Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 44)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“آگ ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔۔”اُن کے خوبصورت گھر کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔۔”کشمش میں مبتلا ہوتا وہ کیسے اندر جائے کا سوچ رہا تھا؟”کیونکہ اندر جانے کا کوئی رستہ نہیں بچا تھا۔۔”پھر اچانک سے اُس کی نظر دوسرے دروازے کی طرف پڑی جہاں کچھ لوگ اسٹریچر کو لا رہے تھے۔۔”اندر اُس سے پہلے کوئی گیا تھا؟”فائر بریگیڈ والوں نے بھی اپنا کام شروع کیا ہوا تھا۔۔”یہ بات جیسے اُس کو پتا اب چلی۔۔

“زوجہ

“آپ اِن کا چہرہ نہیں دے سکتے۔۔”وہ لوگ گھر سے کافی دور آئے تو بے قراری کی کیفیت میں آتش اسٹریچر پر موجود اقدس کے وجود سے چادر ہٹانے لگا تھا جب اُس کو کسی نے ٹوک کر کہا

“کیوں؟”آتش نے جلتی نگاہوں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا۔۔”اُس کو یہ مُداخلت زرا بھی پسند نہ آئی تھی

“اِن کا پورا چہرہ جل چُکا ہے۔۔”اُس نے بتایا تو آتش کا دل زور سے دھڑکا تھا

“ککک کیا مم مطلب؟”آتش کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی

“اِن کا پورا چہرہ مسیخ ہوچُکا ہے۔۔”اور شاید باڈی بھی کافی جل چُکی ہے۔۔”اور

“اِس کی سانسیں تو چل رہی ہے نہ؟”وہ افسوس بھرے لہجے میں اُس کو بتانے لگی تھی جب دھڑکتے دل کے ساتھ آتش نے بے چینی کے عالم میں پوچھا تھا۔۔”اُس کو بس یہ بات جاننی تھی کہ اُس کی زوجہ کا دل دھڑک تو رہا تھا نہ۔۔”اُس کا چہرہ متاثر ہوچکا تھا پورا یہ جانتے ہوئے بھی اُس کو اگر کسی چیز کی زیادہ پرواہ تھی کہ تو بس اُس کی زندگی کی۔۔”اُس کی سانسوں کی جس کی ڈور وہ اپنی سانسوں سے بندھتی ہوئی محسوس کررہا تھا

“جی سانس چل رہی ہے۔۔”ڈاکٹر نے اقدس کے بارے میں بتایا تھا۔۔”لیکن لگ ایسا رہا تھا جیسے کسی نے آتش کو اُس کی زندگی کی نوید سُنا دی ہو۔۔”بے اختیار سرجُھکاکر اُس نے اپنے رب کا شکر ادا کیا تھا

ہمیں اِنہیں ایمبولینس میں ڈالنا ہوگا۔۔”تاکہ ہاسپٹل پُہنچ کر جلدی اِن کا علاج شروع ہوجائے۔۔”وہ بولا تو لب بھینچ کر آتش نے اسٹریچر کی طرف دیکھا۔۔”اُس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اِس چادر میں اُس کی زوجہ کا وجود چُھپا ہوا ہے

“وہ لوگ اسٹریچر کو ایمبولنس میں ڈال کر نکل چُکے تھے۔۔”آتش بھی جانے لگا تھا لیکن میڈیا والوں نے چاروں طرف سے اُس کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔۔”جن کے سوالات وہ کافی ضبط سے سُن رہا تھا۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“کیا خالہ واقعی میں ہانی کا رشتہ طے کرنے لگی ہو آپ؟”رایان کافی حیرانگی سے سوہان کو دیکھ کر بولا”اُس کے ساتھ سکندر بھی تھا جس کا پلان دعا کے ساتھ تھا۔۔”لیکن رایان نے زبردستی قسمیں دے کر یہاں آنے کا کہا تھا جس پر ناچاہتے ہوئے بھی آیا تھا اور آکر جو بات اُس کو پتا لگی اُس پر وہ یقین کرنے سے قاصر تھا۔”اور یہی حال عیشا کا بھی تھا۔۔”اُن کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ اچانک زوہان کی شادی کا شوشہ کیسے شروع ہوگیا؟

