Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 14)

Salam Ishq by Rimsha Hussain
 

“سب ریڈی ہے؟میشا نے پاس کھڑے کانسٹیبل سے سوال کیا

“یس میڈم ہر چیز تیار ہے”بس جیسے ہی ٹرک آئے گی”ہم اُس کی تلاشی لینگے۔۔کانسٹیبل نے مثبت جواب دیا

“ہونہہ سہی ویسے یہی وہ راستہ ہے نہ جہاں سے اُنہوں نے ٹرک کو لیجانا ہے؟میشا نے کسی کے خیالات کے تحت پوچھا

“جی میڈم یہی وہ راستہ ہے ہمیں پکی خبر ملی ہے۔۔”اِس بار دوسرے کانسٹیبل نے جواب دیا تھا تبھی اُن کو سامنے ایک ٹرک آتا دِکھائیے دیا تھا۔۔”اور جیسے ہی وہ ٹرک اُن کے پاس سے گُزرنے لگا تو میشا نے اُس کو روک لیا تھا

“کام پر لگ جاؤ سارے۔۔میشا نے اپنے ساتھیوں سے کہا اور خود وہ ٹرک ڈرائیور کی طرف بڑھی

“جی کیا کام ہے؟ٹرک ڈرائیور ہراساں نظروں سے پولیس والوں کو دیکھنے لگا

“ہمیں خبر ملی ہے کہ تم اِس ٹرک پر ڈرگز کا سامان لیجانے والے ہو؟میشا نے اپنی پستول پر پھونک مار کر اُس سے سوال کیا”

“ااا ایسا تو کچھ نہیں؟”آپ چاہے تو تلاشی لے سکتی ہیں میں تو ایک غریب سا آدمی ہوں۔۔”محنت مزدوری کرتا ہوں۔۔ٹرک ڈرائیور جلدی سے بولا

“وہ ہوگی۔۔میشا اُس کو طنز نظروں سے دیکھتی اپنے ساتھیوں کی طرف بڑھی تھی

“کچھ ہاتھ آیا؟میشا نے اُن سے سوال کیا

“ٹرک کا نمبر وہی ہے لیکن یہ ٹرک تو بلکل خالی ہے۔۔کانسٹیبل نے بتایا تو میشا کو حیرت کا جھٹکا لگا”ایک دن میں اُس کو دو بار ناکامی کا سامنا ہوا تھا اور ایسا اُس کی زندگی میں پہلی بار ہوا تھا

“ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟میشا اُن کو سائیڈ پر کرتی خود چیک کرنے لگی لیکن اُس کو کچھ حاصل نہ ہوا”خالی ٹرک اُس کا منہ چُڑھا رہا تھا جس پر میشا نے غُصے میں آکر زوردار لات ٹرک کے ٹائیر پر ماری تھی

“ایسا کیسے ہوسکتا ہے اگر وہ ٹرک یہ نہیں تو کوئی کسی دوسرے راستے میں کہاں لے جاسکتا ہے؟میشا پریشان ہوئی تھی شاید پہلی بار

“میڈم لگتا ہے کسی نے ہمیں گمراہ کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے”ہمیں یہاں لگا کر خود وہ کسی خوفیہ جگہ سے نکل پڑا ہے۔۔اُس کے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا تو میشا نے گہری سانس بھر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی تھی۔

“جس نے بھی کیا ہے”اپنی موت کو خود دعوت دی ہے۔۔”اُس کی بات پر میشا آہستہ آواز میں بڑبڑائی تھی

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

“آپو آپ تیار ہو؟ماہا سفید فراق کے ساتھ سفید چوڑیدار پاجامے میں ملبوس”اپنے لمبے بالوں کی فرینچ چُٹیاں بنائے ڈوپٹہ اچھے سے سر پر ٹِکائے اقدس کے کمرے میں آتی چہک کر اُس سے پوچھنے لگی”جو خالی خالی نظروں سے آئینے میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی”اقدس خود کالے فراق میں ملبوس تھی جس کے ساتھ پاجامہ بلیک تھا”بالوں کی اُس نے چوٹی بناکر ایک کندھے پر ڈالی ہوئی تھی جبکہ میچنگ ڈوپٹہ اُس کا بیڈ پر پڑا تھا

“ہاں ہم تیار ہیں۔۔ڈریسنگ ٹیبل سے اپنی عینک اُٹھاتی اقدس نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا”ماہا مسکراکر اُس کے پیچھے کھڑی ہوتی اپنا چہرہ اُس کے کندھے پر ٹِکایا

“چاند کی چاندنی اُداس کیوں ہے؟ماہا نے آئینے میں اپنا اور اُس کا عکس دیکھ کر سوال کیا” وہ دونوں ایک جیسی تو تھیں” بس ماہا نے اپنے بابا سے ڈمپلز چُرائے تھے” اور یہ اقدس کو بھی تھے لیکن بس بائیں گال پر جو مشکل سے ہی کوئی دیکھ پاتا تھا کیونکہ وہ بہت کم مسکرایا کرتی تھی” اُس کے برعکس ماہا کے دونوں گالوں پر گہرے ڈمپلز نمودار ہوتے تھے

“ہم خوش ہیں۔ ۔اقدس نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی

“ماہا سے آپ جھوٹ نہیں بول سکتی” خیر آئے آپ کے ہونٹوں پر لپ اسٹک لگائے۔ ۔ماہا نے پرجوش آواز میں اُس سے کہا

“اِس کی ضرورت نہیں ہے ماہی تم بس یہ بتاؤ ہانی وغیرہ آئے ہیں؟اقدس نے منع کیا اُس کے بعد سوال کیا

“ابھی تو وہ نہیں آئے لیکن ماہا کی بات عیشو آپو سے ہوئی ہے اُنہوں نے بتایا کہ راستے میں ہیں۔۔ماہا نے جواب دیا

“اچھا سہی۔۔اقدس نے سراثبات میں ہلایا تو ماہا نے بیڈ پر پڑا اقدس کا ڈوپٹہ اُٹھایا اور اُس کے سر پہ اچھے سے اُوڑھایا

“آپ مایوس مت ہوا کریں” آپ بہت پریٹی ہو۔ ۔”آپ جیسا کوئی بھی نہیں اور اگر اِس بار بھی بات نہ بنے تو مایوس مت ہوئیے گا بس یہ سوچ کر مسکرائیے گا” کہ اِس دُنیا میں ایسا کوئی شخص ہے جو آپ کو اپنائے گا اور اِس کٹ کے ساتھ اپنائے گا۔ ۔”اُس کو آپ کی ظاہری خوبصورتی سے کوئی غرض نہیں ہوگا۔ ۔ماہا اُس کے گال کی سائیڈ پر اپنے لب رکھ کر گہرے لہجے میں بولی تو اقدس بس اُس کو خاموشی سے دیکھنے لگی جو کبھی کبھار اپنی عمر سے بہت زیادہ باتیں کرنے لگ پڑتیں تھی

“کیا تمہیں واقعی میں ایسا لگتا ہے۔ ۔اقدس نے غور سے اُس کا چہرہ دیکھا جو اُس کے ہاتھوں کی کلائی میں چوڑیاں ڈال رہی تھی

“ماہا کا دل بول رہا ہے ویسے بھی ماہا سچی اور کھری بات کرتی ہے” اگر کوئی مانے تو۔ ۔ماہا نے کہا تو اقدس نے اُس کے ماتھے پر ایک چپت لگائی

“تمہارا کالج کیسا جارہا ہے؟ اقدس نے بات کا رخ بدلا

“کالج نے کہاں جانا ہے؟ “وہ تو وہی ہے جہاں اُس نے ہونا ہے۔ ۔ماہا نے مسکراہٹ دبائے جواب دیا تو اقدس نے تاسف سے اُس کو دیکھا

“اِرادہ تمہارا اکنامکس اور فنانس میں ماسٹرز کرنے کا ہے اور کالج لفظ پر کیسے بات کو گھوما دیتی ہو۔ ۔اقدس نے اُس کا کان کھینچ کر کہا تو ماہا کِھکِھلائی تھی

❤

“سلام کرنا بھول گئے ہو کیا؟ اسیر اسکن کلر کے شلوار قمیض میں ملبوس ہال میں بیٹھا اخبار پڑھنے میں مصروف تھا جب اُس نے کڑکڑاتے کلف دار سفید گھیرادر شلوار اور سفید قمیض میں ملبوس سیاہ چمکتے ہوئے شوز چوڑی کلائی میں ایکسپینسو گھڑی سلیقے سے سیٹ کیے بال ہلکی شیو اور ہلکی مونچھیں۔۔”اپنے شاندار شخصیت کے مالک بیٹے کو سیدھا گُزرتے دیکھا تو اُس کو کہا جس پر المان نے رُک کر اپنے باپ کو دیکھا

السلام علیکم ۔۔المان نے سنجیدگی سے سلام کیا

وعلیکم السلام آؤ بیٹھو۔۔اخبار کو تہہ دے کر اسیر نے اُس کو بیٹھنے کا کہا

“ہمیں اپنے کمرے میں جانا ہے اگر آپ کو کوئی ضروری کام ہے تو بتائے۔۔المان نے وہی کھڑے ہوکر اُس سے کہا”اسیر سے بات کرتے ہوئے وہ اکثر”ہم”لفظ کا استعمال کیا کرتا تھا

“کیا کام ہے اپنے کمرے میں جبکہ تمہیں پتا ہے آج تمہاری بڑی بہن کو دیکھنے کچھ لوگ آرہے ہیں۔۔”اور شہر سے تمہارے کزنز کی پلٹن بھی۔۔اسیر نے سنجیدگی سے سوال کیا

“میں اسائمنٹ لکھنا ہے یونی کا۔۔المان نے محض اِتنا بتایا

“تمہارے اندر پڑھائی کا کتنا جذبہ ہے اُس سے ہم خوب واقفیت رکھتے ہیں”اِس لیے اپنا ڈرامہ بند کرو اور یہاں آکر بیٹھو ہمیں کچھ ضروری باتیں کرنی ہے۔۔اسیر نے اِس بار طنز لہجے میں کہا تو اپنے کان کی لو کُھجاتا المان آہستہ چلتا ہوا اُس کے پاس والے صوفے پر بیٹھ گیا”کیونکہ وہ جانتا تھا اُس کے یہ نخرے فاحا کے سامنے ہی چل سکتے تھے۔۔”اسیر کے سامنے نہیں

“ہم نے تمہیں ایک کام کہا تھا۔ ۔۔اسیر نے المان کو دیکھ کر کہا

“کونسا کام۔۔؟المان سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“ہم نے تم سے کہا تھا کہ تم نے وزیر اور ہادی کے ساتھ زمینوں پر جانا ہے تاکہ کام سیکھ پاؤ۔” پھر تم اُن دونوں کے ساتھ کیوں نہیں گئے؟اسیر نے تفصیل سے پوچھا تو المان کا منہ بن گیا تھا

“بابا جان ہمارا کوئی انٹرسٹ نہیں ہوتا اِن زمینوں کے کاموں میں۔۔”لہٰذا آپ یہ کام ہادی اور وزیز بھائی کو ہی سونپا کرے۔۔المان نے سرجھٹک کر کہا

“تمہارا انٹرسٹ ہے کس چیز میں؟اسیر نے اُس کو گھورا

“آپ کو پتا ہے۔۔المان نے محض اِتنا کہا

“تمہیں بھی پھر پتا ہونا چاہیے۔۔”کہ ہمیں تمہارا مراثی بننے میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے اپنی پڑھائی پر فوکس کرو اُس کے بعد گاؤں کے اگلے سردار تم نے ہونا ہے۔۔۔اسیر نے دو ٹوک انداز میں اُس سے کہا

“آپ ہم سے ہمارا خواب چِھین کر زیادتی کررہے ہیں۔۔المان نے احتجاجاً بولا

“اِس میں تمہارا بھلا ہے”آخر تمہیں یہ گانا گانے کا شوق پیدا کہاں سے ہوا۔۔؟”اب یہ رہ گیا تھا کہ ملک خاندان کا بیٹا مراثیوں میں جائے گا۔۔اسیر ناگوار لہجے میں بولا

“ایسی سوچ یہاں ہوتی ہے ورنہ کوئی بھی سِنگنگ کو ایسے نہیں سمجھتا یہ بھی ایک طرح کا پروفیشن ہے جہاں ہمیں جانا ہے آپ پرمیشن دے”تاکہ ہم لندن کے کسی ڈرامہ کلب میں جائے۔۔۔المان اپنی جگہ بضد تھا

“ہم تمہیں ایسی کوئی حماقت کرنے نہیں دینگے۔۔اسیر سنجیدگی سے بولا

“جانتا تھا۔”پر خیر ہم یہاں گاؤں کی مصیبتوں کو اپنے سر نہیں لینے والے”اگر یہ کسی کے سر ڈالنی ہے تو ہادی بھائی یا وزیر بھائی کے سر پر ڈالے لیکن ہمیں حاتم تائی کی قبر پر لات مارنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔۔”اور ہمیں نہ کافی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ نے کبھی ہمیں خوش ہونے نہیں دیا۔۔”آپ چاہتے ہی نہیں کہ ہم خوش ہو۔۔”آپ کی بس یہ خواہش ہے کہ ہر کوئی آپ کے اِشاروں پر ناچے۔المان اپنی جگہ سے اُٹھتا ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہتا وہاں رُکا نہیں تھا”پیچھے اُس کے ایسے انداز نے اسیر کو حیرت میں مبتلا کردیا تھا۔۔”جو بھی تھا اُس کو المان سے ایسی بدتمیزی کی توقع نہ تھی” دوسرا اُس کو یاد نہ آیا کہ کب اُس نے اپنے والدین کے ساتھ ایسی بدتمیزی کا مُظاہرہ کیا۔ ۔”وہ اپنے والدین کی غلط بات پر اعتراض ضرور اُٹھایا کرتا تھا پر جس انداز میں المان نے اُس سے بات کی تھی اُس پر اسیر کو یقین نہیں آرہا تھا

“سامنے سے ہٹو۔۔المان جو اپنے کمرے میں جانے والا تھا سامنے ماہا کو راستے میں کھڑا دیکھ کر سنجیدگی سے کہا

“یہ ابھی آپ نے بابا جان سے کیسے بات کی؟ماہا نے اُس کی بات کو اگنور کیا

“تم میری بڑی نہیں ہو۔۔”اور نہ میں تمہارے آگے جوابدے ہوں۔۔۔المان نے اُس کو گھور کر کہا

“ماہا کے آگے کسی کو جوابدے ہونے کی ضرورت ہے بھی نہیں۔۔”لیکن ابھی جس انداز میں آپ نے بابا جان سے بات کری ہے نہ اُس کے جوابدے آپ اللہ کی بارگاہ میں ضرور ہوگے۔۔”سنگنگ کرنا آپ کے لیے ضروری ہوگا لیکن اُس کو اِتنا بھی ضروری نہ بنائے جو بات کرتے ہوئے آپ یہ تک فراموش کرجائے کہ سامنے والا آپ کی عمر کا نہیں بلکہ آپ کا باپ کھڑا ہے۔۔ماہا اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہتی چلی گئ تھی۔۔”پیچھے المان جانے کتنے وقت تک اُس کی بات کے بارے میں سوچنے لگ پڑا تھا۔۔”لیکن پھر سرجھٹک کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا

💮

“اچھا ہوتا جو مان بھائی بابا جان کے جیسی شکل کے بجائے اُن کے جیسا اخلاق پالتے۔۔۔اقدس کے کمرے میں واپس آتی ماہا بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی

“کیوں کیا ہوا؟اقدس نے چونک کر سوال کیا

“بابا جان سے آج بہت بُرے انداز میں بات کی ہے مان بھائی نے۔۔”ماہا کو یہ بات قطعیً پسند نہیں آئی۔۔”پر جانے کیوں بابا جان خاموش رہے اُن کو لگانا چاہیے تھا کان کے نیچے زور سے ایک تھپڑ۔۔”جیسے میشو خالہ جان عیشو آپو کی چپل سے چھترول کرتیں ہیں ٹھیک ویسے۔۔۔ماہا نے کہا تو اقدس نے گہری سانس بھری

“مان نے کیوں کیا ایسا کچھ پتا چلا؟اقدس نے محض اِتنا پوچھا

“بل نمودار تو اُن کے ایک بات کی وجہ سے ہوتے ہیں۔۔’جس وجہ سے وہ سیدھے منہ کسی سے بات تک نہیں کرتے۔۔ماہا خاصی تپی ہوئی تھی اور اُس کو ایسے دیکھ کر اقدس مسکرائے بنا نہ رہ پائی تھی۔

“تم کیوں غُصہ کرکے اپنی ننہی جان ہلکان کیے جارہی ہو؟اقدس اُٹھ کر اُس کے پاس آئی تو ماہا نے اپنا چہرہ دوسری طرف کیا

“ماہی کیا ہوا میری جان؟اقدس نے اُس کا چہرہ اپنی طرف کیا

“آپ مان بھائی کے کان کھینچے اور اُن سے کہے کہ بابا جان سے سورے کرے۔۔”ماہا اُن کے کان کھینچ نہیں سکتی پر یہ کام آپ کرسکتی ہو۔۔”اور آپ کو کرنا ہوگا۔۔ماہا نے ضدی لہجے میں اُس سے کہا

“اچھا ہم کھینچے گے اُس کے کان۔۔”تم اپنا موڈ سہی کرو۔۔اقدس نے اُس کو پچکارا تو ماہا نے مسکراکر سر کو جنبش دی

“اچھا سُنو یہ تم نے آج لینز کیوں لگائے ہیں؟اقدس نے اب غور سے اُس کی آنکھوں کو دیکھا تو سوال کیا

“ویسے ہی ماہا کا دل چاہا۔۔ماہا نے بتایا جبھی وہاں فاحا آئی تھی

“تم دونوں تیار ہونہ مہمان پہنچ گئے ہیں۔۔”اور ماہی تم میرے ساتھ آؤ۔۔۔۔”عیشو والے بھی پہنچ گئے ہیں۔۔فاحا نے دونوں کو دیکھ کر کہا تو ماہا پرجوش سی اُٹھ کھڑی ہوئی

“ماہا اُن سب سے مل کر آتی ہے۔۔ماہا پرجوش انداز میں کہتی باہر کو بھاگی تھی جس پر فاحا نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا اور چلتی ہوئی اقدس کے پاس آئی

“اقدس کیا ہوا ہے؟فاحا نے مسکراکر اُس کو دیکھ کر پوچھا

“ہم کنفیوز ہیں تھوڑے۔۔اقدس نے ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں مڑور کر بتایا

“کنفیوز کیوں ہو؟”دیکھنا اِس بار سب اچھا ہوگا تم اطمینان رکھو۔۔فاحا نے اُس کو تسلی کروائی تھی۔

“جی پر مما کیا ہم مان سے بات کرسکتے ہیں؟اقدس نے پوچھا

“ابھی نہیں مہمان چلے جائے تو پھر مل لینا وہ ویسے بھی اپنے کمرے میں ہے۔۔”تم بیٹھو بھابھی ثانیہ تمہیں لینے آئے گی پھر نیچے آجانا۔۔فاحا اُس کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر بولی تو اقدس نے محض سراثبات میں ہلانے پر اکتفا کیا

❤
❤
❤

آوچ

“ماہا جو بھاگتی ہوئی عیشا سے ملنے جارہی تھی”جب اچانک سامنے آتے سکندر سے اُس کا تصادم ہوا تو اُس کی چیخ بے ساختہ تھی

“اندھی ہو نظر نہیں آتا کچھ؟سکندر نے اُس کو گھورا جس کا سر چکرا رہا تھا

“ماہا اندھی نہیں”اُس کی آنکھوں کا تارا ایسے چمکتا ہے جیسے کالی رات میں چاند چمکتا ہے” ہاں البتہ نابینائی کا تعلق تو شاید آپ سے ہے تبھی اِتنی حسین “جمیل”خوبصورت لڑکی کو دیکھ نہیں پائے۔ماہا اپنے چکراتے سر کو سنبھالتی اُس کو گھور کر بولی

“فرسٹ آف آل اگر چاند چمک رہا ہے تو وہ رات کالی کیسے ہوئی؟”اور دوسری بات نابینائی سے تمہارا کیا مطلب ہوا؟”سکندر نے چبا چبا کر لفظ ادا کیے”جبکہ اُس کی خوبصورتی کے قِصے وہ اگنور کرگیا تھا

“ماہا نے جسٹ آپ کو مثال دی ہے۔۔”اور اب آپ ہٹے ماہا کو بہت کام ہے۔۔ماہا نے شانِ بے نیازی سے کہا

“کونسا تم نے مُلک کا نظام چلانا ہے جو بہت کام ہیں؟سکندر نے طنز انداز میں سوال کیا

“مُلک کا نظام نہیں چلانا لیکن اپنی حویلی کا ضرور چلانا ہوتا ہے تو برائے کرم سائیڈ پر ہوجائے۔۔ماہا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو سکندر کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے تھے

“ایک بات بتاؤ تم زرا؟سکندر نے بڑی سنجیدگی سے اُس کو مُخاطب کیا

“جی کونسی بات؟ماہا کو تجسس ہوا

“رشتہ تمہارے لیے آرہا ہے؟سکندر نے پوچھا تو ماہا نے ناک مُنہ چڑھایا تھا

“ماہا کے لیے رکشہ نہیں آتا رشتہ کیا خاک آئے گا؟۔۔ماہا نے سرجھٹکا

“تم تم کس خوشی میں اِتنا سجی سنوری ہو”؟سکندر نے قدرے ناگواری کا اِظہار کیا

“کیونکہ ماہا کو اچھا لگتا ہے تیار ہونا۔۔”سجنے سنورنے کا ماہا کو شوق ہے۔۔”اور اگر ماہا تیار نہیں ہوگی تو کون ہوگا۔۔””وہسے بھی ماہا بن تیار ہوئے بھی قیامت ڈھاتی ہے۔۔”اور پھر آفت لگتی ہے”ویسے آپس کی بات ہے ماہا آپ کو کیسی لگی؟آخر میں ماہا نے قدرے شرما کر سوال کیا تھا

“ایکدم چُڑیل۔۔سکندر نے بتایا تو ماہا ہونک زدہ ہوئی پھر تاسف سے اُس کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پر چڑانے والی مسکراہٹ تھی

آپ کو آخر ماہا سے مسئلہ کیا ہے؟ ماہا نے تپ کر پوچھا۔۔”اپنے بارے میں اُس کو ایسا کمنٹ پسند نہیں آیا

“مجھے سب سے بڑا مسئلہ تو تمہارے پیدا ہونے سے ہے جب سے پیدا ہوئی ہو ناک میں دم کر کے رکھا ہوا ہے۔ ۔سکندر جواباً تپ کر بولا تو ماہا نے اپنے ہاتھ کمرے پر ٹِکائے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورنے لگی

“میں پیر فقیرنی ہوں جو دم کرکے رکھوں گی اور بھی آپ کے ناک میں یک چھی کتنا گندا بولتے ہو آپ۔ ۔ماہا منہ کے ہزار زاویئے بنا کر بولی تو سکندر ہکا بُکا اُس کو دیکھتا رہ گیا جو بڑی ڈھٹائی سے اُس کی آخری بات کو اگنور کرگئ تھی۔

“لینز اُتارو اپنے۔۔”اُس کے بعد اپنے ہونٹوں سے یہ سُرخی بھی۔ ۔خبردار جو مہمان کے سامنے یوں پیسٹری بن کر گئ بھی تو “چھوٹی ہو ابھی تم تمہیں یوں تیار ہونا زیب نہیں دیتا۔۔سکندر نے روعب سے کہا

“یہ عمر نہیں تو کیا وہ عمر ہوگی جب ماہا اسٹک کے سہارے چلا کرے گی؟”بتیس دانتوں میں سے اُس کے بس دو دانت ہوگے؟ماہا نے طنز انداز میں کہا”اُس کو سکندر کا ایسے حق جتانا پسند نہیں آیا تھا

“سوال جواب نہیں کرو بس اُتنا کرو”جتنا کرنے کا بولا جارہا ہے۔۔سکندر نے اُس کو آنکھیں دیکھائی

“ماہا اسیر ملک اپنی دل کی سُنتی ہے۔۔”اور دل کی کرتی ہے کسی اور کی نہیں ہونہہ۔۔ماہا اُس کی بات کو ہوا میں اُڑاتی وہاں رُکی نہیں تھی۔۔”وہاں سے جانے لگی تھی”پیچھے سکندر نے جانے کتنے وقت تک اُس کی پشت کو گھورا تھا

💮
💮
💮
💮
💮
💮

“یہ اقدس ہے ہماری پہلی بیٹی۔۔اقدس عیشا اور ماہا کے ہمراہ ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی تو فاحا نے مسکراکر اُس کا تعارف کروایا

“ماشااللہ آپ کی بیٹی تو بہت خونصورت”بہت پیاری ہے اللہ نظرِبد سے بچائے۔۔”بیٹی آپ یہاں میرے پاس آکر بیٹھو۔۔خاتون نے کہا تو اقدس نے ایک نظر فاحا کو دیکھا جو اُس کے اِشارے سے جانے کا بول رہی تھی۔”جس پر اقدس اپنا سرجُھکاتی اُن کے پاس آئی اور بیٹھتے ہی غیرشعوری طور پر اُس نے اپنے سر سے ڈوپٹہ ہٹالیا تھا۔۔”اور اُس کے ایسے کرنے سے اُس کے گال پر موجود نشان واضع ہوگیا تھا” اقدس کو جیسے پتا چلا کہ اُس خاتون وہ نشان دیکھ لیا تب اُس نے دوبارہ اپنا ڈوپٹہ پہن لیا تھا””اقدس نے ایسا اِس لیے کیونکہ اُس کو پتا تھا کہ وہ خاتون آنکھیں پھاڑے مسکراکر اُس کو دیکھنے میں اور اُس کی یہ حرکت اور کسی نے نوٹ کی ہو یا نہ کی ہو”لیکن ڈرائنگ روم کے دروازے کے پاس ماہرِ جاسوسوں کے کھڑے زوہان نے دیکھ لی تھی۔۔۔”جو رایان اور سکندر کے کہنے پر اُن کے ساتھ کھڑا تھا” المان جبکہ اپنے کمرے سے باہر نہیں آیا تھا

“ہماری آپو بچپن سے پیاری ہیں” آپ اپنے بیٹے کی تصویر دیکھائے زرا تاکہ ہمیں پتا چلے کہ ہمارا ہونے والا جیجا جی ہماری بہن کے لائق ہیں یا نہیں۔ ۔ماہا نے خاتون کی اُڑی ہوئی رنگت دیکھے بنا کہا

“آنٹی آپ کو چائے سِرو کروں؟ اقدس نے چہرے پر مسکراہٹ سجائے اُس خاتون سے سوال کیا تو وہ اپنے ساتھ آئی دوسری عورت کو دیکھنے لگی” جو پکوڑے کھانے میں مصروف تھی

“لگتا ہے بیٹھے بیٹھے اِن کا بی پی لو ہوگیا ہے آپ ایسا کرو کہ پانی کے ساتھ نمک دو۔ ۔عیشا جو ہر چیز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی تھی اُس نے اقدس سے کہا

“اُس کی کوئی ضرورت نہیں بیٹا میں ٹھیک ہوں۔ ۔وہ خاتون جلدی سے بولی”اُن کو باقیوں کی نسبت عیشا کافی چلاک لگی تھی اور اُن کو ڈر تھا کہ کہی وہ بی پی لو کے چکر میں نمک کا پورا ڈبہ نہ اُن کے منہ میں ڈال دے

“یہ آنٹی ایسے کیوں ایکٹ کررہی ہیں جیسے اِن کے سامنے سے سانپ گُزرگیا ہو؟رایان نے سرگوشنی نما آواز میں سکندر سے پوچھا”زوہان جبکہ خاموش کھڑا تھا

“مجھے لگتا ہے ماہا کا ایک لینز اُتر آگیا ہے۔ ۔”اور ہوسکتا ہے اِن کو لگا ہو کہ قیامت سے پہلے نیو اسٹائیلش دجال آگیا ہو۔ ۔سکندر نے بھی اپنا تُکہ لگایا

“نہیں یار ایسے تو اُسکی آنکھوں نے الگ الگ روپ اختیار کیا ہوگا” اور اللہ معاف کرے دجال کے بارے میں تو میں نے کچھ اور سُنا تھا”اور تم ایسی باتیں نہ کیا کرو کمزور سا تو دل ہے میرا۔۔رایان نے اُس کی بات کی نفی کی

“شاید پھر کوئی پرسنل ایشو ہو۔۔”ہمیں اندر جاکر اُن سے واش روم جانے کا پوچھ لینا چاہیے۔ ۔سکندر نے اپنا دوسرا نُقطہ نظریہ پیش کیا

“تُجھے بڑا پتا ہے آنٹی کے پرسنل ایشو کا خیریت ہے نہ اُن کی کوئی بیٹی تو اپنے لیے پسند نہیں کرلی؟رایان نے خاصے طنز انداز میں سوال کیا تو سکندر گڑبڑاکر خاموش ہوگیا

“آپ کو پانی پی لینا چاہیے۔ ۔اقدس نے پانی اُن کی طرف بڑھایا

“ویسے آپ کی بڑی بیٹی ہے تو بہت پیاری لیکن ہمیں آپ کی چھوٹی بیٹی کا رشتہ چاہیے تھا۔ خاتون نے کہا تو ہر کوئی اپنی جگہ حیران اور پریشان ہوگیا”سِوائے اقدس کے” جبکہ دوسری خاتون کے ساتھ پکوڑے کھانے میں مدد کرواتی ماہا کا منہ بھی پورا کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا۔۔”جبکہ کُھلے منہ کے ساتھ سکندر نے رایان کو دیکھا تھا جو خود ایسی حالت میں اُس کو تکے جارہا تھا” ایک زوہان تھا جس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا

“آپ یہاں اقدس کے لیے آئیں تھیں” اُس کو دیکھنے ماہی ابھی انڈر ایج ہے۔ ۔فاحا نے بڑی مشکل سے اپنے لہجے کو نارمل کیے کہا تھا” ورنہ اُن کو اُس خاتون کی بات ہرگز پسند نہیں آئی تھی۔

“تو کیا ہوا خیر سے سولہ سترہ کی تو ہوگی نہ۔ ۔خاتون نے پھر سے کہا

“موم نے کہا تھا ہاتھوں میں آجکل خارش بہت ہوتی ہے’اگر وجہ مجھے پتا ہوتی تو میں اُن کو یہاں لے آتی۔ ۔عیشا نے بیحد آہستہ آواز میں ماہا کے کان پاس جُھک کر کہا

“آپ کو رشتہ کرنا ہے تو میری بہن کے ساتھ ڈن کرے” وہ انڈر ایج نہیں ہے میں اپنی ماں کو کال کرتا ہوں وہ پولیس آفیسرنی ہے” جب کبھی اُن کے ہاتھوں میں کُھجلی ہوتی ہے تو وہ میری معصوم بہن کی پیٹھ توڑتی ہے مانا کہ ماں ہے” پر خیر ہے اگر عیشو بوڑھی عورت کی طرح کمر پر ہاتھ رکھ کر چلتی ہے” تو کیا ہوا جو وہ کبھی جہاڑو نہیں لگاسکتی۔۔”بیٹھ کر شوہر کے ساتھ پیار بھری گفتگو تو کرے گی نہ کسی شوپیس کی طرح بس آپ کے بیٹے نے عیشو کو یہاں سے وہاں بیٹھانا ہوگا وہ کیا ہے نہ اکیس بیس کا پرسنل ایشو ہے۔ ۔سکندر کے ساتھ رایان ڈرائنگ روم میں داخل ہوتا عیشا کے ساتھ بیٹھ کر بولا تو وہ شاک کی کیفیت میں اپنے لیے اُس کے ایسے الفاظ سُن رہی تھی۔

“اللہ آپ کی بہن کا نصیب اچھا کرے” لیکن مجھے تو یہ ماہا بہت پسند آئی ہے۔ اُس خاتون کی سوئی”ماہا” پر اٹک ہوئی تھی

“ہاں تو سہی ہے نہ ڈن ویسے بھی مامی جان اِس کے لیے بھی بہت پریشان رہتی تھی” اب آپ سے کیا چُھپانا ماہا کا ایک بازو چھوٹا بڑا ہے۔۔”ہفتے میں بس یہی کوئی ایک دو بار مرغی کا دورا بھی پڑتا ہے پر خیر” پرنسز ہے ہماری کزن نارمل بات ہے پرنسز کے ساتھ ایسے حادثات تو ہوتے ہی رہتے۔ ۔”اور کیا ہوا جو اِس کی آنکھیں

“اِس بار کہنے کے ساتھ ہی سکندر نے ماہا کی آنکھ سے لینز نکالا تو اُس کی آنکھیں عجیب تاثر دینے لگیں تھیں۔ ۔”جبکہ تھوڑا کھینچاؤ کی وجہ سے ماہا کے منہ سے سسکی نکلی تھی

“تو کیا ہوا جو ایک آنکھ سیاہ کالی گہری ہے تو دوسری گرے ہے”آنکھیں تو ہیں نہ اُس میں نور تو ہے نہ آنکھیں جیسی بھی ہو بڑی بات تو نور کا ہونا ضرور ہوتا ہے نہ” چاہے پھر کیا فرق پڑتا ہے کہ ماہا کو اپنی زندگی کا حصہ میرا مطلب یہ دُنیا آدھی گرے نظر آتی ہے اور آدھی کالی سیاہ بھیانک نظر تو آتی ہے نہ۔ ۔”بس آپ بتائے کہ رسم کب کرے گی آپ؟”ایسی بڑی بڑی حویلی میں ایسے چھوٹے چھوٹے مسائل ہوتے رہتے ہیں تفصیل سے پھر اُن کو کُریدنا کیوں؟ سکندر نے بڑی سنجیدگی کا مُظاہرہ کرتے کہا تو وہ خاتون اپنے کانوں کا ہاتھ لگاتی اپنے ساتھ آئیں عورت کو کھڑا کیا

“توبہ توبہ مجھے نہیں تھا پتا کہ یہاں کی بیٹیوں کا ایسا حال ہے’اللہ معاف کرے۔ ۔وہ کانوں کو ہاتھ لگاکر کہتی ڈرائنگ روم سے باہر نکلنے لگی

“آپ زرا فاحا کی بات تو سُنیں۔ ۔فاحا پریشان سی اُن دونوں کے پیچھے جانے لگی۔

“ہاہاہاہا

“یار مزا آگیا آنٹی کی شکل تو دیکھنے لائق تھی۔ ۔رایان اور سکندر ایک دوسرے کے ساتھ ہائے فائے کرتے قہقہقہ لگانے لگے اِس بات سے بے نیاز کہ رایان کے پیچھے کھڑی عیشا اور سکندر کے پیچھے کھڑی ماہا اُن دونوں کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ ۔”اچانک پھر ماہا کی نظر ٹیبل پر پڑیں پیسٹری پر گئ تو اُس کے دماغ میں ایک خیال آیا تو چہرے پر طنز مسکراہٹ آئی

“پیسٹری کا ٹیسٹ کیسا ہے؟ “زرا بتائیے گا۔ ۔۔ماہا نے کہا تو سکندر نے رُخ موڑ کر اُس کو دیکھا جس کا فائدہ اُٹھاتی ماہا نے وہ پوری پلیٹ سکندر کے چہرے سے ملائی تو اُس کا پورا چہرہ پیسٹری سے بھر گیا تھا۔ ۔دوسری طرف عیشا نے رایان کو کندھے سے تھام کر اُس کا رُخ اپنی طرف کرکے کھینچ کر موقع ایک مُکہ اُس کی ناک پر مارا تھا۔ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *