Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 22)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 22)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
السلام علیکم ۔۔۔
“عباس صاحب کے باہر جانے کے بعد حوریہ پرجوش ہوتی ڈائجسٹ ادارے والوں کو کال کرنے لگی تھی”جب اپنے پیچھے مردانہ آواز سن کر اُس کا دل اُچھل کر حلق میں آیا تھا”جس پر بے اختیار اُس نے پلٹ کر دیکھا تو سامنے کھڑے شخصیت کو دیکھ کر اُس کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔۔”کیونکہ سامنے کھڑی شخصیت اور کوئی نہیں اُس کا منگیتر تھا۔۔”عفان
“وعلیکم السلام آپ یہاں؟حوریہ کو اُس کا یہاں آنا ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔
ہاں میں یہاں کیوں کیا تمہیں میرا یہاں ہونا پسند نہیں آیا؟”عفان چُھبتے لہجے میں بولا
“ایسی کوئی بات نہیں آپ بیٹھو میں امی کو بتاتی ہوں آپ کے آنے کا۔۔حوریہ سنبھل کر بولی
“یہی سے آواز دو۔۔”اور تم بیٹھو بات کرنی ہے مجھے تم سے کچھ ضروری۔۔۔عفان نے کہا تو حوریہ اپنے ہاتھوں کی اُنگلیاں چٹخانے لگی
“سُنا نہیں جو میں نے کہا؟عفان نے اُس کو آنکھیں دیکھائی۔۔”تبھی وہاں رافیہ بیگم بھی آئی تھیں
“ارے عفان بیٹا تم یہاں کب آئے؟”رافیہ بیگم نے عفان کو دیکھا تو پوچھا
“بہت وقت ہوا ہے لیکن آپ کی بیٹی میں تھمیز نہیں کہ گھر آئے مہماں جو خصوصی توجہ کا مرکز ہے اُس سے چائے پانی کا بھی پوچھے۔۔۔عفان نے جواب خاصے طنز انداز میں دیا تھا جس کو سن کر رافیہ بیگم نے استہفامیہ نظروں سے مجرموں کی طرح کھڑی اپنی بیٹی کو دیکھا جو بس یہاں سے جانے پرتول رہی تھی۔۔حور تم کچن میں جاؤ۔۔۔۔رافیہ بیگم نے حوریہ کو جانے کا اِشارہ کیا تو اُس کی جیسے من کی مُراد پوری ہوئی تھی
“لیکن آنٹی می
“بیٹھ جاؤ اور بتاؤ کیا چاہیے۔۔۔”چائے “پانی”یا پھر کافی۔۔”ویسے کھانا بھی تیار ہے۔۔”اسجد کے ابا کو آنے دو پھر مل کر دسترخوان لگائے گے۔۔۔رافیہ بیگم اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولی تو “عفان نے لب بھینچ کر اُن کو دیکھا
“میں یہاں کچھ کھانے پینے نہیں حور سے بات کرنے آیا ہوں۔۔۔”آپ لوگ اُس کا ایک سیل فون تو دِلاسکتے ہیں”تاکہ مجھے جب کبھی اُس سے مجھے بات کرنی ہو تو کرلوں میں۔۔۔عفان نے سنجیدگی سے کہا تو وہ خاموش نظروں سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگی”لیکن یہ نہیں بتایا کہ حوریہ کے پاس آلریڈی سیل فون تھا”کیونکہ اُس کے پاس سیل فون ہونے کا”عباس صاحب کو علم نہیں تھا
“یہاں آئے یہ کال پر بات کرنے سے زیادہ مُناسب ہے۔۔”باقی جو تمہیں بات کرنی ہے وہ مجھے بتادو”میں حور تک تمہاری بات پُہنچادوں۔۔”دراصل تم دونوں کا یوں آپس میں گفتگو کرنا اسجد کے ابا کو پسند نہیں آئے گا۔۔”اُن کی سوچ زرا مختلف ہے۔۔گہری سانس بھر کر رافیہ بیگم نے کہا
“وہ میری منگیتر ہے۔۔۔عفان نے اپنی بات پر خاصا زور دیا
“مجھے پتا ہے۔۔”لیکن میں پھر بھی یہی کہوں گی۔”کیونکہ ہمارے یہاں یہ معیوب سمجھا جاتا ہے۔۔اُس کے برعکس رافیہ بیگم نے خاصے پرسکون لہجے میں کہا
“جوان جہاں لڑکیوں کا مردوں سے بھرے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھنا تو معیوب نہیں لگتا آپ لوگوں کو”لیکن اپنے ہونے والے شوہر سے معیوب سمجھاتا ہے۔۔”کافی ڈبل اسٹینڈرڈ کے مالک ہو آپ لوگ۔۔۔۔عفان تو جیسے تپ اُٹھا تھا
“کام کی بات کرو۔۔”بکواس نہ کرو۔۔ڈرائینگ روم میں داخل ہوتی چائے کی ٹرے لائے خوریہ نے عفان کی گوہر افشانی سُنی تو کہا جس پر رافیہ بیگم نے ترچھی نگاہوں سے اُس کو دیکھا جبکہ عفان نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر خود پر ضبط کیا تھا کیونکہ وہ اُس کو کچھ بھی بول نہیں سکتا تھا۔۔”وجہ خوریہ کا اُس کے بڑے بھائی کی منگ ہونا تھا
“میں بات کررہی ہوں نہ تم حور کی کچن میں مدد کرو۔۔۔رافیہ بیگم نے اُس کو جانے کا اِشارہ کیا
“وہ کچن میں نہیں اپنے کمرے میں پڑھ رہی ہے۔۔”یونی والوں نے بہت سارے اسائمنٹ کرنے کو دیئے ہیں اُس کو۔۔”اِس لیے یہ کچن کے کام آپ اُس کو نہ بولے میں ہوں نہ میں سب کرلوں گی۔۔”حور کا تو پتا ہے آپ کو انتہا کی نکمی اور پھوہر لڑکی ہے۔۔”سوائے رجسٹروں پر لکیریں چھاپنے کے اُس کو کوئی اور کام نہیں آتا۔۔خوریہ آرام سے صوفے پر بیٹھتی رافیہ بیگم سے بولی۔۔”مقصد عفان کا خون جلانا تھا جس میں وہ کامیاب بھی ٹھیری تھی
“یہ کیا بول رہی ہے؟”آپ نے حور کو کھانا پکانا نہیں سِکھایا؟”تو شادی کے بعد وہ کیا کرے گی؟۔۔”اور موم کیا وہ سارے کام کرے گی۔۔؟عفان بھڑک اُٹھا
“کیا مطلب کیا کرے گی وہ؟”تمہیں بیوی چاہیے یا مُلازمہ؟”یا آنٹی کو بہوو چاہیے یا بورچی(Cook)؟۔۔رافیہ بیگم کو کچھ بھی بولنے کا موقع دیئے بنا خوریہ شروع ہوگئ تھی۔
“میں آنٹی سے بات کررہا ہوں۔۔عفان کا جیسے صبر جواب دے رہا تھا
“لیکن میں تم سے بات کررہی ہوں۔۔خوریہ نے دوبدو کہا تھا”جس پر رافیہ بیگم بس اُن دونوں کو گھورتی رہ گئ
السلام علیکم ۔۔۔عباس صاحب کی اچانک موجودگی نے “خوریہ”کے چھکے چُھڑوا لیے تھے۔۔”لیکن اپنی حالت کو واضع نہ کرتی وہ صوفے سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی
وعلیکم السلام انکل اچھا ہوا جو آپ آگئے۔۔”اب مل بیٹھ کر بات ہوگی۔۔۔عفان ایک اچٹنی نظر خوریہ پر ڈالتا”عباس صاحب سے بولا
“ضرور”اور تم یہاں کھڑی کیا کررہی ہو؟عفان کو جواب دینے کے بعد اُنہوں نے خوریہ کو گھورا جس کو دن میں اپنے سامنے تارے ناچتے دیکھائی دے رہے تھے
“ابا وہ
“یہ کہہ رہی تھ
“میں عفان سے بول رہی تھی کہ ابا مسجد میں ہیں اور یہاں کوئی اور مرد نہیں تو تمہارا یہاں آنا اِس وقت مُناسب نہیں تم بھی مسجد جاتے نماز وغیرہ پڑھتے۔۔”پھر پاکائی کے ساتھ ابا کے ہمراہ آتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔۔”اللہ بھی خوش ہوجاتا۔۔”اِس کے گُناہ بھی دُھل جاتے۔۔”اور آپ سے گپ شپ بھی ہوجاتی۔۔۔خوریہ اپنی صفائی میں کچھ کہنے لگی تھی۔۔”جب عفان اُس کی بات درمیاں میں کاٹ کر اُس کا پول کھولنے لگا تھا۔۔”پر اُس سے پہلے وہ اُس کا چِٹا کِٹا کھول کر”عباس صاحب کے آگے کرتا۔۔”خوریہ عقل کو ہاتھ مارتی اُلٹا عفان کی بات کو درمیاں میں کاٹ کر سانس لیئے بنا بولی تو رافیہ بیگم نے اپنا سر پکڑا تھا وہی عفان بس اُس کو گھورتا رہ گیا جس نے پل بھر میں پنترا بدلا تھا۔۔
“ہاں تم نے نماز ادا نہیں کی کیا؟”نماز پڑھنا فرض ہے اور تمہیں پتا ہے قبرستان میں ایسے لوگ بھی دفن ہیں”جو کہتے تھے میں کل نماز پڑھوں گا۔۔خوریہ کی بات پر اُن نے ارتکاب سے وہ تو بچ نکلی تھی”لیکن عفان جو بس اپنی سُنانے آیا تھا۔۔”اب اُس کو لگا جیسے”عباس صاحب کے اندر موجود استاد جاگ اُٹھا ہے جو بس اپنی سُنائے جائے گا۔۔”اِس لیے اُس نے کھاجانے والی نظروں سے خوریہ کو دیکھا جو اپنی مسکراہٹ دبائے نو دو گیارہ ہونے کے چکروں میں تھی۔۔”اگر وہ اُس کے بھائی کی منگ نہ ہوتی تو جانے کیا کچھ وہ اُس کے ساتھ کرجاتا۔۔
“ابا آپ نے ٹھیک بولا میں نے کل ہی ایک جگہ دیکھا تھا جہاں کچھ یہ لائنز تھیں کہ قبر میں لاتعداد ایسے لوگ دفن ہیں”جنہوں نے کل سے نماز ادا کرنی تھی۔۔”اور یہ بات میں نے عفان سے بھی کہی آپ چاہوں تو امی سے پوچھ سکتے ہو۔۔۔خوریہ نے ایک اور تیر پھینکا اور ساتھ میں اپنی ماں کو بھی شامل کیا
“تم یہ چائے کی ٹرے اُٹھاؤ۔۔”اور دوسری چائے لاؤ۔۔۔رافیہ بیگم کی نظروں میں چُھپی وارننگ کو سمجھتی خوریہ نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی
“میں یہی چائے گرم کر لاتی ہوں۔۔”دودہ چینی”پتی۔۔ہر چیز مہنگی ہوگئ ہے۔۔جاتے ہوئے بھی خوریہ نے اپنی زبان کے جوہر دِکھانا ضروری سمجھا تھا۔
“انکل مجھے یقین نہیں آرہا آپ جیسے شخص کی بیٹی اِس قدر منہ پھٹ بھی ہوسکتی ہے۔۔عفان نے عباس صاحب کو غُصہ دِلانے کے لیے کہا۔۔”لیکن آس پاس ابھی تک آزانوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔۔”جس وجہ سے عباس صاحب نے اُس کی بات پر زیادہ غور نہیں کیا تھا یا وہ کر نہیں پائے کیونکہ اُن کی ساری توجہ کا مرکز آزان سُننے میں تھی
“آزان کے درمیاں بولا نہیں جاتا خیر تم بیٹھو تو سہی۔۔۔عباس صاحب بیٹھنے کے بعد اُس سے بولا
“آزان کا وقت تو ہو چلا۔۔عفان ناسمجھی سے بولا
“پاس والی مسجد میں آزان تھوڑی دیر آتی ہے۔۔۔جواب رافیہ بیگم نے دیا تھا
“تمہیں کوئی ضروری کام تھا۔۔؟عباس صاحب مطلب کی بات پر آئے
“جی حوریہ کے مطلق مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔۔۔عفان نے سنجیدگی سے کہا
“کہو کیا بات ہے؟عباس صاحب پوری طرح سے اُس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔۔
“حور نے جتنا پڑھنا تھا۔۔”اُس نے پڑھ لیا آپ بس اُس کو اب گھر بیٹھائے۔۔۔عفان نے کہا
“گھر کیوں بیٹا؟”وہ آگے پڑھنا چاہتی اور اپنی زندگی میں کچھ کرنا چاہتی ہے۔۔”اور میرے خیال سے تمہیں اُس کو سپورٹ کرنا چاہیے۔۔رافیہ بیگم جلدی سے بولی
“مردوں کے درمیاں تمہارا بولنا ضروری نہیں ہے۔۔”باہر جاؤ۔۔عباس صاحب نے اُن کو گھور کر کہا تو رافیہ بیگم کا چہرہ سرخ ہوگیا۔۔”دوبارہ اندر آتی خوریہ نے یہ منظر کافی ناگوار نظروں سے دیکھا تھا۔۔”خاص طور پر عفان کو جس کے چہرے پر عجیب قسم کی مسکراہٹ تھی۔۔”عفان “عباس صاحب کے قریبی دوست کا بیٹا تھا۔۔’جن کے دو بیٹے تھے۔۔”ایک کا نام عرفان تھا تو دوسرے کا عفان۔۔۔”اور اپنی دوستی کو رشتیداری میں بدلنے کے لیے عباس صاحب نے خوریہ اور حوریہ کا رشتہ اپنے دوست کے بیٹوں سے طے کرلیا تھا۔۔’جن کا شُمار اُن لوگوں میں سے ہوتا تھا جو اپنے گھر کی عورتوں کو اپنے پاؤں کی جُتی سمجھا کرتے تھے۔۔
“چائے سرو کون کرے گا بھابھی جی۔۔۔۔۔۔ٹرے رکھ کر”خوریہ جانے لگی تھی جب عفان نے اُس کو مُخاطب کیا اور جان کر لفظ”بھابھی جی”پر خاصا زور دیا تھا
“تمہارے اپنے ہاتھ ٹوٹے ہوئے ہیں کیا۔۔۔”خوریہ یہ کہنا چاہتی تھی لیکن”عباس صاحب کی موجودگی کا لحاظ کرتی چہرے پر مسکراہٹ سجائے واپس آئی
“اِس کپ
“آپ جائے میں کرلوں گی سب۔۔رافیہ بیگم جو اُٹھنے لگی تھی اُنہوں نے ایک کپ میں کچھ نظر آتا دیکھا تو خوریہ سے کہنے لگی تھی جب خوریہ نے اُن کی بات کاٹ کر کہا تو وہ ایک تاسف بھری نظر اُس پر ڈال کر چلی گئ
“ابا چائے۔۔۔خوریہ نے سب سے پہلے عباس صاحب کو چائے سرو کی اُس کے بعد احسان کرنے والے انداز میں عفان کو
“آپ کی زبان کے نیچے جو خندق ہے نہ اُس کو قابو میں تو میرا بھائی لائے گا۔۔۔چائے لیتے ہوئے عفان نے آہستہ آواز میں اُس سے کہا
“گھوڑے سوار ہے کیا تمہارا بھائی؟”کیونکہ ایسے لوگ گھوڑوں کو قابو کرنا جانتے ہیں لیکن مائے ڈیئر میں کوئی گھوڑی نہیں”جس کو کوئی اپنے قابو میں کرپائے میں”خوریہ ہوں خوریہ عباس۔۔”اِس لیے مجھے حوریہ کی طرح سمجھ کر ٹریٹ کرنے کی کوشش قطعاً مت کرنا۔۔”ایک لمحے میں تم دونوں بھائی کو چاند سورج ایک ساتھ دِکھادوں گی۔۔۔جواب میں خوریہ نے بھی اُس کے انداز میں کہا تو عفان قہر برساتی نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا جو چہرے پر مسکراہٹ سجاتی واپسی کے لیے پلٹ گئ تھی۔۔
“جانتا ہوں تمہیں حور کا لڑکوں کے ساتھ پڑھنا پسند نہیں۔۔”سچ پوچھو تو مجھے بھی نہیں پسند۔۔ لیکن میں نے اِجازت دی اُس کو کیونکہ اُس نے ضد کی تھی۔۔”دوسرا اُس کا پڑھائی میں دماغ بھی تیز تھا تو میں نے سہی نہیں سمجھا اُس کو گھر بِیٹھانا۔۔”ایسے اُس کی صلاحیتیں دب جاتی۔۔”نِکھر نہ پاتی۔۔عباس صاحب نے چائے کا گھونٹ بھر کر اب اُس کو کہا
“انکل صلاحیتیں نکھار کر کیا کرنا ہے۔۔؟”آگے جاکر اُس نے ہانڈی چولہا سنبھالنا ہے نہ۔۔عفان ناگواری سے بولا
“ہر وقت تو وہ چولہے کے آگے نہیں بیٹھی ہوگی نہ؟”چولہا بھی تین بار جلتا ہے۔۔۔”صبح کا ناشتہ”دوپہر کا کھانا۔۔”اور رات کا کھانا۔”اور عفان بیٹے مہنگائی جتنی آسمان کو چھو رہی ہے نہ ایسے میں اگر گھر کا بس ایک افراد کمائے تو اخراجات پورے نہیں ہوگے۔۔”دو فرقین مل کر کمائے تو ہی اچھی زندگی آرام سے گُزار سکتے ہیں۔۔۔”ہم سفید پوش لوگ ہیں۔۔”اور تمہیں بھی اچھے سے پتا ہوگا کہ بجٹ کتنا ہوتا ہے ہمارا۔۔عباس صاحب نے جواباً کہا تو عفان اپنی جگہ پہلو بدلتا رہ گیا تھا۔۔
“انکل میں اِتنا بے غیرت نہیں ہوں کہ بیوی کی کمائی کھاؤں گا۔۔”ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا۔۔”آپ کو لگتا ہے پتا نہیں یہ لکھی پڑھی لکھی لڑکیاں اپنے پڑھے ہونے کا فائدہ کیسے اُٹھاتیں ہیں۔۔۔عفان نے اُن کو قائل کرنا چاہا
“میں نے کونسا یہ کہا کہ شادی کے بعد تم حور کو کہی جاب پر لگوا دینا۔۔”وقت اگر کبھی ایسا آئے گا تو اُس کی ڈگریاں کام آئے گی۔۔”ویسے بھی چند سالوں کی بات ہے اُس کے بعد بس پھر اُس نے گھرداری ہی کرنی ہے۔۔عباس صاحب اپنی بات پر بضد تھے۔۔”جس پر سرجھٹک کر عفان نے چائے کا گھونٹ بھرا تو اُس کے چہرے کے تاثرات یکدم بدلے تھے۔۔”کیونکہ اُس کی چائے میں چین کے بجائے نمک تھا۔۔”اور اب چائے کو منہ میں لیئے”عفان کو سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کرے۔۔”کیونکہ وہ جس قدر کڑوی تھی اُس کو نہ تو وہ نگل سکتا تھا۔۔”اور نہ عباس صاحب کی موجودگی میں اُگل سکتا تھا۔۔”اِس لیے زہر کا گھونٹ بھر کر اُس نے کڑوی چائے کا گھونٹ اپنے سینے میں انڈیلا لیکن اُس کو حیرانگی ہوئی عباس صاحب کو دیکھ کر جنہوں نے آرام سے اپنی چائے کا کپ خالی کیا تھا۔۔”ہلانکہ اُس کے سامنے خوریہ نے چائے کپوں میں انڈیلی تھی۔۔”پہلے لگا تھا اُس کو کہ شاید غلطی ہو لیکن اُس کو رافیہ بیگم کا کچھ کہنا”پھر خوریہ کا اُن کو خاموش کروانا اُس کو یہ باور کروا گیا کہ۔۔”خوریہ کچن سے ہی ایک کپ میں نمک ڈال کر لائی تھی۔۔”جو دیر پینے کے بعد اُس کی چائے میں گُھل بھی گیا تھا۔۔”خوریہ کا خیال آتے ہی اُس کے تن بدن میں آگ کے شعلے بھڑکنے لگے تھے۔۔۔”تبھی پٹخنے والے انداز میں اُس نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا۔۔”دل میں یہ خواہش شدت سے جاگی کہ عباس صاحب کو بتائے لیکن جانے کیوں خاموش ہوگیا تھا۔۔
__________________________
آگئ اپنا دل جلاکر۔۔۔۔خوریہ کمرے میں داخل ہوئی تو حوریہ چت بیڈ پر لیٹی اُس سے بولی
“ہاں آگئ ہوں اور صرف اپنا دل جلا کر نہیں آئی کسی اور کا سینہ بھی جلا کر آئی ہوں۔۔۔۔”یقین کرو حور یہ عفی ابا کی ڈیٹو کاپی ہے۔۔۔خوریہ نے سرجھٹک کر اُس کو بتایا
“وہ ہوگے ابا کی کاپی لیکن میں اپنی ماں کی طرح بلاوجہ کا ظلم برداشت نہیں کروں گی۔۔”میں ایک ایجوکیٹڈ لڑکی ہوں اپنے حق کے لیے آواز اُٹھاؤں گی۔۔حوریہ اُس کی بات پر سنجیدگی سے بولی
“شروع شروع میں ہر لڑکی یہ کہتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کا بلاوجہ کا روعب اور ظلم برداشت نہیں کرے گی۔۔”لیکن پتا ہے کیا ایٹ دا ٹائیم اُس نے یہی کچھ جھیلنا پڑتا ہے کیونکہ اُس کے پاس اور کوئی آپشن نہیں ہوتا۔۔۔”کبھی والدین کی عزت کی خاطر یہ زہر کا گھوٹ بھرتی ہے تو کبھی اپنی اولاد کے رُل جانے کے ڈر سے ایک انسان نُما حیوان کے ساتھ اپنی زندگی گُزارتی ہے۔۔”کیونکہ یہی معاشرے کا دستور ہے۔۔”صدیوں سے یہ ریت چلتی آتی ہے۔۔”ہر گھر میں تمہیں ایک ناخوشگوار جوڑا ملے گا۔۔”جہاں عورت اپنا رشتہ سجھوتے کی بنا پر نبھاتی ہے۔۔خوریہ اُس کی بات پر سرجھٹک کر بولی
“وہ کوئی عورتیں ہوگیں۔۔”لیکن میں حوریہ عباس عباسی ہوں۔۔”مستقبل کی ایک نامور لکھاری۔۔”میں خود کماؤں گی اور کھاؤں گی۔۔”لیکن عفان جیسے انسان کے دباؤ اور روعب میں کبھی بھی نہیں آؤں گی۔ ۔”ایک ہی زندگی ہے اور میں اپنی زندگی کو اپنے طریقے سے کُھل کر جیو گی۔۔”میں آزاد پنچھی بنوں گی۔ ۔”تم دیکھ لینا۔ ۔حوریہ پُرعزم لہجے میں بولی
“اللہ تمہاری خواہشات پوری کریں لیکن یہ عفان شاید ہی تمہاری زندگی میں خوشیوں کو برداشت کرے۔۔”پر تم پریشان نہ ہو میں یہاں بھی تمہارے ساتھ ہوں تو وہاں بھی ہر قدم پر تمہارے ساتھ رہوں گی۔۔۔خوریہ نے اپنی طرف سے اُس کو دلاسہ دیا تھا
“تم تو ساتھ ہو لیکن کیا یہ پاسبیل ہے؟”جس شخص کو میری پڑھائی سے اعتراض ہے کیا وہ شخص مجھے خود کے آگے بڑھنے دے گا؟”عفان تو لڑکیوں کو اپنے پاؤں کی جُتی سمجھتا ہے۔۔۔”حوریہ کو چاروں طرف جیسے پریشانیوں نے آ گھیرا تھا
“تمہیں اِن مردوں کا نہیں پتا۔۔”پہلے پہل اپنے پاؤں کی جُتی تو سمجھ لیتے ہیں۔۔”لیکن یہی وہ مرد ہوتے ہیں جو نفس کے ہاتھوں مجبور ہوکر عورت کے تلوؤ کو بھی چاٹ لیتے ہیں۔۔۔”اور تمہیں ہرگز ایسے مردوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔خوریہ ضرورت سے زیادہ آج تپی ہوئی تھی۔۔”اُس کو اول تو غُصہ آتا نہیں تھا لیکن جب آتا تھا تو وہ اپنے ہوش گنوا بیٹھتی تھی اور آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔۔”عفان کو دیکھ کر اُس کی باتیں سن کر اُس کا کھول کر اُٹھا تھا۔۔”اُپر سے عباس صاحب کا اُس کے سامنے رافیہ بیگم سے اختیار کردہ ہتک آمیز لہجہ جیسے پاگل کررہا تھا۔۔”دوسری طرف حوریہ جو پریشان تھی۔۔”اُس نے خوریہ کے الفاظ سُنے تو ایسی سیریس سچویشن میں بھی اُس کو ہنسی آنے لگی تھی جس کو چُھپانے کے غرض سے اُس نے اپنا چہرہ دوسری طرف کرلیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی۔۔”اگر اُس کا مسکرانا خوریہ دیکھ لیتی تو عفان کا سارا غُصہ وہ اُس پر نکالنے میں دیر قطعیً نہ کرتی






دیکھا ہے جب سے تُم کو میں نے یہ جانا ہے
میرے خواہش کے شہر میں بس تیرا ٹھکانہ ہے
“میں بھول گیا خود کو بھی بس یاد رہا اب توں
“آ تیری ہتھلی پہ اِس دل کو میں رکھ دوں
“دل بول رہے حسرت
“ہر حد سے گُزرنے کی
“تیرے نام سے جینے کی
“تیرے نام سے مرنے کی
“کہاں سے منہ کالا کرکے آرہے ہو۔؟۔۔۔آتش گھر میں داخل ہوتا بغیر کسی گِٹار”میوزک لیرکس کے اپنی آواز کا صحر چاروں طرف پھونک رہا تھا۔۔”اور اُس کا رُخ اپنے کمرے کی طرف تھا جب کسی نے سخت غُصیلے انداز میں سوال کیا تو وہ رُک کر پلٹ کر دیکھنے لگا۔۔”جہاں اُس کا باپ آفاق لُغاری کھڑا قہر برساتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔”اُن کو دیکھ لینے کے بعد آتش اپنے گھر کا جائزہ لینے لگا
“واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز۔۔”پرائم منسٹر صاحب آپ وہ بھی یہاں گھر پر۔۔”یہ انہونی کیسے ہوگئ۔۔۔آتش آفاق لُغاری کو حیرت زدہ نظروں سے دیکھ کر استفسار ہوا
“یہ میرے سوال کا جواب نہیں آتش۔۔”میں نے پوچھا ہے “کہاں سے منہ کالا کرکے آرہے ہو۔؟۔۔۔آفاق لُغاری نے ضبط سے سوال کیا
“نا کرے کالا اور میں۔۔”آپ کا بیٹا پیدائشی گورا چِٹا ہے بولے تو چِکنا ہے۔۔آتش صوفے پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بیٹھ کر بولا
“یہ کیا ہے۔۔۔آفاق لُغاری نے چند تصویرات اُس کی طرف پھینکی تو”ایک بار پھر آتش کا ازلی غُصہ عود آنے لگا تھا لیکن وہ ضبط کرتا رہ گیا
“بشیر
بشیر
ایک نظر اپنے باپ پر ڈالتا وہ اُونچی آواز میں ملازم کو آوازیں دینے لگا تھا جو اُس کی پُکار پر فورن سے آگیا تھا
“جی صاحب۔۔بشیر نے موؤدب انداز میں ہاتھ باندھ کر سرجُھکاکر پوچھا
“یہ تصویریں اُٹھا کر دو۔۔”دیکھو تو زرا کیا کارنامہ انجام دیا ہے اب میں نے۔۔۔آتش نے آفاق لُغاری کو دیکھ کر اُس سے کہا تو وہ جلدی سے تصویریں اُٹھاکر اُس کو پکڑانے لگا۔۔”تو آتش ایک کے بعد ایک تصویر غور سے دیکھنے لگا۔۔”جو مال میں کھینچی گئ تھیں۔۔
“ایک تصویر میں اُس کے ہاتھ میں اقدس کا ہاتھ تھا۔۔”جس میں اُس کا چہرہ تو صاف واضع تھا لیکن اقدس کا ظاہر نہ تھا۔
“اور دوسری تصویر میں اقدس اُس کے ساتھ جڑ کر کھڑی تھی۔۔”یہ شاید تب کی تھی جب وہاں کوئی اقدس کی چادر اُتارنے لگا تھا اور طیش میں آکر آتش نے اقدس کو اپنی طرف کھینچا تھا۔۔”باری باری ساری تصویروں کو دیکھ کر آتش کے چہرے پر جانے کیوں مسکراہٹ آئی تھی جس کو اُس نے بڑی چلاکی سے دبالیا تھا
“کہاں سے ملی یہ آپ کو۔۔؟”چہرے پر سنجیدہ تاثرات سجائے آتش نے اُن سے سوال کیا
“یہ امپورٹنٹ نہیں ہے۔۔”امپورٹنٹ یہ ہے کہ تمہیں رنگ رلیاں منانے کے لیے مال ہی ملا تھا۔۔؟”یہ گھر گیسٹ ہاؤس ہوٹلز کیا کم پڑگئے تھے۔۔”جو تم نے مال میں یہ سب کیا اور میڈیا کے سامنے آگئے۔۔۔آفاق لُغاری تپے ہوئے انداز میں اُس سے بولے
“ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔۔”اِٹ واز جسٹ این ایکسیڈنٹ۔۔۔آتش نے سپاٹ لہجے میں اُن سے کہا”اُس کو آفاق لُغاری کا ایسے کہنا پسند نہیں آیا تھا
“یہ تم نے تب بھی کہا تھا جب اسکول لائیف میں تم نے ایک بچی کے چہرے پر شیشہ مارا تھا۔۔۔آفاق لُغاری نے جیسے اُس پر طنز کیا۔۔”تو آتش کے ماتھے کی رگیں اُبھرنے لگیں تھیں
“وہ بھی جسٹ ایک ایکسیڈنٹ تھا۔۔”ورنہ میرا ایسا کوئی اِرادہ نہ تھا۔۔”اور آپ کو کوئی ضرورت نہیں گِرھے مُردوں کو زندہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔”وہ ایک بہت پُرانی بات ہے۔۔۔آتش کا لہجہ خودبخود سخت ہوتا گیا تھا۔
“تم بچپن سے نشانے باز ہو آتش۔۔”تمہارا نشانہ کبھی نہیں چونکتا تو میں کیسے مان لوں کہ وہ ایک اتفاقی طور پہ ہوا عمل تھا جو بے خیالی میں تم سے ہوگیا تھا اور واقعی میں”اگر وہ سب ایک ایکسیڈنٹ تھا تو تمہارے چہرے کی رنگت زرد کیوں پڑ رہی ہے؟”آفاق لُغاری کو اُس کی بات پر یقین نہ آیا
“پرائم منسٹر صاحب آپ مجھے اب اِجازت دے۔۔”کہ میں اپنے کمرے میں جاؤں۔۔۔آتش اپنی جگہ سے اُٹھ کر بولا
“میڈیا والوں نے تمہیں اور اُس لڑکی کو کیوریج کیا ہے۔۔”مال میں ایسا اتفاق کیسے ہوگیا کہ تمہیں لوگوں نے چینجنگ روم میں کسی لڑکی سے رنگے ہاتھوں پکڑا۔۔۔”اور اگر ایسا تھا بھی تو میڈیا والوں کو تمہیں جواب دینا چاہیے تھا یوں کائروں کی طرح منہ چُھپا کر نہ نکلتے”ویسے بھی مجھے سمجھ میں نہیں آتا یہ عجیب وغریب قسم کے اتفاق تمہارے ساتھ ہی کیوں ہوتے ہیں۔۔؟۔آفاق لُغاری نے جیسے اُس کی مردانگی پر وار کیا تھا
“میں ڈرتا کسی کے باپ سے بھی نہیں اور اُن کو جواب بھی ضرور دیتا اگر وہ اُستانی میرے ساتھ نہ ہوتی تو۔۔۔آتش نے چبا چبا کر الفاظ ادا کیے تھے
“میں تمہارا باپ ہوں تم مجھ سے کوئی بھی بات چُھپا نہیں سکتے۔۔اور نہ گمراہ کرسکتے ہو۔۔آفاق لُغاری بلند آواز میں بولے
“اگر ایسی بات ہے تو آپ بھی میری بات سُن لے۔۔”جو میں نے کیا نہیں اُس بات پر آپ مجھے مجبور نہیں کرسکتے کہ مان لوں۔۔۔آتش نے سنجیدگی سے کہا
“کل کانفرنس ہے آتش اور تمہیں میرے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔۔”لوگوں کو بتانا ہوگا کہ آج جو کچھ بھی ہوا تھا وہ محض ایک چال تھی۔”اُس لڑکی نے جان کر تمہیں پھسایا تھا۔۔”کیونکہ الیکشن قریب ہیں اور ہمارے دُشمن ہمیں بُرا دِکھانا چاہتے ہیں ایسی افواہیں پِھلاکر جس میں وہ لڑکی بھی شامل تھی۔۔۔آفاق لُغاری مطلب کی بات پر آئے تو آتش چونک کر اُن کو دیکھنے لگا”جن کے پاس ایک سیاسی دماغ تھا اور اُن کو پتا تھا کہ کب کیسے؟”کیا کرنا ہے؟”اور کیسے اپنے اِس دماغ کا فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے
“میں آپ کی سیاسی باتوں میں نہیں آؤں گا اور نہ اُس لڑکی کے بارے میں کوئی غلط بیانی کروں گا۔۔”اگر آپ کے چیلوں نے بھی ایک حرف بھی اُس کے خلاف بولا نہ تو میں ہر اُس انسان کی چمڑی اُڈھیر کہ رکھ دوں گا۔۔”یہ بات میری یاد رکھیے گا آپ۔۔۔۔”اور اب آپ جائے یہاں سے۔۔”آج گھر میں کچھ زیادہ ہی رہ لیا ہے۔۔”آپ کی پریمیکا (Lover) آپ کے انتظار میں ہوگی۔۔۔”پہلے سخت لہجہ اپناتا آخر میں اُن کو جان کر آگ لگاتا آتش وہاں رُکا نہیں تھا۔۔اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا وہ آفاق لُغاری کی چال والی بات پر یقین کر بھی لیتا اور اقدس کو غلط ثابت بھی کردیتا۔۔”جیسا آفاق لُغاری نے اُس کو کرنے کا بولا۔”پر تب جب وہ پہلے سے ایک ہی بار سہی پر اقدس سے ملا نہ ہوتا اور اقدس کے وجود میں چھائی لرزش”گھبراہٹ کچھ بھی اُس کو چال یا مصنوعی نہ لگی تھی۔۔اُس کا گریز آتش کو یہ بات ماننے نہیں دے رہا تھا کہ اقدس جان کر اُس چینجنگ روم میں آئی ہوگی۔۔”کیونکہ کہی نہ کہی اُس کو بھی اندازہ تھا کہ اگر وہ ڈور لاک کرتا تو یہ سارا ڈرامہ ہوتا ہی نہ۔۔ “جبکہ پیچھے آفاق لُغاری اُس کی ایسی باتوں پر تپ کے رہ گئے تھے۔۔۔”وہ آتش کی نیچر سے سخت خائف تھے۔۔”اُن کو آج تک آتش کی سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ وہ کیا چاہتا کیا ہے؟”اصل میں اُس کے پلانگ کیا ہے؟
“تم ہر دفع کی طرح بھاگ نہیں سکتے۔۔”تمہیں مجھے بتانا ہوگا کہ آخر کیوں تم ہر بار جان کر میڈیا کے سامنے آکر میرے لیے مسائل کھڑے کرتے ہو۔۔۔آفاق لُغاری کچھ سوچ کر اُس کے پیچھے گئے تھے۔۔”اور آتش جو ابھی اپنے کمرے میں پُہنچا تھا۔۔”گہری سانس بھر کر اپنا اشتعال قابو میں کرکے اُن کی طرف رُخ کیا تھا
Will you Please shut up??don’t bother me anymore….
چند قدم آگے چل کر کہتا آتش نے اپنی بات کے احتتام کے بعد”ٹھاہ” کی آواز میں دروازہ بند کیا تھا۔۔”اُس کی اب جیسے بس ہوگئ تھی۔۔”وہ اُن کی باتوں سے “سوالوں سے واقعی میں تنگ آگیا تھا
“اِس بار تمہیں یہ معاملہ خود ہینڈل کرنا ہوگا۔۔”پِچھلی بار بھی اُس بچی کے معاملے میں ہم بہت بُرا پھنسے تھے۔۔”پر آج جو تم نے اپنے رنگین مزاج ہونے کا ثبوت دیا ہے۔۔”اِس کو ہینڈل خود کرنا۔۔۔آفاق لُغاری نے ایک زوردار لات بند دروازے کو مار کر اُونچی آواز میں اُس سے کہا”لیکن اُن کی آواز آتش کے کانوں میں نہ پُہنچ پائی تھی۔۔”سرجھٹک کر وہ جیسے ہی ریلنگ کے پاس کہنیاں ٹِکائے کھڑے ہوئے تو نظر ہال میں اکٹھا ہوئے ملازموں پر گئ جو کافی حیرت سے اُپر کی جانب دیکھ رہے تھے۔۔”یہ دیکھ کر اُن کو مزید غُصہ آیا تھا۔۔”تبھی تیز قدموں سے چل کر اپنے کمرے کی طرف بڑھے تھے۔۔”آتش سے بات کرنے کے بعد اُن کا بلیٹ پریشر خطرناک حد تک ہائے ہوجاتا تھا۔۔”آتش اپنی باتوں میں اُلجھاتا ہی ایسا تھا کہ کوئی بھی بات ٹھیک ہونے کے بجائے مزید بِگڑ جاتی تھی۔۔۔”لیکن آتش کو فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ چاہے جتنے بھی غُصے میں ہو”پانچ منٹ بعد وہ “کول”ہوجاتا تھا باقیوں کی کولنس نکال کر










“آج وہ دن بھی آگیا تھا جس نے المان کا خون خُشک کردیا تھا۔۔”آج اُس کا نکاح جانے کس کے ساتھ ہونے جارہا تھا۔۔”وہ نہیں تھا جانتا اُس کو یہ تک پتا نہیں تھا کہ لڑکی اُس کی برداری سے تھی یا باہر سے۔۔”یہ سوچ سوچ کر المان کا آدھا خون ایسے ہی خُشک ہوگیا تھا۔۔”دوسرا آج کے دن اُس کے پاس کوئی بھی نہیں آیا تھا۔۔”کیونکہ اسیر نے منع کیا ہوا تھا”وہ خود اُس سے آج پہلے بات کرنا چاہتا تھا۔۔”وہ ابھی اپنے اِنہیں خیالوں میں گُم تھا جب کلک کی آواز نے اُس کا دھیان اپنی طرف کیا تو المان نے دیکھا کالے شلوار قمیض کے اُپر کالی شال اُوڑھے اسیر ملک اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ اُس کے کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔”یہ دیکھ کر المان نے اپنے قدم اُس کی طرف بڑھائے تھے
“بابا جان اب تو بتادے کچھ۔۔المان کے لہجے میں بے چینی صاف جھلک رہی تھی۔۔”جس کو محسوس کرکے وہ ہلکا سا مسکرایا تھا
“یہ آج رات کا تمہارا ٹِکٹ۔۔۔”اور یہ تمہارا پاسپورٹ۔۔۔”تم خوشقسمت ہو جو تمہارا ویزہ لگ چُکا تھا۔۔جواب میں اسیر نے کچھ اور اُس کے سامنے کیا جس پر المان کے چہرے پر چمک در آئی
“ہمی
“آ ہاں ابھی نہیں۔۔”یہ آپ کے ہاتھوں میں تب ہوگا جب نکاح کرنے پر آپ کوئی واویلا نہیں مچائے گے۔۔۔المان اُس کے ہاتھ سے وہ چیزیں لینے لگا تھا جب سرعت سے اپنے ہاتھ پیچھے کرتا اسیر نے اُس سے کہا
“بابا جان اگر ہم نے واویلہ مچانا ہوتا تو کبھی رضامندی کا اِظہار نہ کرتے۔۔”ہمیں بس اپنا خواب پورا کرنا ہے اُس کے لیے ہم کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔۔المان پُختگی کے عالم میں بولا
“آپ کا یہ جوش جذبہ ہمیں کافی اچھا لگا۔۔”اُمید ہے یہ جان کرکے کہ آپ کا نکاح کس سے ہورہا ہے اُس کے بعد بھی آپ کے تاثرات ایسے رہینگے۔۔۔اسیر اُس کی بات سن کر مبہم مسکراہٹ سے بولا
“آپ بے فکر ہوجائے اور ہمیں اُس لڑکی کا پتہ بتائے آپ کو پتا بھی نہیں آجکل ہمیں کس قدر ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔۔۔المان جھرجھری سی لیکر بولا
“یہاں بتائے یا سب کے سامنے باہر؟؟اسیر نے ایک اور سوال کیا
“یہی ہمارے سامنے پہلے بتائے سسپینس کیوں کیریٹ کررہے؟؟المان سے انتظار اب اور مشکل تھا
“تو سہی ہے آپ کو بتادیتے ہیں کہ وہ لڑکی کون ہے۔۔”جس سے آپ کا نکاح ہونے والا ہے۔۔”اسیر اُس کے گرد چکر کاٹ کر بولا تو”المان کا دل دھک دھک کرنے لگا اُس کی تمام تر توجہ کا مرکز اپنے باپ کی بات کی طرف تھا۔۔
“وہ لڑکی کوئی اور نہیں”عیشا ہے ہماری اپنی خاندان کی بچی۔۔۔”جس کو تم اور جس کو وہ اچھے سے جانتی ہے۔۔۔اسیر رُک کر اُس کے سامنے کھڑا ہوتا بولا تو ایک ساتھ المان کے چہرے پر جانے کتنے رنگ آکر گُزرے تھے۔۔”وہ بے یقینی جیسی کیفیت میں آنکھیں پھیلائے اسیر کو دیکھنے لگا جو بغور اُس کے تاثرات دیکھ اور جانچ رہا تھا۔۔”المان کو دیکھ کر تو لگ رہا تھا جیسے اُس نے اپنی سانس تک کو روک لیا تھا
“ٹھیک ہو؟؟اُس کو کچھ بھی نہ بولتا دیکھ کر اسیر نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو جواب میں المان بیہوش ہوکر گِر پڑا تھا۔۔”یہ دیکھ کر اب حیران ہونے کی باری اسیر کی تھی۔۔”وہ حیرت سے المان کو دیکھنے لگا جو بیڈ قریب ہونے کی وجہ سے اُس پر گِرا تھا۔۔
“وہ جانتا تھا یہ جان کر اُس کا ردعمل شدید ہوگا”پر یہ سن کر وہ بیہوش ہی ہوجائے گا۔۔”ایسا تو اُس نے قطعیً نہیں سوچا تھا۔۔”
