Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 48)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“توبہ ہے۔ ۔”رایان نے کانوں کو ہاتھ لگایا تھا

“تم لے جاؤ حور کو۔۔۔”عیشا نے مسکراہٹ دبائے اُس سے کہا تو رایان نے اِشارے سے حوریہ کو اپنے پاس آنے کا کہا

“مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔”رایان کے ساتھ چلتی حوریہ نے بتایا

“ایک رائٹر کو ڈر بھی لگتا ہے؟”اُس کی بات پر رایان نے شوخ لہجے میں پوچھا

“رائٹر انسان نہیں ہوتا کیا یا پھر اُس کے پاس دل نہیں ہوتا؟ “حوریہ نے اُس کو دیکھ کر آئبرو ریز کیے

“دل کا پتا نہیں البتہ دماغ ضرور ہوتا ہے۔۔”ویسے ایک بات بتاؤ بچپن میں تمہیں کہانیاں گڑھنے کا بہت شوق ہوتا تھا کیا؟”رایان نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا

“نہیں کیوں؟”حوریہ نے اپنا سر نفی میں ہلایا

“نہیں ہوتا ہے مطلب اِن سالوں میں تم نے تیس ناولز لکھے ہیں۔۔”یعنی تمہاری ہمت کو سلام ہے اور ایسی کہانیاں تو وہی بناکر لکھ سکتا ہے جو بچپن میں کہانیاں زیادہ گڑھتا ہو۔۔”رایان نے کہا تو ساری بات سمجھ آنے پر حوریہ اُس کو دیکھتی رہ گئ

“ایسا نہیں ہوتا بلکہ اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لکھنے والا کافی ذہین ہے۔۔”تبھی تو ہر چیز کو اُس کی جگہ پر ترتیب دیتا ہے۔۔”حوریہ نے سنبھل کر جواب دیا

“ظاہر ہے تم نے تو یہی بولنا ہے۔۔”رایان اُس کو چھیڑنے میں باز نہ آیا

اگر میں واقعی میں کہانیاں گڑھتی ہوں تو آپ کو مجھ سے بچ کر رہنا چاہیے۔۔”حوریہ نے اب اُس کو وارن کیا

“اب بچاؤ کیسا؟”اب تو ہم دل تم کو دے چُکے صنم۔۔۔”رایان اُس کو دیکھ کر آنکھ ونک کرتا بولا تو حوریہ کے دماغ میں کچھ کلک ہوا

“آپ کو کیسے پتا کہ میں نے تیس ناولز لکھے ہیں؟”حوریہ کو اب خیال آیا تو پوچھا

“ماشااللہ ایک رائٹر کا دماغ کتنا ایکٹو ہے۔۔؟”ہر بات کو جلدی سے اپنی زیر نگاہوں سے اور ناقص عقل سے بھانپ لیتے ہو۔۔۔”رایان مصنوعی مسکراہٹ سے اُس کو دیکھ کر بولا

“آپ مجھ پر طنز کررہے ہیں؟”حوریہ نے پوچھا

“اور نہیں تو کیا تم نے اپنی تعریف سمجھ لی؟”رایان اُس کو دیکھ کر اُلٹا اُس سے سوال کرنے لگا

“آپ یوں مجھے باتوں میں اُلجھاکر بات کو گُھما نہیں سکتے۔۔”مجھے بتائے کہ آپ کو کیسے پتا کہ میں نے تیس ناولز لکھے ہیں؟”حوریہ گھوم پِھر کر اپنے سوال پر آئی

“دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔۔”مجھے تو یہ بھی پتا ہے کہ تم نے ہانی سے انسپائر ہوکر اپنے ناول میں اُس کی شخصیت کو بیان کیا تھا۔۔رایان نے مزے سے کہا تو حوریہ کا منہ حیرت سے پورا کُھلا کا کُھلا رہ گیا وہ حیرت سے رایان کو دیکھنے لگی۔

“آپ کو کیسے پتا؟”حوریہ نے حیرت سے پوچھا

“مجھے سب پتا ہے۔۔”رایان دُرانی کو سب پتا ہوتا ہے۔۔”رایان نے کالر جہاڑ کر بتایا

“کیا آپ نے میری ناولز کو پڑھا ہے۔۔؟۔”حوریہ نے اندازہ لگاکر پوچھا

“مجھے سمجھ نہیں آیا کہ کون بیوقوف کہتا ہے کہ رائٹرز کے دماغ سے کوئی مقاملہ نہیں کرسکتا یا پھر اُس کا دماغ کافی تیز اور ایکٹو رہتا ہے۔۔’مطلب تم اپنے آپ کو ہی دیکھ لو کافی کم عقل ہو۔۔”یہ ناولز پر کیسے لکھ لیئے؟”رایان نے بازو سینے پر باندھے اُس سے سوال کیا

“آپ بار بار میرے رائٹر کریئر کو نشانہ کیوں بنا رہے ہیں؟”آپ کو میں کم عقل لگتی ہوں؟”حوریہ کو یقین نہ آیا

“میری کیا مجال؟”میں تو بہت خوش ہوں کہ میرے سامنے اسکرپٹ رائٹر کھڑی ہے وہ رائٹر جس سے انٹرویو لینا ہر کوئی چاہتا ہے۔۔۔”رایان اؐس کو تنگ کرنے سے باز کسی صورت نہیں آرہا تھا

“مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔۔”حوریہ کو افسوس ہوا

“اچھا چھوڑو لڑائی کو یہ بتاؤ کیسی ہو؟”رایان نے تھوڑا سنجیدگی سے پوچھا

“ماشااللہ بڑی جلدی خیال آگیا حال احوال جاننے کا۔۔”اب کی حوریہ نے اُس پر طنزیہ کیا

“کیونکہ ہمیں آپ کو دیکھنے سے فرصت ملے تو حال احوال پوچھنے کے قابل رہے۔۔”خیر چلو موم ڈیڈ کے پاس۔۔۔”رایان نے کہا تو حوریہ نے اپنا سرجھٹکا

________________________

“ڈارلنگ تم کہاں غائب ہوتے ہو؟”کوئی لفٹ ہی نہیں۔۔”دعا سکندر کو دیکھ کر بولی جس نے اُس کو شادی پر انوائٹ تو کرلیا تھا پر وقت نہیں دے پارہا تھا۔۔”بس یہاں سے وہاں اُس کی بھاگ ڈور لگی ہوئی تھی

“اِن کے پاس گاڑی نہیں ورنہ یہ آپ کو لفٹ ضرور دیتے۔۔”دیکھیے نہ آپ کے سامنے اکیلے کھڑے ہیں۔۔”جواب سکندر کے بجائے ماہا نے دیا جو اُن کے پاس سے گُزر رہی تھی

“تم وہی ہو نہ جو اُس دن سکندر کی گاڑی میں تھی؟”دعا نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو دیکھا

“ماہا نام ہے ہمارا۔۔۔”اور ہمیں اپنے کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔۔۔”ماہا نے اُس کو دیکھ کر جتایا۔۔”سکندر جبکہ خاموش کھڑا اُن کو دیکھ رہا تھا

“تم نہ پہلے بھی مجھے پسند نہیں آئی تھی اور نہ اب مجھے تم اچھی لگ رہی ہو۔۔”اِس لیے جاؤ یہاں سے مجھے اپنے فیانسے سے ضروری بات کرنی ہے۔۔”دعا نے بیزارگی سے اُس کو دیکھ کر کہا

“آپ کو ماہا پسند نہیں آئی اِس بات کا ماہا کے پاس اچھا سا حل ہے۔۔”ماہا نے اُس کو دیکھ کر بتایا

“کیسا حل؟”دعا نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا تو سکندر بھی ماہا کو دیکھنے لگا

If uh don’t like me Then take a map, get a car & drive to hell Have a nice trip!

“ماہا اُس کی طرف قدم بڑھاکر کہتی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شاِن بے نیازی سے کہتی وہاں رُکی نہیں تھی۔۔”پیچھے دعا کا پورا چہرہ سُرخ ہوگیا تھا۔۔”حیران تو سکندر بھی ہوا تھا کہ ماہا کے ایسے لفظوں پر

“تمہاری وہ جاہل کزن میری انسلٹ کرکے گئ ہے۔۔”اور تم خاموش ہو۔۔۔” دعا سکندر کو گھور کر پوچھنے لگی

“دعا رلیکس ماہی کو عادت ہے مذاق کرنے کی تم اُس کی بات کو زیادہ فیل نہیں کرو۔۔۔”سکندر نے اُس کو دیکھ کر پچکارا

“وہ جاہل

“اُس کو جاہل کہنا بند کرو۔۔”میں نے کہا نہ اُس نے بس تم سے مذاق کیا۔۔۔”سکندر نے اِس بار سختی سے اُس کی بات کو ٹوکا

“تم اُس کی وجہ سے مجھ سے روڈ انداز میں بات کررہے ہو؟”دعا کو یقین نہ آیا

“ایسی بات نہیں ہے میں بس چاہتا ہوں کہ تم بھول جاؤ جو کچھ اُس نے تم سے کہا

“نو ابھی چلو اور اُس کو کہو کہ مجھ سے معافی مانگے۔۔۔دعا نے ضدی لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا

“دعا بات کو بڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟”اگنور کرو۔۔۔”ویسے بھی ہماری فیملی میں اِتنا مذاق چلتا ہے۔۔۔”سکندر نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھ کر کہا

“تم اُس کی طرفداری مت کرو۔۔”میں اِن چیزوں کی عادی نہیں۔۔”اُس کو پتا نہیں کہ میں کون ہوں؟”میں دعا خان ہوں پاکستان کی معروف ماڈل۔۔۔”جب بھی کوئی برینڈ نئ ڈیزائن کے کپڑے لاؤنچ کرتا ہے تو اُس کو سب

“دعا رلیکس کیوں اِتنا اسٹریس لے رہی ہو؟”وہ ایک سانس میں کچھ کہنے لگی تھی۔۔”جب سکندر تھوڑے اکتائے ہوئے لہجے میں اُس کی بات کو درمیان کاٹ کر بولا

تم نے بھی کبھی مجھ سے ایسے بات نہ کی تم کیا ہوگیا ہے؟دعا نے بازو سینے پر باندھے اُس سے سوال کیا

“تم شاید تھک گئ ہو۔۔۔”ایسا کرو گھر جاؤ اور مائینڈ کو تھوڑا ریسٹ دو۔۔”سکندر نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھ کر کہا

“دیکھو سکندر عاشر تم مجھے چھوڑ نہیں سکتے۔۔”بریک اپ ہونے کے بعد تمہیں پتا نہیں میں تمہارے ساتھ کیا کرسکتی ہوں۔۔”دعا نے دھمکی آمیز لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا تو سکندر کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے تھے

“تم ہوتی کون ہو مجھے دھمکانے والی؟”میں کیا کوئی سڑک چھاپ ہوں جس کو تم چھوڑو گی نہیں۔۔”سکندر کے چہرے پر ناگواری اُتر آئی تھی جس کو محسوس کرتی دعا گڑبڑا سی گئ تھی

“س سوری یار میں بس تھوڑا غُصہ ہوگئ تھی۔۔۔”تم غُصہ نہ ہو۔۔”دعا نے سنبھل کر کہا

“آئیندہ مجھ سے اِس ٹون میں بات مت کرنا۔۔”گاٹ اِٹ۔۔سکندر انگلی اُٹھاکر اُس کو وارن کرکے کہتا سائیڈ سے گُزر گیا تھا۔۔”پیچھے دعا بیچ وتاب کھاتی رہ گئ تھی۔۔۔

_________________________

شادی مبارک ہو پیاری بہنا۔۔۔۔”آتش اقدس کے ساتھ اسٹیج پر آتا ایشال کو دیکھ کر مبارکباد دینے لگا۔

“شکریہ بہت جلدی خیال آگیا۔۔”ایشال اُس کو دیکھ کر طنزیہ لہجے میں بولی تو وہ ہنس پڑا

“آج تو زہر اُگلنا چھوڑدو۔۔۔”آتش نے اُس کو دیکھ کر کہا تو اقدس تاسف سے اُس کو دیکھنے لگی جو آج بھی اپنے برتاؤ میں کوئی بدلاؤ نہیں لایا تھا

“میں نے ایسا بھی نہیں کہا کچھ جس سے تمہیں یہ لگا ہو کہ زہر اُگل رہی ہوں۔۔”ایشال نے سرجھٹک کر کہا

“یہی حال ہے تبھی تو دولہن بنی بھی چڑیل لگ رہی ہو۔۔۔”اور یہ تمہارا دولہا کیسے معصوم بنا بیٹھا ہے جیسے برون ویٹا پی کر یہاں بیٹھا ہے۔۔”آتش نے زوہان کو بھی نہ چھوڑا

“کیا ہوگیا ہے آپ کو؟”آج تو اپنی زبان کو بریک دے۔۔۔”اقدس نے اُس کو ٹوک کر کہا

“ڈیئر ڈارلنگ زوجہ میری زبان ہے کوئی گاڑی نہیں جس کو میں بریک لگاتا پِھروں۔۔۔۔”آتش اُس کو اپنے حصار میں لیکر بولا تو اُس کی حرکت پر اقدس سُرخ ہوئی تھی

“تم سے مجھے ایسی ہی بے تُکی باتوں کی اُمید ہوتی ہے۔۔۔”ایشال نے آتش کو دیکھ کر کہا جو اقدس کا پہنا حجاب ایسے ٹھیک کررہا تھا جیسے وہاں بس وہ دونوں اکیلے ہو۔۔۔

“جانتا ہوں تبھی میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ تمہاری اُمید پر پورا اُتروں۔۔۔”آتش نے مسکراکر بتایا تو ایشال نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا۔۔”جبکہ زوہان کچھ حیران سا تھا اُس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ بہن بھائی ایک دوسرے سے ایسے بات کیوں کررہے تھے؟

“یہ ہو کیا رہا ہے کوئی مجھے بتائے گا۔۔۔؟”زوہان نے بلآخر پوچھ لیا۔۔”جس پر آتش نے حجاب کے بعد اقدس کا ڈوپٹہ اُس کے کندھوں پر سہی پِھیلایا پھر زوہان کی طرف متوجہ ہوا

“ماشااللہ ماشااللہ جاگ گئے؟”نیند اچھی تو آئی نہ؟”ویسے تم تو میری سوچ سے زیادہ برگر بوائے نکلے۔۔”خیر میں مختصر تمہیں تمہارے سوال کا جواب دیتا چلوں کہ یہ ایک میریج ہال ہے جہاں تمہارا نکاح ہوا ہے۔۔”نکاح کا مطلب تمہیں پتا ہوگا اگر نہیں پتا تو گوگل کرلینا۔۔”بہن اور زوجہ کے سامنے تفصیل سے بتاتے ہوئے مجھے شرم آرہی ہے۔۔”خیر اب تو رُخصتی ہونے والی ہے۔۔”کھانا بھی کُھل چُکا ہے۔۔آتش نے اُس کو بتایا تو زوہان بس اُس کا چہرہ دیکھنے لگا

“آپ کو کوئی کام نہیں آج؟”ایشال نے ضبط سے سوال کیا

“کام کام کام۔۔”صرف کام ہی ہوتا ہے میرے پاس لیکن آج میری لِٹل پرنسس میری بہن کی شادی ہے تو سوچا کیوں نہ کاموں سے بریک لیا جائے۔۔”اب تمہاری شادی بار بار تو نہیں ہوگی۔۔”آتش نے جواب دیا تو ایشال خاموش ہوتی اُس کا چہرہ دیکھنے لگی

آنسٹلی ایک بات کہوں گی۔۔”ایشال نے اِس بار سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا

“کہو میں سُن رہا ہوں۔۔”آتش نے بھی سنجیدگی سے جواب دیا تو اپنا بھاری جوڑا سنبھالتی وہ اُٹھ کھڑی ہوئی

“مجھے لگتا تھا آپ کو خوشی ہوتی ہے مجھ سے میری پیاری اور عزیز چیزوں کو چھینتے ہوئے۔۔”لیکن جب آپ نے میرے حق میں ڈیڈ سے بات کی۔۔”اور یہ رشتہ پکا کروایا اُس پل مجھے لگا ایسی کوئی بات نہیں آپ کو میری اور میری خوشیوں کی پرواہ ہے۔۔۔”اگر نہ ہوتی تو آپ کوشش ضرور کرتے ہم دونوں کو الگ کرنے کی۔۔۔”لیکن ایسا نہیں ہوا اور میں آپ کی مشکور ہوں مجھے پتا ہے یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔”ایشال نے ہر ایک ایک لفظ دل سے کہا تو اقدس مسکرائی تھی جبکہ آتش کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا

“یہ تم برائیڈز کا ویڈنگ کے دن ایموشنل بننا ضروری ہوتا ہے کیا؟”یقین کرو بغیر روتی دھوتی شکل بنانے کے بعد بھی تم لڑکیوں کی شادی کافی اچھے طریقے سے ہوجائے گی۔۔۔”آتش نے کہا تو اُس کی بات پر ایشال ناچاہتے ہوئے بھی مسکرائی تھی

“come here.

“آتش نے اُس کو اپنے سینے سے لگائے اُس کا ماتھا چوما تو اُس کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔۔”باقی سب یہ بہن بھائی کا پیار دیکھنے میں مصروف تھے۔۔”مہمانوں کے ساتھ کھڑے آفاق لُغاری اور وردہ لُغاری نے کافی حیران نظروں سے اپنے بچوں کو دیکھا تھا

“سوری۔۔۔”ایشال اُس کے سینے سے لگی بولی

“میرے کانوں میں مسئلہ ہوگیا ہے زرا دوبارہ کہنا؟”آتش نے مسکراہٹ دبائے اُس سے کہا تو ایشال نے اُس کو گھورا

“آپ کو عزت راس نہیں آتی نہ؟”ایشال تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولی

“کول۔۔”اُس کے اب”آپ”کہنے پر آتش ہنس پڑا تھا

“میں نے بولا سوری۔۔”ایشال نے پھر سے کہا

“میرے کان ترس گئے تھے یہ الفاظ سُننے کے لیے فائنل تم نے ادا کرلیئے ورنہ میرے کانوں کا کیا ہوتا۔۔”آتش نے اُس کا گال تھپتھپا کر کہا

“اب آپ سب اپنا پیارا مکھڑا یہاں کرو تاکہ میں اپنے کیمرے میں قید کرلوں۔۔۔”رایان اپنا سیل فون لاتا اُن سب کو دیکھ کر بولا

“کب تک دوسروں کی شادی کا البم جمع کروگے؟”اچھا نہیں کہ خود کی شادی کروالوں اور اپنے البم میں قید کرلوں۔۔”آتش نے انجانے میں اُس کی دُکھتی رگ دبائی تو رایان جی جان سے لرز اُٹھا

“کہی تو آپ نے کڈنی ٹچ بات ہے۔۔”میرے پھپھڑے بھی اکثر اِس ناانصافی پر میرے والدین سے نالاں رہتے ہیں۔۔”جگر بھی دن رات روتا ہے۔۔”دل بھی بلیوں کی طرح یہاں وہاں مارا پِھرتا ہے۔۔پر میں کیا کروں میری کوئی سُنتا نہیں۔۔”رایان نے دُکھی لہجے میں اُس کو بتایا

“تمہاری موم سے میری کافی بنتی ہے ڈونٹ وری میں کرتا ہوں اب اُن سے بات۔”دیکھنا پھر ایک ماہ میں تمہاری نیا پار بھی لگ جائے گی۔۔”آتش کی نظر میشا پر پڑی تو آنکھوں میں ایسی چمک آئی جیسے سالوں بعد کسی شکاری کو اپنا شکار نظر آیا ہو

Is it possible?

رایان کی پوری بتیسی کُھل چُکی تھی

Nothing is impossible for me.

آتش نے فخریہ لہجے میں بتایا

“میرا دل چاہ رہا ہے آپ کا منہ چوم ڈالوں۔۔۔”رایان خوشی سے چہک کر کہا تو انگھوٹے سے جہاں آتش نے اپنی آئبرو مسلی تھی وہی سب اُس کی بے تابی پر ہنس پڑے تھے

“منہ کو رہنے دو پاؤں چوم ڈالوں۔۔”منہ میرا تمہاری اقدس آپو چوم لے گی۔۔”آتش نے اپنے پاؤں کی طرف اِشارہ کرکے کہا تو رایان ہونک بنا اُس کا چہرہ تکنے لگا جبکہ اقدس ہمیشہ کی طرح اپنا سر پکڑ کر رہ گئ تھی۔۔۔”دُنیا میں شاید ایسا کوئی ورڈ ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا جو آتش لُغاری کی ڈھٹائی پر پورا اُترتا۔۔۔”کیونکہ بے شرم لفظ تو بہت چھوٹا تھا آتش لُغاری کے لیے

“کوئی بات نہیں زیادہ سینٹی نہ ہو۔۔”رایان نے گڑبڑا کر کہا

“آپ کرلے بات اِنہوں نے لڑکی بھی تلاش کرلی ہے۔۔”ماہا نے حوریہ کی طرف کرکے اُس کو بتایا

“واقعی یہ پیاری لڑکی تم سے شادی کرنے کو تیار ہے؟”آتش کو یقین نہ آیا یا پھر وہ اُس کو زچ کرنے کو ایسا بول رہا تھا۔۔۔

“الحمداللہ آپ کے لیے اگر ہماری چاند جیسی آپو راضی ہوسکتی ہے تو میرے لیے تو کوئی بھی لڑکی آنکھیں بند کرکے ہاں بول سکتی ہے۔۔”رایان نے حساب بے باک کرنا ضروری سمجھا۔۔”اگر سامنے والا آتش لُغاری تھا تو وہ بھی رایان دُرانی تھا۔۔”آریان دُرانی کا بیٹا جس سے باتوں میں کوئی جیت نہیں سکتا تھا۔۔”لیکن وہ بھول گیا تھا شاید کہ آریان”اور رایان میں فرق ہے

“شکر ہے بتادیا۔۔”خود ہی ورنہ سوچ سوچ کر مجھے نیند نہیں آتی کہ تمہیں اِتنی پیاری لڑکی مل کیسے گئ۔۔۔”آتش تشکرانہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا

“میں نے کیا بتایا؟”رایان کو سمجھ نہیں آیا۔۔”اقدس جبکہ خاموش کھڑی آتش کو دیکھ رہی تھی۔۔”اُس نے پہلی بار کسی لڑکی کے لیے آتش کے منہ سے ایسا لفظ سُنا تھا۔۔”اُس کو یاد نہ آیا کہ آتش نے خود کے علاوہ کبھی کسی دن کسی کی تعریف بھی کی ہو۔۔” اور تعریف کرنا تو دور کی بات تھی۔۔”کسی انسان کا ذکر بھی اُن نے نارمل لفظوں میں نہ کیا تھا اور یہاں وہ جس کو جانتا بھی نہیں تھا اُس کو دیکھ کر”پیاری لڑکی بول گیا تھا۔۔”جبکہ اُس کو تو یہ بھی یاد نہ تھا کہ کب آتش نے اُس کو دیکھ کر “پیاری لڑکی بولا ہو۔۔”وہ بدگمان ہونے لگی تھی آتش سے۔۔۔”گُذشتہ حادثے نے اُس کے دماغ پر گہری چھاپ چھوڑی تھی۔۔۔”اُس کو احساس کمتری کا احساس شدت سے ہونے لگا تھا۔۔”اور ایسا پہلے کبھی اُس کو محسوس نہیں ہوا تھا۔۔”پہلے وہ خوش رہتی تھی پر شاید پہلے اور اب میں فرق تھا۔۔۔”پہلے وہ غیرشادی شدہ تھی اُس کو پتا تھا وہ جیسی بھی ہوگی اپنے گھر والوں کی آنکھ کی ٹھنڈک رہے گی۔۔”لیکن اب وہ شادی شدہ تھی جہاں وہ اب رہتی تھی وہاں ہر ایک کا تارا نہیں بن سکتی تھی وہ۔۔”اُس کو ایسے لگتا تھا جیسے اُس کا وجود جلد ہر ایک کو کھٹکنے لگے گا

“یہ محترمہ ہے جس نے آنکھوں کو بند کرکے تمہارا انتخاب کیا۔۔”وگرنہ کُھلی آنکھوں سے تمہیں تھوڑئی پسند کرتی۔۔”آتش نے جو جواب دیا اُس پر ایک کا قہقہقہ برجستہ تھا۔۔

“آج تو ہر کوئی میری رج کے بے عزتی کررہا ہے۔۔”لیکن شکر ہے مجھے فیل نہیں ہورہا۔۔”رایان نے منہ بسور کر کہا

“لگتا ہے تمہاری فیملی کا یہ کام ہے ایک دوسرے کی انسلٹ کرنا۔۔۔”دعا نے طنزیہ لہجے میں سکندر کو دیکھ کر کہا جو اُس کے علاوہ “آتش اور ماہا نے بخوبی سُن لیا تھا

“تم اِتنا نیگیٹو کیوں سوچتی ہو؟”سکندر کو اُس کی بات پسند نہیں آئی

“تمہیں میں غلط لگ رہی ہوں؟”یہ تمہاری فیملی میں آیا ہوا آتش لُغاری کیسے ہنس ہنس کر باتیں کررہا ہے۔۔”جبکہ میرے سلام تک کا اُس نے سہی سے جواب نہیں دیا تھا۔۔۔”دعا نے اُس کو اُس کو گھور کر کہا تو ماہا نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا تھا

“ارے تم وہ ہو نہ؟”آتش نے اچانک سے دعا کو مُخاطب کیا

“کون میں؟”دعا کو یقین نہ آیا کہ آتش نے خود سے اُس کو مُخاطب کیا

“ہاں ہاں تم وہ ہو نہ جو سال کے بہت بڑے شو میں آئی تھی اور جس کو

“جی جی میں وہی ہوں۔۔”دعا خان۔۔”آتش کی بات بیچ میں کاٹ کر دعا نے پرجوش لہجے میں اُس کو بتایا

“پرائم منسٹر بنا ہے۔۔”مُلک کا حال پتا ہو یا نہ ہو لیکن وہاں رہنے والی لڑکیوں کا سب پتا ہے۔۔”اقدس آتش کو دیکھ کر بے ساختہ بڑبڑائی تھی

“ہاں میں تمہیں کیسے جان نہیں پایا تم وہ ہو نہ جس کو پورے شو میں ایک بھی آوارڈ نہیں ملا تھا۔۔”آتش نے اِس بار جو کہا اُس پر “محترمہ دعا خان کی کُھلی ہوئی بتیسی پوری منہ کے اندر چلی گئ تھی۔۔”لیکن ماہا زور سے ہنسی تھی۔۔۔۔

“یہ اب زیادہ ہوگیا ہے۔۔”میں اب یہاں ایک منٹ بھی نہیں رُکوں گی۔۔”دعا سکندر کو دیکھ کر بولی

“میں نے کچھ غلط بول دیا کیا؟”آتش نے انجان بن کر پوچھا

“میں جارہی ہوں۔۔”ہر ایک پر کٹیلی نگاہ ڈالے دعا نے کہا

Ok by God blast You.

ماہا نے رہی سہی کثر کو پورا کیا

“سکندر۔۔۔”تم نے سُنا یہ کیا بولی؟”خون آشام نظروں سے ماہا کو دیکھتی دعا سکندر سے بولی جس کو خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔۔”پہلے اُس کو دعا کی سمجھ نہیں آئی تھی جو شروع میں تو اُس کے ساتھ بہت اچھی ہوتی تھی لیکن اب اُس کی پوری فیملی سے مل لینے کے بعد اُس کی ٹون کافی بدل سی گئ تھی۔۔”اُس کو سکندر کی بڑی فیملی سے مسئلہ تھا اور یہ بات سکندر کو پسند نہیں آئی تھی

“دعا کو دعا دی ہے ۔۔”اُس پر آمین پڑھوں۔۔”آتش نے کہا وہ ماہا کی سائیڈ پر تھا

“یہ دعا تھی۔۔”دعا نے ماہا کی طرف اِشارہ کیا

“دعا تو تم ہو یہ تو میری اکلوتی سالی ہے ماہا اسیر ملک ہے۔۔۔”آتش نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا

“اِس نے کہا گوڈ بلاسٹ یو۔۔”دعا زچ ہوئی

“آپ نے غلط سُنا یہ بولی تھی کہ گوڈ بلیس یو۔۔۔”آتش نے کہا تو مسکراہٹ دبائے ماہا نے اپنا سراثبات میں ہلایا تھا

“اِس نے کہا گوڈ بلاسٹ یو۔۔”دعا نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔۔”تو رایان اپنی گردن پر ہاتھ پھیرتا باری باری اُن کو دیکھنے لگا پہلے اُس کو لگتا تھا لڑکیوں کی طرح جھگڑنے کا شوق بس اُس کو ہوتا ہے۔۔”لیکن آج آتش کو دیکھ کر اُس کو اپنا خیال بدلنا پڑا تھا

“اب بندہ شکل دیکھ کر مٹھائی لیتا ہے۔۔”اور شکل دیکھ کر دعا دیتا ہے آپ زیادہ فیل نہ کروں۔۔۔”آتش نے جیسے اب بات کو ختم کرنا چاہا

“یہ تمہارا بھائی ایسا کیوں ہے؟”زوہان جو اب تک اِن سب کی گولا باری سُن رہا تھا۔۔”اُن کو خاموش نہ ہوتا دیکھ کر ایشال سے پوچھا

“اگر پتا چلے تو مجھے ضرور بتانا۔۔”ایشال نے کہا تو زوہان نے اُس کو گھورا

“آتش لُغاری کسی کی بھی سمجھ میں آنے والا شخص نہیں ہے۔۔۔”اُس کی مثال دھوپ چھاؤں کا عالم ہے۔۔”وہ کب کونسا روپ اختیار کرے؟”کسی کو پتا نہیں چلتا۔۔”تم کبھی جان نہیں پاؤ گے کہ میرا بھائی اصل میں ہے کیا۔۔”ایشال نے مسکراہٹ دبائے بتایا تو زوہان کو جھرجھری سی آئی

“ٹو مچ ہوگیا ہے میں جارہی ہوں۔۔”دعا نے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر کہا

“آئے میں آپ کو باہر تک چھوڑ آتی ہوں۔۔۔”اُس کے ایک ہی ڈائیلاگ سے بیزار ہوتی ماہا نے آگے آکر بولی

“نو تھینکس۔۔۔”دعا دانت پیس کر کہتی وہاں سے چلی گئ

“آپ نے

“میں نے تمہاری وجہ سے بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے۔۔”اب آؤ خود بھی کھانا کھاؤ اور مجھے بھی سرو کرو۔۔۔”اقدس غُصے میں اُس کو کچھ کہنے لگی تھی جب اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیر آتش نے معصوم شکل بناکر کہا

“ہماری وجہ سے کیوں؟”اقدس نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“آپو سمجھ جائے نہ آپ کے بغیر اِن کو بھوک بھی نہیں لگتی۔۔”آپ بھوکی تھیں تو یہ کیسے کھالیتے؟”جواب ماہا نے تُرنت دیا تھا

“تم سے زیادہ تو تمہاری چھوٹی بہن میں عقل ہے۔۔”آتش داد دیتی نظروں سے ماہا کو دیکھتا اقدس سے بولا

“تو نہ کرتے شادی ہم سے۔۔۔”ہم نے کونسا منتیں کی تھیں آپ سے۔۔”سرجھٹک کر کہتی وہ اپنا ڈوپٹہ سنبھالے اُس کے پاس سے جانے لگی تو اُس کا ڈوپٹہ آتش کی کلائی میں موجود گھڑی میں اٹکا تھا اور وہ جو اُس کے ری ایکشن پر حیران ہوا تھا۔۔”ڈوپٹے اٹکنے پر اُس کے پیچھے پیچھے جانے لگا

“کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ؟”لانے جارہی ہوں کھانا پھر آپ اِتنے بے صبرے کیوں ہیں؟”اقدس اپنے پیچھے آتش کو آتا محسوس کرتی رُک کر اُس کو گھور کر بولی تو اُس کا آج رنگ ڈنگ نرالہ دیکھ کر آتش جانے کیوں گڑبڑا سا گیا

“وہ م

“کیا وہ میں؟”مجال ہے جو آپ سے کبھی کسی اچھے کام کی توقع ہو۔۔”قینچی جیسی زبان ہے آپ کی جو بس چلتی رہتی ہے۔۔۔”بے شرمی میں تو آپ کا کوئی ثانی نہیں۔۔”ایسا لگتا ہے جیسے آپ کی والدہ محترم نے پریگنسی دِنوں میں بُلبُلے ڈرامہ دیکھا تھا۔۔”آتش اُس کا دھیان اپنی گھڑی میں کروانے لگا تھا جب اقدس اُس کی بات سُنے بنا اپنی بولتی گئ تو آتش کو بس اُس کو دیکھتا رہ گیا جو چہرے پر خطرناک تیور لیے نافہم انداز میں اُس کو دیکھ رہی تھی۔۔”اُس کو ایسا فیل ہوا جیسے وہ شوہر نہیں بیوی ہو۔۔”اور سامنے کھڑی اقدس اُس کی بیوی نہیں بلکہ شوہر ہو

“زوجہ میں

“آپ کچھ بولو ہی مت کیونکہ ایک بار جب آپ بولنے پر آتے ہو نہ تو اللہ کی پناہ بریک ہی نہیں لگتی آپ کو بس نان سٹاپ بولتے جاتے ہیں۔۔”نا اپنی امیج کا خیال ہوتا ہے آپ کو اور نہ عمر کا۔۔”بس بچوں کے ساتھ بچے بن جاتے ہیں۔۔۔”آتش کی بات درمیان میں کاٹ کر اقدس نے کہا تو وہ اُس کو گھورنے لگا جو اِس وقت خود نان سٹاپ بولتی اُس کو طعنہ دینے میں لگی ہوئی تھی کہ وہ زیادہ بولتا پے

“ٹھیک ہے نہیں بولتا میں۔”خاموش ہی رہوں گا اب میں۔۔”آتش نے بتایا

“ہو ہی نہ جائے آپ خاموش۔۔”اور ابھی یہی رہنا ہم لاتے ہیں آپ کے لیے کھانا۔۔۔”اقدس اُس کو وارن کرتی نظروں سے دیکھ کر بولی تو آتش نے فرمانبردار بچوں کی طرح اپنا سراثبات میں ہلایا تو اقدس ایک نظر اُس پر ڈالے جانے لگی تو اُس کو کھینچاؤ محسوس ہوا جس پر اُس نے ضبط سے اپنی آنکھوں کو میچا

“آتش ہمارا ڈوپٹہ چھوڑے۔۔”ہم آپ کی ایسی فلمی حرکتوں سے ایمپریس ہونے والے نہیں۔۔”آج ہمیں آپ پر بہت غُصہ ہے۔۔”ہمیں مجبور نہ کرے کہ ہم سب کے سامنے آپ کا سر پھاڑ دے۔۔”پھر کل کی ہینڈلائنیز بریکنگ نیوز جو کچھ ہوتا ہے اُس میں بس آپ کا ذکر ہوگا۔۔۔”اقدس اب کی پلٹے بغیر بولی تو آتش اُس کی پشت کو گھورتا رہ گیا

“لگتا ہے تمہیں بھی جگو مگو کی ہوا لگی ہے۔۔”اپنی آنکھوں کو زرا یہاں دیکھنے کی زحمت دو تو پتا چلے۔۔”آتش نے کہا تو اقدس غُصے سے پلٹی تو اُس کا سارا غُصہ ہوا ہوگیا تھا۔۔”وہ لب دانتوں تلے دبائے آتش کو دیکھنے لگی جو اپنا ہاتھ اُپر کیے کھڑا تھا

“سس سوری۔”اقدس نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اُس سے کہا

“بندہ بولنے سے پہلے آس پاس کا لحاظ کرتا ہے۔۔”اور کچھ بھی کہنے سے پہلے پوری جانچ پڑتال کرتا ہے کہ اصل بات کیا ہے۔۔”مگر نہیں جی آپ نے تو ورڈ ٹوئر پر جانا تھا نہ اِس لیے بس نان سٹاپ بولتی گئ بولتی گئ۔۔”جیسے پیچھے جہاز اُڑنے والا تھا۔۔”آتش نے اب کی حساب بے باک کیا تو وہ شرمندہ ہوتی اپنا ڈوپٹہ اُس کی گھڑی سے نکالنے کی کوشش کرنے لگی

“یہ بتاؤ غُصہ کیوں ہو مجھ پر؟”اِتنی پیاری شکل کو دیکھ کر غُصہ آتا تو کسی کو بھی نہیں پھر تمہیں کیوں آیا؟”آتش اُس کو چُپ چاپ دیکھتا پوچھنے لگا

“کیا ہوا اپسیٹ ہو کسی بات پر؟”اُس کو جواب نہ دیتا دیکھ کر آتش نے پھر پوچھا

“آپ کو کیا؟”اقدس اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتی سرجھٹک کر بولی

“زوجہ میری طرف دیکھو اور بتاؤ کیا بات ہے؟”اِتنی سیڈنس کیوں ہے تمہارے خوبصورت چہرے پر؟”آج تو تمہارے پیارے ہانی کی شادی ہے تو تمہیں خوش ہونا چاہیے۔۔”آتش نے ٹھوری سے پکڑ کر اُس کا چہرہ اپنی طرف کیا

“ہمیں فلحال کوئی بات نہیں کرنی۔۔”اقدس نے کہا

“کیوں نہیں کرنی؟”جو بات ہے وہ شیئر کرو۔۔۔”آتش نے اسرار کیا

“ہر بات کے پیچھے نہ پڑجایا کرو۔۔”اقدس کو چڑ ہونے لگی

“تم بھی ایک بار میں بتادیا کرو کہ کیا بات ہے؟”ورنہ میری ریڑھ کی ہڈی میں چوہے ڈورنے لگ جائے گے۔۔”آتش نے کہا تو اقدس بس اُس کو دیکھتی رہ گئ۔۔

“اچھا نہ بتاؤ جب ایزی فیل کرو تو بتانا۔۔”تم رلیکس ہوکر بیٹھ جاؤ میں کھانا کسی اور سے کہتا ہوں۔۔”آتش کو وہ سہی نہیں لگی تبھی گہری سانس بھر کر کہا

“ہم لاتے ہیں۔”کسی اور کو کہنے کی ضرورت نہیں آپ کو۔”اقدس نے اپنا سرنفی میں ہلاکر کہا

“اچھا تو پھر۔۔۔”آتش اِتنا کہتا چُپ ہوگیا

“پھر؟”اقدس نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا

Show me your beautiful little one dimple.

“آتش نے مسکراہٹ دبائے کہا تو اقدس نے اپنا سرجھٹکا

“کوئی کام نخرے دِکھائے بنا بھی کرلیا کرو۔۔”اپنی اُس کزن پلٹن کے ساتھ جب ہوتی ہو تو تمہارا ڈمپل اندر نہیں جاتا اور جب میں سامنے ہوتا ہوں تو چہرے کے زاویئے بناکر ایسے دِیکھتی ہوں۔۔”جیسے جانے کتنا قرضہ تمہارے پِتاشری(باپ) سے لیکر میں روپوش ہونے کے چکر میں ہوں۔۔۔”آتش اُس کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر طنزیہ لہجے میں بولا

“ہم بھی سوچ رہے تھے۔۔”خشمگین نگاہوں سے دیکھتی اقدس اُس کو بولی

“واللہ تم سوچتی ہوں بھی ہو کول۔۔؟”لیکن کیا سوچ رہی ہو زرا اُس پر روشنی ڈالنا۔۔”آتش نے پوچھا

“یہی سوچ رہے تھے کہ آپ کو ہیندی بولنے کا دورہ کیوں نہیں پڑا۔۔۔”اقدس نے بتایا

“میں تمہاری سوچ پڑھ گیا خیر اب شاباش تھوڑا مسکراؤ۔۔”میں نے یار تمہیں مسکراتا ہوا نہیں دیکھا۔۔”آتش نے کسی ضدی بچے کی طرح فرمائش کی

“آپ خود کو بھی دیکھے کیسا بچوں جیسا انداز ہے آپ کا۔۔۔”اقدس اُس کو دیکھ کر بولی

“بیوی ہو میری تم سے فرمائش نہیں کروں گا تو کیا دعا خان سے کروں گا؟”آتش نے سرجھٹک کر کہا

“یہ درمیان میں دعا خان کہاں سے آگئ؟”اقدس حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی

“مسکرانے کا کیا لو گی یہ جان یا میرا اکلوتا دل؟”آتش نے اُس کی بات کو اگنور کیا

لگتا ہے جانے بہت ہیں آپ کی۔۔۔”اقدس اُس کے ڈائیلاگ پر زرا ایمپریس نہ ہوئی

“زوجہ۔۔۔اِس بار آتش نے ضبط سے اُس کو دیکھا

“یو لو مسکرائی۔۔”اقدس نے اُس کو گھور کر چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائی

“ایسا مسکراکر مجھ پر احسان کرنے کی ضرورت نہیں ہے تھوڑا دل سے مسکراؤ۔۔”سچی مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہوں تمہارے چہرے پر۔۔۔آتش نے ڈبل گھوری سے اُس کو نوازہ

“ہمارا مسکرانے کا دل نہیں کررہا۔۔”اقدس نے بتایا

“اچھا زرا سائیڈ پر آنا۔۔”آتش اُس کو دیکھ کر بڑی سنجیدگی سے بولا

“ککک کیوں؟”اقدس گڑبڑا سی گئ

“آؤ تو سہی فرائے کرکے کھا تھوڑئی جانا ہے میں نے تمہیں۔۔”آتش اِتنا کہتا ہاتھ پکڑ کر اُس کو ایک تنہا گوشے میں لایا جہاں کسی کی نظر اُن پر نہ پڑسکتی تھی

“ہاں تو کیا کہہ رہی تھی مسکرانے کا دل نہیں کررہا تمہارا۔۔۔”آتش نے پوچھا تو ابھی اقدس اُس کی بات سمجھ ہی نہ پائی تھی جب وہ اچانک سے اُس کو گُدگُدانے لگا تو اقدس کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے

“آ آ آ آتش نہ کریں ہاہاہاہا

اقدس ہنستی اُس کو منع کرنے لگی۔۔”لیکن آتش رُکا نہیں تھا۔۔”جس پر اقدس کا پورا چہرہ سرُخ قندھاری ہوا تھا۔۔”وہ بول کر بُرا پچھتائی تھی۔۔”ہنس ہنس کر اُس کی آنکھوں میں پانی جمع ہوگیا تھا

“اُمید ہے آج تمہیں اچھا سبق ملا ہوگا۔۔”کچھ منٹس بعد اُس پر رحم کھاتا آتش اُس کو اپنے سینے سے لگائے شوخ لہجے میں بولا تو گہرے سانس بھرتی اقدس نے ایک مُکہ اُس کے سینے پر مارا تو اِس بار آتش ہنس پڑا

“اچھا اب جاؤ کھانا لاؤ باتوں سے پیٹ نہیں بھرتا کھانے سے بھرتا ہے۔۔”اُس کے ماتھے پر بوسہ دیتا آتش اُس سے الگ ہوتا بولا تو اقدس بس اُس کا پل میں تولہ اور پل میں ماشہ ہوتا بدلتا روپ دیکھنے لگی۔۔”پھر اپنا سر نفی میں ہلاتی مسکراکر وہاں سے جانے لگی تو اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا آتش بھی وہاں سے چلاگیا اب اُس کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ بھی نہ تھی چہرے پر سنجیدگی طاری کرتا وہ آفاق لُغاری کے ساتھ کھڑا ہوگیا تھا جو اُس کے آنے پر کچھ بول رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *