Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 41)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“سانوں خبر نئ سی کہ تھاڈا دل اِنا لپو سا ہوگا۔۔”اُس کو ہوش وحواس سے بیگانہ دیکھ کر ماہا کو تشویش ہوئی تھی۔۔”تبھی اُس کے سامنے ہاتھ لہرانے لگی پر وہ ہوش میں نہ آیا تھا

“یہ کیا ہوگیا؟”زوہان اور رایان المان یہ تینوں آئے تو اُس موصوف کو بیہوش دیکھ کر حیران ہوئے

“آہ آہ آہ بھوت۔۔۔رایان کی نظر ماہا کی شکل پر گئ تو وہ چیختا اُچھلتا اپنی ٹانگیں المان کی کمر کے گرد قینچی کی طرح باندھ لی۔۔”اور اُس میں خود کو چُھپانے لگا”تو اِس اچانک افتاد پر وہ گِرتا گِرتا بچا

“رایان بھائی یہ میں ہوں ماہا۔۔”اب یہی رُکے میں بلیک ماسک اور نکلی دانت نکال کر آتی ہوں۔۔”آپ بس اِس لپو کو ہوش میں لائے۔۔”ماہا رایان کو دیکھ کر جلدی سے کہتی وہاں سے غائب ہوگئ

“رایان یار نیچے اُتر بہت بھاری ہے توں۔۔”المان رایان کو دیکھ کر بولا۔۔”جس کی ڈرامے بازی آل ٹائیم ریڈی ہوتی تھی۔۔

“یہ ماہا سنو وائٹ سے کالی کلوٹی کیسے بن گئ؟”رایان گہرے سانس بھرتا اُن دونوں کو دیکھ کر بولا

“بلیک ماسک لگایا ہوا تھا اُس نے خیر تم پانی لاؤ تاکہ اِس لپو”سوری میرا مطلب تاکہ اِن کو ہوش میں لانے کی کوشش کریں۔۔”زوہان اپنی پھسلتی زبان کو سنبھال کر اُس کو دیکھ کر بولا

“ہم لاتے ہیں۔۔۔”رایان کو ہلتا جُلتا نہ دیکھ کر المان نے کہا

“ہاں توں جا میں توں مہمان ہوں۔۔”اور بھلا کوئی مہمانوں سے کام کرواتا ہے کیا۔۔”رایان نے کہا تو وہ نفی میں اپنے سر کو جنبش دیتا باورچی خانے کی طرف اپنا رُخ کرگیا

“پانی کی کیا ضرورت رُک میں ابھی اِس کو ہوش میں لاتا ہوں۔۔”رایان زوہان کو دیکھ کر بولا تو وہ ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا جو اپنے شوز اُتار رہا تھا۔۔”اور ابھی وہ سہی سے کچھ سمجھ پاتا اُس سے پہلے رایان اپنی جُرابیں اُتارتا بیہوش پڑے موصوف کی ناک کے قریب کیا تو وہ ہڑبڑا کر ہوش میں آیا۔۔”زوہان نے رایان کو دیکھ کر بے ساختہ اپنا ماتھا پیٹا تھا ۔

“دیکھا میرے جُرابوں کا کمال۔۔۔”رایان زوہان کو دیکھ کر فخریہ لہجے میں بولا

“تم ٹھیک ہو؟”زوہان اُس کو اگنور کرتا لڑکے سے پوچھنے لگا

“وہ کون تھی؟”وہ لڑکا جس کا نام اصغر تھا وہ گھبراکر بولا

“یہاں تو میں ہوں۔۔”میرے جُرابوں کی بھینی بھینی خوشبو ہے جس کی بدولت تم موت کے منہ سے واپس آئے ہو۔۔”اور ایک یہ ہانی کھڑا ہے۔۔۔”جواب زوہان کے بجائے رایان نے دیا تھا۔۔”جس پر اصغر گھبراتا چاروں اطراف دیکھنے لگا۔

_______________________

“ماہا ٹیرس پر کب سے انتظار میں تھی۔۔”اماں سائیں وہ لڑکا ماہا سے ملنے کیوں نہیں آیا؟”ماہا اپنا حُلیہ قدرے بہتر بناتی ڈرائینگ روم میں آتی انجان بن کر چہرے پر مصنوعی جھنجھلاہٹ کے تاثرات سجائے بولی تو باقی لوگ تو چونک پڑے تھے۔۔”لیکن فاحا نے شکر کا سانس لیا تھا کہ چلو شکر ہے اکیلے میں اُن کا سامنا نہیں ہوا۔۔”جبکہ اُس کو آتا دیکھ کر سکندر نے اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیا تھا

“وہ تیسمار خان بن کر بنا جگہ پوچھے گیا تھا۔۔”آؤ دیکھتے ہیں یہی کہی ہوگا۔۔”جواب عیشا نے دیا تھا۔۔

“جی آئے۔۔۔”ماہا نے فرمانبرداری سے سر جو جنبش دی

“میں بھی آتی ہوں۔۔اُن دونوں کو جاتا دیکھ کر فاحا نے کچھ سوچ کر کہا۔۔”اور اُن سب سے ایکسکیوز کرتی وہ باہر آئی تو المان والوں کو ایک ساتھ کھڑا دیکھ کر وہ کچھ پریشان ہوئی

“کچھ ہوا ہے کیا؟”فاحا اصغر کو دیکھ کر پریشان ہوتی پوچھنے لگی۔۔”ماہا اور عیشا اِس وقت اِن دونوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی تھی

Nothing, All is well.

زوہان نے مسکراہٹ چہرے پر سجائے بتایا تو رایان کا میدان میں اُترا

“کچھ نہیں بس اِن میاں کو مرگی کا دورہ پڑا تھا۔۔”پر میں نے علاج کرلیا۔۔”رایان نے فخر سے اپنا کارنامہ بتایا

“مرگی کا دورہ؟”فاحا اپنی جگہ ششدر گئ

“آپ کی بیٹی پاگل ہے۔۔”اُس کا بھیانک چہرہ دیکھ کر میں بیہوش ہوگیا تھا۔۔”کوئی مرگی کا دورا نہیں تھا پڑا مجھے۔۔۔”اصفر جھٹ سے بولا

“ہیں ہیں ہیں؟”ماہا پر اِتنا بڑا الزام؟”موصوف آپ کو ماہا کا چہرہ کس اینگل سے بھیانک لگ رہا ہے؟”زرا تفصیل دینا۔۔”خود پر فاحا کی تپی ہوئی نظریں محسوس کرتی وہ اُس کو دیکھ کر گویا ہوئی

“ماہا آپ ہو؟”وہ تو حیرت زدہ ہوگیا

“ہاں شاید تمہیں مرگی کا دورہ پڑا تھا تو بھول گئے ہو۔۔”رایان نے خاصے افسوس کُن لہجے میں کہا

“ارے یار مجھے کوئی دورا نہیں پڑا یہاں میں نے کسی کو دیکھا تھا۔۔”اور یہ دیکھو میرے چہرے پر اُس نے لات بھی ماری۔۔”اصغر نے بتایا تو فاحا شکی نگاہوں سے عیشا کو دیکھنے لگی۔

“مجھے ایسے نہ دیکھے میں تو آپ لوگوں کے ساتھ تھی۔۔”اُس کی نظروں کا مطلب جانتی عیشا جھٹ سے بولی جس پر وہ پھر رایان کو دیکھنے لگی۔۔

“مجھے اگر اِن کو اپنا بھیانک چہرہ دِکھانا ہوتا تو ہوش میں لانے کے لیے جتن کرکے اپنا شوز کیوں اُتارتا؟”رایان نے اپنا دامن صاف کیا تو فاحا نے المان کو دیکھا

“ہماری بہن ہے ماہا ہم کیوں کرے گے ایسا؟”المان نے بھی بتایا تو اب وہاں بس زوہان بچا تھا

“آپ کو پتا ہے میں ایسی نان سیریس حرکتیں نہیں کرتا۔۔”فاحا کی شکی نگاہیں خود پر جمی دیکھ کر زوہان نے بھی جلدی سے کہا تو رایان دانت پیس کر اُس کو دیکھنے لگا

“میرا اب منہ مت کُھلواؤ اِنے تم مسجد کے کک۔۔۔۔رایان تو اُس کی مسینی شکل دیکھ کر تپ اُٹھا تھا۔۔”تبھی اُس کے کان کے پاس سرگوشی نما آواز میں بولا تو زوہان نے اُس پر کان نہیں دھڑے

“اماں سائیں نہ ماہا تھی۔۔”اور نہ یہ سب تو کیا آپ جانتے ہوئے بھی ہماری شادی ایسے پاگل انسان سے کروائے گیں؟”جس کو مرغی کا دورا پڑتا ہو۔۔”ماہا نے رونی شکل بنائے فاحا کو دیکھ کر کہا تو وہ سوچ میں پڑگئ

“ارے ماہا جی میں پاگل انسان نہیں ہوں۔۔”یہاں واقعی کوئی کالی لڑکی کھڑی تھی۔۔”اصغر نے مداخلت کرتے ہوئے اُس کو بتایا

“یہاں کوئی کالی لڑکی نہیں ہے۔۔”سب گوری چٹی ہیں۔۔”ماہا نے اُس کو دیکھ کر جتاتے ہوئے لہجے میں بتایا

“کوئی ثبوت ہے کہ تمہیں مرگی دورہ نہیں پڑتا؟”رایان نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا

“آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ مجھے مرگی کا دورا پڑتا ہے۔۔؟وہ جواباً اُس پر چڑھ ڈورا

“یہ میرے برینڈڈ جُرابیں اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ تمہیں مرگی کا دورہ پڑتا ہے۔۔”چلو مان لیا میں غلط ہوں پر پھر تمہیں اِن کی مسرور کردینے والی خوشبو پر ہوش کیوں آیا پہلے کیوں نہیں آیا؟۔”رایان اپنے پاؤ اُس کو دِکھاتا بولا تو اپنی جگہ وہ پہلو بدلتا رہ گیا

“اپنی ماں اور پھوپھو کو یہاں سے واپس لے جاؤ۔۔”فاحا ایک نتیجے پر پُہنچ کر بولی

“پر

پر ور کو چھوڑو ابھی جو اماں سائیں نے کہا ہے وہ کرو۔۔”ورنہ تھاڈی خیر نہیں۔۔ماہا نے چہرے پر پُراسرار مسکراہٹ سجائے کہا تو اصغر کے ہوش اُڑ گئے

“آنٹی اِس نے مجھے لات ماری تھی۔۔”ماہا کی طرف اِشارہ کرتا وہ ڈر ڈر کر بتانے لگا

“اماں سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔.”ماہا کھینچ کر اُس کو پُکارتی اُس کے کندھے پر سررکھ گئ

“کچھ دیر پہلے کہا کہ وہ ماہی نہ تھی۔۔”اور اب بول رہے ہو ماہی تھی۔۔”فاحا کو اُس پر غُصہ آیا

“لگتا ہے گجنی فلم کا سائیڈ ایفکٹ ہے۔۔رایان نے لقمہ دیا

“ماہا اِتنی بے مول ہوگی۔۔”اُس کو پتا نہیں تھا۔۔”یعنی ہماری شادی آپ لوگ ایسے انسان سے کروانے والے تھے۔۔’جس کو مرگی کا دورہ پڑتا ہے۔۔”بُھلکر ہے۔۔”معصومو پر الزام تراشی کرتا ہے۔۔”ماہا اپنے نا آنے والے آنسوؤ صاف کرتی بول کر چلی گئ تو اُس کی ڈرامے بازی “زوہان”المان”رایان اپنی جگہ دنگ رہ گئے تھے۔۔”البتہ فاحا بیچاری شرمندہ ہوگئ تھی

“یہ تو میری ڈیوٹی تھی۔۔”ماہی میری جگہ کیسے لے سکتی ہے؟”ماہا کی ایکٹنگ پر رایان احتجاجاً بولا

“سب نے اپنے اپنے حصے کا کام کیا ہے۔۔”زوہان نے اُس کو دیکھ کر جتاتا تو وہ دل مسوس کرتا رہ گیا

______________________________

“کیا ہوا آپ لوگ اِتنا خاموش کیوں ہو؟”اقدس سب کو چُپ دیکھ کر پوچھنے لگی

“آپو آپ بہت جلدی آگئیں ہیں۔۔”رایان نے اُس کو دیکھ کر مسکراہٹ پاس کرکے کہا

“ساری فلوپ مووی ختم ہوچکی ہے۔۔”سکندر نے ہاتھ کھڑے کیے کہا

“کیا مطلب؟”رشتہ طے ہوگیا؟”اقدس کو دھچکا لگا

“ارے نہیں اقدس آپو رشتہ نہیں ہوا۔۔۔”زوہان نے اپنا سر نفی میں ہلاکر بتایا

“پھر؟”اقدس نے جاننا چاہا

“پھر کیا نہیں ہوا بس تو نہیں ہوا۔۔”آپ بتائے اِتنی لیٹ کیوں آئی ہیں؟”سکندر نے پوچھا

“وہ دراصل آتش کو ضروری کام بیچ میں آگیا تھا تو اِس لیے آنے میں لیٹ ہوگئ۔۔۔”اقدس نے بتایا

“وہ نہیں آیا ساتھ؟”فاحا نے پوچھا

“وہ اندر نہیں آئے۔۔۔”اقدس نے بتایا

“کیوں؟”رایان نے پوچھا

“وہ بزی ہوتے ہیں۔۔”اقدس نے آہستگی سے بتایا

“ہممم اب ایسے انسان کو ایسے وقت میں ہم یہ بھی نہیں بول سکتے کہ اِتنا وہ مسنٹر۔۔”کیونکہ پرائم منسٹر تو وہ واقعی میں ہے۔۔”رایان اپنی بات پر آخر میں خود ہی ہنس پڑا

“آپ خوش تو ہیں نہ؟”اقدس کو چُپ دیکھ کر زوہان نے فکرمندی سے پوچھا

“ہاں ہم خوش ہیں۔۔”اقدس نے مسکراکر بتایا لیکن زوہان کو یقین نہ آیا اُس کی بات سن کر۔۔”پر اِتنے سارے لوگوں کے بیچ اُس نے اقدس کو کُریدنا ضروری نہیں سمجھا

