Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 16)

Salam Ishq by Rimsha Hussain
 

“دیکھو تم سہی سے مجھے جانتے نہیں”خیر میرا اِس وقت اپنا تعارف کروانے کا موڈ نہیں تو بہتر ہوگا جو تم یہاں سے اُٹھنے کی کرو گے۔۔ایشال نے گہری سانس بھر کر اُس سے کہا

“بات صرف ایک سیٹ کی ہے”اگر آپ یہاں بیٹھی تھیں تو یہ سیٹ آپ کے نام پر نہیں ہوگئ۔۔”زوہان نے اُس کی بات کے جواب میں کہا

“یہ میری سیٹ ہے میں نے اِس پر اپنا نام بھی لِکھا تھا۔۔ایشال اِتنا کہتی سیٹ کا جائزہ لینے لگی”لیکن اُس کو کوئی چِٹ نظر نہیں آئی

“چِٹ پر لکھا ہوا تھا”ایشال لُغاری”لیکن پھر ہم نے وہ چِٹ پھاڑ کر پھینک دی تھی۔”اگر آپ کو اپنی چیز پر کسی اور کا چھونا پسند نہیں تو اِس کے لیے ایک آسان حل ہے میرے پاس”آپ اپنے گھر سے کوئی سیٹ اُٹھاکر یہاں رکھ دے”ٹرسٹ می پھر آپ کا نام نہ بھی ہو تو کوئی وہاں بیٹھنے کی جُرئت نہ کرے گا۔۔زوہان نے اِس بار اُس کو دیکھ کر کہا تو ایشال نے نفرت سے اُس کی نیلی آنکھوں میں دیکھا جو بہت خوبصورت اور اٹریکٹو تھیں

“سُنو نیلی آنکھوں والے”مجھے بحث کرنا بلکل بھی پسند نہیں”اور نہ فضول باتوں کو طویل دینا میری عادت میں شُمار ہے”میں مختصر بات کرنے والی ہوں”اور اچھا ہوگا جو تم بھی مجھ سے توں تراں کے بجائے اصل کام پر آؤ گے اگر تو۔۔۔ایشال تھوڑا اُس پر جُھک کر بولی تو بے اختیار زوہان نے اپنا چہرہ دوسری طرف کیا تھا'”پوری کلاس میں اِس وقت عجیب سناٹے کا راج تھا”ہر کوئی پلکیں جھپکائے بنا اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا”اور سوچ رہا تھا کہ دونوں میں سے کون؟”اپنی ضد سے اُترے گا۔”اُن کو ایشال کا پتا تھا وہ ایشال تھی ایشال لُغاری۔ ۔”سب سے الگ سب منفرد سوچ رکھنے والی

“وہ بغیر کسی اپنے مفاد کے مُخاطب نہیں ہوا کرتی تھی۔۔۔”اور آج جس طرح سے اُس کے تاثرات بِگڑے ہوئے تھے ہر ایک کو یقین تھا کہ کوئی بڑا تماشا ضرور ہوگا

“آپ کی نظر میں اصل بات کیا ہے؟”میرا یہاں سے اُٹھنا؟زوہان نے پوچھا”تبھی کلاس میں عیشا “رایان” سکندر”المان داخل ہوئے تھے”اور سامنے والا منظر دیکھ کر اُن چاروں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا تھا۔۔

“وہ تو پُھلجڑی تھی”لیکن ہمارا ہانی کب سے پھلجڑا بن گیا؟”پوزیشن تو چیک کرو زرا۔۔”ایک سنی لیون کی ڈوپلیکیٹ چابی ہے تو ہمارا ہانی عمران ہاشمی بننے کی تیاری میں ہے۔۔۔رایان کی زبان میں کُھجلی ہوئی تو اُس نے اپنی زبان کے جوہر دیکھانا شروع کیے

“شرم کرو”اور یہ کیا اُس لڑکی کو بار بار پھلجڑی بول رہا ہے۔۔”

اگر ہانی کو پتا چل گیا نہ کہ توں نے اُس کو عمران ہاشمی کہا ہے پھر تیری خیر نہیں۔۔”سکندر اور المان نے رایان کو گھور کر بیک وقت کہا

“کافی سمجھدار ہو تم۔۔اِتنا کہتی ایشال سیدھی ہوکر کھڑی ہوگئ

“میں یہاں سے نہیں اُٹھوں گا۔۔”میں بیٹھ چُکا ہوں اگر آپ کو یہاں بیٹھنا ہے تو کل کلاس میں مجھ سے پہلے آئیے گا۔۔وہ بھی زوہان تھا اگر اپنی پر آتا تو کسی کے باپ بھی سُننا گوارا نہ کرتا تھا اور ایشال نے تو بلاوجہ اُس کو ضد دِلا دی تھی تو کیسے ممکن تھا کہ اب وہ اُٹھتا”یہ ایک طرح سے اُس کی ہار ہوتی اور زوہان کو اپنی ہار قطعاً پسند نہ تھی۔۔”لیکن وہ نہیں تھا جانتا کہ سامنے کھڑی لڑکی بھی اپنے نام کی ایک ہے۔۔

“جہاں تک میرے کان کی سماعتیں کام کررہی ہیں”اُس سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں پرائمری کے اسکول کی طرح “میری ڈیسک میری ڈیسک” بول رہے ہیں”مطلب اُس کی وجہ سے لڑ رہے ہیں۔۔رایان اپنا تُکہ لگاکر بولا

“دونوں میچیور قسم کے لگ رہے ہیں”میرا نہیں خیال کہ یہ ایک چھوٹی سی سیٹ کے لیے لڑائی کرینگے۔۔۔سکندر نے اُس کی بات کی نفی کی

“اوو ہیلو یہاں کوئی میچیور نہیں ہوتا”ہر ایک کے دماغ کا میٹر شاٹ ہوتا ہے۔۔رایان نے اُس کو گھور کر کہا

“آپس میں تُکے لگانے سے اچھا نہیں کہ اُن کی طرف جایا جائے؟عیشا نے باری باری دونوں کو گھور کر کہا

“زندگی میں پہلی بار اِس نے عقلمندانہ بات کہی ہے۔۔المان عیشا سے لڑائی کرنے والا ہاتھ آیا موقع بھلا کیسے جانے دے سکتا تھا

“اور زندگی میں پہلی بار تمہیں کوئی بات آسانی سے سمجھ آئی ہے۔۔۔عیشا تُرکی پر تُرکی بولی تھی

“دیکھو نیلی

“زوہان نام ہے میرا۔۔۔”وہ جو اُس کو”نیلی آنکھوں”والا بول کر مُخاطب کرنے لگی تھی”اُس کے ایسے ترز خطاب پر زوہان نے ٹوک کر بولا

“واٹ ایور۔۔ایشال نے منہ کے زاویئے بگاڑے

“کلاس شروع ہونے میں کم وقت بچہ ہے”آپ کو اب بیٹھنا چاہیے۔۔۔زوہان نے کہا

“ہانی کیا مسئلہ ہے؟عیشا اُن تینوں کے ساتھ آتی زوہان سے مُخاطب ہوئی

“واٹ ہانی؟’کیا لڑکیوں والا نام ہے۔۔۔ایشال تمسخرانہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی تو اُس کے ساتھ کھڑی اُس کی دوست جو اب تک خاموش تھی۔۔”اُس نے پروفیسر کو کلاس کے تھوڑا دور دیکھا تو ہڑبڑائی

“ایش ابھی چلو پروفیسر آنے والا ہے۔۔اُس نے جلدی سے ایشال سے کہا

“ایش؟کیا مردانہ نام ہے۔۔۔زوہان نے پل بھر میں حساب بے باک کیا تو المان نے علاوہ عیشا”رایان”سکندر یہ تینوں زور سے ہنسے تھے”البتہ ایشال کا پورا چہرہ غُصے کی شدت سے سرخ ہوگیا تھا

“میرا نام بگاڑنے کی تمہیں قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔۔ایشال نے اُس کو وارن کیا

“ڈیٹس مائے لائنز۔۔۔۔زوہان نے جواباً اُس کو دیکھ کر کہا تب تک پروفیسر کلاس میں اینٹر ہوچُکا تھا۔۔’جس پر افراتفری میں جس کو جو سیٹ نظر آئی اُس پر وہ بیٹھ گیا”ڈائس کے پاس کھڑے ہوتے پروفیسر نے ایک طائرانہ نظر پورے کلاس پر ڈالی پھر “ایشال کو دیکھا جو اپنی جگہ سے ایک آنچ تک نہ ہلی تھی

Eshal what is your problem?

پروفیسر نے اُس کو کھڑا دیکھا تو سنجیدگی سے استفسار ہوا

“یہ نیلی آنکھوں والا میرا مسئلہ ہے۔۔”اِس سے کہے”یہاں سے اُٹھے یہاں میں بیٹھا کرتی ہوں۔۔ایشال نے زوہان کی طرف اِشارا کرتے پروفیسر سے کہا تو وہ چونک کر زوہان کو دیکھنے لگے”جو لاتعلق سا بیٹھا تھا۔۔۔

“آپ دوسری جگہ پر بیٹھے۔۔۔پروفیسر نرمی سے بولا

“نو یہ میری جگہ ہے”اور مجھے یہی بیٹھنا ہے”اور کیا آپ کو یاد نہیں کہ پورے ایک ماہ سے لیکچر کے دوران میں یہی بیٹھا کرتی تھی”اب کوئی نیا اسٹوڈنٹ کیسے؟”میری سیٹ سنبھال سکتا ہے۔۔ایشال گویا بھڑک اُٹھی

“اِس سیٹ پر کونسی نایاب ہیرے جڑیں ہیں”جو اِتنی ضد لگائی ہوئی ہے؟عیشا نے بلآخر اُس کو ٹوک دیا

“I’m not taking to you”

“ایشال نے سخت نظروں سے عیشا کو دیکھ کر کہا تھا

“یہ غُصے میں لوگوں کے منہ سے انگریزی کیوں نکلتی ہے؟رایان اپنی گردن پر ہاتھ پھیرتا دھیمی سرگوشی نما آواز میں سکندر سے بولا

“پتا نہیں یہ کیا لوجک ہے۔۔’غُصے میں تو مجھ سے بولا نہیں جاتا تو انگریزی کیسے بولوں؟”خوامخواہ انگریزی کا کوئی لفظ یہاں سے وہاں ہوگیا تو کہینگے اِس بندے کو انگریزی نہیں آتی۔۔سکندر نے بھی اُس کی طرح آہستہ آواز میں جواب دیا

“سہی کوشش بھی کرنا کوئی ایسی”یہ ٹیلینٹ بس لڑکیوں میں پایا جاتا ہے۔۔رایان نے اُس کا کندھا تھپتھپاکر کہا

But I’m taking to you’dear Eshal laghari.

“عیشا “ایشال کے برعکس پرسکون لہجے میں بولی تھی

“عیشا آپ خاموش رہے۔۔۔”اور ایشال اِس میں کوئی بڑی بات نہیں”آپ کسی اور کے ساتھ بیٹھ جائے مجھے کلاس بھی شروع کرنی ہے۔۔پروفیسر نے پہلے”عیشا اُس کے بعد ایشال سے کہا

“نو نیور”میں یہی بیٹھوں گی۔۔”اور یہ خود کو سمجھتا کیا ہے”ایسے ہی میری چیز پر قبضہ جمائے گا اور میں خاموش رہوں گی؟”ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔۔ایشال نے اپنا سر زور سے نفی میں ہلاکر بتایا تو “پروفیسر کو وہ دن آیا جب اُنہوں نے آتش کو یونی میں آنے کا کہا تھا”تاکہ وہ اُس سے ایشال کے بارے میں بتاسکتے۔۔

💮

“مسٹر آتش کیا ایشال لُغاری آپ کی بہن ہے؟”پروفیسر مطین نے اپنے سامنے خاکی رنگ کی شرٹ”جس کے اُپری تین بٹن کُھلے ہوئے تھے”ساتھ میں بلیک جینز پینٹ میں ملبوس آتش کو دیکھ کر پوچھنے لگا”جس کا ہاتھ اپنے گلے میں پہنے لاکٹ میں اٹکا ہوا تھا اور وہ بار بار اُس سے چھیڑ چھانی کرنے میں لگا ہوا تھا”جبکہ اُس کے بوٹ میں چُھپے پاؤں کی ٹِک ٹِک آفس میں گونج رہی تھی کیونکہ وہ زور سے اپنا پاؤں فرش پر مار رہا تھا۔”پروفیسر نے دو تین بار اُس کو ٹوکا تھا”لیکن آتش نے یہ بول کر اُن کو خاموش کروایا کہ

“مجھے چُپ چاپ شریفوں کی طرح بیٹھنا نہیں آتا۔۔۔”

“وہ میری بہن ہے”یہ پورا پاکستان جانتا ہے کیا آپ کو نہیں پتا؟آتش نے اُلٹا اُن سے سوال کیا

“مجھے پتا ہے تبھی آپ کو یہاں آنے کا کہا تھا۔۔پروفیسر نے گہری سانس بھر کر اُس سے کہا

“اگر پتا ہے تو اگین پوچھنے کا مطلب؟آتش نے کہا تو پروفیسر نے اِس بار ضبط بھرا سانس کھینچا

“ایشال کے ساتھ کیا کوئی مسئلہ ہے؟”ایک ویک ہوا ہے یونی کو جوائن کیے”لیکن اِن سات دِنوں میں شاید ہی کوئی ہو جس سے اُس نے لڑائی نہ کی ہو۔۔”اور تو اور بلاوجہ چیختی رہتی ہے”کسی سے بات تو کرتی نہیں اور اگر کر بھی لے تو عجیب ماحول بنادیتی ہے۔۔پروفیسر اصل بات پر آیا

“آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں کہ میری بہن پاگل ہے؟آتش کافی سنجیدہ انداز میں اُن سے پوچھنے لگا

“میرا یہ مطلب ہرگز ن

“اگر آپ ایسا کہنا چاہ رہے ہیں تو”آپ کا شک بلکل دُرست ہے ایسا ہی ہے۔۔پروفیسر وضاحت دینے لگا تھا جب آتش نے اُن کی درمیان میں کاٹ کر پرسکون لہجے میں کہا

“مطلب؟پروفیسر حیرت سے اُس کو دیکھنے لگا

“مطلب یہ کے اُس کے دماغ کا جو ٹاپ فلور ہے نہ وہاں موجود فیوز یہاں وہاں ہوگئے ہیں”تبھی وہ ایسے ری ایکٹ کرتی ہے۔۔”ہر ماہ کا پروپری سائکاٹرسٹ کے پاس اُس کو لے جاتے ہیں”لیکن پرمینینٹلی اُس کو پاگل خانے چھوڑ نہیں سکتے۔۔”آپ کو تو پتا ہے ہماری پوزیشن کا میڈیا والے تو ہر وقت ہماری طاق میں ہوتے ہیں”اِس لیے ہمیں پھونک پھونک کر قدم اُٹھانا پڑتا ہے ورنہ دُنیا والے تو جانے کیا کچھ بولے گے ہماری ایشو کے بارے میں۔۔”ماں کی لاڈلی ہے تو باپ کے دل کی دھڑکن ایسے میں آپ بتاؤ ہم اُس کو ڈانٹ کر مزید اُس کی دماغی حالت کو خراب کرسکتے؟آتش نے اپنے نا آنے والے آنسوؤ کو صاف کرکے کہا تو پروفیسر صاحب کا سر خودبخود نفی میں ہلا تھا

لیکن ایک بات سمجھ نہیں آئی”اِتنے اُونچے خاندان کی لڑکی کے ساتھ یہ مسئلہ کیسے؟”وہ ایسی کیوں ہے؟پروفیسر نے الجھ کر پوچھا

“اِس سوال سے بچنے کے لیے تو ہم ایشو کی کنڈیشن کو بیان نہیں کرتے”ہمارے پاس اُن کے سوالوں کا جواب نہیں ہوتا۔۔۔”بہت تکلیف دہ لمحہ ہوتا ہے”میرے لیے بہن کے اِس کنڈیشن کو بیان کرنا۔۔۔آتش اپنی اداکاری سے بڑے بڑے ایکٹرز کو مات دیتا بولا تو پروفیسر شرمندہ ہوا کہ اُس نے ایسا سوال آخر کیا کیوں؟

“سوری۔۔پروفیسر نے معذرت کی

“نو پروفیسر بس ایک بات کہنا چاہوں گا۔۔آتش نے کہا

“جی آپ کریں۔۔پروفیسر نے جلدی سے کہا

“جو جیسا اُس کی بدولت ہورہا ہے آپ ہونے دے۔۔۔آتش نے ابھی اِتنا کہا جب پروفیسر بول اُٹھا

“لیکن مسٹر آتش یہ سہی نہیں ہے ایسے ہماری یونی کا نظام خراب ہورہا ہے۔۔۔

It’s my humble request.

جو جیسا ہورہا ہے کچھ وقت تک آپ برداشت کریں”آہستہ آہستہ وہ ایڈجسٹ ہوجائے گی”پھر اُس سے آپ کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔۔”ویسے بھی اب اُس کی اپائمنٹ اچھے ڈاکٹر سے ہوگی”ہمیں اُمید ہے اُس کے بعد ایشو میں تھوڑا بدلاؤ آئے گا۔۔آتش نے اسرار کرنے والے انداز میں اُس سے کہا

“ٹھیک ہے پر جیسی کنڈیشن آپ ایشال کی بتا رہے ہیں”وہ مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کچھ ہے”ایسا لگتا جیسے اُس کی نیچر ایسی ہے ہر ایک پر حُکمرانی کرنے والی۔۔۔پروفیسر نے پرسوچ لہجے میں کہا تو یہاں وہاں دیکھتا آتش کان کی لو کُھجانے لگا لیکن جلد ہی اُس کے دماغ میں ایک شیطانی خیال بہت تیزی سے آیا تھا

“آپ کو میری بات پر یقین نہیں آرہا تو ابھی آپ ایشو کو یہاں آنے کا کہے”مجھے یہاں دیکھ کر اُس کا جو ری ایکشن ہوگا وہ کافی ہوگا کہ میری بات میں کتنی صداقت ہے”ویسے اِس قدر کا شکی مزاجی ہونا کا مُظاہرہ کرتے وقت آپ کو سوچنا چاہیے تھا کہ آپ کے سامنے”آتش لُغاری بیٹھا ہے جو بے مطلب کوئی بات نہیں کرتا۔۔آتش نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں کہا تو پروفیسر نے گہری سانس بھری پھر کریڈل اُٹھاکر کال پر کسی سے کچھ کہا”ٹھیک کچھ منٹس بعد ایشال پروفیسر کے آفس میں حاضر تھی

“تم یہاں؟

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟”یہاں آنے کی؟

“میں تمہارا منہ نوچ لوں گی۔۔”سکون نام کی چیز کو میری زندگی سے نکال لیا ہے۔۔”ایشال آفس میں داخل ہونے والی تھی”پروفیسر سے پرمیشن لینے کے بعد”لیکن جب اُس کی نظر آتش پر پڑی تو اُس کا دماغ گھوم گیا تھا تبھی بغیر کوئی لحاظ کیے وہ آتش پر برس پڑی”جس پر پروفیسر حیرت سے پورا منہ کُھلے ایشال کو دیکھنے لگا جو نظروں ہی نظروں میں”آتش کو بھسم کرنے کا اِرادہ کیے ہوئے تھی۔”ایشال سے نظریں ہٹانے کے بعد پروفیسر نے آتش کو دیکھا جو مظلوم شکل بنائے بیٹھا اُن کو دیکھ رہا تھا۔۔”اُس کے چہرے کے تاثرات جس طرح کے تھے”اُس پر پروفیسر کو بے اختیار آتش پر ترس سا آنے لگا تھا۔

“مس ایشال آپ اپنی کلاس میں واپس جائے۔۔پروفیسر نے سنجیدگی سے ایشال کو واپس جانے کا کہا

“لیکن

“آئے سے گو۔۔۔۔ایشال کچھ کہنا چاہتی تھی”لیکن پروفیسر نے اُس کی بات کو درمیان میں کاٹ کر تھوڑا رعب سے کہا تو ایشال ایک اچٹنی نظر آتش پر ڈالے اُن کی آفس سے واک آؤٹ کرگئ

“آپ نے دیکھا نہ پروفیسر؟”آپ کے سامنے مجھ سے اِس طریقے سے بات کی تو آپ زرا سوچے گھر میں یہ میرا کیا حال کرتی ہوگی؟”اور میں کیسے ایشو کو ہینڈل کرتا ہوں گا؟”چھوٹی بہن ہے امیچیور ہے لیکن میں تو میچیور ہوں نہ”وہ اگر بدتمیزی کرے گی یا پھر بدلحاظی تو میں تو اُس کی طرح امیچیور بن کر ایسی پچکانہ حرکتیں نہیں کرسکتا نہ؟تو بس دل پر پتھر رکھ کر اُس کی ہر بات کو اگنور کرتا ہوں”صبر کرتا ہوں”اور برداشت سے کام لیتا ہوں۔۔آتش افسوس بھرے لہجے میں بولا

“سُن کر اور دیکھ کر کافی افسوس ہوا کہ آپ جیسے بڑے لوگوں کی بیٹی ایسی کنڈیشن میں ہے”اور میں اندازہ لگاسکتا ہوں کہ آفاق صاحب نے ضرور بڑے بڑے ڈاکٹرز سے رجوع کیا ہوگا کہ ایشال کا ٹریٹمنٹ اچھا ہو اور اُس کی دماغی حالت اسٹیبل ہو”لیکن اللہ کے فیصلوں میں اب کس کا زور چلتا ہے۔۔پروفیسر نے بھی افسوس کا اِظہار کیا

“بلکل آپ نے بجا فرمایا۔۔۔”آتش سر کو جنبش دے کر اُن سے بولا

“اللہ اُن کو ٹھیک کریں”آمین۔۔پروفیسر نے کہا

آمین آمین”تو اب میں کیا بے فکر ہوکر جاؤں؟آتش اُٹھ کر چیئر سے اپنی جیکٹ اُٹھا کر بازو پر ڈال کر اُن سے بولا

“ہم دیکھتے ہیں لیکن پھر اگر کوئی سیریس مسئلہ ہوا تو مجبوراً ہمیں اُن کو یونی سے سسپینڈ کرنا پڑے گا۔۔۔پروفیسر نے کہا تو اُن کی بات پر آتش کے تاثرات بگڑے تھے لیکن اُس نے ظاہر نہ ہونے دیا تھا

“اِس یونی میں آدھے سے زیادہ چیریٹی ہم دیتے ہیں”تو بس اِس بات کو کبھی بھولیئے گا نہیں۔۔آتش سنجیدگی سے بھرپور آواز میں اُن سے کہتا آفس سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔

💮

“پروفیسر آپ خاموش کیوں ہیں؟”اِس نیلی آنکھوں والے سے کچھ کہتے کیوں نہیں آئی؟ایشال کی آواز پر پروفیسر اپنی سوچو سے باہر نکلتا”ایشال کو دیکھنے لگا اور بے اختیار اُن کو رحم سا آنے لگا تھا”ایشال پر

“زوہان آپ سمجھداری کا ثبوت دے”اور پلیز کسی اور کے ساتھ بیٹھ جائے”تاکہ میں اپنا لیکچر شروع کرپاؤں۔۔۔پروفیسر نے زوہان سے کہا تو ناچار زوہان کو اپنی جگہ سے اُٹھنا پڑا تھا کیونکہ وہ اپنی ناک کو لمبی رکھنے کے چکر میں پروفیسر کی بات پر اختلاف نہیں کرسکتا تھا۔۔”اُس کو اُٹھتا دیکھ کر ہر کوئی حیران ہوا تھا ماسوائے اُن چاروں کے

“ایٹ دا لاسٹ میں اُٹھنا تھا تو میرا وقت کیوں ویسٹ کیا؟”بحث کرنے میں۔۔کاٹ کھاتی نظروں سے زوہان کو دیکھ کر ایشال نے دل میں سوچا تھا

“مس ایشال اب آپ بیٹھ جائے۔۔۔پروفیسر کی آواز پر ایشال اپنی نظریں زوہان سے ہٹاتی بیٹھ گئ

“لیکچر شروع ہوگیا تھا ہر ایک کا دھیان پروفیسر کی جانب تھا”ایک ایشال تھی”جس کی توجہ بھٹک بھٹک کر زوہان کی طرف ہونے لگی تھی”پھر ایک خیال اچانک اُس کے دماغ میں آیا تو ہونٹوں پر تبسم کِھلا”اُس نے جلدی سے رجسٹر سے ایک پیپر علحیدہ کیا”اور پین اُٹھا کر اُس میں کچھ لکھ کر وہ کاغذ گول مٹول کرکے ایشال نے زوہان کی طرف پھینکا جو سیدھا زوہان کی گود میں گِرا تھا”اور وہ چونک کر کاغذ کو دیکھتا چاروں اطراف دیکھنے لگا جہاں کسی بھی شاگرد کی نظر اُس پر نہ تھی”یکایک زوہان کی نظر ایشال پر گئ جو اُس کے ایسے دیکھنے پر آنکھ کا کونا دباگئ تھی”اُس کی حرکت پر زوہان کے ماتھے پر لاتعداد بلوں کا جال بِچھ گیا تھا”وہ جان گیا کہ یہ حرکت کرنے والی “ایشال ہی ہے۔۔”پہلے اُس نے سوچا وہ کاغذ پھینک دے لیکن پھر کسی خیال کے تحت اُس نے وہ کاغذ کھولا جہاں خوبصورت ہینڈرائٹنگ میں لکھا ہوا تھا

“تمہارے پرفیوم کی خوشبو بہت اچھی تھی۔۔”کوئی لیٹیسٹ ماڈل ہے کیا؟

“یہ پڑھ کر زوہان ناصرف غُصے میں آیا تھا بلکے ساتھ ساتھ خفت کا بھی شکار ہوا تھا”لڑکیاں اُس کی طرف اٹریکٹ ہوتیں تھیں”اِس میں کوئی نئ بات نہ تھی”لیکن ایسی بے باکی کا مُظاہرہ آج سے پہلے اُس سے کسی نے کبھی نہیں کیا تھا”جیسا مُظاہرہ ایک دن میں”ایشال کرچُکی تھی”لیکن جلدی اُس نے اپنا سرجھٹک کر دوبارہ توجہ لیکچر پر دینا شروع کردی” اور دور بیٹھی”ایشال یہ اندازہ نہ لگا پائی کہ وہ غُصے سے لال ٹماٹر ہوگیا تھا یا پھر شرم سے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *