Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 24)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“بابا سائیں۔۔۔۔اپنا سارا سامان دیکھ لینے کے بعد جب جانے کا وقت ہوا تو المان نے اسیر کے کمرے کا دروازہ نوک کیا جو اپنے کمرے میں موجود اسٹڈی ٹیبل کے پاس بیٹھا تھا

“ہمممم۔۔۔۔اسیر نے ہونکارہ بھرا

“ہم اندر آجائے؟المان نے اجازت طلب کی

“آجاؤ۔۔۔اسیر نے اِجازت دی تو وہ کمرے میں داخل ہوتا اُس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اُس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے

“ناراض ہو آپ؟المان نے اُس کا چہرہ دیکھ کر پوچھا جو ہر احساس سے عاری تھا

“ہم تم سے ناراض کیوں ہوگے؟اسیر نے اُلٹا اُس سے سوال کیا

“کیونکہ ہمیں پتا ہے کہ آپ نے اجازت بس ہماری ضد کی وجہ سے دی ہے ناکہ اپنی خوشی سے۔۔المان اُس کی بات کے جواب میں بولا

“ایسی بات نہیں ہے آپ ساری ٹینشنوں کو یہی چھوڑ کر چلے جائے۔۔”ہمیں تھوڑا بہت اعتراض تھا لیکن پھر سوچا اِس میں کوئی بڑی بات نہیں ہر بچہ جاتا ہے۔۔”آپ بھی جائے اور اپنا شوق پورا کریں لیکن اپنا خیال رکھنا کیونکہ پھر اپنی ماں کا تو آپ کو پتا ہے۔۔اسیر اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا

“اُس کی آپ ٹینشن نہ لے ہم ہر روز آپ گھروالوں سے بات کرینگے۔۔۔المان پہلی بار مسکراکر بولا

“ہاں لیکن ہم تم سے ایک بات کرنا چاہے گے۔۔۔اسیر نے سنجیدگی سے کہا

“جی آپ کہے؟المان نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا

“میشا کو تم لاکھ پیارے سہی لیکن وہ عیشا کا رشتہ تمہیں دینے کو تیار نہ تھی۔۔”فاحا نے بڑی مشکل سے اُس کو راضی کیا تھا۔۔”اور اب ہمیں اُمید ہے کہ تم ایک بہن کو دوسری بہن کے آگے شرمندہ نہیں کروگے۔۔”اور نہ ہمارا مان توڑو گے۔۔۔اسیر نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا جو خاموشی سے اُس کی بات کو سُن رہا تھا

“ہم آپ کا مان کبھی نہیں توڑینگے بابا سائیں آپ اِس بات کی تسلی رکھے۔۔جواب میں محض المان نے اِتنا کہا

“اچھا بھی اِسی میں ہوگا اگر تم کبھی عیشا کی حق تلفی نہیں کروگے۔۔اسیر نے ایک بار پھر کہا

“ہماری فلائٹ کا وقت ہونے لگا آپ سی آف کرنے آئے گے یا ہم خود چلے جائے؟المان نے بات بدل کر پوچھا

“تم نیچے جاؤ۔۔”ہم آتے ہیں۔۔اسیر نے کہا تو المان عقیدت سے اُس کے ہاتھوں کا بوسہ لیتا اُٹھ کھڑا ہوا تھا

___________________

یہ گاڑیاں باہر کیوں ہیں؟ المان باہر آیا تو پارکنگ کے پاس تین گاڑیاں دیکھ کر چونک اُٹھا۔ ۔۔۔”

“ہم سب تُجھے سی آف کرنے چلے گے۔ ۔۔۔سکندر اُس کے کندھے پر اپنا بازو رکھ کر بولا تو المان کو مزید حیرانگی ہوئی

“لگ ایسا رہا ہے جیسے بارات لے جانے کا وقت قریب ہے۔ ۔۔المان نے کوفت سے کہا تبھی اُس کی نظر لان میں کھڑی عیشا پر گئ جو اردگرد سے بے نیاز اپنی تصویریں کھینچنے میں مصروف تھی۔ ۔”کچھ سوچ کر المان اُس کی طرف آیا تھا

“ارے آپ میرے مجازی خُدا کھڑے کیوں ہیں؟ “پلیز اپنی تشریف رکھے اور بتائے کہ کیسے آنا ہوا۔ ۔۔عیشا نے المان کو دیکھا تو لان میں موجود ایک کُرسی کو اُس کے سامنے رکھ کر خاصے محبت بھرے انداز میں کہا تو المان نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا

“بند کرو تم اپنا یہ ڈرامہ۔ ۔۔المان نے اُس کو گھور کر کہا

“سرتاج کیا ہوا۔ ۔؟”کیا کوئی گُستاخی ہم سے سرزند ہوئی ہے۔ ۔۔عیشا نے مصنوعی دُکھ بھرے لہجے میں اُس سے استفسار کیا

“عیشا پلیز سیریس ہوجاؤ۔۔۔المان نے ضبط سے کہا

“اچھا سہی ہے بتاؤ کیسے تمہیں میری یاد آئی؟عیشا نے اِس بار سنجیدگی سے پوچھا

“میں یہاں سے جانے والا ہوں۔۔۔المان نے بات کرنے کی شروعات کی

“اچھا واقعی اچھا ہوا جو تم نے بتادیا ورنہ مجھے تو پتا ہی نہیں چلنا تھا۔۔۔عیشا نے تشکرانہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو المان نے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ لیا تھا۔

“بس میں تمہیں یہ بتانے آیا تھا کہ ہمارے راستے الگ ہیں۔ ۔”ہم کبھی ایک راہ کے مسافر نہیں ہوسکتے۔ ۔۔”مجھے نہیں پتا کہ بابا سائیں نے میرے لیے تمہارا انتخاب کیوں کیا؟ “لیکن مجھے بس اِتنا پتا ہے ایز آ لائیف پارٹنر کے طور پر میں تمہیں امیجن بھی نہیں کرسکتا۔۔۔”میں نے آج اگر تم سے نکاح کیا تو بس والدین کی ضد کے آگے کیا۔ ۔”ورنہ میں کبھی اِس نکاح پر راضی نہیں ہوتا۔ ۔”مختصر یہ کہ تم میرا انتظار مت کرنا۔۔”اگر کبھی زندگی میں کوئی شخص تمہارے پاس آئے تو نکاح میں ہونے کا سوچ کر اُس کا ہاتھ مت جھٹکنا۔۔”کیونکہ تم جب چاہو گی میں اِس بے نام رشتے سے تمہیں آزاد کردوں گا۔ ۔۔المان اپنی بات کہہ جانے کے بعد بنا اُس کی سُنے چلاگیا تھا۔ ۔”پیچھے عیشا نے جانے کتنی دیر تک اُس کی پشت کو دیکھا تب تک جب تک نظروں سے اوجھل نہ ہوپایا۔ “پھر عیشا بھی سرجھٹک کر اپنا سر دائیں بائیں ہلاکر دوبارہ سے الگ الگ پوز میں اپنی سیلفیاں نکالنے لگی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ ۔

______________________

“اپنا بہت سارا خیال رکھنا۔ ۔۔”کھانا وغیرہ بھی وقت پر کھانا۔ ۔”اور وہاں کسی اوش باش لوگوں سے یاریاں نہ بنانا۔ ۔۔وہ لوگ ایئرپورٹ پر المان کو چھوڑنے آئے تو فاحا اُس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتی دیوانہ اُس کا وجیہہ چہرہ دیکھتی ہوئی بولی

“اماں سائیں آپ فکر نہ کرے۔۔۔”میں وہاں جاکر آپ کو پل پل کی خبردوں گا۔ ۔”اور یہ بھی بتاؤں گا کہ میں نے کس سے یارانہ لگایا ہے یا کس سے نہیں۔۔المان اُس کا ماتھے پر بوسہ لیکر بولا

“ماہا آپ کو بہت یاد کرے گی۔۔۔ماہا آگے بڑھ کر اُس کے سینے سے لگ کر نم لہجے میں بولی

“صرف چار سالوں کی تو بات ہے۔۔۔المان نے مسکراکر کہا

“چار سال بھی بہت عرصہ ہوتا ہے بس اللہ تمہیں اپنے حفظ و ایمان میں رکھے۔۔۔اقدس اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر سنجیدگی سے بولی

“آمین۔۔اُس کی بات پر سب نے بے ساختہ کہا

“تم تینوں نے کیوں چہرہ لٹکایا ہوا۔؟المان آخر میں”رایان”زوہان اور سکندر کی طرف بڑھا تھا جو اُس سے کوئی بات تک نہیں کررہے تھے

“توں جو جارہا ہے۔۔”ہم تُجھے بڑا مس کرینگے۔۔سکندر اُس کے کندھے پر ہلکا سا مُکہ مار کر بولا

“ہاں نہ اب ہم نے کب سوچا تھا کہ ہمارا پارٹنر ایک کم ہوجائے گا۔۔۔رایان نے بھی منہ بسور کر کہا

“قدو جیسی شکل نہ بناؤ یار ہمیشہ کے لیے تھوڑی جارہا ہوں۔۔۔المان نے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائے کہا کیونکہ یہ وقت اب اُس کے لیے بھی کھٹن معلوم ہورہا ہے۔۔”اُس کو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ماں باپ بہنوں اور جان چھڑکنے والے کزنز پلس دوستوں کو چھوڑ کر اپنے خواب کی تکمیل پانا جیسے آسان نہ تھا۔۔”اپنے ایک خواب کی پورائی کی وجہ سے جیسے وہ اپنوں سے بہت دور جارہا تھا اِتنا دور کہ شاید واپسی کا کوئی راستہ نہ ہو اُس کے پاس

“ہم تیرا انتظار کرنے کو تیار ہیں۔۔”بس توں خوشی خوشی جا۔۔۔زوہان نے آگے بڑھ کر اُس کے گلے لگ کر کہا تو المان نم نظروں سے مسکرایا

“اپنی آواز کا سونگ رکارڈ کرکے وہاں بھیج دیتا تیرا خود کو جانا ضروری ہے۔۔۔رایان بھی آگے بڑھ کر اُن کے گلے لگا تھا

“میں بھی ہوں یار۔۔۔سکندر نے بھی آگے بڑھ کر ایک زوردار جپی دی تھی

“توں نے اپنا پلان کینسل کیا نہ ورنہ آج ہم دونوں ایک ساتھ جاتے۔۔۔اپنی آنکھیں صاف کرتا المان اُس سے بولا

“میں ضرور آتا لیکن پھر خیال آیا کہ توں جارہا ہے تو پیچھے”ہادی اور وزیر بھائی ہیں جو ماموں جان کا تیرے بعد خیال رکھے گے۔۔”اُن کے ہر کام میں ہاتھ بٹائے گے۔۔”پر اگر میں گیا تو موم ڈیڈ کے پاس کون بچتا؟”وہ تو تنہا رہ جاتے چاچو بھی شہر سے باہر رہتے ہیں۔۔”ایسے میں اُن کو چھوڑ کر جانا مجھے سہی نہیں لگا اِس لیے سوچ لیا کہ اب جو کچھ بھی کرنا ہے یہی رہ کر کرنا ہے۔۔۔”سکندر اُس کی بات کے جواب میں بولا

“اب اجازت دو۔۔۔المان اُن سے الگ ہوکر بولا

“میری بات مان رُک جاء وہاں ہم نہیں ہوگے۔۔”ہماری شرارتیں نہیں ہوگی۔۔”وہاں تیری ٹانگ کھینچنے والا نہیں ہوگا۔۔”توں ہمیں بہت یاد کرنے والا ہے اِس لیے اپنی حالت پر رحم کھاؤ اور نہ جاء۔۔۔۔رایان نے بڑی مشکل سے اپنے لہجے کو ہشاش بشاش کیا تو جس پر فاحا”اقدس”ماہا اور باقی سب جو اُن کا پیار دیکھ رہے تھے۔۔”رایان کی بات پر جیسے سب کی نظریں المان پر ٹھیر سی گئ تھی۔۔”فاحا نے اسیر سے اُس کو باہر جانے کی اجازت تو دلوادی تھی لیکن اب ایک عجیب سی بے چینی اُس کے وجود میں ڈور گئ تھی۔۔”دل بار بار کہہ رہا تھا جیسے کہ المان نہ جائے اگر گیا تو واپس اُن کو پلٹ کر نہیں دیکھے گا

“میں یہاں تک پُہنچ کر واپس پلٹ کر نہیں دیکھ سکتا۔ ۔۔المان اُس کی گردن پر ہاتھ رکھ کر بولا

“چل اب جانا ہے تو زیادہ سینٹی نہ ہو اور جاء نہیں تو میں کیک مار کر تُجھے دفع کروں گا۔ ۔۔سکندر نے ماحول میں چھائی اُفسردگی کو ختم کرنے کے غرض سے مزاحیہ انداز میں کہا

“تم سب لوگ بھی اپنا خیال رکھنا۔ ۔۔المان باری باری سب پر نظر ڈال کر بولا جہاں سب لوگ تھے” سوائے عیشا کے

“ہاں ہم رکھ لینگے ایک دوسرے کا خیال توں بس اپنا سوچ کیونکہ ہم تو ساتھ ساتھ ہیں۔ ۔”اکیلا تو وہاں توں ہوگا۔ ۔۔رایان نے ہاتھ نچاکر کہا تو المان ناچاہتے ہوئے بھی ہنس پڑا اور جب اناؤنسمنٹ ہونے لگی تو المان نے ایک آخری نظر اُن پر ڈالی اور اپنے منزل کی طرف گامزن ہوگیا تھا۔۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

رات کے بارہ کا وقت تھا۔ ۔”آتش گھر لوٹا تو اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔”لیکن نیند آنکھوں سے آج جانے کیوں کوسوں دور تھی۔ ۔”اُس نے سوچا دوبارہ باہر نکل جائے لیکن ایک خیال تیر کی تیزی سے طرح اُس کے دماغ میں کوندا تھا۔۔”جس پر اپنا سیل فون اُٹھائے “آتش نے ایک نمبر کو غور سے دیکھا جو “ماہا نے اُس کو دیا تھا۔ ۔”لیکن اپنے کام میں وہ بُری طرح سے اُتنا اُلجھ گیا تھا کہ کال ملانے کا اُس کو وقت نہ ملا تھا۔ ۔”مال میں جو واقعہ رونما ہوا تھا اُس کو آتش نے اِس بار خود ہینڈل کیا تو ورنہ جو بھی اسکینڈل اُس پر یا” ایشال پر بنتا اُن کو” آفاق لُغاری ہینڈل کرتا تھا۔ ۔”پر اِس بار اُس نے آفاق لُغاری سے اُمید نہیں لگائی تھی بلکہ خود لے دے کر وہ خبر ہر نیوز چینلز سے ہٹوائی تھی۔ ۔”اپنے طریقے سے

“رات کے بارہ کا وقت ہے ہوسکتا ہے سوئی ہوئی ہو۔ ۔۔۔کال ملاتے ملاتے ایک خیال آتش کے دماغ میں آیا

“ہاں تو اُٹھنے کے لیے سونا ضروری ہے۔ ۔آتش اپنی بات کا جواب خود ہی پیش کرتا نمبر ملانے لگا”جہاں کال تو جارہی تھی پر کوئی کال اُٹھا نہیں رہا تھا

________________________

نیند نہ آنے کی وجہ سے اسیر اپنے اسٹڈی روم میں تھا۔ ۔”تبھی پاس پڑا اُس کا سیل فون رِنگ کرنے لگا تو اُس نے اسکرین کی طرف دیکھا جہاں کوئی انون نمبر جگمگا رہا تھا۔ ۔”رات کے پہر اِس وقت انون نمبر سے کال اُس کو تفتیش میں مبتلا کرگئ تھی۔ ۔”تبھی اپنا سیل فون لیکر اُس نے کال ریسیو کی

السلام علیکم کون؟ اسیر نے کال ریسیو ہوتے سوال کیا تو دوسری طرف جو آتش یہ سوچ کر سیل فون کو کان سے لپٹائے ہوئے تھا کہ اسپیکر پر” اقدس کی نیند میں ڈوبی خمار سے بھری آواز ٹکرائے گی لیکن اُس کے برعکس کوئی مردانہ بھاری روعبدار آواز سن کر اُس نے بے ساختہ سیل فون کو کان سے دور کیا تھا۔ ۔

“یہ اِس کی کوئل جیسی آواز سنی دیول کی طرح بھاری بھرکم کیوں ہوگئ ہے۔ ۔؟آتش تفتیش بھرے لہجے میں خود سے بولا

“تم نے کبھی بتایا نہیں کہ نیند میں تمہارا گلا خراب ہوجاتا ہے اور کسی اور کی آواز ٹرانسفر ہوجاتی ہے۔ ۔سیل فون دوبارہ کان سے لگائے آتش نے اُس سے کہا تو اسیر جو دوسری طرف خاموشی کو طویل دیکھ کر کال کاٹنے لگا تو دوسری طرف اُس کے لیے جو کوئی بھی تھا اُس کی بات پر اُس کی پیشانی پر شکنوں کا جال بِچھ گیا تھا

“آپ کی تعریف؟ اسیر نے سنجیدگی سے پوچھا تو ایک بار وہی لہجہ سُن کر اسیر نے اپنے کان میں اُنگلی ٹھونس کر کانوں کو صاف کیا

“تم فریش ہوجاؤ پھر بات ہوگی۔۔”میں ویٹ کرلوں گا۔۔”البتہ تمہاری ایسی آواز پر کوئی گفتگو نہیں کرسکتا کول بندہ ہوں ہارٹ فیل کا خدشہ ہے۔۔۔آتش نے گہری سانس بھر کر اُس سے کہا

“رونگ نمبر۔۔جواب میں اسیر اِتنا کہتا کال کاٹنے لگا تھا جب آتش بول پڑا

تمہاری آواز کو کیا ہوا ہے؟سیل فون دوبارہ کان سے ہٹائے آتش کافی عجیب نظروں سے سیل فون کی اسکرین کو دیکھنے لگا۔۔”اور بیڈ کی سائیڈ پر موجود بال کو دیکھ کر جھک کر اُس نے اُٹھایا

“محترم آپ ہیں کون؟اسیر سیدھا ہوکر بیٹھا”اُس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ آدھی رات کو کون اُس کا دماغ چاٹ رہا ہے

“مجھے لگ رہا ہے”مال میں رونما ہوئے واقعے نے تمہاری زبان پر کافی گہرا اثر چھوڑا ہے۔ ۔”اب دیکھو نہ تمہاری آواز کیسی مردانہ ٹائپ بھاری گھمبیر ہوگئ ہے۔ ۔۔آتش بال کو دیوار پر مار کر کیچ کرتا مزاحیہ انداز میں بولا

“ہم مرد ہیں تو ظاہر سی بات ہے” آواز بھی مردانہ جیسی ہوگی عابدہ پروین جیسی نہیں ہونے سے رہی۔ ۔اسیر طنز ہوا تھا

“ہاہاہاہاہا نہیں یار تمہاری آواز عابدین پروین کے جیسی تو نہیں البتہ تمہاری آواز کسی چالیس پچاس مرد جیسی ہوگئ ہے” ورنہ میں جانتا ہوں تم میری آواز سن کر مجھے پہچان گئ ہو۔ “بس اُپری اُپری ڈرامہ کررہی ہو۔ ۔”اِس لیے شاباش اپنی ٹون میں واپس آؤ۔۔آتش نے اُس کو کسی بچوں کی طرح پچکارا تو اسیر نے ضبط سے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچا تھا۔

“آپ نے شاید غلط نمبر ملایا ہے”ہم وہ نہیں جس کو سمجھ کر آپ نے رات کے اِس وقت کال کی ہے۔ ۔اسیر نے گہری سانس بھر کر اُس سے کہا

“کول یعنی۔”ہم بھی بول رہی ہو” اور غلط نمبر ہے یہ بھی بول رہی ہو۔ “یو آر ویری نوٹی گرل۔ ۔۔آتش بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا تو اسیر کا بس نہیں چلا ورنہ سیل فون میں گُھس کر ٹھیک ٹھاک اُس کی عقل ٹھکانے لگاتا جو اُس کا جینڈر بدلنے میں مست تھا۔

“ٹائیم پاس کے لیے اچھا طریقہ چوز کیا ہے لیکن محترم جان لے کہ ہم کوئی محترمہ نہیں۔ ۔اسیر نے گویا کُھلا طنز کیا

“آہو جی کول ہم بھی تو محترمہ ہیں کونسا محترم ہیں۔ ۔”آپ خوامخواہ غُصہ ہورہے ہیں۔۔آتش نے بھی اپنی آواز کو بدل کر لڑکیوں جیسی آواز نکال کر کہا تو اسیر بنا کچھ اور کہے کال کاٹنے لگا تھا جب اقدس اچانک اسٹڈی روم میں داخل ہوئی تھی

“بابا سائیں آپ ابھی تک سوئے نہیں۔ ۔۔۔اقدس نے اسیر کو دیکھ کر ہلکی مسکراہٹ سے کہا اور یہ آواز بخوبی آتش تک بھی پُہنچی تھی جبھی اُس کے ہاتھ سے سیل فون گِرتے گِرتے بچا تھا

“ہاں بس سونے لگے تھے لیکن آپ یہاں اِس وقت۔ ۔۔اسیر نے اپنا سیل فون بغیر کال کاٹے اسٹڈی ٹیبل پر رکھ دیا

“ہماری آنکھ پیاس کی وجہ سے کُھلی تو پھر یہاں لائیٹس آن دیکھی تو سوچا دیکھ لوں۔ ۔۔اقدس نے وجہ بتائی

“ٹھیک ہے آپ جائے ہم بھی اپنے کمرے میں جاتے ہیں۔۔اسیر نے مسکراکر کہا

“نہیں بابا جان ہمیں پتا ہے یہاں بیٹھ کر آپ نے مان کو یاد کرنا ہے اِس لیے زیادہ ایموشنل نہ ہو۔ ۔”اور کمرے میں جاکر سوجائے۔ ۔۔۔اقدس اُس کے دونوں ہاتھ تھام کر باہر لے جاتے ہوئے بولی

“کافی ضدی ہو آپ۔ ۔اسیر نے اُس کی بات پر گہری سانس بھر کر کہا

“آپ کی طرح۔ ۔”آپ جائے اب ہم بھی آتے ہیں لائیٹس آف کرکے۔ اقدس نے کہا تو اسیر سر کو جنبش دیتا اپنے کمرے کا رُخ کرنے لگا۔ ۔”جبکہ اقدس جو لائیٹس آف کرنے لگی تھی اُس نے ٹیبل پر اسیر کا فون دیکھا تو اُس کی طرف آکر سیل فون پکڑا تو اسکرین آن ہوگئ جس سے اُس کو معلوم ہوا کہ کال چل رہی تھی

“بابا جان کال کاٹنا لگتا ہے بھول گئے۔ ۔”لیکن انون نمبر کس کا ہوسکتا ہے۔ ؟اقدس نے پرسوچ نگاہوں سے اسکرین کو دیکھا اور کال کاٹنے سے پہلے اپنے کان پر رکھا

“اگر تمہارا ابا حضور اپنی تشریف لے جاچُکے ہیں کہ تو اپنی آواز کا رس ہمارے کانوں میں بھی گھول دیجئے۔۔دوسری طرف سے آتی آواز کو سن کر اقدس کا دل اُچھل کر حلق میں آیا تھا

“کک کون؟ اقدس نے اپنا گلا تر کیے پوچھا

“تم پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ کیا تمہارا سیل فون تمہارے ابا کے پاس ہوتا ہے۔۔؟”یعنی پرائیویسی نام کی کوئی چیز بھی ہوتی ہے۔۔۔آتش اچھا خاصا تپا ہوا تھا

“تم۔۔؟اقدس آواز کو پہچان کر حیران ہوگئ

“جی ماہ بدولت کو آتش لُغاری کہا جاتا ہے۔۔۔آتش نے دانت پر دانت جمائے کہا

“مانا کہ تم نے ہماری مدد کی لیکن اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوا کہ رات کے اِس پہر تم میرے بابا جان کو کال کرکے اُن کو پریشان کرو۔۔۔اقدس نے سنجیدگی سے کہا

“یہ تمہارے ابا کا سیل فون کیسے ہوا؟آتش کی سوئی ایک بات پر اٹک سی گئ

“انجان ایسے بن رہے جیسے کچھ پتا ہی نہیں۔۔اقدس نے طنز کیا

“تمہاری اُس چھوٹی بہن نے مجھے ماموں بنایا۔۔”ماہا کا خیال آتے ہی آتش کو غُصہ آنے لگا

“چھوٹی بہن۔۔؟اقدس ناسمجھی سے بولی

واؤ ایمپریسو ہاؤ انوسینٹ یو آر۔۔”تم IPPA آوارڈ شو میں جاؤ ٹرسٹ می معصومیت کا آوارڈ ضرور حاصل کرو گی۔۔آتش نے اُس کے ایسے انجان بھرے لہجے کو محسوس کرکے بھگو کر طنز کیا تو اقدس نے گہری سانس بھری

“ہمارا جانا تو پاسبیل نہیں آپ وہاں شراکت کریں اِن شاءاللہ کوئی اور چیز ملے یا نہ ملے بے شرمی میں آپ کو آوارڈ ضرور ملے گا۔ ۔جواب میں اقدس نے بھی بھگو کر طنز کیا

“اپنا نمبر دو اور یہ جو تمہاری چٹکی بہن ہے نہ اُس کو ہم چھوڑینگے نہیں۔ ۔۔آتش نے غُصے سے کہا

“آپ ماہا کی بات کررہے ہیں کیا۔ ۔؟”لیکن آپ دونوں کا آمنا سامنا کیسے ہوا؟ اقدس اِس بار الرٹ ہوئی

“یہ سوال تم اپنی بہن سے کرو جس نے مجھے یعنی آتش لُغاری کو ماموں بنایا ہے۔ ۔آتش نے کہا اور کھٹاک سے کال کاٹ دی تھی جبکہ کال کٹ ہونے کے بعد بھی اقدس کتنا ہی وقت موبائل اسکرین کو تکنے لگی۔ ۔”آتش کا یوں بے دھڑلے سے کال کرنا اقدس کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔”لیکن ایک خیال کے تحت اُس نے اپنا رُخ ماہا کے کمرے کی طرف کیا

“ماہی

ماہی

“اُٹھو اور ہمارے سوال کا جواب دو۔ ۔۔اقدس ماہا کے کمرے میں آکر اُس سے بولی”جو کمبل تان کر گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی

“آپو کیا ہوگیا ہے سونے دے نہ ماہا کو نیند آرہی ہے بہت۔ ۔۔ماہا نے کسمساکر کروٹ بدل کر اُس سے کہا

“ماہی ہمیں تم بس اِتنا بتاؤ کہ کیا کبھی تم نے کسی کو ہمارا نمبر دیا تھا۔۔”اقدس نے کہا تو پل بھر میں ماہا کی نیند بھک سے اُڑی تھی

“نہیں تو کیا ماہا آپ کو اِس قدر بیوقوف لگتی ہے جو آپ کا نمبر یونہی منہ اُٹھاکر راہ چلتے انسان کو دے گی۔۔”وہ تو کچھ دن قبل ایک ڈیشنگ سا بندہ خود کو آپ کا شاگرد متعارف کروا رہا تھا۔۔”تو آپ کے نام پر ماہا نے اُس کو نمبر دیا۔۔”یقین کرے وہ نمبر بابا سائیں کا تھا۔۔ماہا اُس کے سوال پر جھٹ پٹ بولتی چلی گئ۔۔

“ماہی حد کردی ہو تم نے ایسا کیوں کیا؟اقدس تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولی

“کیوں کیا کوئی مسئلہ ہوگیا ہے۔۔”کیا کسی نے بابا کا فون ہیک کرلیا ہے۔۔؟ماہا کو تفتیش ہونے لگی

“ایسا کچھ نہیں ہوا لیکن جس سے تم نے بات کی اور نمبر دیا وہ انسان انتہا کا بے شرم ہے۔۔”تمہیں پتا ہے اپنی تعریف میں دُنیا جہاں ایک تو کرتا ہے لیکن اپنی نابی تک کی تعریف کرتا ہے۔۔”اُس کو لڑکیوں سے بات کرنا تک نہیں آتی۔۔اقدس یہاں سے وہاں چکر کاٹ کر بولی

“واٹ نابی؟بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاکر بیٹھتی ماہا نے جیسے بس لفظ”نابی” سُنا تھا

“نابی۔۔۔اقدس نے اِشارے سے اُس کو کچھ سمجھانا چاہا

“ہاں کیا نابی؟ماہا کو خاک اُس کا اِشارہ سمجھ میں آیا تھا

“نابی جس کو ہم ناف بولتے۔۔۔گہری سانس بھر کر آخر بتا ہی دیا

“ناف؟لفظ دوہراتی ماہا چونک سی گئ

“اوووو اچھا ناف۔۔۔۔کمبل چہرے تک کرتی ماہا شرما سی گئ

شرمانے والی کوئی بات نہیں ہے۔۔اقدس یہاں وہاں دیکھ کر بولی

“توں آپ سیدھا ٹونی بولتی نہ”نابی”نابی”کیا لگایا ہوا تھا۔۔”ماہا کی عقل کو کیسے پتا چلتا”نابی”کس بلا کا نام ہے۔۔۔”ویسے ناف کو نابی بھی کہا جاتا ہے۔۔؟سر نفی میں ہلاکر کہتی آخر میں ماہا اُس سے پوچھ بیٹھی

“ہندی لفظ ہے “نابی”۔۔اور ایسا اُس نے ہندی میں بولا۔۔اقدس نے بیڈ پر بیٹھ کر بتایا

“وہ آپ کو راجکماری بول رہا تھا۔۔”لفظ شہزادی کو ہندی میں راجکماری بولا جاتا ہے نہ؟ماہا نے پرسوچ لہجے میں اُس سے کہا

“وہ ہمیں طنزیہ”راجکماری بولتا ہے اور ہاں جس طرح پاکستانی مائیں اپنی بیٹوں کو شہزادی کہتیں ہیں ٹھیک ویسے انڈیا میں عورتیں”راجکماری”لفظ کا استعمال کرتیں ہوگیں۔۔۔اقدس نے بتایا

“اور یہ سیوک کیا ہوتا ہے۔۔”دراصل مسٹر نابی نے ایسا لفظ اپنے منہ سے نکالا تھا۔۔۔ماہا کو اچانک خیال آیا تو پوچھ بیٹھی

“یہ بھی ہندی لفظ ہے جس کا مطلب’غلام”ہے۔۔اقدس نے بتایا

“لگتا ہے اُن کو ہندی زبان سے کچھ زیادہ لگاؤ ہے۔۔۔ماہا اپنے تئیں اندازہ لگاتی ہوئی بولی

“چھوڑو اُس کو اب اور سوجاؤ۔۔”دوبارہ اگر کبھی اُس سے سامنا ہو تو بات مت کرنا۔۔۔اقدس اُس پر کمبل سہی کرتی بولی

“اوکے گُڈ نائٹ۔۔۔ماہا اُس کے گال پر نشان والی جگہ کا بوسہ لیکر کہتی دوبار سے سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔”جس پر اقدس اپنے گال پر ہاتھ رکھتی وال مرر کے آگے کھڑی ہوتی کمرے میں موجود مدھم روشنی میں اُس نشان کو غور سے دیکھنے لگی

“کیا تم پر کسی نے کانچ کا وار کیا تھا یا پھر تمہارا چہرہ کسی کانچ سے ٹکرایا تھا؟”نشان کافی پکا معلوم ہورہا ہے”ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی نے خاص اِس مخصوص جگہ کو چُن کر نشانہ بنایا ہوا تھا۔ ۔”تبھی کٹ پھیلا ہوا نہیں ہے۔ ۔اگر گِرنے سے ہوتا تو اِتنی صفائی سے بس ایک جگہ پر نہ ہوتا۔ “

“اقدس اُس نشان پر غور کرنے لگی تو کانوں میں آتش کی باتیں تازہ ہونے لگیں تو اُس کے چہرے کے تاثرات پل میں بدلے تھے۔۔۔

If you were in front of me I swear definitely I,would have take your life. Because you don’t know how much I hate you.

نظروں کے آگے آتش لُغاری کا خوبصورت وجیہہ چہرہ سامنے آیا تو وہ تصور میں اُس کو مُخاطب ہوئی تھی۔۔”پھر ماہا کے کمرے میں جلتی اُس مدھم روشنی کو آف کرکے اقدس اُس کے کمرے سے باہر نکل گئ

__________________________

“اگلے دن دیر سونے کی وجہ سے اقدس کی آنکھ دیر سے کُھلی تھی۔۔”اور جب وہ اپنے کمرے سے باہر حویلی کے بڑے ہال میں آئی تو ہر ایک کو اپنے کام میں مصروف تھا۔۔”اور نظر ماہا پر گئ تو مسکرائی جو آس پاس سے بے نیاز اپنے لیپ ٹاپ میں مصروف تھی۔۔”آنکھیں بھی پھٹنے کی حدتک کُھلی ہوئیں تھیں۔”جس پر اقدس کو تھوڑا عجیب لگا

کیا ہے ایسا لیپ ٹاپ میں جو تم اِتنا گھور گھور کر دیکھے جارہی ہو؟اقدس نے ماہا کو آنکھیں پھاڑے لیپ ٹاپ کی اسکرین کی طرف دیکھتا پایا تو سوال کیا

“ماہا کو ایک سوال کا جواب چاہیے تھا۔۔”بس وہی تلاش کرنے میں مصروف ہے۔۔۔ماہا نے بنا دیکھے اُس کو جواب دیا

“کیا زیادہ مشکل سوال ہے جو تم اِتنا سیریس ہوگئ ہو۔۔۔اقدس نے کو جانے کا تجسس ہوا

“سوال تو سادہ سا ہے لیکن جواب کسی کے پاس نہیں۔۔ماہا نے منہ بسور کر جواب دیا

“ایسا کیوں؟”اگر سوال آسان ہے تو کوئی جواب کیوں نہیں دے رہا؟۔”تم ہم سے پوچھو ہم تمہیں اُس کا جواب دینگے۔۔اقدس نے مسکراکر اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا

“ارے ہاں اب تو آپ اُستانی ہو تو ماہا کو آپ سے سوال کرنا چاہیے تھا۔۔ماہا نے اپنے سر پہ ہاتھ مار کر اُس سے کہا

“بات کیا ہے اب وہ بتاؤ۔۔۔اقدس مطلب کی بات پر آئی

“کہتے ہیں کہ عورت کو مرد کی پسلی سے بنایا جاتا ہے۔۔”اور جو عورت جس مرد کی پسلی سے بنی ہوئی ہوگی۔۔”اُس کی شادی اُسی سے ہوگی۔۔”ہیں نہ ایسا ہی ہوتا ہے نہ۔۔؟اپنی بات کہہ دینے کے بعد ماہا نے اُس سے آخر میں تائید مانگی

“بلکل ایسا ہی ہوتا ہے۔۔اقدس اُس کی بات پر بے اختیار مسکرائی تھی

“ہاں تو کبھی کبھی نہیں ماہا کا مطلب کہ کچھ کچھ لڑکیاں ایسی ہوتیں ہیں نہ جن کی قسمت میں ایک نہیں دو دو شادیاں کرنی ہوتیں ہیں تو کیا اُس لڑکی کو دو مردوں کی پسلیوں سے بنایا جاتا ہے؟۔”یہ سوال نہ بہت وقت سے ہمیں پریشان کررہا ہے۔۔”اگر آپ کے پاس جواب ہے تو دیجئے گا۔۔۔۔ماہا نے اُس کے دونوں ہاتھ تھام کر پوچھا تو اقدس کے مسکراہٹ پل بھر میں سیکڑ گئ تھی۔۔”اور وہ حیرت سے ماہا کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔”جس کی پُرتجسس نگاہ اُس پر جمی ہوئیں تھیں

“دُنیا چاند پر پُہنچ گئ اور ایک تم ہو ماہا جس کا کچھ نہیں ہوتا۔۔۔فاحا نے جب ماہا کی بات سُنی تو اپنا سر نفی میں ہلایا تھا

“ہاں تو جانے دے اُن کو چاند پر۔۔”واپس تو انہوں نے زمین پر ہی آنا ہے۔۔”اور اللہ کا شکر ہے کہ چاند پر آکسیجن کا مسئلہ ہوتا ہے۔۔”وہاں کوئی بغیر کسی آکسیجن کے سانس نہیں لے پاتا اگر وہاں بھی آب و ہوا ایسی ہوتی جیسی یہاں ہیں تو ہر ایک اپنا بستر بوریاں(بوریاں بستر) سمیٹ کر چاند پر اپنا ڈھیرا جمالیتا۔۔”اور وہی کا رہ جاتا ہے۔۔”اور پھر انڈیا پاکستان کے درمیاں ایک الگ سے جنگ چِھڑ جاتی۔۔”پاکستانی بولتے چاند ہمارا ہے تو ہُندستانی کہتے۔۔۔”نہیں جی چاند تو ہمارا ہے۔۔۔”اور پھر ایٹ دا لاسٹ ٹائیم میں انگریزوں کی اینٹری ہوتی اور وہ کہتے چاند پر جانے کا طریقہ ہم نے ایجاد کیا تو اُس لحاظ سے چاند تو ہمارا ہے۔۔۔”یعنی قصہ ہی مُک جاتا۔۔۔ماہا فاحا کی بات پر منہ کے ہزار زایئے بگاڑ کر بولی تو اُس کی گوہر افشانی پر فاحا کا پورا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا۔۔”وہی اقدس نے اپنا سر پکڑلیا تھا ماہا کی باتوں پر۔۔۔”یعنی یہ تو طے ہوگیا تھا کہ ماہا کی سوچ وہاں تک پُہنچتی جاتی تھی جہاں کسی اور کی نہیں پُہنچتی۔۔”ایک لڑکی کو دو مرد کی پسلیوں اور پھر بوریاں بستر باندھ کر چاند پر جانا۔۔۔”انڈیا پاکستان میں جنگ کروانے تک کا سوچنا۔۔۔”اور لاسٹ کلائمکس میں انگریزوں کو بھی بھیجنا۔۔۔”یہ سب سوچ کر اقدس کو بے اختیار جھرجھری سی آئی تھی۔۔۔”

“یہ سوال تمہارے دماغ میں کیوں آیا؟اقدس نے سرجھٹک کر اُس کا دھیان واپس اپنی جانب کروایا

“اُردو لیکچر میں جب جب لفظ “پسلی”آتا ہے تو ماہا کے دماغ میں سوال آتا ہے۔۔”پر جواب نہیں ملتا۔۔”آپ بتاؤ نہ عورت کو مرد کی پسلی سے بنایا جاتا ہے نہ تو پھر جن کی دو شادیاں ہوتیں ہیں اُن کی کیا ماجرہ ہے؟ماہا کے لہجے میں اشتیاق تھا

قُرآن میں اللہ نے فرمایا ہے عورت کو مرد کی پسلی سے بنایا گیا ہے۔۔”رائٹ

اور جو تم کہہ رہی ہو دو شادیاں کرنے والیوں کو دو پسلیوں سے جاتا ہے تو ماہا دیکھو اللہ کے راز اللہ ہی جانتا ہے اور ہوسکتا ہے پہلا مرد اُس کے لیے بہتر نہ ہو۔۔”اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔۔۔”وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔۔اقدس اُس کی بات کے جواب میں بولی

“ہاں پر

“پر ور کو چھوڑو اپنے بابا سائیں کو چائے دے کر آؤ۔۔۔ابھی ماہا اقدس سے کچھ اور کہتی اُس سے پہلے فاحا نے اُس کو ٹوک کر کہا

“جاتی ہوں۔۔۔منہ بسور کر کہتی ماہا اُٹھ کر چلی گئ۔۔۔

“اقدس بیٹا آپ کی بات مان سے ہوئی؟ماہا کے جانے کے بعد فاحا نے کسی خیال کے تحت اُس سے پوچھا

“نہیں ابھی تک اُس کا کوئی کال یا مسیج نہیں آیا ہم نے ٹرائے کیا تھا لیکن اُس کا سیل فون سوئچ آف آرہا تھا۔۔اقدس نے بتایا

“اچھا شاید بعد میں کرے ویسے میں نے اُس کو کہا تھا پلین جیسے ہی لینڈ ہو تو بھی کال کرنا لیکن دیکھو بارہ گھنٹے سے زیادہ وقت ہوگیا ہے۔۔”اور اُس کی طرف سے ایک مسڈ کال بھی نہیں۔۔۔فاحا کافی پریشان س ہوگئ تھی

“آپ بلاوجہ ٹینشن لے رہی ہیں۔۔”اُس کو اور بھی کچھ کام ہوگا ظاہر سی بات ہے نئ جگہ ہے۔۔”نئے لوگوں میں ایڈجسمنٹ کرنی پڑے گی اور پھر تھکاوٹ بھی تو ہوگی۔۔۔اقدس نے اُس کو پرسکون کرنے کی خاطر کہا تو فاحا نے محض سرہلانے پر اکتفا کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *