Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 29)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“آنٹی یہ سب کیا ہے؟”نکاح کی رسم ادا ہونے کے بعد عفان بوکھلایا ہوا سا رافیہ بیگم کے پاس آیا تھا۔۔”نکاح کے دوران “حوریہ کے بجائے”خوریہ کا نام سن کر اُس کو شدید حیرانگی ہوئی تھی۔۔”وہ انکار کرنا چاہتا تھا لیکن رافیہ بیگم جوڑے ہوئے ہاتھوں نے اُس کو مجبور کردیا تھا۔۔”اُن کا ڈرا ہوا چہرہ “عباس صاحب کا غُصے سے سُرخ پڑتا چہرہ اُس کو بہت کچھ سمجھا گیا تھا۔۔”لیکن اُس کو یقین نہ آیا تھا کہ ایسا کچھ حوریہ کرسکتی تھی۔۔

“بیٹا جانتی ہوں۔۔”جو کچھ ہوا وہ کسی نے بھی سوچا نہ تھا۔۔”لیکن ہم مجبور تھے۔”رافیہ بیگم رنجیدہ آواز میں اُس سے بولی

“خوریہ سے آپ نے میرا نکاح کروایا ہے۔۔”آنٹی اُس لڑکی کے ساتھ جو میرے بڑے بھائی کی منگ ہے۔۔”اور آپ کو کیا لگتا ہے میں اُس کو بیویوں والا مقام دوں گا۔۔”جو کل تک میری بھابھی تھی۔۔”اب میں اُس کو بیوی کا درجہ دوں گا؟”تو یہ ایک ناممکن سی بات ہے۔۔”مجھے بتائے حور کہاں ہے؟”عفان سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں بولا

“اِن مہمانوں کو جانے دو۔۔”پھر بات ہوگی۔۔رافیہ بیگم کو اُس کی باتوں نے پریشان تو بہت کرلیا تھا۔۔”لیکن خود کو سنبھالتی وہ یہی بول پائی

“میں نے آپ کی سوکالڈ عزت کے لیے خوریہ سے نکاح تو کرلیا ہے۔۔”لیکن آپ کی بھول ہے کہ مزید میں کچھ اور کرسکتا ہوں۔۔”میں ابھی جارہا ہوں اپنے پیرینٹس کو لیکر طلاق جلد میں آپ کی بیٹی کو دوں گا۔۔۔عفان کے الفاظ گویا اُن پر بجلی بن کر گِرے تھے وہ ساکت نظروں سے عفان کو دیکھنے لگی۔۔”جس کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ اُس سے کوئی بھی رحم کی اُمید نہ لگائی جائے

“عفان آج مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔۔”تم خُدارا میری بچی کو یہاں سے لے جاؤ وہ اب تمہاری بیوی تمہاری زمیداری ہے۔۔۔”یہاں اگر وہ رہی تو عباس صاحب نے اُس کو جان سے ماردینا ہے۔۔”میں تم سے اُس کی زندگی کی بھیک مانگتی ہوں۔۔”اُس کو اِس دلدل سے بچالو۔۔۔۔رافیہ بیگم منت کرتی ہوئی اُس سے بولی

“سوری لیکن میں آپ کی کوئی اور مدد نہیں کرسکتا۔۔”آپ لوگوں کی وجہ سے میں آلریڈی اپنے بھائی کی آگے شرمندہ رہ جاؤں گا۔۔”جانے کیا ری ایکشن ہوگا اُن کا جب یہ بات پتا لگے گی تو۔۔”عفان کو اِس وقت بس اپنی پڑی تھی

“عفا

“بس آنٹی بہت ہوگیا۔۔”بہت تماشا ہوگیا اب مزید ہماری انسلٹ کرنے کی اجازت آپ کو نہیں ہوگی۔۔۔عفان سنجیدگی سے اُن کی بات کاٹ کر کہتا وہاں رُکا نہیں تھا۔۔”پیچھے رافیہ بیگم کو احساس ہوا کہ ایک غلط فیصلے کو چُھپانے کے چکر میں اُنہوں نے دوسرا غلط فیصلہ کرلیا تھا۔۔”اپنی عزت کو رُسوا ہونے سے بچانے کے لیے اُنہوں نے اپنی بیٹی کی زندگی کو برباد کرڈالا تھا۔۔”آخر اُنہوں نے کیسے سوچ لیا کہ عفان اُن کا ساتھ دے گا کیا اِن مردوں میں انسانیت نام کی چیز کوئی بچی تھی۔۔

“عفان چلاگیا خوریہ وہ چلاگیا۔۔”اب میں تمہیں اسجد کے ابا کے ارتکاب سے کیسے بچاؤں گی؟”رافیہ بیگم کمرے میں آتی خوریہ کو دیکھ کر بولی

“میں نکاح کا جوڑا نہیں پہن کر بیٹھی اماں۔۔”بلکہ کفن باندھ کر بیٹھی ہوں۔۔”اور اب انتظار ہے کہ کب میری میت کو اُٹھاکر دفن کیا جائے گا۔۔خوریہ کے الفاظ نے تو اُن کی رہی سہی ہمت کو بھی ختم کر ڈالا تھا۔۔”کس قدر وہ کڑوا بولنے لگی تھی۔۔

“خو

“بدکردار

بھگوری

نکل جا اِس گھر سے ورنہ میں تمہارا گلا گھوٹ کر قبر میں دفن کردوں گا۔۔۔رافیہ بیگم اُس سے کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن باہر سے آتے شور کو سُن کر اُن کا کلیجہ منہ کو آیا تھا

“حور

“وہ حور کا نام لیتی باہر کو بھاگی تھی۔۔”پیچھے خوریہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی تھی۔۔”آج اُس کو احساس ہوا تھا کہ اُس کا وجود کتنا بے وقعت تھا۔۔”جو کوئی بھی اُس کو سیکنڈ آپشن سمجھ کر کسی کے بھی آگے پیش کررہا تھا۔۔”اور خریدار اُس کو لینے کو تیار نہ تھے۔۔

“ابا

“چٹاخ

“چٹاخ

“اپنی اِس غلیظ زبان سے خبردار جو مجھے “ابا کہا بھی تو نہیں ہے توں میری بیٹی۔۔”ارے تُجھ جیسی بیٹیوں کو تو پیدا ہوتے ہی گلا گھوٹ کر ماردینا چاہیے۔۔۔”حوریہ ڈر کر اُن سے کچھ کہنے لگی تھی۔۔”اچانک لگنے والے زناٹے دار تھپڑوں نے اُس کے اوسان خطا کردیئے تھے

“جوان جہاں بیٹیوں پر کون باپ ہاتھ اُٹھاتا ہے؟”رافیہ بیگم کا دل دُھل سا گیا

“یہ تیری بیٹی اور تیری پرورش دیکھ کر اندازہ ہوگیا ہے۔۔”کہ لوگ سہی معنوں میں بیٹوں سے خار کیوں کھاتے ہیں۔۔”عباس صاحب نفرت انگیز لہجے میں اُن کو دیکھ کر گویا ہوئے تھے

“ابا میں

“تُجھے تو زندہ دفن کروں گا میں۔۔۔عباس صاحب پاگل ہونے کے در پہ ہوتے اُس کو بالوں سے دبوچنے والے تھے جب اچانک رافیہ بیگم اُن کے سامنے آئی تھی

“بس عباس صاحب بس۔۔رافیہ بیگم اچانک طیش میں آتی اُن کو حوریہ سے دور کرنے لگی۔

“تیری یہ مجال توں اب مجھے آنکھیں دیکھائے گی۔۔”عباس صاحب کو جیسے یقین نہ آیا تھا

“میں نے ساری عمر آپ کا ہر ظلم برداشت کیا ہے۔۔”لیکن اب مزید نہیں۔۔”میں آپ کی ضد اور انا کی وجہ سے اپنی دو بیٹیاں اور بڑا بیٹا پہلے سے گنوا چُکی ہوں۔۔”پر خوریہ اور حوریہ کے معاملے میں کچھ بھی میں نہیں سہوں گی۔۔رافیہ بیگم انگلی اُٹھاکر اُن کو وارن کرنے لگی تو عباس ساحب حیرت سے اُن کو دیکھنے لگے۔۔”اُن کو یقین نہ آیا یہ اُن کی وہ بیوی تھی جس نے اُن کے آگے کبھی سر تک نہ اُٹھایا تھا اور آج وہ اُن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کررہی تھی۔۔”یہی کچھ حال حوریہ کا تھا۔۔”وہ بھی کافی سہم کر اپنی ماں کا یہ روپ دیکھ رہی تھی۔

“رافی ہوش میں ہو تم۔۔۔”عباس صاحب نے اُن پر چڑھائی کرنی چاہی

“جی آج سالوں بعد ہوش میں آئی ہوں۔۔”آپ کا ہر ظلم برداشت کیا تاکہ یہ رشتہ خراب نہ ہو۔۔”میرے بچے نہ رُل جائے۔۔”لیکن میرے بچے تو رُل گئے۔۔”پانچ سالوں سے اپنی بیٹیوں کی شکل تک نہیں دیکھی جس کی شادیاں آپ نے کرکے جانے کہاں بھیج دیا۔۔”میرا بیٹا میرے پاس نہیں۔۔’بات نہیں کرتا اور اب آپ اِن دونوں کے پیچھے پڑے ہیں۔۔رافیہ بیگم کے لہجے میں تکلیف اور تڑپ کے سِوا کچھ نہ تھا۔۔”آج ایک عورت کا صبر ٹوٹا تھا۔۔”ایک ماں کا صبر ٹوٹا تھا۔۔

“میں تمہیں طلاق دے کر گھر سے باہر کروں گا۔۔رافیہ بیگم کو دیکھ کر عباس صاحب نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا

“آپ کیا مجھے گھر سے نکالے گے۔۔’میں خود اپنے بچوں کو لیکر یہاں سے نکل جاؤں گی۔۔”اور آپ کو طلاق دینے کی بھی ضرورت نہیں خلع کا حق ہے میرے پاس۔۔رافیہ بیگم احساس سے عاری لہجے میں گویا ہوئی

“امم اماں۔۔حوریہ جو اب تک خاموش تھی۔۔”اُن کی ایسی بڑی بات سُن کر ہوش میں لانا چاہا

“تم اندر جاؤ اپنا اور اپنے بہن بھائی کا سامان باندھو میں آتی ہوں۔۔۔”رافیہ بیگم اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولی

“ٹانگ توڑ کر ہاتھ میں دے دوں گا۔۔”اگر گھر سے باہر قدم بھی رکھا تو۔۔عباس صاحب پاگل ہونے کے در پہ تھے۔۔۔

“تم نے سُنا نہیں جو میں نے کہا۔۔۔؟”رافیہ بیگم عباس صاحب کو مکمل طور پر اگنور کرتی سخت لہجے میں حوریہ سے بولی تو اپنے سوکھے لبوں پر زبان پھیرتی حوریہ اندر کو بھاگی تھی

“رافی

“ساحل جاؤ رکشہ ٹیکسی کرواؤ۔۔رافیہ بیگم نے حوریہ کے جانے کے بعد خوفزدہ ساحل سے کہا

“اماں ہم جائے گے کہاں؟”ساحل ڈری ہوئی نظروں سے اپنا باپ کو دیکھتا اُن سے پوچھنے لگا

“تم لوگوں کو جانا ہے تو جاؤ لیکن یہ ساحل کہی نہیں جائے گا۔۔عباس صاحب ساحل کا بازو پکڑ کر بولے

“نہیں ابا مجھے اماں کے ساتھ جانا ہے۔۔”اُن کی گرفت سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ساحل جلدی سے بولا

“ساحل میرا بیٹا ہے۔۔”اور میرے ساتھ آئے گا یہاں چھوڑ کر میں اُس کو آپ کی طرح درندہ وحشی نہیں بناؤں گی۔۔”جن کی نظروں میں ایک عورت کے لیے کوئی وقعت نہیں۔۔رافیہ بیگم مضبوط لہجے میں بولی۔۔”آج اُن کے لہجے میں کوئی لچک نہ تھا۔۔”آنکھوں میں ایک عزم تھا

“کاش ایسی ہمت کا مُظاہرہ سالوں پہلے آپ کرتی تو آج یہ دن آتا ہی نہ۔۔”ظلم کو برداشت کرکے۔۔”ظلم کے خلاف آواز نہ اُٹھا کر آپ نے بتایا کہ شادی کے بعد مار پیٹ ہی عورت کی قسمت۔”اور جوتیاں کھاکر جینا اُن کی زندگی ہے۔۔”اگر پہلے ہی ابا کا اُٹھا ہوا ہاتھ درمیاں میں روکتی تو دوبارہ وہ ہاتھ کبھی آپ پر نہ اُٹھتا۔۔”غلط صرف ابا نہیں آپ بھی ہیں اماں۔۔۔”ظلم کو ظلم نہ کہا بلکہ قسمت کا لکھا کہا۔۔”ایک مرد تبھی عورت پر ہاتھ اُٹھا پاتا ہے جب عورت اُٹھانے دیتی ہے۔۔”خوریہ باہر آتی افسوس سے اُن دونوں کو دیکھ کر بولی تو رافیہ بیگم سے کچھ بولا نہ گیا وہ خود کو اُس کا مُجرم سمجھنے لگی تھی

“چلو تم لوگ بس یہاں سے۔۔”آپ کو آپ کا یہ گھر مُبارک ہو۔۔”رافیہ بیگم اُن دونوں سے کہتی آخر میں عباس صاحب سے بولیں جو خاموشی سے بس یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔

“ہم جاء رہے ہیں ابا لیکن ایک دن آپ کو یہ بتانے آؤں گی کہ بیٹیاں کسی سے کم نہیں۔۔حوریہ نم نظروں سے عباس صاحب کو دیکھتی باہر نکل گئ تھی۔۔

“جائے گے کہاں؟”گھر سے باہر نکلتے خوریہ نے یہ سوال کیا

“اللہ کی زمین بڑی ہے۔۔”کہی نہ کہی ٹھکانہ مل جائے گا رہنے کے لیے۔۔رافیہ بیگم اِتنا کہتی ٹیکسی میں بیٹھنے لگی تو ہمت مجتمع کرتی خوریہ اور حوریہ بھی بیٹھ گئ۔۔”ساحل جبکہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔”وہ آج جارہے تھے کہاں؟”یہ اُن کو پتا نہ تھا”بس اُن کو یہاں سے دور جانا تھا بہت دور جانا تھا۔۔”جہاں بُری یادوں کا نام ونشان بھی نہ ہو۔”رافیہ بیگم جانتی تھی آج اگر وہ یہ قدم نہ اُٹھاتی تو اِس وقت اُن کی دونوں بیٹیوں کا جنازہ پڑا ہوتا

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“توں نہ جا ہم آلریڈی مان کی وجہ سے پریشان ہیں۔۔”اور اب تم بھی جاؤ گے تو ہمارا کیا ہوگا؟”سکندر رایان کو دیکھ کر بولا جس نے آج لاہور جانا تھا۔۔”ساری تیاری اُس کی مکمل ہوگئ تھی۔۔”اُس کے سامان کا بیگ اُس کے سامنے تھا۔۔”اور باہر کیب اُس کے انتظار میں تھی۔۔

“اُس سے بھی رابطہ ہوجائے گا۔۔”پریشان نہ ہو میں تو ویسے بھی رابطے میں رہوں گا۔۔”رایان اُس سے مل کر بولا

“مان بھی یہی بول کر گیا تھا۔۔”لیکن ایک ماہ سے زیادہ وقت ہونے لگا ہے۔۔”پر اُس کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔۔”سکندر اُس کی بات کے جواب میں بولا

“وہ مان ہے اور میں رایان مجھے اپنی باتوں کا پاس رکھنا آتا ہے۔۔”رایان سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہتا زوہان کی طرف بڑھا

“آل دا بیسٹ۔۔زوہان نے مختصر کہا

“میرے قریب مت آنا۔۔”مسٹر تم نے ثابت کردیا ہے کہ تمہارے نزدیک چار دن کی محبت زیادہ ضروری ہے نہ کہ سالوں پُرانی ماں پاپ بہن یا کزنز وغیرہ کی۔۔”اِس لیے ہم سے مل کر یہ احسان تم نہ کرو تو اچھا ہے۔۔”مجھے تو تمہاری یہ شکل ہی نہیں دیکھنی آئے ہیٹ یو۔۔رایان عیشا کی طرف آتا اُس کے گلے لگنے والا تھا جب ہاتھ کے اِشارے سے اُس کو روکتی وہ سخت لہجے میں کہہ کر چلی گئ تھی۔۔”پیچھے رایان نے لب بھینچ کر اُس کی پشت کو دیکھا تھا

“تم اُس کو سمجھانا۔۔رایان زوہان کو دیکھ کر بولا

“تمہیں اب جانا چاہیے۔۔”یہاں کے لوگوں کے لیے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔”جواب میں زوہان نے سنجیدگی سے کہا تو رایان جان گیا کہ”زوہان بھی اُس سے ناراض ہے۔۔”اِس لیے کوئی اور بات کیے بنا وہ اپنا بیگ گھسیٹ کر باہر کی طرف بڑھا تھا۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“زور سے کان کھینچیے گا آپ اُس کے۔۔فاحا نے اسیر کو دیکھ کر کہا جو اُس کی ضد پر لندن المان کے پاس جانے والا تھا۔۔

“پریشان نہ ہو۔۔”سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔اسیر اُس کا ماتھا چوم کر تسلی آمیز لہجے میں اُس سے کہا

“اُس کو کہنا بھاڑ میں جھونکو سنگنگ کو۔۔”اور اپنے ساتھ لے آئیے گا۔۔اُس کے سینے سے لگ کر فاحا نے مزید کہا

“ایسا ہی ہوگا۔۔”آپ پریشان نہ ہو۔۔۔”اسیر نے اُس کو پرسکون کرنے کی خاطر کہا تو فاحا نے گہری سانس بھری تھی۔۔”اقدس اور ماہا جبکہ خاموش کھڑیں تھیں

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“چند سال بعد”:

“ہوا ہے آج پہلی بار جو ایسے مُسکرایا ہوں

“تُجھے دیکھا تو جانا یہ کہ کیوں دُنیا میں آیا ہوں۔۔۔

“اسلام آباد میں آج سال کا سب سے بڑا کنسرٹ تھا۔۔”لوگوں کو ایک مجموعہ تھا جو وہاں شامل تھا۔۔”کیونکہ آج اُن کا پسندیدہ سنگر گانا گانے والا تھا۔۔”اور اُس کی طرف سے ایک سرپرائز تھا جو اُس نے اپنے چاہنے والے کو دِیا تھا۔۔”یہ سنگر کوئی عام نہ تھا نہ وہ شخصیت عام تھی۔۔”جی بلکل وہ کوئی معمولی شخصیت نہ تھی۔۔”وہ سکندر عاشر تھا جس کا نام پاکستان کے معروف گلوکاروں میں آتا تھا۔۔”جو جب گاتا تھا تو اُس کی آواز کا صحر ہر ایک کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیتا تھا۔۔”گُذشتہ تینوں سالوں سے اُس نے سنگنگ کی دُنیا میں اپنا قدم مضبوطی سے جمایا تھا۔۔”اور ایسا جمایا تھا کہ ہر جگہ اُس کے اور اُس کے گانے کے چرچے تھے۔۔”جس نے اپنی یونی کی پڑھائی ختم کرنے کے بعد اپنا ایک الگ نام بنایا تھا۔۔”اپنی پہچان بنائی تھی اُس نے۔۔

(بُراؤن شرٹ اور بلیک جینز پینٹ میں ملبوس ہاتھوں میں مائیک پکڑے کھڑا وہ ہر ایک کے دل کی دھڑکن بنا ہوا تھا۔۔”بال لاپرواہ انداز میں ماتھے پر بکھرے پکڑے تھے۔۔”جہاں ماتھے پر روک اسٹار پٹی تھی وہی کلائیوں میں مختلف قسم کی بینڈ موجود تھے۔۔”اور اُس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ جس نے ماحول میں چار چاند لگادیا تھا۔۔۔”چوبیس سالہ سکندر آج بلکل بدلا ہوا سا لگ رہا تھا۔۔”گُزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اُس کی وجاہت میں نکھار آگیا تھا۔۔”وہ پہلے کی طرح اب لابالی سا نہ تھا۔۔”وہ اب کسی کا سکی نہ تھا۔۔”وہ سکندر عاشر تھا۔۔

“زمین سے آسمان تک ہم

“ڈھونڈ لائے جہاں سارا

“بنا پایا نہیں ابھی تک

“خُدا تم سے کوئی پیارا

“گانے کے بول گانے کے ساتھ اُس نے اپنا ایک ہاتھ لڑکی کی طرف بڑھایا تھا۔۔”جو چہرے پر گہری مسکراہٹ سجائے کھڑی تھی اور اُس کی مسکراہٹ تب مزید گہری ہوئی جب سکندر نے اپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھایا

“باتوں میں تیری ہے بدمعاشیاں۔۔۔

“سب پہ

“اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر گرد چکر کاٹتی گانا گانے میں وہ بھی اُس کا بھرپور ساتھ دینے لگی تھی۔۔”ہال میں کھڑے لوگوں کی ہوٹنگ کا شور بُلند ہوا تھا۔۔”ہر کوئی اُن کو بیسٹ وشز دے رہا تھا۔۔”چیئر اپ کررہا تھا۔

“میں لکھ دوں آسماں پر یہ

“کہ پڑھ لے گا جہاں سارا

“میں تم سے عشق کرنے کی

“اجازت رب سے لایاااا ہوں

“رب سے لایاااااا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“گُھٹنوں کے بل اُس کے پاس بیٹھتا آخر میں وہ اُس کے ہاتھ کو تھام کر خوبصورت رنگ پہنائی تھی۔۔”تو جہاں وہ خوشی سے اُچھل پڑی تھی۔۔”وہی ہر کوئی تالیاں بجانے لگا تھا.

“مائے فینز آپ کی چاہ اور محبت کا شکریہ اور میں آج آپ سب لوگوں کے سامنے دعا خان کو پرپوز کرچُکا ہوں۔۔”جس کے ساتھ میں پِچھلے ایک سال سے کام کررہا ہوں۔۔”وی کمنٹڈ ٹو اِیچ ادر۔۔۔۔مائیک کو پکڑے وہ گھمبیر آواز میں کھڑا بتانے لگا تو ہر اُونچی آواز میں Congress کہا تھا۔۔”جس پر سکندر نے گردن موڑ کر اپنے ساتھ کھڑی دعا کو دیکھا جو ہاتھ ہلا ہلا کر لوگوں کو جواب دینے میں مصروف تھی۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“سر آپ شادی کب کرینگے؟”ایک لڑکی جو اینکر تھی اُس نے ڈارک گرے رنگ کے کاٹن کے شلوار قمیض میں ملبوس اجرک کندھوں پر اُوڑھے۔۔”صوفے پر بڑی شان کے ساتھ بیٹھے آتش لُغاری سے سوال کیا تھا۔۔”اپنی زندگی میں اُس نے بھی سیاست میں پاؤں مضبوطی سے جمالیے تھے پانچ سال پنجاب میں رہنے کے بعد وہ اب پرائم منسٹر کی کُرسی پر بیٹھ گیا تھا۔۔”دوبارہ الیکشن میں بھی اُس کی جیت ہوئی تھی

“جب آپ اِجازت دینگی۔۔”ویسے کیا آپ میریڈ ہیں؟”آتش نے جواب میں کہا تو اُس کے فاصلے پر بیٹھے “آفاق لُغاری نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا تھا تاکہ وہ کوئی بھی فضول گوئی نہ کرے

“جی میں میریڈ ہوں۔۔”اور دو بچے بھی ہیں۔۔”اینکر نے کھسیانی سے ہوکر جواب دیا ۔

“اُفففف یہ بول کر آپ نے تو دل توڑ دیا۔۔”ورنہ میرا اِرادہ تو کانفرنس ختم ہونے کے بعد آپ کو پرپوز کرنے کا تھا۔۔”چہرے پر ڈھیر سارا مصنوعی غم سجائے آتش نے کہا تو وہاں موجود ہر انسان کا فلک شگاف قہقہ گونجا تھا۔۔”اور وہ بیچاری اینکر پچھتائی تھی کہ اُس نے یہ سوال کیوں کیا۔۔”جبکہ آفاق لُغاری نے اپنا ماتھا پیٹا تھا۔۔”گُزرے سالوں میں آتش میچیور نہ ہوا تھا بلکہ ماہا ڈھیٹ ہوگیا تھا۔۔”بے باک باتیں کرتے ہوئے نہ ماحول کو دیکھتا تھا اور نہ اُس کو اپنی پوزیشن کا کوئی خیال ہوتا تھا۔۔”بس جو اُس کے منہ میں آتا تھا وہ بول دیتا تھا۔۔

“”زبان کے جوہر دیکھانا ضروری ہیں؟”تمہیں اندازہ ہے کہ کونسی سیٹ پر بیٹھے ہو؟”آفاق لُغاری چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائے سامنے کی طرف دیکھ کر اُس کو بولے

“تیسری نمبر کی سیٹ پر بیٹھا ہوا۔۔”جواب فوراً سے حاضر تھا۔۔”جہاں آتش ہو وہاں آگ میں پیٹرول کا کام کیسے ممکن نہ تھا۔۔”وہ اپنے نام کے مطلب کی طرح آگ تھا۔۔”وہ آگ جو دوسروں کو لگتی تھی۔

“تم سے بات کرنا فضول ہے۔۔”خیر ہمارا جو فام ہاؤس ہے وہاں جاؤ۔۔”میں نے اپنے آدمیوں کو ایک کام کا بولا تھا دیکھو وہ ہوا ہے یا نہیں۔۔”آفاق لُغاری نے سنجیدگی سے کہا

“کونسا کام؟”آتش نے اُن کی طرف دیکھ کر پوچھا

“اسلام آباد کے روڈ پر جو گاؤں آتا ہے وہ ایک بڑا گاؤں ہے۔۔”جہاں تین سؤ گھر ہیں۔”اور اُس گاؤں کا جو سردار ہے اُس کی چلتی بھی بہت ہے اپنے گاؤں میں تو۔۔”اُن کے ووٹ ہمارے لیے بہت فائدیمند ثابت ہوگے۔۔آفاق لُغاری نے کہا تو آتش کے پلے کچھ نہ پڑا تھا

“میں نے گاؤں کی جانکاری نہیں پوچھی۔۔”فام ہاؤس میں کونسا کام ہے وہ پوچھا ہے۔۔”آتش نے سرجھٹک کر پوچھا

“وہاں گاؤں کا جو سردار ہے اُس کو پولٹکس میں انٹرسٹ نہیں۔۔”میں نے اُس سے ووٹس کا کہلوایا تھا پر اُس نے انکار کیا تو میں نے اُنگلی ٹیڑھی کی۔۔”آفاق لُغاری کمینگی سے بولے

“تو کیا گاؤں کے تین سؤ گھروں کے لوگ ہمارے ایک فام ہاؤس میں ہیں؟”اِتنے بڑے گاؤں کی آبادی اِتنی کم؟آتش کو جیسے افسوس ہوا

“پی ایم کی کُرسی سنبھالی ہے لیکن عقل نام کی کوئی چیز نہیں تم میں۔۔”آفاق لُغاری اُس کی بات سن کر تپ کر بولے

“ایکسپلین کرے آپ تو ماہا عقلمند انسان ہیں۔۔آتش نے کہا

“میں نے سردار کی بیٹی کو اُٹھوایا ہے۔۔”اب آگے تمہارا کام ہے کہ اُس لڑکی کو کیسے ہینڈل کرتے ہو تم۔۔”مرد ہو تم اور مال بھی کافی اچھا ہے۔۔”آفاق لُغاری معنی خیز لہجے میں کہا تو ایک لمحہ لگا تھا آتش کو ساری بات سمجھنے آنے میں

“سردار کا نام کیا ہے؟”آتش نے سنجیدگی سے پوچھا

“سردار اسیر ملک۔۔۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

I really don’t care.

“مجھے یہ فائل شام تک ریڈی چاہیے تو مطلب چاہیے۔۔”اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم کیا اور کیسے کرتے ہو۔۔عیشا اپنے سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھ کر فائل اُس کی طرف پھینکنے والے انداز رکھ کر سخت لہجے میں بولی تو وہ گڑبڑا کر فائل پکڑے اُس کے کیبن سے باہر نکل گیا تھا۔۔

“اسٹوپڈ مین۔۔نخوت سے بڑبڑاتی وہ ایک نمبر ملانے لگی جو مسلسل آف جارہا تھا۔۔

“اُفففف ہانی کا مسئلہ کیا ہے؟”کال کیوں پُک نہیں کررہا اُس کو پتا بھی ہے ہیڈ کے ساتھ ہماری اہم میٹنگ ہے۔۔موبائل فون کو ٹیبل پر پٹخ کر رکھتی عیشا آہستگی سے بڑبڑائی۔۔”اُس نے اور زوہان نے یونی کے چار سال ختم ہونے کے بعد آفس جانا شروع کرلیا تھا۔۔”زوہان نے زوریز کا کام سنبھالا ہوا تھا تو عیشا نے آریان کا۔۔”گُزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اُن لوگوں نے بھی خود پر ایک خول چڑھا لیا تھا۔۔”بس اپنے کام میں مصروف رہتے۔۔”فضول ایکٹویٹی کرنے کا اُن لوگوں کے پاس وقت نہ ہوتا تھا۔۔

“خالہ کو پتا ہوگا۔۔ایک خیال کے آتے ہی عیشا نے سوہان کا نمبر ڈائل کیا۔۔

Aunt,where is hani?

“عیشا نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا

“کیا مطلب زوہان کا تمہیں نہیں پتا؟” وہ تو لاہور سے سیدھا آفس آنے والا تھا نہ؟”دوسری طرف سوہان چونک سی گئ

“نہیں خالہ میٹنگ کل شام ختم ہوگئ تھی۔۔”رات کو اُس سے میری بات ہوئی تو اُس نے کہا کہ وہ آجائے گا۔۔”لیکن اُس کا کوئی اتا پتا نہیں ایون اُس کا سیل فون بھی آف ہے۔”ہماری میٹنگ ہے بہت ضروری اور موصوف جانے کہاں مصروف ہیں۔۔عیشا نے دو انگلیوں سے اپنی کنپٹی کو سہلا کر اُس کو بتایا تو سوہان الرٹ ہوئی

“یاد آیا ہوسکتا ہے وہ برٹھ ڈے پارٹی میں گیا ہو؟”سوہان نے اندازہ لگا کر بتایا

“کس کی برٹھ ڈے پارٹی؟”عیشا نے ناسمجھی سے پوچھا

“بھول گئ آج سکندر کا برٹھ ڈے تھا۔۔”تم نے اُس کا کنسرٹ نہیں دیکھا کیا؟”اُس نے ایک لڑکی کو بھی پرپوز کیا ہے۔۔سوہان نے بتانے کے بعد پوچھا

“مجھے یاد نہ تھا اور نہ وقت خیر آپ کی اگر اُس سے بات ہو تو میری طرف سے وِش کرلیجئے گا۔”میں ہانی کے مینجر یا سکیٹری سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔۔”ہوسکتا ہے اُن کو کچھ پتا ہو۔۔۔عیشا نے سرجھٹک کر کہا

“خوشی تمہیں خود وِش کرنا چاہیے۔۔سوہان نے کہا

“خالہ اب وہ وقت نہیں رہا جب ہم ساتوں چھوٹی سی چھوٹی سی خوشیاں ایک ساتھ سلیبریٹ کرتے تھے۔۔”اگر کوئی پریشانی بھی ہوتی تو سنڈے کے دن مل بیٹھ کر اُس پر سیڈ سونگ پُلے کرکے ماتم کُناں ہوتے تھے۔۔”وقت بدل گیا ہے۔۔”ہم بدل گئے ہیں۔۔”ہر کوئی اپنی زندگی میں مصروف ہوگیا ہے۔۔”اب دیکھے نہ جہاں پہلے جس کس کی بھی سالگرہ ہوتی تھی ایک ماہ پہلے اُس کو سرپرائز دینے کی تیاری ہوتی تھی اب تو وہ دن بھی سر پہ ہوتا تو کچھ یاد نہیں رہتا۔”ویسے بھی سکندر کا فون اُس کے پاس نہیں ہوتا اگر ہوا بھی تو نہ اُس کو میری کال شو ہوگی اور نہ مسیج اُس کے چاہنے والے بڑھ گئے ہیں۔۔’جن کی کالز مسیجز کی وجہ سے اُس کا سیل فون ہمہ تن بجتا رہتا ہے۔۔۔عیشا اُس کی بات پر تلخ ہوکر بولی تو سوہان خاموش رہی تھی۔۔”جس پر عیشا نے خود ہی کال کاٹ دی تھی۔۔”اور اپنا سر ہاتھوں میں گِرائے وہ بیٹھ گئ۔۔”ہر چیز بہت complicated ہوگئ تھی۔”جن کو سُلجھانا اب کسی کے ہاتھ میں نہ تھا۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“کتنا ڈیشنگ بندہ ہے۔۔”کاش ہماری ملاقات ہوجائے۔۔”بائیس سالہ ماہا یونی کے گراؤنڈ میں بیٹھی مہارت سے آرٹس بنانے میں مصروف تھی ۔”جب اُس کے کان میں ایک لڑکی کے الفاظ پڑے۔ “جن کو فل اگنور کرتی وہ اپنے کام مصروف رہی

“میں تو پکا رات کو کنسرٹ میں جاتی لیکن یار ٹِکٹ نہ ملی۔۔”دوسری نے بھی کہا تو باقی ہنسنے لگی تھی۔

“میں نے ایس اے کو تُحفہ بھیجا تھا۔”برٹھ ڈے کارڈ کے ساتھ ہوپ سو کہ اُس کو مل جائے۔۔”ہر کوئی اپنے اپنے بارے میں بتائے جارہا تھا

“یار ماہی اِس کو چھوڑ اور یہ دیکھ توں تو جانتی ہوگی سنگر کو۔۔”کل پتا ہے اِس نے اپنی گرل فرینڈ کو پرپوز کیا جو ماڈلنگ کرتی ہے۔۔”ماہا کی دوستی نے اُس کے ہاتھ سے کلر پینٹس چھین کر پرجوش لہجے میں کہا تو ماہا کے چہرے پر ناگواریت چھانے لگی.

“ماہا کے پاس اِن مراثیوں کو دیکھنے کے علاوہ بھی بہت کام ہوتے ہیں۔۔’خیر ایگزیبیشن سٹارٹ ہونے والی ہے ماہا وہاں جانے لگی ہے۔۔”تم میں کسی نے آنا ہے تو آجائے۔۔اُس کا سیل فون دور کرتی ماہا سنجیدگی سے کہتی اپنا سامان اُٹھانے لگی

“ہاؤ روڈ۔۔۔ایک اُس کی بات پر منہ بسور کہ رہ گئ۔۔

“کچھ غلط نہیں۔۔”اور جو پیسا ٹکٹس اور تحائف اِن لوگوں پر ضائع کررہے لوگ۔۔”وہ پیسے کسی غریب کو دو تو کچھ بھلا ہو۔۔”ماہا اپنی بات کہتی وہاں سے چلی گئ تھی۔۔’پیچھے وہ سب بھی اُٹھ کر اُس کے پیچھے جانے لگیں۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

مجھے یہاں کیوں لائی ہیں؟”اور آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے باندھ کر رکھنے کی؟ازوہان کو جب ہوش آیا تو خود کو یو چیئر کے ساتھ بندھا ہوا دیکھ کر اُس کو طیش آگیا تھا تبھی سامنے بیٹھی ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر غُصے سے غِرایا تھا۔”جو پستہ گرین کلر کی شرٹ اور وائٹ جینز پینٹ میں تھی ڈارک براؤن بال جبکہ کُھلے ہوئے تھے”اور اُس کو ہوش میں آتا دیکھ کر اُس کی گول مٹول سبز آنکھوں میں چمک سی آگئ تھی۔۔”سامنے بیٹھی لڑکی کو وہ اچھے سے جانتا تھا۔۔”لیکن اُس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ یہاں کیسے آگیا؟”اُس کو اچھے سے یاد تھا کہ وہ اسلام آباد جانے کے لیے نکلا تھا جب اچانک اُس پیچھے سے کسی نے اُس کے سر پر زور سے ڈنڈا مارا تھا۔۔”اُس کے بعد کیا ہوا اُس کو کچھ یاد نہ تھا کیونکہ ہوش تو اب آیا تھا اور اپنی ایسی حالت دیکھ کر وہ اپنے ہوش دوبارہ گنوانے لگا تھا۔

“افففف یہ تمہارا غُصے میں بھی”آپ”کہنا یقین جانو دل پہ سیدھا ٹھاہ کرکے لگتا ہے۔۔وہ اُس کو دیکھ کر خوبصورت مسکراہٹ سے بولی

“اگر آپ کی بکواس ہوگئ ہو تو میرے ہاتھ کُھولے۔۔زوہان نے سنجیدگی سے کہا

“جب تک میرا کام نہیں ہوجاتا تم یہاں سے نہیں جاؤ گے۔۔وہ اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولی

“کیسا کام؟وہ بیزاری سے استفسار ہوا

“تمہارا مجھ سے نکاح ہوگا۔۔۔اُس نے گویا جیسے دھماکا کیا تھا اور زوہان حیرت سے گنگ بس اُس کو دیکھتا رہ گیا جس کا اعتماد قابلِ دید تھا

“آپ شاید ہوش میں نہیں ہے یا مجھے کوئی کِھلونہ سمجھا ہوا ہے جو آپ کی ہر بات مانے گا خاموشی سے میرے ہاتھ کُھولے اگر آپ کا فضول مذاق ہوگیا ہو تو کیونکہ یہ آپ کی بھول ہے کہ گن پوائنٹ میں یوں آپ خود کا نکاح میرے ساتھ کرواسکتیں ہیں۔۔زوہان اُس کی بات سن کر طنز انداز میں بولا تو وہ غُصے سے اپنی جگہ اُٹھتی جینز کی پاکٹ سے گن نکال کر اُس کے ماتھے پر رکھ گئ۔۔

“نکاح تم تو کیا تمہارا باپ بھی کرے گا۔۔گن کی نال کو اُس کے ماتھے پہ زور سے رکھتی وہ مضبوط لہجے میں بولی

“تو جائے میرے باپ کے پاس یہاں میرا سر کیوں کھپا رہی ہیں؟”اور اگر میری ماں آپ کو زندہ چھوڑدے تو میرے باپ سے نکاح کرلیجئے گا سلامی دینے آجاؤں گا”ویسے بھی آپ لڑکی ہیں اور ہمارا دین لڑکیوں کو ایک ساتھ دو شادیاں کرنے کی اِجازت نہیں دیتا سو آپ ٹائیم ویسٹ نہ کریں جلدی سے ڈیڈ کے پاس جائے۔۔۔زوہان اُس کی بات سُن کر طنز سے بھرپور آواز میں بولا تو اُس کا پارا غُصے سے سوا نوازے پہ پہنچا تھا۔

“تمہیں پتا ہے میرا باپ پرائم منسٹر تھا اب بھائی ہے اور میرے بھائی کا اِس شہر میں راج ہے اِس لیے مجھ سے انکار کرو گے تو اِنجام بُرا ہوگا میرے بھائی کو تم جانتے نہیں ہو۔۔وہ اپنے غُصے کو ضبط کرتی دو ٹوک انداز میں بولی وہ اُس پر اپنا روعب جمانا چاہتی تھی لیکن جو اُس کے سامنے بیٹھا تھا اُس نے بھی کبھی کسی کے روعب میں آنا سیکھا نہیں تھا۔

“میں اِس شہر کا نہیں ہوں اِس لیے اپنے بھائی کا ڈر کسی اور کو جاکر دے۔۔زوہان پر ابھی بھی اُس کی کسی بات کا اثر نہیں ہوا تھا جس پر وہ مزید آپے سے باہر ہونے لگی تھی۔

“زوہان زوریز دُرانی تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں آسانی سے چھوڑدوں گی؟”اُس کی طرف ہلکا سا جھک کر بولی

“مس ایشال لُغاری مجھے آزاد تو آپ کے اچھے بھی کرینگے۔۔”زوہان طنز آواز میں دوبدو بولا تو اُس کے منہ سے اپنا نام سن کر اُس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ نے بسیرا کرلیا تھا۔۔”جبکہ اُس کی نزدیکی پر زوہان نے بے اختیار اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیا تھا۔

“آج سے سات سال پہلے جب ہمارا سامنا پہلی بار ہوا تھا تب بھی تم نے اپنا چہرہ ایسے پھیرا تھا اور آج بھی۔۔”نائیس جان کر خوشی ہوئی کہ تمہاری وجاہت میں فرق آیا ہے”لیکن شائے پرسن ویسے کا ویسے ہو۔۔ایشال اُس کے گال پہ اُنگلی پھیر کر دلچسپ لہجے میں بولی تو زوہان نے اُس کو کوئی جواب نہ دیا۔۔”اگر وہ اُس کی طرح بے باک یا دل پھینک ہوتا تو کہتا میری چھوڑو اپنی سُنو پہلے جیسے زیادہ قیامت ڈھانے لگی ہو۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *