Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 43)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“ہوگئ تھی تم دونوں میں گپ شپ؟ “سکندر نے المان کے ساتھ سِڑھیاں اُترتے مسکراہٹ دبائے سوال کیا

“تو یہ تمہارا کارنامہ تھا؟ “المان کو یقین نہ آیا

“ہاں میں نے سوچا تمہیں اور اُس کو ایک ساتھ باتیں کرنے کا موقع دیا جائے۔ ۔۔”سکندر شانے اُچکاکر بولا

“باتیں واقعی میں ہوئی ہمارے درمیاں۔ ۔”المان نے بتایا

“کچھ نارمل ہوا تم دونوں بیچ؟ “سکندر نے رُک کر پوچھا

“وہ بدل گئ ہے۔ ۔۔”آئے مین اگر وہ پہلے جیسی ہوتی تو ہمارا سر ضرور پھاڑ دیتی۔ ۔”لیکن اُس نے میچیورٹی کا مُظاہرہ کیا۔ ۔”ایک فرمانبردار بیٹی بن کر ہمارے سوالوں کا جواب دیتی رہی جس کو بس اپنے والدین کی خوشی عزیز ہے۔ ۔”جو صبر کرنا جانتی ہے۔ ۔”المان کافی اُلجھن آمیز لہجے میں بولا

“دیکھ مان عیشو کو اُس کے والدین نے آزادی دی تھی۔ ۔”اور اِس آزادی کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ جو چاہے کرسکتی ہے۔ ۔”غلط سہی کرنے کا اُس کو لائسنس کسی نے نہیں دیا تھا۔ ۔”اُس کی آزادی کی ایک لِمٹ تھی۔ ۔”جس کو عیشو نے کبھی کراس نہیں کیا۔ ۔”بظاہر وہ اپنی مرضی کی مالک ہے۔ ۔”لیکن جو” شادی ہوتی ہے۔ ۔”لڑکا ہو یا لڑکی۔ ۔”دونوں کے لیے ایک بہت بڑا فیصلہ ہوتا ہے۔ ۔”کیونکہ دونوں کو پوری زندگی ایک ساتھ گُزارنی ہوتی ہے۔ ۔”ہر خوشی غم میں ایک دوسرے کا سہارہ بننا پڑتا ہے۔ ۔”جس میں دونوں کو رشتے نبھانے کی صلاحیت آتی ہو۔ ۔”اگر ایک سے صبر کا دامن چھوٹے تو دوسرے کو صبر کرنا آتا ہو۔ ۔”اور عیشو کے معاملے بھی یہی ہوا۔ ۔”وہ چاہے خود کو جتنا ماڈرن شو کروائے لیکن ہے وہ ایک مشرقی لڑکی۔ ۔”جو اپنے والدین کے آگے سرجھکاکر اُس کی مرضی سے شادی کرلیتی ہے۔ ۔”اور تم سے یہ نکاح اُس نے اِس وجہ سے کیا تاکہ تین خاندانوں میں جو پیار ہے اُس میں کوئی خلش نہ آئے۔ ۔”کسی ایک کے دل میں کوئی رنجیدگی نہ ہو۔ ۔”وہ جہاں بس اپنی خوشی کو آگے رکھتی تھی۔ ۔”اپنے اِس اسپیشل ڈے پر اُس نے اپنے والدین کو ترجیح دی۔ ۔”اپنا آپ تمہارے اور اللہ کے سُپرد کردیا کیونکہ اللہ تو کسی کو چھوڑتا نہیں۔ ۔”سکندر سمجھانے پر آیا تو بس بنا رُکے بولتا گیا جو المان نے بڑی سنجیدگی سے سُن بھی لیا۔

“میں تمہاری بات سے ایگری کر بھی لوں۔ ۔”لیکن وہ سالوں پہلے ایسی نہ تھی۔ ۔”اب ایسی ہے تو تب بابا سائیں نے میرے لیے اُس کا انتخاب کیوں کیا؟ “اُن کو تو اچھے سے پتا تھا کہ ہم بس لڑتے رہتے تھے۔ ۔”المان کو بس ایک بات ہمیشہ پریشان کرتی تھی جو اُس نے بتائی

“تو کیا تمہیں کوئی سیدھی سادھی لڑکی ملتی تو اُس کے ساتھ خوش رہ لیتے؟ “جو تمہیں لڑنے کا موقع نہ دیتی۔ ۔”تمہاری بس خدمت چاکری میں لگی رہتی۔ ۔”یہاں گاؤں میں ایسی ہی بیویاں ملتی ہیں نہ؟ “جو اپنے شوہر کو سر کا تاج بناکر اُس کو خوش دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔ ۔”اور اُس کو پریشان دیکھ کر یہ سوچ کر سارا دن پریشان رہتی ہے کہ جانے کیا بات ہوگی۔ ۔”تو کیا اِتنی نارمل زندگی میں تمہیں عیشا یاد نہ آتی؟ “اُس سے ہمیشہ سے کی جانے والی گولا باری بات پہ بات لڑائیان یاد نہ آتی؟ “جب اُس کی بھی کسی اور سے شادی ہوجاتی تو کیا تم یہ کوشش نہ کرتے کہ کسی نہ کسی بہانے اُس سے ایک بار بحث کرنے کا موقع ملے۔ ۔”یا وہ پھر تمہیں پہلے کی طرح چڑائے؟”تمہیں بس یہ لڑائیاں جھگڑا لگتا ہے۔ ۔”لیکن ماموں نے تم دونوں کی اِس بے تُکی لڑائی میں محبت کو محسوس کیا تھا۔۔”اِس لیے تو تم دونوں کو لڑے بغیر مزہ نہیں آتا دن نہیں گُزرتا تھا۔ ۔”ورنہ تو ہماری اِس پلٹن میں کوئی کسی سے نہیں لڑا میں نہیں لڑا عیشو سے ہانی بھی کبھی نہیں وہ تو خیر اللہ میاں کی گائے ہے پر جگو؟ “اُس کی تو وہ بہن ہے وہ تو اُس سے ایسے لڑائی کرتا تھا جیسے سامنے کوئی اُس کا جانی دُشمن ہو تو کیا جگو کو عیشو سے محبت نہیں؟”حالت دِکھنی چاہیے تھی تمہیں اُس کی جب عیشو اُس کو فل اگنور موڈ میں رکھے ہوئے تھی”ایسی لڑائیاں رشتوں کی خوبصورتی کو بیان کرتی ہے۔ ۔”اِن لڑائیوں میں کوئی اپنے دل میں نفرت نہیں پالتا۔ ۔”تُجھے نہیں پتا شاید اُس کو بھی نہ پتا ہو کہ تم دونوں کو عادت تھی ایک دوسرے کی۔” ۔”ایک دوسرے سے لڑائی کرنے کی عادت ایک نشے کی طرح ہوتی ہے جو اگر پوری نہ ہوئی تو بندہ تڑپتا ہے۔۔”نفرت نہ ہوتے ہوئے بھی نفرت ہے کہنا۔ ۔”اگر میں غلط ہوں تو تمہارے جانے کے بعد عیشو اِس قدر سنجیدہ نہ ہوتی وہ تو وہ تھی جو بڑی بڑی باتوں کو پھونک میں اُڑایا کرتی تھی۔ ۔”پر اِن چھ سالوں میں اُس کو نشہ نہیں ملا تو ایسی حالت بن گئ اور جب نشہ ملا تو یہ حال کردیا اُس نے اپنا اور آس پاس کا۔ ۔المان جو حق دق سا اُس کی باتیں سُن رہا تھا اُس کے اِشارے پر چونک کر دیکھا تو مزید حیران رہ گیا۔ ۔”جہاں پورے ہال کا نقشہ بدلا ہوا تھا۔۔”صوفے اپنی جگہ سے دور ہوگئے تھے۔ ۔”ٹیبل پر موجود گلدان نیچے فرش کو سلامی پیش کررہا تھا اور نیچے قالین پر رایان اور عیشا ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوتے کشن ایک دوسرے کو مارنے میں لگے ہوئے تھے۔۔”دونوں کی حالت بگڑی ہوئی تھی وہ کوئی بڑے نہیں تھے لگ رہے پانچ چھ سال کے بچوں کا گُمان ہورہا تھا اُن کو دیکھ کر

“ایک گھنٹہ تُجھ سے بات کرنے کا اثر ہے۔ ۔”یقیناً تھوڑا بہت لڑائی بھی ہوئی ہوگی تم دونوں کی۔ ۔”سکندر ہلکی مسکراہٹ سے مزید بولا لیکن المان اب کچھ بھی بولنے کی پوزیشن میں نہ تھا

“خوشی جگو یہ کیا بچوں جیسی حرکتیں ہیں؟ “میشا سوہان اور فاحا کے ساتھ ہال میں آئی تو اُن دونوں کو یوں دیکھ کر اُس نے اپنے دانت پیسے تھے۔۔”جبکہ فاحا حیرت سے ہال کا حشر دیکھ رہی تھی جو عیشا اور رایان کی عنایتوں پر پہچاننے میں نہیں آرہا تھا۔ ۔”اُس کو یاد نہ آیا تھا کہ ایسا حال کبھی اُن کے تین بچوں نے اپنے بچپن میں کیا ہو۔ ۔”جیسا اُن دونوں نے اِتنے بڑے ہونے پر کیا تھا

“موم وہ یہ سب اِس نے کیا ہے۔ ۔”ہاتھ جہاڑ کر کھڑی ہوتی عیشا نے سارا ملبہ رایان پر ڈالا جو اپنے بالوں سے روئی نکال رہا تھا۔

“نو موم یہ سارا کیا کرایا عیشو ٹیشو کا ہے۔ ۔۔”رایان نے عیشا کو گھور کر کہا

“رایان رانی۔ ۔”میرا نام بگاڑنے کی تمہیں قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ ۔”عیشا نے ڈبل گھوری سے اُس کو نوازہ

“اور تمہیں بھی کوئی حق نہیں کہ تم میرا یوں جینڈر تبدیل کرو۔ ۔”رایان تو ہتھے سے اُکھڑ گیا تھا

“تم

“اماں سائیں۔۔”وہ ابھی نئ جنگ شروع کرنے والے تھے۔ ۔”اُس سے پہلے اقدس کی آواز نے سب نے ہال کے داخلی دروازے کی جانب دیکھا جہاں آتش کھڑا تھا۔ ۔”اُس کو دیکھ کر سب لوگ الرٹ ہوئے تھے۔ ۔”جبکہ حویلی کا حال اور آتش کی آمد پر وہ تینوں بہنیں شرمندہ سی ہوگئیں تھیں۔ ۔”لیکن جن کو شرمندہ ہونا چاہیے تھا۔ ۔”وہ نظروں ہی نظروں میں ایک دوسرے کو مرنے مارنے کی دھمکیاں دینے میں مصروف تھے

“ارے آتش بیٹا آپ آگئے۔ ۔”فاحا مسکراکر اُس کی طرف بڑھی تھی

“جی میں زوجہ کو لینے آیا تھا۔ ۔”آتش نے اقدس کی طرف اِشارہ کرکے بتایا۔۔”باقی لوگ بھی اُن کی طرف آئے تھے

“یہ ہمارا بھائی ہے مان۔ ۔”المان سکندر کے ساتھ آیا تو اقدس نے المان کی طرف اِشارہ کرکے بتایا

“ہائے۔ ۔آتش نے مصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ اُس کی طرف بڑھایا تو المان اُس کا بڑھایا ہوا ہاتھ اگنور کرتا اُس کے گلے لگا تھا۔ ۔۔”جس پر سب مسکرائے تھے لیکن اقدس کو یہ عجیب لگا

“کیسے ہیں آپ؟ “المان اُس سے الگ ہوتا مسکراکر پوچھنے لگا

“میں ٹھیک تم بتاؤ؟”آتش نے جواباً مسکراکر پوچھا

“ہم ب

“کیا تم دونوں ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہو؟ “المان ابھی آتش کو کچھ کہنے لگا تھا۔ ۔”جب اقدس درمیان میں بول پڑی

“تصویر میں دیکھا تھا تمہارے سامنے۔ ۔”آتش نے یاد کروایا تو اقدس خاموش ہوگئ

“کھڑے کیوں ہو؟ “آؤ بیٹھو۔۔”سوہان نے کب سے اُس کو کھڑا دیکھا تو بیٹھنے کا کہا

“شکریہ۔ ۔آتش مسکرایا اور اپنی آئبرو کو انگھوٹے کی مدد سے مسلتا وہ بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ تلاش کرنے لگا جو اُس کو اپنے لائق نظر نہ آئی

“لگتا ہے چڑیلوں اور جنات نے آکر یہاں کملی کملی ڈانس کیا ہے۔ ۔”تین چار صوفو کو اُلٹا گِرا دیکھ کر آتش نے کہا تو ہر کوئی اپنی جگہ پہلو بدلتہ رہ گیا تھا

“ارے نہیں عیشو ٹیشو نے مُنی بدنام ہوئی گانے پر ڈانس کیا ہے۔ ۔”رایان سکندر کی مدد سے صوفو کو سیدھا کرتا آتش کو بتانے لگا

“ایسی کوئی بات نہیں اِس نے ڈسکو دیوانے پر ڈانس کیا ہے۔ ۔”اور جب یہ ڈانس کرتا ہے تو یہ خود میں نہیں رہتا۔ ۔”فرش سے کشن اُٹھاتی عیشا خونخوار نظروں سے رایان کو دیکھ کر بتایا

“آپ دونوں کے بالوں کو دیکھ کر لگ رہا ہے جیسے کرنٹ لگایا ہوا ہے کسی نے۔ ۔”فاحا کے اِشارے پر ایک جگہ بیٹھتا آتش بولا تو عیشا نے جلدی سے اپنے بالوں کو ہاتھوں سے سنوارا

“تم تیار ہوجاؤ ہم نے جانا ہے۔۔”اقدس کو ایک جگہ جم کے کھڑا دیکھ کر آتش نے کہا

“اِتنی جلدی؟”رات کا کھانا کھاکر جائیے گا۔۔”فاحا نے اُس کی بات سن کر کہا تب تک زوہان بھی ہال میں آگیا تھا جہاں اسیر کے علاوہ ہر کوئی موجود تھا

“رستہ لمبا ہے جلدی نکلے گے تو ہی جلدی شہر پُہنچ پائے گے۔۔”کھانا اِن شاءاللہ اگلی بار۔۔”آتش نے سہولت سے انکار کیا

“آپ کو بھوک لگی ہوگی؟”زوہان نے اقدس کو دیکھ کر کہا جس کا جانے کی بات پر موڈ آف ہوگیا تھا

“نہیں زوجہ کو بھوک نہیں لگی۔۔”اگر تمہیں لگی ہے تو تم کھانا کھالوں۔۔”جواب اقدس کے بجائے آتش نے دیا تھا

“آپ کو کیسا پتا چلا؟”کہ اِن کو بھوک نہیں ہلانکہ اِن کے چہرے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہنگری ہیں۔۔”دراصل آپ کو نہیں پتا ہوگا اِن کو بھوک بہت جلدی لگتی ہے۔۔”زوہان آج جانے کس چیز کا بدلا لے رہا تھا اُس سے

“ہاں واقعی ہانی بھائی نے بجا فرمایا۔۔”ماہا بھی ہال میں ایک جگہ بیٹھتی زوہان کی بات سے اتفاق کرتی بولی تو زوہان مسکرایا

“تمہارا رشتہ طے ہوگیا؟”آتش کو اب خیال آیا تو پوچھا جس پر ماہا نے دُنیا جہاں کی معصومیت چہرے پر سجاکر معصومانہ انداز میں اپنا سر نفی میں ہلایا

“نہیں ہوا کیوں؟”آتش کو حیرت ہوئی

“اِس کی چال میں اکیس بیس کا فرق ہے۔ ۔”یہ بات اِس کے ناہونے والے شوہر کو پتا لگی تو اُس کو مرگی کا دورہ پڑگیا۔ “تبھی رشتہ طے نہ ہوپایا۔ ۔”جواب ماہا کے بجائے سکندر نے دیا تو سب نے اپنی مسکراہٹ دبائی

“کیا واقعی میں؟ “آتش کو یقین نہ آیا

“ایسا کچھ نہیں بس اِن کو عادت ہے بکواس کرنے کی۔۔”ماہا نے بغیر لحاظ کیے کہا تو سکندر نے غُصے میں اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے بھینچ لیا تھا

“ماہی۔۔۔”فاحا نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا۔ ۔”وہ تو پہلے ہی آتش کے سامنے شرمندہ تھی۔۔”جیسا ہال کا حشر تھا۔ ۔”اور اب یوں اُس کے سامنے ماہا کا ایسے بات کرنا اُس کو مزید شرمندہ کرگیا تھا

“ویسے آپ کے اپنے گھر میں رشتے ہیں وہ بھی قریب تو باہر رشتہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ “آتش باری باری “زوہان” رایان” سکندر اِن تینوں کو دیکھ کر بولا تو فاحا خاموش ہوگئ تھی۔ ۔”چاہا تو اُس نے بھی یہی تھا۔ ۔”پر رایان کا کسی اور لڑکی میں انٹرسٹ اور زوہان کا یہ کہنا کہ ماہا اُس کی بہنوں جیسی ہے۔ ۔”اُس پر وہ خاموش ہوگئ تھی۔ ۔”جبکہ سکندر کے لیے اسیر نہیں مانا تھا۔۔”چاہے وہ اُس کی لاڈلی بہن کا بیٹا اور اُس کا لاڈلا بھانجا تھا لیکن اُس کے باوجود اُس نے ماہا کا جوڑ اُس کے ساتھ نہیں سوچا کیونکہ وجہ تھی اُس کا سنگنگ میں ہونا۔ ۔”یہ ایک بڑی وجہ تھی جس سے اسیر نے منع کردیا تھا اور اُس کو خاندان سے باہر رشتہ تلاش کرنے کا کہا تھا۔

“قریب کی نظر خراب ہے ہماری۔۔”زوہان نے مسکراکر اُس کو بتایا

“خیریت ہے؟ “یہ آج تم سب کو کیا ہوگیا ہے؟ “اور ہانی یو آلرائٹ؟ “ٹون دیکھو اپنی یہ کیسے بات کررہے ہو تم؟ “اِن دونوں نے ہال کا نقشہ بدل دیا۔ ۔”اور تمہاری پھر سکندر کی بدتمیزیاں عروج پر ہیں۔۔”سوہان جو اب تک خاموش تھی اُس نے زوہان کے طنزیہ لہجے کو محسوس کیا تو سخت نظروں سے اُن کو دیکھ کر کہا تو وہ چاروں اپنا سرجُھکا گئے تھے۔ ۔”جس پر آتش کے چہرے پر محفوظ کن مسکراہٹ نے احاطہ کرلیا تھا

“خالہ کیا ہوگیا ہے؟ “آلرائٹ کوئی بڑی بات نہیں ویسے بھی آتش اب اِس فیملی کا حصہ ہے تو یہ لوگ اُس کے ساتھ ہنسی مذاق کرسکتے ہیں۔ “اقدس کو اُن چاروں کی اُتری ہوئی شکل دیکھ کر بُرا محسوس ہوا تبھی کہا۔۔”جس پر سوہان نے گہری سانس بھر کر خود کو پرسکون کیا تھا

“آپ کچھ لینگے؟ “المان نے آتش کو دیکھ کر پوچھا جو ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے رلیکس انداز میں بیٹھا ہوا تھا

“پانی چاہیے تھا۔ ۔”آتش نے کہا تو فاحا نے پاس گُزرتی ہلپر کو آتش کے لیے جوس اور پانی لانے کو کہا

“سب لوگ آجاؤ آریان کی کالز آرہی ہیں۔۔”میشا نے کچھ توقع بعد اُن سب کو دیکھ کر کہا تو ہر کوئی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا جبکہ زوہان آتش کے قریب آیا تھا

“اگر آپ کو میری کوئی بات بُری لگی ہو تو اُس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔۔”آپ کا جیلس ہونا اچھا لگا تھا تبھی چڑایا ورنہ میرا مقصد کچھ اور نہ تھا۔۔”زوہان نے کہا تو آتش مُسکرایا

“اِٹس اوکے لیکن میں جیلس نہیں ہوا تھا۔۔”آتش نے اُس کے بال بگاڑ کر کہا

“ریئلی؟”اپنی بائیں آئبرو کو اُپر کیے زوہان نے پوچھا

“ریئلی۔۔”آتش نے اپنا سراثبات میں ہلایا تو زوہان مسکراکر اپنا سر نفی میں ہلا گیا

“آپ ہمیں گیٹ تک چھوڑنے آئے گی نہ؟چور نگاہوں سے آتش کو دیکھتا وہ اقدس سے بولا تو آتش کے چہرے کی رنگت پل بھر میں بدلی تھی

“ہاں کیوں نہیں۔۔”اقدس نے مسکراکر اُس کا گال کھینچ کر کہا تو آتش نے لب سختی سے بھینچ لیے تھے

“اپنی چادر پہنو اور چلو دیر ہورہی ہے۔۔”آتش اپنی جگہ سے اُٹھتا اقدس کو تنبیہہ کرتی نظروں سے دیکھ کر بولا

“لیکن خالہ

“چادر۔۔۔۔۔”اقدس کو کچھ کہنے لگی تھی لیکن وہ اُس کی بات کو درمیان میں کاٹ کر سنجیدگی سے اپنی بات پر زور دیتے بولا تو اقدس خاموشی سے اُپر کی طرف بڑھ گئ تھی

“کیا ہوا؟”زوہان کے مصنوعی حیرانگی سے آتش کو دیکھا جو اضطراب میں مبتلا ہوتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا

“کچھ نہیں۔۔”آتش نے اُس کو دیکھنے سے گریز کیا

“وہ ہمیشہ ہم سب کو چھوڑنے باہر تک آتیں ہیں۔۔”اور آج آپ نے اِس قدر سختی سے اُن کو مُخاطب کیا ہلانکہ ایسا کسی نے بھی نہیں کیا۔۔”پہلے کی نسبت زوہان کا لہجہ قدرے سنجیدہ تھا

“وہ چھوڑنے کیوں آئے؟”تم لوگ چھوٹے بچے ہو کیا؟”ویسے بھی وہ میری زوجہ ہے میں جیسے چاہوں اُس سے بات کرسکتا ہوں۔۔”آتش کا لہجہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا۔۔”اور زوہان کو یقین نہ آیا کہ وہ اِتنی سی بات پر ایسا ری ایکٹ کررہا تھا

“ہمارا اُن پر اور اُن کا ہم پر کوئی حق ہے۔۔”زوہان نے جتایا

“حق تھا۔۔”لیکن اب وہ مجھ سے منسوب ہوگئ ہے۔۔”وہ میری زوجہ ہے۔۔”نکاح کے بعد سارے حقوق اُس کے میرے نام ہوگئے ہیں۔۔”پہلے جو کچھ جیسا بھی تھا اُس کو بھول جاؤ بس یہ یاد رکھو کہ وہ اب آتش لُغاری کی بیوی ہے۔۔”اور آتش لُغاری کے نام سے جو کوئی ایک بار منسوب ہوجائے اُس کے بعد وہ اُس کو کسی اور کے آس پاس برداشت نہیں کرسکتا۔۔”آتش اُس کی نیلی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا اُس کو بہت کچھ باور کرواگیا تھا

“آپ کی پوزیسیونس جان کر اچھا لگا لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہوا کہ اب آپ اُن کو ہم سے دور رکھے گے۔۔”زوہان کو اُس کا یوں حق جتانا سمجھ میں نہیں آیا تھا۔۔”وہ جانتا تھا آتش اُس کا شوہر ہے لیکن اُن کے ساتھ بھی اُس کا کوئی رشتہ تھا۔۔”جس کو آتش سِرے سے نظرانداز کرتا بس اقدس کو اپنی ملکیت قرار دے گیا تھا

“عادت سے مجبور ہوں۔۔”میں بس یہ چاہتا ہوں کہ اُس کی ساری توجہ کا مرکز میری ذات ہو۔۔”آتش اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا تو جواب میں ابھی زوہان کچھ کہتا اُس سے پہلے اقدس بڑی سی چادر اوڑھ کر واپس آئی تو وہ بس خاموش سا باہر کی طرف بڑھ گیا تھا

“آپ نے ہانی سے کچھ کہا کیا؟”آتش کے سامنے کھڑی ہوتی وہ اُس سے سوال گو ہوئی

“یاد ہے؟”میں نے تمہیں ایک چادر دلوائی تھی وہ کہاں ہے؟”آتش نے جیسے اُس کی بات کوئی سُنی ہی نہ تھی

“یہ ہمارے سوال کا جواب نہیں۔۔”اقدس نے سنجیدگی سے کہا

“میں نے تمہارے پیارے ہانی بانی کو کچھ بھی نہیں کہا۔۔”آتش نے سرجھٹک کر اُس کو دیکھ کر بتایا

“آپ کی زبان بریک لیس چیز ہے۔۔”ضرور آپ کی زبان نے کوئی جوہر دِکھائے ہوگے تبھی وہ ہمیں آج بغیر “خُدا حافظ بولے چلاگیا ورنہ آج سے پہلے اُس نے ایسا کبھی نہیں کیا۔۔”اقدس کو اُس پر رتی برابر بھی یقین نہ تھا

“مجھے تمہارے اور اپنے درمیان کسی تیسرے کا نام برداشت نہیں۔”اور اُس نیلی آنکھوں والوں کا نام میرے سامنے نہ لو تو اچھا ہے مجھے بلکل نہیں پسند وہ۔۔”آتش نے سنجیدگی سے کہہ کر جیسے بات ختم کرنے کی کوشش کی

“وہ ہمارا کزن ہے آتش اُس کو اپنے ہاتھوں میں کِھلایا ہے۔ ۔”اقدس نے جواباً سنجیدگی سے کہا تو آتش چونک پڑا

“اِتنے بڑے کو تم نے اپنے ہاتھوں میں کِھلایا ہے؟ “آتش نے اُس کو گھورا

“سات سال چھوٹا ہے۔ ۔’اب ماشااللہ سے قد کاٹھ میں ہم سے بڑا لگتا ہے لیکن وہ ہمارے لیے ابھی تک ہمارا چھوٹا ہانی ہے اور ہم اُس کی اقدس آپو۔۔”جس سے وہ اپنے دل کی ہر بات بلاجھجھک کہہ دیتا ہے۔ ۔”وہ ہمیں اپنی بڑی بہن سمجھتا ہے اور ویسی عزت دیتا ہے اور احترام کرتا ہے۔ ۔”اقدس کو آتش کی باتوں سے تکلیف ہوئی تھی تبھی بولتی گئ تو آتش گومگو کی کیفیت میں بس اُس کا چہرہ تکنے لگا تھا۔ ۔”اُس کو احساس ہوا جیسے وہ کچھ زیادہ اوور ری ایکٹ کرگیا تھا

“ہاں تو سہی ہے بھائی نہیں ہے وہ تمہارا جسٹ بھائیوں جیسا ہے۔ ۔”اور میں تمہارا کلوز ہونا اِتنا تمہارے اپنے سگے بھائی سے بھی برداشت نہیں کروں گا۔ ۔”اب چلو یہاں سے۔ ۔۔۔”آتش خود کو کمپوز کرتا اُس سے بولا تو اقدس اپنا سر نفی میں ہلانے لگی۔ ۔”مجال تھا جو وہ اپنی حرکتوں پر پیشمان ہوکر ایک لفظ سوری کا بول دیتا۔ ۔۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔”رافیہ بیگم نے عفان کو دیکھ کر کہا جو آج اُن کی طرف آیا ہوا تھا

“میں یہاں کیوں نہ آتا؟”یہاں میری منکوحہ رہتی ہے۔۔”عفان اُن کی بات کے جواب میں بولا تو وہ کچھ وقت تک بول نہ پائی تھیں

“شاید تمہیں یاد نہیں اُس منکوحہ سے تم انکاری تھے۔۔”رافیہ بیگم ایک خیال کے تحت اُس کو دیکھ کر بولی

“انکاری کبھی نہیں تھا۔۔”جس طرح سب اچانک سے ہوا اُس پر حیران تھا۔۔”مجھے اِس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تھوڑا وقت چاہیے تھا۔۔”اور آپ لوگوں نے تو لمبا انتظار میرا مقدر بنادیا۔۔”عفان اُن کی بات پر سنجیدگی سے بولا

“ہم نے کچھ نہیں تھا کیا بیٹا۔۔”تم نے تو اُس وقت پل بھر میں اپنا فیصلہ سُنا ڈالا تھا۔۔”ایسے میں ہمیں جو بہتر لگا وہ ہم نے کیا۔۔”رافیہ بیگم نے کہا

“ٹھیک ہے جو ہوگیا اُس کو ڈسکس نہیں کرتے۔۔”میں بس چاہتا ہوں آپ خوریہ کو میرے ساتھ رُخصت کریں۔۔”عفان نے بے لچک انداز میں کہا

“تمہارے ساتھ رُخصت؟”رافیہ بیگم حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی

“میں نے کوئی انوکھی بات نہیں کی۔۔”ظاہر سی بات ہے نکاح کے بعد رُخصتی ہوتی ہے نہ؟”عفان کو اُن کا اِس طرح حیران ہونا سمجھ میں نہیں آیا

“جانتی ہوں۔۔”پر وہ اِن چیزوں کے لیے رضامند نہیں۔۔”رافیہ بیگم نے بتایا

“اگر وہ راضی نہیں تو آپ کریں۔۔”آپ اُس کی ماں ہیں۔۔”مل بیٹھ کر سمجھائیے گی تو وہ آپ کی بات سے انحراف کبھی نہیں کرے گی۔۔”پر اگر آپ بھی اُس کی طرح چاہتی ہیں کہ میں طلاق دوں تو سوری۔۔”میں اُن کو طلاق کبھی نہیں دوں گا۔۔”عفان حتمی لہجے میں بولا

عفان کوئی ماں ایسا کبھی نہیں چاہے گی کہ اُس کی بیٹی کو طلاق ہو۔۔”رافیہ بیگم نے کہا تو وہ مسکرایا

“آنٹی میں اسلام آباد جانے کے لیے ایک دو دن میں نکلوں گا۔۔”اور میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ بھی میرے ساتھ چلے۔۔”اُن کی بات پر عفان نے کافی سیریس ہوکر ٹھیرے ہوئے لہجے میں اُن سے کہا۔۔”آج اُس کا لب ولہجہ قدرے مختلف تھا

“مجھے پہلے خوریہ سے بات کرنی ہے عفان۔۔”ویسے بھی ہماری رہائش اب یہی ہوگی۔۔”ہم اب کبھی دوبارہ اسلام آباد نہیں جائے گے۔۔۔رافیہ بیگم نے کہا

“آپ کو اسلام آباد آنا ہوگا۔۔”آپ لوگوں کا اپنا شہر وہ ہے۔۔”آپ حوریہ اور خوریہ دونوں کو یہ بات سمجھادے۔۔”بہت رہ لیا یہاں۔۔”عفان نے نرمی سے کہا

“میرے اختیار میں نہیں ہے بیٹا۔۔”حور اور خوریہ کبھی نہیں مانے گی۔۔”رافیہ بیگم نے اُس کو سمجھانا چاہا

“یقین کریں سب آپ کے اختیار میں ہیں۔۔”یہاں اُن کو آپ لائیں تھیں۔۔”وہ آپ کو نہیں تھیں لائیں۔۔”تو دوبارہ اسلام آباد آنے کا بھی آپ کہیں گی تو وہ آجائیں گیں۔۔”عفان نے جیسے بات ہی ختم کرڈالی تھی۔

“وہ دونوں گھر نہیں۔۔”آئے تو اُن سے بات کروں گی میں۔۔”رافیہ بیگم کچھ سوچ کر بولی

“صرف بات نہیں کرنی۔۔”اُن کو منانا بھی ہے۔۔”ٹکٹس بھی میں بُک کروالوں گا آپ چاروں کی۔۔”ورنہ خوریہ اکیلی کی تو لازمی۔”عفان نے اپنی بات پر زور دیا تو رافیہ بیگم گہری سانس بھرتی رہ گئیں۔۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“آپ کے لیے کال ہے ایک۔۔۔”آتش آج کی کانفرنس کے لیے آفاق لُغاری کی دی ہوئی اسپیچ کو دیکھ کر جمائیاں لے رہا تھا جب اُس کے پرسنل اسسٹنٹ نے آکر اُس کو بتایا

“کس کی کال ہے؟”آتش نے بیزاری سے اُن پیپرز کو خود سے کرکے پوچھا

“دوسری پارٹی سے کال ہے۔۔”اُس نے بتایا

“آن کرو میرا دماغ خراب ہوگیا ہے اِس اسپیچ کو یعنی اب یہ دن آگئے ہیں کہ آتش لُغاری مہذبانہ انداز میں گفتگو کرے گا۔۔”جیسے ڈیڈ کو میری نیچر کا پتا نہیں کہ میں ہر بات منہ پر مارنے والا شخص ہوں۔۔”عاجزی میری شخصیت کا خاصا نہیں۔۔”سخت تپے ہوئے انداز میں کہتا وہ اپنی کنپٹی پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔

“کیسے ہو آتش لُغاری؟”اُس کے اسسٹنٹ نے کال ریسیو کی تو دوسری طرف سے پوچھا گیا

“خاص یہ پوچھنے کے لیے تو کال کی ہوگی نہیں۔۔”اِس لیے میرا وقت ضائع کرنے کے بجائے مدعے کی بات پر آؤ۔۔”رہی بات میں کیسا ہوں تو دس منٹ بعد گھر کی ٹی وی آن کرلینا لگ جائے گا پتا کہ میں کیسا ہوں؟”کہاں؟”اور کیا کررہا ہوں۔۔”آتش نے اُس کی بات کے جواب کے علاوہ ہر بات کردی

“اچھا کیا کررہے ہو؟”دوسری طرف چونکتی ہوئی آواز اُس کے کانوں پر پڑی تو وہ اکتاہٹ کا شکار ہوتا اپنے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھنے لگا

“تمہاری ماں کے ساتھ ڈیٹ پر آیا ہوں۔۔”اگر اعتراض نہ ہو تو کال کٹ کرو اب ہمیں پروائیویسی چاہیے”پتا چلا ہے کہ تم کافی لونلی لونلی فیل کرنے لگے ہو تو سوچا کیوں نہ تمہارے لیے بھائی بہن کا انتظام کرلیا جائے۔۔”آتش نے جلے کٹے انداز میں کہہ کر دوسری طرف موجود شخص کا خون آدھا جلا ڈالا تھا

“مسٹر آتش لُغاری اپنی زبان کو سنبھال کر بات کرو۔۔””ورنہ وہاں ماروں گا جہاں پانی کو بھی ترسو گے۔۔وہ بھڑک کر دھمکی آمیز لہجے میں اُس سے بولا

“میری زبان سنبھالی ہوئی ہے۔۔”تم نے اگر بکواس بند کرلی تو میں کال بند کروں؟”آتش نے بڑے تحمل کا مُظاہرہ کیا

“سُنا ہے تمہاری بیوی گھر پر اکیلی ہے؟”دوسری طرف سے جو کہا گیا اُس پر آتش کے چہرے کے تاثرات یکدم بدلے تھے۔۔”ہاتھ کی مٹھی کو اِتنا سختی سے بھینچ لیا تھا کہ رگیں تک اُبھر کر ظاہر ہونے لگیں تھیں

“اب تو میری بیوی کا ذکر کرلیا۔۔”اگلی بار یا دوبارہ اپنی ناپاک زبان سے میری بیوی کا نام لیا نہ تو منہ تو رہے گا لیکن زبان نہیں رہے گی۔۔”آتش نے چبا چبا کر لفظ ادا کیا تو اُس انسان کا قہقہقہ گونجا تھا

“تو کیا میری گدی سے زبان کھینچ لو گے؟”اُس نے پوچھا

“آ نہیں میں تو غریب مسکین سا آدمی ہوں۔۔”میری سوچ یا کام اِتنے پُہنچے ہوئے کہا میں تو بس تمہاری زبان کو کاٹ کر اُس کا تمہیں ڈنر کرواؤں گا پھر بتانا کہ تمہاری اُس زبان کا ٹیسٹ تمہیں کیسے لگا؟”کیونکہ تھوڑی زبان میں تمہارے منہ میں رہنے دوں گا۔۔”اور جسٹ امیجن کرو تم توتلا بولتے ہوئے کیسے لگوں گے؟”مجھے تو سوچتے ہوئے بھی گُدگُدی سے آرہی ہے۔۔”پاؤں ٹیبل پر آرام سے پھیلائے رکھ کر آتش نے آگ اور پیٹرول کا کام بخوبی انجام دیا تھا

“میں جو تُجھے بتاؤں گا نہ کہ تیری بی

“کہاں نہ میری زوجہ کا ذکر اپنے منہ سے مت نکالنا کیوں اپنی موت کو دعوت دے رہا تھا؟۔۔”آتش نے اُس کی بات کو درمیاں میں کاٹ کر سخت لہجے میں کہا

“اُففففف آتش لُغاری دا کول پرسن کو غُصہ آگیا۔۔۔”اب لگے نہ پُرانے والے آتش۔۔وہ ہنستا ہوا بولا

“تیرے لیے تو میں ابھی تک وہی ہوں ایک بار سامنے آ اگر پھر تیرے جسم کی ایک بھی ہڈی سلامت رہی نہ تو پھر کہنا کہ میں کول پرسن ہوں یا کوئی اور۔۔”آتش نے دبے دبے لہجے میں اُس کو وارننگ دی تھی

“تیری بات کہ دس منٹ میں مجھے پتا چلے گا کہ توں کہاں؟”کیا کررہا ہے؟۔۔اور کون

“کہا نہ تیری ماں کے ساتھ ڈیٹ پر آیا ہوں سمجھ میں نہیں آتی بات؟”آتش نے اُس کا خون جلانا ضروری سمجھا

“تیری بات میں ابھی پانچ بچے ہیں ابھی تو ٹی وی آن کر پتا چلے گا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے۔۔”دوسری طرف سے اِس بار اُس کی بات کو اگنور کیے کہا گیا تو ابھی آتش کسی کو ٹی وی آن کرنے کا کہتا اُس سے پہلے اُس کے اسسٹنٹ کے سیل پر آفاق لُغاری کی کال آئی تھی

“سر وہ

“اُس کے کچھ کہنے سے پہلے آتش اُس کا سیل پکڑتا اسکرین کی طرف دیکھتا کال پِک کرگیا تھا

“ہیلو ڈیڈ آر یو فائن؟”آتش سیل فون کان سے لگاتا اُن سے پوچھنے لگا

“میں ٹھیک ہوں اچھا ہوا توں اور ایش گھر پر نہیں ہے۔۔”پتا نہیں یہ سب کیسے ہوگیا۔۔”دوسری طرف آفاق لُغاری کی بات سن کر آتش آلرٹ ہوا

“کیا ہوا ہے؟”مجھے جلدی سے بتائے؟”آتش تیز آواز میں اُن سے بولا

“گھر کو جانے کیسے آگ لگ گئ ہے؟”لیکن فائر بریگیڈ والوں کو کال کردی ہے۔۔”سب ٹھیک ہوجائے گا اور

“اور آفاق لُغاری جانے کیا کچھ بول رہے تھے۔۔”لیکن آتش اب کچھ اور سُننے کی صلاحیت سے مفلوج ہوچُکا تھا۔۔”وہ اُن کی کوئی اور بات سُن اور سمجھ رہا کب تھا؟”وہ تو سیل فون کو دور اُچھالتا حواس باختہ ہوکر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔

“سر کانفرنس پر جانا ہے۔”اُس کے اسسٹنٹ نے کچھ کہا تھا۔۔”پر آتش کو اپنے آس پاس دھماکے ہوتے محسوس ہورہے تھے۔۔”پارکنگ ایریا میں وہ جب آیا تو گارڈز اُس کے الرٹ ہوئے تھے۔۔”ڈرائیور نے اُس کے لیے دروازہ کھولا تو وہ اُس کو دور کرتا خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی۔۔۔”اپنے ماتھے پر آیا پسینا صاف کرتا وہ جلدی سے تیز رفتار گاڑی ڈرائیو کرنا شروع ہوچکا تھا۔۔”ایک ہاتھ سے گاڑی ڈرائیو کرتا دوسرا ہاتھ کبھی اپنے چہرے پر پھیرتا تو کبھی گردن پر۔۔

“وہ پاگلوں کی طرح گاڑی ڈرائیو کررہا تھا۔۔”اُس کے ہاتھ زندگی میں پہلی بار کانپ رہے تھے۔”دل بند ہونے کے در پہ تھا۔۔”جانے کیسا احساس تھا جس نے اُس کو یوں حواس باختہ کرلیا تھا۔ “حیرت انگیز بات تھی۔۔”آج آتش لُغاری ڈر رہا تھا۔۔”زندگی میں پہلی بار آتش لُغاری کو ڈر لگ رہا تھا۔۔”کسی اپنے کو کھونے کا احساس اُس کو ہونے لگا تھا۔۔”اور شدت سے محسوس ہورہا تھا۔۔”اُس کو محسوس ہوا جیسے آنکھوں میں ہلکی نمی اُترنے لگی ہے۔۔”پر اُس نے اُس نمی کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش نہ کی تھی بلکہ باہر آنے کا راستہ دیا تھا۔۔”اُس نے زور سے ہارن دیا۔۔”اُس کے اختیار میں نہ تھا ورنہ وہ بھاگ کر اپنے گھر جاتا

“زوجہ”

اُس کے لب ہلکے سے ہلے تھے۔۔

“اُس پر ایک انکشاف ہوا جس لڑکی سے ایڈوینچر کے طور پر اُس نے شادی کرنے کا سوچا تھا۔۔”وہ لڑکی پل بھر میں اُس کو گُھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتی ہے۔۔”کسی سے نہ ہارنے والا آتش لُغاری اگر کسی سے خوشی خوشی ہار سکتا تھا تو وہ تھی اُس کی زوجہ۔۔”اُس کی وہ زوجہ جس کا احترام شاید اُس کے دل میں اِتنا تھا کہ وہ اُس کا نام بھی نہیں لیتا تھا۔۔”یا بات بس احترام تک محدود نہ رہی تھی۔۔”کچھ اور منازلیں بھی چھو چُکیں تھیں۔۔

“پھر بلآخر دھول اُڑاتی گاڑی اُس کے گھر کے پاس رُکی تھی۔۔”جس کا دروازہ بند کیے بغیر وہ تیزی سے اُترا تو گھر کے باہر لوگوں کا جم و غفیر دیکھ کر اُس نے بالوں کو مُٹھی میں جکڑا تھا۔۔”ایمبولنس کی آواز کسی ہتھوڑے کی طرح اُس کے کانوں میں بج رہی تھی۔ “پر وہ اُس کو اُن آوازوں پر دھیان نہیں تھا دینا۔۔”اور نہ وہاں موجودہ بھیڑ سے اُس کا کوئی لینا دینا تھا۔۔”اُس کو تو بس اندر جانا تھا اپنی زوجہ”اپنی اقدس کے پاس جو گھر میں اکیلی تھی جس کو وہ اکیلا چھوڑ کر خود باہر نکل گیا تھا۔۔”لوگوں کی بھیڑ کو چیرتا وہ کچھ آگے آیا تو اپنے گھر سے آگ کے شعلوں کو بھڑکتا ہوا دیکھ کر ایک پل کو آتش لڑکھڑایا تھا۔۔”لیکن اپنی تمام سوچو کو جھٹکتا وہ اندر کی طرف بھاگ کر جانے لگا تو اُس کے بیچ میں ہی پولیس اہلکاروں نے روک لیا تھا.

“چھوڑو مجھے۔۔”آتش اُن سب کی گرفت میں جھٹپٹایا تھا

“سر ہم اپنا کام کررہے ہیں۔۔”آپ اندر نہیں جاسکتے آگ بہت بُری طرح سے لگی ہوئی ہے۔۔”ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔۔”ایک پولیس آفیسر نے اُس سے کہا تو آتش نے اُس کو گردن سے دبوچا تھا۔۔”گردن کی ہڈی کو دباتا وہ اُس کو مار ہی دیتا لیکن جلدی سے کچھ لوگوں نے اُس کو اُس پولیس آفیسر سے دور کیا

“چھوڑو مجھے اگر میری بیوی کو کچھ ہوا نہ تو میں تم سب کی اینٹ سے اینٹ بجا ڈالوں گا۔۔”آتش اُن سات آٹھ لوگوں کی گرفت میں چیخا تھا۔

“سر آپ ہوش سے کام لے فائر بریگیڈ والے بھی پُ

“بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہارے فائز بریگیڈ والے۔۔”اپنا بازوں اُن لوگوں کی گرفت سے آزاد کرواتا دو آفیسرز کا ایک دوسرے سے سر بُری طرح سے ٹکراتا اپنے آگے کھڑے اور آفیسر کے سینے پر لات مارتا وہ گھر کی طرف بڑھنے لگا تو اُس کا پوری چہرہ دھول ہوچکا تھا۔۔”ٹانگیں بے جان ہونے لگیں تھیں۔۔”اقدس کا سوچ سوچ کر وہ پاگل ہونے کے در پہ تھا۔۔”آج وہ اِتنا تڑپ رہا تھا کہ اپنا سر پیٹنے کے در پہ تھا۔۔”آج بغیر کوئی چال چلے وہ شکست حاصل کرچُکا تھا۔۔”ایک ایسی شکست جو پوری زندگی اُس کو یاد رہنی تھی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *