Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 03)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 03)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
السلام علیکم ۔۔۔اگلے دن فاحا کی آنکھ عادت موجب سویر کُھلی تھی اور جب اُٹھ کر اُس نے بیڈ کی دوسری سائیڈ دیکھا تو اسیر بیڈ پہ نہیں تھا جبکہ اقدس ابھی تک گہری نیند میں تھی اُس کو لگا شاید اسیر واشروم میں ہو لیکن واشروم کا دروازہ کُھلا ہوا تھا جس پر اُس کو اندازہ ہوا کہ وہ یہاں نہیں تھا”تبھی وہ بھی اقدس کے ماتھے پر پیار کرتی فریش ہوکر کمرے سے باہر آئی تو اُس کا سامنا سب سے پہلے صنم بیگم سے ہوا تھا جبھی اُس نے اُن کو سلام کیا
وعلیکم السلام نئ زندگی کی پہلی صبح مُبارک ہو۔۔صنم بیگم اُس کو دیکھ کر محبت سے بولی تو فاحا مسکرائی تھی
“میری بیٹی کے حق پہ ڈاکا ڈالا ہے تم نے اِس لیے یہ ہرگز مت سمجھنا کہ تم کبھی خوش رہ سکتی ہو۔۔نورجہاں بیگم بھی وہاں آتی فاحا کے نکھرے ہوئے روپ کو دیکھ کر حسد سے گویا ہوئی
“بھابھی۔۔صنم بیگم نے التجائیہ انداز میں اُن کو دیکھا
“کیا بھابھی؟میں چُپ نہیں رہوں گی یہ ناگن بن کر میری بیٹی کی خوشیوں کو ڈسنے آئی تھی کیا۔۔نورجہاں بیگم مزید اُونچا بولی تھی کیونکہ اُن کو پتا تھا کہ اسیر حویلی سے سویر کر نکل گاؤں کے کاموں میں خود کو مصروف کرلیتا تھا ہر ایک کی پریشانی اور مسائل جان کر اُن کو سُلجھانے کی کوشش کرتا تھا۔
“کیسا حق ہے آپ کی بیٹی کا؟کیا آپ بتانا پسند کرینگی؟فاحا بازو سینے پر باندھتی اُن کے روبرو کھڑی ہوئی تو نورجہاں بیگم ایک پل کو گڑبڑا سی گئ
“یہ جہاں تم رات کو سوئی اور جس کو اپنی بیٹی بنانے کے چکروں میں تم ہو وہ میری نواسی اور میری بیٹی کی اولاد ہے۔۔نورجہاں بیگم سنبھل کر بولی
“اول تو فاحا نے کسی کا حق نہیں کھایا اُس کو وہ ملا ہے جو اُس کا تھا۔”رہی بات آپ کی بیٹی کی تو اُس نے خود اپنا چاند جیسا شوہر چھوڑا اور پھول جیسی بیٹی چھوڑی تھی جو کی اب میرے ہیں”اور میں نہیں چاہوں گی کہ جو میرا ہے اُس کا نام کوئی کسی اور کے نام سے منسوب کرے۔۔فاحا قدم بقدم چلتی اُن کے روبرو کھڑی ہوتی دو ٹوک لہجے میں بولی تو اُس کی بات سن کر نورجہاں بیگم کا منہ حیرت کی زیادتی سے پورا کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا اُن کو یقین نہ آیا کہ معصوم نظر آنے والی فاحا جو حویلی آئی تھی تو زیادہ اپنے کمرے تک رہتی تھی وہ آج اُن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات بھی کرسکتی ہے۔
“آگئ نہ تم اپنی اصلیت پر دیکھا دی نہ اپنی اوقات ویسے تو بڑی مسینی بن کر رہتی تھی اب ایک رات میں تمہارا رنگ روپ اور تیور ہی بدل چُکے ہیں۔۔نورجہاں بیگم اُس کو دیکھ کر طنز انداز میں گویا ہوئی تو فاحا دھیما سا مسکرائی تھی
“کیونکہ فاحا اِس حویلی پر تب اپنا حق نہیں سمجھتی تھی لیکن اب یہ حویلی اُس کے شوہر کی ہے تو اگر وہ میرے ہیں تو اُن کی چیزیں مجھ سے علیحدہ تو نہ ہوئی نہ؟فاحا نے آخر میں اُن سے تائید چاہی تو نورجہاں بیگم ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر اُس کو گھور کر آخر میں صنم بیگم کو دیکھنے لگی جو خود فاحا کو دیکھ رہی تھی۔
“اُڑ لو جتنا اُڑ لینا ہے لیکن یاد رکھنا تمہیں میں اِس گھر میں زیادہ دیر تک ٹِکنے نہیں دوں گی۔۔نورجہاں بیگم نے اُس کو وارن کیا اور پھر وہ وہاں زیادہ وقت رُکی نہیں تھی۔
“آپ حیران ہوگی کہ فاحا نے آج اِس قدر سخت اور روڈلی بات کیوں کی؟نورجہاں بیگم کے جانے کے بعد فاحا صنم بیگم کو دیکھ کر بولی
“ہاں۔۔صنم بیگم کا سر خودبخود اثبات میں ہلا تھا
“آپو نے کہا تھا۔۔فاحا نے کہا
“کیا کہا تھا؟”صنم بیگم نے پوچھا تو فاحا کل کا دن یاد کرنے لگی جب سوہان اور میشا نے اُس کو دولہن کے روپ میں دیکھ کر کہا تھا۔

“دیکھو فاحا میں کبھی تمہاری شادی اسیر ملک سے نہ کرواتی کیونکہ ایک تو وہ گاؤں سے ہے اور دوسرا جہاں سے ہے میں وہاں نہ خود اور نہ تمہیں برداشت کروں گی کبھی لیکن میں نے خاموشی اختیار کی صرف اور صرف تمہاری وجہ سے کیونکہ تمہیں اسیر ملک سے محبت ہے۔۔سوہان فاحا کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر بولی تو اُس کی آخری بات پر فاحا نے اپنا سر جُھکالیا تھا
“میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ تمہاری شادی کسی شادی شدہ مرد سے کرواؤں گی وہ بھی جو ایک بیٹی کا باپ ہوں پر میں مجبور ہوں تم مجھے بہت عزیز ہو اور میں نہیں چاہوں گی کہ تمہاری خوشیوں میں رکاوٹ بنو اگر تمہیں اسیر ملک چاہیے اُس کا ساتھ چاہیے تو میں دعا کرسکتی ہوں کہ اللہ تمہیں اُس کے سنگ ہمیشہ خوش رکھے پر میرا دل نہیں مانتا تمہیں وہاں اکیلے چھوڑنے کو۔۔سوہان اُس کا چہرہ دیکھتی حددرجہ پریشانی کا شکار تھی۔
“آپو آپ پریشان نہ ہو فاحا کو اپنا خیال رکھنا آتا ہے۔۔فاحا نے اُس کو تسلی کروائی
“دیکھو فاحا وہاں چُپ کبھی مت رہنا اگر کوئی تمہارے ساتھ کچھ غلط کرے یا تمہیں دبانے کی کوشش کرے تو تمہیں دب کر نہیں رہنا بلکہ ایسے رہنا جیسے کوئی تمہارے بارے میں غلط خیال بھی اپنے دماغ میں نہ لائے تمہیں وہاں بہادر بننا ہے”چند گھنٹوں میں تمہارا نکاح ہوگا اور تمہاری پوری زندگی بدل جائے گی اِس کے لیے تمہیں خود کو بھی بدلنا ہوگا وہاں میں یا میشا نہیں ہوگے جو تمہاری لڑائی لڑے گے وہاں اپنا خیال اور اپنی لڑائی تمہیں خود لڑنی ہوگی۔سوہان ٹھیرے ہوئے لہجے میں اُس کو سمجھانے لگی
“یہ نکاح کے بعد بارڈر جنگ لڑنے نہیں جائے گی جو تم اِتنا سیریس ہوکر اُس کو سمجھا رہی ہو کہ بہادر بننا ہے یہ کرنا ہے وہ کرنا ہے بلا بلا۔۔”یار اِتنا کچھ کہنے کی ضرورت کیا ہے بس جو بک بک کرے ایک پنج اُس کے منہ پر مارو یقین جانو پھر جہاں وہ تمہیں دیکھے گا اپنا راستہ بدل دے گا۔۔۔میشا دولہن کے لباس میں ملبوس لاپرواہ انداز میں صوفے پر لہنگا پھیلائے لیز چپس کھاتی اکتاہٹ سے پھر اپنا مفید مشورہ دینے لگی تو اُن دونوں نے باری باری میشا کو گھورا تھا
“کیا ایسے کیوں گھور رہے ہو؟”آئے نو مجھ پر روپ بہت آیا ہے لیکن اب کیا نظر لگانی ہے؟میشا نے آنکھیں چھوٹی کیے اُن کو دیکھ کر کہا
“مار دھار کے علاوہ کوئی اور بات آپ کو آتی ہے؟فاحا نے طنز پوچھا
“مجھے نہیں آتی لیکن تمہاری اِس آپو کو آتی ہے۔۔میشا نے سوہان کی طرف اِشارہ کیا
“آپو آپ پریشان نہ ہو وہاں اگر کوئی فاحا کو ایک بات سُنائے گا تو فاحا دس باتیں سُنائے گی۔۔فاحا سوہان کی طرف متوجہ ہوتی اُس سے بولی
“جو کام ہاتھوں سے بخوبی ہوسکتا ہے اُس کے لیے زبان کو زحمت کیوں دینی؟”خوامخواہ ہونٹ خشک ہوجائے گے پھر پانی پینا پڑے گا۔۔میشا کو جیسے فاحا کی بات پسند نہیں آئی تھی لیکن اِس بار اُن دونوں نے میشا کو کڑے تیوروں سے گھورا تھا جس پر وہ سٹپٹائی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی یہ وہ دو ہستیاں تھیں جن پر اُس کا نہ زور چل سکتا تھا اور نہ وہ اُن سے بچ سکتی تھی۔
“اچھا نہ ایسے تو نہ دیکھو میں نہیں کہتی کچھ۔۔میشا نے اپنے ہونٹوں پر باقاعدہ اُنگلی رکھ لی تو سوہان نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا۔
“مجھے تو اب آریان جیجو پر رونا آرہا ہے۔۔۔فاحا خاصے افسوس بھرے لہجے میں بولی
“اور مجھے اُس اسیر پر کیونکہ اُس بیچارے کو پتا نہیں کہ وہ شادی کے نام پر ایک بچی ایڈاپٹ کررہا ہے۔۔میشا نے پل بھر میں حساب بے باک کیا تو فاحا اپنا سا منہ لیکر رہ گئ۔

“تم تینوں کی بونڈنگ بہت اچھی ہے ماشااللہ اور ایک دوسرے سے پیار بھی کرتے ہو۔۔صنم بیگم اُس کی بات سن کر اُس کی ٹھوڑی چھو کر بولی
“جی وہ تو ہے لیکن خیر آپ بتائے وہ کہاں ہیں؟فاحا نے اسیر کے بارے میں پوچھا
“وہ کون؟صنم بیگم نے انجان بن کر پوچھا
“وہ میں اسیر کے بارے میں پوچھ رہی۔۔فاحا اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں رگڑے بتانے لگی
“وہ اِس وقت زمینوں کے کاموں سے جاتا ہے”اُس کے بعد بیٹھک ہوتی ہے جہاں وہ گاؤں کے لوگوں کے مسائل سُنتا ہے اور اُن کو حل کرتا ہے۔۔”اور اب تو سردار اسیر ملک کی بیوی ہوں تو تمہارے اُپر بھی بہت ساری زمیداریاں ہیں جن کو بخوبی پورا کرنا تمہارا کام ہے۔۔صنم بیگم مسکراکر اُس کو دیکھ کر بتایا
“کیسی زمیداری؟فاحا نے اُلجھ کر پوچھا
“تمہیں گاؤں کی عورتوں کے مسائل جاننے ہوگے اور اُن کو حل بھی کرنا ہوگا”تاکہ اُن کو مایوسی نہ ہو اور یہاں چیزیں بھی بانٹی جاتی ہیں جس کو تم شہری چیریٹی بولتے ہو۔۔۔صنم بیگم نے بتایا
“چیریٹی میں کیا پیسے دیئے جاتے ہیں؟”لیکن فاحا کے پاس تو پیسے نہیں ہے۔۔فاحا پریشان ہوتی بولی تو اُس کی معصومیت پر صنم بیگم بے اختیار مسکرائی تھیں
“تمہارے پاس پیسے کیا ہر وہ چیز ہے موجود جو دُنیاوی ہوتیں ہیں”تم سردار کی بیوی ہو اور میرے چیریٹی کہنے کا مطلب تھا جب کبھی حویلی میں خوشیوں کا سماں ہوگا تب تم گاؤں کی غریب عورتوں کی مدد کرو گی اُنہیں اناج مہیا کرو گی”نئے کپڑے دوں گی اور وہ جو چاہے گی”یہ حویلی کی روایت ہے جو اب تمہیں ساتھ لیکر چلنی ہے۔۔صنم بیگم نے اِس بار اُس کو دیکھ کر تفصیل سے بتایا
“تو کیا یہ مدد تب ہوگی جب حویلی میں خوشیوں کا سماں ہوگا؟”اُس کے علاوہ یہ چیزیں نہیں ہوتی؟فاحا کو اب کچھ کچھ اُن کی بات سمجھ میں آئی تھی۔
“یہ تم پر اب لاگو ہے کہ تم کیا کرتی ہو ورنہ یہاں عید تہوار کے دِنوں میں وہ سب ہوتا ہے جو میں نے ابھی تمہیں بتایا۔۔صنم بیگم نے کہا
“زمیداریاں واقعی میں بڑی ہیں لیکن میں پوری کوشش کروں گی اِن سب کو سنبھالنے کی تاکہ کسی کو کوئی بھی مایوسی نہ ہو۔۔۔فاحا اُن کی بات سن کر بولی
“اِن شاءاللہ اللہ تمہارا حامی وناصر ابھی آؤ ناشتہ لگ چُکا ہے۔۔صنم بیگم نے کہا
“اُنہوں نے ناشتہ کیا تھا؟فاحا نے ایک بار پھر اسیر کا پوچھا
“وہ حویلی میں نہیں ہوتا تو باہر سے کچھ کھالے گا یا پھر یہاں آکر۔۔صنم بیگم نے بتایا
“اچھا آپ جائے میں اقدس کو لیکر آتی ہوں۔۔فاحا نے اُن کی بات سُن کر کہا
“ہاں سہی ہے جلدی سے آجانا ویسے بھی وہ کچھ دن کے بعد اپنے اسکول واپس چلی جائے گی۔۔صنم بیگم نے جواباً کہا تو فاحا خاموش سی اُن کا چہرہ تکنے لگی
“کیا ہوا؟صنم بیگم کو اُس کا اِس طرح سے دیکھنا سمجھ میں نہیں تھا آیا
“کونسے اسکول؟فاحا نے اُلٹا اُن سے سوال کیا
“وہ بورڈنگ اسکول جائے گی وہاں رہتی ہے اور پڑھتی ہے تمہیں پتا ہوگا۔۔صنم بیگم نے بتانے کے بعد پوچھا
“کیا اقدس اکیلے جانے سے روتی نہیں وہ تو بہت چھوٹی ہے اور وہ تو ویسے بہت محبت کرتے ہیں اپنی بیٹی سے پھر وہاں کیوں چھوڑا ہوا ہے اقدس کو؟فاحا اُن کی بات پر پوچھنے لگی
“یہ اسیر کی مرضی ہے وہ اُس کا باپ ہے اگر وہ یہ فیصلہ کرچُکا تھا تو کچھ سوچ سمجھ کر کیا ہوگا ورنہ اسکول تو یہاں گاؤں میں بھی ہے لیکن اسیر نے اُس کا داخلہ نہیں کروایا ہوسکتا ہے وہ چاہتا ہو کہ وہ اِس ماحول سے دور رہے۔۔۔صنم بیگم نے اپنی سوچ مطابق بتایا تو فاحا سر کو جنبش دیتی اندر کی طرف بڑھی تھی تاکہ اقدس کو جگا سکے







“اُٹھو
“اُٹھو
آریان کی آنکھ صبح بارہ بجے کے وقت کُھلی تھی لیکن میشا کی اُس وقت بھی نہیں تبھی اُس کو آوازیں دے کر جگانے کی کوشش کرنے لگا
“کھڑاٹوں کی سردارنی جاگ جاؤ صبح ہوگئ ہے۔۔۔آریان نے اِس بار اُس کے بالوں کو ہلکا سا کھینچا تو میشا نے پٹ سے اپنی آنکھوں کو کھول کر آریان کو گھورا
“کیا موت پڑی ہے تمہیں۔۔میشا اپنے دُکھتے سر کو دباتی اُٹھ کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے استفسار ہوئی
“پہلے تو اپنی ٹون سیدھی کرو کیونکہ میں تمہارا شوہر ہوں اور میرے بہت سے حقوق تم سے نکلتے ہیں۔۔۔آریان نے تھوڑا روعب سے کہا
“جی سرتاج کیا موت پڑی ہے؟”کوئی موت پڑی بھی ہے یا اسپیشلی یہ بتانے کے لیے مجھے نیند سے جگایا ہے۔۔میشا نے دانت پہ دانت جمائے اُس سے کہا
“تم کیسی بیوی ہو جو ابھی تک سوئی پڑی ہو اور یہاں شوہر سات بجے کا جاگا اِس انتظار میں ہے کہ کب اُس کی بیوی اُٹھے گی اور ناشتہ دے گی جس کے آثار مجھے ابھی تک نظر نہیں آرہے جبکہ دن کے بارہ کا وقت ہوگیا ہے۔۔۔آریان نے اُس کو شرم دلاتے ہوئے کہا
“بارہ روز بجتے ہیں کوئی پہلی بار نہیں ہوئے اور میں سوئی بھی تو تین بجے تھی تمہارے کھڑاٹوں کی آواز نے مجھے رات بھر سونے نہیں دیا لیکن میں نے بھی سوچ لیا ہے رات کو یا میں اپنے کانوں میں روئی ٹھونسوں گی یا پھر تمہارے منہ میں ایلفی ڈالوں گی۔۔”تاکہ سکون کی نیند تو میسر ہو۔۔میشا نے کہا تو اُس کی بات سن کر آریان کا پورا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا وہ حیرت سے میشا کو گھورنے لگا جو جمائی لینے میں تھی۔
“کتنی جھوٹی ہو یعنی میں کھڑاٹے لگاتا ہوں؟آریان تو خود پر لگے ایسے الزام پر بھڑک اُٹھا
“نہیں تم تو سوتے ہوئے پھول برساتے ہو لیکن میں بتارہی ہوں اگلی بار میں نے تمہارے کھڑاٹوں کو رکارڈ کرنا ہے تاکہ ایسی حیرانگی والی شکل نہ بناؤ۔میشا اُس کو دیکھ کر طنز بولی
“اُٹھ گئ ہو نہ اب جاؤ اور اچھی بیویوں کی طرح اپنے شوہر کی خدمت کرو میرے لیے ناشتہ لاؤ۔۔آریان اُس کی بات اگنور کرتا شانِ بے نیازی سے بولا
“کیا؟
کیا ؟
کیا؟؟؟
“میشا لگا شاید اُس کو سُننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے
“کیا کیا کیا لگایا ہوا ہے؟آسان اُردو میں بولا ہے سمجھ نہیں آرہا؟ تو سُنو جاؤ اور میرے لیے ناشتہ لاؤ۔۔آریان نے اُس کے اُپر سے چادر کو کھینچ کر دور کیا
“تم مجھ سے کام کرواؤ گے کیا اِس وجہ سے شادی کی تھی؟”اور یہ اِتنا بڑا گھر کیا بھوت بنگلا ہے کوئی کُک یا ہلپر نہیں؟میشا بے یقین سی اُس کو دیکھ کر بولی
“تھے لیکن اب اُن کی چھٹی کردی ہے کیونکہ ہماری اب زوجہ محترمہ جو آ چُکی ہیں۔۔آریان نے کالر جہاڑ کر فخریہ انداز میں بتایا
“اچھا تو اب تم مجھے یہاں اپنی نوکرانی بن کر رکھنا چاہتے ہو”مت بھولو کہ میں کون ہوں ایک منٹ میں تمہاری ساری ہڈیاں توڑ سکتی ہوں۔۔میشا نے تپ کر اُس سے کہا
“تم نوکرانی سے نوک”*ہٹاؤ تو بنتا ہے رانی۔۔آریان نے بٹرنگ کرنا شروع کردی
“میں میشا ہوں اور مجھے میشا رہنے دو رانی مُکھرجی بننے کا مجھے کوئی شوق نہیں۔۔میشا نے تکیہ اُس کی طرف پھینک کر کہا
“گُستاخ بے ادب ہو تم۔۔آریان نے زچ ہوتی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا
“جو کہنا ہے کہہ دو لیکن میں گھرداری نہیں کرنے والی کیونکہ میں کوئی گھریلو ٹپیکل لڑکی نہیں ہوں جو اپنے شوہر کی جی حضوری کرتی رہتی ہے اپنا آپ مار کر اُس کا پیٹ پالتی ہے۔۔میشا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بہت کچھ باور کروایا تھا”اور آریان کو اب سمجھ آیا تھا کہ میشا اُس سے شادی کرنے پر اِتنی جلدی راضی کیوں ہوگئ تھی کیونکہ اُس نے اُس کی زندگی میں داخل ہوکر اُس کا جینا حرام کرنا تھا۔۔”جو وہ پہلے ہی دن سے بخوبی کررہی تھی۔
“تم چاہے گھریلو ٹپیکل بیوی نہ سہی لیکن میں ایک ٹپیکل شوہر ضرور ہوں جس کو اپنی بیوی کچن میں کھانا پکاتی اچھی لگتی ہے اور جب اُس سے پیاس کی بوء آتی ہے تو ایسا لگتا ہے دُنیا میں اِس سے زیادہ خوبصورت کوئی خوشبو نہیں ہوسکتی سارے لیٹیسٹ پرفیوم ایک طرف اور پیاس کی بوء ایک طرف جو میں چاہتا ہوں وہ تم سے آئے۔۔آریان نے سوچ لیا تھا وہ میشا کو سُدھار کے رہے گا”لیکن اُس کی آخری بات پر میشا ہونک بنی اُس کا منہ تکنے لگی
“کیا تمہارا دماغ خراب ہے؟”میشا حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی
“اگر یہ ساری کوالٹیز تم میں نہیں تو ٹھیک ہے مجھے بیٹی دو۔۔آریان نے نیا مدعا بیان کیا
“کیا دوں؟میشا آنکھیں پھاڑے اُس کو گھورنے لگی
“اُردو کم سمجھنے لگی ہو کیا؟”میں نے کہا مجھے ڈاٹر چاہیے تاکہ اُس کو میں سگھر بناؤ جو اپنے باپ کی سیوا کریں اور پھر بعد شوہر کی۔۔۔آریان ایسے بولا جیسے ابھی میشا اُس کو اپنے قد جتنی بیٹی آریان کو تھما دے گی۔
“ہاں بیٹیاں تو ہوتیں ہی اِس لیے ہیں خیر میری ڈیوٹی شروع ہے اگلے دن میں بھی اب اپنے کام پر جایا کروں گی کیونکہ ایک کیس کی وجہ سے میں ویٹریس اور نرس بنی تھی لیکن اب وہ کیس سولو ہوگیا ہے تو میرے گھر پہ ہونے کا کوئی ایک وقت نہیں ہوگا یہ بات تم سمجھ لو۔۔میشا اب کی سنجیدہ ہوئی تھی
“تم تو میٹرک فیل تھی نہ۔۔آریان نے ایک بار اُس سے یہ کہا
“میں میٹرک فیل نہیں تھی تم سے جھوٹ بولا تھا اِتنی بار بتایا تو تھا۔۔میشا تپ کر بولی
“اچھا سہی ہے اب میرے لیے لائیٹ سا ناشتہ لاؤ۔۔آریان نے کہا تو میشا کی نظر وال کلاک پر گئ
“ناشتے کا وقت گیا ابھی تم لنچ کرنا اپنے ہاتھوں کا بنا ہوا۔۔میشا طنز انداز میں کہتی بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی
“پکی جہنمی ہو۔۔آریان نے اُس کو وارڈروب کی طرف بڑھتا دیکھتا تپے ہوئے انداز میں بولا
“تم کونسا جنتی ہو آیا بڑا مجھے جہنمی کہنے والا۔۔میشا نے پلٹ کر اُس کو گھورے جواباً کہا اور واشروم کی طرف بڑھ گئ پیچھے آریان ہکا بُکا سا رہ گیا تھا۔
“میں بھی جہنمی؟میشا کے جانے کے بعد آریان بیحد آہستہ آواز میں خود سے بڑبڑانے لگا







“بابا جان اب ہماری نئ مما آئی ہے تو ہم اُس کے ساتھ ہوگے ہمیں حویلی سے دور نہیں جانا۔۔۔اقدس نے جیسے اپنے شہر جانے کا سُنا تھا تب سے اُس نے ایک ہی رٹ لگائی ہوئی تھی جس سے اسیر پریشان ہوگیا تھا۔
“بابا کی جان لیکن کیوں؟”وہاں تو آپ کے فرینڈز ہیں اور پڑھائی بھی تو کرنی ہوتی ہے نہ۔۔اسیر نے پیار سے اُس کو پچکارا
“لیکن وہاں ہمارا اپنا کوئی نہیں ہوتا اور ہمیں سب کی بہت یاد آتی ہے اور اب تو نئ مما کی بھی آئے گی۔اقدس نے کمرے میں فاحا کو آتا دیکھ کر اسیر سے کہا
“اگر اقدس جانا نہیں چاہتی تو آپ کیوں بضد ہے یہاں کے اسکول میں وہ دسویں تک پڑھ لے گی اور ماشااللہ تب بڑی ہوجائے گی کچھ تو آپ اقدس کا ایڈمیشن شہر میں کروا لیجئے گا اور ابھی یہ چھوٹی سی بچی ہے اپنے والدین کے بغیر کیسے رہ پائے گی۔۔فاحا اقدس کے ساتھ بیٹھتی اسیر سے بولی
“بچے آپ زرا دادو کے پاس جائے ہم پھر وہاں آتے ہیں۔۔اقدس کو دیکھ کر اسیر نے اُس سے کہا”فاحا کی بات کا جواب اسیر نے اقدس کی موجودگی میں دینا سہی نہیں سمجھا تبھی اقدس سے کہا جو منہ لٹکا کر کمرے سے نکل گئ تھی۔
“پچھلے ایک سال سے اقدس وہاں رہی ہے اب آپ ایسی باتیں کرکے ہماری بچی کا دماغ خراب نہ کرے ہم جو کچھ کررہے ہیں اُس میں اقدس کی بھلائی ہے۔۔اقدس کے جانے کے بعد اسیر اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا
“کیسی بھلائی ہوئی اِس میں اگر آپ یوں ضد کرینگے تو اقدس آپ سے دور ہوتی جائے گی۔۔فاحا نے ایک اور کوشش کی اُس کو سمجھانے کی
“فاحا ہم نے بتایا نہ جو ہم کر رہے ہیں اِس میں اقدس کا بھلا ہے تو آپ کیوں ضد کررہی ہیں؟اسیر اُس کو دیکھ کر ضبط سے بولا
“کیونکہ اگر والدین اولاد کے ساتھ ایسے ضد کرینگے اُن کی مرضی کے بغیر فیصلہ لینگے تو اولاد اُن سے بدزن ہوجاتی ہے۔۔فاحا نے ایک آخری کوشش کی
“ہماری اقدس ہم سے کبھی اختلاف نہیں کرسکتی کیونکہ وہ جانتی ہے
” if you have strict parents always remember that,
Diamonds have higher security then iron.
“اسیر فاحا کی بات کے جواب میں کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن اچانک اقدس کی آواز پر دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں اقدس کھڑی تھی وہ شاید اسیر کے کہنے کے باوجود وہاں سے گئ نہ تھی۔
“یہ آپ سے کس کو کس نے سِکھایا؟فاحا کو حیرت ہوئی اُس کو چھ سال کی بچی سے ایسی بات ایسی لائینز کی توقع نہ تھی۔
“ایک مرتبہ نہیں کئ مرتبہ بابا جان نے اقدس کو کہا تھا کہ اگر والدین سخت ہوتے ہیں تو اُن کی سختی کو دل پر نہیں لیا کرو بلکہ اُس سختی میں چُھپی اپنی محبت کو تلاش کیا کرو”اور اقدس اپنے بابا سے بہت پیار کرتی ہے اگر وہ چاہتے ہیں اقدس شہر جائے تو وہ شہر جائے گی۔۔۔اقدس نے لاجواب کرنے والا جواب دیا تو اسیر نے اُس کو بانہوں میں بھر کر اپنے سینے سے لگاکر اُس کا ماتھا چوما تھا۔
“اب کیسے مان لی ہماری بات؟اسیر نے اُس سے پوچھا
“آپ دونوں ہماری وجہ سے لڑ رہے تھے اور یہ بات اقدس کو پسند نہیں آئی۔۔اقدس نے سرجُھکائے بتایا تو وہ دونوں اپنی جگہ شرمندہ ہوئے تھے
“ایک مشورہ دوں آپ کو؟فاحا نے کچھ سوچ کر اسیر سے کہا
‘قابلِ قبول ہے تو دے۔۔اسیر نے کہا
“اِس بات سے کیا مطلب ہوا آپ کا کہ فاحا فضول مشورے دیتی ہے؟فاحا تپ اُٹھی
“لگتا ہے آج آپ کا لڑنے کا موڈ ہے۔۔اسیر طنز ہوا لیکن اقدس اپنی آنکھوں کو بڑا کیے کبھی اپنے باپ کو دیکھتی تو کبھی اپنی نئ مما کو
“فاحا لڑائی نہیں کرتی اِس لیے سیدھی بات کروں گی آپ بس اقدس کو اِس ماحول سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو سہی ہے اقدس کا اسکول میں داخلہ کروائے لیکن وہ بورڈنگ اسکول نہیں جائے سوہان آپو اور میشا آپو کے ساتھ اُن کے سسرال رہے گی۔۔۔فاحا کسی خیال کے تحت بولی
“ہم اپنی بیٹی کسی غیر کے گھر میں رہنے کو کیوں دے؟”بورڈنگ اسکول میں تو سب بچے ہوتے ہیں۔۔اسیر کو اُس کی بات سے اختلاف ہوا
“وہ غیر نہیں ہماری بہنوں کا گھر ہے جو آپ کی بھی کچھ لگتی ہیں۔۔’لفظ “غیر”فاحا کو بُری طرح سے چُھبا تھا
“دُرانی برادرز سے ہمارا کوئی خونی رشتہ نہیں ہے فاحا اِس لیے ایسی باتیں نہ کرے۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے بھرپور آواز میں کہا
“آپ ضد کیوں کررہے ہیں؟”یقین جانے بورڈنگ والوں سے زیادہ آپو اُس کا خیال کرینگی۔۔۔اقدس کو دیکھ کر فاحا نے اُس کو یقین دِلوانا چاہا
“فاحا سوہان گھر کس وقت آتی ہے یہ بات آپ کو پتا ہے وہ ایک وکیل ہے آنے جانے کا وقت نہیں ہوتا اُس کا اور میشا ایک لاپرواہ لڑکی ہے وہ بھی اب آن ڈیوٹی ہوگی پھر ہم کس کے آسرے اپنی بچی کو وہاں چھوڑے؟اسیر نے سنجیدگی سے کہنے کے بعد اُس سے پوچھا تو فاحا حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی جس کو شاید اپنے الفاظوں کا اندازہ نہیں تھا
“اسیر آپ کو اندازہ ہے آپ کی اِن باتوں سے مطلب کیا اخذ ہورہا ہے؟فاحا نے تعجب سے اُس کو دیکھ کر کہا اُس کی آنکھوں میں بے یقینی کا عنصر صاف نمایاں تھا
“ہماری بات کا کوئی بھی مطلب نہیں ہے اور ہم ایک بیٹی کے باپ ہیں بورڈنگ اسکول چھوڑ سکتے ہیں وہاں کے انتظامیہ کا ہمیں پتا ہے لیکن کسی کے گھر ہم اپنی بچی نہیں چھوڑ سکتے۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا
“لیکن وہاں اُن دُرانی برادرز کے علاوہ ہے کون جس سے آپ خوفزدہ ہیں؟فاحا نے اُلجھ کر پوچھا
“ہمارے بابا نے اُن کے بابا کا قتل کروایا تھا اور اب آپ چاہتی ہیں ہم اپنی بچی وہاں چھوڑے؟اسیر نے کہا تو اِس بار فاحا کو گویا چُپ لگ گئ تھی۔