“تم اپنے جیجا سے نہیں ملے نہ؟”رایان کو اچانک خیال آیا تو پوچھا

“ہم نہیں ملے۔۔”وہ کبھی یہاں آئے ہی نہیں۔۔”المان نے شانے اُچکاکر بتایا

“اُس دن جب ڈراپ کرنے چلے تھے۔۔”اگر ہماری بات مان کر گھر کے اندر آجاتے تو ملاقات ہوجاتی۔۔”اقدس نے اُس کی بات پر کہا

“ہاں لیکن نیکسٹ ٹائیم اِن شاءاللہ۔۔”المان بس یہی بول پایا

“ماہی کہاں ہے؟”اقدس کو ماہا نظر نہ آئی تو پوچھا

“وہ شدید غم میں مبتلا ہے۔۔”آج اُس کا دل ٹوٹا ہے۔۔”یعنی ایسا رشتہ شاید کسی لڑکی کے لیے آیا ہو۔۔”رایان نے چہرے پر اُفسردگی کے تاثرات سجائے بتایا

“اُس کو پریشان ہونے کی کیا بات؟”ایسا تو ہوتا رہتا ہے اور ہماری ماہی تو بہت بہادر ہے۔۔”ہم اُس کو دیکھ آتے ہیں۔۔”اقدس اِتنا کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی

“ابھی نہ جائے۔۔”ابھی تو اُس کو اپنا دل ہلکان میرا ہلکہ کرنے دے۔۔”آپ بعد میں پھر جائیے گا اُس کو دیکھنے۔۔”رایان نے اُس کو اُٹھتا دیکھ کر کہا

“ہاں یہ سہی بول رہا ہے۔۔”اُس کو اپنے رشتے پکے نہ ہونے والی بات پر ماتم کرنے دے۔۔”سکندر رایان کی بات پر اتفاق کرتا بولا

“کتنا عقلمند ہوگیا ہوں میں۔۔”ہر کوئی میری بات سے اتفاق کررہا۔۔”بس اللہ نظرِبد سے بچائے۔۔۔”اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا رایان آہستگی سے بڑبڑایا

____________________________

“آپ کو مان صاحب اپنے کمرے میں بُلا رہے۔۔۔”عیشا ایک کال سُننے دور کونے میں آئی تو ملازمہ نے آکر اُس کو کہا تو عیشا کو اُچنبھا ہوا

“مان مجھے اپنے کمرے میں آنے کا بول رہا ہے؟”عیشا کو یقین نہ آیا۔۔”بھلا وہ اُس کو اپنے کمرے میں آنے کا کیوں کہے گا؟”یہ سوال فوراً سے اُس کے دماغ میں آیا تھا

“ججج جی۔۔”وہ اُس کا ایسا انداز دیکھ کر ہکلائی کیونکہ یہ پیغام دینے کے لیے اُس کو سکندر نے کہا۔۔”جو انجان تھا کہ اب اِس کام کا کوئی فائدہ نہیں۔۔”رایان اور زوہان نے پلان چینج جو کرلیا تھا

“ٹھیک ہے میں جاتی ہوں۔۔”عیشا اُس کو دیکھ کر کہتی المان کے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔۔

“آج اگر اُس نے کوئی فضول بکواس کی تو میں کوئی لحاظ نہیں کروں گی۔۔”اپنا سیل فون آف کرتی وہ المان کے کمرے کے باہر کھڑی بڑبڑانے لگی۔۔”پھر دروازہ کھولتی وہ اندر آئی تو دِکھا جہاں المان گود میں تکیہ رکھے کسی کتاب کا مطالعہ کرنے میں مصروف تھا۔۔

“کیوں بلایا یہاں مجھے؟”وہ جو پہلے ہی اُس کے آنے پر حیران تھا۔۔”اُس کے سوال پر مزید حیران ہوا

“ہم نے؟”المان نے اپنی طرف اِشارہ کیا

“یہ تمہارا کمرہ ہے نہ؟”عیشا نے پوچھا

“ہاں پر ہم نے تو تمہیں یہاں نہیں بُلایا۔۔”المان نے جواباً کہا تو وہ کچھ پل اُس کو دیکھتی رہی۔۔”پھر اُس کو لگا کہ شاید ملازمہ نے ٹھیک سے کچھ سمجھا نہیں غلطی سے اُس کو بول دیا تو اُس نے گہری سانس بھری

“اوکے۔۔سرجھٹک کر کہتی وہ جانے لگی تو ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہی اُس کو کچھ عجیب محسوس ہوا

“دروازے کا لاک خراب ہے کیا؟”دروازے کو نہ کُھلتا دیکھ کر عیشا نے المان کو دیکھ کر پوچھا جو بس خاموش سا اُس کی کاروائی ملاحظہ فرما رہا تھا

“نہیں کیوں؟”المان نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا

“کُھل نہیں رہا شاید جم گیا ہے۔۔”یا پھر پیچھے سے لاک کیا ہے کسی نے۔۔”عیشا نے کہا تکیہ اور کتاب بیڈ پر رکھتا وہ اُٹھ کر اُس کے قریب پُہنچا

“ایسا تو کبھی نہیں ہوا۔۔”اور باہر سے دروازہ لاک کوئی کیوں کرے گا؟”المان خود دروازے کو کھولنے کی کوشش کرتا ہوا بولا

“کیا ہوا نہیں کُھل رہا؟”عیشا کو پریشانی ہوئی

“باہر سے لاکڈ ہے۔۔”المان نے بتایا

“تو تمہارے پاس کوئی ڈوبلیکیٹ چابی ہوگی نہ؟”عیشا نے پوچھا

“نہیں ہمارے پاس کوئی بھی چابی نہیں۔۔”المان اپنا سر نفی میں ہلاتا بتانے لگا

“کیا مطلب؟”تمہارے پاس اپنے کمرے کی ڈوبلیکٹ چابی تک نہیں؟”عیشا نے اُس کو گھور کر پوچھا

“نہیں کیونکہ ہمیں پتا نہیں تھا نہ کہ کوئی ہمارے گھر میں۔”۔ہمارے ہی کمرے میں ہمیں لاک کرکے چلا جائے گا۔۔”اگر پتا ہوتا تو ایک سے زائد چابیاں اپنے پاس رکھتے۔۔”المان کو اُس کی بات بے تُکی سے لگی تبھی جواباً اُس کو گھور کر بولا

“تم سے بس باتیں کروالوں جتنی چاہے۔۔”اب اِس کا کچھ کرو۔۔”مجھے باہر جانا ہے۔۔”عیشا نے چڑ کر کہا

“ہم کیا کرینگے؟”تم باہر سے کسی کو کال کرو۔۔”المان نے کہا تو اُس کی بات عیشا کو ٹھیک لگی۔۔”تبھی زوہان کو کال کرنے لگی تو پتا لگا اُس کا نمبر بند تھا

“باہر فیملی مومنٹ آن ہے کسی کا بھی فون آن نہیں ہوگا۔۔”تم ایسا کرو یہ دروازہ توڑ دو۔۔”عیشا نے پریشانی سے کہا

“ہم عام انسان ہیں۔۔”یہ دروازہ کیسے توڑ سکتے ہیں۔۔”تم باری باری سب کا نمبر ملاتی رہو۔۔”کسی کا فون آن ضرور ہوگا۔۔”اسپیشلی جگو کا فون وہ کبھی اپنا موبائیل آف نہیں رکھتا۔۔”المان نے اُس کو مشورہ دیتے بتایا

“میں اُس کو کال نہیں کروں گی۔۔”تمہیں کرنا ہے تو کرو۔۔”عیشا نے سنجیدگی سے کہا

“کیوں نہیں کرسکتی؟”اُس کو کال کرو۔ “اگر سب کے سیل فونز آف ہیں تو ایک وہ ہی ہماری مدد کرسکتا ہے۔۔”ورنہ بیٹھی رہو یہی۔۔۔المان نے کہا تو وہ دانت پیس کر اُس کو گھورتی سالوں بعد رایان کو خود سے کال کرنے لگی۔۔

“زہے نصیب زے نصیب۔۔”آج تم نے مجھے کال کیسے کرلی؟”یہ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا؟”دوسری طرف واقعی میں رایان کا سیل فون آن تھا

“مصیبت میں خچر کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے۔۔”عیشا نے اُس کی بات پر تپ کر جواب دیا

“Who is khachar?

رایان اُس کی بات پر اٹک سا گیا

“کہاں ہو تم اِس وقت؟”عیشا نے اُس کی بات کو اگنور کیا

“میں جنت میں اپنی ستر حوروں کے ساتھ یادگار لمحات گُزار رہا ہوں۔۔”تمہیں کوئی ضروری بات کرنی ہے؟”رایان نے مسکراکر بتانے کے بعد پوچھا تو عیشا نے صبر کا گھونٹ بھرا

“مان کے کمرے میں آؤ جلدی۔۔”عیشا نے کہا تو وہ الرٹ ہوا

“وہاں کیوں خیریت؟”اُس کو کچھ ہوگیا ہے کیا؟”رایان پریشان ہوا تھا۔۔”لیکن اُس کی بات پر عیشا نے کاٹ دار نظروں سے المان کو دیکھا جو کافی رلیکس بیٹھا تھا

“میں اُس کے کمرے میں ہوں۔۔”اور غلطی سے لاک ہوگئ ہوں۔۔”تو تم جلدی سے آؤ اور آکر دروازہ کھول دو۔۔”عیشا نے سرجھٹک کر بتایا تو رایان تنہا گوشے میں آیا

“کیا تم تہہ خانے میں لاک ہوگئ ہو؟”لیکن کیسے؟”یہاں کوئی تہہ خانہ بھی ہے اور ہمیں پتا بھی نہیں؟”یعنی جو کہتے تھے۔”بڑی حویلیوں میں تہہ خانے ہوتے ہیں۔۔”وہ باتیں سچ ہوتیں ہیں؟” رایان کافی پریشانی سے بولا تو عیشا موبائیل اسکرین کو گھورنے لگی

“کیا بہرے ہوگئے ہو؟”یا اُلٹا سُننے لگے ہو۔۔”میں نے کہا میں المان کے کمرے میں ہوں۔۔”وہ باہر سے کسی نے لاک کردیا ہے تم آکر اُس کو کھولو۔۔”عیشا نے دانت پر دانت جمائے اُس سے کہا

“ہاں میں جان گیا۔۔”لیکن تم فکر نہیں کرو میں دیکھتا ہوں کہ تہہ خانہ کہاں ہے؟”پھر تمہیں وہاں سے آزاد کرواتا ہوں۔۔”یقین جانو میرے پھپھڑے اور میرا جگہ پریشان ہوگیا ہے۔۔”رایان نے اُس کو اپنی طرف سے تسلی کروائی

“رایان میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں۔۔”عیشا نے ضبط سے کہا

“کیا بھوک لگی ہے؟”مجھے بھی بھوک لگی ہے۔۔”صبح سے ناشتہ اور لنچ کے بعد بس پکوڑے اور سموسے کھائیں ہیں۔۔”تم پریشان نہیں ہو تمہارے لیے کچھ کھانے کے لیے بھی لاؤں گا۔۔۔”رایان کی پریشانی میں گویا اضافہ ہوا

“اگر تم میرے سامنے ہوتے تو میں تمہارا گلا دبادیتی۔۔”عیشا کا بس نہیں چلا ورنہ وہ سیل فون میں گُھس کر اُس کا حشر نشر بگاڑ دیتی

“نہیں نہیں اِتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنا گلا کون دباتا ہے؟”اب میں کال رکھتا ہوں۔۔”کیونکہ تہہ خانے کی لوکیشن بھی تو تلاش کرنی ہے۔۔”رایان اپنی ہانک کر کال ڈراپ کرگیا تو وہ بس سیل فون کی اسکرین کو دیکھتی رہ گئ

“کیا کہا اُس نے؟”المان نے پوچھا

“وہ پاگل ہوگیا ہے۔۔”ہمیں ہی کچھ کرنا ہوگا۔۔”عیشا نے اپنی کنپٹی مسل کر جواب دیا

“تمہارے پاس اگر کوئی پِن ہے تو اُس سے کھول کر دیکھ لو۔۔”المان نے کسی خیال کے تحت کہا

“سب میں کروں تو تم کس کام کے لیے ہو؟”اُونچی آواز میں سب کو اکھٹا کرو نہ۔۔”عیشا مزید بھپری ہوئی

“روم ساؤنڈ پروف ہے۔۔”المان نے بتایا

“ؐلعنت ہو اِس ساؤنڈ سسٹم پر۔۔”تپ کر کہتی وہ اپنے بالوں سے پِن نکال کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی

“یہ کیسے لگاتے ہیں پن چابی والی جگہ پر؟”عیشا کو کچھ سمجھ نہیں آیا

“ہمارا تجربہ نہیں اور نہ کوئی ڈکیتی ہے جو پتا ہو کہ کمرے کیسے کُھلتے ہیں۔۔”المان نے بتایا تو اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر عیشا نے خود پرسکون کرنے کی کوشش کی

___________________________

“آپ کچھ بتانے والی تھی نہ؟”پھر بتائے کیا ہوا تھا مان کے ساتھ؟”فاحا کو اب موقع ملا تو میشا سے پوچھا

“اُس کے ساتھ جو ہوا اُس پر تمہیں یقین نہیں آئے گا۔۔”میشا نے گہری سانس بھر کر بتایا تب تک وہاں مسکراتا رایان بھی آگیا تھا

“ایسی بھی کیا بات ہے ؟”فاحا کو اب خوف سا آنے لگا

“دیبا۔۔”میشا نے بتانا شروع کیا

“یہ آج تمہیں کیسے یاد آگئ؟”سوہان نے تعجب سے اُس کو دیکھا

“آپ کو یاد ہے نہ وہ سالوں پہلے یہاں سے چلی گئ تھی۔۔”فاحا نے بھی کہا

“مجھے سب یاد ہے۔۔”اور یہ دیبا بس موقعے کی تاک میں تھی جو اُس کو مل گیا۔۔”اُس نے لندن جاکر مان کو اغوا کیا اور اُس کو مینٹلی ٹارچر کیا۔۔”اِس حد تک کہ وہ کچھ بھی سوچنے اور سمجھنے کی پوزیشن میں نہ رہا تھا۔۔”اُس نے وہ سارا غُصہ مان پر اُتارا جو اُس کو تم پر تھا۔۔”اسیر پر تھا۔۔”مختصر جو ہم سب پر تھا۔۔”میشا نے بتایا تو فاحا حق دق سی اُس کو دیکھنے لگی۔۔”اُس کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا اور نہ یہ سن کر کہ مان نے اِتنا کچھ اکیلے برداشت کیا تھا

“پر وہ تو

“فاحا سے کچھ بولا نہیں گیا تھا۔۔”وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھتی خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

“میں چھ سال پہلے جس کیس پر انویسٹی گیشن کرریی تھی۔۔”اور جس کیس پر زاویار اسحاق کو پاکستان آنے کا کہا تھا اُس نے میری مدد کی۔۔”اُس نے مجھے بتایا کہ مجھے جس کی تلاش ہے اُس کا لنک کسی سیاستداں سے نہیں یہ بس ہماری ٹیم کو گمراہ کرنے کے لیے افواہیں پھیلا رہے تھے۔۔”وہ دیبا غلط کاموں میں ملوث ہوگئ تھی۔۔”اور اُن لوگوں کی مدد سے وہ مان تک پُہنچ گئ تھی۔”اور سالوں تک اُس کو اپنے پاس رکھ کر اُس کو دماغی طور پر معذور کردیا کہ وہ بیچارا کچھ بھی کرنے کے قابل نہ رہا تھا۔۔”میشا نے گہری سانس بھر کر اُس کو بتایا تو فاحا کا حال بُرا ہونے لگا تھا یہ سب جان کر

“موم اُس نے ہمیں بتایا کہ اُس کے ساتھ جن

“ایسا کچھ نہیں ہوا تھا اُس کے ساتھ۔۔”رایان ابھی اُس کو کچھ بتانے لگا تھا جب میشا اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی

“کیا مطلب؟”اُس نے خود یہ بات بتائی۔۔”رایان حیران ہوا

“میں نے ابھی بتایا نہ اُس کو مینٹلی طور پر ٹارچر کیا گیا تھا تو بس یہی بات ہے۔۔”وہ اپنے حواسو میں نہیں ہوتا تھا۔۔”وہاں اُس کو لوگ جو کچھ بھی کہتے تھے وہ اُس بات کو تسلیم کردیا کرتا تھا۔۔”اُس کے جسم پر جلتے کوئلے رکھتے تھے۔” مارتے تھے پیٹتے تھے۔۔”دیٹس آل۔۔”پر جو کچھ مان کو لگتا ہے وہ سچ نہیں ہے۔۔”یہ سب دیبا نے باتیں اُس کے دماغ میں اِس لیے ڈالی تاکہ وہ سوچ سوچ کر پاگل ہوجائے۔۔”اور سچ میں وہ پاگل ہو بھی جاتا اگر وہاں سے رہا نہ ہوجاتا تو۔ “میشا نے سنجیدگی سے بتایا تو رایان کو خوشگوار حیرت ہوئی۔۔”فاحا بس اب خالی خالی نظروں سے اُن کو دیکھ رہی تھی۔۔”اُس کے بیٹے کے ساتھ اِتنا کچھ ہوا تھا اور وہ ہر بات سے انجان تھی۔۔”جب وہ واپس آیا تھا تو بھی وہ اُس سے پوچھ نہ پائی کہ تمہیں تکلیف تو نہیں کوئی؟

“تو یعنی اُس کے ساتھ °سنی وغیرہ نہیں ہوا تھا؟”رایان نے ہنس کر پوچھا۔۔”وہ جہاں پہلے اُس کے لیے پریشان ہوا تھا اب جیسے ساری پریشانی غائب ہوگئ تھی

“بلکل بس اب اِس بات کا یقین دلوانا مان کو بھی ہے۔۔”میشا نے بتایا تو ایک خیال کے تحت وہ چونکا

“موم پر اُس نے کوئی رپورٹس بھی کروائیں تھیں۔۔”رایان پریشانی سے بولا

“وہ رپورٹس اُس نے خود دیکھی تھیں؟”میشا نے پوچھا

“میرا نہیں خیال۔۔”رایان نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا

“مان باقی کے سال جس کے ساتھ رہا تھا۔۔”شاید اُس کو بھی کوئی مس انڈرسٹینڈنگ ہوئی ہے۔۔”کیونکہ اُس کے جسم پر جلن اور مار پیٹ کے نشان کچھ اِس طرح سے ہیں۔۔”پر رپورٹ میں میرا نہیں خیال کچھ کلیئر آیا ہوگا۔۔”یا پھر وہ مان کو کچھ اور بات بتانا چاہتا ہو پر مان نے سُننا گوارہ نہ کیا ہو۔۔”میشا نے بتایا

“اگر ایسی بات ہے تو پارٹی کرنا بنتی ہے۔۔”خوامخواہ وہ اُداس گُڈھا بنا پِھرتا ہے اور آپ کو چاہیے کہ اب عیشو کو اُس کے ساتھ رُخصت کردینا چاہیے کیونکہ وہی اُس کو اب سیدھا کرسکتی ہے۔۔”رایان نے اب کافی عجلت کا مُظاہرہ کیا

“یہ بات کیا اسیر کو پتا ہے؟”فاحا کی سوچیں فلحال المان کے گرد تھیں

“ہاں اُس کو پتا ہے۔۔”اور اُس نے دیبا کو لنگڑا کرکے کسی ایجنسی کے حوالے کیا تھا۔۔”اب وہ نہیں بچتی کافی عبرت کا نشانہ بننے والی ہے۔۔”کُتوں سے بدتر موت مرے گی وہ۔۔”میشا نے ہنس کر بتایا تو فاحا کے دل کی جلن تھوڑا کم ہوئی

“اُنہوں نے مجھ سے یہ بات کیوں چُھپائی؟”کیا فاحا کا حق نہیں تھا جاننے کا کہ اُس کے بیٹے پر کیا کچھ ہوا ہے۔۔”فاحا بھرائی ہوئی آواز میں بولی

“میری جان اُس نے اِس لیے نہیں بتایا ہوگا کیونکہ اُس کو پتا تھا تم نے جان کر رونا شروع کردینا ہے۔۔”سوہان اُس کو اپنے ساتھ لگائے بولی

“ہاں نہ خالہ پلیز یہ ایموشنل سین اب اسکیپ کردے۔۔”سالوں بعد سب نارمل ہونے لگا ہے۔۔”رایان بھی اُن کے ساتھ لگتا بولا تو وہ روتی ہوئی ہنس پڑی

“ویسے میری بات سن لو۔۔”تم لڑکے والی ہو اُس بات کا دھونس جمانا ایک طرف لیکن ہمارے یہاں لڑکی کے باپ نے صاف لفظوں میں بول دیا ہے کہ اگر لڑکا اپنی لڑکی لینے کی بات خود کرے گا تو وہ اپنی خوشی کو رُخصت کرے گا ورنہ نہیں۔۔”میشا نے ہاتھ کھڑے کیے آرام سے بتایا

“میشا ٹھیک بول رہی ہے۔۔”زوریز اور آریان کی لاڈلی تو وہ پہلے بھی تھی۔۔”لیکن اِن سالوں میں سمجھو اُن کی لاڈلی ایکسٹرا لیول پر بن گئ ہے۔۔”سوہان نے بھی کہا تو فاحا مسکرائی

“آپ دونوں پریشان نہ ہو۔۔”مان تو کیا اُس کا باپ بھی آئے گا۔۔”فاحا نے کہا تو رایان کی ہنسی چھوٹ گئ

“بجا فرمایا اسیر خالو کا آنا بھی ضروری ہے۔۔”دولہے کا باپ جو ہیں۔۔”رایان نے شرارت سے اُس کو دیکھ کر کہا تو فاحا نے اُس کے کان کھینچے

“آپ کا بیٹا نہیں سُدھر سکتا۔۔”فاحا نے آریان کو اپنے ساتھ لگائے ہنس کر میشا سے کہا۔۔”تو وہ دلکش انداز میں مسکراتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔۔”جیسے جانے کونسا بڑا اُس کو اعزاز ملا ہو

“اِس کا باپ کبھی سُدھرا جو میں اِس سے سُدھرنے کی کوئی اُمید رکھوں گی۔۔”وہ تو شکر ہے خوشی کا زیادہ اُٹھنا بیٹھنا ہمارے پیارے جیجا زوریز کے ساتھ زیادہ ہوتا تھا۔۔”ورنہ اُس میں بھی آریان کے جراثیم ٹرانسفر ہوجاتے۔۔”میشا تاسف سے رایان کو دیکھ کر جواباً بولی

“ہاں بس یہ سوہان آپو کی سرسری ملاقات کا کمال ہے جو ہمیں اِتنے سُلجھے ہوئے جیجا جی ملے۔۔”ورنہ فاحا کے بالوں میں چاندی آگئ ہے۔۔”پر ایسی سرسری ملاقات کسی سے نہ ہوپائی۔۔۔”فاحا شرارت بھری نظروں سے خاموش بیٹھی سوہان کو دیکھ کر بولی تو اُس کی بات کا مطلب سمجھتی سوہان اُن دونوں کو گھورنے لگی۔”جن کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔۔”رایان جبکہ اپنی گردن پر ہاتھ پھیرنے لگا کیونکہ وہ اُن کی بات کا مطلب جان نہ پایا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *