Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 47)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 47)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“تم ٹھیک ہو؟”ایشال اور عیشا اُن دونوں کی طرف آئی تھی۔۔”سوہان اور زوریز جبکہ اپنے لاڈلے کو گِرا دیکھنے کے بعد ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے
“ہم ٹھیک ہے۔۔”المان شرمندہ ہوتا بولا
“گِرے کیسے؟”سکندر نے حیرت سے پوچھا
“سوئے ہوئے تھے کیا؟”اور اب کیا یہ دوبارہ تمہیں گِر کر دِکھائے کہ ایسے گِرے تھے۔۔”رایان کو سکندر کا سوال بے تُکہ سا لگا تھا۔۔”تبھی کہا جس پر سکندر نے اُس کو گھورا جو کھاء ایسے رہا تھا جیسے پیچھے اُس کی ٹرین چھوٹ رہی ہو
“بیٹھ جاؤ۔۔”کُرسی کو سیدھا کرتی ایشال زوہان کو کہنے لگی جو اُس کو گھور رہا تھا
“میرا ہوگیا۔۔۔”زوہان نے بتایا
“کیا ہوگیا؟”ایشال نے مسکراہٹ دبائے پوچھا
“کچھ نہیں۔۔”زوہان تپ کر بولا
“ہانی تمہیں ہم نے کچھ بھی کھاتا ہوا نہیں دیکھا۔۔”اقدس زوہان کو دیکھ کر فکرمندی سے بولی
“میں نے بھی کچھ نہیں کھایا۔۔”ایسا کرو یہ کباب کی پلیٹ پاس کرو۔۔”اور روٹیاں گرم لاؤ یہ ٹھنڈی ہوگئیں ہیں۔۔”زوہان کے کچھ کہنے سے پہلے آتش درمیاں میں بول پڑا
“لاتے ہیں۔۔۔اقدس اُس کو تاسف سے دیکھ کر کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی
__________________
ہاہاہاہاہا آج تو مزہ آگیا۔۔”عیشا نے ہنس کر ایشال کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہا
“دونوں کی شکلیں دیکھنے لائق تھی۔۔”اور وہ نیلی آنکھوں والا تو چھوئی موئی بن چُکا تھا۔۔”ایشال زوہان کے بارے میں سوچتی ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہونے لگی تھی
“ہاں پر اُن کے گِرنے والے عمل نے جیسے ساری باقی کی کثر کو پورا کردیا تھا۔۔”عیشا نے لقمہ دیا
“یہ سب کیا تھا نیچے؟”وہ ابھی آپس میں باتوں میں تھیں۔۔”جب اچانک سے زوہان ایشال کے روبرو اور المان عیشا کے مقابل کھڑا ہوتا اُن سے مُخاطب ہونے لگے
“کیا تھا؟”زوہان کو دیکھتی ایشال نے اُس سے پوچھا
“تم نے وہ کیوں کیا؟”اِس کا جواب تو دو۔۔”المان عیشا کو گھور کر پوچھنے لگا
“میں نے کچھ غلط تو نہیں تھا کیا۔۔”ایشال زوہان کو دیکھتی بڑی مشکل سے مسکراہٹ ضبط کرنے لگی
“ہمارے سامنے یوں معصوم بنے کی کوشش مت کرو۔۔”المان آہستہ آہستہ اُس کی طرف اپنے قدم بڑھاتا بولا تو عیشا کی پشت دیوار سے لگی تھی۔
“مذاق کیا تھا تم تو بُرا ہی مان گئے۔۔”عیشا نے مسکرا کر بتایا
“ایسا ہوتا ہے مذاق؟”زوہان تاسف سے ایشال کو دیکھنے لگی۔۔
“تو کیسا ہوتا ہے؟”عیشا نے آنکھیں پِٹپٹاکر معصومیت سے پوچھا
“ایسے ہوتا ہے۔۔۔”کہنے کے ساتھ ہی المان نے اُس کو اپنی طرف کھینچا تو عیشا کی آنکھیں پوری کُھلی کی کُھلی رہ گئ تھی۔۔”وہ حق دق سی المان کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پر چڑانے والی مسکراہٹ تھی۔
“یہ کیا ہے؟”ایشال حیرت سے زوہان کو دیکھنے لگی جس نے دیوار کے دونوں اطراف اپنے ہاتھ رکھ کر اُس کے جانے کے سارے راستے مسدود کردیئے تھے
“رومانٹک بننا کیا تمہیں آتا ہے؟”ہم نے سوچا تھوڑی بہت کوشش ہمیں بھی کرنی چاہیے۔۔”المان اپنا ہاتھ اُس کی کمر پر رکھ کر بولا تو عیشا کی پیشانی پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگی تھی۔۔”اُس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسا المان کہہ رہا تھا۔۔
“تم فلرٹی نہیں بن گئے؟”ایشال نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“تمہارے چہرے کی ہوائیاں کیوں اُڑی ہوئی ہیں؟”باہر تو سب کے سامنے کافی بولڈنس کا مُظاہرہ کیا تھا؟”المان نے عیشا کی پتلی ہوتی حالت پر بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ کو کنٹرول کیا تھا
“سوچ رہی ہوں کہ یہ اچانک تمہارے اندر کونسا جن گُھس گیا ہے۔۔”عیشا بولے بغیر نہ رہ پائی
“یہ وہ جن ہے جو کچھ دیر پہلے تمہارے اندر گُھسا تھا۔۔”ایشال کو اپنی نظروں کے حصار میں لیکر بتانے لگا
“اگر واقعی تمہارے ایسے ارادے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔”عیشا ایک قدم اُس کی طرف بڑھاتی اُس کے کندھوں پر اپنے دونوں بازو حائل کرکے کہنے لگی تو المان کی شوخی پل بھر میں غائب ہوئی تھی۔۔”اُس کو ریٹرن میں عیشا سے ایسے کسی عمل کی توقع نہ تھی
“کیا ہوا فیوچر میں ہونے والے شوہر؟”ایشال نے زوہان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو اُس کی بدلتی رنگت سے لطف اندروز ہوتی ایشال شریر مسکراہٹ سے پوچھنے لگی۔۔۔
“تم کافی بولڈ نہیں ہوگئ؟”المان افسوس سے عیشا کو دیکھنے لگا
“تم سے کیسی شرم تم تو ہونے والے شوہر ہو یہ دیکھو انگھوٹی۔۔”ایشال نے اپنا ہاتھ زوہان کے آگے لہرایا
“یہ تمہاری موم نے پہنائی ہے آج مجھے۔۔۔”ایشال نے جیسے اُس کی معلومات میں اضافہ کیا
“منکوحہ ہو تو اِس کا یہ مطلب نہیں ہوا کہ تم حدیں پھلانگوں۔۔۔”المان سنبھل کر اُس سے کچھ قدم دور ہوکر بولا
“نکاح کے بعد کوئی حد نہیں ہوتی بس جو نکاح کے بعد ہوتا ہے وہ بے حد ہوتا ہے اور آج منگنی ہوئی ہے تو جلد نکاح بھی ہوجائے گا۔۔”ٹینشن کیوں لیتے ہو؟”ایشال آرام سے اُس کو دیکھ کر بولی
“ہمیں لگتا ہے کہ خالہ نے ہمیں آواز دی ہے۔۔”المان نے فوراً سے بہانا تراشا۔۔”آج وہ دونوں جو خود کو کافی سنجیدہ ظاہر کرتے تھے اپنی اپنی بندی کی باتوں اور حرکتوں پر اسٹار پلس کے ڈراموں کی ہیروئن کی طرح چھوئی موئی سے بن گئے تھے۔۔
“تمہیں جانے کی جلدی کیوں ہے؟”کیا میں خوبصورت نہیں؟”ایشال نے مصنوعی افسوس بھرے تاثرات اپنے چہرے پر سجائے
“خالہ کی آواز میں نے تو نہیں سُنی۔۔”تمہارے کان لگتا ہے کہ ایکسٹرا ایکٹو ہوچکے ہیں۔۔”تبھی جو کوئی بول نہیں رہا وہ تمہیں سُنائی دے رہا ہے۔۔”عیشا اپنی مسکراہٹ کا گلا گھونٹ کر جواباً بولی
“تم بہت خوبصورت ہو پر اگر تھوڑی شرم کرو گی تو اور زیادہ پیاری لگوں گی۔۔”ایشال نے اُس کے دوسرے ہاتھ پر بھی اپنا ہاتھ رکھنا چاہا تو زوہان گڑبڑا کر بولا اُس نے کب سوچا تھا کہ ایشال ایسی بے باکی کا مُظاہرہ بھی کرسکتی تھی
“تمہیں شرم نہیں آتی اپنی بیوی کو بے شرم بولتے ہوئے؟”عیشا نے المان کو گھور کر کہا تو اُس کی سیٹی گُم ہوئی تھی
“میں نے تمہیں بے شرم نہیں بولا وہ بس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حیا عورت کا زیور ہوتی ہے۔۔”زوہان نے جلدی سے کہا
“مان ڈارلنگ تمہیں تو پتا ہے نہ مجھے جیولری اٹریکٹ نہیں کرتی۔۔”اُس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتی عیشا آنکھ ونک کیے بولی
“جی موم آیا۔۔۔”ایشال سے جلدی سے دور ہٹتا وہ اُونچی آواز میں کہتا وہاں سے بھاگا تھا وہ جان گیا تھا کہ وہ ایسا بے باک کبھی نہیں بن سکتا تھا جیسا مُظاہرہ وہ لڑکیاں ہوکر کرنے لگی تھی۔
“کہاں جارہے ہو؟”تم نے تو خود بولا تھا کہ تمہیں رومانٹک بننے کی کوشش کرنی ہے۔۔”المان بھی جانے لگا تو عیشا اُس کا بازو پکڑ کر بولی
“سب لوگ جانے لگے ہیں۔۔”وقت بہت ہوگیا ہے تم بھی آجانا۔۔۔”المان بنا سانس لیے کہتا وہاں سے نو دو گیارہ ہوگیا تو اُن دونوں کو ایسے بھاگتا دیکھ کر ایشال اور عیشا دل کھول کر ہنسی تھیں








“خوریہ کے لاکھ احتجاج کے باوجود اُس کو آج عفان کے ساتھ رُخصت کردیا گیا تھا۔”جس کے کمرے میں بیٹھی وہ ناچاہتے ہوئے بھی اُس کا انتظار کررہی تھی۔۔”جو جانے کہاں گُم تھا
السلام علیکم ۔۔۔”عفان کمرے میں داخل ہوا تو بیڈ پر خوریہ کو بیٹھا دیکھ کر اُس کے چہرے پر مسکراہٹ ڈور گئ تھی۔۔”تبھی اُس کے پاس بیٹھا وہ اُس کو سلام کرنے لگا
وعلیکم السلام ۔۔۔”خوریہ نے سنجیدگی سے جواب دیا
“میں جانتا ہوں تم یہ رُخصتی نہیں تھی چاہتی۔۔”عفان نے کہا
“جاننے کے باوجود تم نے یہ رُخصتی ہونے دی۔۔”گونگھٹ اُلٹ کر خوریہ طنزیہ نگاہوں سے اُس کو دیکھ کر بولی
“جی میں نے ہونے دی۔۔”کیونکہ نکاح کے بعد یہ رخصتی ہونا ضروری تھی۔۔”عفان نے سنجیدگی سے بتایا
“تمہیں پتا ہے میں تمہیں پسند نہیں کرتی اُس کے باوجود بھی تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ رہوں؟”خوریہ کو اُس پر غُصہ آیا
“آپ پسند نہیں کرتی لیکن میں محبت کرتا ہوں آپ سے۔۔”عفان نے بتایا
“محبت؟”خوریہ نے اُس کا لفظ دوہرایا اور پھر ہنس پڑی جس پر عفان بس خاموش سا اُس کو دیکھنے لگا
“اِس میں ہنسنے والی کوئی بات نہیں۔۔”عفان نے سنجیدگی سے کہا اُس کو اپنی اور اپنی محبت کی توہین محسوس ہوئی تھی
“میں نہیں ہنستی لیکن یہ بتاؤ کہ کیا تمہیں محبت کا مطلب بھی پتا ہے۔۔”خوریہ بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ کو روک کر سوال گو ہوئی
“جی پتا ہے۔۔”عفان نے کہا
“زرا بتانا۔۔”خوریہ نے پوچھا
“خوریہ۔۔۔”عفان نے بس اُس کا نام لیا تو وہ خاموش ہوئی
“مطلب؟”خوریہ جزبز ہوئی
“میری نظر میں محبت کا مطلب”خوریہ”ہے آپ ایک بات پر ہمیشہ نالاں رہتیں تھیں ناکہ آپ کا نام خوریہ کیوں رکھا گیا؟”جس کا کوئی مطلب نہیں تو میرے لیے خوریہ کا مطلب “محبت”اور محبت کا مطلب خوریہ ہے۔۔”عفان اُس کو دیکھ کر ہلکی مسکراہٹ سے بولا تو خوریہ بُری طرح سے کنفیوز ہوگئ تھی۔۔”اُس کو زرا برابر اندازہ نہیں تھا کہ عفان اُس سے ایسی باتیں بھی کرسکتا تھا
“جانتا ہوں آپ کو میری بات پر یقین نہیں آیا ہوگا۔۔”لیکن یہ سچ ہے۔۔”میں نے ہمیشہ آپ کو چاہا تھا پر جب آپ کی منگنی عرفان بھائی سے ہوئی تو میں نے سوچ لیا تھا کہ آپ کی محبت سے دستبردار ہوجاؤں گا۔۔”کیونکہ پھر میرا رشتہ حور سے جڑگیا تھا۔۔”اُس کا بھائی سے کیوں نہیں اور آپ کا میرے ساتھ کیوں نہیں ہوا؟”اِس بات پر ہمیشہ مجھے غُصہ آجاتا تھا جس پر میرا رویہ ایسا رہتا تھا۔۔”اُس کو خاموش دیکھ کر عفان نے مزید کہا
“اگر ایسی بات ہے تو نکاح کے بعد تم نے ایسا ری ایکٹ کیوں کیا تھا؟”اگر واقعی تمہیں مجھ سے پیار تھا تو تمہیں میرے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔۔”پر تم تو اکیلا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔۔”یہ کیسی محبت تھی تمہاری؟”خوریہ نے پوچھا تو عفان اُس کا چہرہ دیکھنے لگا جو ہر احساس سے پاک تھا۔۔”لیکن اُس کی آنکھوں میں اُلجھن صاف ظاہر تھی
“میں نے بتایا نہ کہ آپ کو میں پھر اپنی بھائی کی منگ سمجھنے لگا تھا۔۔”اچانک سے جو قسمت نے رُخ پلٹا اُس پر میں شدید حیران تھا۔۔”کیا کروں؟”کیا نہ کروں کی کشمش میں مبتلا ہوکر میں جانے کیا کرگیا اُس کا احساس مجھے تب ہوا جب کافی دیر ہوگئ تھی۔۔”آپ لوگ یہاں سے چلے گئے تھے۔۔”میں نے آپ کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن پتا نہیں چلا۔۔”پھر ایک دن جب حوریہ کا ناول شائع ہوا۔۔”اُس کا انٹرویو دیکھا جب اُس کا لکھا ہوا ڈرامہ چوری ہوا تو پتا چلا تم لوگ بہاولپور ہو۔۔”پر وہاں جب آیا میں تو پتا چلا حوریہ نے اپنی رہائش کا پتا غلط دیا تھا۔۔”عفان نے تفصیل سے اُس کو دیکھ کر بتاتا گیا جس پر خوریہ کچھ بھی بولنے کے قابل نہ رہی تھی۔۔”اُس کو اچھے سے یاد تھا۔۔”عفان اُس سے پورے دو سال بڑا تھا لیکن اُس کے بڑے بھائی کی منگ ہونے کے بعد وہ اکثر اُس پر اپنا روعب جماتی تھی۔۔”اُس کو بہت برا بُھلا بھی کہتی تھی پر وہ کبھی پلٹ کر اُس کو جواب نہ دیتا تھا۔۔”اُس کی ہر بدتمیزی کو وہ برداشت کرجایا کرتا تھا۔۔”حوریہ کے ساتھ وہ جیسے بھی رویہ اختیار کرتا لیکن اُس کو کچھ کہتا نہیں تھا پر اُس کو سمجھ ابھی بھی نہیں آیا تھا کہ وہ احترام یہ اپنی محبت سے مجبور ہوکر کرتا تھا یا اپنے بڑے بھائی کی منگیتر سمجھ کر کرتا تھا
“مجھے تم پر اعتبار نہیں۔۔”سوچ ویچار کے بعد خوریہ یہی بول پائی
“اچھی بات ہے۔۔”اِتنی جلدی کسی پر یقین کرنا چاہیے بھی نہیں۔۔”عفان اُس کی بات پر ہلکی مسکراہٹ سے بولا
“میں تم پر یقین کیسے کروں؟”اگر واقعی میں تمہیں پسند تھی تو تم نے اِظہار کیوں نہیں کیا؟”اور منگنی پھر حور سے کیوں کری؟”اُس پر اِتنا حق کیوں جتاتے تھے؟”تم نے مجھے پانے کی کوشش کیوں نہ کی تھی؟”جو سوالات اُس کے دماغ میں تھے وہ بلآخر پوچھ بیٹھی
“میں نے موم ڈیڈ سے بات کی تھی آپ کے بارے میں بتایا تھا کہ میں آپ کو چاہتا ہوں۔۔”پر اُنہوں نے مجھ سے یہ بول کر خاموش کروایا کہ اب “خوریہ تمہارے بڑے بھائی عرفان کی منگ ہے تو میں واقع خاموش ہوگیا۔۔”کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ بھائی مجھے یا آپ کو غلط سمجھنے لگے۔۔”عفان نے بتایا
“تم مجھے آپ کیوں کہتے ہو؟”خوریہ نے اگلا سوال کیا
“محبت میں احترام شرط ہے۔۔”عفان کا جواب تُرنت آیا تھا جس پر وہ لاجواب سی ہوگئ
“یقین نہیں آتا کہ تم وہ عفان ہو جو
“جو آپ کو لکھا پڑھا جاہل لگتا تھا۔۔”خوریہ کچھ کہنے لگی تھی۔”جب عفان اُس کی بات کو درمیان میں کاٹ کر بولا
“نہیں مطلب مجھے تم سے ایسی باتوں کو اُمید کبھی نہ تھی۔۔”خوریہ نے تھوڑا شرمندہ ہوکر بتایا
“اُمید تو مجھے بھی نہ تھی کبھی کہ آپ یوں میرے سامنے ہوگی وہ بھی پورے حق کے ساتھ میں پھر آپ کو دیکھوں گا بھی۔۔”عفان مبہم مسکراہٹ سے بولا
“مجھے بس ابھی اِس بات کی خوشی ہے کہ تم ابا جیسے نہیں ہو۔۔”خوریہ نے کہا تو وہ اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
“میں کبھی آپ کو ڈس پوائنٹ نہیں کروں گا۔۔عفان پُریقین لہجے میں بولا
“اِتنی ساری باتوں کے بعد اگر تم نے شکایت کا موقع دیا تو پھر میں تم پر یقین نہیں کرپاؤں گی دوبارہ۔۔”خوریہ نے سنجیدگی سے کہا
“میں آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔۔”عفان نے اُس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ بڑھایا تو وہ مسکرائی









“آج زوہان اور ایشال کے نکاح کا دن تھا تو دوسری طرف المان اور عیشا کی بارات۔۔۔”المان کو میشا نے ساری سچائی بتادی تھی تاکہ وہ کوئی بھی غلط سوچ اپنے دماغ پر حاوی نہ کرے۔۔”اور عیشا کو بھی مختصر سارا اُس نے بتادیا تھا جس کے بعد آریان نے اُن کو پھر رُخصتی کا دن بتایا تھا۔۔”اور پھر ایک ہی دن سارا ایونٹ اُنہوں نے سوچ لیا تھا۔۔”
“آپو وہاں نکاح ہونے لگا ہے اور یہاں آپ اکیلے بیٹھی ہو۔۔”ماہا اپنا لہنگا سنبھالتی اقدس کے ساتھ بیٹھتی بولی جو کافی چپ چاپ تھی
“ہمیں وہاں بھیڑ میں وحشت ہونے لگی تھی۔۔”اِتنے سارے میڈیا والے ہیں۔۔”جو ہمیں کوریج کررہے ہیں۔۔”طرح طرح کے سوالات کررہے ہیں۔۔”اقدس نے بتایا تو وہ مسکرائی
“آپو آپ آتش لُغاری کی بیوی ہو۔۔”آپ پر اب میڈیا والوں کی نظر تو ہوگی نہ اور دوسری بات یہ کہ آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں آئے اور اسٹیج پر بیٹھے ہانی بھائی بھی بہت بار آپ کا پوچھ چُکے ہیں۔۔”ایشال لُغاری کی شادی ہے تو ظاہری بات ہے یہ سب تو ہوگا نہ آپ کو اب اِن چیزوں کا عادی بنا لینا چاہیے۔۔”ماہا نے آج بڑی بہن بن کر اُس کو حوصلہ دیا
“ہمیں آتش کے ساتھ نہیں رہنا۔۔۔”اقدس اچانک سے بولی تو ماہا کو اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا
“آپو؟”ماہا بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی
“پتا ہے ماہی بچپن سے ہم احساسِ محرومی بھری زندگی گُزارتے آئے ہیں۔۔”دس سال تک معذور ہونے کا طعنہ ملا۔۔”اُس کا مسئلہ حل ہوا تو بس مزید دو سال سکون کے گُزرے اُس کے بعد چہرے پر جو داغ آیا اُس نے پھر سے محرومی میں مبتلا کردیا تھا۔۔”اور اب اُس دن جو آگ نے ہمیں جلایا اُس پر آتش جیسے شخص کے ساتھ ہمارا گُزارنا ممکن نہیں وہ ایک مکمل اور موڈی انسان ہے۔۔”اُس کا ہم سے دل بھرے اُس سے پہلے ہم اُس کی زندگی سے نکلنا چاہتے ہیں۔۔”ہم خوبصورت نہیں رہے اب۔۔۔”اور مرد کو خوبصورت عورت چاہیے ہوتی ہے۔۔”اقدس اپنے اندر موجود خدشات کو بیان کرنے لگی تو ماہا اُس کو دیکھتی رہ گئ۔۔”وہ یقین کرنے سے قاصر تھی کہ اُس کی بڑی بہن ایسی مایوس کن باتیں کررہی تھی وہ بہن جس کی ہر ایک بات اُس کے لیے موٹیویشنل ہوتی ہے جس سے اُس کو موٹیویٹ حاصل ہوتی تھی
“آپو جس کو آپ احساس کمتری بول رہی ہیں وہ آپ کی محرومی نہیں تھی بلکہ آزمائش تھی۔۔۔”آپ کا لنگڑا کر چلنا کچھ وقت تک کے لیے تھا کیونکہ آپ چھوٹی تھی بہت تب اور ایسے میں آپریشن ہونا کسی خطرے سے خالی نہ تھا۔۔”ڈاکٹرز کو شیورٹی بھی نہ تھی کہ تب آپ کا وہ آپریشن کامیاب ہوتا بھی یا نہیں تبھی اپنے دل پر پتھر رکھ کر کچھ وقت کا بابا سائیں نے انتظار کیا کیونکہ اُن کی جان ہو آپ۔۔۔”اور آپو اُس داغ کی بات نہ کرو اگر آپ بابا سائیں کی بات مان کر سرجری کروالیتی تو کچھ ہوتا ہی نہ ضد تو آپ نے خود سے باندھ لی تھی ۔۔”اور آپ خوبصورت ہو بہت خوبصورت جیسی پہلے آپ تھیں۔۔”آتش جیجو کا دل آپ سے کبھی نہیں بھرے گا کیونکہ آپ اُن کی زوجہ ہو دل بھرنے کا سامان نہیں۔۔”ماہا نے اُس کو اپنے ساتھ لگائے سنجیدگی سے کہا تو جانے کیوں اقدس کو پہلی بار یہ سب سوچتے ہوئے رونا آیا
“تم چھوٹی ہو اور ہماری پریشانی تم نہیں سمجھ سکتی۔۔”اقدس اُداس مسکراہٹ سے بولی
“نہ ماہا چھوٹی ہے اور نہ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔۔”آپ بلاوجہ خود پر بُری سوچو کو حاوی ہونے دے رہی ہیں۔۔”جبکہ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔”آتش جیجو آپ کو بہت چاہتے ہیں۔۔”ماہا نے اُس کی بات پر فوراً سے کہا
“مرد کی چاہت کو بدلنے میں وقت نہیں لگتا۔۔”خیر اب ہمیں جانا چاہیے۔۔”اقدس نے بات کو بدلنا مناسب سمجھا
“آپو۔۔”ماہا پریشان سی اُس کو دیکھنے لگی
“ہم ٹھیک ہے تم پریشان نہ ہو۔۔”اقدس چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجاکر بولی تو ماہا نے ٹھنڈا آہ بھری
“کچھ دیر میں زوہان اور ایشال کا نکاح بھی خیر و عافیت سے ہونے لگا تو ہر کوئی اُن کو مُبارکباد دینے لگا۔۔۔”جن کو زوہان اور ایشال دونوں مسکراکر وصول کررہے تھے۔۔”آج ایشال بہت خوش تھی۔”آج اُس نے اپنی چاہت کو پالیا تھا اور اپنی اِس خوشی کو وہ لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر تھی۔۔”اُس کو اپنی خوشقسمتی پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔”بے ساختہ گردن موڑ کر اُس نے اپنے ساتھ بیٹھے زوہان کو دیکھا جو بلیک شیروانی ملبوس کافی ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔”اُس کو دیکھتے وہ بے اختیار مسکرائی تھی
“مبارک ہو بھائی تمہاری نیا بھی پار لگ گئ۔۔”سکندر اور رایان مسکراکر اُس سے مل کر بولے
“خیر مبارک۔۔”زوہان نے مسکراکر جواباً کہا
“مبارک ہو آپ کو بھی۔۔۔”رایان نے ایشال کو دیکھ کر کہا
“شکریہ۔۔ایشال بھی مسکرائی تھی
واللہ یہ تیکھی چُھڑی سی سویٹ مٹھائی کیسے بن گئ؟”رایان کو ایشال کا اِتنی جلدی بدلنا ہضم نہیں ہوا تھا
“تمہیں میری تعریف کرنی چاہیے۔۔۔”عیشا اپنی ماتھا پیٹی کو سہی کرتی پاس بیٹھے المان کو دیکھ کر بولی
“تعریف؟”المان نے اُس کی طرف دیکھا جو عروسی جوڑے میں انتہا کی خوبصورت لگ رہی تھی اُس پر روپ بہت آیا تھا۔۔
“ہاں تعریف نکاح پر تو نہیں کی تھی۔۔”اب کردو۔۔”عیشا نے بھی اُس کی طرف دیکھ کر کہا تبھی رنگ میں بھنگ ڈالنے رایان اُن کی طرف آیا
“پیاری عیشو۔۔”رایان نے اُس کو مُخاطب کیا
“کیا ہے؟”عیشا سخت بیزار ہوئی اُس کی آمد پر کیونکہ ابھی تو وہ المان کے منہ سے اپنی تعریف سُننا چاہتی تھی۔۔”جانے کیوں آج اُس کا دل یہ عجیب خواہش کرہا تھا
آئے ہیو ون سرپرائز فار یو۔۔رایان نے اُس کو دیکھ کر بتایا
“شو می۔۔۔۔عیشا کو تجسس ہوا
“شیور۔۔۔”رایان نے کہا اور وہ سائیڈ پر ہوا تو ہال کی تمام لائیٹس آف ہوگئ تھی۔۔”لیکن اچانک پھر اسپاٹ لائیٹ پر ہر ایک نظر وہاں ٹھیر گئ تھی جہاں بلیک عبائے اور حجاب میں کوئی کھڑا تھا۔۔۔”لیکن جیسے ہی عیشا نے اُس کے چہرے پر غور کیا تو اُس کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا وہ بے یقین نظروں سے سامنے دیکھتی رہ گئ۔۔۔
“حوریہ؟”اپنے سامنے یوں اچانک سالوں بعد “حوریہ کو آتا دیکھ کر وہ بہت حیران ہوئی تھی۔۔
“یہ حوریہ عباسی ہے نہ؟”زوہان کی بھی نہیں نظر اُس پر گئ تو بولا
“تمہارا نکاح مجھ سے ہوا اور تمہیں اپنی نظروں کا مرکز ایشال لُغا سوری میرا مطلب ایشال زوہان دُرانی کو بنانا چاہیے۔۔”ایشال آس پاس دیکھے بنا زوہان کو دیکھ کر بولی تو زوہان بس اُس کو دیکھتا رہ گیا
“تمہاری آنکھوں میں جانے کیا تاثیر تھی جو میں نے سوچ لیا کہ تم سے محبت کرنا واجب ہے۔۔”ایشال نے مسکراہٹ دبائے اُس سے کہا
“واقعی؟”زوہان نے آئبرو اُپر کیے اُس کو دیکھا
“بلکل اور عربی میں ایک کہاوت ہے۔۔
“مجرد رؤیتک یکفیتی”
اور آپ کو دیکھ لینا میرے لئے کافی ہے”ایشال نے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا تو زوہان نے مسکراکر اُس کو دیکھا جو پہلے کی نسبت کافی بدلی بدلی ہوئی سی تھی۔
“کیسا لگا میرا سرپرائز پھر؟”رایان نے شوخ لہجے میں اُس کو مخاطب کیا تو پھر سے ساری لائیٹ آن ہونے پر وہ رایان کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی
“شادی مبارک ہو۔۔”اسٹیج پر آکر حوریہ نے جھجھک کر کہا تو عیشا جیسے ہوش میں آئی تھی
“تم یہاں کیسے؟”جگو یہ سب کیا ہے؟”عیشا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے ری ایکٹ کرے؟
“تم سے ملنے آئی ہے۔۔”آفٹر آل تمہارا اسپیشل ڈے ہے آج۔۔۔”رایان نے بتایا
“تمہیں حور کیسے ملی؟”مطلب تم دونوں کے درمیان تو سب ختم ہوگیا تھا نہ؟”دولہن بنی عیشا کو اُنہوں نے جیسے پاگل کرنے کا سوچا ہوا تھا
“ہمارے بیچ کیا تھا جو ختم ہوتا بس ایک کمنٹمنٹ تھی جس کو پورا کرنے حور آئی ہے۔۔۔”رایان دلکشی سے بولا
“مجھے کوئی ساری اپڈیٹ دے گا؟”عیشا نے زچ ہوکر کہا تو خاموش کھڑی حوریہ نے رایان کو دیکھا
“میں بتاتا ہوں۔۔۔”المان اور اُس کے درمیان بیٹھتا رایان بولا تو وہ دونوں تاسف سے اُس کو دیکھنے لگے۔۔۔”جبکہ اپنے چہرے پر نقاب لگاتی حوریہ آس پاس کا جائزہ لینے لگی۔۔”جبھی اُس کی نظریں زوہان اور ایشال پر پڑی جو آس پاس سے بے نیاز ایک دوسرے سے جانے کونسی باتیں کرنے میں مصروف تھے۔۔
__________________________
“ماضی
“حور اچھا ہوا جو مجھے یہاں مل گئ میں بھی تمہاری کی طرف آرہا تھا۔۔۔”حوریہ جو خوریہ کے کہنے پر تیز قدموں سے بھاگ کر جانے کہاں کا رُخ کرگئ تھی۔۔”راستے میں اُس کا رایان سے ٹکراؤ ہوا تو اُس کے چہرے پر ناگواری اُتر آئی تھی۔۔”آخر جو کچھ اُس کے ساتھ ہورہا تھا وہ رایان کی وجہ سے ہی تو ہورہا تھا
“کیوں؟”کیا کوئی تماشا رہ گیا تھا جس کو پورا کرنے اب آپ آرہے تھے۔۔”حوریہ طنزیہ نگاہوں سے اُس کو دیکھ کر بولی تو رایان کو حیرت ہوئی
“تم مجھ سے یہ کیسے بات کررہی ہو؟”رایان کو افسوس ہوا
“تو کیسے بات کروں؟”آپ خود بتائے۔۔”میری زندگی تو آپ نے جہنم سے بھی بدتر بنادی ہے۔۔”حوریہ نے کہا تو اُس نے گہری سانس بھر اُس کو دیکھا
“میرا مقصد۔۔”میری نیت صاف تھی حور۔۔”مجھے ون پرسنٹ بھی اندازہ نہیں تھا کہ اچانک سے ایسا کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔”یعنی لو اسٹوری کے اسٹارٹ سے پہلے ابا نے چھاپہ مار لیا۔۔”رایان اُس کی بات کے جواب میں بولا
“آپ کو یہ سب مذاق لگ رہا ہے نہ؟”اُس کی آخری بات پر وہ بدگمان ہوئی
“بلکل بھی نہیں۔۔”رایان نے جلدی سے اپنا سر نفی میں ہلایا
“آپ لوگوں کے لیے یہ باتیں عام ہوگی۔۔”لیکن میرے لیے اور میری فیملی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے۔۔”پر میں یہ بات آپ کو کیوں بتارہی ہوں؟”آپ کو کونسا میری بات سمجھ آئے گی۔۔”آپ نے تو وہ زندگی گُزاری ہے کہ جس چیز کو چاہ اُس چیز کو پالیا لیکن مسٹر رایان دُرانی ہماری زندگی میں ایسا کوئی سین نہیں ہوتا۔۔”ہماری زندگی نہ بہت سادہ ہوتی ہے اور جہاں آپ لوگوں کو اپنی زندگی میں ایڈوینچر شامل کرنا پسند ہوتا ہے وہی ہمارے لیے وہ ایڈوینچر کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔۔آج حوریہ بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئ تھی۔۔”اور رایان حیرت سے بس اُس کو ایسے بات کرتا ہوا سُن رہا تھا۔۔”اور یقین کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ یہ سب بولنے والی حوریہ تھی یا کوئی اور؟
“حور کیا بات ہے؟”اپنا لہجہ چیک کرو اِتنا تلخ تو تم نے کبھی نہیں بولا۔۔”رایان کا لہجہ اِس بار سنجیدہ ہوا تھا
“آپ کو پتا ہے میں اِس وقت کہاں سے آرہی ہوں؟”بازو سینے پر باندھے حوریہ نے اُس سے سوال کیا
“ظاہر ہے گھر سے۔۔۔”رایان نے کہا تو وہ عجیب انداز میں ہنسی
“آپ ایک نان سیریس انسان ہو۔۔”حوریہ سرجھٹک کر اُس کو بولی
“میں سیریس بننے کو تیار ہوں۔۔”پر یار تم تو خود کو ٹھیک کرو۔۔”جو تمہارا مزاج نہیں ویسا بننے کی کوشش کیوں کررہی ہو؟”میں جانتا ہوں میری غلطی ہے اور میں تمہاری مانتا ہوں کہ میری غلطی کی وجہ سے تمہیں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔۔”لیکن ایک بات میں واضع کرلوں میرا اِس میں قصور بس اِتنا ہے کہ پبلک میں تمہارا ہاتھ تھاما۔۔”جلدبازی کا مُظاہرہ کیا۔۔”پر اِن سب باتوں کو لیکر میں نے اپنے والدین کو تمہارے گھر بھیجا تھا۔۔”پر تم لوگوں نے کیا کیا؟”تم نے اُن سے کہا کہ تم انگیجڈ ہو اور آج تمہارا نکاح ہے؟”اُس دن وہ لڑکا بھی ایسا بول رہا تھا۔۔۔رایان نے گہری سانس بھر کر رسانیت بھرے لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا
“جی آج میرا نکاح ہے اور میں وہاں سے بھاگ آئی ہوں۔۔”حوریہ تکلیف دہ لہجے میں بولی
“شکر اللہ کا۔۔”رایان بے اختیار بولا
“آپ شکر اللہ کا کررہے ہیں؟”حوریہ افسوس سے اُس کو دیکھتی جانے لگی جب رایان اُس کے راستے میں حائل ہوا
“ایک منٹ کسی اچھی جگہ پر بیٹھ کر میری بات سُنو۔۔”رایان نے درخواست کی
“مجھے آپ سے کوئی بھی بات نہیں کرنی۔۔”حوریہ نے سنجیدگی سے جواب دیا
“جہاں اِتنی کرلی ہے وہی تھوڑی دیر کام کی بات کرو گی تو تمہارا کیا جائے گا؟”رایان نے کہا تو اُس کی بات پر حوریہ بس اُس کو دیکھتی رہ گئ
“آپ کو شاید میری بات سمجھ میں نہیں آرہی؟”حوریہ طنزیہ ہوئی
“تمہیں بھی میری بات سمجھ میں نہیں آرہی لگتا ہے۔۔۔رایان دوبدو بولا
“آپ کا مسئلہ پتا ہے کیا ہے؟”حوریہ نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہا
“مسئلہ میرا تم ہو۔۔”آئے نو میں تمہاری نظر میں لاپرواہ ایک نان سیریس انسان ہو۔۔”لیکن یقین کرو میرا پیار تمہارے لیے بہت سیریس ہے۔۔”میں واقع میں مجھے تم سے پیار ہے اور میں تمہارے لیے سیریس ہوں۔۔”تم کہو تو میں تمہارے بابا کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کو تیار ہوں۔۔”بشرطکہ تم میرا ساتھ دو۔۔”مجھے پر اعتبار سونپو۔۔۔۔”رایان نے کہا تو کچھ پل کے اُس کی آنکھوں میں دیکھتی حوریہ کچھ بول نہ پائی تھی۔۔”دل اُس کی باتوں پر ایمان لانے کو اُکسا رہا تھا۔۔”پر اُس کو جلدی خیال آیا کہ وہ کون تھی؟”اور کیا چاہتی تھی وہ؟”کیا وہ کسی امیر لڑکے سے شادی کرکے بس اپنا گھر بسانا چاہتی تھی یا اکیلے اپنی زندگی میں کچھ کرنا چاہتی تھی؟”فیصلہ آسان تھا اُس کو پتا تھا اُس کو اپنی زندگی میں آگے کیا کرنا تھا؟
“رایان پتا ہے آپ جیسے امیر لڑکوں کی محبت مجھ جیسی لڑکیوں کے لیے سوائے آزمائش کے کچھ نہیں ہوتی۔۔”جو محبت آپ ہم سے کرتے ہو نہ اُس کی بہت بڑی قیمت ہم لڑکیوں کو چُکانی پڑتی ہے۔۔”قصور ہو تو بھی اور نہ ہو تو بھی۔۔”یہ زندگی ہے میں خود کو سینڈریلا تصور کرسکتی ہوں۔۔”پر کسی شہزادے کی آمد کا تصور یا انتظار نہیں کرسکتی۔۔میں فنٹاسی لکھ سکتی ہوں۔۔”پر اصل میں ایسا کچھ ہوگا اُس پر یقین نہیں کرسکتی۔۔”ایک پرفیکٹ مرد میں اپنے لفظوں میں لکھ سکتی ہوں پر اِس بھری دُنیا میں ویسا مرد تلاش نہیں کرسکتی کیونکہ تلخ حقیقت ہے یہ جیسا مرد ہم لڑکیاں چاہتیں ہیں ویسا پانا ناممکن ہے۔۔”خیر میں ایک بات کہوں گی۔میری ماں نے ہمیں یہ سِکھایا ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی کا ہیرو اور ویلن خود ہوتا ہے۔۔”جب وہ اپنی زندگی میں کچھ کرنا چاہتا ہے۔۔”کچھ پانا چاہتا ہے تو اُس کے پاس دو آپشنز ہوتے ہیں۔۔”ایک سیدھا دوسرا ٹیرھا۔”پھر یہ آپ پر ڈیپینڈ کرتا ہے کہ آپ کس چیز کا انتخاب کرتے ہو۔۔”ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر آپ کسی اور کا انتظار نہ کرے کہ کوئی آئے گا اور پھر آپ کی زندگی سنور جائے گی۔۔”آپ کو انتظار نہیں کرنا بلکہ ایک عزم کے ساتھ اپنی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔۔”اور یہ آپ خود کرسکتے ہو۔۔”اور سوری رایان میں آپ کا بڑھایا ہوا ہاتھ نہیں تھام سکتی۔۔”میں نے آج جو سخت قدم اُٹھایا ہے اُس کی وجہ شادی تھی جو میں نہیں تھی کرنا چاہتی۔۔۔”مجھے ایک اِن ڈیپینڈنٹ لڑکی بننا ہے۔۔”اپنی زندگی میں کچھ کرنا ہے اور اپنے ابا کو بتانا ہے کہ لڑکیاں کمزور نہیں ہوتیں۔۔”اُن کو کمزور یہ معاشرہ بناتا ہے یہ بول کر کہ تم لڑکی ہو اور لڑکیاں سوائے ہانڈی چولہے کے کچھ اور نہیں کرسکتی۔۔۔۔حوریہ زخمی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے بولتی گئ تو رایان کو چپ لگ گئ تھی
“میں تمہارا انتظار کروں گا۔۔”کوئی زور زبردستی نہیں ہے تم خودمختار لڑکی بننا چاہتی ہوں۔۔”ٹھیک ہے تم بنو میں انتظار کرنے کو تیار ہوں میں انتظار کروں گا۔۔”ویسے بھی خود کو تمہارے قابل بنانے کے لیے مجھے بھی بہت سفر کرنا پڑے گا۔۔”کیونکہ آسانی سے تو کچھ بھی نہیں ملتا۔۔”میں کوشش کروں گا میری محبت تمہارے لیے کسی آزمائش کا سبب نہ بنے بلکہ شکر کا سانس بنے۔۔۔”رایان ایک قدم پیچھے لیکر بولا تو حوریہ حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی جو ابھی بھی اپنی بات پر کھڑا تھا۔۔
“آپ
“کہا نہ انتظار کروں گا۔۔”اور اب تمہیں بھی میرا انتظار کرنا ہوگا۔۔”جب تم کچھ بن جاؤ گی تو یقین کرو مبارک باد کا پہلا میسج میری طرف سے آئے گا۔۔”اور جب تم بہت کچھ بن جاؤ گی تو میں تمہیں آواز دوں گا اِس اُمید کے ساتھ کہ تم میرے پاس چلی آؤں گی۔۔”رایان اپنی بات کہہ دینے کے بعد وہاں سے چلاگیا تھا پیچھے کتنا ہی وقت وہ کھڑی اُس کی باتوں کے زیر اثر رہی تھی
____________________
“اِس کے کہنے پر تم نے واقعی اِس کا انتظار بھی کیا؟”عیشا کو ساری بات سن کر جیسے یقین نہ آیا
“حیرت ہے تم جیسے نمونے کا بھی کوئی لڑکی انتظار کرتی ہے۔۔”یقین نہیں ہورہا۔۔۔”عیشا کے بعد المان نے بھی حیرت کا اِظہار کیا
“تم اِن ڈائریکٹلی میری بے عزتی کررہے ہو۔۔”رایان اُس کو گھور کر بولا
“نہیں ہم ڈائریکٹلی تمہاری بے عزتی کررہے ہیں۔۔”المان نے جواباً جو کہا اُس پر رایان تپ اُٹھا
“جیجا نکل آئے ہو ورنہ اچھا خاصا جواب دیتا میں تمہیں۔۔”رایان نے گھور کر اُس کو کہا
“جگو میرے بھائی تم ہربار یہ بات کیوں بھول جاتے ہو کہ تم بے عزتی پروف انسان ہو. “عیشا نے مسکراہٹ دبائے اُس سے کہا
“بے عزتی پروف؟”رایان نے اُس کا کہا لفظ دوہرایا
“مطلب انسلٹ پروف۔۔”المان نے گویا دوسرا آپشن دیا تھا کہ اب سمجھو
“ایک ہی بات ہوئی۔۔”رایان نے دانت پیسے
“ہاں پر تمہیں ایک بات مختلف طریقوں سے سمجھ آتی ہے نہ تبھی ہم نے کہا۔۔۔”المان نے مسکراہٹ دبائے کہا
“زیادہ فنی بننے کی ضرورت نہیں مجھے ہنسی بلکل بھی نہیں آرہی۔۔”رایان نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“حور یار تم وہاں کیوں اسٹچو بن کر کھڑی ہو۔۔”یہاں آؤ اور بتاؤ کیا حال چال ہے۔۔”اور یہ نقاب تو ہتاؤ۔۔۔”عیشا نے اپنے سر پہ ہاتھ مار کر حوریہ سے کہا تو وہ مسکراتی اُس کے پاس آئی
“آپ کو مبارک ہو شادی کی۔۔”ویسے میں نے سوچا نہیں تھا کہ آپ سے میری اگلی ملاقات آج کے دن ہوگی۔۔”حوریہ اُس کے پاس بیٹھ کر بولی
“پہلے”آپ کہنا بند کرو۔۔”اور پہلے سے زیادہ پیاری ہوگئ ہو اور بڑی بھی ہوگئ ہو۔۔”عیشا نے بے تکلف انداز میں کہا
“چھوٹے ہونے کا آپشن نہیں تھا ورنہ اِس وقت تمہاری گود میں ہوتی۔۔”رایان کو اُس کی آخری بات بے تُکی سے لگی۔”تبھی بولا جس پر عیشا نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا
“بھئ اب تو سُدھر جا۔۔۔۔عیشا کے بس ہاتھ جوڑنے کی کثر رہی تھی
“سالے نے ڈائریکٹ چھکا مارا ہے یعنی اندر ہی اندر اِس کے کیا چل رہا تھا۔۔کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہونے دی۔۔”المان نے کہا تو رایان جو شرمانے لگا تو لفظ”سالے”پر ہونک بنا المان کو دیکھنے لگا
“تم نے مجھے سالا کہا؟”رایان خونخوار نظروں سے المان کو دیکھا
“بیوی کا بھائی سالہ ہی ہوتا ہے سالے صاحب۔۔”المان نے سنبھل کر کہا تو رایان کو اب سمجھ آیا
“ہاں تو احترام سے بولو نہ جیجا جی۔۔”رایان اُس کے کندھے سے کندھا ٹکرا کر بولا
“جگو ویسے سچ ہے اور کیا اِس وجہ سے تم سیریس موڈ پر بن کر لاہور کے لیے نکلے تھے؟”عیشا نے جاننا چاہا
“ہاں کیونکہ یار میری زندگی پشتو بن گئ تھی۔۔”جو بولنی بھی آتی بھی نہیں تھی اور سمجھ بھی نہیں آتی تھی تو سوچا تھوڑا لونلی لونلی رہا جائے۔۔”رایان نے بتایا تو لفظ”پشتو”پر عیشا کی ہنسی چھوٹ گئ
“تم لوگ باتیں وغیرہ کرو میں تب تک حور کو اُس کے ساس سسر سے ملواکر آتا ہوں۔۔”رایان اُٹھ کر بولا
“ہاں جاؤ۔۔”عیشا پھیل کر بیٹھ گئ تاکہ رایان دوبارہ نہ بیٹھ جائے۔۔۔