“ہاں مجھے بھی زوریز نے بتایا ہانی کو ایک لڑکی پسند آگئ ہے۔۔”اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کے گھر رشتہ لے جائے۔۔”سوہان نے گویا اُن تینوں کے سروں پر دھماکا کیا تھا وہ حق دق ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ جانے کے بعد سوہان کو دیکھنے لگے۔۔”جو اپنے کلائنٹ کے کیس کی فائل پڑھنے میں مصروف تھی

“ہانی نے خود کہا ہے؟”مطلب سیریسلی ہانی کو لڑکی پسند آئی ہے؟”رایان بیہوش ہونے کے در پہ تھا

“ہاں اور کیا تم میں سے کسی کو بھی نہیں پتا؟”تم سب تو ایک دوسرے سے ہر بات شیئر کرتے ہو نہ؟”سوہان کو اُن کا حیران ہونا سمجھ میں نہیں آیا

“وہ اگر بتاتا تو شاید ہمیں اِتنا بڑا شاک نہ لگتا۔۔”اب مجھے تو یقین نہیں آرہا کہ ہمارے ہانی کو بھی زمانے کی آب وحوا لگی ہے۔۔”اِس بار سکندر بولا

“کیوں کیا میرے بیٹے کو حق نہیں کہ وہ کسی لڑکی کو پسند کریں؟”سوہان نے فائلز سے نظریں ہٹائے اُن کو دیکھا

“حق تو ہے۔۔”پورا پورا حق ہے اُس کے پاس لیکن خالہ عرف چچی آپ کو نہیں لگتا یہ سب اچانک سے ہوا ہے۔۔”آئے مین زوہان ایک لڑکی کو پسند کرتا ہے؟”وہ زوہان جو نظریں اُٹھاکر کسی لڑکی کو دیکھتا تک نہیں اُس نے کسی کو پسند بھی کرلیا اور ہم میں سے کسی کو یہ بات کانوں کان خبر تک نہ ہوئی؟”اِس بار عیشا اُس کے ساتھ بیٹھ کر بولی

“حیرانگی تو مجھے بھی ہوئی تھی۔۔”جب زوریز نے بتایا تھا پر ہوسکتا ہے شادی میں وہ اُس کو پسند آگئ ہو۔۔”سوہان نے اُس کی بات کے جواب میں کہا

“شادی؟

شادی؟

شادی؟

وہ تین چونک کر ایک ساتھ بولے

“ہاں اقدس کی شادی میں شاید اُس نے ایشال کو پسند کرلیا ہو۔۔”ماشااللہ سے پیاری بچی بھی تو بہت تھی۔۔”سوہان نے بتایا تو وہ تین حق دق سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگے

“ایشال کون؟”رایان نے پہلے کنفرم کرنا چاہا

“ایشال لُغاری۔۔”آتش لُغاری کی بہن۔۔سوہان نے جیسے اُن کے شک پر مہر لگائی

“اُس نے ایشال لُغاری کے بارے میں کہا ہے کہ وہ اُس کو پسند کرتا ہے؟”خالہ عرف چچی اُن دونوں کے مزاج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔”عیشا کچھ بولنے کے قابل ہوئی تو بولی

“بیٹا مزہ بھی تو تب ہوتا ہے نہ اگر ایک جیسا مزاج ہوا تو مزہ کہاں آئے گا؟”اچھا ہے کچھ عادتیں ہانی ایشال کی اپنائے گا اور کچھ عادتیں ایشال اُس کی اپنائے گی۔۔”سوہان نے کہا تو وہ بس سرہلاتے اُس کے پاس سے اُٹھ گئے تھے

“وہ تینوں حیران پریشان ٹی وی لاؤنج کا رُخ کرنے لگے تھے۔۔”جب زوہان آفس سے گھر میں داخل ہوا

“تم آج آفس کیوں نہیں آئی؟”جانتی تو تھی آج ہمیں آفس میں بہت کام کرنا تھا۔۔”زوہان عیشا کو دیکھ کر بولا

“کیا ہوا؟”اُس کو کوئی بھی جواب نہ دیتا پاکر زوہان نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا جو کافی سنجیدہ نظروں سے اُس کو ہی دیکھ رہی تھی۔

“ہونہہ

“جواب میں عیشا منہ ٹیرھا کرتی ٹی وی لاؤنج چلی گئ تو زوہان ناسمجھی سے اُس کی پشت کو دیکھنے لگا

“عیشو کو کیا ہوا ہے؟”زوہان نے تعجب سے رایان کو دیکھ کر پوچھا

“ہونہہ

“جواب میں وہ بھی عیشا کی طرح کرتا اُس کے پیچھے چلاگیا تو زوہان کو سمجھ نہیں آیا کہ اِن دونوں کو ہوا کیا ہے؟”اچانک سے

“اِن دونوں کو آج کیا ہوگیا ہے؟”کیا کچھ ہوا ہے کیا؟”زوہان نے سکندر کو دیکھ کر اب پوچھا

“ہونہہہہہ۔۔”وہ اُن دونوں سے زیادہ منہ کو ٹیرھا کرتا چلاگیا تو زوہان نے گہری سانس خارج کی اور کچھ سوچ کر اُن کے پیچھے گیا۔

“جگو

عیشو

سِکی

“کیا ہوگیا ہے تم سب کو؟”اِس طرح ری ایکٹ کیوں کررہے ہو؟”زوہان نے اُن تینوں کو دیکھ کر پوچھا

“کوئی مووی دیکھے؟”عیشا اُس کو فل اگنور کرتی اُن دونوں کو دیکھ کر پوچھنے لگی

“ناٹ آ بیڈ آئیڈیا۔۔”رایان نے اُس کی بات سے اتفاق کیا

“لیکن دیکھے کونسی؟”سکندر نے پوچھا

“پھٹان یا پھر جوان۔۔”عیشا نے آپشنز دیئے

“تم لوگوں کو میں نظر نہیں آرہا کیا؟”زوہان اُن لوگوں کے سر پہ کھڑا ہوا

“تمہارے پاس وہ موویز ہیں؟”رایان نے جیسے زوہان کی بات کو سُنا ہی نہ تھا

“ہاں ہے ویٹ کرو میں اپنا سیل فون لاتی ہوں۔۔”عیشا نے پرجوش ہوکر کہا اور وہ ابھی اُٹھنے لگی تھی کہ اُس سے پہلے زوہان نے اُس کو واپس صوفے پر بیٹھایا

“تم سب کو ہو کیا گیا ہے؟”زوہان بہت بُری طرح سے زچ ہوا۔۔”اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ تینوں اُس کی موجودگی کو فراموش کیے اپنے ساتھ باتوں میں کیسے مگن تھے؟”ایسا ایکٹ کررہے تھے جیسے وہ اُن لوگوں کے درمیاں تھا ہی نہیں

“ہمیں کچھ ہوا ہے؟”وہ تینوں ہم آواز میں کہتے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے

“نہیں تو کیا مجھے؟”کب سے تم لوگوں کی اگنورنس کو محسوس کررہا ہوں۔۔”آخر مسئلا کیا ہے؟”زوہان نے جاننا چاہا

“کوئی مسئلہ نہیں آپ خوامخواہ خود سے قیاس آرائیاں نہ کریں۔۔”رایان نے منہ کے زاویئے بنا کر کہا

“جگو۔۔”زوہان نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا

“جگو یہ مسٹر چاہتا ہے کہ ہم سب خاموش رہے۔۔”عیشا نے رایان کو دیکھ کر کہا

“ہاں تو ہم خاموش ہی ہیں۔۔”سکندر نے بتایا

“عیشو سکی۔۔”تفصیل سے بتاؤ گے ہوا کیا ہے آخر؟”زوہان بال نوچنے کے قریب ہوا

“جو ہوا ہے اُس کے ہونے پر تو ہم خود ہونے پر پریشان ہیں۔۔”عیشا نے بتایا

“اور اِس بیوقوف کو توں اللہ میاں کی گائے لگتا تھا۔۔”رایان نے کھینچ کر ایک تھپڑ سکندر کی پیٹھ پر مارا

“ہاں تو مجھے کیا پتا تھا کہ یہ معصوم۔۔”اپنے کام سے کام رکھنے والا نظر آتا شخص اِتنا شاطر ہوگا اور ایک دن یہ چاند چڑھائے گا۔۔”سکندر نے سرجھٹک کر بتایا

“بھئ مجھے تو اُسی دن پتا چل گیا کہ یہ صاحب کوئی نہ کوئی چاند ضرور چڑھائے گا جب میں نے اِس کو اور اُس پُھلجڑی کو بہت قریب کھڑا دیکھا تھا یونی میں۔۔”رایان نے اُس کا بھرپور ساتھ دے کر کہا۔۔”لیکن زوہان ابھی تک اُن کی باتوں کا مطلب اخذ نہیں کرپایا تھا

“جگو تمیز سے ہونے والی بھابھی ہے وہ تمہاری۔۔”اگر تم اُس کو پُھلجڑی جیسا نازیبا لقب دوگے تو یہ محترم خفا ہوجائے گے۔۔”اور ہوسکتا ہے کہ اِن کی شان میں گُستاخی ہوجائے۔۔”رایان کی بات پر عیشا نے اُس کو ٹوک کر کہا

“اُففف شما چاہتا ہوں میں۔۔”رایان نے زوہان کے آگے ہاتھ جوڑے تو وہ بس اُس کو دیکھتا رہ گیا

“بھابھی تو بھابھی ماں ہوتی ہے۔۔”ماں سماں تو میں بھلا اُس کی شان میں ایسی گُستاخی کیسے کرسکتا ہوں۔۔”آپ مجھے کسی سزا کا مرتکب نہ بنائیے گا میں اپنا لفظ”پھلجڑی واپس لیتا ہوں۔۔”رایان نے ڈرامے بازی کے تمام رکارڈ توڑ کر کہا

“کیسی عجیب لینگویج ہے تمہاری۔۔”زوہان حیرت سے اُس کو دیکھتا بولا

“ہماری تو خیر بس لینگویج عجیب ہے۔۔”لیکن آپ محترم کے تو کرتوت سارے عجیب ہیں۔۔”رایان اُس کی بات پر دوبدو بولا تو جہاں اُن دونوں نے اپنی مسکراہٹ دبائی تھی۔۔”وہی زوہان سر پکڑ کے صوفے پر بیٹھ گیا تھا

“دیکھو تو زرا اب ڈرامے کیسے کررہا ہے؟”جیسے بڑا ناسمجھ برگر بوائے ہے۔۔”سکندر زوہان کو دیکھتا اُن سے بولا

“ہاں واقعی اور ہمیں لگتا بھی تو ایسا ہی تھا پر اِس نے پروف کیا کہ ہم رونگ تھے۔۔”عیشا نے سرجھٹک کر کہا

“گالیاں پوری ہوگئ ہو تو بتادو کیا مسئلہ ہے؟”میں نے کیا کیا ہوا ہے؟”زوہان نے گہری سانس بھر کر پوچھا

“تم سے ہمیں یہ اُمید نہ تھی۔۔”مطلب تم ہماری آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے اور ہم معصوم آئینہ صاف کرتے رہے۔۔”رایان اور اُس کی انوکھی کہاوتیں

“بات کیا ہے؟”زوہان نے ضبط سے پوچھا

“تم کسی لڑکی میں انوالو ہو۔۔”اور ہمیں بتانا تک گوارا نہیں کیا؟”نہیں مطلب کیوں؟”ہم نے کونسا اُس کو پٹانا تھا۔۔”سکندر نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولا

“واقعی ہمارا دل ہے کوئی کرائے کا گھر تھوڑئی جو”جو کوئی آئے گا اُس کو جگہ دے ڈالے گے۔۔”رایان نے بھی اُس کی بات سے اتفاق کیا

“واٹ ربش؟”کیا بکواس ہے یہ؟” میں کسی لڑکی میں انوالو نہیں۔۔”زوہان عجیب نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولا

“ہاں وہی تو واٹ بش کیا بکواس ہے یہ؟”عیشا نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا

Whatever it is, tell me in clear words.

زوہان پاگل ہونے کے در پہ تھا۔۔”وہ چاہ کر بھی اُن کی ڈھکی چُھپی باتوں کا مطلب جان نہیں پارہا تھا

You love Eshal?

“عیشا نے واقعی میں صاف لفظوں میں براہ راست اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا تو زوہان کے چِھکے چھوٹ چُکے تھے۔۔”وہ باری باری اُن تینوں کو دیکھنے لگا جو کافی نافہم تاثرات سجائے اُس کو دیکھ رہے تھے

Why are you asking?

“زوہان خود کو کمپوز کرتا اُس سے پوچھنے لگا اُس کو پتا نہیں لگا کہ یہ بات اُن کو کس نے کہی؟”کیونکہ اُس کے تو خواب وخیال میں بھی نہیں تھا ایسا بھی اُن کو لگ سکتا ہے یا وہ اُس سے پوچھ سکتے تھے؟

Why are you asking?”Wow what a question?

“رایان اُس کی نقل اُتارتا بولا

Say no, what can we do? You are the owner of your own will. “Who are we?” What are our

“سٹاپ یار کیا ہوگیا ہے تم تینوں کو؟”تم لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ میں اپنی کوئی بات تم لوگوں سے چُھپا سکتا ہوں؟”ہم چاروں کی زندگی ایک دوسرے کے لیے کُھلی کتاب کی طرح ہے۔۔”جس میں کوئی جھول نہیں جس کا کوئی بھی ورق دھندلا نہیں۔۔”سکندر جذباتی ہوتا مزید اُس سے کچھ کہتا اُس سے پہلے زوہان بول پڑا

“تو اِس کتاب میں لو والا چیپٹر تم نے فارسی میں کیوں لکھا ہے؟”رایان نے کہا تو زوہان نے اُس کو دیکھا۔۔”ایک بار پھر اُس کو خیال آیا کہ وہ ساری بات اُن کو کلیئرلی بتادے۔۔”لیکن پھر دوسرا خیال آیا کہ اگر وہ اُن کو بتائے گا کہ اُس کو ایشال نے اغوا کیا تھا اور فورسفلی اُس سے نکاح کرنا چاہتی تھی تو اِن سب نے اُس کا خوب مذاق اُڑانا تھا کہ اُس کو ایک لڑکی نے اغوا کیا تھا؟”یہ بات نا تو کبھی وہ بھولے گے اور نہ اُس کو بھولنے دے گے۔۔”اُلٹا اُس کے آنے والے بچوں کو بھی اُس کی تمام ہسٹری بڑھا چڑھا کر بتائے گے۔۔”ایک طرح سے پھر یہ اُس کا ویک پوائنٹ ہوا جو ساری پلٹن کے ہاتھ لگ جاتا۔۔”یہ سب سوچتے ہوئے بے اختیار اُس کو جھرجھری سی آئی اور اپنے پہلے خیال پر اُس نے لعنت بھیجی

“کِن سوچو میں گم ہو؟”جواب دو۔۔”رایان نے اُس کے آگے ہاتھ لہرایا

“نہیں بس میں یہ بول رہا تھا کہ میں اُس میں انوالو نہ تھا۔۔”بس شادی کے لیے اُس کا انتخاب کیا ہے۔۔”زوہان نے بتایا

“کیوں؟”اُس پھلجڑی میں ایسا کیا ہے جو تم نے اُس کو منتخب کیا ہے شادی کے لیے؟”سکندر نے پوچھا

“کیسا عجیب ورڈ یوز کررہے ہو؟”زوہان نے تاسف سے اُس کو دیکھا

“لگا لگا لگا۔۔”دل میں کچھ ہورہا ہے موصوف کو بھئ۔”اب کوئی اُس کو پھلجڑی نہیں بولے گا۔۔”احترام سے اُس کا نام لے گا۔۔”رایان نے شوخ نگاہوں سے زوہان کو دیکھ کر بولا

“ایسی کوئی بات نہیں۔۔”زوہان نے سنجیدگی سے کہا

“بات بس اِتنی ہے کہ یہ شہزادے بس اُس کو اپنے نکاح میں لینا چاہتے ہیں۔۔”بھلا خود سوچو خوبصورت لڑکی کون اپنے ہاتھ سے جانے دیتا ہے؟”عیشا نے رایان کا بھرپور ساتھ دیا

“ویسے ہانی ایک بار سوچو وہ کافی پُہنچی ہوئی لڑکی ہے۔۔”تیرا اور اُس کا کوئی جوڑ نہیں۔۔”وہ مغرب ہے تو توں مشرق۔۔۔”اپنے روعب میں دبا کر رکھے گی وہ تُجھ کو۔۔”بچوں کے ڈائیپرز بدلوائے گی۔۔”اپنی ٹانگیں دبوائے گی۔۔”سر دبانے کا کہے گی۔۔”میری مان اپنی جیسی کسی لڑکی کا انتخاب کر۔ورنہ وہ پھلجڑی اپنی انگلیوں کے اِشارے پر تمہیں نچائے گی ۔”رایان اُس کی طرف جُھکتا اپنے مفید مشوروں سے اُس کو نوازنے لگا

“ہاں وہ بولے گی بیٹھ۔۔”تو توں بیٹھے گا اور وہ کہے گی کہ کھڑا ہوجا تو توں کھڑا ہوجائے گا۔۔”سکندر کہاں پیچھے رہنے والا تھا

“ہوگئ بکواس؟”زوہان نے بڑے تحمل سے پوچھا

“ویسے اُس کے پاس خوبصورتی کے علاوہ کچھ ہے تو نہیں پھر تمہیں اُس سے شادی کا شوق کیسے لاحق ہوا؟”جو ہم سے مشورہ کیے بنا ڈائریکٹ جج(زوریز) کے پاس حاضری لگوادی اور فیصلہ اُن سے اپنی مرضی کا کروالیا۔۔۔”عیشا کو کچھ ہضم نہیں ہوا

“ناکرو عیشو اُس کے پاس پیسا”بینک بلینس سب کچھ ہے۔۔”ظاہر سی بات ہے جہیز میں آدھی ملکیت تو اپنے نام کرواکر آئے گی نہ؟” آفٹر آل پرائم منسٹر کی اکلوتی بہن ہے۔۔۔”سکندر نے اُس کی بات کے جواب میں کہا

“ہاں یہ تو ہے ساری زندگی ہانی تو بس پھر بیٹھ کر کھائے گا۔۔”رایان نے رشک بھری نگاہ زوہان پر ڈالی تو زوہان بس بال نوچنے کے قریب ہوا تھا

“کتنی فضول

“تم لوگوں نے نیوز دیکھی ہے؟”زوہان ابھی اُن سے کچھ کہنے لگا تھا۔۔’جب میشا وہاں آکر بولی جو اپنے یونیفارم میں ملبوس تھی

“ہم نیوز نہیں دیکھتے نیند آنے لگتی ہے۔۔”زوہان نے بتایا

“لُغاری ہاؤس میں آگ لگی ہے۔۔””میشا نے بتایا تو وہ جھٹکا کھاکر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے

“اقدس آپو تو ٹھیک ہے نہ؟”زوہان نے پریشانی سے پوچھا

“ہاں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا؟”اور یہ سب اچانک سے ہوا کیسے؟”کیا اُن کے گھر میں سیکیورٹی سسٹم نہیں تھا؟”کوئی کیسے اُن کے گھر کو آگ لگاکر جاسکتا ہے؟”عیشا بھی پریشانی سے بولی

“انویسٹیگیشن جاری ہے۔۔”اور اقدس گھر پر موجود تھی۔۔”میشا نے جو بات بتائی اِس پر اُن سب کے چہرے کی رنگت پل بھر میں اُڑی تھی

“کس قدر لاپرواہ گھرانہ ہے؟”زوہان سخت لہجے میں بولا

“ابھی یہ وقت ہوش گنوانے کا نہیں ہے۔۔”ہمیں ہاسپٹل کے لیے نکلنا ہے۔۔”تاکہ پتا ہو وہ کیسی ہیں۔۔”عیشا نے اُس کو رلیکس کرنا چاہا

“آپ کو پتا ہے ہوسپٹل کونسا ہے وہ؟”سکندر نے میشا سے پوچھا تو وہ محض سر کو جنبش دے پائی تھی

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“رافیہ بیگم نے جیسے تیسے کرکے خوریہ اور حوریہ کو اسلام آباد آنے پر راضی کرلیا تھا۔۔”جس پر خوریہ اُن سے سخت ناراض ہوگئ تھی۔۔”جبکہ اُس کے برعکس یہاں آنے کے بعد حوریہ کافی خاموش سی تھی۔۔”اُس کو یہاں آنا تھا بھی اور نہیں بھی۔۔”وہ عجیب کشمش میں مبتلا ہوگئ تھی۔۔”اُس کو یہاں آنے کے بعد لگ رہا تھا جیسے اُس کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔”اُس کی اپنی سوچیں تھیں۔”اور دوسری طرف رافیہ بیگم “خوریہ اور ساحر یہ تینوں اپنے نئے گھر میں آتے سیٹنگ کرنے میں مصروف تھے

“آپ کو لگتا ہے کہ میں عفان کو اپناؤں گی تو یہ سوچ آپ اپنے دماغ سے نکال دے۔۔”کام سے فارغ ہونے کے بعد خوریہ نے کافی سنجیدگی سے رافیہ بیگم کو دیکھ کر کہا

“تمہیں میں اُس کے ساتھ رخصت کردو گی۔۔”میں تمہارا اور حور کا بوجھ مزید نہیں اُٹھاسکتی۔۔”رافیہ بیگم نے کہا تو خوریہ کو اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا

“اب آپ کو بھی ہمارا وجود بوجھ لگنے لگا ہے؟”خوریہ تلخ مسکراہٹ سے پوچھنے لگی

“جب بیٹیوں کی شادی کی عمر ہوجائے۔۔”اور گھر میں پڑی رہے تو والدین پر بوجھ ہی ہوتیں ہیں۔”رافیہ بیگم اُس کو دیکھے بغیر بولی۔۔”وہ جانتی تھی اگر وہ نرم پڑی تو خوریہ اپنی ضد سے کبھی نہیں اُترے گی

“آپ مجھے عفان کے ساتھ رُخصت کرنے پر تُلی ہوئیں ہیں۔۔”وہ عفان جو آپ کی چھوٹی بیٹی کا منگیتر تھا۔۔”خوریہ کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ ری ایکٹ کیسے کرے؟

“اُس کو حور کے مینگتر کی نظر سے دیکھنا ختم کرو۔۔”اور اپنے شوہر کی نظر سے دیکھنا شروع کرو۔۔”رافیہ بیگم نے اُس کو ٹوک کر کہا

“ایسا میرے اختیار میں نہیں۔۔”خوریہ نے بتایا

“خور اماں کی بات مان لو۔۔”اگر وہ بضد ہیں تو لازمی اُنہوں نے عفان میں ایسی کوئی بات دیکھی ہوگی جس پر یہ چاہتیں ہیں کہ تم اُس کے ساتھ زندگی گُزارو۔۔”حوریہ اُن کی گفتگو میں حصہ لیتی بولی تو کچھ پل کے لیے خوریہ خاموش ہوگئ تھی

“مجھ پر بھروسہ رکھو۔۔”عفان بہت اچھا انسان ہے۔۔”رافیہ بیگم نے اُس کو خاموش دیکھ کر کہا

“جیسا آپ کو مناسب لگے۔۔”ویسے بھی یہاں میری سُننے والا بیٹھا کون ہے؟”اپنی جگہ سے اُٹھ کر کہتی وہ وہاں رُکی نہیں تھی

“آپ پریشان نہ ہو۔۔”ٹھیک ہوجائے گی وہ۔۔”حوریہ نے رافیہ بیگم کو دیکھ کر تسلی دلوانے کی خاطر کہا تو اُنہوں نے ہُنکارہ بھرا

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“رلیکس۔۔۔۔

“ایشال ہسپتال آتی آتش کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی جو سرخ نگاہوں سے سامنے دیوار کو تک رہا تھا۔

“وہ میری دُشمنی کی بھینٹ چڑھی ہے۔۔”آتش غیرمعی نقطے کو گھور کر بولا

“ایسا ہونا تھا۔۔”ایشال نے کہا

“وجہ میں بنا۔۔۔”آتش برجستہ بولا

“ایسا ہونا تھا۔۔”وجہ جو بھی بنتا لیکن ایسا ہونا تھا۔۔”خود کو قصوروار ٹھیرانے کی کوئی ضرورت نہیں تمہاری زوجہ کے بجائے میں بھی ہوسکتی تھی۔۔”ایشال نے جیسے اُس کو اُس کے گِلٹ سے نکالنے کی کوشش کی

“اُس کا پورا چہرہ خراب ہوگیا ہے۔۔”آتش نے بتایا

“پلاسٹک سرجری سے پہلے جیسا ہوجائے گا۔۔”میں اُس کی تصویر لائی ہوں۔۔”سرجن کو دِکھا دِینا کہ وہ کیسی دِکھتی تھی۔۔”باقی باڈی کی بھی سرجری ہوسکتی ہے کوئی بڑا مسئلہ نہیں تمہیں شکر ادا کرنا چاہیے کہ ایسی کرٹیکل کنڈیشن میں اُس کی سانسوں نے اُس کے ساتھ کوئی دغابازی نہیں کی۔۔”ایشال نے سیل فون کی اسکرین اُس کے سامنے کرتے کہا تو آتش نے اقدس کی مسکراتی تصویر کو دیکھ کر سختی سے اپنے جبڑے بھینچ لیے تھے

“جس کی وجہ وہ اِس حال میں ہے نہ اگر مزید اُس کے ساتھ کچھ بُرا ہوا تو میں اُس کو چھوڑوں گا نہیں۔۔”آتش کاٹ بھرے لہجے میں بولا

“آئے نو یو۔۔”اگر اُس کو کچھ نہ بھی ہوگا تو بھی آگ لگانے والی کی خیر نہیں تمہارے ہاتھوں۔۔”میں نے اُس شخص کو تمہارے فام ہاؤس چھوڑدیا ہے۔۔”باقی کا کام تمہارا ہے۔۔”میں نے اُس شخص کو تم تک پہنچا دیا تھا جو کارنامہ انجام دینے کے بعد نیویارک کے لیے نکل رہا تھا۔۔۔”ایشال نے سنجیدگی سے بتایا تو آتش نے گردن موڑ کر اُس کو دیکھا

“تمہیں کیسے پتا یہ؟”آتش نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔”آفاق لُغاری یا وردہ لُغاری نے آنا تو دور کی بات تھی ایک کال کرکے بھی اُس سے اقدس کا حال نہ پوچھا تھا اور ایک اُس کی بہن کم دشمن زیادہ اُس کے ساتھ بیٹھی تھی جس کو ساری بات پتا تھی

“کافی بے تُکہ سوال ہے۔۔”اِنسان دو شخصیت کی ہر چال ڈھال سے باخبر رہتا ہے۔۔”اُس کی ہر چھوٹی سی چھوٹی بات کو اپنی نظروں کے سامنے رکھتا ہے۔۔”اُن دو شخصیتوں میں ایک وہ شخصیت ہوتی ہے جس سے وہ بہت زیادہ پیار کرتا ہے۔۔”جس کی پل پل خبر وہ اپنے پاس رکھتا ہے۔۔”اور دوسرا وہ جو اُس کا دُشمن ہوتا ہے اُس کی ہر بازی پر وہ نظر جمائے بیٹھتا ہے جس سے نظریں ہٹانا ایسا جیسے موت کو آواز دے کر بُلانا ہوا۔۔”تو یہ کافی ہے تمہارے لیے۔۔”مجھے نہیں لگتا اب تمہارے اندر کوئی اور سوال ہوگا۔۔ایشال بھی اُس کی طرف دیکھ کر جواباً بولی تو آتش کو اُس کے سوال کا جواب مل گیا

“میں اُس کا دردناک انجام لکھوں گا۔۔”آتش ہاتھوں کی مٹھیوں کو سختی سے بھینچ کر بولا

“میں جانتی ہوں۔۔”اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔۔”وہ تمہارے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔”ایشال نے کہا

“ہڈی نہیں کانٹا جو ہر جگہ پھس جاتا ہے۔۔”لیکن اب اِس کانٹے کو میں اُس کی اصل جگہ بتاؤں گا۔۔”آتش نے پُرعزم لہجے میں کہا لیکن اِب کی ایشال کی نظریں سامنے کی طرف تھیں۔۔”جہاں پوری کزن پلٹن سے لیکر بڑے لوگوں تک سارے لوگ ہسپتال آئے ہوئے تھے۔

“ہسپتال میں اِتنے لوگ آلاؤ ہیں؟”ایشال کی حیرانکن آواز پر آتش نے چونک کر اُس کی نظروں کا تعاقب کیا تو بے ساختہ اپنا سر ہاتھوں میں گِرالیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *