Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 07)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“موم گاؤں کے لوگ یہاں کب آئے گے؟سات سالہ زوہان کھانا پکاتی سوہان کے آگے پیچھے گھومتا اُس سے سوال کرنے لگا”آج اُتوار تھا اور ہمیشہ اُتوار کے دن یا تو وہ گاؤں جایا کرتے تھے یا پھر اسیر اپنی بیوی بچوں سمیت شہر آتا تھا یا پھر فاحا کو چھوڑ کر خود اپنے کاموں میں لگ جاتا تھا وہ زیادہ دیر تک دُرانی ہاؤس ٹِکتا نہیں تھا”البتہ فاحا اپنے تینوں بچوں کے ساتھ وہاں شام تک رہا کرتی تھی کیونکہ اُن سارے بچوں کی آپس میں بہت بنتی تھی۔

“ہانی بیٹا صبر کرو وہ آنے والے ہیں آپ جاکر مامی کے پاس بیٹھو سکندر بھی تو آپ کا دوست ہے نہ”اُس کے پاس جاؤ رایان اور عیشا بھی وہاں ہیں۔۔۔سوہان نے نرمی سے اُس کو سمجھانے کی خاطر کہا جو صبح سے جانے کتنی بار ایک سوال پوچھ چُکا تھا۔۔

“ہاں پر مجھے پہلے اقدس آپو سے ملنا ہے۔۔۔زوہان نے بتایا تو سوہان مسکرائی تھی”باقی سارے کزنز سے زیادہ زوہان کی اٹیچمنٹ اقدس سے زیادہ ہوتی تھی اور وہ جانتی تھی اُس کو فاحا یا المان میں سے کسی کا زیادہ انتظار نہیں تھا اگر انتظار تھا تو وہ اقدس کا تھا۔

“ہانی آجاؤ المان پہنچ گیا ہے۔۔۔رایان نے کچن میں داخل ہوکر پرجوش لہجے میں اُس کو بتایا تو زوہان بھی اُس کے پیچھے لپکا تھا اور اُن دونوں کی تیزی دیکھ کر سوہان اپنا سر نفی میں ہلاتی کام میں لگ گئ۔۔۔

“سوہان آپو کہاں ہیں؟فاحا میشا سے ملتی سوہان کا پوچھنے لگی

“وہ آج کچن میں ہے تمہیں تو پتا ہے اُتوار کے دن کچن اُس کے ذمے ہوتا ہے۔۔۔میشا نے بتایا

“وہ اکیلی ہیں آپ کو اُن کی مدد کرنا چاہیے تھی۔۔۔فاحا نے افسوس سے اُس کو دیکھا جس میں ہلکا سا بھی بدلاؤ نہیں آیا تھا

“میرے اِن ہاتھوں میں اسلحے اچھے لگتے ہیں ٹماٹر آلو چُھڑی نہیں۔۔میشا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“اچھا میں اُن کے پاس جارہی ہوں۔۔۔فاحا اپنا حجاب ڈھیلا کرتی اُس سے بولی

“ہاں اور واپسی پر آلو کی چپس لانا بہت بھوک لگی ہے۔۔میشا نے فرمائشی انداز میں کہا

“میں یہاں مہمان ہوں اور آپ مجھ سے کام کروا رہی ہیں۔۔فاحا نے پلٹ کر تاسف سے اُس کو دیکھا

“مہمان کیوں ہو اپنا ہی گھر سمجھو شاباش میرا بچہ اب جاؤ کچن کا رستہ تو معلوم ہے نہ۔۔میشا نے کسی بچے کی طرح اُس کو پچکارا

“دو بچوں کی ماں ہیں پر لگتا ہی نہیں۔۔فاحا سرجھٹک کر بولی

“بس اللہ کا کرم ہے جو مجھے دیکھ کر ہر ایک کو لگتا ہے جیسے وقت چھو کر بھی نہیں گُزرا دوسرا میں خود کو ہر طرح سے مینٹین بھی رکھتی ہوں اور اپنی ڈائیٹ کا بھی پروپری خیال رکھتی ہوں ایسا نہیں کہ جو ہاتھ میں آیا اُس کو کھالیا۔۔میشا اُس کی بات کا الگ مطلب نکالتی اپنی شان میں بڑھ چڑھ کر بولنے لگی تو فاحا اپنا سر پیٹتی کچن کے راستے چل دی۔

💮

“زوریز اور سوہان کا ایک ہی بیٹا تھا “زوہان جو زوریز کی کاربان کاپی تھا “”جبکہ اسیر اور فاحا کے اقدس کے علاوہ دو بچے اور تھے فاحا کا پہلا بچہ بیٹا ہوا تھا”جس کا نام فاحا نے المان رکھا تھا اور وہ بس زوہان سے ایک دن چھوٹا تھا جبکہ دوسری بیٹی کی پیدائش پر اُس کا نام اسیر نے فاحا سے ملتا جُلتا ماہا رکھا تھا۔۔”سوہان کی پریگنسی کے کچھ ماہ بعد میشا اور لالی کی طرف بھی خوشخبری ہوئی تھی۔۔”میشا نے ٹوئنز بچوں کو جنم دیا تھا جو اپنے ماں باپ سے دو ہاتھ آگے تھے۔۔”آریان نے اپنے بیٹے کا نام خود کے نام سے ملتا جُلتا رایان رکھا تھا تو میشا نے اپنی بیٹی کا اپنے نام سے ملتا جُلتا عیشا رکھا تھا”پھر عاشر اور لالی کا بھی ایک بیٹا تھا جس کا نام سکندر تھا۔اگر بات کی جائے اُن کے مزاج کی تو زوہان مزاج میں رایان اور سکندر کے برعکس تھا”رایان شرارتی سا تھا لیکن زوہان کھیل کود کم کرتا تھا”رایان کو بولنے کا شوق تھا لیکن عیشا اور رایان ساتھ میں سکندر کی موجودگی میں بھی زوہان پر اُن تینوں کی صحبت کا اثر نہیں ہوتا تھا۔۔”اُس کا لگاؤ اپنے سبھی کزنز سے تھا پر زیادہ وقت بیٹھنا پسند وہ اقدس کے ساتھ کرتا تھا”کیونکہ بڑی ہونے کی وجہ سے وہ سب کا بہت خیال رکھتی تھی”زوہان کا زیادہ کیونکہ وہ اُس کی ہر بات کو مانتا تھا المان یا رایان کی طرح بحث نہیں کرتا تھا’باقی عیشا اور سکندر تو اُس کو زچ کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑتے تھے۔۔

💮

“میں آپ کا بہت انتظار کررہا تھا۔۔زوہان نے اقدس کو دیکھ کر بتایا

“ہماری گاڑی راستے میں خراب ہوگئ تھی اِس لیے لیٹ ہوگئے ہم۔۔۔اقدس نے جیسے اُس کو اپنے دیر آنے کی وجہ بتائی

“ہاں سہی۔۔۔زوہان نے سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دی

“آپو

“ماہا کے رونے کی آواز پر اقدس نے چونک کر ماہا کو دیکھا جس کے ہاتھ میں سات سالہ سکندر کے بال تھے اور عموماً چیخنا سکندر کو چاہیے تھا پر رو ماہا رہی تھی۔

“ماہی بال چھوڑو سکندر کے۔۔۔”اقدس بھاگ کر ماہا کے پاس آئی تھی

“جب بنتی نہیں آپس میں تو ساتھ بیٹھتے کیوں ہیں یہ؟زوہان چہرے پر ناپسندیدگی کے تاثرات سجائے بولا

“ماہی چھوڑو سکی کو گنجا کرنا ہے کیا۔۔المان بھی میدان میں اُترا تھا

“ماہی چھوڑنا نہیں میدان مار کر آنا عیشو تمہارے ساتھ ہے۔۔”سات سالہ عیشا نے جب ماہی کو جوش وخروش میں دیکھا تو اُس کے نام کا نعرہ لگانے لگی وہ الگ بات تھی کہ ماہا کو فی الوقت کسی بھی بات کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔

“عیشو بُری بات ہے۔۔۔اقدس نے تاسف سے اُس کو دیکھا

“اِس نے ماہا کی چاکلیٹ کھائی۔۔ماہا روتی ہوئی اقدس کو بتانے لگی

“ہاں تو کیا ہوا ایک کھائی تو تمہاری کیا جائی پیٹو نہ ہو تو۔۔سات سالہ سکندر اُس کی گرفت سے اپنے بال آزاد کرواتا ہوا اُس کو گھورنے لگا

“ہماری چاکلیٹ۔۔اِتنا کہتی ماہا بھاں بھاں کرتی رونا شروع ہوگئ تھی۔

“سکندر اگر آپ کو چاکلیٹ چاہیے تھی تو ہم سے مانگتے یوں ماہا سے کیوں چھینا۔۔۔اقدس پریشان سی ماہا کو دیکھ کر سکندر سے بولی

“مجھے اِس کی چاکلیٹ چاہیے تھی کیونکہ یہ میری چیزیں اکثر کھا جاتی ہے۔۔۔سکندر اپنے بال سنوارتا ہوا بولا

“تم کسی کو اپنا جھوٹا پانی نہ دو اور الزام لگا رہے ہو اِس معصوم ننہی کلی پر۔۔۔رایان نے ایسے کہا جیسے خود وہ کوئی بڑا بزرگ ہو

“ہاں تو میرا پانی میری مرضی اور تم میرے فرینڈ ہو یا اِس ماہی کے۔۔سکندر رایان کو اِس بار گھورنے لگا

“جو بھی لیکن تم نے ہماری بہن کو رولایا ہے اب سوری کہو۔۔۔المان پانچ سالہ ماہا کو اپنے ساتھ لگائے سکندر سے بولا

“میں سوری کیوں بولو؟اُس دن ماہی نے میرا ٹیڈی بیئر چُرایا تھا میں نے اگر چاکلیٹ کھائی تو کیا ہوا۔۔سکندر ناک منہ چڑھا کر بولا

“تم نے ٹیڈی بیئر کا کرنا بھی کیا تھا تم لڑکے ہو۔۔رایان نے اپنا ہاتھ ماتھے پر مار کر اُس سے کہا

“ماہی ہم سے چھوٹی ہے ہم سب کو اُس سے پیار کرنا چاہیے”اگر اُس کو ہماری کوئی چیز پسند آتی ہے تو دینے میں کوئی حرج تو نہیں وہ خوش ہوجاتی ہے۔۔زوہان اُن کو آپس میں بحث کرتا دیکھ کر اکتاہٹ سے بولا

“ماشااللہ دُرانی ہاؤس کا سمجھدار بچہ۔۔عیشا نے ببل چباتے زوہان کا کندھا تھپتھپا کر اُس کو داد دی

“ہاں اب سوری بولو ہماری بہن کو دیکھو کیسے رو رو کر اِس نے اپنی آنکھیں سُوجھالی ہے۔۔المان کی سوئی ایک بات پر اٹکی ہوئی ہے

“کیا تمہیں پتا نہیں اپنی بہن کا یہ بلاوجہ ڈرامہ کرتی ہے اب اِتنا رونا بنتا تو نہیں تھا۔۔۔سکندر کو اب ماہا پر غُصہ آنے لگا جو اب سسکیاں ایسے لے رہی تھی جیسے جانے اُس پر کتنا ظلم ہوا ہو

“حویلی میں ماہی سے ایسے کوئی بات نہیں کرتا اگر بابا جان کو پتا چل گیا یہاں آکر وہ روئی ہے تو وہ کبھی اُس کو یہاں آنے نہیں دینگے۔۔۔اقدس اُداسی سے بولی لیکن اُس کی بات پر ماہا جو ہچکیاں لیتی رو رہی تھی ایکدم اُس کے رونے کو بریک لگی تھی

“لو جی ہوگیا ہے اِس کا رونا بند اب گیم شروع کرے۔۔سکندر ماہا کو گھورتی نظروں سے دیکھتا باری باری اُن سب کو دیکھتا بولا

“سکی مکی گندہ۔۔۔ماہا اُس کا نام بگاڑتی بولی

“ہاں پوری دُنیا میں واحد اچھی تو آپ ہو۔۔۔سکندر جل اُٹھا

“لڑ ایسے رہے ہو ہماری بہن سے جیسے یہ کوئی بڑی ہو جانے دو اب۔۔المان چڑ کر بولا

“مان پلیز “ہم”ورڈ یوز مت کیا کرو۔۔رایان بیزاری سے اُس کو دیکھ کر بولا

“اِس میں کوئی بُری بات تو نہیں۔۔۔اقدس رایان کو دیکھ کر بولی

“بُری بات تو نہیں ہے پر ایسا لگتا ہے جیسے “ہم”بولنے والوں کے پیچھے فوج کی قطار کھڑی ہے۔۔رایان نے کہا تو زوہان کے علاوہ ہر ایک کھی کھی کرنے لگا تھا۔”جس پر اقدس اپنا سر نفی میں ہلاتی واپس صوفے پر بیٹھ گئ تھی۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮

آتش۔۔چُھٹی قریب تھی اور وہ اپنے بیگ میں کتابیں ڈال رہا تھا جب اُس کا دوست بھاگ کر اُس کے پاس آیا جس کا سانس پوری طرح سے پُھولا ہوا تھا۔

“ہمم کیا ہے؟پندرہ سالہ آتش نے اپنی ہیزل گرین آنکھوں سے اُس کو دیکھا

منور کو بہت بُری طرح سے پیٹا گیا ہے۔۔۔اُس نے بتایا تو پندرہ سالہ آتش کی آنکھوں میں سرد تاثرات نُمایاں ہوئے تھے

“کس کی اِتنی ہمت جو اُس نے میرے دوست پر ہاتھ اُٹھانے کی کوشش کی؟آتش غُصے سے اپنے نتھے پُھلاتا اُس سے پوچھنے لگا۔

“وہی جس سے ہم نے کرکٹ میچ جیتا تھا اُس نے اپنی ساری بھڑاس منور پر نکالی ہے”اُس کی کتابیں تک پھاڑ دی ہے اور بول رہا ہے”کہ اگر آتش میں دم ہے تو ہم سے اکیلے مقابلہ کرکے دیکھائے۔۔۔اُس نے فر فر بتانا شروع کیا۔

“آتش دُرانی کو چیلینج؟کول۔۔آتش یکطرفہ مسکراتا کلاس سے باہر نکلنے لگا

“آتش یہ سہی نہیں ہے اسکول میں لڑنا سہی نہیں ہے چھٹی ہونے والی ہے باہر اُس سے بدلہ لینگے ابھی صبر کرو۔۔وہ اُس کے پیچھے بھاگتا ہوا جلدی سے بولا کیونکہ وہ جانتا تھا آتش اب کسی کو چھوڑنے والا نہیں تھا۔

“کہاں ہے وہ؟اسکول کے گراؤنڈ کے پاس پہنچ کر آتش کی نظریں یہاں وہاں بھٹکنے لگی۔

“وہ رہے۔۔مجبوراً اُس کے دوست نے ایک طرف اِشارہ کرکے بتایا جہاں درخت کے نیچے پانچ لڑکے جو اُس کی عمر کے تھے وہ ہنسی مذاق میں مصروف تھے جن کو دیکھ کر آتش اپنے بازو چڑھاتا اُن کی طرف بڑھنے لگا

“دیکھو دیکھو کون آیا۔۔اُن میں سے ایک کی نظر آتش پر گئ تو تمسخرانہ لہجے میں بولا جس کی گوری رنگت سرخ ہوگئ تھی

“تم لوگوں کی یہ مجال کہ اب میرے یعنی آتش لغاری کے دوست کو مارو گے؟آتش باری باری سب کو گھور کر بولا اُس کی آواز بیحد اُونچی تھی جس وجہ سے باقی بچے بھی وہاں جمع ہونے لگے تھے۔”اور وہاں اپنی کلاس فیلو کے ساتھ بیٹھی تیرہ سالہ اقدس کا دھیان بھی آتش پر گیا تھا جو اُن لڑکوں کو ایسے گھور رہا تھا جیسے سالم نگلنے کا اِرادہ ہو

“ہاں ہم نے مارا کیا کریگا توں “سُن اگر توں کسی پرائم منسٹر کا بیٹا ہے تو میرے بابا بھی یہاں کہ بہت بڑے ٹرسٹی ہیں۔۔۔ایک لڑکا جس کا نام حامد تھا وہ آتش کے روبرو کھڑا ہوتا بولا

“کول۔۔۔آتش نے اپنے ہونٹوں کو گول شیپ دیا

“ہاں اب یہاں سے جاء کیونکہ ہم بچوں سے نہیں لڑتے۔۔حامد نے اُس کو جانے کا اِشارہ کیا

“آتش لغاری ہوں میں زبان چلانے سے زیادہ ہاتھ چلانے پر زیادہ یقین رکھتا ہوں۔۔۔کہنے کے ساتھ ہی آتش نے ایک زوردار مُکہ اُس کی ناک پر مارا تھا جس سے اُس کی ناک سے خون بہنے لگا تھا۔

“تیری تو۔۔۔حامد کے دوست جواب میں اُس کو مارنے آئے تو آتش نیچے جُھکتا اُن کی حاکی والی اسٹک اُٹھائے اُن پر وار کرنے لگا تھا۔

“کیا ہورہا ہے یہ؟دو ٹیچرز جلدی سے گراونڈ میں آتی اُن کو روکنے لگی جو جانورن کی طرح ایک دوسرے کو مارنے میں لگے ہوئے تھے

“میم ہم پڑھائی کررہے تھے جب یہ پاگل ہمیں مارنے چلا آیا۔۔حامد معصوم بنتا سارا الزام آتش پر ڈالنے لگا

“جھوٹ مت بولو شروعات تم نے کی تھی میرے دوست کو مار کر اور پھر تم نے کیسے سوچ کیا کہ آتش لغاری تمہیں چھوڑدے گا۔۔۔آتش کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا۔

“اچھا کہاں ہے تمہارا دوست جس کو ہم نے مارا ہے؟حامد نے اپنی ناک سے بہتے خون کو صاف کیے اُس سے پوچھا تو آتش چونک کر اپنے دوست کو دیکھنے لگا جو اُس کے پاس شکایت لیکر آیا تھا۔

“منور کہاں ہے آیان؟آتش نے سنجیدگی سے آیان سے سوال کیا

“اُس کو میں نے یہی چھوڑا تھا۔۔۔آیان خود پریشان ہوگیا

“میم آتش نے جان کر ہمیں مارا ہے۔۔حامد نے موقعے پر چونکا مارا

“میم آپ یہاں کھڑے بچوں سے پوچھ سکتی ہیں اِس نے میرے دوست کو مارا تھا۔۔آتش دوبارہ حامد کی طرف بڑھنے لگا تھا۔

“نو میم یہ لڑکا خود آیا تھا اور اِن کو مارنے لگ پڑا ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔اقدس نے آتش کی طرف اِشارہ کرکے بتایا تو وہ نفرت سے اقدس کو دیکھنے لگا جو سچ جانے بنا اُس کے خلاف ہوئی تھی

“آتش آپ پرنسپل کی آفس میں آئے۔۔میم نے آتش کو دیکھ کر کہا جس نے اپنا سارا حُلیہ بگاڑا ہوا تھا۔

“یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔۔آتش کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ اقدس کے گال بھی تھپڑوں سے لال کردیتا

“اقدس جھوٹ نہیں بولتی اور ہم نے وہ کہا جو دیکھا۔۔اقدس کو آتش کی بات پسند نہیں آئی تھی لیکن اُس کی بات پر آتش نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے بھینچ لیا تھا۔

“میں کسی سے ڈرتا نہیں ہوں اور آپ سب سے بات تو آتش لغاری کا باپ کرے گا۔۔۔آتش اُن سب کو سخت نظروں سے گھورتا اسکول کی گیٹ کی طرف بڑھنے لگا

“خبرادر جو مجھے روکنے کی کوشش کی تو۔۔۔گارڈ نے آتش کو آتا دیکھ کر ابھی کچھ کہا ہی نہیں تھا جب وہ اُس کو گھورتا وہاں سے چلاگیا اُس کو کسی نے کچھ بھی نہیں کہا تھا سب کو پتا تھا”آفاق لغاری کا لاڈلہ اور بگڑا سپوت تھا آتش دُرانی جو اپنے سامنے کسی اور کو کچھ بھی نہیں سمجھتا تھا۔

“ہر کوئی اپنی کلاس میں جائے۔۔میم نے کہا تو سب بچے اپنی اپنی کلاس میں جانے لگے

“کیا آتش کو اسکول سے خارج کیا جائے گا؟حامد کے دوست نے آہستہ آواز میں اُس سے پوچھا

“کرنا تو چاہیے بہت بدتمیزی کا مُظاہرہ کرکے گیا ہے وہ۔۔۔حامد نے پرسوچ ہوکر کہا

“لیکن میرا نہیں خیال وہ آفاق لغاری کا بیٹا ہے اور تمہیں تو پتا وہ معروف ہستی ہے۔۔اُس کے دوست کو جیسے یقین نہیں آیا تھا۔

“تم دیکھنا ہوتا کیا ہے اِس بار تو آتش کا باپ بھی اُس سے تنگ ہوگا۔۔حامد نے شیطانی مسکراہٹ سے کہا تو اُس کے دوست بس خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگے جس کے چہرے کا نقشہ بُری طرح سے آتش نے بگاڑ لیا تھا۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“کچھ سال بعد”

“تمہارے ابا مانے؟اٹھارہ سالہ المان نے پاپ کارن کھاتے سکندر سے سوال کیا۔ ۔”وہ سارے کزن آج اُتوار ہونے کی وجہ سے ایک ساتھ بیٹھے تھے” المان بھی اپنی دونوں بہنوں کے ساتھ زوریز کی طرف آیا ہوا تھا اور سکندر بھی۔”کالج کی پڑھائی ختم ہونے کے بعد اب وہ سب ویلے تھے ہنسی مذاق کے علاوہ فی الوقت اُن کو کچھ سوجھتا نہیں تھا”لیکن اچانک سے ہی المان اور سکندر کو سِنگنگ کا شوق چڑھا تھا”وہ دونوں اب اپنی پڑھائی چھوڑ کر کسی اسٹوڈیو میں جانا چاہتے تھے پر اسیر المان کی ایسی بیجا فرمائش کے سخت خلاف تھا۔”اور عاشر سکندر دونوں طرف سے کوئی بھی اُن دونوں کی بات سمجھ نہیں رہا تھا اور نہ کوئی سُننا چاہتا تھا۔

“کہاں تم اپنے ابے کا حال احوال دو۔ ۔۔اٹھارہ سالہ سکندر نے منہ کے زاویئے بگار کر کہا

“ماہا کے بابا کا نام تمیز سے لے۔ ۔سولہ سالہ ماہا جو خاموش سی بیٹھی سکندر کے ایسے انداز پہ جلدی سے بول اُٹھی

“تم شاید اپنا یہاں اسائمنٹ بنانے آئی تھی وہ لکھو نہ۔ ۔۔سکندر نے اُس کو گھور کر کہا

“اِس کو چھوڑو اور سوچو کہ اپنے اباؤ کو منانا کیسے ہیں۔۔المان نے سرجھٹک کر سکندر سے کہا

“پتا نہیں یار چھوٹے بچے ہوتے تو فرش پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے یا ڈسکو ڈانس کرتے لیکن اب کیسے منایا جائے اُن کو۔۔سکندر بھی پریشانی سے بولا

“تم دونوں کی پریشانیوں کا حل اِس بابا کے پاس ہے۔۔اٹھارہ سالہ رایان اچانک اُن دونوں کے درمیان بیٹھتا سامنے کی طرف اِشارہ کرنے لگا تو سکندر اور المان نے اُس کے اِشارہ کا تعاقب کیا جو اٹھارہ سالہ زوہان اور پچیس سالہ اقدس کی طرف جارہا تھا”اقدس کچھ لکھنے میں مصروف تھی اور زوہان اُس کو بتانے میں محو تھا دونوں آس پاس کے ماحول سے بے نیاز اپنے کاموں میں مگن تھے

“ہماری زندگی میں وہ بہن کہاں جو چھوٹے بھائی کو سپورٹ کرے۔۔المان نے قدرے اُونچی آواز میں کہا تاکہ اقدس سُن پائے اور واقعی اُس نے سُن بھی لیا تھا۔

“اچھا ہوا جو پھر میری کوئی بہن نہیں۔۔سکندر نے بھی المان کا ساتھ دیا جبکہ زوہان بس اُن کی ڈرامائی بازی دیکھ رہا تھا اور ایک رایان تھا جو گردن موڑ کر کبھی المان کو گھور رہا تھا تو کبھی سکندر کو جو اُس کے اِشارے تک کو سمجھ ہی نہیں پائے تھے

“اچھا کام کروگے تو ہم وہ پہلے ہوگے جو آپ کا ساتھ دے گے۔۔اقدس نے مسکراکر اُس کو دیکھ کر کہا

“میں نے زوہان کی بات کی ہے۔۔رایان نے دونوں کے سِروں پہ ایک تھپڑ رسید کیا تھا آج رایان کی قسمت اچھی تھی جو دونوں نے سخاوت کا مظاہرہ کیے اُس کے تھپڑ کو اگنور کیا تھا کیونکہ اِس وقت اُن دونوں کو کچھ اور سُلجھانا تھا

“میں تم دونوں کی کیا مدد کرسکتا ہوں؟زوہان ناسمجھی سے اُن کو دیکھنے لگا

“تم اِن دنوں سے بڑے ہو۔۔۔رایان نے المان اور سکندر کی طرف اِشارہ کیا

“ایک دن

پانچ ماہ۔۔۔۔

“اُن دونوں کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا

“بڑا بڑا ہوتا ہے چاہے وہ ایک سیکنڈ کا ہی کیوں نہ ہو اور میری اِس باجی کو دیکھ لو پورے تین منٹ بڑی ہے۔۔”لیکن مجال ہے جو میں نے اِس کی شان میں کبھی گُستاخی کی ہو۔۔رایان نے ٹرے لاتی عیشا کو دیکھ کر کہا جو اُس کی بات پر آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھور رہی تھی

“اپنی تعریف کرلی ہو تو کام کی بات پہ آؤ۔۔۔المان نے بیزاری سے کہا

“ہاں جلدی سے بتاؤ اِس موصوف کو پورے پاکستان کا نظام بھی دیکھنا ہوتا ہے۔۔۔عیشا ہر ایک کو کافی کا کپ تھماتی طنز بولی

“اِس بات کا جواب میں تمہیں بعد میں دوں گا۔۔المان نے تپی ہوئی نظروں سے اُس کو دیکھا

“میری بلا سے۔۔عیشا نے سرجھٹکا

“دیکھو یہ تم دونوں سے بڑا ہے اور جو ہمارے چچا ہے نہ وہ تم دونوں کے اباؤں سے بڑا ہے تم دونوں زوہان سے کہو وہ تم دونوں کا سفارشی بنے۔۔۔رایان نے آرام سے کہا تو جہاں اقدس اور ماہا نے اُس کو گھورا تھا وہی اُن دونوں کے چہروں پہ چمک آئی تھی

“زوہان خبردار جو تم نے اِن دونوں کی کوئی مدد کی بھی تو میں تم سے ہر رشتہ ناطہ تعلق ختم کردوں گی۔عیشا نے پہلے ہی زوہان کو وارن کیا

“کیسا رشتہ؟

کہاں کا تعلق؟

کہاں کا ناطہ یہ تم کیا بول رہی ہو؟زوہان نے مسکراہٹ دبائے اُس سے کہا

“زوہان میں نے تمہارے دانت توڑ دینے ہیں اور تمہاری بھول ہے کہ میں تمہاری کوئی مدد کروں گی کسی کام میں۔۔۔عیشا نے تپ کر اُس کو گھورا

“اِس جل ککڑی کو چھوڑو اور بتاؤ ہمارا کام کروگے؟المان نے دونوں کے درمیان مداخلت کی

“ویل واقعی میں ہفتے میں ایک ایسا دن آتا ہے جس میں زوہان کا مزاج کسی سے نہیں ملتا اور تم دونوں کی قسمت اچھی ہے۔۔رایان نے زوہان کو داد دیتی نظروں سے دیکھ کر اُن دونوں کو بتایا

“زوہان بھائی کا مزاج تو بس ایک دن نہیں ملتا لیکن کچھ لوگوں کا سالانہ سالہ مزاج ساتویں آسمان پر پہنچا ہوا ہوتا ہے۔۔ماہا آہستگی سے بڑبڑائی تھی لیکن اُس کی بڑبڑاہٹ سکندر اچھے سے سُن گیا تھا۔

“تم یہ میرے بارے میں بکواس کررہی ہو؟سکندر نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا

“ماہا آپ کے بارے میں کچھ کیوں بولے گی؟”یہ تو خود آپ نے خود کو بدمزاج بولا۔۔۔ماہا گڑبڑا کر بولی

“میں نے خود کو بدمزاج بولا یا تم مجھے بدمزاج سمجھتی ہو۔۔۔سکندر فل لڑاکا انداز میں تھا

“آپ کو بہتر پتا ہوگا۔۔ماہا کے منہ سے بے اختیار پھسلا

“یہاں کچھ اور ڈسکشن ہورہی ہے اُس کو ہونے دو اور تم دونوں بھی بڑے ہوجاؤ ہر وقت پولیس اور چور کی طرح ایک دوسرے کے پیچھے نہ پڑ جایا کرو۔۔المان نے کوفت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن سے کہا

“پہلے تم یہ ڈیسائیڈ کرو اب کہ اِن دونوں میں سے پولیس کون ہے؟”اور چور کون ہے۔۔رایان نے ٹھوری پہ ہاتھ رکھے پرسوچ انداز میں اُس سے کہا تو زوہان نے اپنا سر نفی میں ہلاکر اقدس کو واپس اپنے کام میں لگنے کا کہا تو اُس نے اپنا رجسٹر کھول لیا تھا۔

“بھائی اگر مجھے آپ نے چور کہا تو بھول ہے آپ کی کہ میں کبھی آپ کی مدد کروں گی”ماہا آپ سے کٹی کرلے گی۔۔ماہا نے جھٹ سے کہا

“اور مجھے تو بھول کر بھی مت کہنا ورنہ تمہاری بھول ہے کہ میں تمہارے ساتھ سنگنگ میں ٹیم بناؤں گا۔۔۔سکندر نے بھی اُس کو وارن کیا تو المان کو اپنا آپ آج بُری طرح سے پھستا ہوا محسوس ہوا

“اِس بارے میں ہم لوگ بعد میں بحث کرینگے اور تم بتاؤ زوہان کیا خیال ہے تمہارا؟المان اُن دونوں کو جواب دیتا زوہان سے بولا

“یہ کبھی راضی نہیں ہوگے کیونکہ اقدس آپی راضی نہیں اور اِن کے لیے اُن کا ہر لفظ حرفِ آخر ہوتا ہے۔۔ماہا نے ہاتھ جہاڑ کر کہا

“بندے کی شکل اچھی نہ ہو تو کوئی بات ہی اچھی کرلیا کریں۔۔سکندر نے طنز لہجے میں اُس سے کہا

“غالباً یہ مشورہ آپ خود کو دے رہے ہیں؟ماہا نے آنکھیں پِٹپِٹاکر بے حد معصومیت سے کہا تو سکندر جل کے رہ گیا۔

“تم خود کو کچھ زیادہ خوبصورت نہیں سمجھنے لگی؟”مانا کہ گڑھے ہیں تمہارے پاس لیکن ساتھ میں عقل کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے جو تمہاری کھوپڑی میں نہیں ہے۔۔سکندر کو تاؤ آیا تھا”کیونکہ اِس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ماہا اقدس اور عیشا کی نسبت زیادہ پیاری تھی”کم تو وہ دونوں بھی نہ تھیں پر ماہا کی بات الگ تھی”اور اُس کو الگ اپنے چہرے پر چھائی معصومیت بناتی تھی۔

“آپ بس ماہا سے جلتے رہنا لیکن ماہا کو اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ماہا شانِ نے نیازی سے بولی تو سکندر نے اِس بار اپنا سرجھٹکا

“ویسے اگر تم لوگوں نے مجھے بڑا سمجھ لیا ہے تو میرا بھی پھر فرض بنتا ہے کہ بڑپن کا مُظاہرہ کروں۔۔زوہان کتاب کو بند کرتا سنجیدگی سے بولا تو ہر کوئی اُس کو دیکھنے لگا جس پر زوہان نے گردن موڑ کر اقدس کو دیکھا جو آئبرو اُپر کیے اُس کو دیکھ رہی تھی

“میں جانتا تھا آج تمہارا موڈ اچھا ہوگا سڑا ہوا بینگن جیسا نہیں کیونکہ تمہارے ساتھ آج اقدس آپو ہے۔۔رایان نے پاپ کارن کھاتے پرجوش ہوکر کہا

“سوچ سمجھ کر بولنا۔۔عیشا نے بازو چڑھائے جیسے اُس کو وارن کیا

“وہ کبھی تمہاری دھمکیوں میں نہیں آتا پھر تم کیوں اِتنی ٹھنڈی حرکتیں کرتی ہو۔۔المان نے عیشا کو گھور کر کہا

“اِس بات کا جواب میں تمہیں پھر کبھی دوں گی۔۔۔عیشا نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے اُس سے کہا

“میری بات سُن لو اب۔۔زوہان نے اُن دونوں کی توجہ خود پر کروائی

“ہاں کہو لیکن اچھا بولنا۔۔سکندر نے کہا

“یہ بولتا کب ہے جب بولتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں کوئلے برس پڑتے ہیں اچھا ہے جو اِس کو بولنے کا نہ بولا جائے۔۔رایان نے اپنی بات سے مکر کر اُن سے کہا

“وقت بُرا چل رہا ہے ورنہ کسی کی بھی بکواس نہ سُنتا میں۔۔المان اُس کو گھور کر بولا تو عیشا کی ہنسی چھوٹ گئ تھی

“اگر خالو نہیں مان رہے تو رہنے دو کیا رکھا ہوا سنگنگ میں؟’ابھی تم دونوں کی عمر کیا ہے؟”پڑھائی پوری کرو پھر سنگنگ کی کلاسس بھی لیتے رہنا۔۔زوہان نے سنجیدگی سے کہا تو المان اور سکندر کے علاوہ ہر ایک کا قہقہقہ چھوٹ گیا تھا۔

“اِتنا بڑا بننے کو بھی نہیں تھا کہا۔۔المان نے قالین پہ گِرا کشن اُس کی طرف پھینک کر کہا جس کو زوہان نے مہارت سے کیچ کرلیا

“آپی اقدس آپ بتائے کیا میں نے کچھ غلط کہا؟زوہان نے مسکراتی ہوئی اقدس سے سوال کیا

“بلکل بھی نہیں۔۔اقدس نے اپنا سر نفی میں ہلایا تو زوہان کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آئی تھی

“میری دعا ہے تمہاری شادی ایسی لڑکی سے ہو جو دن رات تمہاری جوتوں سے چھترول کرے۔۔المان نے جلے دل کے ساتھ کہا وہ بھلا اِس وقت اور کر بھی کیا سکتا تھا

“جو کچھ نہیں کرسکتے وہ بس بدعائیں دیتے ہیں۔۔عیشا اُس کی حالت کا مزہ لیتی ہوئی بولی

“میں نے سُنا ہے جو دوسروں کے لیے دعائیں مانگتے ہیں وہ پہلے اُن کے حق میں قبول ہوتی ہے۔۔زوہان نے ٹیرھی نظروں سے عیشا کو دیکھ کر المان سے کہا

“چھترول کرنے والی ہو یا پھول برسانے والی ہو لیکن بس مل جائے مجھے تو شدت والا انتظار ہے اُس کا۔۔رایان آہیں بھرتا ہوا بولا

“لو جی موصوف کو پڑگیا شادی کا دورا”پہلے اپنے پاؤ پہ تو کھڑے ہوجاؤ پھر شادی بھی کرلینا۔۔سکندر نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہا

“بیٹا جی میں ایک سال کا تھا جب اپنے پاؤ سے چلنا شروع کیا تھا اور الحمداللہ اب بھی وہ پیر ہیں بس تھوڑے بڑے ہوگئے ہیں کسی سے رینٹ پہ نہیں لیئے۔۔رایان نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بتایا

“ہمیں لگتا ہے جیسے رایان کی نیچر ہے ایسے میں اُس کو کوئی معصوم سی کم گو لڑکی ملے گی۔۔اقدس نے پرسوچ انداز میں رایان کو دیکھ کر کہا

“کیا واقعی؟رایان اپنے بتیس دانتوں کی نُمائش کرتا بالوں میں ہاتھ پھیر کر اُس سے بولا

“کیا خاک سب کہتے ہیں رایان ڈیڈ کی کاپی ہے لیکن ڈیڈ کو تو ایسی بیوی نہیں ملی اُن کی شادی جس سے ہوئی ہے وہ تو ہر وقت اُن سے جھگڑا کرتی ہے۔۔عیشا خالی کافی کا کپ ٹیبل پہ رکھتی منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی تو شاید آج اُس کے ستارے گردش پہ تھے جو عین اُس وقت میشا ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی تھی اور اُس نے عیشا کی گوہر افشائی اچھے سے سُن لی تھی۔

“اب ایسی بات بھی نہیں ہے خالا جان تو خالو پر اپنی جان چھڑکتی ہے۔۔المان نے میشا کو آتا ہوا دیکھ لیا تھا تبھی موقعے کا فائدہ اُٹھانا اُس نے ضروری سمجھا کیونکہ اُس کو عیشا سے حساب برابر بھی تو کرنے تھے “لیکن میشا کو عیشا دیکھ نہیں پائی تھی کیونکہ جہاں صوفے پہ وہ بیٹھی ہوئی تھی اُس صوفے کی بیک ڈرائینگ روم کے دروازے کی طرف تھی”اور سامنے والے صوفے پہ ماہا اکیلی بیٹھی ہوئی تھی تو سائیڈ پہ پڑے ایک صوفے پہ زوہان اور اقدس بیٹھے ہوئے تھے تو دوسرے صوفے پہ المان سکندر کے بیچ رایان ٹانگیں ہھیلائے بیٹھا ہوا تھا”درمیان میں ایک شیشے کی ٹیبل تھی جہاں پاپ کارن”لیز چپس آلو کی چپس اور کافی کے خالی کپ بے ترتیب سے پڑے تھے۔”اُن سب نے مل بیٹھ کر ڈرائینگ روم کا حال اچھا خاصا بے حال کیا تھا”جس پہ روک ٹوک صفائی پسند اقدس اور ماہا نے بھی نہیں کی تھی۔”لیکن دل میں دونوں نے اِرادہ بنایا ہوا تھا کہ سب کے اُٹھ جانے کے بعد وہ ڈرائینگ روم کی صفائی کردینگی۔

“تمہیں کیا پتا؟”ہمیں پتا ہے یہ تو ہمارے ڈیڈ کا دل ہے جنہوں نے موم کو برداشت کیا ہے۔۔”اُن کی جلی ہوئی روٹی مسکراکر کھائی ہے بیلن کے ساتھ اور اُن کا ہر ظلم مسکراکر برداشت کیا ہے۔۔عیشا نے ایسے کہا جیسے واقعی میں میشا نے جانے کونسے ظلم کے پہاڑ آریان پہ گرائے تھے۔”اور اُس کے لفظوں پر المان اپنی شکل ایسے بناتا گیا جیسے اُس کے علاوہ اِس دُنیا میں آریان اور عیشا کا کوئی اور ہمدرد نہ تھا۔

“اور

“ارے پیچھے تو دیکھ پیچھے۔۔۔رایان نے اُس کو مزید کچھ بھی بولنے سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی جو بنا آگے پیچھے دیکھے نان سٹاپ بولتی چلی جارہی تھی۔

“آریان کو تو کمانڈو مین ہونا چاہیے تھا۔۔۔میشا کڑے تیوروں سے اُس کی پشت کو گھورتی ہوئی بولی

“ہاں اور نہیں تو ک

“بے خیالی میں بات کرتے کرتے عیشا چونک سی گئ تھی اور یکدم اپنی جگہ سے اُٹھ کر مڑ کر دیکھا تو میشا کو بازو سینے پہ باندھ کر کھڑا ہوا دیکھ کر اُس کا اُپر کا سانس اُپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔۔

“تم کچھ کہنے والی تھی۔۔المان نے انجان بن کر اُس سے پوچھا تو عیشا نے گردن ترچھی کرکے اُس کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھا وہ جان گئ کہ یہ المان کی چال تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *