایسی کوئی بات نہیں۔۔حوریہ نے کہا
“اگر ایسی کوئی بات نہیں تو چلو پھر ہمارے ساتھ۔۔۔عیشا نے اُس کا ہاتھ تھام کر کہا
“نہیں
“نہیں کو چھوڑو اور آؤ ہماری کمپنی تمہیں کافی انٹرسٹڈ لگے گی۔۔عیشا اُس کی کچھ بھی سننے کو تیار نہ تھی
“ڈیڈ نے کیفے کے پاس کوئی کمپنی بھی لے رکھی ہے کیا؟”اور مجھے بتایا تک نہیں۔۔۔رایان عیشا کی بات سن کر حیرت سے بولا
“صدقے جاؤں تمہاری معصومیت پر۔۔سکندر نے ایک تھپڑ اُس کے کندھے پر مارا
“تو جاؤ میں نے کونسا روکا ہے پر صدقے میں پیسے زیادہ دینا میرے خرچے بہت ہوتے ہیں۔۔رایان مزے سے بولا
“اِن کو چھوڑو میرا بھائی اور کزن دونوں مینٹل پیس ہیں۔۔عیشا نے حوریہ کی حیران نظریں اُن دونوں پر جمی دیکھی تو کہا
“آپ کا بھائی کونسا ہے؟حوریہ نے پوچھا
“رایان میرا جڑواں بھائی ہے میں اُس سے تین منٹ بڑی بہن ہوں”ڈاکٹرز نے میرے بھائی کو میری ماں کے پیٹ سے زبردستی نکالا تھا ورنہ رایان کے آنے کا کوئی موڈ نہیں تھا۔۔عیشا نے ہنس کر کہا تو حوریہ بس باری باری سب کو دیکھتی رہ گئ وہ تینوں اُس کو کوئی اور ہی مخلوق لگے تھے۔۔”جہاں عیشا مسلسل اُس سے کچھ بولے جارہی تھی وہی سکندر اور رایان ایک دوسرے کو مار مار کر کیفے کی طرف بڑھ رہے تھے۔
“عجیب ہیں۔۔حوریہ آہستہ آواز میں بڑبڑائی









“مے آئے کم اِن میڈم؟میشا اپنے کیبن میں بیٹھی ایک فائل چیک کرنے میں محو تھی جب ایک کانسٹبل اُس کے کیبن کے دروازے کے پاس کھڑا ہوتا بولا
“یس کم اِن۔۔میشا نے اُس کو اِجازت دی اور فائل بند کرکے”کہنیاں میز پر ٹِکائے ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں باہم پھسائی”اور پھر اپنی نظریں اُس پر مرکوز کی
“بتاؤ خالد کیا نیو اپڈیٹس ہیں؟میشا نے سنجیدگی سے بھرپور آواز میں اُس سے پوچھا
“میڈم اطلاع موجب ٹرک آج رات نو بجے شہر سے روانہ ہوگا اور یہ بھی پتا لگا کہ اُس میں بس ڈرگس کا سامان نہیں ہوگا بلکہ اسلحہ بھی دوسرے مُلک جائے گا۔۔کانسٹیبل نے اُس کو بتایا
“اسلحہ جائے گا یا آئے گا؟میشا نے پوچھا
“وہاں جائے گا۔۔۔اُس نے بتایا
“ہممم ٹھیک ہے تم جاؤ اور پوری ٹیم کو الرٹ کرو کیسے بھی کرکے یہ ٹرک شہر سے باہر نہ جا پائے”کیونکہ ہمیں اِس بار کیسے بھی کرکے جاننا ہے کہ چوری چُھپے کام کر کون رہا ہے جس کا نام ابھی تک ہمیں پتا نہیں چلا جبکہ اِس کیس پر انویسٹیگیٹ ہم کافی عرصے سے کررہے ہیں پر کوئی سُراخ ہمیں ملا نہیں ابھی تک۔۔میشا نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا اور دوباہ فائل کھول کر بیٹھ گئ کیونکہ کیسے بھی کرکے اِس کیس کے تہہ تک جاننا تھا اور اصل مجرم کو پکڑنا تھا جو بڑی چلاکی سے غیرقانونی کاموں میں ملوث تھا اور وہ کافی پاور فل بھی تھا جبھی تو اُس کا پتا ابھی تک میشا لگا نہیں پائی ورنہ وہ تو ہر کیس کو چٹکیوں میں حل کرلیتی تھی۔۔
“ایک اور کیس بھی ہے۔۔۔کانسٹیبل نے بتایا
“کیسا کیس؟میشا نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
“آتش لُغاری نے کل رات نشے کی حالت میں ایک کار ٹھوک دی تھی۔۔۔کانسٹیبل نے بتایا تو میشا نے زور سے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا
“یہ جب سے پاکستان آیا ہے تب سے کوئی نہ کوئی ایسا کام ضرور کرتا ہے جس میں ہر کسی کا نقصان ہوتا ہے۔۔میشا دانت پیس کر بولی
“وہی میڈم اُس کو ضرورت کیا تھی یہاں آنے کی اچھا تھا جو لندن میں تھا ہاتھ تو آتا نہیں خوامخواہ سر گُھمادیتا ہے اپنی باتوں سے اُلٹی کھوپڑی کا مالک ہے۔۔کانسٹیبل بھی اُس کی بات سے متفق ہوا تو میشا اُس کو گھورنے لگی
“لگتا ہے تمہاری کافی گپ شپ ہوئی ہے اُس کے ساتھ۔۔۔میشا نے طنز سے بھرپور لہجے میں کہا تو وہ بیچارا گڑبڑا سا گیا
“ایسا نہیں ہے میڈم یہ تو بس میں نے سُنا ہے کہ آتش لُغاری بولتا نہیں تھا پر اب جب سے لندن سے واپس آیا ہے تب سے ایسی باتیں کرتا ہے کہ اِنسان اپنے بال نوچنے کے قریب ہوجاتا ہے”شاید آپ سے کوئی گہرا تعلق ہے اُس کا وہ بھی یہ کہتا ہے کہ اُس کو اپنے علاوہ کسی اور کا بولنا پسند نہیں جیسے اکثر آپ کہتی ہو اور آئے دن اُس کے ہاتھوں میں بھی کُھجلی ہوتی ہے جیسے آپ کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔۔۔خالد فرفر بولنے لگا تو میشا تپی ہوئی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔۔
“گاڑی تیار کرو ہم آج لُغاری ہاؤس جائے گے۔۔میشا اُس کی بات کو اگنور کرتی اپنی جگہ سے اُٹھ کر ٹیبل سے اپنی کیپ اُٹھا کر بولی
“میڈم لغاری ہاؤس؟خالد کی سیٹی گُم ہوئی تھی
“کیوں کیا کوئی مسئلہ ہے؟میشا نے آئبرو اُپر کیے اُس سے سوال کیا
“نہیں وہ آپ کو تو پتا ہے وہ کس کا بیٹا ہے اگلی بار بھی جب ایس پی آصف نے اُس پر ہاتھ ڈالا تھا تو نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا اور اب آپ۔۔خالد کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے
“مجھے زیادہ ہسٹری بتانے کی ضرورت نہیں ہے جو کہا ہے وہ کرو”آج کی رات تو یہ آتش لُغاری سلاخوں کے پیچھے گُزارے گا۔۔میشا پُریقین لہجے میں بولی
“جی پر خیال سے کہی وہ آتش لُغاری سے آتش فشاں بن کر ہم پر پھٹ نہ پڑے اُس کے تو نام کا مطلب آگ ہے اور آگ کی لپیٹ میں تو ہر کوئی آتا ہے آتش لُغاری کے سارے کرتوت آئے دن اخباروں کی سرخیوں میں ہوتے ہیں”نیوز چینلز پر بھی آتش لُغاری چھایا ہوتا ہے وہ کسی کے ہاتھ میں نہیں آتا۔۔۔خالد ڈر ڈر کر بولا
” تم کیوں چاہتے ہو آتش سے پہلے میں تمہارا کام تمام کروں۔۔میشا نے اُس کو گھور کر کہا تو خالد گڑبڑا سا گیا
“آپ آجائے گاڑی تیار ہے۔۔خالد اِتنا کہتا اُس کے کیبن سے باہر نکل گیا۔۔







“تمہارا ڈریم کیا ہے؟عیشا نے چپس منہ میں ڈال کر حوریہ سے سوال کیا وہ اِس وقت یونی گراؤنڈ میں تھے”اور رایان کے پاس حوریہ کا رجسٹر تھا جس میں اُس نے اپنے کسی ناول کی قسط لکھی ہوئی تھی۔”پاس المان اور سکندر اپنا گِٹار لیے بیٹھے تھے جبکہ زوہان اسائمنٹ کے لیے کچھ پوائنٹس نوٹ کررہا تھا۔۔۔
“میرا خواب تو مشہور ناول نگار بننے کا ہے۔۔حوریہ نے مسکراکر بتایا
“واؤ یعنی تمہیں لکھنے کا شوق ہے۔۔عیشا نے پوچھا
“پر مجھے پڑھنے کا شوق نہیں۔۔۔رایان نے ناک منہ چڑھا کر کہا
“تم سے پوچھ رہا کون ہے۔۔عیشا نے اُس کو گھورا
“ہاں میں لکھنا چاہتی ہوں مجھے شوق ہے لکھنے کا میں نے کافی سارے ناولز بھی پڑھے ہیں”اور اب میں چاہتی ہوں لوگ مجھے پڑھے”مجھے پہچانے کہ حوریہ عباس بھی اِس دُنیا میں ہے۔۔۔حوریہ نے کہا
“اچھا بات سُنو اِس پیج پر کافی ڈیب لائنز ہیں کیا تم خود بھی اِتنی اچھی ہو یا بس لکھتی اچھا ہو۔۔رایان رجسٹر کھول کر اُس کے سامنے کیے پوچھنے لگا
“مجھے سمجھ نہیں آیا؟حوریہ ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی
“اِس میں مشکل کیا ہے میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیا تم جو اصلاح کرنا چاہتی ہوں لوگوں کی وہ سب تم خود کرتی ہو۔۔رایان نے تفصیل سے بتایا
“اِس سے کیا فرق پڑتا ہے اگر میں خود اصلاح کے راستے نہ بھی ہوں تو دوسروں کے لیے تو اصلاح کا ذریعہ بنوں گی نہ۔۔حوریہ نے کہا تو اُس کی بات پر زوہان نے پہلی بار چونک کر اُس کو دیکھا
“ایسا نہیں ہوتا۔۔زوہان نے سنجیدگی سے کہا تو حوریہ کا دھیان زوہان پر گیا جس نے سارے وقت میں اب پہلی بار اُس کو مُخاطب کیا تھا۔۔۔
“کیا نہیں ہوتا؟حوریہ نے جاننا چاہا
“اصلاح پر لاتا وہ شخص ہے جو خود اُس راستے کا مسافر ہو”آپ اگر صرف لفظی باتیں لکھوں گی تو یہ بس خالی کھوکھلی باتیں ہی ہوگی”اِن میں تاثیر تب ہوگی جب خود آپ نے وہ سب کیا ہو جو تم لکھ رہی ہو”کیونکہ تاثیر تو اُن لفظوں میں ہوتی ہے جو شدت سے لکھے گئے ہو۔۔”آپ جو کام خود نہیں کرسکتی وہ دوسروں کو نہیں کرواسکتی”جس طرح آپ خود جینز پہن کر دوسری لڑکی کو یہ نہیں بول سکتی کہ لڑکی کے لیے جینز پہننا حرام ہے ٹھیک ویسے ہی اگر آپ نماز نہیں پڑھتی تو کسی دوسرے کو نماز کی اہمیت نہیں بتاسکتی۔۔۔”خود ننگے سر ہوکر آپ دوسرے کو حجاب پہننے کا مشورہ نہیں دے سکتی”گھر میں خود بڑوں سے بداخلاقی کرکے آپ یہ نہیں بول سکتی دوسروں کو کہ ماں باپ کی عزت کرنا چاہیے۔۔”خود غریبوں سے عار محسوس کرکے آپ یہ نہیں بول سکتی کہ غریبوں کی مدد کرنی چاہیے”کوئی گِرتا ہے تو دوسرے ہنستے ہیں آپ بھی اُن میں شامل ہوگی تو یہ نہیں بول پائی گی کہ اگر کوئی گِرجائے تو اُس پر ہنسا نہیں جاتا۔۔۔”لکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا یہ ایک بڑی زمہ داری ہے آپ جو لکھوں گی اُس کو پڑھنے والے آپ کو ویسا امیجن کرینگے اور اگر آپ کا لکھا آپ کی شخصیت سے الگ ہوا اور اتفاقً آپ کا سامنا اپنے کسی ریڈر سے ہوا تو قارئین کو بہت مایوسی کا شکار ہونا پڑے گا دوسروں کو بہتر بنانے کے لیے ہمارا اپنا بہترین ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔۔”میرا لیکچر بڑا ہے جانتا ہوں پر یہ مین پوانٹس ہیں جو کچھ بھی لکھتے ہوئے اپنے مائینڈ میں کرلے۔۔۔زوہان سنجیدگی سے بولتا پل بھر میں اُس کو لاجواب کرگیا تھا حوریہ تو بس اُس کو دیکھتی رہ گئ جو پہلے بولا نہیں تھا اور جب بولنے پر آیا تو اُس کو بولنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا اُس کو آج سے پہلے لگتا تھا کہ وہ رائٹر ہے اُس کے پاس لفظوں کا زخیرہ ہے جس سے وہ ہر ایک کو اپنی بات منوانے پر مجبور کرسکتی ہے”وہ اچھا بول سکتی ہے’اچھا سمجھا سکتی ہے پر زوہان کی باتیں سُن کر اُس کو لگا جیسے وہ بہت سی باتوں سے ناواقفیت رکھتی ہے۔۔
“تو آپ کی نظر میں ایک اچھا لکھاری کون ہے؟حوریہ نے متجسس ہوکر پوچھا رایان اور عیشا جبکہ خاموش بیٹھے اُن کو سُن رہے تھے
“ہر لکھاری اپنی جگہ بہتر ہوتا ہے کیونکہ لکھنے میں وقت”دماغ”اور محنت یہ تینوں چیزیں ایک جتنی لگتی ہے اگر کوئی اِس بات کو مانے تو”البتہ لکھنے والوں کی سوچ ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہے”کچھ اپنے لکھے سے کمانا چاہتے ہیں تبھی لکھتے ہیں تو کچھ لوگ اپنے لکھے سے لوگوں کو کوئی پیغام یا اچھی باتیں پہچانے کے لیے لکھتے ہیں اور پھر چند ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بس اپنے شوق کی وجہ سے لکھتے ہیں”نا اُن کو نام بنانے کا شوق ہوتا ہے اور نہ اپنے لکھے سے اِنکم بنانے کا”اور اب آپ نے یہ فیصلہ لینا ہے کہ آپ کا شُمار اِن تینوں میں سے کس میں ہوتا ہے۔زوہان نے اُس کی بات کے جواب میں کہا
“میں اپنا نام کمانا چاہتی ہوں اور اِنکم بھی حاصل کرنا چاہتی ہوں”اپنے ابا کو بتانا چاہتی ہوں کہ کاغذ پر لکھے لفظ بس لفظ نہیں ہوتے اِن سے ہم اپنے لکھے ذریعے اُونچا نام اور پیسا بھی کماسکتے ہیں”لوگوں کے سامنے ایک بہترین مواد رکھ سکتے ہیں۔۔حوریہ نے پرجوش ہوکر کہا
“آل دا بیسٹ۔۔۔۔زوہان نے جواب میں محض اِتنا کہا
“تم نے کسی ویب سائٹ سے رابطہ کیا؟”اور کتنے ناولز تمہارے اب تک پبلش ہوچُکے ہیں۔۔۔عیشا نے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“ایک بھی نہیں۔۔حوریہ نے مایوسی سے بتایا
“وہ کیوں؟عیشا کو حیرت ہوئی
“ڈائجسٹ ادارے کو دیا ہے پر ابھی تک اُن کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا”جانے میرا کوئی ناول شائع ہوگا بھی کہ نہیں۔حوریہ نے مایوسی سے کہا
“تو ٹینشن کیوں لینی چِل کرو مل جائے گا رسپانس نہیں تو ہم کچھ اور سوچے گے۔۔رایان نے پرسوچ ہوکر کہا تو حوریہ نے گہری سانس بھری تھی۔
