Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 34)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 34)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
یہ سب کتنا جلدی جلدی ہورہا ہے۔۔”سکندر حیران لہجے میں بولا۔۔”وہ سب لوگ اب اقدس کے کمرے میں تھے
“آپو اقدس آپ کو کوئی اعتراض نہیں اِس رشتے سے؟”زوہان نے اقدس سے سوال کیا جو سوچو میں ڈوبی ہوئی تھی
“ہمیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔”ہم نے اپنی سی کوشش کی ہے کہ بابا سائیں کی کچھ فکر کم کی جائے۔۔”اقدس نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا
“اپنا کریکٹر سرٹیفکٹ دِکھاکر آتش لُغاری نے اگلے دو دن بعد شادی کے سارے فنکشنز کا بول دیا ہے۔۔”وہ کہہ رہا ہے کہ اُس کو یہ شادی اِس سال”اِس ماہ”اور اِس ہفتے کرنی ہے۔۔”کیونکہ پھر اُس کے پاس وقت نہیں ہوگا۔۔”کمرے میں داخل ہوکر عیشا نے بتایا
“یہ گھوڑے پر سوار کیوں ہے؟”سکندر کو یہ بات ہضم نہ ہوئی
“گھوڑے پر سوار ہو کا گدھا گاڑی پر لیکن آپ سے کم جلدبازی کا مُظاہرہ کررہے ہیں۔۔”کم از کم اپنے والدین کو شامل کررہے ہیں۔۔”لیکن آپ نے تو اپنی فیانسی انٹرڈیوس کروائی بھی ہجوم میں کھڑے ہوکر ناکہ اُس سے پہلے پُھوپھو کو بتانا گوارہ کیا۔۔”ماہا اُس کی بات سن کر طنز کیے بنا نہ رہ پائی تو ماحول میں اچانک تناؤ سا آگیا تھا۔۔”سکندر نے سب کی نظریں خود پر مرکوز جان کر اُس کو کوئی جواب نہ دے پایا تھا۔
“آپ آجائے آپ کو تیار کردے۔۔”عیشا نے اقدس سے کہا
“عیشو پہلے میری بات سُن لو۔۔”رایان نے جلدی سے کھڑے ہوکر اُس سے کہا تو”وہ اُس کو ایسے اگنور کرگئ جیسے کچھ سُنا ہی نہ ہو۔۔
“خوشی۔۔’جگو نے کچھ بولا ہے تم سے۔۔اقدس نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا
“میں نے نہیں سُنا اور نہ میں سُننا چاہتی ہوں۔۔”آپ آئے یا اِن لوگوں کو باہر جانے کا کہے۔۔”عیشا نے جواباً سنجیدگی رایان سے کہتے آخر میں اقدس کو کہا تو رایان نے لب بھینچ کر اُس کو دیکھا
“چلو۔۔۔زوہان نے اُن دونوں کو باہر چلنے کا اِشارہ کیا
“میں تمہارا بھائی ہوں۔۔جس سے لڑے بنا تمہارا دن نہیں گُزرتا تھا۔۔”اور اب تم ایسے اگنور کیوں کررہی ہو؟”رایان عیشا کے سامنے کھڑا ہوتا اُس سے بولا
“میں تم سے کوئی بھی بات کرنا نہیں چاہتی۔۔”اور سُننا چاہتی ہوں کچھ لہٰذا مجھ سے تم مخاطب نہ ہو تو اچھا ہوگا۔۔”تمہارے لیے۔۔”عیشا نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“عیشو ت
“میں اقدس آپو کا ہر فنکشن اٹینڈ کرنا چاہتی ہوں۔۔”اِس لیے مجھے یہاں سے جانے پر مجبور نہ کروں۔۔”رایان اُس سے کچھ کہنا لگا تھا جب اُس کی بات درمیاں میں کاٹ کر عیشا نے کہا تو وہ لب بھینچ کر بس اُس کو دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔
__________________________
“یہ ڈریس تم نے کیوں لیا؟”جبکہ یہ شگن کا ڈریس تھا۔۔”وردہ لُغاری کو اب ایشال سے بات کرنے کا موقع ملا تو اُس سے کہا
“مجھے اچھا لگا تو پہن لیا۔۔”ایشال نے مختصر بتایا
“کیا مطلب پسند آگیا اور پہن لیا۔۔”آتش کو پتا چلتا تو وہ تمہیں بتاتا۔۔”وردہ لُغاری تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولی
“زیادہ مجھے باتیں نہ سُنائے۔”ایک ڈریس ہی پہنا ہے جو بیس یا پچیس ہزار کا ہوگا۔۔”گھر چل کر پیسے دے دوں گی۔۔”لیکن یہاں اپنی باتوں سے میرا دماغ خراب نہ کرے۔۔”ایشال بیزارگی سے اُن کی بات کا جواب دیتی اُٹھ کھڑی ہوئی تھی کہ اُس کی نظر زوہان پر گئ جو ڈرائینگ روم کے پاس اکیلا کھڑا تھا۔
“شکر تمہارے گارڈز اِس وقت تمہارے ساتھ نہیں۔۔”ایشال زوہان کے پاس کھڑی ہوتی بولی تو وہ جو اپنے سیل فون میں بزی تھا چونک کر اُس کو دیکھنے لگا
“کوئی کام ہے؟”زوہان نے ایک نظر اُس پر ڈالے اپنا چہرہ دوسری طرف کرکے بولا
“ہاں میں نے اُس دن تمہیں کال کی تھی۔۔”لیکن تم نے میری کال اٹینڈ نہیں کی تھی۔۔”کیا میں یہ سمجھو کہ تم نے مجھے یوز کیا؟”ایشال نے سنجیدگی سے کہا
“ایسی کوئی بات نہیں۔۔زوہان نے کہا
“پھر جو بات ہے وہ کرو۔۔”ایشال جواباً بولی
“میں بزی ہوتا ہوں۔۔”کبھی کبھار کالز مس ہوجاتیں ہیں۔۔”خیر تم نے کوئی ضروری بات کرنے کے لیے کال کی تھی؟”زوہان نے بتانے کے بعد پوچھا
“ڈنر پر انوائٹ کرنا تھا۔۔”لیکن تم نے کالز ہی نہیں اُٹھائی۔۔”ایشال نے بتایا
“ڈنر پر انوائٹ؟”زوہان نے چونک کر پوچھا
“ہاں موم ڈیڈ سے تمہاری فیملی ملتی تو بات چیت وغیرہ ہوتی نہ۔۔”ایشال نے تفصیل سے بتایا
“میں جلدی اُن کو بھیجوں گا۔۔”زوہان نے محض اِتنا کہا
“کب؟”ایشال نے پوچھا
“جب مناسب وقت ملے گا۔۔”زوہان نے سنجیدگی سے بتایا
“اور وہ کونسا وقت ہے تمہارے لیے ضروری؟”میں نے تمہارے مطلق اپنے فادر کو بتادیا ہے۔۔اور تم ابھی مناسب وقت کے انتظار میں ہو۔۔ایشال کو اُس کی بات پسند نہ آئی تھی
“ہاں میں انتظار میں ہوں۔۔”یوں تمہاری طرح سر جھاڑ منہ پھاڑ میں کوئی بھی بات نہیں کرسکتا۔۔۔”زوہان نے جیسے اُس پر طنز کیا
“اچھا تو کیا تمہارے والدین کو مسئلہ ہوگا۔۔”اگر تم اُن کو اپنی پسند بتاؤ گے تو؟”ایشال نے بازو سینے پر باندھ کر سوال کیا
“میں تمہیں پسند نہیں کرتا۔۔”اگر ہمارا نکاح ہوگا بھی تو وہ بس تمہاری ضد کی وجہ سے ہوگا۔۔”میں کوئی انٹرسٹ نہیں رکھتا تم میں۔۔زوہان نے باور کروانے والے لہجے میں کہا تو اُس نے بڑی مشکل سے اپنے تاثرات کو نارم رکھا تھا۔۔”ورنہ اُس کی بات پر اُس کے اندر ایک ٹیس اُٹھی تھی
“اگر پسند نہیں کرتے تو پسند کرنا پڑے گا۔۔”اُس کا گریبان پکڑے ایشال نے جتانے والے انداز میں کہا
“بی ہیو۔۔اُس کا ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹائے زوہان نے تنبیہہ کی
“کیا ہورہا ہے یہ؟”اچانک آتش کی آواز پر دونوں نے اُس کی طرف دیکھا جو کافی مشکوک نظروں سے اُن کو دیکھ رہا تھا
“آپ کی بہن اپنی ہونے والی بھابھی کا کمرہ معلوم کرنا چاہتی تھی تو بس وہی بتا رہا تھا۔۔”ایک نظر ایشال پر ڈال کر اُس کو بتاتا زوہان وہاں سے چلاگیا تھا۔۔”جبکہ اُس کے سفید جھوٹ پر ایشال بیچ وتاب کھاتی رہ گئ۔۔”البتہ آتش کی ایکسرے کرتی نظریں اب رایان کی کوئی بات سُنتے زوہان پر تھیں۔۔”اُس کو زوہان سے اچھی قسم کی وائبز نہ آتی تھیں۔۔”ہلانکہ یہ دونوں کی آج پہلی مُلاقات تھی
“کچھ دیر بعد اقدس ایشال اور ماہا کے ہمراہ تیار ہوتی حویلی کے ہال میں آئی تو آتش اپنی جگہ سے اُٹھتا اُس کو دیکھنے لگا۔۔”جو گلابی رنگ کے خوبصورت جوڑے میں ملبوس بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔”اُس کا جُھکا ہوا سر دیکھ کر آتش مسکرائے بغیر نہ رہ پایا تھا۔
“اچھی لگ رہی ہو۔۔”اُس کو آتش کے ساتھ بیٹھایا گیا تو”آتش نے کہا لیکن اقدس نے کوئی جواب نہ دیا اور نہ اُس کے چہرے پر کوئی تاثر تھا
“لگتا ہے۔۔”میرے ساتھ شادی کا سن کر تمہارے موجود اندر بھی شرمانے کا سسٹم ختم ہوگیا ہے۔۔”نائیس یہ بہت اچھا ہوا۔۔”آتش نے اُس کو شرماتا ہوا نہ دیکھا تو چوٹ کرتے ہوئے بولا
“آپ دونوں یہاں دیکھے۔۔”تاکہ تصویر لے ماہا۔۔”ماہا نے اپنے سیل فون کا کیمرہ آن کیے اُن سے کہا تو آتش نے سامنے کی طرف دیکھا جہاں وہ کھڑی تھی۔۔”اور اقدس نے بھی مجبوراً کیمرہ کی طرف دیکھا
“آپ کو نہیں لگا کہ یہ جلدی ہورہا ہے۔۔”مان کے آنے کا انتظار کرلینا چاہیے تھا۔۔”رایان نے فاحا کی طرف آکر اُس سے کہا
“انتظار تب ہوتا جب وہ یہاں ہوتا۔۔”بڑی مشکل سے اقدس کے رشتہ طے ہوا ہے۔۔”اگر یہ بھی ہاتھ سے جاتا تو وہ ساری عمر کنواری رہ جاتی۔۔”تم مان کو چھوڑو اور یہ انگیجمنٹ انجوائے کرو۔۔”فاحا اُس کی بات پر سنجیدگی سے جواب دیتی۔۔”اقدس کے پاس کھڑی ہوتی اُس کو رِنگ پکڑائی تو رایان گہری سانس بھرتا رہ گیا۔۔
“پہناؤ۔۔اقدس کو ہلتا جُلتا نہ دیکھ کر فاحا نے اقدس سے کہا تو وہ اُس کے ہاتھ سے رنگ لیکر آتش کو دیکھنے لگی۔۔”جس کے چہرے پر اپنی جیت کی خوشی تھی۔۔
“ہاتھ دے اپنا۔۔اقدس نے اُس کو مُخاطب کیا تو آتش نے اپنا ہاتھ اُس کے آگے کیا۔۔”اقدس نے رنگ پہنائی تو وہاں موجود لوگوں نے کلپنگ کی تھی۔۔”پھر آتش کی باری آئی۔۔”تو وردہ لُغاری نے ایک خوبصورت انگھوٹی آتش کو پکڑائی ابھی وہ اقدس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا اُس سے پہلے ماما بول اُٹھی
“ابھی مت پہنائیے گا۔۔”
“پھر کب پہناؤں؟”آتش نے پوچھا
“پہلے آپ اِن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے۔۔”ماہا نے اقدس کے ہاتھ کی پشت اُس کے ہاتھ کے اُپر رکھی۔۔”تو وہ دونوں تعجب سے اُس کو دیکھنے لگے۔۔”باقی سب بھی جاننے کی کوشش کرنے لگے کہ آخر ماہا کرنا کیا چاہتی ہے۔
“اب آپ سلوموشن میں اِن کو انگھوٹی کو پہنائے تاکہ میں مختلف تصویریں بنا سکوں۔۔”ماہا نے پرسوچ لہجے میں کہا تو کزن پلٹن اُس کو گھورنے لگی۔۔”اقدس کا سر نفی میں ہلا تھا
“یہ بات پہلے بھی کہہ سکتی تھی۔۔”بلاوجہ سسپینس کیوں بنایا؟”آتش نے سرجھٹک کر کہا اور جیسا اُس نے کہا ویسے کیا تو ماہا خوش ہوگئ تھی۔۔جبکہ دونوں طرف سے منگنی کی رسم ہوجانے کے بعد مٹھائی آپس میں بانٹی گئ۔۔
“آپ بھی منہ میٹھا کریں۔۔”ماہا نے ایشال کو ایک جگہ خاموش کھڑا پاکر مٹھائی کا ڈبہ اُس کی طرف بڑھائے کہا
“میں سویٹس نہیں کھاتی۔۔”ایشال نے سنجیدگی سے کہا
“لیکن کیوں؟”خیر مٹھائی کو چھوڑے آپ رس گُولا کھائے۔۔ماہا نے دوسرا آپشن اُس کو دیا
“وہ کیا لال مرچوں سے بنا ہوتا ہے؟”ایشال نے سوال کیا تو ماہا ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔”پھر جب اُس کو سمجھ آیا تو اپنا سر نفی میں ہلایا
“رس گُلا پسند ہوتا ہے نہ ہر انسان کو تو ماہا کو لگا شاید آپ کو بھی ہو۔۔”لیکن خیر اگر آپ انٹرسٹڈ نہیں تو۔۔”ماہا شانے اُچکاکر کہتی عیشا کی طرف بڑھ گئ تھی۔۔”پیچھے ایشال نے گہری سانس خارج کی تھی۔







“منگنی کے ایک دن بعد اقدس کو مایوں میں بِٹھایا گیا تھا۔۔”سارا کچھ آناً فاناً ہوگیا تھا۔۔”ہر کوئی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھا۔۔”ماہا کو اپنے کپڑوں کی فکر لاحق ہوگئ تھی کہ وہ کیسے جلدی سب تیار کرے گی۔۔”جبکہ عیشا کا چکر کبھی شہر تھا تو کبھی گاؤں۔۔”کیونکہ اُس کو اپنے آفس کا کام بھی ساتھ ساتھ لیکر چلنا تھا۔۔”کیونکہ اِن دِنوں اُس کی کچھ ضروری میٹنگز تھی۔”جن کو ڈیلے وہ ہرگز نہیں کرسکتی تھی۔۔”رایان اپنے گھر میں ایسے رہ رہا تھا۔۔”جیسے کوئی غیر رہتا ہوں۔۔”دیکھنے کو ہر چیز سہی تھی۔”لیکن سہی کچھ بھی نہ تھا۔۔”یہ بات وہ اچھے سے جانتا تھا۔۔”سکندر کو اپنے کام آگئے تھے جس وجہ سے وہ بھی شہر جاچُکا تھا اپنے کاموں میں مصروف اُس نے یہی بتایا کہ وہ بس بارات والے دن شرکت کرسکے گا باقی فنکشنز میں اُس کا ممکن نہیں تھا۔
“مایوں “مہندی اور شادی کی دیگر رسومات کے بعد بارات کا دن بھی آگیا تھا۔۔”جس کا فنکشن بڑے ہال میں منعقد کیا گیا تھا۔۔”بارات میں بڑے پیمانے پر لوگ انوائٹڈ تھے۔۔”منگنی کے بعد بارات یہ سب اِتنا جلدی جلدی ہونے لگا تھا۔۔”کزن پلٹن کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اُن کی اقدس آپو کی شادی ہونے لگی ہے۔۔
___________________
“آپ لوگ باہر جائے ہمیں اقدس سے کچھ بات کرنی ہے۔۔”ایک کمرے میں آکر اسیر نے وہاں موجود لڑکیوں سے کہا تو باری باری سب اُس کمرے سے نکلتی گئ تو وہ برئیڈل بنی اقدس کی طرف بڑھا تھا۔۔”جس کو بیوٹیشن تیار کرکے گئ تھی۔
“بابا سائیں۔۔اسیر کو دیکھ کر وہ سینے سے آ لگی تھی۔
“ہمارا بچہ کیا ہوا؟”یہ سب آپ کی مرضی سے ہورہا ہے۔۔”پھر رونے کی وجہ؟”اُس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر اسیر نے رونے کی وجہ دریافت کی
“آپ ناراض ہیں؟”اسیر نے محض اِتنا جاننا چاہا
“ہم اپنی بیٹی سے ناراض کیوں ہوگے؟”ہم تو خود آپ کو اپنے گھر کا ہوتا دیکھنے چاہتے تھے۔۔”ہماری یہی خُواہش تھی کہ آپ لوگوں کے طعنوں سے بچ کر اپنی خوشحال زندگی بسر کرے۔۔”اور اب آپ کی شادی کا سن کر ہر ایک کی انگلیاں مُنہ پر ہیں۔۔”اسیر اُس کی بات پر نرمی سے بولا
“ہمیں بس یہ بات ستانے لگی تھی کہ کہی آپ ناراض نہ ہو۔۔”اپنا سر اُس کے سینے سے اُٹھائے اقدس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا
“ہمیں نہیں پتا اقدس آپ نے کیوں کہا تھا کہ اِس رشتے پر حامی بھرے۔۔”جبکہ آپ کی شادی کا خیال ہم نے آپ کی وجہ سے دماغ سے نکال دیا تھا۔۔”ہم آپ کی خواہش کی وجہ سے آپ پر زور زبردستی نا کی تھی۔۔”کیونکہ آپ حق پر تھیں۔۔”ہم خود نہیں چاہتے تھے کہ کوئی آپ کے خوبصورتی ہونے کے باوجود کسی قسم کا طعنہ دے۔۔”یہ اسیر ملک کبھی برداشت نہ کرتا۔۔”اگر کوئی آپ کو کچھ کہتا بھی۔۔”لیکن رشتے پر آپ نے وہاں حامی بھری جہاں ہم نے کبھی دوستی کا ہاتھ بھی نہ بڑھایا تھا۔۔”اور نہ اُن کا ہاتھ تھاما تھا۔۔”سیاسی لوگوں میں آپ کا جانا ہمیں خاص پسند نہیں آیا تھا۔۔”لیکن یہ آپ کی زندگی اور قسمت ہے۔۔”جہاں آپ نے کہا ہم نے بغیر سوال جواب کیئے آپ کی بات مان لی۔۔”کہ ٹھیک ہے آپ کا جو رشتہ”جس کا بھی آنے لگا ہے وہ قبول کیجئے گا۔۔”ہم راضی ہیں۔۔”تو ہم بھی راضی ہوگئے۔۔”لیکن ایک خلش پھر بھی ہمارے دل میں تھی جو اُس دن اُتر گئ۔۔”جب منگنی والے دن آتش لُغاری آپ کے چہرے پر موجود نشان کو کراہت سے نہیں بلکہ ستائش سے دیکھ رہے تھے۔”یہ دیکھ کر پھر ہم نے اُس کا کریکٹر سرٹفیکفٹ سرسری سا دیکھا کیونکہ ہمیں وہ شخص چاہیے تھا جو ہمارے بعد ہماری اقدس کو پلکوں پر بیٹھائے اور وہ خصوصیت اُس دن آتش میں نظر آگئ کہ بظاہر سخت نظر آنے والا شخص اِتنا بُرا نہیں ہے۔۔”کبھی کبھار تو آنکھوں دیکھا بھی سچ نہیں ہوتا تو ہم سنی سُنائی باتوں پر کیسے اعتبار کرلیتے۔۔”اسیر اُس کی بات پر بولتا چلاگیا تھا۔۔”اور اقدس سر جُھکائے بس اُس کو سُنتی گئ تھی۔
“آپ آتش کو خود کے ساتھ کمپیئر نہ کرے۔۔”نہ کوئی دوسرا آپ کے جیسا ہے۔۔”اور نہ کوئی اقدس کو آپ کی طرح چاہتا ہے۔۔”ایک باپ جتنا اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے اُتنا پیار شاید کوئی کرپائے۔۔”اور یہ شادی بابا سائیں ضروری تھی۔۔”کیونکہ آپ کا بوجھ وہ کم کرنا چاہتی تھی۔۔اقدس نے کہا تو اسیر نے اُس کا ماتھا چوما
“بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی وہ رحمت کے ساتھ فرض ہوتیں ہیں۔۔”اور فرض کو نبھایا جاتا ہے۔۔والدین کو بیٹیوں کی شادی میں جلدبازی اِس لیے نہیں ہوتی کہ وہ اُن کو بوجھ سمجھتا ہے۔۔”بلکہ وہ اپنے ایک فرض سے جلدی سبکدوش ہونا چاہتا ہے۔۔”اور آج ہم آپ کے فرض سے سبکدوش ہونے لگے ہیں۔۔”اسیر نے نرمی سے ٹھیرے ہوئے لہجے میں کہا تو وہ مسکرائی تھی
“ہم جانتے ہیں کہ آپ نے کبھی ہمیں بوجھ نہ جاناں بلکہ ہمیں سب سے زیادہ چاہا اور ہماری خواہش ہے کہ اسٹیج پر ہمیں آپ چھوڑنے چلے۔۔اقدس نے لاڈ سے کہا
“جیسا ہماری اقدس کا حکم۔۔”اسیر نے بنا تاخیر کیا تو اُس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ آئی تھی۔
_______________________
“سکی آپ نے ماہا کو دیکھا ہے؟”فاحا اپنی شال سنبھالتی سکندر سے بولی جو ہال میں کونے والی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔”میڈیا والے موجود تھے اور وہ اُن کے سامنے نہیں جانا چاہتا تھا۔۔”اور نہ کسی سوال کا جواب دینا وہ چاہتا تھا۔
“مامی جان میں نے تو اُس کو صبح سے نہیں دیکھا لیکن خیریت؟”سکندر نے بتانے کے بعد پوچھا
“خیریت کیا ہوگی۔۔”میں نے اُس کو ایک کام بولا تھا جانے اُس نے وہ کیا بھی ہے یا نہیں۔۔اُپر سے ہے بھی لاپتہ۔۔فاحا کافی پریشانی سے بولی
“آپ پریشان نہ ہو میں دیکھتا ہوں اُس کو۔۔سکندر نے اُس کو تسلی کروائی تو وہ سرہلاتی مہمانوں کی طرف بڑھ گئ۔۔”جبکہ سکندر اپنا سیل فون آف کرتا ماہا کو تلاش کرنے لگا
_________________________
“کیا ہوا باتھروم جانا ہے کیا؟”زوہان نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رایان سے سوال کیا تو وہ اُس کو گھورنے لگا
“باتھروم کیوں جانا ہے مجھے۔۔رایان نے اُلٹا اُس سے سوال کیا
“نہیں جانا تو پریگننٹ عورت کی طرح پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کیوں بیٹھے ہو۔۔”زوہان کو اُس کا بیٹھنا کافی عجیب لگا تبھی کہا۔۔”لیکن اُس کی بات پر رایان کا دماغ بھک سے اُڑا تھا
“کتنا بُرا مذاق کرتے ہو۔۔”خیر میرے پیٹ میں چوہے کرکیٹ گیم کھیل رہے ہیں۔۔”اور بلیاں بیڈ منٹن۔۔”قسم سے بھوک سے بُرا حال ہوا پڑا ہے جانے کھانا کب کُھلے۔۔”میں بھوک سے مر نہ جاؤں۔۔”رایان نے پریشانی سے اُس کو اپنا مسئلہ بتایا
“وہ تو نکاح کے بعد کُھلے گا۔۔”لیکن اِتنا وقت بھی نہیں ہوا۔۔”پھر تمہارا بھوک سے بُرا حال کیوں ہے؟”زوہان نے اُس کو دیکھ کر کہا
“کیا مطلب کیوں ہے؟”آس پاس اِتنے لذیذ کھانے پک کر تیار ہوچُکے ہیں۔۔”تو بھوک تو فطری بات ہے ضرور لگے گی۔۔”اُس کا کوئی وقت تھوڑئی نہ ہوتا ہے۔۔”رایان نے ملامتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“صبر کر پھر۔۔زوہان نے محض اِتنا کہا
“صبر کیوں بھائی؟”میں دیکھ آتا ہوں کہ مینیوں ٹھیک سے تیار ہوا ہے یا نہیں۔۔”یہاں اگر نظر نہ رکھو نہ تو کوئی کام سہی سے نہیں ہوتا۔۔”تو میں جاتا ہوں۔۔”تم یہاں بیٹھ کر صبر کرو۔۔”رایان اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس سے بولا تو زوہان محض اپنا سر نفی میں ہلا پایا تھا۔
__________________________
یہ تم سارا دن کہاں غائب تھی؟”نظر نہیں آئی؟”سکندر نے اب ماہا کو دیکھا تو پوچھے بغیر نہ رہ پایا جو ریڈ کلر کے فراق میں ملبوس مناسب میک اپ کیے بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
“کیا آپ کو پتا نہیں؟”ماہا نے اپنا ڈوپٹہ خود پر اچھے سے پھیلاکر اُس سے پوچھا
“کیا پتا نہیں؟”سکندر نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“یہی کہ چاند رات کو نظر آتا ہے۔۔اپنی بات کہہ جانے کے بعد ماہا اُس کی سائیڈ سے گُزر گئ۔”پیچھے سکندر حیرت سے اُس کی پشت کو دیکھنے لگا جس کا اٹیٹیوڈ لیول آجکل سوا نیزے پر ہوتا تھا۔۔
“اِس کو جانے کس بات کا غرور ہے۔۔”سکندر اُس کے جانے کے بعد آہستگی سے بڑبڑایا اور پھر فاحا کی طرف جانے لگا تاکہ اُس کو بتا پائے کہ چاند زمین پر اُتر چُکا ہے۔۔
_____________________
“اقدس اسیر کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے باہر آئی تو میڈیا والوں نے تھر تھر اُن کی تصویریں لینا شروع کردی تھی۔۔”آتش جو بیزار بلیک شیروانی میں ملبوس بیٹھا تھا۔۔”اُس کو آتا دیکھ کر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔”عروسی جوڑے میں ملبوس”برائیڈل میک اپ کیے بہت زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔”آج کے دن میں بھی اُس کو حجاب میں دیکھ کر وہ ایمپریس ہوا تھا۔
“ہماری بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھنا۔۔”اسیر اقدس کا ہاتھ اُس کے ہاتھ میں دیتا سنجیدگی سے بولا
“آتش لُغاری اپنے فرائض نبھانا بخوبی جانتا ہے۔۔”جواب میں آتش نے سنجیدگی سے جو کہا اُس پر اقدس نے نظریں اُٹھائے پہلی بار اُس کو دیکھا جو وہاں ہر ایک کی دھڑکن بنا ہوا تھا۔۔
“تمہارے ہاتھ کیوں کانپ رہے ہیں۔۔؟”آتش اُس کو لیے اسٹیج پر بیٹھا تو اُس کے ہاتھوں میں واضع محسوس ہوتی کپکپاہٹ کو دیکھ کر پوچھے بغیر نہ رہ پایا
“ایسے ہی۔۔”اقدس نے مختصر کہا
“جو دل میں ہے وہ بول دو نہ کہ میری خوبصورتی دیکھ کر تمہارے پسینے چھوٹ گئے ہیں۔۔”کپکپاہت طاری ہوگئ ہے۔۔”آتش اُس کے جواب میں بولا تو اقدس کچھ کہتی کہتی رہ گئ۔۔”کیونکہ اسیر ملک” آفاق لُغاری نکاح خواں کے ساتھ وہاں پُہنچ چکے تھے۔۔
“سب سے پہلے نکاح خواں نے اقدس سے پوچھا تو اُس نے دھڑکتے دل کے ساتھ “قبول ہے”بول کر اپنی رضامندی کا اِظہار کیا۔”اُس کے بعد آتش سے پوچھا گیا جو پہلے سے تیار بیٹھا تھا۔۔”دونوں کی طرف سے “قبول ہے”قبول ہے”سن کر ہر طرف مبارکباد کا شور اُٹھا تھا۔۔
“Happy Wedding,
سب لوگ اُن دونوں کو باری باری مبارک دیتے اسٹیج سے نیچے اُترنے لگے تو آتش نے اقدس کے کان کے پاس سرگوشی نما آواز میں کہا تو اُس کی ہتھلیاں نم ہوئیں تھیں۔۔
“کیا ہوا جواب نہیں دیا؟”زبان اپنی حویلی میں چھوڑ آئی ہو کیا؟”اُس کو چُپ دیکھ کر آتش نے پوچھا
“ہمارے پاس آپ کی کسی بات کا جواب نہیں۔۔”اقدس نے سنجیدگی سے کہا
“لو جی۔۔”میں ہی اب وہ واحد ہستی ہوں۔۔”جس کے سامنے تم جوابدے ہو۔۔”آتش نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو وہ خاموش رہی۔”اُس کے پاس کہنے کو کچھ تھا جو نہیں
“یہ ہم لوگوں کی طرف سے آپ دونوں کا تُحفہ۔۔”وہ پانچوں اسٹیج کی طرف آکر اُن دونوں کو دیکھ کر ایک ساتھ بولے تو اقدس مسکرائی
“کیا ہے اِس میں؟”آتش نے پوچھا
“کھول کر دیکھے۔۔ماہا نے پرجوش لہجے میں کہا تو زوہان کے ہاتھ سے آتش نے وہ تحفہ لیا جس کی لمبائی اور چوڑائی دونوں بڑی تھی۔
“تم کھولوں گی یا میں کھولوں؟”کور ہٹانے سے پہلے آتش نے سوال کیا
“آپ کھول دے۔۔اقدس نے کہا تو آتش نے کور ریموو کیا تو سامنے ایک تصویریں کلیٹڈ تھی۔۔”فریم کے بڑے درمیانی حصے میں آتش اور اقدس کی انگجمنٹ والی تصویر تھی جس میں اقدس کا ہاتھ آتش کے ہاتھ میں تھا۔۔”اور اُس کو رنگ پہنا رہا تھا جبکہ اُس تصویر کے چاروں اطراف چھوٹی چھوٹی اور بھی تصویریں تھی جن میں دو چار منگنی کی مختلف پکچرز تھیں۔۔”اور کچھ مہندی والے فنکشن میں لی گئ تھی تصاویریں تھی۔
“بیوٹیفل۔۔آتش ستائشی لہجے میں بولا
“آپ لوگ یہ کمرے میں لگائیے گا۔۔ماہا نے خوش ہوکر کہا
“ضرور۔۔”آتش نے جواباً مسکراکر کہا
“یہ آئیڈیا کس کا تھا؟”اقدس نے پوچھا
“دا گریٹ ماہا ملک کا۔۔۔جواب عیشا نے دیا تو وہ گردن اکڑا کر کھڑی ہوگئ
‘لیکن محنت ہماری لگی ہے اِس کو جوڑنے میں۔۔”خوبصورت سا فریم بھی ہم نے تیار کروایا تھا اپنی نگرانی میں۔۔”سکندر نے جھٹ سے کہا
“شکریہ تم سب کا۔۔”اقدس نے اُن سب کو دیکھ کر کہا”المان کی کمی شدت سے اُس کو محسوس ہوئی تھی۔
“زوہان کچھ وقت اسٹیج پر اُن کے ساتھ ہونے کے بعد جانے کے لیے جیسے ہی پلٹا تو نظر “بلو کلر کے گھیردار فراق میں ملبوس ایشال پر گئ۔.”جو اِتنے سارے لوگوں کی موجودگی کے باوجود اکیلی بیٹھی آسمان کی طرف دیکھتی اُس میں جانے کیا تلاش کرنے میں تھی۔۔”آس پاس کیا ہورہا تھا اُس سے جیسے اُس کو کوئی سروکار نہ تھا۔۔”زوہان کو اُس کی اِس قدر لاتعلقی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
_______________________
“بارات کا فنکنشن ختم ہوا تو رخصتی کے دوران اسیر کو حویلی سے کال آئی تھی۔۔”جو صنم بیگم نے اُس کو کی تھی۔۔”وہ اپنی خراب طبیعت کے باعث یہاں آ پائی نہ تھی۔۔’لیکن کال پر جو اُنہوں نے اُس کو خبردی۔۔”اُس پر اسیر کو اپنے کانوں میں یقین نہ آیا تھا۔۔”اُس کو بات کرتا فاحا نے بھی سُن لیا تھا۔۔”اور اُس نے حویلی جانے کی جلدی مچائی ہوئی تھی۔۔”تبھی وہ جو آج رات یہی شہر والے اپارٹمنٹ میں رہنے والا تھا۔۔”فاحا اور ماہا کو لیئے فوراً حویلی واپس جانے کے لیے نکلا تھا۔
__________________________
“یہ ہے تمہارا کمرہ۔۔۔”ایشال اقدس کو آتش کے کمرے میں چھوڑتی بولی
“تم نہیں آپ۔۔”اقدس نے اُس کو ٹوک کر کہا
“سوری ڈیئر”لیکن میں تمہیں “آپ جناب نہیں کہنے والی۔۔”ایشال نے شانے اُچکاکر لاپرواہ انداز میں اُس سے کہا
“کہنا پڑے گا۔۔”ہم عمر میں آپ سے بڑے ہیں۔۔”اقدس نے سنجیدگی سے کہا
“اُفففف تم تو پہلی ہی رات میں بھابھی والا روپ اختیار کرگئ۔۔’لیکن اگین سوری میں نے اِتنے احترام سے تو کبھی آتش کو مخاطب نہیں کیا تو تمہیں کیسے کروں گی؟”جب یونی میں میم تھی تو اِن تکلفات میں پڑی لیکن اب نہیں۔۔”ایشال بھی اپنے نام کی ایک تھی
“اُس کو آپ کیا کہتی تھیں۔۔”کیا نہیں یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔۔”آپ مجھے”آپ کہہ کر ہی مُخاطب ہونا کیونکہ “تم کہہ کر تو آج تک ہمیں ہمارے بابا نے بھی مُخاطب نہیں کیا۔۔”تو کسی اور کا برداشت ہم کیسے کرینگے؟”اقدس نے کا لہجہ ہنوز سنجیدہ تھا۔۔
“واٹ ایور۔۔ایشال اُس کی بات پر ناک منہ چڑھاتی کمرے سے باہر نکل گئ تھی۔۔”اُس کے جانے کے بعد اقدس نے کمرے کو دیکھا جو کسی ہال سے کم نہ تھا اور پورا کمرہ پھولوں سے خوبصورت طریقے میں ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔۔”بیڈ پر بھی پھولوں کی پتیاں تھیں جن کو ہٹاتی وہ آرام سے بیڈ پر بیٹھ گئ۔۔”لیکن بیٹھنے سے پہلے کمرے میں موجود ٹیبل پر پڑے فروٹ باسکٹ سے چُھڑی اُٹھانا وہ نہ بھولی تھی۔
“کچھ منٹس بعد کال پر بات کرتا آتش کمرے میں داخل ہوا تو بیڈ پر اقدس کو مشرقی انداز میں بیٹھا دیکھ کر اُس کو کھانسی کا دورہ پڑا تھا۔۔”اُس کو اُس سے ایسی فرمانبرداری کی اُمید نہ تھی۔
“السلام علیکم زوجہ محترمہ خیریت ہے آج ہم غریب پر آپ اِتنی زیادہ مہربان کیسے؟”کہی جوانی میں ہارٹ اٹیک دِلوانے کا تو نہیں سوچا ہوا؟”کال ڈراپ کرتا آتش اُس کی طرف آتا نان سٹاپ بولا تو چُھری پر اقدس کی گرفت مضبوط ہوئی تھی
“ہیلو اب سلام سے بھی گئ کیا؟”آتش اُس کے روبرو بیٹھتا طنز ہوا۔۔”لیکن اقدس کی طرف سے گہری خاموشی نے اُس کو چونکنے پر مجبور کیا
“زندہ ہو یا بیٹھے بیٹھے فوت کرگئ؟”آتش تشویش بھرے لہجے میں پوچھتا اُس کا گھونگٹ اُلٹنے لگا تھا جب اقدس چُھری تیزی سے اُس کے گال سے زرا اُپر ماری یہ سب اِتنا اچانک ہوا کہ آتش کو کچھ بھی سوچنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔۔”وہ چیختا بیڈ سے کھڑا ہوا اور اپنے گال پہ ہاتھ رکھا تو خون کو دیکھ کر وہ بے یقین نظروں سے اقدس کو دیکھنے لگا جو نفرت بھری نگاہوں سے اُس کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔”آتش کی بے یقینی آہستہ آہستہ غُصے میں میں بدلنے لگا تھا۔۔”اُس کو اپنے چہرے پر تکلیف کا احساس شدت سے ہونے لگا تھا۔۔”جس پر وہ اُس سے بات میں نپٹنے کا سوچتا آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا جہاں اُس کے چہرے کی ایک سائیڈ پر خون ہی خون تھا۔۔”اور چوٹ وہاں لگائی تھی اقدس نے جس جگہ اُس کے اپنے چہرے پر نشان تھا۔۔
“جاہل عورت یہ کیا کردیا؟”میں تمہیں جان ماردوں گا۔۔”آتش ٹیشو سے اپنا خون صاف کرتا اُس پر دھاڑا
“کیوں؟”تم نے ہی تو کہا تھا نہ کہ چاند خوبصورت اپنے داغ کی وجہ سے ہوتا ہے۔۔”تو اپنا بدلا بھی ہم نے لیا اور تحفے میں تمہیں داغ بھی دیا۔۔”اقدس کو اُس کی دھاڑ پر ڈر تو لگا تھا۔۔’لیکن خود کو مضبوط ظاہر کرتی وہ اُس کو دیکھ کر بولی۔۔”اُس کو اپنے عمل پر کوئی پچھتاوا نہ تھا یہ کرنے کا تو اُس نے پہلے ہی سوچا ہوا تھا
“بدلے کی کچھ لگتی۔۔”میرے خوبصورت چہرے کا بیڑا غرق کردیا ہے تم نے۔۔”دو دن بعد میرا جلسہ ہے تو کیا میں یہ شکل لیکر جاؤں گا۔۔”؟”آتش خون آشام نظروں سے اُس کو گھورتا بولا تو اقدس کو حیرت ہوئی وہ تو یہ سوچے ہوئے تھی کہ جب وہ اُس پر چھری سے وار کرے گی تو وہ اُس پر ہاتھ اُٹھائے گا۔۔”اُس پر گرج پڑے گا۔۔”طلاق بھی دے گا۔۔”لیکن یہاں تو اُس نے یہ تک پوچھنا گوارہ نہ کیا تھا کہ کیسا بدلا؟”اُس کو تو بس اپنے جلسے میں کیسے جائے گا؟”اُس بات کی پرواہ تھی۔۔”وہ جس آتش کو جانتی تھی وہ اِتنا تحمل مزاجی کا مالک تو ہرگز نہ تھا۔۔”وہ تو تھوڑی تھوڑی باتوں پر ہاتھ اُٹھاتا تھا۔۔”مار پیٹ کرنا تو اُس کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا تھا۔۔”پھر جب اُس نے جان کر اُس کا چہرہ بگاڑا تو اُس کے غُصے کا انداز بدلا ہوا کیوں تھا؟
“جو شکل ہے وہی لیکر جانا۔۔”اقدس کو اُس سے اب ڈر لگا۔۔”ہلانکہ وہ اپنا غُصہ ضبط کرنے کے چکروں میں تھا لیکن اُس کے بعد جانے کیوں وہ آتش کو دیکھتی گھبراگئ تھی۔۔”جو اپنی عقل پر ماتم کرتا ٹیشو کو پھینک کر فرسٹ ایڈ باکس سے کاٹن نکالے چوٹ والی جگہ پر رکھ رہا تھا تاکہ خون رسنا بند ہوجائے
“کول” ماشااللہ کتنی عقل استعمال کرکے کم عقمندانہ مشورہ دیا ہے۔۔”میں بول رہا ہوں چشمش اگر اِس نشان کی وجہ سے میرا کوئی اسکینڈل بنا نہ تو تم اپنی خیر منانا۔۔”اور اب جو تم کارنامے کے بعد بھی سہی سلامت کھڑی ہو ناں اُس پر شکر کرو تو خُدا نے اِتنا صابرین اور شاکرین شوہر دیا ہے۔۔”اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا نہ تو اب تک تمہارے جسم کی بوٹی بوٹی کرکے بیٹھ کر ڈنر کرتا ہوتا۔۔آتش نے اُس کو گھورتی نگاہوں سے دیکھ کر کہا
“ہم لاورث نہیں جو کوئی ہماری ہماری بوٹی بوٹی کرکے ڈنر کرتا اور بعد میں پوچھ تاچھ بھی نہ ہوتی۔۔اقدس اُس کی بات کے جواب میں اپنے ڈر کو قابو میں کرے بولی
میرا دل چاہ رہا ہے تمہیں اُلٹا پنکھے سے لٹکادوں لیکن افسوس
“لیکن افسوس ہم آپ کی بیوی ہیں۔۔”جس سے پوری محفل میں۔۔”میڈیا والوں کے سامنے نکاح کیا۔۔”اب اگر شادی کے اگلے دن ہماری لاش ملی تو لوگ آپ کا جینا حرام کردینگے۔۔”ہیں نہ؟”یہی کہنا چاہتے ہیں نہ آپ۔۔”آتش طیش کے عالم میں ابھی کچھ مزید کہتا اُس سے پہلے اقدس اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی تو آتش نے صبر کا گھونٹ اپنے اندر اُتارا
“لیکن افسوس میرے کمرے میں پنکھا نہیں۔۔”آتش نے لمبا سانس بھر کر اپنا جُملا مُکمل کیا تو اقدس ہونک بنی اُس کا چہرہ تکنے لگی۔”جس نے اپنے چہرے پر کافی افسردہ تاثرات سجائے تھے۔”جیسے واقعی اُس کو بُرا افسوس ہو کہ اُس کے کمرے میں پنکھا کیوں نہیں؟”
“تمہیں ہم پر بھڑس کر سوال جواب کرنا چاہیے ناکہ یوں مزاحیہ باتیں کرنی چاہیے۔۔”اقدس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ آتش کو ہو کیا گیا تھا یعنی اُس کی نئ نویلی بیوی نے اُس پر حملا کیا تھا اور وہ خاموش تھا ایسا کیوں تھا وہ؟
“ہاں تمہاری نیت اچھے سے جانتا ہوں۔۔”تم تو چاہتی ہی یہ ہو کہ میں چیخوں چلاؤں اور میرے دماغ کی نس پھٹ جائے اُس کے بعد میری پی ایم کُرسی پر تم اپنا قبضہ جمالو لیکن پیاری زوجہ ایسا میری حیات میں ہرگز نہ ہوگا۔۔’میں تو مر کر بھی لوٹ آؤں گا۔۔آتش اُس کی بات پر ہاتھ نچا نچا کر بولا
“تم لاعلاج انسان ہو۔۔اقدس یہی بول پائی
“ہٹو مجھے آرام کرنے دو۔۔”تاکہ اگلے دن اِس کا ٹریٹمنٹ کرواؤں۔۔”ضرورت تو ابھی ہے لیکن افسوس گھر میں مہمان ہیں۔۔”اگر میرے جانے کی بھنک اُن کو پڑی تو نیا شوشہ شروع ہوجائے گا۔۔آتش اُس کو گھور کر بولتا بیڈ پر بیٹھا
“ہم تم سے بیڈ شیئر نہیں کرینگے۔۔”ہم صوفے پر سوئے گے۔۔”اقدس اپنے لہنگے کو سنبھال کر کہتی بیڈ سے اُٹھنے والی تھی کہ آتش نے کھینچ کر اُس کو بیڈ پر واپس بِٹھایا
“انڈین ڈرامے کی کوئی شوٹنگ نہیں چل رہی جو صوفہ صوفہ لگایا ہوا ہے۔۔”یہی رہو ورنہ ٹانگیں توڑ کر ہاتھ میں پکڑادوں گا۔۔”پھر جانا رینگتی ہوئی صوفے پر سونے۔۔”آتش نے جس انداز میں اُس کو دیکھ کر کہا اُس پر اقدس ٹانگیں سمیٹ پر بیٹھنے پر مجبور ہوگئ تھی۔۔”اُس کا گلا بُری طرح سے خشک ہوا تھا۔۔”تبھی بنا کپڑے بدلے بغیر جیولری اُتارے وہ کھسک کر بیڈ کی دوسری سائیڈ پر آتی بلنکٹ تان کر لیٹ گئ تھی۔۔”جبکہ آتش ہر اینگل سے اپنا چہرہ دیکھتا سیل فون میں ایک نمبر ڈائل کرنے لگا۔۔”اُس کو بس خون ہی صاف نہیں کرنا تھا بلکہ چوٹ کا نام ونشان تک ہٹانا تھا کیونکہ اگر کسی کو زرا بھی شک ہوتا تو پوری دُنیا کے سامنے اُس کا امیج خراب ہوجاتا۔۔”آتش نے غور کیا کٹ کافی گہرا تھا جو اِتنی جلدی بھرتا ہرگز نہ۔۔”اور بھر جاتا بھی تو نشان ضرور رہتا۔۔”اُس کی خوشقسمتی تھی کہ کٹ آنکھ سے تھوڑا دور تھا ورنہ اقدس کی ہلکی بے احتیاطی پر اُس کی آنکھ نکل جاتی
“چہرے کی کچھ سرجری کروانی ہے۔۔”جلدی سے میری اپائمنٹ لو کسی اچھے ڈاکٹر سے۔۔دوسری طرف جانے کس سے وہ سنجیدگی سے کہتا کال ڈراپ کرتا اُٹھ کر واشروم کی طرف بڑھ گیا تھا۔
