Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 42)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 42)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“اب اگر تمہاری یہ خواہش اسیر کو پتا لگی نہ تو وہ اچھی خاصی ملاقات کروائے گا۔۔”سوہان نے ایک چپت اُس کے ماتھے پر لگائے کہا
“ملاقات نہیں”سرسری ملاقات۔۔”میشا نے لُقمہ دیا
“یہ آپ لوگ کوڈ ورڈز میں کیا باتیں کررہی ہیں۔۔”؟”رایان نے بلآخر اُن کو اپنی موجودگی کا احساس کروایا
“کچھ بھی نہیں تم بس۔۔”زوہان اور عیشو کو کو کہو کہ اب آنے کی کریں۔۔”اور تم اب اگر دوبارہ ماہی کا رشتہ آئے تو اِس پلٹن کو دعوت مت دینا۔۔”اگر دعوت دی تو ہوگیا تمہاری بیٹی کا رشتہ۔۔”میشا رایان کو کہتی آخر میں فاحا سے بولی
“اب ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔”یہ جب ساتھ ہوگے تو اچھا رہے گا۔۔”فاحا نے کہا تو رایان اُس کی فلائنگ کس کرتا باہر نکل گیا
___________________
“ہٹو ہم کرتے ہیں۔۔”المان اُس کی ناکام کوششوں کو دیکھ کر بولا تو پِن اُس کو پکڑاتی وہ بیڈ پر بیٹھ گئ۔
“دوسری پِن دو۔۔”یہ خراب ہوگئ ہے۔۔”المان نے پِن کو دیکھ کر اُس کو کہا
“بیٹھ جاؤ تمہارے بس کی بات بھی نہیں ہے یہ۔۔۔”عیشا نے اپنا سر نفی میں ہلاکر کہا
“کوشش تو کرلینی چاہیے۔۔”المان نے کہا
“کرکے دیکھ لو۔۔”میرے پاس تو بس ایک پِن تھی۔۔”عیشا نے شانے اُچکاکر جواب دیا تو المان بھی اپنی کوششوں کو ترک کرتا اُس کے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا
“مجھے لگ رہا ہے۔۔”یہ رایان یا پھر سکندر کی کوئی شرارت ہے۔۔”عیشا نے کچھ توقع بعد کہا
“وہ ایسا کیوں کرینگے؟”المان نے پوچھا
“ڈونٹ نو۔۔”عیشا نے لاعلمی کا مُظاہرہ کیا تو دونوں کے درمیان خاموشی حائل ہوگئ۔۔
“تم نے پھر ہماری بات پر غور کیا؟”المان نے گردن موڑ کر اُس کو دیکھ کر پوچھا
“طلاق والی بات پر؟”عیشا نے بھی اُس کو دیکھا
“ہاں۔۔”المان یکلفظی بولا
“مجھے اگر طلاق چاہیے ہوتی تو چھ سالوں میں کورٹ سے کب کا خلع لے چُکی ہوتی۔۔”لیکن میں نے سوچا بغیر تمہیں موقع دیئے کوئی بھی میں اِتنا بڑا فیصلہ اکیلے نہیں لے سکتی۔۔”پر تمہاری ایک رٹ پر اندازہ ہورہا ہے کہ تمہیں کافی انٹرسٹ ہے علیحدگی میں۔۔۔عیشا نے کہا تو المان کو سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دے
“تم ہم سے پیار نہیں کرتی۔۔”ہمیں پسند نہیں کرتی تو پھر یہ رشتہ کیوں نبھانا چاہتی ہو؟”المان نے اُلجھن آمیز لہجے میں پوچھا
“کیونکہ تم میرے ڈیڈ کی پسند ہو۔۔”کیونکہ اسیر خالو کو لگتا ہے ہم دونوں کا جوڑ بیسٹ ہے۔۔”عیشا نے جواب دیا تو وہ لاجواب ہوگیا
“اور تمہاری اپنی رائے کیا ہے ہمارے مطلق؟”المان نے کچھ سوچ کر پوچھا
“میری؟”عیشا کے تمسخرانہ مسکراہٹ سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“ہاں تمہاری کیوں کیا ہوا؟”المان کو اُس کا ایسے ردعمل دینا سمجھ میں نہیں آیا
“میری اُس انسان کے لیے کیا رائے ہوگی۔۔”جس نے نکاح کے دن بولا تھا کہ ہمارا رشتہ بے جوڑ ہے۔۔”جس نے مجھے کوئی آسرا نہیں دیا تھا۔۔”کوئی جھوٹی اُمید نہ دلائی تھی۔۔”اور جب چھ سالوں بعد واپس آیا تو مجھ سے بولا کہ طلاق مانگو۔۔”تو ایسے شخص کے بارے میں کیا رائے ہوگی میری؟”خود سوچ کر بتاؤ مجھے۔۔”عیشا نے اُلٹا اُس سے سوال جواب کیا
“کیا یہ طنز ہے؟”المان نے پوچھا
“میں نے عام انداز میں ایک بات تم سے پوچھی ہے۔۔”عیشا نے شانے اُچکاکر جواب دیا
“ہم نے شاید سالوں پہلے خودغرضی کا مُظاہرہ کچھ زیادہ کرلیا تھا۔۔”المان نے اعتراف کیا
“اور اُس دن؟”عیشا نے یاد کروایا
“ہمیں لگتا ہے۔۔”ہم تمہارے قابل نہیں ہے۔ “تبھی اُس دن ہم نے تم سے یہ بات کی۔۔۔”المان نے وجہ بتائی
“ڈیڈ کو لگتا ہے تمہارے علاوہ میرے قابل کوئی اور نہیں۔۔۔”عیشا چہرے پر عجیب مسکراہٹ سجائے بولی
“کیا اِن سالوں میں تمہیں کسی سے پیار نہیں ہوا؟”المان نے پوچھا
“ہر لڑکی کی زندگی محبت کے گرد چکر نہیں کاٹتی۔۔”ہر لڑکی فیری ٹیل والی زندگی گُزارنا پسند نہیں کرتی۔کچھ لڑکیوں کے محبت کے علاوہ اپنے کچھ خواب اپنے کچھ گولز ہوتے ہیں۔۔”جن کو پورا ہوتا دیکھنا اُن کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے۔۔”اور میں ٹپیکل لڑکیوں سے تھوڑا الگ ہوں۔۔”میں محبت پر بلیو نہیں کرتی۔۔”ہلانکہ ہمارے یہاں سب کی لو میریج ہوئی ہے۔۔”عیشا نے بتایا تو وہ بس اُس کو دیکھتا رہ گیا
“ہاں تم واقعی عام لڑکیوں سے الگ ہو۔ن”المان نے تسلیم کیا
“پر تم الگ نہیں ہو۔۔”تم اُنہیں مردوں میں سے ہو۔۔”جن کو دبو قسم کی لڑکی چاہیے ہوتی ہے۔۔”جس کا سر جُھکا ہوا ہو۔۔”بات کریں تو درمیاں میں دس بیس پچکیاں بھرے۔۔”سامنے سے گُزرے تو اُس کے ہر قدم پر لرزش ظاہر ہو۔۔”جب کام کریں تو اُس کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہو۔۔”عیشا نے کہا تو المان نے لب بھینچ کر اُس کو دیکھا
“ایسی کوئی بات نہیں۔۔”کیونکہ ہمیں پتا ہے۔۔”ہم جس صدی میں پیدا ہوئے ہیں۔۔”وہاں ایسی لڑکیاں چراغ لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔۔”المان نے کہا تو اُس کی بات پر عیشا نے اپنی آنکھیں گُھمائی
“اچھی بات ہے جو تمہیں پتا ہے۔۔”عیشا نے سرجھٹک کر کہا
“تم نے سب کچھ بول دیا۔۔”لیکن ہمارے سوال کا جواب نہیں دیا۔۔”المان گھوم پِھر کر اپنے مطلب کی بات پر آیا
“تمہیں جواب میں دے چُکی ہوں۔۔”عیشا نے یاد کروایا
“وہ جواب ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔۔”المان نے بتایا
“تمہارے مطلب کا جواب کونسا ہوگا؟”یہی کہ میں تم سے طلاق لینا چاہتی ہوں۔۔”اور طلاق لوں گی بھی تو سوری۔۔”کیونکہ مسئلہ تمہیں ہے اِس رشتے سے۔۔”مجھے نہیں کیونکہ میں لڑکی ہوں۔۔کمپرومائز کرسکتی ہوں۔۔”پر تم نہیں کرسکتے تو یہ بات فیملی سے کروگے بھی تم۔۔”میرے کندھوں پر بندوق رکھ کر نہیں چلاسکتے مسٹر المان اسیر ملک۔۔”عیشا نے کہا تو المان بے اختیار مسکرا پڑا
“ہم نے ایسا نہیں چاہا تھا۔۔”المان نے بتایا
“ہاں تم نے ایسا نہیں چاہا تھا۔۔”بس میں ہی تم سے شادی کرنے کا خواب دیکھ کر بڑی ہوئی ہوں۔۔”عیشا اُس کی بات پر خاصے طنز لہجے میں بولی
“انکار تم بھی نہیں کرسکتی۔۔”اور ہم بھی نہیں تو کیوں نہ دونوں کمپرومائز کرتے ہیں؟”المان اُس کی رُخ کر بیٹھ کر بولا تو عیشا کو اُچنبھا ہوا
“تم کیوں کمپرومائز کروگے؟”عیشا نے پوچھا
“کیونکہ اور کوئی آپشن نہیں۔۔”اگر تمہارے پاس ہے تو بتاؤ۔۔”المان نے کہا
“تم مرد ہو انکار کرسکتے ہو۔۔”احتجاج کرنا تمہارا حق ہے۔۔”عیشا نے اُس کو دیکھ کر ٹھیرے ہوئے لہجے میں بولی۔۔”زبردستی کی قائل وہ بھی نہ تھی۔۔”لیکن آریان کا بھروسہ توڑنا اُس کے اختیار میں نہ تھا۔۔”وہ جانتی تھی۔۔”اُس کا انکار دو گھروں میں ڈرار پیدا کرے گا۔۔”اور وہ ایسا کبھی نہیں چاہ سکتی تھی
“احتجاج کرنے کا حق تو تمہیں بھی ہے۔۔”اور سالوں پہلے بھی تھا۔۔”پھر تم نے استعمال کیوں نہیں کیا۔۔”المان نے جاننا چاہا۔۔”اُس کا بغیر کسی واویلے پر نکاح پر حامی بھرنا اُس کو ابھی تک ٹھٹھکتا تھا
“بعض دفع فیصلے ہم لڑکیاں اللہ پر چھوڑ کر کرتیں ہیں۔۔”کیونکہ پتا جو ہوتا ہے وہ سنبھال لے گا۔۔”اور مجھے ایسا نہیں لگتا میری چوائس میرے موم ڈیڈ سے زیادہ اچھی ہوگی۔۔”عیشا نے بتایا
“کیا ہم اِس کو اپنی تعریف سمجھے؟”المان خوشفہم ہوا
“نہیں۔۔عیشا نے تڑاخ کر جواب دیا
“پھر؟
“یہ لائنز تمہارے لیے نہ تھی۔۔”میں نے بس اپنے ڈیڈ کی پسند کی بات کی۔۔”عیشا نے بتایا
“ہونہہ ہانی کو اب کال کرکے دیکھ لو۔۔”کیا پتا اُس کا سیل فون آن ہو اب۔۔”المان نے کہا
“میں ٹرائے کرتی ہوں۔۔”عیشا نے اپنا سیل فون لیا۔۔”اور دوبارہ زوہان کو کال کرنے لگی۔۔”لیکن اُس کا سیل فون پھر سے آف جارہا تھا
“بند ہے۔۔”عیشا نے بتایا
“ہم ماہی کو کال کرتے ہیں۔۔”المان اِتنا کہتا اُٹھ کر سائیڈ ٹیبل سے اپنا سیل فون لیا
“کرکے دیکھ لو۔۔”ضروری وقت پر ماہی نے کبھی کال اُٹھائی تو ہے نہیں۔۔”عیشا نے گہری سانس بھر کر کہا جس پر اپنا سر نفی میں ہلاتا وہ کال کرنے لگا۔۔”
“کیا ہوا؟”اُس کو دوبارہ نمبر ڈائل کرتا ہوا دیکھ کر عیشا نے پوچھا
“کال جارہی ہے۔۔”لیکن وہ اُٹھا نہیں رہی۔۔۔”المان نے بتایا
“مجھے پتا تھا۔۔”عیشا نے کہا اور تبھی کلک کی آواز پر دونوں الرٹ ہوئے
“گپ شپ ہوگئ دونوں کی؟”اب تھوڑی شادی کے بعد کے لیے بھی بچا کر رکھو۔۔رایان دانتوں کی نُمائش کرتا پوچھنے لگا تو اُس کو دیکھ کر عیشا کا پارا ہائے ہوا تھا
“تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں۔۔”دانت پر دانت جمائے کہتی وہ خطرناک تیور لیے اُس کی طرف بڑھنے لگی تو رایان باہر کو بھاگا تھا۔۔”پیچھے المان نے اُن کو یوں بھاگتا دیکھ کر اپنا سر نفی میں ہلایا تھا
“بھاگتے کہاں ہو؟”آج تمہیں میں زندہ چھوڑوں تو کہنا۔۔”اُس کے پیچھے بھاگتی عیشا دھمکی آمیز لہجے میں بولی
“مگر میں نے کیا کیا ہے؟”ایک صوفے پر اُچھلتا دوسرے پر جاتا وہ مسکین لہجے میں بولا
“میں نے تمہیں ایک کام کرنے کا بولا تھا۔ ۔”اور تم نے کیا کیا؟ “مجھے اُلٹی سیدھے مشورے دیتے فضول ہانکنے لگے۔ ۔”صوفوں سے کشن اُٹھاتی وہ اُس کی طرف پھینک کر بولی
“ہاں تو اِس میں مجھ معصوم کا کیا قصور؟ “نیٹ ورک ایشو تھا۔ ۔”تم ہائے بول رہی تھی تو میں سُن”بائے رہا تھا۔ ۔”تم نے کہا ہوگا۔ ۔”آؤ میں نے سُنا تھا۔۔”جاؤ۔۔”رایان صوفے کے پیچھے جُھک کر اب کی وضاحت کرنے لگا
“سب پتا ہے مجھے۔۔”تمہاری اب جو یہ ڈرامے بازی ہے نہ وہ میرے آگے نہیں چلے گی۔۔”شیشے کی ٹیبل سے کرسٹل اُٹھاکر کہتی وہ”کرسٹل اُس کی طرف پھینکنے والی تھی۔۔”جب رایان بول اُٹھا
“خُدا کا خوف کرو کچھ تیس لاکھ کا کرسٹل ہے اور وہ بھی فاحا خالہ کا فیورٹ ہے۔۔”خالو اسیر نے اُن کو یہ مان کی پیدائش پر تُحفے میں دیا تھا ۔۔
“یہ وہ نہیں ہے۔ ۔”کہنے کے ساتھ ہی عیشا نے وہ کرسٹل پوری قوت لگاکر اُس کی طرف پھینکا تو رایان اپنا بچاؤ کرتا سائیڈ پر ہوا تو سامنے دیکھ کر عیشا کا سانس اُپر کا اُپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔۔”کیونکہ پھینکا ہوا کرسٹل سیدھا اسیر کا نشانہ لے چُکا تھا۔ ۔”لیکن بروقت اسیر نے اُس کرسٹل کو ایک ہاتھ کی مدد سے کیچ کیا تو رایان داد دیتی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا پر اُس کے چہرے پر چھائی سنجیدگی دیکھ کر عیشا کی طرح وہ بھی اسٹچو بن گیا تھا۔ ۔”وہ دونوں اگر کسی سے تھوڑا بہت ڈرتے بھی تھے تو وہ”اسیر ملک تھا۔ ۔”اُن کو اِتنا ڈر زوریز سے بھی کبھی نہ لگا تھا۔ ۔”جتنا اسیر سے لگتا تھا۔ ۔”کیونکہ زوریز نے کبھی اُن کو غُصے سے نہیں دیکھا تھا۔ ۔”لیکن جیسی اُن کی حرکتیں ہوتیں تھی۔ ۔”ایسے میں اُس کے ارتکاب سے وہ بچ نہیں پائے تھے
“خالو وہ
“عیشا گڑبڑا کر کچھ کہنے والی تھی۔ ۔”لیکن ڈر کے مارے اُس سے کچھ بولا نہیں گیا۔۔”اور اُن کی گھبراہٹ حیرانگی میں تب بدلی جب اسیر کرسٹل کو اپنی جگہ رکھتا مسکراکر اپنے کمرے میں چلاگیا
“یہ میری گُناہگار آنکھوں نے کیا دیکھا؟ “عیشا کے پاس کھڑا ہوتا رایان حیرت سے بولا
“تمہارا پتا نہیں لیکن مجھے لگا جیسے اُنہوں نے اپنے ڈمپلز کا دیدار کروایا ہے۔ ۔”عیشا بھی اُس کی طرح حیران تھی۔
“کتنی حیرت کی بات ہے؟”رایان جھرجھری لیکر بولا
“ہاں اُن کو کرسٹل لگ بھی سکتا تھا۔ ۔”پر اُس کے باوجود اُنہوں نے ٹھنڈا ری ایکشن دیا۔۔”عیشا ابھی تک گُزرے ہوئے لمحات کے زیر اثر تھی۔ ۔”تبھی اُس کو محسوس نہیں ہوا تھا کہ رایان نے اپنا بازوں اُس کے کندھے پر ٹِکایا ہے
“شکر کرو کہ بچت ہوگئ۔ ۔”رایان نے کہا
“ہاں۔ ۔”بات کرتے کرتے عیشا چونک کر اُس کو دیکھنے لگی۔ ۔”جو اپنا پورا وزن اُس پر ڈالے کھڑا اپنی ڈارھی پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ ۔”موقع اچھا جانتی عیشا اُس کے بازو کو جھٹکا دیتی دور کھڑی ہوئی تو وہ نیچے گِر پڑا تھا
“اووئی ماں میری کمر۔۔۔”اپنی کمر پر ہاتھ رکھتا وہ درد سے بُلبُلا اُٹھا
“تم کس خوشی میں مجھ سے فری ہونے کی کوشش کررہے ہو؟ “عیشا نے اُس کو گھور کر پوچھا
“ناااااا شرممممممممم ناااااااااا حیااااااااا بھائی کو گِراتے ہوئےےےےےےےےےےےے تمہیں ایک بااااااار آئییییییییییی ۔۔”جواب میں آریان درد سے کراہتا اُس کو دیکھ کر کھینچ کر لفظ نکالنے لگا
“میرا نام عیشا ہے بدل دیتی ہوں۔ ۔”سامنے والی کی دِیشا۔ ۔”اِس لیے اگلی بار میری ہاں میں ہاں مِلانا۔۔۔عیشا وارن کرتی نظروں سے اُس کو دیکھتی اپنے بالوں کو جھٹکا دیتی جانے لگی
“خون تو تمہارا تمہاری رنگت کی طرح سفید ہوگیا ہے۔ ۔”پر انسانیت کی خاطر میری مدد کرو۔ ۔۔”رایان افسوس سے اُس کو جاتا دیکھ کر بولا
“کیسی مدد؟ “اُس نے رُک کر پوچھا
“زیادہ نہیں بس اُٹھانے میں مدد کرو۔ ۔۔”رایان نے کہا تو اپنے سر کو نفی میں ہلاتی وہ اُس کی طرف آئی
“دو ہاتھ۔ ۔”اپنا ہاتھ اُس کے آگے کیے عیشا نے کہا
“آہستہ۔۔۔”رایان نے اُس کے ہاتھ رکھنے پر زور سے اُپر کھینچا تو اپنی کمر پر ہاتھ رکھتا وہ دانت پیس کر بولا
“یہ پرومو تھا۔ ۔”ورنہ جتنا مجھے تم پر غُصہ ہے نہ اُس کا تمہیں اندازہ نہیں۔۔”عیشا نے سرجھٹک کر اُس کو دیکھ کر کہا
“میں نے کوئی گُناہ نہیں کیا تھا جس کی پاداش پر تم مجھ کو اِتنا سارا اگنور کرتی ہو۔ ۔”ہاتھ کو ہولا رکھو آخر کو رُخصتی والے دن قرآن کے سائے تلے میں نے ہی تمہیں رُخصت کرنا ہے۔ ۔”رایان نے اُس کو اپنی اہمیت جتلانی چاہی
“اُس کے لیے تمہارا شکریہ کیونکہ یہ کام کرنے کے لیے سکندر اور ہانی ہیں۔ ۔”تم بس اپنا بوریا بستر دوبارہ سے پیک کرو اور لاہور جانے کی کرو۔۔”عیشا نے اُس کی بات ہوا میں اُڑائی
“عیشو میں سیریس ہوں۔ ۔”اپنا غُصہ تھوک دو۔۔۔”اپنی پڑھائی کے لیے گیا تھا اِس میں کونسی بڑی بات ہے؟ “رایان نے سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا
“پڑھائی کے لیے نہیں گئے تھے۔ ۔”اِتنا مجھے بھی پتا ہے۔ ۔”جھوٹ اُس سے کہو جس کو تمہارے بارے میں پتا نہ ہو۔ ۔”مجھے اچھے سے پتا ہے تم اُس حوریہ
“عیشا۔۔
“عیشا سخت ناگوار لہجے میں اُس کو کچھ ابھی کہنے لگی تھی۔ ۔”جب رایان نے اُس کی بات کو درمیان میں کاٹ لیا
“کیوں کیا ہوا؟ “عیشا تمسخرانہ مسکراہٹ سے اُس کو دیکھنے لگی
“میں یہاں تمہاری اور اپنی بات کررہا ہوں تو بہتر ہوگا جو تم کسی تیسرے کا نام نہ لو۔ ۔”رایان نے کافی سنجیدگی سے کہا تو اُس کو چُپ سی لگ گئ۔ ۔”وہ بس رایان کو دیکھنے لگی جس کے تاثرات پل بھر میں بدل گئے تھے۔ ۔۔
“تم نے مائینڈ کیا۔۔”عیشا نے پوچھا
“میں اِس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔”رایان نے بتایا
“ٹھیک ہے پھر ہم نہیں کرتے اُس کی بات۔ ۔۔”عیشا نے شانے اُچکاکر کہا
“ناراضگی ختم ہوئی تمہاری؟”رایان نے پوچھا
“ہاں لیکن تھوڑی سی۔ ۔عیشا نے بتایا
“پوری کیوں نہیں؟ “رایان نے منہ کے زاویئے بگاڑے
“کیونکہ تم نے پھر واپس لاہور چلے جانا ہے۔ ۔”عیشا نے بتایا
“نہیں جاتا میں واپس۔۔”سی ایس ایس کی تیاری یہی کروں گا۔۔”تم بس اپنی پوری ناراضگی ختم کرو۔ ۔”رایان نے کہا تو عیشا کو حیرت ہوئی
“کیا تم سچ بول رہے ہو؟ “عیشا نے پوچھا
“تمہاری قسم سچ بول رہا ہوں۔ ۔۔”رایان نے معصوم شکل بنائے کہا تو وہ ہنس پڑی
“اب اچھی بہن بن جاؤ۔۔”رایان اُس کا ماتھا چومتا اپنے ساتھ لگائے بولا
“میرا رویہ تمہارے رویے پر ڈپینڈ کرتا ہے۔۔”عیشا نے جتانے والے انداز میں بتایا تو وہ مسکرایا پھر بولا
“یعنی آئے روز تمہارے ہاتھوں سے میری چھترول پکی۔۔؟
بلکل پکی۔۔”اِتنا کہتی اُس سے الگ ہوکر وہ اُس کے بال زور سے کھیچ کر بھاگنے لگی۔۔”تو دانت پیستا رایان اُس کے پیچھا بھاگا تھا۔۔”اب منظر کچھ یوں تھا کہ جہاں پہلے رایان آگے آگے اور عیشا پیچھے پیچھے تھی۔۔”اب عیشا آگے آگے تھی تو رایان اُس کے پیچھے تھا۔۔”پوری حویلی میں اُن کو چیخنا چلانا تھا۔۔”دونوں بلند آواز میں بس ایک دوسرے کو وارننگ دینے میں مصروف تھے
________________________
“مجھے آپ خوش نہیں لگتی۔ ۔”شادی کے بعد آپ میں کافی بدلاؤ سا آیا ہے۔۔۔”زوہان اقدس کو دیکھ کر بولا۔۔”وہ دونوں اِس وقت لان میں چہل قدمی کررہے تھے
“ہم خوش ہیں ہانی۔۔”تم پریشان نہ ہو۔۔۔”اقدس نے اُس کو دیکھ کر کہا
“آپ کے سُسرالیوں کا رویہ کیسا ہوتا ہے؟”اسپیشلی آپ کے شوہر کا؟”زوہان نے پوچھا
“سب کا سہی ہوتا ہے اور آتش کا بھی۔۔”اقدس نے بتایا
“وہ آپ کو وقت تو دیتے ہیں نہ؟”زوہان نے پوچھا
“ظاہر سی بات ہے۔۔”ہم اُن کی بیوی ہیں تو وقت تو دینا ہی ہے اُن کو۔۔۔”اقدس مسکراکر بولی
“جی یہ بات تو ہے۔ ۔”پر وہاں کے فیملی میمبرز زیادہ بزی رہتے ہیں نہ تو سوچا آپ سے پوچھ لوں۔۔”زوہان نے کہا تو اقدس نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھا
“وہاں کا ماحول بس ہمارے ماحول جیسا نہیں۔ ۔”وہ مختلف ہے۔ ۔۔”اور نئے ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں وقت تو لگتا ہے نہ پھر آہستہ آہستہ اِن شاءاللہ ہم عادی ہوجائے گے۔۔۔”اقدس نے سادہ لہجے میں بتایا
“عادی یا پھر سمجھوتہ کرنا سیکھ لینگی؟ “زوہان نے کافی سنجیدگی سے سوال کیا تو اقدس خاموش رہی
“کیا ہوا؟ “اُس کو چُپ دیکھ کر زوہان نے پوچھا
“کچھ نہیں بس سوچ رہے تھے کہ اب اندر جانا چاہیے۔ ۔”اقدس نے بتایا
“جی جانا چاہیے۔ ۔”پر آپ یہاں رہنے والی ہیں۔ ۔”یا وہ لینے آئے گے آپ کو؟ “زوہان نے پوچھا
“ہمارا نہیں خیال ویسے بھی ہمیں یہاں آئے کچھ گھنٹے ہوئے ہیں۔ ۔”وہ اِتنی جلدی لینے نہیں آئے گے۔ ۔”اقدس نے جیسے ہی کہا ٹھیک اُسی وقت ایک بڑی گاڑی گیٹ سے حویلی میں داخل ہوئی تھی
“یہ تو آگئے ہیں۔ ۔”لگتا ہے واپس نہیں تھے گئے۔ ۔”زوہان نے آتش کو گاڑی سے باہر نکلتا دیکھا تو کہا
“اِس بندے کا کچھ پتا نہیں چلتا کب کیا کرجائے؟ “نو آئیڈیا۔۔”اقدس بے ساختہ جھرجھری سی لیکر بولی
“یہ اِتنے سیریس موڈ میں کیوں رہتے ہیں؟ “زوہان نے دور سے ہی اُس کے چہرے پر چھائی سنجیدگی کا اندازہ لگائے کہا
“باہر آتا ہے تو خود کو ایسے شو کرواتا ہے۔ ۔”جیسے اِس سے زیادہ کوئی سنجیدہ انسان اِس پوری دُنیا میں نہیں۔ “لیکن گھر میں اِس کی بتیسی بند نہیں ہوتی۔۔”اقدس نے آتش کو دیکھ کر کہا جس کا چہرہ ضرورت سے زیادہ سپاٹ تھا۔ ۔
“آپ اُن پر کافی تپی ہوئیں ہیں۔۔”خیریت ہے نہ؟”زوہان مبہم مسکراہٹ سے پوچھنے لگا
“ہاں خیر ہے۔۔”اقدس نے اپنے تاثرات نارمل کیے کہا
السلام علیکم ۔۔۔”آتش اُن دونوں کے قریب پُہنچا تو زوہان نے سلام کیا
وعلیکم السلام ۔۔”اپنی چیزیں لاؤ۔۔”ہم شہر جارہے ہیں۔۔”سنجیدگی سے زوہان کو اُس کے سلام کا جواب دیتا آخر میں وہ اقدس کو دیکھ کر بولا
“لیکن کیوں؟”اور آپ اِتنی جلدی لینے بھی آگئے۔۔کیا آپ واپس نہیں گئے تھے؟”اقدس کو حیرت ہوئی
“گیا تھا مطلب جارہا تھا۔۔”لیکن پھر تمہاری یاد نے واپس کھینچ کر یہاں آکر چھوڑا۔۔”آتش نے اُس کی بات کے جواب میں کہا تو”زوہان کے سامنے وہ خوامخواہ شرمندہ سی ہوگئ۔۔۔
“ابھی آپ اندر آئے کچھ دیر بعد چلتے ہیں۔۔۔”اقدس نے سنجیدگی سے کہا
“ویسے تم یہاں اکیلے کیا کررہی ہو؟”تمہیں اپنے گھر کے اندر ہونا چاہیے تھا۔۔”آتش اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر پوچھنے لگا
“ہم یہاں باتیں کرنے آئے تھے۔۔”اِس بار جواب زوہان نے دیا تھا
“کونسی باتیں؟”جس کو کرنے کے لیے تم دونوں یہاں آگئے؟”آتش کے لہجے میں جلن صاف محسوس کی جاسکتی تھی۔۔
“دونوں بہن بھائی خود سے مفروضے قائم کرکے جلتے رہتے۔۔”زوہان آتش کو دیکھتا اپنا سر نفی میں ہلاکر بس یہ سوچ پایا
“کچھ ضروری باتیں تھیں۔۔”اقدس نے بتایا
“کونسی ضروری بات؟”آتش نے پوچھا
“آپ کو جاننے میں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔۔”اندر چلے۔۔”اقدس نے جیسے اُس کو ٹالا
“تمہاری شادی نہیں ہوئی نہ ابھی تک؟”آتش نے براہ راست زوہان کو دیکھ کر کہا
“نہیں۔۔”زوہان نے بتایا
“کیوں؟”آتش نے سنجیدگی سے پوچھا
“آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟”میرے لیے کوئی رشتہ لیکر آئے ہیں کیا؟”زوہان کو اُس کے سوالات پسند نہ آئے
“لیکر آیا تو نہیں لیکن سوچ رہا ہوں۔۔”لے آؤں۔۔”آتش نے بامشکل اپنے لہجے کو نارمل بنائے کہا
“کیوں؟”پرائم منسٹر کی کُرسی سنبھالنے کے ساتھ ساتھ آپ نے میرج بیورو بھی کھول لیا ہے؟”زوہان نے جواباً پوچھا تو اقدس کو بے ساختہ ہنسی آئی تھی۔۔”البتہ آتش کے سر پہ لگی اور تلوؤ پہ بُجھی تھی
“ہاں وہ بھی کھول لیا ہے۔۔”اور سوچ رہا ہوں پہلا رشتہ تمہارا کرواؤں۔۔”سالے صاحبببببب۔۔”آتش نے”سالے صاحب”پر خاصہ زور دیتے ہوئے کہا
“کیوں نہیں سالے صاحب۔۔”زوہان کی آجکل پھلستی زبان ایک بار پھسلی تو آتش کے ساتھ ساتھ اقدس کو بھی اُچنبھا ہوا
“کیا تم نے مجھے گالی دی؟”آتش نے خون آشام نظروں سے اُس کو گھورا تو زوہان نے اپنا گلا کُھنکھار کر اُس کو دیکھا جو پل بھر میں آتش فشاں بن گیا تھا
“ہانی کسی سے مس بیہیو نہیں کرتا۔۔”وہ بس آپ کے سوالوں سے زچ ہوگیا ہے۔۔”اقدس نے زوہان کی طرفداری کرتے ہوئے کہا
“ہاں تمہیں تو بڑا پتا ہے۔۔”آتش کو اُس کا زوہان کی سائیڈ لینا ایک آنکھ نہ بھایا تھا
“جی وہ اِس لیے کیونکہ یہ مجھ سے بہت پیار کرتیں ہیں۔۔”میرا بہت خیال بھی بہت رکھتی تھیں۔۔”ایوین اب بھی رکھتی ہیں۔۔”مجھے میری موم کے بعد اگر کوئی قریب سے جانتا ہے تو وہ یہ ہیں۔۔”زوہان نے بھی سوچا کیوں نہ جلنے والے کو مزید جلایا جائے
“ایج کیا ہے تمہاری؟”آتش کا بس نہیں چلا ورنہ وہ اپنی نظروں سے زوہان کو بھسم کر ڈالتا
“آپ کی ایج کیا ہے؟”زوہان نے اُلٹا اُس سے سوال کیا
“پہلے سوال میں نے کیا تھا؟”آتش نے جتایا
“میں اسکول ٹائیم سے فرسٹ کوئیسشن اگنور کرتا ہوں۔۔”زوہان نے مسکراکر بتایا تو آتش کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔۔
“تم
“ہانی تم اندر جاؤ۔۔”اقدس آتش کو غُصے میں آتا دیکھ کر زوہان سے کہا
“جی جیسا آپ کہے۔۔”زوہان جاتے جاتے ہوئے بھی آتش کو آگ لگانا نہیں بھولا تھا
“تو یہ تھا تمہارے خاندان کا شریف سُلجھا ہوا بچہ؟”آتش نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا تو اقدس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دے؟”حیران تو وہ خود بھی تھی کہ خاموش رہنے والا کم گو زوہان آج یوں حاضر جوابی کا مُظاہرہ کیوں کررہا تھا؟”
“ہاں شریف اور سُلجھا ہوا بچہ ہے۔۔”گونگا یا بہرہ نہیں جو آپ اُس کو کچھ بھی بولے گے اور جواب میں وہ خاموش رہے گا۔۔”اقدس نے سنبھل کر کہا
“اندر چلو تمہارے والدین کو سلام کرنے کے بعد شہر کے لیے نکلنا بھی ہے۔۔”آتش نے تپ کر کہا
“چلیں۔۔”اقدس نے اُس کو آنے کا اِشارہ کیا تو وہ اپنی شال کندھے پر سہی کرتا وہ اندر کی طرف بڑھا۔۔
“اور ابھی وہ حویلی کے وسط پر کھڑا ہال میں داخل ہونے لگا تھا جب اقدس کی دل دُہلانے والی چیخ سُن کر وہ پلٹ کر جلدی سے اُس کی طرف آیا
“آہ آہ آہ
کیا ہوا؟”تم ٹھیک ہو؟”اقدس کو آنکھیں میچ کر بس چیختا دیکھ کر وہ حقیقتاً بہت پریشان ہوا تھا۔۔”لیکن اقدس سُن کہاں رہی تھی؟”وہ تو بس چیخے مارنے میں مصروف تھی
“زوجہ کیا ہوا ہے؟”میری طرف دیکھو۔۔”اُس کو اپنے حصار میں لیتا چہرہ اپنی طرف کیے وہ فکرمندی سے پوچھنے لگا تو اقدس نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھوں کو دیکھا
“کیا ہوا؟”کیوں چیخی اِتنا؟”آتش نے نرمی سے پوچھا
“وہ
اقدس نے سامنے کی طرف اِشارہ کیا
“وہ کیا؟”آتش کو سمجھ میں نہیں آیا
“چچ چپکلی۔۔اپنے سوکھے پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر اقدس نے بتایا
“میری نہ تم بات کان کھول کر سُنو۔۔”تمہاری ہر پچکانہ حرکتیں برداشت کرتا ہوں۔۔”تو اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوا کہ اب تم مجھے”چپکلی کا خطاب دے ڈالوں گی تو میں خاموش رہوں گا۔۔۔”اگر واقعی میں چپکلی کی طرح چپک گیا نہ تو لینے کے دینے پڑجانے ہیں تمہیں۔۔”آتش کی پیشانی پر جہاں پریشانی کی لکیریں تھیں اب وہاں بل نُمایاں ہوئے تھے۔۔
“تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے وہ دیکھو چپکلی۔۔”اقدس پریشانی میں”آپ سے تم تک کا سفر کرتی اُس کا رُخ سامنے کی طرف کیا تو آتش غور سے دیوار کو دیکھنے لگا
“تم اِس کو دیکھ کر چلائی؟”آتش کو یقین نہ آیا
“ہاں آپ پلیز اب اِس کو مارے کتنی گندی ہے۔۔”اگر کاٹ واٹ لیا تو اِس کے زہر سے ہم مرجائے گے۔۔”اقدس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں اُس کو کہا تو صبر کا گہرا گھونٹ بھر کر آتش جہاں تھا وہاں دیکھتا پھر اُس دیوار کو دیکھنے لگا جو اُن سے کافی دور تھی۔۔”تقریباً سات قدموں تک
“شکر ہے اللہ نے اِس چپکلی کو پٙر نہیں دیئے ورنہ کاٹنے کے زہر کا تو پتا نہیں لیکن تمہارا ہارٹ فیل ضرور ہوجاتا۔۔”آتش خاصا تپا ہوا معلوم ہوا
“فضول باتیں ہوگئ ہو تو اِس کو مارے۔۔”اقدس نے جھرجھری لیکر کہا تو اپنی آئبرو کو اُنگھوٹے سے مسلتا وہ بس چپکلی کو دیکھنے لگا جو چیونگم کی طرح دیوار سے چپکی ہوئی تھی
ہم نے تمہیں چپکلی کو مارنے کے لیے کہا ہے۔ ۔”اور تم ہو بس چپکلی کو دیکھے جارہے ہو۔ ۔”جیسے آج سے پہلے کبھی چپکلی کو دیکھا نہ ہو۔ ۔۔”اقدس کو اُس پر غُصہ آیا۔۔”وہ کب سے اِس انتظار میں تھی کہ وہ اب اُس کو مارے اب مارے گا۔۔”لیکن اُس کو تو چپکلی دیکھنے سے فُرصت نہ تھی
“میں چپکلی کی کمر کا سائیز چیک کررہا تھا۔ ۔۔”آتش نے کافی پرسوچ لہجے میں اُس کو بتایا تو اقدس ہونک بنی اُس کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔”یعنی بس یہی کام رہ گیا تھا؟ “اُس کو تو سوچتے ہوئے بھی اُبکائی سی آرہی تھی
“کمر کا سائیز سیریسلی؟”اقدس کو یقین نہ آیا
“ہاں کیوں؟ “دیکھنے تو دو کہ اِس میں ہے کیا جو آج تک تم مجھ سے نہ ڈری اور اِس چپکلی کو دیکھ کر ایسے چیخے مار رہی تھی جیسے سامنے ملک الموت ہو۔ ۔۔۔آتش نے اِس بار سرجھٹک کر کافی سیریس انداز میں بتایا تو اقدس کا دل چاہا اپنا سر دیوار پر مارے۔۔”جبکہ آتش کی گھورتی نظریں دیوار پر موجود چپکلی پر تھی
” مجھے قے آرہی ہے۔ ۔۔”اقدس سے چپکلی کو دیکھنا پھر آتش کی اِسی بے تُکی باتیں سُن کر جی متلانے لگا تھا
“قے کیوں آرہی ہے؟ “ابھی تو ہمارے درمیاں ایسا ویسا کچھ بھی نہیں ہوا؟ “آتش شدید حیرانگی کے عالم میں اِس بار اُس کو دیکھ کر بولا تو اقدس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ اِس بے شرم انسان کو اب وہ کیا جواب دے
“ہمیں پہلے لگتا تھا۔۔”آپ بے شرم ہیں۔۔”لیکن اب آپ کو بے شرم بولتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔۔”کیونکہ یہ لفظ تو کچھ بھی نہیں۔۔”آپ تو اِس سے زیادہ پُہنچی ہوئیں چیز ہیں۔۔”اقدس نے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتی ہوئی بولی
“کرلی میری تعریف!”نکال لی دل کی بھڑاس؟”ہوگیا من ہلکا؟”اب اندر چلنے کی کرو۔۔”آتش اُس کو گھور کر کہتا اندر لیجانے لگا
“رُکے تو ایسے کیسے اِس کو مارے نہیں تو حویلی میں داخل ہوجائے گی۔۔”اقدس نے اُس کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
“آجائے گی تو کیا ہوا؟”حویلی بڑی ہے تو اپنے دل کو بھی بڑا کرو۔۔”ایک کونے میں پڑی رہی گی۔۔”کسی کا کیا جائے گا؟”آتش کے پاس ہر سوال کا جواب موجود تھا
“کیا بات کررہے ہو آپ؟”یہ سہی نہیں ہے۔۔”اگر یہ داخل ہوگئ تو ہمارے گھروالے کیا کرینگے؟”اقدس کو سمجھ نہیں آیا وہ کیسے اُس کو راضی کرے
“چپکلی کو فرائے کرلے گے۔۔”آتش نے اِس بار جل کر کہا تو اقدس نے بے ساختہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔”اور اُس کے ساتھ چلتی وہ بس اُس کو حیرت سے دیکھنے لگی جو ایسی فضول بات کرنے کے بعد بھی نارمل تھا۔۔”اُس کے چہرے کے تاثرات نارمل تھے۔۔
