Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 17)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 17)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“تم کلاس میں کیوں نہیں تھی آئی؟”اور یہاں کیوں بیٹھی ہوئی ہو؟کلاس ختم ہونے کے بعد رایان یونی گراؤنڈ میں آیا تو حوریہ کو وہاں اکیلا بیٹھا دیکھ کر اُس کی طرف آکر پوچھنے لگا”جو وائٹ رنگ کے سادہ جوڑے میں ملبوس تھی”اور کالے رنگ کی چادر کو اپنے گرد اچھے سے لپیٹا ہوا تھا”چہرہ ہر قسم کی مصنوعی آرائش سے پاک تھا”لیکن اُس کے باوجود وہ بہت پیاری لگ رہی تھی”کیونکہ انسان کی اصلی خوبصورتی سادگی میں ہوا کرتی ہے
“آج مجھے آنے میں وقت لگ گیا تھا”کلاس میں آنے والی تھی کہ پتا چلا کہ لیکچر شروع ہوچُکا ہے”اِس وجہ سے میں نے لائبریری جانے کو ترجیح دی۔۔حوریہ نے بتایا
“تم یہاں اسکالر شپ پر پُہنچی ہو نہ؟رایان نے پوچھا
“ہاں۔۔حوریہ نے اپنا سراثبات میں ہلایا
“تو تمہیں ایک بار کلاس میں آنے کی پرمیشن پروفیسر سے لینی چاہیے تھی”یہاں کے ہر اسٹوڈنٹ کا رکارڈ پروفیسرز کو پتا ہوتا ہے”ہوسکتا ہے تمہیں آنے کی اِجازت مل جاتی۔۔رایان نے اُس کی بات سن کر کہا
“لیکن رولز تو ایکوئل ٹو آل ہے”تم لوگوں کو بھی پرمیشن بڑی مشکل سے ملی تھی۔۔حوریہ نے اُس کی بات سن کر کہا
“ہاں تو ملی تھی نہ”کیونکہ ہم نے کلاس میں داخل ہونے کی اجازت ایسے مانگی جیسے بچہ ضد کرکے کوئی کِھلونا لیتا ہے”تمہیں بھی ایک عدد کوشش کرنی چاہیے تھی”کیا پتا آج تمہارا لیکچر مس نہ ہوتا۔۔رایان نے کہا تو اِس بار حوریہ کو افسوس ہوا
“واقعی مجھے ایک بار کوشش کرنی چاہیے تھی۔۔حوریہ اُس کی بات سے اتفاق کرتی ہوئی بولی
“اب کیا فائدہ افسوس کرنے کا؟”اِس لیے اُٹھو کینٹین چلتے ہیں۔۔۔رایان ہاتھ جہاڑ کر کہتا اُٹھ کھڑا ہوا
“تم جاؤ میں نہیں آسکتی”مجھے کچھ اور کام ہے۔۔حوریہ نے اُس کو دیکھ کر انکار کیا
“کونسا کام ہے؟رایان نے بھنویں اُچکاکر سوال کیا
“تمہارا جو کزن ہے نہ زوہان اُس سے مدد چاہیے تھی۔۔حوریہ نے صاف گوئی کا مُظاہرہ کیا مبادہ کہی کوئی غلط مطلب نہ اخذ کرلے
“کیسی مدد؟تفتیش بھرا اگلا سوال
“وہ دراصل اُس کی باتیں بہت موٹیویٹ ہوتی ہے”اور مجھے کچھ جاننا تھا اُس سے۔۔۔حوریہ نے بتایا
“ہانی کی کہاں؟”اصل موٹیویٹ باتیں تو میں کرتا ہوں”تمہیں جو کچھ بھی پوچھنا ہے نہ وہ تم بلاجھجھک مجھ سے پوچھ سکتی ہو”میں تفصیل سے بتاؤں گا”گُھنٹوں بیٹھ کر۔۔رایان اُس کے سامنے آلتی پالتی مارے بیٹھ کر بولا تو حوریہ نے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائے اُس کو دیکھا
“زندگی میں اگر کوئی فنی ناول لکھنے کا سوچا تو آپ سے رائے ہی لوں گی۔۔”یوں سمجھے کہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کروں گی۔۔”لیکن یہاں معاملہ تھوڑا سیریس ہے۔۔حوریہ نے اُس کو سمجھانا چاہا
“ہاں تو میں بھی سیریس ہوں”تمہیں پتا ہے میں اِتنا سیریس اور کم گو ہوں کہ پیدا ہونے کے پورے دو سال بعد بات کرنا شروع کیا تھا”جبکہ عیشو نے مجھ سے پہلے بولنا شروع کیا تھا۔۔رایان نے بتایا”تبھی وہاں پریشان سا المان”زوہان اور عیشا بھی آئے
“سکی کہاں ہے؟رایان نے”سکندر کو نہیں دیکھا تو پوچھا جبکہ اُن کی آمد پر حوریہ نے بے اختیار شکر کا سانس بھرا تھا
“اُس نے ہونا کہاں ہے”کیفے ہے ہم بھی وہاں جارہے ہیں”تم دونوں بھی آؤ کیونکہ آج مان صاحب ہمیں ایک اہم خبر سے آگاہ کرنے والے ہیں۔۔جواب عیشا کی طرف سے آیا تھا
“کیا واقعی ایسا ہے؟رایان متجسس ہوا
“اور نہیں تو کیا۔۔عیشا نے مسکراہٹ دبائے کہا تو”المان نے تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھا جس کا پورا ارادہ اُس کا مذاق اُڑانے والا تھا”اور وہ یہ سوچ بیٹھا تھا کہ اگر وہ اُن کو ساری بات بتائے گا پھر تو “عیشا نے آگ میں پیٹرول کا کام کرنا ہے۔۔’وہ تو اُس کو بتانے کے حق میں ہی نہیں تھا پر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ عیشا سے کوئی بھی بات”پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھی۔۔تبھی اُس نے سب کو ایک ساتھ بتانے کا سوچا تھا
“مجھے آپ سے بات کرنا تھی”کچھ اگر اپنے پانچ منٹ دیتے تو اچھا ہوتا۔۔حوریہ نے سب کو جانے کی تیاری پکڑتا دیکھا تو براہِ راست زوہان سے کہا
“تم سب جاؤ میں آتا ہوں۔۔۔”زوہان اُس کی بات پر اُن تینوں سے بولا تو وہ وہاں سے سیدھا کیفے کے راستے چل پڑے
“جی بتائے؟”اُن لوگوں کے جانے کے بعد زوہان نے سوالیہ نظروں سے حوریہ کو دیکھا
“آپ کو تو پتا ہے میرے ناولز لکھنے کا”تو مجھے اُس بارے میں آپ کی مدد دُروکار تھی۔۔حوریہ نے بتایا
“میں اُس میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں؟”میں ناول رائٹر نہیں۔۔زوہان کو اُس کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی
“جی یہ تو مجھے پتا ہے”پر کچھ باتیں کرنی تھی”مجھے آپ کا نظریہ جاننا تھا۔”ایک ٹاپک میں نے چوز کیا ہے اور اُس پر میں ناول لکھنا چاہتی ہوں۔حوریہ نے اِس بار تفصیل سے بتایا
“ٹاپک بتائے؟زوہان مُدعے کی بات پر آیا
“آپ کو نہیں لگتا کہ جس طرح اسکول کالج میں یونیفارم ہوتا ہے”یونی میں بھی ہونا چاہیے۔۔۔حوریہ نے کہا تو زوہان خاصی تعجب بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا
“یونی کا یونیفارم؟زوہان نے پوچھا
“جی۔۔حوریہ نے اپنا سراثبات میں ہلایا
“ایسا سوچنے کی وجہ؟زوہان نے جاننا چاہا
“آپ نے دیکھا ہوگا یہاں ہر کوئی اسٹوڈنٹ کم اور ماڈلز کا لُک کیے لڑکے لڑکیاں نظر آتے ہیں۔”اور جو مڈل کلاس کے اسٹوڈنٹس ہیں اُن کا رجہان پڑھائی سے کم ہوجاتا ہے اور وہ اپنے دماغ میں غلط خیالاتوں کو سوچنے لگ جاتے ہیں۔۔حوریہ نے بتایا تو زوہان کی آنکھوں کے سامنے چِھن سے “ایشال کا چہرہ آیا تھا
“آپ پہلے مجھے یہ بتائے کہ ایک انٹیلجنٹ اسٹوڈنٹ باقیوں کی نسبت الگ کیوں ہوتا ہے؟زوہان نے اُس کو دیکھ کر سوال کیا
“اپنی ذہانت کی وجہ سے۔۔حوریہ نے جلدی جواب دیا تھا
“وہ اپنی ذہانت کا مُظاہرہ کیسے کرتا ہے؟”مطلب اسٹوڈنٹس تو سارے ہوتے ہیں اور سارے لوگ پڑھتے بھی ہیں”پھر پتا کیسے چلتا ہے کہ سب اسٹوڈنٹس سے یہ زیادہ ذہین اسٹوڈنٹ ہے؟زوہان نے اگلا سوال کیا
“اُن کا اُستاد جو اُن سے پڑھائی کے مُطلق سوال کرتا ہے وہ اُس کو آتا ہے۔۔”اور وہ اپنے اُستاد کی عزت بہت کرتا ہے۔۔”عزت تو سب کرتے ہیں لیکن وہ اپنے اُستاد کی ہر بات کو مانا کرتے ہیں”یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ باقیوں سے منفرد لگتا ہے”کیونکہ وہ منفرد ہوتا ہے”اپنے ذہانت کی وجہ سے۔۔حوریہ نے کافی اُلجھن کا شکار ہوکر زوہان کو بتایا تھا وہ جان نہ پائی تھی کہ ایسے سوالات آخر زوہان اُس سے کیوں کررہا تھا؟
“آپ جو مجھ سے پوچھنا چاہتی ہیں”اُس کا جواب آپ کے پاس پہلے سے موجود ہے۔۔زوہان ہلکی مسکراہٹ سے بتایا تھا اور اُس کی یہ مسکراہٹ کسی نے بڑے غور سے دیکھی تھی
“میں آپ کی بات کو سمجھ نہیں پائی؟حوریہ کو واقعی میں کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا
“ایک رائٹر اِتنا معصوم کیسے ہوسکتا ہے۔۔”حوریہ کو دیکھ کر زوہان محض یہ سوچ پایا لیکن کہا بس یہ کہا
“مطلب صاف ہے جس کے پاس جو چیز ہوتی ہے”وہ وہی چیز شو کرواتا ہے۔۔”لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کسی کا محل دیکھ کر ہم اپنی جھونپڑی کو جلا بیٹھے۔۔”جس انسان کے پاس عزت ہوتی ہے وہ باقیوں کو عزت دیتا ہے۔۔”جو ہوشیار قسم کا انسان ہوتا ہے وہ اپنے عمل سے بتاتا ہے”ہر انسان کی ایک ظاہری شخصیت ہوتی ہے۔۔”اور ایک اہم بات کہ اگر ہم یہی سوچنے لگ پڑے کہ یونی میں بھی یونیفارم ہو تو کل کُلاں ہم پھر یہ سوچنے لگ پڑے گے کہ جہاں ہماری جاب لگتی ہے”وہاں کا بھی ایک الگ سوٹ ہو جہاں سب ایک جیسا نُمایاں ہو تو مس حوریہ ایسا نہیں ہوتا”ہمیں اگر اِس دُنیا میں سروائیو کرنا ہے تو سب سے پہلے خود میں خوداعتمادی لانی ہوگی۔۔”اپنا کانفڈنٹ اسٹرونگ رکھنا ہوگا۔۔”پھر کوئی جیسے چاہے ہمارے سامنے آئے اُس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا”اور نہ ہمیں کوئی فرق پڑتا ہے۔۔”ہمیں کسی کے مہنگے کپڑوں سے ایمپریس ہونا نہیں چاہیے۔۔”کہتے ہیں اگر کسی میں کوئی چیز دیکھ کر خود بھی اُس کو فالو کرنا چاہتے ہو تو کوئی اچھی چیز اُس میں تلاش کیا کرو پھر خود بھی وہ کیا کرو”جیسے اگر کوئی پابندی سے نماز ادا کررہا ہے”آپ نہیں کررہے تو کوشش کرے کہ اِس عادت کو فالو رکھنے کی باقی مہنگی چیزوں سے کچھ نہیں ہوتا انسان جب مرتا ہے تو اُس کو قیمتی اشیاء سمیت دفن نہیں کیا جاتا بلکہ کفن میں لپیٹ کر دفنایا جاتا ہے۔۔”یہ انسان کے مُختلف رنگ روپ محض اُن کی پہچان کرواتے ہیں۔۔”باقی اصل بات جو آپ نے کہی یونیفارم کی تو جس طرح کچھ کالجوں میں یونیفارم نہیں ہوتا مثال کے طور پر”میڈیکل کالج لے”ٹھیک ویسے کچھ یونیورسٹیوں کا یونیفارم بھی ہوتا ہے”ہمیں اِس بارے میں زیادہ سوچ ویچار کرنے کی ضرورت نہیں”اگر سوچنا ہے تو اپنی شخصیت کو بہتر طریقے سے کیسے سنوارنا ہے؟”اِس بارے میں سوچنا چاہیے”اگر آپ اپنے لکھے کو باقیوں کے لیے موٹیویشنل بنانا چاہتی ہیں تو جو بھی پوائنٹ چوز کریں”پہلے اُس پر سہی طریقے سے خود غور کرے اُس کے بعد شائع کروائیے گا۔۔”بظاہر جو چیزیں ہمیں چھوٹی نظر آتیں ہیں وہ درحقیقت چھوٹی نہیں ہوتیں۔”اِس بات کا اندازہ ہمیں تب ہوتا ہے”جب اِس کے بارے میں ہم غور و فکر کرتے ہیں۔۔۔زوہان نے ایک ہی بار میں اُس کو جواب دیا تو حوریہ کی زبان کو جیسے قفل لگ چُکا تھا
“آپ نے سہی کہا۔۔۔حوریہ سرجھٹک کر محض اِتنا بول پائی
“ٹھیک ہے تو پھر میں چلتا ہوں۔۔زوہان اُس کی بات سن کر اُٹھ کر وہاں سے چلاگیا۔۔”اپنی کتابیں سمیٹتی حوریہ بھی جانے لگی تھی”جب کوئی اُس کے راستے میں حائل ہوا تھا”اور اُس کو دیکھ کر حوریہ کو اپنی بینائی پر شک ہوا تھا
“نیلی آنکھوں والا اِتنی دیر سے تمہارے ساتھ کیا گفت وشنید کررہا تھا؟ایشال کو بہت وقت تک اُن پر نظریں جمائے ہوئے تھی”زوہان کے اُٹھتے ہی اُس نے حوریہ کے پاس آکر سوال کیا تھا
“آپ ایشال لُغاری ہو نہ؟جواب میں حوریہ نے جو اُس سے پوچھا اُس پہ ایشال نے اُس کو گھورا
“یہ میرے سوال کا جواب نہیں”تم سے جو پوچھا ہے مجھے اُس کا جواب چاہیے۔۔”نیلی آنکھوں والا تمہیں کونسی غزلیں سُنا رہا تھا؟ایشال نے اپنی بات پر زور دے کر پوچھا
“نیلی آنکھوں والا کون؟اِس بار حوریہ نے چونک کر پوچھا
“ابھی جو تمہارے پاس سے اُٹھ کر گیا ہے”زیادہ انجان بننے کی تمہیں ضرورت نہیں ہے۔۔ایشال کو غُصہ آنے لگا
“آپ رایان کی بات کررہی ہیں کیا؟”لیکن اُس کی آنکھوں کا رنگ شاید کوئی اور ہے”نیلا نہیں”نیلا تو زوہان زوریز کی آنکھوں کا ہے۔۔حوریہ نے بتایا تو ایشال نے دانت پیسے تھے
“تمہارے پہلو سے اُٹھ کر بھی وہ گیا ہے”لیکن اب مجھے لگ رہا ہے”جیسے تم سیم وقت میں دو لڑکوں کو ڈیٹ کررہی ہو۔۔ایشال نے طنز ہوکر کہا تو حوریہ کو اُس کا جُملا اپنے وجود پر کسی تماچے کی طرح لگا تھا
“میں ایسی ویسی لڑکی نہیں”ہم کلاس فیلوز ہیں اور زوہان سے مجھے کچھ بات کرنی تھی”کچھ پوچھنا تھا تبھی وہ میرے پاس بیٹھا ہوا تھا۔۔”آپ اچھے خاندان سے بلونگ کرتیں ہیں تو اپنی سوچ کو بھی اچھا بنائے۔۔یوں بے بُنیاد بہتان لگانا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔حوریہ نے سنحیدگی سے کہا تو “ایشال کو اُس کی باتوں سے کوفت ہونے لگی تھی”ایشال نے سرتا پیر اُس کا جائزہ لیا تھا جو خود کو اچھے طریقے سے چادر میں چُھپائے ہوئے تھی”
“واٹ ایور یہ بتاؤ کیا پوچھا تم نے اُس سے؟”اور اُس نے تمہیں کیا جواب دیا؟ایشال کو جاننے کا اشتیاق تھا
“میں دراصل ناول رائٹر ہوں۔۔۔”اِس سلسلے میں اُن سے کچھ بات کی”کوئی اور خاص باتیں نہیں تھی۔۔”ویسے آپ کو جان کر افسوس ہوا کافی” جب اخباروں میں آپ کی تصاویر آتی تھیں تو چاہے خبریں بُری ہوتیں تھیں”لیکن مجھے لگتا تھا کہ حقیقت میں آپ بہت اچھی ہوگی۔۔”لیکن مجھے پتا چلا آپ اچھی نہیں۔۔حوریہ نے کہا تو اُس کی بات پہ ایشال کا دماغ گُھوما تھا
“تم نہ اپنی اوقات میں رہو”مجھے جانتی نہیں ہو ابھی تم کھڑے کھڑے یونی سے باہر نکلواسکتی ہوں۔۔ایشال کے لہجے میں وارننگ تھی
“ظاہر سی بات ہے آپ بڑے لوگ اور کر بھی کیا سکتے ہو؟”سوائے ہم جیسے غریب لوگ کو دبانے کے۔۔”لیکن آپ نہ میری بھی ایک بات سُن لو”میں یہاں”پہلے اپنے اللہ کی مرضی اور پھر اپنی محنت سے آئی ہوں”آپ کی وجہ سے نہیں تو آپ کی یہ سوچ ہے کہ آپ یہاں سے مجھے نکلواسکتی ہیں۔۔”آپ ہوگی اپنے ماں باپ کی چہیتی لیکن میں بھی اپنے رب کی چہیتی ہوں۔۔حوریہ بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئ”اور ایشال محض اُس کو گھور پائی تھی جس نے اُس کی بات پر اچھا خاصا اُس کو لیکچر دے ڈالا تھا۔
“اسپیچ بہت اچھی کرلیتی ہو”لیکن سوری ٹو سے میرے پاس تمہاری تعریف کے لیے الفاظ نہیں۔۔ایشال نے طنز لہجے میں کہا
“مجھے ہر ایک سے اپنے لیے تعریف سُننا پسند ہے بھی نہیں۔۔”کیونکہ کلاس ہائے ہونے سے کوئی ہائے کلاس نہیں بن جاتا”ہائے کلاس وہ اپنے اخلاق سے بنتا ہے۔۔حوریہ اُس کی بات پر سنجیدگی سے بولی تھی
“تمہیں پتا ہے یہ تمہیں ساری باتیں سُنا کس کو رہی ہو؟ایشال کا بس نہیں رہا تھا ورنہ وہ “حوریہ کا گلا دبادیتی
“جی جانتی ہوں”اور میں بھی نہ بہت ہی کوئی بیوقوف ہوں جو آپ کی ظاہری شخصیت سے ایمپریس ہوئی تھی۔۔حوریہ نے سرتا پیر اُس کو دیکھ کر کہا
“کیا مطلب ہے تمہارا؟ایشال کو اب اپنا یہاں کھڑا دوبہر لگ رہا تھا
“میری بہن بولتی تھی آپ پر رشک نہیں آنا چاہیے۔۔لیکن میں رشک کھاتی تھی آپ سے۔۔”یہ سوچتی تھی کہ آپ کتنی لکی ہو جس کے والدین اُس سے اِتنا پیار کرتے ہیں۔۔”لیکن اب خود پر غُصہ آرہا ہے”کاش والدین نے پیار محبت کے علاوہ بھی آپ کو کچھ دیا ہوتا”تو آج آپ یہاں کھڑی ہوکر بلاوجہ کسی کی دل آزاری نہ کررہی ہوتیں۔۔۔حوریہ کی بات پر ایشال بے ساختہ یہاں وہاں دیکھنے لگ پڑی تھی
“ماں باپ کی لاڈلی ہوں میں؟”اِس بات کا اندازہ تمہیں کیسے ہوا؟”ایشال نے اُس کو دیکھ کر سوال کیا
“دا پرفیکٹ فیملی۔۔”جو ہر ایونٹ میں ایک ساتھ پائی جاتی ہے۔۔حوریہ نے کہا تو اِس بار ایشال مسکرائی تھی
“دور کے ڈھول سُہانے۔۔حوریہ کو دیکھ کر اِتنا کہتی ایشال اُس کے برابر سے گُزرگئ”لیکن حوریہ کو اُس کی بات کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا تھا”جبھی اپنا سرجھٹک کر وہ اپنی اگلی کلاس کی تیاری کرنے لگ پڑی

آآآہ
“ایشال جو اپنے دھیان میں مگن ہوتی فٹبال گراؤنڈ سے گُزرنے لگی تھی”اچانک سر پر لگتی بال نے اُس کے چودہ طبق روشن کردیئے تھے۔
“کس نے ماری بال مجھے؟اپنے پاؤ کے پاس پڑی بال کو زور سے ٹُھکر مارتی ایشال غُصے سے استفسار ہوئی تھی اور جہاں اُس کو ایسے دیکھ کر وہاں موجود کچھ اسٹوڈنٹس پریشان ہوئے تھے وہی یونی کا بدمعاش گروپ کے اُس ماتھے پر نشان دیکھ کر استہزائیہ انداز میں مسکرائے تھے جو اُن کے سینئرز بھی تھے
“میری کیک شدہ بال تمہیں لگی۔۔”اب بول کیا کرے گی؟”ایک لڑکا اُس کے روبرو کھڑا ہوتا بولا
“ارے یار یہ نازک حسینہ کیا کرے گی؟”سوائے اپنے آتش بھائی کو ہماری شکایت لگانے کے۔۔۔اُس کا دوست ایشال کو دیکھ کر خباثت سے مسکراکر بولا
“اُس کے یہاں آنے کی کیا ضرورت تم خبیثوں کے لیے میں ہی کافی ہوں۔۔۔ایشال اپنا بیگ کندھے سے اُتار کر اُن کو دیکھ کر چبا چبا کر بولی
“افففف میں تو ڈرگیا۔۔۔”ہاہاہاہاہاہا۔۔اِتنا کہتے وہ قہقہقہ لگانے لگے تو ابھی ایشال اُن کی طرف بڑھنے لگی تھی جب اُس کی دوست نے اُس کو روکا
“ایش چلو یہاں سے۔۔۔وہ اُس کو دیکھ کر بولی
“کیوں چلوں میں ہاں؟”اِن لوگوں کی یہ ہمت ہوئی کہ وہ مجھے بال مارے”ایشال لُغاری کو۔۔ایشال کا غُصے سے بُرا حال ہوا تھا
“غلطی سے ہوگیا تھا یار تم آؤ بس۔۔وہ اُس کو اپنے ساتھ زبردستی گھسیٹ کر بولی تھی






ہاہاہاہاہا۔۔۔۔المان نے جیسے ہی اُن کو اسیر کی شرط کے بارے میں بتایا”اُس کو سن کر زوہان کے علاوہ وہ قہقہقہ لگانے لگ پڑے تھے”جس پر المان کو تاؤ آیا
“کیسے کزنز ہو۔۔”مدد کرنے کے بجائے ہنس رہے ہو۔۔المان نے ملامت کرتی نظروں سے اُن کو دیکھ کر کہا
“مان صاحب ہم تو تمہیں سہرا سجائے گھوڑے پر بیٹھا ہوا تصور کررہے ہیں۔۔”عیشا نے جلے پر نمک کا کام بخوبی انجام دیا
“اور میں تو تمہارے ایک کندھے پر گِٹار اور دوسرے میں نومولود بچے کو تصور کررہا ہوں”جس کے منہ میں چوسنی ہے۔۔۔رایان کہاں پیچھے رہنے والا تھا
“میں تو تمہارے ہاتھوں میں ڈائیپر دیکھ رہا ہوں۔۔سکندر بھلا کیوں خاموش رہتا
“شیم آن یو گائیز”اور سکی تُجھ سے مجھے ایسی توقع ہرگز نہ تھی”تُجھے تو میرے ساتھ آنا ہے نہ۔۔المان باری باری اُن سب کو گھور کر بولا
“آپس کی بات ہے میرے ڈیڈو کا دماغ تمہارے بابا سائیں جیسا خوبصورت کیوں نہیں؟”ہائے کاش کبھی وہ بھی مجھے کہے کہ”رایان میں تمہارا نکاح کرنا چاہتا ہوں۔۔”اور تمہارے پاس بس ایک ماہ ہے جلدی سے کوئی فیصلہ لو۔۔”بائے گاڈ ممی قسم ایک ماہ تو کیا”ہاں”کہنے میں ایک منٹ بھی نہ لگاؤں۔۔۔رایان حسرت بھرے لہجے میں گویا ہوا
“یہاں بات تمہاری نہیں میری ہورہی ہے تو اُس پر فوکس دو اپنا۔۔المان نے اُس کو گھورا
“کزن تمہارا جیک پوٹ نکل آیا ہے۔۔۔”پریشان کیوں ہوتا ہے ہاں بول اور فلائے کرجاؤ لندن۔۔۔۔عیشا نے ہاتھ سے ایئروپلین بناکر اُس کو اُڑ جانے کا اِشارہ دیا
“میں کیسے نکاح کرسکتا ہوں؟”ابھی میری عمر کیا ہے۔۔المان نے زور سے اپنا سر نفی میں ہلایا
“صرف نکاح کی بات ہے کونسا خالو نے تمہیں یہ کہا ہے کہ نکاح کے بعد سُہاگرات مناکر میری بہوو کا پاؤ بھاری کرکے پھر تم جاسکتے ہو اپنے خواب کو پورا کرنے۔۔۔رایان نے اکتاہٹ سے اُس کا ڈرامہ دیکھ کر کہا تو المان نے اپنے ہاتھ کی پانچوں انگلیوں کو کھول کر ہاتھ سیدھے کیے اُس پر لعنت بھیجی تھی
“شکر ہے ایسا خیال اُن کے دماغ میں ڈالنے کے لیے تم اُن کے پاس نہیں’ورنہ بات پاؤ بھاری کرنے پر نہ رُکتی بلکہ خالو کو بچہ گود میں چاہیے ہوتا۔۔سکندر جھرجھری لیکر بولا تو المان کی پتلی ہوتی حالت پر عیشا کا قہقہقہ بے ساختہ تھا
“کتنے بے شرم ہو تم دونوں”اور کس قدر خراب گفتگو ہے تم دونوں کی۔۔المان نے ترحم بھری نظروں سے اُن دونوں کو دیکھ کر کہا
“بول تو ایسا رہا ہے جیسے پہلے تُجھے یہ لگ رہا تھا کہ نکاح کا مطلب بچہ گود لینا ہوتا ہے۔۔”ناکہ اُس سے بچہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔۔”رایان نے گویا رہی کثر بھی پوری کرلی اور المان نے اُس وقت کو کوسا جب مشورے کے لیے اُس نے “اُن لوگوں سے رائے مانگی
“یار ہانی توں ہی اپنے منہ سے کچھ پُھوٹ۔۔۔المان نے خاموش بیٹھے”زوہان سے کہا
“نکاح کرنے میں مسئلہ کیا ہے؟’کیا تجھے کوئی اور پسند ہے؟زوہان نے پوچھا
“نہیں یار زندگی میں اور بھی کام ہوتے ہیں۔ ۔المان نے اپنا سر نفی میں ہلایا
“تو خالو کی بات مان جا اگر وہ تمہاری مان رہے ہیں” تو تمہیں بھی اپنا دل بڑا کرنا چاہیے۔۔زوہان نے کہا
“وہ نکاح کرواکر میرے پاؤں میں زنجیر ڈالنا چاہتے ہیں”مجھے قید کرنا چاہتے ہیں اور میں ایسا کچھ نہیں کرسکتا۔۔المان نے اپنا سر نفی میں ہلایا
“ہوسکتا ہے ایسا نہ ہو”جس کو تم قید کہہ رہے ہو وہ قید نہیں۔۔”وہ بس تمہارے اُپر ایک ذمیداری ڈال رہے ہیں “تاکہ تم جہاں کہی بھی ہو تمہیں پتا ہو کہ تمہارے پیچھے کوئی ہے جس کو تمہارے آنے کا انتظار ہے جو تمہارے نام پر بیٹھی ہوئی ہے۔۔”اور یہ نکاح تمہیں وہاں بہت سی بُرائیوں سے بچا سکتا ہے۔۔”وہاں اگر تمہارے دل میں شیطان ورغلانا چاہے گا بھی تو کامیاب نہ ہوپائے گا۔۔”کیونکہ تب تمہیں احساس ہوگا کہ تمہارا ایک غلط قدم اُٹھانے سے تمہارے ساتھ جُڑے کسی کے ساتھ خیانت کرجائے گا”تم خیانت دار بن جاؤ گے۔۔زوہان نے رسانیت سے اُس کو سمجھایا جو کچھ المان کو تھوڑا بہت سمجھ بھی آنے لگا تھا”لیکن اُس کے باوجود بھی وہ نکاح کے لیے راضی نہیں ہو پارہا تھا۔۔








“آج اقدس کے لیکچر کا پہلان دن تھا۔۔”وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس سر پر شیفون کا لال ڈوپٹہ لیے”اپنے گرد بھوری کام دار چادر کو مضبوطی سے لپیٹ کر ایک ہاتھ سے فائل پکڑے دوسرے ہاتھ سے اپنی عینک کو سہی کرتی وہ یونی میں داخل ہونے لگی تھی کہ اچانک اُس کا تصادم کسی کے ساتھ ہوا تھا”اُس کے ہاتھ سے فائل چھوٹ کر نیچے گِری تھی۔۔”جس کو اُٹھانے کے غرض سے وہ نیچے جُھکی
“سوری۔۔اپنی غلطی جان کر اقدس فائل سے گِرے پیپرز کو اُٹھاتی معذرت خواہ ہوئی
“سوری؟”کول یعنی یہ اچھا طریقہ ہے جہاں ہینڈسم لڑکا دیکھا نہیں وہاں اُس سے ٹکر مار کر پھر سوری بول دو۔۔”مردانہ آواز سن کر اقدس نے اپنی عینک کو سہی سے آنکھوں پر ٹِکایا اور نظریں اُٹھائیں تو پہلے بلیک چمکدار شوز پر پڑی اُس کے بعد بلینک جینز پینٹ “پھر وائٹ شرٹ کے اُپر بلیک جیکٹ میں ملبوس”گلے میں موجود لٹکتی چین کے بعد اقدس نے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جو واقعی میں بہت ہینڈسم تھا لیکن اُس سے اُس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا تبھی اُس پر سے اپنی نظروں کو ہٹائے وہ فائل کو اُٹھاتی خود بھی اُٹھ کھڑی ہوئی
“”ایسا کچھ نہیں تھا۔۔اقدس نے کہا
“جی ہر کوئی پھر ایسا بولتا ہے شکل کو معصوم بنا کر۔۔آتش جو اپنے کام سے آیا تھا وہ اقدس کو دیکھ کر بولا
“آپ ہینڈسم ہیں ایسا ہمیں نہیں لگتا۔۔۔”اِس لیے ایسی چیپ حرکتیں آپ کو مُبارک ہو۔۔۔اقدس اِس بار طنز لہجے میں کہتی اُس کے برابر سے گُزرنے لگی
“کیوں خود کیا تم کوئی توپ چیز ہو جو مجھے اگنور کرو گی!”یا مجھے کم شکل بولو گی۔۔آتش اُس کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلتا آگ بگولہ ہوکر بولا
“ہم اجنبیوں سے بات نہیں کرتے۔۔تیز تیز قدم اُٹھاتی اقدس نے جواب دیا تو پہلے آتش نے اُس کے پیچھے دیکھا جہاں کوئی نہ تھا پھر سرجھٹک کر وہ بھی تیز قدم اُٹھاتا بڑبڑایا
“بس اجنبیو سے ٹکر مارا کرتی ہیں۔۔اُس کی بڑبڑاہٹ اقدس کے کان سے پوشیدہ نہ رہ پائی تھی”تبھی رُک کر سنجیدہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی
“ہم نے اُس کے لیے”آپ کو سوری بول دیا ہے لہٰذا اب آپ اپنے راستے جائے۔۔اقدس نے سنجیدگی سے کہا
“کوئی احساس نہیں کیا”غلطی کرنے والا سوری بولتے ہوئے بہت اچھا لگتا ہے آپ نے کوئی انوکھا کام نہیں کیا”بائے دا وے”آپ کے”ہم”میں کتنے باڈی گارڈز شامل ہیں؟”تاکہ مجھ ناچیز کی تھوڑی کنفیوزن دور ہوجائے۔۔آتش نے آخری بات اُس کے پاس اپنا کان کیے رازدرانہ انداز میں پوچھا
“ہمیں عادت ہے۔۔اقدس اپنا چہرہ پھیر کر بس اِتنا بولی
“بچپن میں راجکماریوں کی کہانی بہت سُنی ہوگی تم نے اور اب بڑی ہوجانے کے بعد خود کو بھی راجکُماری تصور کرلیا ہوگا۔۔اُس کی عینک کو ناک کے پاس کِھسکائے آتش تھوڑا دور کھڑا ہوکر بولا تو اقدس نے اپنی عینک کو واپس آنکھوں پر ٹِکاتی کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا
“ڈونٹ ٹیل می کہ تمہیں مجھ سے لو ایٹ فرسٹ سائیڈ ہوگیا ہے”ٹرسٹ می مجھے ایسی باتیں دقیانوسی لگتی ہے۔۔اُس کی نظریں خود پر محسوس کرکے آتش نے انگڑائی لیکر کہا
“کافی خوشفہمی ہے آپ کو اپنے مطلق۔۔اقدس طنز لہجے میں کہتی یونی گیٹ کو کھول کر وہاں داخل ہونے لگی۔
“بلاوجہ تو نہیں۔۔”اُس کے پیچھے پیچھے آتے آتش بھی یونیورسٹی میں داخل ہوگیا تھا “جبھی اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر وہ دلفریب لہجے میں بولا
“سراسر خوشفہمی ہے اور خوشفہمیاں انسان کو بلاوجہ ہوتی ہیں۔۔اقدس نے بہت اچھے طریقے سے اُس کے ارمانوں پر پانی گِرایا تھا
“ہے یو تم خود کو سمجھتی کیا ہو؟”جانتی بھی ہو کہ بات کر کس سے رہی ہو۔۔اچانک طیش میں آتا آتش اُس کو بازوں سے دبوچے اپنے روبرو کھڑا کیے بولا تو اقدس کے ایک کان سے جُھمکا گِر کر نیچے پھسل گیا تھا
“بازو چھوڑے ہمارا اور خبردار جو ہمیں چھونے کی دوبارہ کوشش بھی کی تو۔۔اپنا بازوں ایک جھٹکے سے آزاد کرواکر انگلی اُٹھاکر اقدس نے اُس کو وارن کیا تھا”جس پر ہاتھ اُپر کو اُٹھاتا آتش کچھ قدم پیچھے لینے لگا
“کول یار ویسے تم تو خود کو سچی مُچی والی راجکماری سمجھنے لگی ہو”آج کے بعد میں بھی”ہم”لفظ یوز کروں گا۔۔”لیکن اِس تکلف کی ضرورت مجھے تو نہیں ہے”مجھے تو ویسے بھی اپنا آپ کسی شہزادے سے کم نہیں لگتا پھر میں ٹھرد کلاس راجکمار بننے کی کوشش کیوں کروں؟آتش نے اپنی بات کی خود ہی نفی کی
“آپ کے دماغ کو اسپیشل ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے۔۔اقدس اُس سے طنز انداز میں بولی
“مثلاً کونسا ڈاکٹر ہونا چاہیے؟اردگرد سے بے نیاز آتش ہاتھ منہ دھوکر اُس کے پیچھے پڑگیا تھا
“ہمارا پیچھا نہ کرے ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔اقدس نے تھوڑا اُونچی آواز میں اُس سے کہا اور وہ مزید تیز قدموں سے جانے لگی تھی”آتش بھی جانے لگا تھا کہ اُس کی نظر نیچے گِرے جُھمکے پر گئ تو اُس کو اُٹھاتا وہ دوبارہ اقدس کے پیچھے جانے لگا
اپنی چیز لیکر جاؤ مس چشمش۔۔آتش کی بات پر اقدس کے چلتے قدموں کو بریک لگی تھی لیکن اُس نے مُڑ کو آتش کو نہیں دیکھا
“ہماری کوئی بھی چیز آپ پاس نہیں ہوسکتی۔ ۔اقدس بنا پلٹے بولی۔۔” اُس کو آتش کا ایسے دوبارہ سے مُخاطب ہونا پسند نہیں آیا تھا۔
“یہ تو آپ کو تب پتا لگے گا جب یہاں دیکھنے کی زحمت کرینگی۔ ۔۔جواب میں آتش طنز آواز میں بولا تو ناچاہتے ہوئے بھی اقدس نے اپنا چہرہ اُس کی طرف کیا جس نے اُس کے ایسے دیکھنے پر اُس کا جُھمکا لہرایا تھا” یہ دیکھ کر اقدس کا بے ساختہ ہاتھ اپنے کان پر پڑا تھا
“ہماری چیز ہے گِری بھی تھی آپ کو دینے کی ضرورت نہ تھی”خوامخواہ ہیروگیری کرنے کا شوق آپ کو چڑھا ہوا ہوتا ہے”جبھی اُٹھاکر واپس دینے چل پڑے۔ ۔اقدس اُس کے سامنے کھڑی ہوتی اُس کے ہاتھ سے اپنا جُھمکا واپس لیا
“اوو ہیلو آتش لُغاری ہوں میں اور ایسے واحیات کام میری پرسنائلٹی کے برخلاف ہیں۔۔”دوسری بات اگر تمہیں لگ رہا ہے کہ میں یہ جُھمکا اُٹھاکر کسی ٹپیکل مووی کے ہیرو کی طرح ہر رات سونے سے پہلے اِس جُھمکے کا دیدار کرتا پھر تصور میں تمہیں مُخاطب ہوتا”تو یہ تمہاری خودساختہ سوچ ہے۔۔”میں کوئی اپنا دل ہاتھ ہتھیلی پر نہیں رکھ کر گھومتا جو تمہارے اِس جُھمکے پر دل ہارتا۔ ۔آتش تو اُس کی بات پر بھڑک اُٹھا تھا
“حرکتیں تو آپ کی ایسی ہی ہیں۔ ۔اقدس نے اپنا سرجھٹکا
“میری حرکتیں میری مرضی تمہیں مجھ پر ریسرچ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ۔آتش نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“ہمیں بھی ایسا کوئی فضول شوق لاحق نہیں ہوا جو آپ کے بارے میں ریسرچ کرے۔ ۔اقدس نے خاصے طنز نظروں سے اُس کو دیکھا
“ہاں جیسے تمہارے ریسرچ کرنے پر تو میں ٹویٹر پر میں ٹرینڈ پر ہوگا نہ۔ ۔آتش نے دانت پیسے تھے
“ہم آپ سے بات کررہے کیوں رہے۔ ۔اقدس کو اُس کی باتیں بے تُکی لگیں تھیں
“کیونکہ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔آتش کا برجستہ جواب سن کر اقدس نے اُس کو گھورا تھا
“شکر ہے خراب ہی سہی لیکن دماغ ہے تو سہی لیکن آپ کا تو شاید اُپری فیوز اُڑا ہوا ہے۔ ۔اقدس نے کہا تو آتش سرتا پیر سُلگ اُٹھا تھا
“تم
“بس بہت ہوگیا اب ہمیں آپ سے مزید کوئی بحث نہیں کرنی۔۔آتش تپ کر اُس سے کچھ کہنے لگا تھا جب ہاتھ اُٹھا کر اقدس نے اُس کو مزید کچھ بھی بولنے سے باز رکھا تھا اور وہ وہاں سے چلی گئ تو آتش ہونک بنا اُس کی پشت کو گھورنے لگا”زندگی میں پہلی بار کسی نے اُس کو شٹ اپ کال دی تھی اور یہ بات چاہ کر بھی وہ ڈائجسٹ نہیں کر پارہا تھا
“بڑی آئی ٹوینٹی زمانے کی راجکماری ہونہہ۔۔۔سرجھٹک کر ہاتھ نچاکر بڑبڑاتا آتش نے اپنے آس پاس دیکھا تو حیران رہ گیا جہاں اسٹوڈنٹس کا پورا منہ کُھلا ہوا تھا اور ہر کوئی اُس کو بہت حیرانگی سے دیکھ رہا تھا”اِتنے سارے لوگوں کو ایک ساتھ اور کتابیں دیکھ کر تھوڑا بہت حیران تو آتش بھی ہوا تھا”تبھی اپنی ڈارھی پر ہاتھ پھیرتا اُس نے اپنے اردگرد غور کیا تو پتا چلا کہ وہ اِس وقت یونی کے گراؤنڈ میں موجود ہے
“میں یہاں کب اور کیسے آگیا؟میرا یہاں کیا کام؟کان کی لو کو کُھجاتا آتش بڑبڑایا تھا اُس کو واقعی میں احساس نہیں ہوا تھا کہ وہ اقدس کے پیچھے پیچھے یونی تک آ پُہنچا تھا۔۔”وہ تو اپنے کسی دوست سے ملنے آیا تھا جو یونی کے کچھ پاس والی جگہ پر موجود تھا اور اب وہ واپس جانے لگا تھا کہ تصادم اقدس سے ہونے کے بعد یہ سب ہوگیا تھا۔۔۔”اپنی سوچو کے تانے بانے جوڑتا وہ واپس جانے لگا تھا کہ تین لڑکے اُس کے سامنے کھڑے ہوئے تھے”جن میں سے ایک نے اپنے ہاتھ کو پیچھے کیا ہوا تھا کیونکہ اُس کے پاس بوتل تھی”ٹوٹی ہوئی بوتل اُن کے اِرادے شاید نیک نہ تھے
“ساجد بولا تھا نہ میں نے وہ نازک حسینہ اپنے آتش بھائی کو ہماری شکایت لگائے گی”اور دیکھ لگادی۔۔۔ایک لڑکے نے اپنے دوست ست کہا تو وہ مسکرایا تھا لیکن اُن کی یہ مسکراہٹ اور باتیں فلحال آتش کے سر پر سے گُزری تھی
“بچہ لوگ سائیڈ پر ہوجاؤ یوں بڑوں کا راستہ کالی بلی کی طرح روکا نہیں جاتا۔۔آتش اُن تینوں کو دیکھ کر پچکارنے لگا جیسے وہ واقعی میں کوئی بچے ہو”خیر اُس کے سامنے تو وہ واقعے بچے تھے
“ڈرامہ کس لیے جبکہ ہمیں پتا ہے کہ تم ہمیں مارنے آئے ہو۔۔اِس بار ساجد اُس سے مُخاطب ہوا
“گھر سے پی کر یونی آتے ہو کیا؟آتش نے اُن تینوں کو گھورا
“دیکھ ہمیں پتا ہے توں یہاں اپنی بہن ایشال کا بدلا لینے آیا ہے کیونکہ کل ہم نے اُس کے سر پر بال ماری تھی وہ بھی زور سے۔۔۔اب کی دوسرا بولا تو “آتش کے دماغ میں کچھ کلک ہوا “اُس کو یاد آیا کہ کل اُس نے ایشال کو اپنے ماتھے پر برف لگاتا ہوا دیکھا تھا لیکن تب اُس کو لگا تھا کہ شاید اُس کے دماغ کا انجن گرم ہوگیا ہے جس کو ٹھنڈا کرنے کے لیے وہ برف کا استعمال کررہی ہے پر اصل ماجرہ کیا ہے؟”وہ تو اُس کو اب پتا لگی تھی جبھی تو چہرہ دوسری طرف کرتا وہ ہنس پڑا تھا”اور اُس کو ہنستے ہوئے دیکھ کر وہ تینوں حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تھے”اُن کے حساب سے اِس وقت آتش لُغاری کو آتش فشاں بن کر اُن پر پھٹنا چاہیے تھا پر ایسا نہیں ہوا تھا وہ تو اُلٹا ہنس پڑا تھا
“کول یعنی جانباز اسٹوڈنٹ نے ایشو کو بال ماری؟”واہ یار یہ تو لیٹسٹ نیوز ہے”جو کام بچپن میں”میں نہ کرپایا وہ تم نے کر دیکھایا۔۔”آئے ریئلی ایپریشیٹ یو لیکن اب راستہ دو مجھے جانا ہے۔۔آتش مسکراکر کہتا اُن کو سائیڈ پر کرنے لگا
“دیکھ زیادہ ہوشیار نہ بن ہمیں پتا ہے”توں یہاں ہم سے لڑنے آیا ہے پر ہمیں تین ایک ساتھ دیکھ کر تیری ہوا ٹائیٹ ہوگئ ہے کیونکہ توں اکیلا ہے”لیکن تُجھ پر احسان کرتا ہوں بال میں نے ماری ہے تو توں جی کھول کر میرے ساتھ لڑ”کیونکہ شیر اکیلا وار کرتا ہے۔۔ساجد نے کہا تو ہاتھ کی مٹھی ٹھوڑی پر رکھے آتش بھرپور طریقے سے اُس کا جائزہ لینے لگا
“میں تو تمہیں انسان کا بچہ سمجھ بیٹھا تھا لیکن توں تو جانور کا بچہ نکلا اور آتش لُغاری نہ اپنے برابر کے لوگوں سے لڑائی کرتا ہے””کمزور لوگوں پر وار کرنا اُس کے شایانہ شان کے خلاف ہے۔۔اِس لیے پلیز سائیڈ ویسے بھی میری ان بن تیرے پیارے بھائی ماجد عرف ماجوں سے ہے۔۔آتش اُس کو اپنے الفاظوں سے آگ لگاتا جانے لگا تھا جب طیش میں آتا ساجد نے اپنے دوست سے وہ بوتل چھینی اور جاتے ہوئے آتش کی پشت پر مارنے والا تھا کہ اچانک کوئی سامنے آتا اُس کے ہاتھ کو درمیان میں روک گیا تھا۔۔”ساجد نے چونک کر دیکھا جہاں ایشال نے اُس کے منصوبوں پر پانی گِرایا تھا۔۔اپنے پیچھے کھینچ کھینچاؤ کو محسوس کرتا آتش بھی پلٹا تو ایک پل لگا تھا اُس کو ساری بات جاننے میں
“کائروں کی طرح پیچھے سے وار کیوں کررہا ہے۔۔’اگر ہمت ہے تو آگے سے وار کر جیسے میں کرنے لگی ہوں۔۔ایشال سپاٹ لہجے میں کہتی اپنی ٹانگ کو آگے کرکے اُس کی ٹانگ میں اُلجھاکر نیچے گِرایا تھا پھر اُس کو سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے بنا ہاتھ سے وہ بوتل کھینچ کر ساجد کے بازوں پر گھونپی تھی۔”ساجد کے منہ سے دلخراش چیخ نکلی تھی۔”جس پر ایشال نے ایک جھٹکے سے اُس کو چھوڑ کر اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“کول۔۔اپنے کان میں انگلی ٹھونستا آتش آگے بڑھ کر ایشال کے ہاتھ سے وہ بوتل لی تھی جس میں ساجد کا خون لگا ہوا تھا۔۔”ایک نفرت بھری نگاہ نیچے کراہتے ساجد کو دیکھ کر پھر دوسری چٹنی نظر آتش پر ڈالے ایشال وہاں سے ایسے واک آؤٹ کرگئ۔۔”جیسے اُس نے کچھ کیا ہی نہ ہو
