Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 20)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 20)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
آج اُن دونوں کا نکاح تھا” اور دونوں کا نکاح اُن کی مرضی کے خلاف ہورہا تھا” لیکن اُس کے باوجود ایک کے چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی تو دوسرے کی آنکھوں میں کچھ پانے کی جیت تھی”وہ جانتی تھی اُس کا جس سے نکاح ہونے جارہا ہے وہ شخص اُس کو زرا نہیں چاہتا لیکن اُس کے باوجود وہ اُس سے نکاح کرنے کو تیار تھی۔ ۔”اُس کو ایڈوینچرز پسند تھا اپنی زندگی میں اور یہ نکاح اُس کے لیے کسی ایڈوینچر سے کم نہ تھا۔ ۔”دوسرا اُس شخص کو بھی پتا تھا دونوں کا نکاح کس حال میں ہونے جارہا ہے لیکن وہ بس اِس نکاح کو اِس لیے کرنے جارہا تھا کیونکہ اِس میں اُس کا فائدہ چُھپا ہوا تھا۔ ۔”جب اُس کا اپنا غرض پورا ہوجاتا تو وہ یہ نکاح ختم کرنے والا تھا پر ایسا ذکر ابھی تک اُس نے کسی کے آگے کیا نہیں تھا کیونکہ وہ نہیں تھا چاہتا کہ ایسا کچھ ہو جس میں اُس کو منہ کی کھانی پڑے
“کچھ وقت بعد وہ دونوں ایک دوسرے کے برابر کھڑے ہوئے تھے” جہاں اُس کے چہرے پر مسکراہٹ کا احاطہ تھا وہی وہ بے تاثر نگاہوں سے اُس کو دیکھ رہا تھا جو خوش ایسے ہورہی تھی جیسے پسند کی شادی ہورہی تھی یا وہ دونوں ایک دوسرے کو عشق کی حدتک چاہتے ہو۔
“تیار ہو؟وہ مسکراتی نظروں سے اپنا ہاتھ اُس کے سامنے کرکے بولی تو وہ کبھی اُس کا چہرہ تکتا تو کبھی بڑھایا ہوا ہاتھ
“نہیں۔ ۔۔المان اپنی نیند سے ہڑبڑا کر اُٹھا تھا”جس وجہ سے وہ دھڑام سے بیڈ سے نیچے گِر پڑا تھا
“اُفففف یہ خواب تھا۔ ۔اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر المان قدرے دھیمی آواز میں خود سے بولا تھا۔ “اُس کو یقین نہ آیا کہ اُس نے خواب میں اپنا نکاح”عیشا کے ساتھ ہوتا دیکھا ہے۔
“عجیب وغریب حرکتیں کرکے سوؤں گا”تو یقیناً خواب بھی ایسے آنے ہیں۔۔سرجھٹک کر بڑبڑاتا وہ اُٹھا اور رایان اور زوہان کے اُپر اُوندھے منہ لیٹ گیا تھا









“اقدس بیٹا یہ سارے بچے کہاں ہیں؟ “کیا اِنہوں نے ناشتہ نہیں کرنا؟صبح فاحا نے اقدس کو ہال میں آتا دیکھا تو اُس سے پوچھا
“وہ لوگ نیچے نہیں آئے کیا ابھی تک؟”ہم ماہی اور “مان کو جگانے اُن کے کمرے میں گئے تھے” لیکن وہ وہاں نہ تھے۔”ہمیں لگا اُٹھ گئے ہوگے ۔اقدس نے فاحا کی بات سن کر حیرانگی سے کہا
“نہیں وہ نہیں اُٹھے “اور بس وہی نہیں کوئی بھی نہیں اُٹھا۔ ۔فاحا نے بتایا
“اچھا کوئی نہیں” ہم دیکھتے ہیں۔ ۔اقدس نے کہا اور اُپر کی طرف بڑھ گئ۔ ۔
“وہ باری باری سب کے کمروں میں گئ تھی۔ “لیکن سب کا خالی کمرہ اُس کا منہ چڑھا رہا تھا۔ “اور اب بس دو کمرے رہ چُکے تھے۔ “ایک عیشا کا” اور دوسرا زوہان کا۔ “کچھ سوچتے ہوئے وہ زوہان کے کمرے میں آئی تو اندر کا منظر دیکھ کر بے ساختہ اُس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔ “جہاں بیڈ کی ایک سائیڈ پر زوہان لیٹا ہوا تھا اور اُس کے چہرے پر سکندر کے پاؤں سلامی دے رہے تھے”تو دوسری سائیڈ پر رایان سویا ہوا تھا”جس کے اُپر المان بہت آرام سے لیٹا ہوا تھا۔۔”جبکہ سکندر کی ایک ٹانگ بیڈ کے نیچے تھی تو دوسری زوہان کے چہرے پر۔۔”وہ چاروں بیڈ پر بے ترتیب انداز میں لیکن پرسکون نیند سو رہے تھے۔”اُن کا آپسی پیار کا سوچ کر”اقدس نے دل سے دعا کی تھی کہ وہ ہمیشہ ایسے رہے”آپس میں خوش وخرم لڑائی کرنے کے بعد بھی ایک دوسرے کے بغیر نہ رہنے والے۔۔”یکایک اُس کے دماغ میں خیال آیا تو سائیڈ ٹیبل پر جو فون اُس کے ہاتھ میں آیا۔۔”وہ اُٹھاکر اُس نے سیل فون کی اسکرین آن کی تو وال پیپر پر”زوریز سوہان”آریان میشا”رایان عیشا اور زوہان اِن ساتوں کی تصویر لگی ہوئی تھی۔”جس پر وہ جان گئ کہ”فون زوہان کا ہے”کیونکہ یہ وال پیپر اُس نے زوہان کی فون میں دیکھا تھا”پاسورڈ کوئی نہیں تھا۔”اِس لیے اقدس سیل فون کا کیمرہ آن کرتی۔”مختلف انداز میں اُن کی ایسی حالت میں تصویریں کھینچنے کے بعد اُن کو اُٹھانا شروع کیا
“مان
“سکندر
ہانی
جگو
اُٹھ جاؤ سب۔۔”صبح کے نو بجے کا وقت ہورہا ہے۔۔کھڑکیوں سے پردے ہٹاتی اقدس نے اُونچی آواز میں اُن کو پُکارہ تو”کھڑکی سے آتی روشنی جب اُن کی آنکھوں پر گئ”سب سے پہلے سکندر اوندھے منہ بیڈ سے گِرا تھا۔”اُس کے بعد المان بھی گِرنے لگا تھا” لیکن اُس نے رایان کا بازو سختی سے پکڑا ہوا تھا” جس وجہ سے مفت میں رایان بھی بیڈ سے نیچے گِرا تھا۔
“توں کس خوشی میں اکیلا بیڈ پر موجود ہے۔ ۔زوہان جو اپنی آنکھوں کو مسلتا اُن کو بیڈ کے پاس گِرا ہوا دیکھ رہا تھا۔ “اور ابھی وہ سکندر کی بات کو سمجھنے کی کوشش کررہا تھا” جب اُس نے ٹانگ سے پکڑ کر اُس کو بھی بیڈ سے گِرایا تھا
“کوئی حال نہیں تم لوگوں کا۔ ۔”جلدی سے فریش ہوجاؤ اور ناشتے کی ٹیبل پر آؤ۔۔اقدس نے خشگین نظروں سے اُن کو دیکھ کر کہا
“میں نے رات کو الارام لگایا تھا۔۔”میری نیند کیوں نہیں ٹوٹی؟اِتنا وقت ہوگیا ہے اب تو۔۔۔زوہان کی نظر سائیڈ ٹیبل پر موجود کلاک پر پڑی تو حیرت سے بولا
“بہت اُونچی آواز میں بج رہا تھا”میں نے سٹاپ کردیا تھا۔۔رایان نے اپنے بالوں کو کُھجاکر اُس کو اپنا کارنامہ سُنایا
“،حد کرتے ہو تم۔۔زوہان نے اُس کو گھورا
“اچھا کیا جو بند کیا” ورنہ الارام لگاتا کوئی اور ہے” نیند خراب ہوتی کسی اور کی ہے۔ ۔المان نے اُس کو شاباشی دیتے ہوئے کہا
“زیادہ مسکے نہ لگاؤ۔۔”تمہاری وجہ سے میں بیڈ سے گِرا ہوں۔۔رایان نے اُس کو گھور کر کہا
“بول تو ایسے رہے ہو”جیسے جسم کی ساری ہڈیاں ٹوٹ گئ ہو تمہاری۔۔المان تپ کر بولا
“اِرادے تو تمہارے کچھ اِس طرح کے تھے۔۔رایان تُرکی پر تُرکی بولا
“اچھا چھوڑو آج تم سب کی یونی کی چُھٹی ہے۔۔”اب اُٹھ جاؤ بس۔۔اقدس نے اُن کو دیکھ کر کہا”اپنے کپڑے جہاڑ کر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے
“چُھٹی کس خوشی میں؟”زوہان نے پوچھا
“پتا نہیں بابا جان نے کہا کہ ہم آپ لوگوں کو بتائے کہ کچھ دن تک تم میں سے کوئی بھی یونی نہیں جائے گا۔ ۔اقدس نے اپنی معلومات مطابق بتایا
“اچھا۔۔زوہان محض یہی بول پایا
“مان آپ بابا جان سے ملنا۔”کچھ توقع بعد اقدس نے المان کو دیکھ کر کہا” اور پھر کمرے سے باہر نکل گئ
“اِتنی صبح صبح تمہاری پیشی بابا جان کی دربار میں؟رایان حیران ہوا
“اللہ خیر کرے۔ ۔المان بالوں میں ہاتھ پھیر کرتا کمرے سے باہر نکل گیا

“تو یعنی ہماری جان ہلکان کرنے والے” مان اور سکی تھے؟ عیشا ماہا کے ساتھ سیڑھیاں اُترتی ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر بولی
“اور نہیں تو کیا۔ ۔ماہا نے منہ بسور کر جواب دیا تھا
“میں اِن کو چھوڑوں گی نہیں۔ ۔عیشا خاصے تپے ہوئے انداز میں بولی تھی۔
“رہنے دے خوامخواہ بات بڑھ جائے گی۔ “وہ تو مجھے ڈرانے والے تھے” آپ تو مفت میں درمیاں آگئ۔ ۔ماہا نے معاملہ رفع دفع کرنا چاہا
“تم اور میں الگ نہیں ہیں۔ ۔عیشا اُس کو مصنوعی گھوری سے نواز کر بولی تو ماہا مسکرائی تھی۔








“آپ نے یاد کیا بابا سائیں؟المان فریش ہونے کے بعد سیدھا اسیر ملک کے کمرے میں آیا تھا
“ہاں آؤ بیٹھو۔۔اسیر نے اُس کو دیکھ کر سامنے بیٹھنے کا اِشارہ دیا
“کوئی ضروری بات ہے؟المان نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“تم بتاؤ”جو میں نے فیصلہ تمہیں کرنے کو کہا تھا”وہ کہاں تک پہنچا؟”تم نے کیا سوچا اُس بارے میں؟اسیر نے گھمبیر آواز میں اُس سے سوال کیا
“بابا سائیں آپ نے لڑکی کے بارے میں نہیں بتایا”پھر ہم کیسے کسی لڑکی سے شادی کرنے پر تیار ہوجائے۔۔المان نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
“لڑکی کون ہے؟”کیسی ہے؟”یہ تمہارے لیے ضروری نہیں ہونا چاہیے۔”تمہیں یہاں سے۔۔”اِس حویلی سے”اِس گاؤں سے جانا ہے تو بس تم اُس کے بارے میں سوچو۔”اور کوئی مثبت جواب دو۔۔اسیر نے جیسے بات کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا
“ابھی کیسے بتائے؟”ابھی تو پندرہ دن کا وقت ہے ہمارے پاس۔۔المان کشمش میں مبتلا ہوگیا تھا
“اگر گُزرے پندرہ دِنوں میں تم نے کوئی فیصلہ نہیں لیا”تو آنے والے پندرہ دِنوں میں تم کیا فیصلہ لو گے؟اسیر نے کہا تو وہ چُپ ہوگیا تھا۔۔”اُس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دے
“تو پھر آپ بتادو۔ ۔”ہم سے کیا سُننا چاہتے ہیں آپ؟المان نے سب کچھ اُس پر چھوڑدیا
“ہم چاہتے ہیں۔ “تم ابھی ہمیں اپنا جواب دو۔ “یا نکاح کرلوں۔ ۔”یا اپنی خواہش سے دستبردار ہوجاؤ۔۔اسیر نے بتایا
“اپنی خواہش سے دستبردار ہونا ناممکن سی بات ہے۔المان نے جھٹ سے کہا تھا
“ٹھیک ہے پھر نکاح کے لیے”ہاں”بول دو۔۔اسیر نے دوسرا آپشن سامنے رکھا
“یہ ایک طرح کی ہمارے ساتھ زبردستی ہوئی۔۔”آپ جس خدشات کی بدولت ہمیں ایسا کرنے کو بول رہے ہیں”اگر ہمیں وہ کرنا ہوگا تو نکاح میں ہونے کے بعد بھی کرسکتے ہیں۔۔المان چڑ کر بولا
“نکاح کے بعد گُنجائش نہیں بچے گی۔اسیر بس اِتنا بولا
“اوکے فائن”لیکن لڑکی کون ہے؟المان نیم رضامند ہونے لگا تھا
“نکاح کے لیے تیار ہو؟اسیر نے پوچھا
“یہ ہمارے سوال کا جواب نہیں۔ ۔المان جھنجھلاہٹ کا شکار ہوا تھا
“اگر نکاح کے لیے تیار ہو تو اپنی ماں سے کہو تمہاری پیکنگ کروالے۔ ۔”اور اپنی بہنوں کو میرے پاس بھیجو۔۔”اکلوتے بھائی ہو تم اُن کے ظاہر سی بات ہے” اُنہوں نے شاپنگ کرنی ہوگی۔اسیر نے اِس بار بھی اُس کے سوال کو ٹال مٹول کرلیا تھا جس پر المان جبڑے بھینچتا اُٹھ کر کمرے سے باہر چلاگیا
“ایک منٹ رُکو۔ ۔۔”ابھی المان اُس کے کمرے کی دہلیز پار کرتا کہ اسیر نے کافی سنجیدگی سے اُس کو مُخاطب کیا
“جی فرمائیے؟المان رُکا تھا”لیکن مُڑا نہ تھا
“اپنے نکاح کے دن تم کُرتا پاجامہ پہنو گے یا شیروانی؟”اسیر کے سنجیدہ انداز میں پوچھے گئے سوال پر المان عش عش کر اُٹھا تھا۔ ۔”اُس نے پلٹ کر کافی متعجب نظروں سے اپنے باپ کا وجیہہ چہرہ دیکھا جہاں مسکراہٹ کی ہلکی شبیہہ تک نہ تھی۔”لیکن اُس کے باوجود بھی المان کو یقین نہ آیا کہ اُس کے اِس قدر بگڑے موڈ پر اُس کا باپ کوئی ایسا سوال بھی پوچھ سکتا ہے
“ہم دھوتی کا انتخاب کرینگے۔۔”ہمارے لیے وہی بہتر ہوگی۔المان نے خاصے تپے ہوئے انداز میں جواب دیا تھا۔ “یعنی حد ہوگئ تھی۔ “نکاح میں نہ اُس کی مرضی شامل تھی” اور نہ جس سے ہونے والا تھا اُس کا کوئی اتا پتا۔ ۔”بس اگر اُس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا جارہا تھا تو وہ یہ تھا کہ اپنے نکاح میں وہ کیا پہنے گا؟ “کُرتا پاجامہ یا شیروانی؟”
“جیسا تم کہو۔ ۔اسیر نے گویا ایک آخری کیل ٹھوکی تھی اور المان کی بھی بس ہوئی تھی تبھی لمبے لمبے ڈُگ بھرتا اُس کے کمرے سے باہر نکلتا چلاگیا







“کیا واقعی میں مان کی شادی ہوگی؟اقدس کافی حیرانگی سے فاحا سے بولی
“شادی نہیں ابھی بس نکاح ہوگا۔ ۔۔فاحا نے بتایا
“لیکن کس سے؟”کیا وہ کوئی گاؤں کی لڑکی ہے؟ماہی کو اشتیاق ہوا
“یہ تم لوگوں کو جمعہ کے دن پتا لگ جائے گا۔۔فاحا نے ٹالا
“جمعہ کے دن کیوں؟”ابھی کیوں نہیں؟اقدس کو فاحا کی بات عجیب لگی
“کیونکہ آپ دونوں کے بابا جان نے منع کیا ہوا ہے۔۔فاحا نے بتایا
“اچھا اگر اُنہوں نے منع کیا ہے تو آج بدھ پڑسو لگ جائے گا پتا۔۔ماہا مثبت انداز میں سر کو جنبش دیتی بولی
“پڑسو والا جمعہ نہیں جو اُس کے بعد جمعہ آئے گا۔ ۔”اُس پر چلے گا پتا۔ ۔”ابھی ہم نے بہت سارے انتظامات دیکھنے ہیں۔ ۔”مان کے نکاح میں کوئی بھی کثر نہیں چھوڑے گے۔ “پورا گاؤں مدعو ہوگا۔۔فاحا نے مسکراکر کہا”جبھی وہاں ایک کام کرنے والی آئی تھی
“آپ سب کو سردار صاحب نیچے بُلا رہے ہیں۔۔اُس عورت نے بتایا اور وہاں سے چلی گئ تو وہ تینوں بھی حویلی کے بڑے لان میں آئیں”جہاں سب لوگ موجود تھے
“تم دونوں آگئ ہم نے آپ سے ضروری بات کرنی تھی۔ “اسیر نے اقدس اور ماہا کو دیکھ کر کہا
“تیری شکل کیوں قدو جیسی بن گئ ہے؟عیشا نے”المان کی لٹکی ہوئی شکل دیکھی تو اُس سے پوچھا
” فلحال تم میرے منہ مت لگو۔ ۔المان تپ کر اُس کو بولا” کیونکہ عیشا کو دیکھ کر اُس کو اپنا خواب یاد آگیا تھا۔
“میں تو مرے جارہی ہوں نہ تمہاری قدو جیسی شکل کے لیے۔ ۔عیشا جواباً تپ کر بولی” جس پر المان نے اپنا سرجھٹکا
“بابا جان آپ نے کیا بتانا تھا ہمیں؟ماہا نے پُرتجسس لہجے میں پوچھا
“ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ اپنی شاپنگ کرنا شروع کردے”جو بھی خریدنا ہے۔ ۔”وہ شہر جاکر خرید آئے۔ “چچی صنم آپ لوگوں کے ساتھ شہر چلے گیں۔ ۔اسیر اُن کو دیکھ کر کہا
“شاپنگ کس چیز کے لیے؟عیشا نے تعجب سے پوچھا
“ہفتے بعد مان کا نکاح ہے۔”اُس کی شاپنگ کی تیاری آپ بھی جانا اِن دونوں کو ساتھ۔ ۔اسیر نے مسکراکر بتایا
“مان کا نکاح۔۔”اور کمینے انسان توں نے ہمیں بتایا تک نہیں۔ ۔سکندر اسیر کی بات سن کر المان کو ملامتی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا
“اچانک فیصلہ مجھ سے کروایا گیا ہے۔ ۔المان ایک نظر اسیر پر ڈال کر بولا
“شکل تو دیکھو کیسی مظلوموں جیسی بنائی ہوئی ہے۔ “یعنی بجائے خوش ہونے کے ناشکرا انسان رونی شکل بنارہا ہے۔۔”تمہاری جگہ اگر میں ہوتا تو اب تک خوشی سے پاگل ہوجاتا۔ ۔۔رایان المان کی شکل دیکھ کر پہلے طنز پھر حسرت بھرے لہجے میں بولا
“تم تو کافی ترسے ہوئے معلوم ہورہے ہو۔”اگر کوئی لڑکی تمہاری نظر میں ہے تو بتادو” لگے ہاتھ تمہارا نکاح بھی کروا لے گے۔ ۔اسیر نے رایان کی بات پر کہا
“کیا واقعی میں؟رایان خوشی سے اُچھل پڑا تھا۔۔”پر جب کانوں میں سب کا ایک ساتھ قہقہقہ پڑا تو وہ خجلت کا شکار ہوا تھا
“آپ کے بارے میں سہی سُنا تھا عزت سے بے عزت کرتے ہیں۔ ۔۔رایان منہ بسور کر بولا
“ہم سیریس ہیں۔ ۔اسیر اپنی بات پر ڈٹ کر کھڑا تھا
“جگو کو چھوڑے اور بتائے ہم شاپنگ کرنے شہر کب جانے والے ہیں؟ماہا کو بس ایک بات کی پڑی تھی
“ہماری بات مانے ماہی کا نکاح کروا لے۔ ۔”اِس کو خوشی کچھ زیادہ ہے۔ ۔المان تپ کر بولا
“شرم کرو۔۔”چھوٹی بہن ہے تمہاری بات کرتے ہوئے سوچ لیا کرو کہ سامنے کھڑا کون ہے۔ ۔فاحا نے اُس کو بُری طرح سے جھڑکا تھا
“ماہی کی تم فکر نہ کرو۔ “جب اُس کا وقت آئے گا تو وہ بھی اپنے گھر کی ہوجائے گی۔۔اسیر “ماہا” کی اُتری ہوئی شکل دیکھ کر اُس کو اپنے ساتھ لگائے بولا
“ضروری تھا اُس کا جوش ہوا کرنا؟زوہان نے ناپسندیدہ نظروں سے المان کو دیکھ کر کہا”اُس کو المان کا ایسا برتاؤ کرنا پسند نہ آیا تھا۔۔”لیکن المان بس خاموش ہوگیا تھا اُس کے پاس شاید بولنے کو کچھ تھا ہی نہیں






ویلکم بیک آتش لُغاری۔ ۔جناح ایئرپورٹ پر کھڑا” آتش اپنی آنکھوں سے بلیک گاگلز اُتار کر گہری مسکراہٹ سے بڑبڑایا تھا”اور وہ جیسے ہی ائپرپورٹ سے باہر آیا تو میڈیا والے اپنا کیمرہ لیکر اُس کو اپنے گہیرے میں لے لیا تھا” جیسے وہ کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام دے آیا تھا۔ “اور اُس میں کوئی شک نہیں تھا کہ جہاں وہ گیا تھا وہاں اپنا کارنامہ چھوڑ کر آیا تھا
“سر کیا آپ نے آمریکا کے مشہور کلب کے مینجر کو بیدردی سے مارا تھا؟
“ایسا بھی کیا ہوگیا تھا جو آپ مارنے پر اُتر آئے تھے؟
“آپ آمریکا اچانک گئے کیوں تھے؟”کیا خاص کام اُس شخص کو مارنے کا تھا۔ ۔۔
“ایک کے بعد ایک سوال اُس سے پوچھے جاریا تھا جبکہ آتش اُن کے سوالوں کو اگنور کرتا یہ سوچنے میں تھا کہ جو کام اُس نے” آمریکا میں کیا ہے”اُس کے چرچے پاکستان میں کیوں ہورہے تھے” یہ افواہ پِھیلانے والا کون تھا۔
“میں واحد شخص ہوں جس کو بیٹھے بیٹھائے فیم مل گئ ہے۔۔آتش اُس لوگوں کے ہاتھوں میں موجود کیمرہ اور مائیکس دیکھ کر کمینی مسکراہٹ سے سوچنے لگا تھا
“پکس اچھی نکالنا ایسا نہ ہو کہ بُری ہو۔ ۔”ویسے کیمرہ کس کمپنی کا ہے؟ “رزلٹ اچھی ہے نہ؟آتش اپنی گاڑی کے قریب پُہنچ کر سنجیدگی سے بولا تو وہ رپورٹر ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔۔”اور اُن کا ہونک بنا چہرہ دیکھ کر آتش گاڑی میں بیٹھ گیا تھا
“اچھا ہوا جو مجھ سے پہلے آگئے۔۔”ورنہ نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ ۔آتش گاڑی میں بیٹھ کر ڈرائیور سے بولا تو بے ساختہ اُس نے تھوک نگلا تھا۔

“آتش جب گھر پہنچا تو بدقسمتی سے اُس کا سامنا سب سے پہلے ایشال سے ہوا تھا”جو شاید باہر جانے کا اِرادہ کیے ہوئے تھی
“اوو کول مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم میرے انتظار میں باہر کھڑی ہوگی” میں کتنا خوشقسمت بھائی ہو نہ” مجھے تو اپنی خوشقسمتی پر رشک آرہا ہے۔ ۔آتش زچ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
“ٹرسٹ می جتنے دن تم یہاں نہیں تھے” میں اکیلے اِس گھر میں بہت پرسکون رہا کرتی تھی۔۔”اور کیا ضروری ہے کہ جہاں بھی جاؤ وہاں تباہی مچا کر آؤ۔۔ایشال نے ناگوار نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“اوو ہو مجھے پتا نہیں تھا کہ تم نے میرے پیچھے جاسوس لگائے ہوئے ہیں”جو میری پل پل کی رپورٹ تم تک پُہنچاتے ہیں۔۔آتش ستائشی لہجے میں بولا
“تم کیا میرے لیے اِتنے اسپیشل ہو جس کی نگرانی کے لیے میں جاسوس ہائیر کرو گی۔۔”فار یوئر کائینڈ انفارمیشن کہ تمہارے کرتوت آئے دن ہر نیوز چینل پر نشر ہوتے ہیں۔ ۔۔ایشال نے طنز نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“ہاں تو وہ نیوز تم میرے لیے دیکھتی ہوں نہ۔ ۔۔آتش کہاں باز آنے والا تھا
“ویسے دن بدن تمہاری خوشفہمیاں عروج پر پُہنچنے لگیں ہیں۔ ۔ایشال سرجھٹک کر اُس کو بولی
“کیا کروں”؟بنانے والے نے بنایا ہی کچھ ایسا ہے۔ ۔آتش بالوں میں ہاتھ پھیر کر دلکش لہجے میں بولا تو اُس کو اگنور کرتی ایشال سائیڈ سے گُزرگئ تھی۔ “جبکہ آتش بھی سیٹی کی دُھن بجاتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔






ایک دن بعد!
“آج ایک طرف زاویار راحت اور زاویان کو لیکر شاپنگ مال آیا تھا تو دوسری طرف کزنز کا پلٹن بھی اُس مال آیا تھا۔۔”اور اتفاقی طور پر جب آتش کا شاپنگ کرنے کا موڈ بنا تو وہ بھی اُس مال میں آیا تھا۔ ۔”لیکن سب سے پہلے وہ فوڈ کارنر آیا تھا جہاں زاویان آلریڈی موجود تھا لیکن آتش کی نظر اُس پر نہیں پڑی تھی۔ “پر زاویان کی پڑگئ تھی۔ “جبھی اپنے ماں باپ کی نگاہوں سے بچتا وہ اکیلے بیٹھے آتش کی طرف آیا تھا جس کو وہ ایک نظر میں پہچان گیا تھا
“یہاں آپ کی بیوی بیٹھے گی؟کسی بچے کی آواز پر آتش جو سیل فون میں مصروف تھا اچانک اپنا سراُٹھایا تو” زاویان کو دیکھ کر وہ ایک پل کو چونک سا گیا تھا
“تم؟آتش کی نظروں میں حیرانگی تھی
“میں۔ ۔زاویان نے فوراً جواب دیا
“میری بیوی نہیں کوئی۔ ۔”میں غیرشادی شدہ ہوں۔ ۔آتش حیرانگی سے باہر نکل کر اُس کو بتانے لگا
“اوو سو کین آئے سِٹ ہیئر؟زاویان نے اجازت مانگی
“شیور۔ ۔آتش نے بلاجھجھک کر کہا
“میں اپنے ماں باپ کے ساتھ آیا ہوں” ہوپ سو کہ آپ نے مجھے پہچانا ہوگا۔ ۔زاویان نے اُس کو دیکھ کر بتانے کے بعد کہا
“کول۔۔میں پہچان گیا تھا۔ آتش نے سر کو خم دے کر کہا
“اچھا آپ بہت پیارے ہو۔ ۔زاویان اُس کو دیکھ کر تعریفی انداز میں بولا
“میں جانتا ہوں۔ ۔آتش کے لہجے میں غرور جھلک رہا تھا
“یقیناً جب آپ کی بیٹی ہوگی تو وہ بھی آپ کی طرح پیاری ہوگی۔ زاویان نے مزید کہا
“وہ تو ڈول ہوگی۔آتش اُس کی بات کے جواب میں بولا تھا
“تو آپ نہ اپنی ڈول کا رشتہ مجھ سے کرنا۔ ۔زاویان نے قدرے شرما کر کہا تھا
“ہاں کیوں نہ
“بات کرتے کرتے آتش اچانک چونک کر اُس چھٹانگ بھر بچے کو دیکھنے لگا جو شرم سے لال گُلنار ہورہا تھا
کیا کہا؟آتش اُس کو گھورنے لگا”کیونکہ اُس کی بات سہی سے وہ اب سمجھا تھا
“اینگری کیوں ہورہے ہو؟”اگر آج آپ مجھے اپنی بیٹی کا رشتے دینے کو تیار ہوئے تو آئے پرومس میں آپ کے بیٹے کو اپنی بہن کا رشتہ دوں گا۔۔”میری بہن بہت پیاری ہے۔۔۔”زاویان نے جلدی سے کہا تو آتش بس اُس کو گھورتا رہ گیا
“بیٹا جی پہلے زمین سے اُگ جاؤ پھر میری بیٹی کے ساتھ شادی کے خواب دیکھنا۔۔۔آتش نے خاصے طنز لہجے میں اُس سے کہا
“دیکھے ہاں بول دے”کیونکہ اگر آپ کا یہی اٹیٹیوڈ رہا نہ تو مجھے نہیں لگتا کہ لائیف میں کبھی آپ کی کسی سے شادی ہوگی۔۔۔زاویان نے اُس کو وارن کیا تو آتش نے ضبط سے مٹھیوں کو بھینچا
“تم اپنی عمر دیکھو اور باتیں چیک کرو۔ ۔آتش نے تپ کر اُس کو دیکھا
“ایج جسٹ آ نمبر۔”اور مجھ سے زیادہ پیارا شہزادہ آپ کو پوری دُنیا میں نہیں ملے گا۔ ۔” زاویان ناک منہ چڑھا کر بولا”پہلی بار وہ آتش کو کیوٹ لگا
“اچھا تو اگر میں تمہاری بات مان لوں تو جب میرا بیٹا ہوگا تب تو تمہاری بہن کی ایج کا نمبر بہت آگے نکل چُکا ہوگا۔ ۔آتش نے مبہم مسکراہٹ سے کہا تھا” ہلانکہ یہ انداز اُس کی شخصیت کا حصہ نہ تھا
“اُس کے لیے آپ پریشان نہ ہو وہ ابھی دُنیا میں نہیں آئی۔ ۔”رلیکس رہے آپ۔ ۔زاویان نے اُس کو پرسکون کرنے کی خاطر کہا تو آتش غش کھانے کے در پر تھا یعنی جو پیدا ہوئی ہی نہ تھی”اُس کا پہلے ہی وہ رشتہ طے کرنے کے چکروں میں تھا۔ “آتش کو اندازہ ہوا جیسے وہ تو کچھ بھی نہیں اصل پُہنچی ہوئی چیز تو یہ بچہ تھا۔
“تم
“آتش بات کرتا ہوا اچانک خاموش سا ہوگیا” کیونکہ اُس کی نظر کالی چادر میں ایک چہرہ جانا پہچانا سا لگا جو فوڈ کارنر سے باہر نکلنے لگا تھا “اور جب اُس نے غور کیا تو آتش کو یاد آیا کہ وہ کون تھی
“ایک منٹ۔ ۔آتش زاویان سے کہتا اُٹھ کر باہر چلاگیا تھا۔
“مس چشمش یہاں کیسے؟آتش “اقدس کا پیچھا کرتا بڑبڑایا تھا” جو مال کے اُپری فلور میں داخل ہوگئ تھی۔
“ویٹ آ منٹ میں اُس کا پیچھا کیوں کررہا ہوں؟ آتش کو اچانک خیال آیا تو رُک کر تعجب سے خود سے سوال کرنے لگا
“یہ میں آجکل دن بدن کچھ زیادہ ہی چِھچھوڑوں جیسی حرکتیں کرنے لگا ہوں” چلو خیر اگر یہاں تک آگیا ہوں تو تھوڑی بہت بات چیت کرلیتا ہوں۔ ۔آتش اپنے خیال کو رد کرتا یہاں وہاں اقدس کو تلاش کرنے لگا جو اُس کو نظر بھی آگئ تھی۔
“اے چشمش۔۔آتش نے اُونچی آواز میں اُس کو پُکارا تھا لیکن وہ تو نہ سُن پائی تھی” پر کپڑے چیک کرتی ماہا نے اُس کی آواز سن کر سراُٹھاکر اُس کی نظروں کا تعاقب کیا تو ایک لمحہ لگا تھا اُس کو ساری بات سمجھنے میں”تبھی کپڑوں کو چھوڑ کر وہ آتش کے سامنے کسی دیوار کی طرح کھڑی ہوئی تھی
“کیا؟آتش کو اُس کا یوں کھڑا ہونا سمجھ میں نہیں آیا تھا
“آپ نے یہ مس چشمش چشمش کیا لگائی ہوئی ہے؟ ماہا نے کڑے تیوروں سے اُس کو گھورا تھا۔
“کیا تم اُس کو جانتی ہو؟”آتش نے اب غور کیا تو اُس کو ماہا کا چہرہ اقدس سے کافی حدتک ملتا جُلتا لگا” اگر کوئی فرق تھا تو گالوں پر موجود ڈمپلز کا تھا جو بات کرتے ہوئے ماہا کے نُمایاں ہورہے تھے” اور آتش کو یاد نہ آیا کہ یہ اقدس کے پاس تھے بھی یا نہیں
“آپ سے مطلب؟ ماہا نے اُس کو گھورا
“وہ تمہاری کیا لگتی ہے؟آتش نے جاتی ہوئی اقدس کی پشت کو دیکھ کر اُس سے پوچھا”اب اقدس کے پیچھے جانا اُس نے ترک کرلیا تھا
“ماہا کی بڑی بہن ہے اور یہ کیا آپ ماہا کی بہن کو چھیڑ رہے تھے؟”آپ کو پتا نہیں ماہا کو کراٹے بھی آتے ہیں۔۔۔ماہا عجیب انداز میں کھڑی ہوتی اُس کو وارن کرنے لگی
“میری توبہ دراصل وہ میری ٹیچر تھی۔آتش نے فٹ سے کہا تو ماہا سرتا پیر اُس کا جائزہ لینے لگی
“ہیں؟ٹیچر وہ بھی آپ کی؟”آپ اِتنے بڑے ہوکر ابھی تک پڑھتے ہو؟ماہا جیسے حیران ہوئی تھی
“ہاں کیوں کونسا پڑھائی کی عمر ہوتی ہے۔۔آتش اُس کو گھور کر بولا
تو کیا واقعی میں آپ اُس کے شاگرد ہیں؟ماہا تھوڑا سیریس ہوئی
“نہیں تمہاری راجکماری بہن کا سِیوک ہوں۔۔۔آتش طنز ہوا
“یہ سیوک کیا ہوتا ہے؟ماہا کو سمجھ میں نہیں آیا
“اُس کو چھوڑو دراصل ہمارے درمیاں بہت ضرور بحث ہورہی تھی”درمیاں میں تم ٹپک پڑی۔۔آتش نے سرجھٹک کر کہا
“کیسی بحث؟ماہا کو تجسس ہوا”کیونکہ بات کرتا ہوا اُس نے تھوڑئی نہ دیکھا تھا جو وہ اندازہ لگاتی
“ایک اسائمنٹ کے سلسلے میں مجھے اپنا نمبر دینے لگی تھی”جانے کیا بتایا تھا۔”0345….چور نگاہوں سے اُس کو دیکھتا آتش نمبر یاد کرنے کی اداکاری کرنے لگا
“0345.3…..
“اُس کو اپنے دماغ پر زور دیتا دیکھ کر ماہا نے جھٹ سے اُس کو اقدس کا نمبر بتایا تھا۔۔”جس پر آتش کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی تھی۔۔”اور وہ دوبارہ سے نمبر دوہرانے لگا۔۔
“ویسے وہ آپ کو نمبر دینے کیوں والی تھی؟ماہا کو اچانک سے خیال آیا
“تاکہ پروائیویٹ چِٹ چاٹ ہو۔۔۔آتش اُس کی ناک دباکر بولا تو ماہا کی جیسے غیرت جاگی تھی”جو نمبر دیتے ہوئے سوئی ہوئی تھی
“شرم کا مقام ہے۔۔”نہیں قیامت کی نشانی ہے۔۔ہمارے دوسرے والدین ہمارے اُستاد ہوتے ہیں۔۔”اور آپ کو شرم آنی چاہیے۔۔”چھی ماہا کو تو کہتے ہوئے بھی حیا آرہی ہے اور” آپ اُن سے پروائیوٹ چِٹ چاٹ کرینگے؟”کیا آپ نے یہی سیکھا ہے؟ماہا نے اُس کو شرمندہ کرتے ہوئے کہا
“محترمہ زبان کو زرا بریک دو۔۔”میں مذاقً بولا تھا ورنہ آتش لُغاری کا ٹیسٹ اِتنا بُرا نہیں کہ وہ اُس استانی سے چِٹ چاٹ کرے۔۔آتش اُس کو گھور کر بولا
“اچھا تو پھر کیا نمبر کا تعویذ بناکر گلے میں ڈال کر گھومنا ہے آپ نے؟ماہا دونوں ہاتھ کمر پر ٹِکائے اُس کو گھور کر تفتیشی انداز میں بولی تو آتش نے دانت پیسے
“دیکھو واٹ ایور یو آر” اب تم زیادہ بول رہی ہو۔ “تمہیں پتا بھی نہیں کہ میں ہوں کون۔ ۔آتش نے اپنی طرف سے اُس کو ڈرانے کی کوشش کی تھی
“ماہا کو آپ میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔۔”ماہا شانِ بے نیازی سے بولی تھی تبھی ایک لڑکا “آتش کی طرف آیا تھا
“سر یہ آپ کا سوٹ۔ ۔۔”ایک بار آپ پہن کر چیک کرکے دیکھتے تو اچھا تھا۔ ۔”سیل بوائے نے کہا تو آتش اُس کے ہاتھ سے سوٹ لیتا ایک اچٹنی نظر ماہا پر ڈالے چینجنگ روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔
“آتش چینجنگ روم میں داخل ہوا تو اُس نے دروازے کو خالی بند کیا” لاک کرنے کی زحمت نہ تھی” اور اب سیٹی کی دُھن بجاتا وہ کافی آرام سے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا خود کو شرٹ سے آزاد کروا گیا تھا۔ “تبھی اچانک دروازہ کُھلنے کی آواز پر وہ چونک کر پلٹا تھا۔ “جہاں اقدس جو ایک میکسی پکڑے اپنے دھیان میں آئی تھی اور بنا آگے پیچھے دیکھے اُس نے ڈور تک لاک کیا تھا۔ “پر جیسے ہی اُس کو اپنے علاوہ کسی اور وجود کا احساس ہوا تو جھٹ سے چاروں اطراف دیکھنے لگی” لیکن جب اُس کی نظر شرٹ لیس آتش پر پڑی تو اُس کی چیخ نکل گئ تھی۔ “فٹافٹ اپنا رُخ موڑ کر اُس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا
“او گاڈ میری عزت۔ ۔۔شرٹ پہننے کے بجائے آتش نے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر جمائے تھے
“تم بدتمیزی انسان یہاں کیا کررہے ہو؟اقدس جھرجھری سی لیتی اُس کو بولی تو آتش نے اُس کی پشت کو گھورا
“اپنا چشما تبدیل کراؤ”غلط جگہ پر غلط وقت پر اینٹری ماری ہے تم نے۔۔۔آتش نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
ہمیں نہیں پتا کچھ تم بس یہاں سے باہر جاؤ۔۔۔اقدس نے جلدی سے کہا
“میں کوئی تمہارا سِیوک ہوں”خود باہر جاؤ”یہاں پہلے میں آیا تھا۔۔”اور اب تمہیں جانا چاہیے”لیکن اگر تمہیں میری سکس پیکس والی باڈی دیکھنی ہے تو نو ایشو میں دیکھانے کے لیے تیار ہوں۔۔آتش تھوڑا اُس کے پاس آکر شوخ لہجے میں بولا تو اقدس کے ہاتھ سے میکسی چھوٹ کر نیچے گِری تھی۔”اور اُس نے کپکپاہٹ سے دروازہ کھولنے کی کوشش کری”پر بے سود
“ایک منٹ ویٹ۔۔۔آتش اُس کے ہاتھوں میں واضع نمایاں ہوتی لرزش کو دیکھ کر کہتا اپنی شرٹ واپس پہننے لگا۔۔”لاک کھولنے لگا تھا کہ اُس کو عجیب شور سُنائی دیا تھا۔”جس پر اُس نے اقدس کو دیکھا جس کا پورا چہرہ سرخ قندھار ہوگیا تھا”کوئی اور وقت ہوتا یا وہ بھی عام مردوں جیسا ہوتا تو اُس کے چہرے پر یہ رنگ دیکھ کر وہ مسمرائز ضرور ہوتا” لیکن اِس وقت اُس کو خطرے کی گھنٹاں واضع طور پر سُنائی دے رہی تھیں”غیرشعوری طور پر آتش نے ہلکا سا اقدس کو بازو سے پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کیا اور دروازہ کھولا تو سامنے اکا دُکا لوگ اور میڈیا والوں کو دیکھ کر آتش کو اپنا شک یقین میں بدلتا دیکھائی دیا تھا۔”جس پر سختی سے آتش نے جبڑے بھینچے تھے”وہ سمجھ گیا تھا کہ اِن لوگوں کو ریٹنگ کے لیے چٹ پٹی نیوز چاہیے تھی” جو تب ملتی جب وہ لوگ آتش کے ساتھ ساتھ اقدس کی تصاویر لیتے۔”آجکل تو اِن لوگوں کی اُس پر کڑی نظریں تھیں”پر جو بھی تھا آتش چاہے بگڑا ہوا” لاپرواہ شخص تھا” جس کو اپنے علاوہ کسی اور کی رتی برابر بھی پرواہ نہ تھی” پر وہ قطعاً یہ برداشت نہ کرتا کہ اُس کی وجہ سے کسی اور لڑکی کی عزت پر آنچ آئے۔ “تبھی سخت نظروں سے اُن کو دیکھتا”آتش نے تقریباً اقدس کو اپنے پیچھے چُھپالیا تھا۔ “جس کا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا” اُس کی ٹانگوں میں جیسے جان نہ بچی تھی” ایسی سچویشن سامنا اُس کو پہلی بار کرنا پڑ رہا تھا۔ “کلک کلک کلک کی آوازوں سے اُس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا
نقاب کرلوں تم۔ ۔”وہ اللہ سے غیبی مدد مانگنے میں مصروف تھی” جب حددرجہ سنجیدہ لہجہ اُس کے کانوں میں آتش کا پڑا جہاں پہلی جیسی شوخی بلکل بھی نہ تھی” تبھی اقدس اُس کی بات ماننے پر تیار ہوگئ تھی۔
“سر آپ یہاں لڑکی کے ساتھ کیا کررہے ہیں؟
“یہ کیا آپ کی کوئی گرل فرینڈ ہے؟
“تعلقات بنانے کے لیے کیا آپ کو یہی جگہ ملی تھی؟
“ایک کے بعد ایک اُس سے سوال پوچھا جارہا تھا” جس کا جواب آتش دینا ضروری نہیں سمجھتا تھا” اُس نے لرزتی ہوئی اقدس کی کلائی کو اپنی مضبوط آہنی گرفت میں لیا تھا۔ “اور اُس کو اپنے ساتھ لیکر بھیڑ سے گُزرنے لگا تھا لیکن قدم بقدم چلتے ہوئے رپورٹر اُن کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے تھے
“اب چہرہ چُھپانے کا کیا فائدہ؟
“آپ کو ایک بار بھی اپنے والدین کا خیال نہ آیا تھا؟
“کیا خفیہ نکاح کیا ہوا ہے آپ نے آتش لُغاری کے ساتھ یا بغیر کسی رشتے سے ملنا جُلنا ہے۔ ۔ایک رپورٹر سرجُھکاکر اقدس کے کردار کا نشانہ بناتا سوال کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کی چادر میں ہاتھ ڈالنے والا تھا” جب ایک ہی جست میں آتش نے اُس کی کوشش کو ناکام بنایا تھا۔ “اور کھینچ کر اقدس کو اُن کی پہنچ سے دور کیا تھا
“دوبارہ اگر کسی نے اِس کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی نہ تو ہاتھ جڑ سے اُکھیڑدوں گا۔ “اور بند کرو یہ ڈرامہ۔ ۔آتش بولا نہیں بلکہ دھاڑا تھا” پورے مال میں عجیب ہلچل مچ گئ تھی۔
“سُنا نہیں ہاں؟ایک ابھی تک اُن کا ویڈیو بنانے میں لگا ہوا تھا” جب آگے بڑھ کر آتش نے اُس کے ہاتھ سے کیمرہ لیا تو اور پوری قوت سے فرش پر دے مارا تھا” اُس کا پورا چہرہ غُصے کی شدت سے سرخ ہوگیا تھا” اور اقدس کا آنسوؤ سے بھیگ گیا تھا۔”لیکن آتش اپنے غُصے میں پاگل ہوتا ایک کے بعد ایک اُن لوگوں کے کیمرے توڑتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اقدس کو لیکر مال سے باہر نکلتا چلاگیا تھا”اقدس تو کسی کٹی پتنگ کی طرح اُس کے ساتھ چل رہی تھی”اُس کو نہیں تھا پتا کہ اُس نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کیوں نہ کی تھی؟”وہ نہیں جانتی تھی اگر کچھ جانتی تھی تو بس یہ کہ آج اِس شخص کی وجہ سے اُس کے سر سے وہ مصیبت ٹل گئ تھی”جو اُس کی وجہ سے ہی اُس کے سر پر آئی تھی۔”لیکن دوسری طرف اِس وقت آتش کچھ بھی سوچنے اور سمجھنے کی پوزیشن میں نہ تھا وہ بس پارکنگ ایریا میں آتا اقدس کے لیے فرنٹ سیٹ کھول کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا تھا۔۔
