Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 36)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“ہم نے کچھ نہیں کیا تو تم نے کیا اُکھاڑ لیا ہے ابھی تک؟”سکندر اُس کو دیکھ کر طنز آواز میں بولا

“فالو می۔۔”رایان اُن کو اپنے پیچھے آنے کا اِشارہ کرتا سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا

“اِس کے زیادہ پٙر نہیں نکل آئے؟”سکندر رایان کی پشت کو گھورتا زوہان سے بولا

“ڈونٹ نو۔۔”ابھی چلو نیچے۔۔”زوہان نے شانے اُچکاکر کہا تو سکندر اُس کے ساتھ ہال میں آیا۔۔”جہاں سب بڑے بھی موجود تھے

“مان یہ لڑکی کون ہے؟”یہ سوال سب سے پہلے کرنے والی میشا تھی

“خالہ یہ میری فرینڈ ہے۔۔المان نے بتایا

“ہیلو میرا نام جینیفر ہے۔۔”اور میں لندن سے یہاں مانی سے ملنے آئی ہوں۔۔”جینی نے مسکراکر کہا

“مانی؟”رایان کی سوئی تو ایک بات پر اٹک سی گئ

“اِتنی دور سے آکر ملنے کی کوئی خاص وجہ؟”میشا نے سنجیدگی سے اگلا سوال کیا تو وہ خاموش سی المان کو دیکھنے لگی

“ہمارے کچھ ڈاکیومینٹس اِن کے پاس تھے۔۔”تو یہ بس وہی دینے آئی ہیں۔۔”المان نے سنجیدگی سے بتایا

“بیٹا آپ آؤ بیٹھو۔۔”فاحا کو خیال آیا تو جلدی سے کہا

“نو آنٹی تھینکس میں ضروری کام سے جانے والی تھی۔۔”سوچا پہلے مانی کو اُس کی امانت واپس کرتی ہوئی جاؤں۔۔”جینی نے مسکراکر کہا

“میں آپ کو گیٹ تک چھوڑ آتا ہوں۔۔”المان نے کہا

“شیور۔۔”وہ جواباً مسکراکر بولی تو المان اُس کو لیئے حویلی سے باہر آیا تھا۔۔”لان میں پہنچے تو جینی نے اُس سے کہا

“سوری مجھے یوں تمہاری حویلی نہیں آنا چاہیے تھا۔۔”سب لوگ جیسے تمہیں دیکھ رہے تھے۔۔”مجھے محسوس ہوا جیسے میں نے غلطی کردی۔۔”

“ایسی کوئی بات نہیں۔۔”بس ہم سالوں بعد آئے ہیں تو اُن سب کے دماغ میں طرح طرح کے سوالات ہیں۔۔”المان نے سنجیدگی سے بتایا

“تو تمہیں چاہیے کہ مل بیٹھ کر اُن کے سوالوں کا جواب دو۔۔”جینی نے اُس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر رسانیت سے کہا تبھی گیٹ کا دروازہ کھلا تھا اور گاڑی اندر داخل ہوئی تھی۔۔”جس پر اُن دونوں کا دھیان اُن کی طرف گیا۔۔”گاڑی سے وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ میں ملبوس لڑکی کو اُترتا دیکھ کر المان کو اُچنبھا ہوا تھا۔۔”جس کے بال کُھلے ہوئے تھے اور اُپر چشما لگایا ہوا تھا۔۔”اور وہ پُراعتماد انداز میں اُن کی طرف سے آنے لگی تھی۔۔

“یہ کون ہے؟”سامنے سے آتی لڑکی کو دیکھ کر جینی نے ستائش لہجے میں اُس سے پوچھا۔۔”جس پر المان نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔”وہ بس یک ٹک اُس کو دیکھ رہا تھا جو عین اُس کے روبرو آتی چشمے کو آنکھوں پر چڑھائے اُس کی سائیڈ سے ایسے گُزری تھی جیسے اُس کو یا اُس کے ساتھ کھڑی جینی کو دیکھا ہی نہ ہو

“یہ مس اٹیٹیوڈ کون تھی؟”جینی کو اُس کا یوں بغیر سلام کیے جانا حیران کرگیا تھا

“آپ کی گاڑی کہاں ہیں؟”المان نے خوبصورت طریقے سے اُس کی بات کو گُھمادیا تھا

“وہ میں اندر نہیں لائی تھی۔۔”جینی نے بتایا تو وہ محض سراثبات میں ہلا پایا تھا۔۔

“جینی کو گاڑی تک چھوڑ آنے کے بعد وہ حویلی میں داخل ہوا تو سب سے پہلے اُس پر نظر گئ۔۔”حو فاحا اور میشا کے درمیان بیٹھی اُن کی کسی بات کا جواب دے رہی تھی۔

“ایسے کیوں دیکھ رہے ہو اُس کو؟”رایان المان کے پاس آتا اُس کی نظروں کا تعاقب کیے بولا

“عیشا کا حجاب کہاں گیا؟”المان نے جو اُس کی بات پر پوچھا اُس پر وہ چونک کر عیشا کو دیکھنے لگا۔۔”جو ویسٹرن لباس میں تھی۔

“حجاب؟”وہ آہستگی سے بڑبڑایا

“ہاں حجاب وہ تو بغیر حجاب کے باہر آتی جاتی نہ تھی۔۔”اور گھر میں بھی حجاب نہ بھی ہو تو ڈوپٹہ اُس کے پاس لازمی ہوتا تھا تو اب وہ سب کہاں ہیں؟”ایسی ڈریسنگ تو اُس کو خالا نے بچپن میں بھی کرنے نہ دی تھی کہ کہی اُس کو ایسے لباس کی عادت نہ ہوجائے۔۔”ہمیشہ وہ ٹریڈیشنل حلیے میں ہوتی تھی۔۔”المان کافی اُلجھن آمیز لہجے میں بولا تو رایان خاموش رہا۔۔”اُس کے پاس کوئی جواب جو نہ تھا۔۔”وہ تو خود اِنجان تھا کہ عیشا میں اِتنا بدلاؤ آیا کیسے؟”اور میشا آریان نے اُس میں وہ بدلاؤ آنے دیا کیسے؟

“ڈونٹ نو۔۔رایان گہری خاموشی کے بعد بس یہی بول پایا تو المان نے چونک کر اُس کو دیکھا

“ہمارے جانے کے بعد کچھ ہوا تھا کیا؟المان نے بغور اُس کے تاثرات کو جانچ کر پوچھا تو رایان نے مختصر لفظوں میں اُس کو سارا کچھ بتادیا تو المان خاموش ہوگیا تھا

“اچھا ہوا تم آگئ۔۔”ورنہ فاحا کو لگتا کہ تم ناراض ہوگئ ہو۔۔”فاحا مسکراکر عیشا کو دیکھ کر بولی

“خالہ کو ضروری کام سے باہر جانا پڑگیا۔۔”اُن کا جو کیس ہے۔۔”اُس میں وہ بزی رہتیں ہیں۔۔”تو میں نے سوچا میں بھی آجاتی ہوں۔۔”عیشا جواباً مسکراکر بولی

“اچھا کیا۔۔”میشا اُس کو اپنے ساتھ لگائے بولی تو یہ منظر “المان کو ہضم نہ ہوا تھا۔۔”ماں بیٹی میں تو اُس نے بس توں توں میں میں ہوتا دیکھی تھی۔۔”اور اب ایسا پیار دیکھ کر وہ اُس کو لگا کہ واقعی وقت اب پہلے جیسے نہ رہا تھا۔۔”میشا جیسی اپنی سُلجھی ہوئی طبیعت کی بیٹی چاہتی تھی۔۔”اُس کو ویسی بیٹی مل گئ تھی۔۔”تو اب وہ کیوں نہ اُس پر پیار نچھاور کرتی۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“چند دن بعد۔۔۔

“آتش گھر واپس لوٹا تو ہمیشہ کی طرح گہری خاموشی نے اُس کا استقبال کیا تھا۔۔”وہ اپنی چیزیں ملازم کو دے کر کمرے میں رکھ آنے کا کہتا خود کسی سے کال پر بات کرنے لگا تھا۔۔”بیس منٹ بعد کال سے فارغ ہوتا وہ اپنے کمرے میں آیا تو ملازم نے بیڈ پر استری شدہ شلوار قمیض اُس کے لیے رکھے ہوئے تھے۔۔

“یہ ہٹاؤ آج میں کلب جانے والا ہوں۔۔”تو ایسی ڈریسنگ نہیں کرسکتا۔۔”کمرے میں موجود صوفے پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بیٹھتا آتش مصروف لہجے میں اُس سے بولا جس کا نام حسن تھا

“آتش بابا وہ کپڑے سارے تو چھوٹی بیگم صاحبہ نے باہر پھینک نے کا بولا تھا۔۔”حسن نے بتایا تو پل بھر میں اُس کی پیشانی شکن آلود ہوئی تھی

“کون بیگم صاحبہ؟”اور یہاں کس میں اِتنی جُرئت آگئ کہ میری غیرموجودگی میں میری چیزوں سے چھیڑ چھاڑ کرے وہ۔۔۔”اپنی جگہ سے اُٹھتا وہ غُصلے لہجے میں بولا

“معذرت آتش بابا لیکن وہ آپ کی بیوی تھی تو میں نے سوچا آپ نے اُن سے کہا ہوگا۔۔”حسن ڈر کر بولا

“کون بیوی؟”آتش کے سر پر سے گُزری تھی اُس کی بات

“آپ کی بیوی جس کو آپ بیاہ کر لائے تھے۔۔”حسن نے اُس کو دیکھ کر کہا آتش کو چونک پڑا

“بیوی؟”وہ زیر لب بڑبڑایا

“ارے ہاں میری شادی ہوچکی ہے نہ۔۔”آتش اپنی عقل پر ماتم کرتا بولا۔۔”وہ تو سِرے سے بھول گیا تھا کہ اُس کی اب ایک عدد بیوی بھی ہے۔

“آپ اپنی شادی کا بھول گئے؟”حسن کو جیسے یقین نہ آیا۔۔”سامنے کھڑا وہ پہلی بار ایسے شخص کو دیکھ رہا تھا جس کو یہ تک یاد نہ تھا کہ اُس کی شادی ہوچکی ہے۔۔”شادی بھی وہ جو اُس نے اپنی مرضی سے کی تھی

“زیادہ مت بولو۔۔”یہ بتاؤ وہ کہاں ہے؟”آتش اُس کو گھور کر بولا

“وہ کون؟”حسن ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا

“میری بیوی اور کون؟”آتش نے پوچھا کیونکہ کمرے میں تو اُس کو نظر نہ آئی تھی۔

“جی وہ کچھ دِن پہلے یہاں سے اپنے میکے چلی گئ تھی۔۔”حسن نے بتایا

“کیا مطلب میکے چلی گئ؟”کیا وہاں سے کوئی آیا تھا؟”اور وہ کس کی اجازت سے گئ؟”آتش کا پارہ ہائے ہوا تھا

“اجازت وہ کس سے لیتی؟”یہاں تو کوئی نہیں تھا۔۔”ایشال بی بی تین دِنوں سے گھر نہیں آئیں۔۔”شاید وہ تنہائی سے اکتاگئ ہو۔۔ “کیونکہ نئ نویلی دولہن کو کوئی اکیلا تو نہیں چھوڑتا۔۔”حسن کچھ زیادہ ہی بول گیا۔۔”جبکہ آتش کو احساس ہوا کہ وہ شادی کے اگلے دن چلاگیا تھا اور اب واپس دس دن بعد آیا تھا۔۔”اِس بیچ اُس نے نہ تو اپنی بیوی کو کال میسج کیا تھا اور نہ کسی اور سے اُس کا حال دریافت کیا تھا۔۔”آجکل کاموں میں وہ کچھ زیادہ مصروف تھا۔۔”کاموں میں اِس قدر اُلجھا ہوا تھا کہ اُس کو یہ تک یاد نہ رہا تھا کہ وہ اپنے گھر اپنے نام پر کسی کو لایا ہے۔۔”جس کی زمیداری اب اُس پر تھی

“نیچے کمرے میں جو میرا وارڈروب ہے وہاں سے میرے کپڑے نکال کر یہاں لاؤ۔۔”اور کُک سے کھانا لگانے کا بھی کہو۔۔”سرجھٹک کر آتش نے اُس سے کہا تو وہ سر کو جنبش دیتا کمرے سے باہر نکل گیا۔

“میں اب اُس سے رابطہ کیسے کروں؟”میں تو اُس کا نام تک بھول گیا ہوں۔۔”اللہ اِتنا عجیب نام تھا اب کیسے یاد رہے گا مجھے۔۔”آتش یہاں سے وہاں ٹہلتا اپنی آئبرو انگھوٹے سے مسل کر بڑبڑایا

“سُسر جی کو کال کرتا ہوں۔۔”آتش کو اچانک “اسیر کا خیال آیا تو سیل فون ہاتھ میں لیتا وہ اُس کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔۔”جو تیسری بیل پر ریسیو ہوا تھا

السلام علیکم ۔۔”آتش نے سلام کیا

وعلیکم السلام آتش کیسے ہو؟”اسیر نے سلام کا جواب دینے کے بعد پوچھا

“میں ٹھیک ہوں انکل۔۔”وہ اُس کا پوچھنا تھا۔۔”اُس سے بات کروائے میری۔۔”آتش آنکھیں میچ کر بولا

“اقدس کی بات کررہے ہو؟”اسیر نے چونک کر پوچھا

“جی جی اقدس کی بات کررہا ہوں۔۔”وہ بہت دِنوں سے آپ کی طرف ہے تو اُس کو اب واپس آجانا چاہیے یہاں۔۔”آتش سکون بھرا سانس خارج کرتا بولا

“اقدس کو آئے ابھی چار دن ہوئے ہیں۔۔”اور اُس نے بتایا تھا کہ تم نے اُس سے کہا تھا کہ وہ چاہے تو ایک ماہ تک یہاں رہ سکتی ہے۔۔”تمہیں کوئی ضروری کام تھا۔۔”اسیر نے کہا تو”اقدس کے ایسے جھوٹ پر وہ دانت کچکچاتا رہ گیا

“جی کام تھا لیکن وہ اب ختم ہوگیا ہے تو میں ڈرائیور بھیجوں گا۔۔”آپ اُس کو کہیے گا کہ تیاری ہوجائے۔۔”آتش نے سنجیدگی سے کہا

“اقدس ڈرائیور کی نہیں تمہاری زمیداری ہے۔۔”تمہیں اُس کو لینے آنا چاہیے۔۔”اسیر بھی جواباً سنجیدگی سے بولا

“جی میں جانتا ہوں۔۔”وہ میری ذمیداری ہے۔۔”پر میں بار بار گاؤں نہیں آسکتا۔۔”مجھے سؤ کام ہوتے ہیں۔۔”آتش اُس کی بات پر گہری سانس بھر کر بولا

“ڈرائیور کو بھیجنے کی ضرورت نہیں۔۔”ہم اُس کو مان کے ساتھ بھیج دینگے۔۔”اسیر اُس کی بات پر سنجیدگی سے بول کر کال کاٹ گیا۔۔”دوسری طرف آتش گہری سوچ میں ڈوب چُکا تھا

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“آپ خالہ یا خالو اُن دونوں میں سے کسی سے بھی رُخصتی کی بات نہیں کرے گی۔۔”عیشا نے سنجیدگی سے میشا کو دیکھ کر کہا جو آریان کے ساتھ بیٹھی آگے مراحل ڈسکس کررہی تھی۔۔”اور وہ یہ تھا کہ عیشا کی رُخصتی ہوجانی چاہیے۔

“تمہاری خیر سے اب شادی کی عمر ہے۔۔”اور اب اگر مان آگیا ہے تو دیر کس بات کی؟”نکاح ہوگیا ہے تو اب رُخصتی میں کیا مسئلہ ہے؟”میشا نے اُس کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا

“ڈیڈ آپ موم کو بتائے کہ نکاح کے وقت میں بولا تھا کہ رُخصتی میری مرضی سے ہوگی۔۔”عیشا سنجیدگی سے آریان کو دیکھ کر بولی

“بلکل وہ تمہاری مرضی سے ہوگی۔۔”اگر تم نہیں چاہتی تو نہیں ہوگی۔۔”آریان اُس کی بات کے جواب میں بولا

“آریان بجائے تم اِس کو سمجھانے کہ اُس کا ساتھ دے رہے ہو۔۔”میشا کو حیرت ہوئی

“زندگی خوشی نے گُزارنی ہے۔۔”تمہارے کہنے پر نکاح پر راضی ہوگیا تھا۔۔”لیکن اب میں نہیں چاہوں گا کہ خوشی کی رضامندی کے بغیر کوئی کام ہو۔۔”آریان نے اُس کو دیکھ کر کہا

“شکریہ ڈیڈ مجھے سمجھنے کے لیے۔۔”ویسے بھی جو میری طرف دیکھتا نہیں۔۔”جس کو میری کوئی پرواہ نہیں میں اُس کے ساتھ اپنی پوری لائیف کیسے گُزار سکتی ہو؟”سوری موم ڈیڈ لیکن جس انسان میں فیملی ویلیوز نہیں اُس انسان کی میری نزدیک کوئی ویلیو نہیں ہے۔۔”عیشا کا لہجہ دو ٹوک تھا

“تم جذباتی ہورہی ہو۔۔”مان کی کسی بات کا تم اثر نہ لو۔۔”وہ ایسا ری ایکٹ ہر ایک کے ساتھ کررہا ہے۔۔”میشا نے نرمی سے کہا

“مجھے جو کہنا تھا وہ میں بول چُکی ہوں۔۔”عیشا سنجیدگی سے کہتی وہاں سے چلی گئ۔۔

“آریان تمہیں اُس کا ساتھ دینا نہیں چاہیے تھا۔۔”جیجو زوریز کی سائیڈ کم ہوتی ہے۔۔”میشا عیشا کے جانے کے بعد بولی

“رُخصتی تب ہوگی۔۔”جب مان خود آئے گا یہ بات کرنے۔۔”آریان نے سنجیدگی سے جواباً کہا

“یہ فیصلہ ہمیں لینا ہے۔۔”میشا کو اُس کی بات عجیب لگی

“ہم نے فیصلہ لیا تھا۔۔”نتیجہ سامنے ہے۔۔”ہماری خوشی کی خوشی جانے کہاں گُم ہوگئ ہے۔۔”مان کے یوں جانے سے اگر کسی کا نقصان ہوا ہے تو وہ ہماری خوشی کا ہوا ہے۔۔”اُس کو یہی لگتا ہے کہ ہم پر وہ بوجھ تھی۔۔”اور ہم نے اُس کو کسی اور کے سر مسلط کردیا۔۔”آریان نے کہا تو عیشا خاموش ہوگئ تھی۔۔”اُس کو آریان کی باتیں سہی لگ رہی تھیں

“میں فاحا سے بات کروں گی۔۔”میشا نے کچھ سوچ کر کہا

“ہونہہ اور مان سے پوچھنا کہ اِتنے سال وہ کہاں غائب تھا۔۔”آریان نے کہا تو اُس نے اپنا سراثبات میں ہلایا

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“سوری۔۔۔”خوریہ آج گروسری کرنے مارکیٹ آئی تھی۔۔”جہاں ایک انسان سے اُس کا تصادم ہوا تو جلدی سے اُس نے معذرت کی

“خوریہ۔۔

“جانی پہچانی آواز پر اُس نے چونک کر سامنے دیکھا پھر حیران رہ گئ۔۔

“تم؟”عفان کو اِتنے سال بعد دیکھ کر وہ ششدر رہ گئ تھی۔۔”جو ویسا ہی تھا جیسے چھ سال پہلے تھا۔۔”بس ایک چیز کا اضافہ ہوگیا تھا اور وہ تھا آنکھوں پر نظر کا چشمہ

“آپ یہاں ہیں؟”آپ کو اندازہ ہے میں نے آپ کو اِن سالوں میں کتنا تلاش کیا۔۔”عفان کو خوشگوار حیرت ہوئی

“تم نے مجھے تلاش کرنے کی کوشش کیوں کی؟”خیر ہٹو یہاں سے۔۔”خوریہ نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا

“خوریہ آپ پلیز میری بات تو سنیں۔۔”اُس کو جاتا دیکھ کر عفان جلدی سے اُس کے راستے میں حائل ہوا

“عفان دیکھو ہم نے پُرانے سارے تعلقات کو بھلاکر یہاں موو آن کیا ہے۔۔”تو مہربانی ہوگی جو تم ہمارے سامنے نہ آؤ۔۔”خوریہ اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولی

“پُرانے تعلقات کو آپ نے ختم کرلیا۔۔”لیکن مجھ سے نہیں کرسکتیں۔۔”عفان نے سنجیدگی سے کہا تو وہ الرٹ ہوئی

“مطلب کیا ہے تمہارا؟”خوریہ انجان بنی

“مطلب مجھے آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں۔۔”آپ کو پتا ہے کہ آپ میرے نکاح میں ہیں۔۔”عفان نے اُس کو دیکھ کر کہا

“اوووو اچھا واقعی؟؟؟

“یعنی چھ سال بعد فائنلی تمہیں یاد آگیا کہ تمہاری ایک بیوی بھی ہے۔۔”بائے دا وے تم وہی ہو نہ جس نے ضرورت کے وقت آنکھیں ماتھے پر رکھ دی تھیں۔۔”جو دھمکی دے گیا تھا کہ طلاق کے کاغذات بھجوائے گا تو ایسا کرو جو پہلے نہیں کرپائے۔۔”وہ اب کردو۔۔”ابھی اِس وقت مجھے طلاق دو۔”تاکہ یہ پھندا میرے گلے سے ہٹ جائے۔۔”خوریہ اُس کو دیکھ کر طنز انداز میں بولی تو عفان کو اُس کی بات پر شاک لگا تھا۔۔”اُس کو خوریہ سے ایسی کسی بات کی اُمید نہ تھی

“آپ جذباتی بن کر کوئی فیصلہ نہ لے۔”میں جانتا ہوں۔۔”میں نے جو کیا تھا وہ سہی نہیں تھا۔۔”لیکن اُس وقت میں خود کشمکش میں مبتلا تھا۔۔”میرا دماغ ماؤف ہوچکا تھا۔۔”لیکن ٹرسٹ می اگلے دن میں آیا تھا۔”پر آپ وہاں نہ تھی۔۔”عفان نے اُس کو یقین کروانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا

“دیکھو عفان مجھے تمہاری کسی بھی قسم صفائی دینے پر کوئی انٹرسٹ نہیں۔۔”خوریہ نے بے لچک انداز میں کہا

“آپ کہاں رہتیں ہیں؟”مجھے ایڈریس دے آنٹی کے سامنے بات ہوگی۔۔”عفان نے اُس کو دیکھ کر کہا

“امی کے سامنے کوئی بات نہ ہوگی۔۔”اور نہ تم اُن سے ملو گے۔۔”ہم سب اپنی زندگی میں بہت خوش ہیں۔۔”بہتر ہوگا جو تم اپنی بیوی بچوں کے ساتھ خوش رہو۔ “خوریہ کی بات پر عفان بس اُس کو دیکھتا رہ گیا

“کونسی بیوی؟”کس کے بچے؟”عفان نے پوچھا

“تمہاری بیوی اور تمہارے بچے۔۔”ظاہر سی بات ہے اب اِن چھ سالوں میں تم نے میرا انتظار تو کرتے نہیں ہوگے۔۔”خوریہ پھر سے طنز انداز میں گویا ہوئی

“میرا نکاح بس ایک بار ہوا ہے۔۔”اور وہ بھی آپ سے۔۔”عفان نے بتایا تو اِس بار حیران ہونے کی باری خوریہ کی تھی

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“مان آپ ہمیں ساری حقیقت سے آگاہ کیوں نہیں کرتے؟”اقدس پریشان کُن لہجے میں مان کو دیکھ کر بولی۔۔۔”جو اُس کی گود میں سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا

“آپو پلیز ہمیں کُریدنے کی کوشش نہ کرے۔۔”مان نے ضبط سے کہا

“آپ کو پتا ہے۔۔”ہم کتنا پریشان تھے۔۔”کس قدر بُرے بُرے وسوسے ہمیں گھیرے ہوئے تھے۔۔”اماں سائیں بابا سائیں ماہی۔۔”یہ سب ہنسنا تک بھول گئے تھے۔۔”اقدس نے اُس کو دیکھ کر کہا وہ جان نہ پائی کہ المان ابھی تک خاموش کیوں تھا؟

“ہم واپس آگئے ہیں نہ۔۔”المان نے جیسے بات ختم کی

“آگئے ہو۔۔”لیکن پہلے جیسا آپ میں کچھ بھی نہیں۔”ہم آپ کی بڑی بہن ہیں۔۔”جو آپ کسی اور کو نہیں بتاسکتے وہ ہمیں بغیر کسی ہچکچاہٹ سے بتائیں۔۔”اقدس نے سنجیدگی سے کہا

“چھ سالوں کے بعد آپ کو کیا لگتا ہے کہ ساری چیزیں پہلے جیسی ہوگی؟”المان نے پوچھا

“ہمیں بس یہ جاننا ہے کہ ایسی کیا بات تھی جو لاپتہ تھے۔۔”اور کہاں؟”کیسے تھے؟لندن میں بابا سائیں کو آپ نہ ملے تھے۔۔”وہ مایوس ہوکر واپس لوٹ آئے تھے۔۔اقدس اپنی جگہ بضد تھی۔۔”جس پر جبڑے بھینچ کر المان اُس کی گود سے سراُٹھاتا اُس کو دیکھنے لگا۔۔”جس کے چہرے پر بڑی بہنوں والی فکر تھی۔

“آپ واقعی میں جاننا چاہتی ہیں؟”کیا حوصلہ ہے آپ میں؟”المان نے پوچھا

“ہاں آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں؟”اقدس کو سمجھ میں نہیں آیا کچھ

“اگر واقعی میں آپ جاننا چاہتی ہیں تو ہم آپ کو بتادیتے ہیں۔۔”المان سنجیدگی سے کہتا بیڈ سے اُٹھ کھڑا ہوا اور وائٹ گول گلے والی شرٹ جو اُس نے پہنے ہوئی تھی۔۔”اُس کو اُتارے ْاقدس کی طرف پیٹھ کیے کھڑا ہوا تھا۔۔”وہ جو ناسمجھی سے اُس کی حرکت دیکھ رہی تھی۔۔”اُس کی پیٹھ پر جلے اور کاٹنے کے ساتھ عجیب قسم کے نشانات دیکھ کر اُس کے منہ سے چیخ نکلتی نکلتی رہ گئ تھی۔۔”وہ ساکت پتلیوں کے ساتھ المان کو دیکھنے لگی جس کے جسم پر نیل کے نشان تھے۔۔”اُس کو کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا تھا۔۔”لیکن جو خیالات اُس کے دماغ میں آرہے تھے۔۔”وہ اُن کی نفی کرنا چاہتی تھی۔

“مم م مان۔۔”اُس کے گلے سے پھسی پھسی سی آواز نکلی۔۔”گلے میں جیسے آنسوؤ کا پھندا اٹک گیا تھا

“بچپن سے آپ لوگ خوش ہوتے تھے کہ ہمارا مان شہزادے کی طرح دِکھتا ہے۔۔”وہ اسیر ملک کا عکس ہے۔۔”خوبصورتی اور وجاہت میں المان ملک کو کوئی مات نہیں دے سکتا تھا۔۔”تو سُن لے یہ ہماری اِس وجاہت نے ہم سے ہمارا سب کچھ چھین لیا۔۔”وہاں ہمارے ساتھ وہ ہوا جو یہاں پاکستان میں کم سن لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔۔”اور پتا ہے ایسا جان کر کروانے والا کون تھا؟”المان اُس کی طرف رُخ کرتا بولتا گیا تو اقدس آنسو بہاتی بس اُس کو سُنتی گئ۔۔”اُس کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔”وہ بس المان کو دیکھنے لگی جس کا چہرہ اُس کے اندر کا حال بیان کررہا تھا

“ککک کون؟”اقدس کے منہ سے بڑی مشکل سے یہ الفاظ نکلے

“بابا سائیں کی سابقہ بیوی اور آپ کی سگی ماں نے۔۔”بابا سائیں سے بدلا لینے کے لیے ہمیں چوز کیا۔۔”آپ اُن کے پاس نہ گئ۔۔”وہ سزا اُس نے مجھے دی۔۔”کیونکہ میں اُن کے آگے جُھکا نہیں تھا۔۔”بھوک میں نوالا کھانے کے لیے اُن کو منتیں نہ کی تھیں۔۔”اُن کے دباؤ پر اپنا مذہب نہ چھوڑا تھا۔۔”آپ بتائے ہم کیسے کسی اور کے آگے جُھکتے؟”ہمارا سر بھی ایک ہے اور ہمارا رب بھی ایک ہے۔۔”وہ عورت بہت خطرناک بن گئ ہے۔۔”المان نے جو اب کہا اُس پر اقدس کو لگا جیسے کسی نے اُس کے قدموں تلے زمین کھسک لی تھی۔۔”یہ المان کیا کہہ رہا تھا؟”یعنی اُس کی زندگی میں اِتنا کچھ ہوگیا تھا اور یہاں کسی کو کچھ پتا نہیں تھا۔۔”وہ عیش بھری زندگی گُزار رہے تھے جبکہ المان نے اکیلے تکلیفوں کا سامنا کیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *