Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 05)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 05)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“جب بھی بولنا فضول ہی بولنا۔۔۔میشا سرجھٹک کر کہتی اپنی میکسی سنبھالے لالی کی طرف جانے لگی۔

“آپ ٹھیک ہو؟زوریز نے اپنے سینے سے لگی نڈھال حالت میں کھڑی سوہان کی پیٹھ سہلاکر فکرمندی سے پوچھنے لگا
“ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔۔سوہان نے زور سے اُس کی شرٹ کو دبوچا ہوا تھا اُس کا سر ابھی تک چکرا رہا تھا
“آپ ریسٹ کریں مجھے لگ رہا ہے آپ کو نظر لگ گئ ہے۔۔زوریز اُس کو اپنے حصار میں لیتا کمرے میں داخل ہوکر بیڈ پر سوہان کو بیٹھانے لگا
“زوریز یہاں نہیں مجھے باہر جانا ہے”سب لوگ نیچے ہیں اور میں یہاں یہ سہی نہیں ہے۔۔سوہان نے اُٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا لیکن اُس سے اُٹھا نہیں جارہا تھا۔
“سوہان اِس وقت کسی اور کے بارے میں آپ کو سوچنے کی بلکل بھی ضرورت نہیں میں ہوں نہ سب سنبھال لوں گا ویسے بھی باہر سب فیملی میمبرز ہیں۔۔۔زوریز اُس کے ساتھ بیٹھتا سمجھانے کے غرض سے بولا
“پر
ہششش
خود کو دیکھے کس قدر پیلی رنگت ہوگئ ہے آپ کی”آپ یہاں رہے اور بس ریسٹ کریں میں ڈاکٹر کو بھی یہی آنے کا کہتا ہوں۔۔زوریز نے اُس کو زبردستی لیٹاتے ہوئے کہا تو سوہان بس اُس کو دیکھتی رہ گئ جو اُس کے معاملے میں تھوڑا بھی کمپرومائز نہیں کرتا تھا اور نہ اُس کی کوئی بات سُنتا تھا
“اب آپ کہاں جارہے ہو؟اُس کو جاتا دیکھ کر سوہان نے اُس کی مضبوط کلائی اپنی گرفت میں لی تھی جس پر زوریز مبہم سا مسکراتا اُس کے سرہانے آکر بیٹھا
“آپ کیا چاہتی ہیں میں نہ جاؤں؟اُس کے حجاب کو کھول کر زوریز نے سوال کیا
“نہیں آپ جائے لیکن میشا یا فاحا میں سے کسی کو یہاں بھیجئے گا میرا جی گھبرا رہا ہے۔۔سوہان نے کہا تو زوریز کی فکر میں اضافہ ہوا
“اچانک آپ کو کیا ہوگیا ہے؟زوریز پریشانی سے اُس سے کہتا اپنی جیب سے موبائیل نکالتا وہ کوئی نمبر ڈائل کرنے لگا تب تک وہاں بوا اور ساجدہ کے ہمراہ میشا اور لالی بھی اُن کے کمرے میں آئیں تھیں
“سوہان بچے کیا ہوا ہے؟ساجدہ بیگم اُس کی طرف بھاگ کر آئی تھی۔”جبکہ تھوڑا بہت اندازہ اُن کو بخوبی تھا۔
“میں ڈاکٹر کو کال کرنے لگا ہوں آپ اِن کے ساتھ رہنا۔۔۔زوریز اُن سے کہتا خود کمرے سے باہر نکل گیا۔
“کوئی خوشخبری ہے کیا؟بُوا نے زومعنی انداز میں اُس سے سوال کیا تو سوہان اُلجھن زدہ نظروں سے اُن کو دیکھنے لگی۔
“کیا یار بُوا یہ کوئی نیوز پیپر ہے جس میں آپ خوشخبریاں تلاش کررہی ہیں۔۔میشا اُن کی بات پر منہ بنا کر بولی تو بُوا نے ایک چپت اُس کے بازو پر رسید کی
“کیا مطلب بوا کیسی خوشخبری؟سوہان نےناسمجھی سے اُن کو دیکھ کر پوچھا
“خیر سے تم کوئی چھوٹی بچی تو نہیں جو اِتنا انجان بن رہی ہو۔۔۔”اور وہ تمہارا شوہر خیر سے اکتیس سال کا ہوگیا ہے اُونٹھ جتنا قد بھی ہے لیکن عقل دونوں میں نہیں بھلا تم بتاؤ یہ اُلٹیاں کیوں آتی ہیں؟بُوا نے اُس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا لیکن ناسمجھی کا عالم سوہان پر اِس قدر حاوی تھا کہ اُس نے معصوم بننے میں فاحا کو بھی پیچھے چھوڑدیا تھا۔
“کچھ نا کھانے والا کھانے سے اُلٹیاں ہوئیں ہوگی یا پھر ایسا ویسا کھانے سے کوئی پیٹ میں گڑبڑ ہوگی۔۔میشا نے بھرپور تفتیش انداز میں کہا
“تمہارا ٹیسٹ جانے کس نے چیک کیا تھا اور جانے کس نے ٹریننگ دے کر تمہیں سلیکٹ کیا تھا”ارے بدھو تمہاری بہن ماں بننے والی ہے۔۔بُوا نے ایک اور تھپڑ اُس کے بازو پر مارا تو وہ ہکا بُکا ہوتی سوہان کو دیکھنے لگی جس کی اپنی حالت کچھ ایسی تھی وہ حیرت سے بُوا کا چہرہ دیکھنے لگی پھر ساجدہ بیگم کو جو اُس پر واری صدقے ہورہی تھی۔
“مم ماں؟؟؟سوہان کے ہونٹ بہت آہستگی سے پھڑپھڑائے اُس کی آنکھیں بے اختیار چھلکنے کو بے تاب تھیں لیکن وہ سوہان تھی جس نے خود پر ضبط کے کڑے پہرے بیٹھائے تھے
“اگر یہاں ایسا سین ہے تو وہاں کیا ماجرہ ہے؟میشا کی سوچ اب فاحا پر گئ تھی
“فاحا کہاں ہے؟سوہان کو اب فاحا کا خیال آیا لیکن دل زوریز کو بتانے کے لیے مچل رہا تھا جو جانے کہاں چلاگیا تھا۔
“خیر سے اُس کے پاس بھی ایسی خبر ہوگی تم بس دعا کرنا۔۔ساجدہ بیگم نے بتایا تو سوہان کو ایک اور حیرانگی کا جھٹکا لگا تھا۔
“مطلب میں پھوپھو بننے والی ہوں۔۔لالی چہکتے ہوئے بولی
“وہ تو پہلے سے ہو اب اپنی پروموشن کرو اور ماں بننے کی تیاری کرو۔۔۔میشا نے کہا تو سب کے سامنے ایسی بات سن کر لالی کا چہرہ لہو چِھلکانے کی حدتک سرخ ہوگیا تھا اور کانوں میں جیسے دھواں نکلنے لگا تھا۔
“آپ کا بس وہم یا اندازہ تو نہیں ہے نہ؟سوہان خود کو کسی بھی خوشفہمی میں مبتلا کرنا نہیں چاہتی تھی۔
“سو فیصد دُرست اندازہ ہے لیکن پھر بھی تم صبر کرو تمہارا شوہر ڈاکٹرنی کو لارہا ہے۔۔۔بُوا نے کہا عین اُسی وقت کمرے میں دوبارہ زوریز داخل ہوا تھا۔
“میں نے ڈاکٹر کو کال کردی ہے وہ بس آنے والی ہے۔۔۔زوریز نے آکر بتایا تو سب اپنی مسکراہٹ کو دبائے باری باری کمرے سے نکلنے لگے تو زوریز کو اُن کا ایسے جانا سمجھ میں نہیں آیا اُس نے سوہان کو دیکھا جو اُس سے نظریں تک ملا نہیں پارہی تھی۔
“بیٹا جی۔۔۔بوا اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی اپنی طرف متوجہ کرگئ تو زوریز نے اُن کو دیکھا جو اُس کی طرف دیکھ کر شرارت سے آنکھ ونک کرتی اُس کے برابر سے گُزر گئ لیکن اُن کے ایسے عمل پر زوریز بہت بُری طرح سے سٹپٹا گیا تھا کیونکہ اچانک سے اُس کو وہ وقت یاد آگیا تھا جب اُنہوں نے اُس کے لیے لفظ”چکنا”استعمال کیا تھا”لیکن وہ جلدی سے اپنا سرجھٹکتا سوہان کے پاس آیا
“سوہان کیا ہوا ہے یہ سب ایسے کیوں چلے گئے؟زوریز اُس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا پوچھنے لگا
“زوریز وہ۔۔۔۔۔سوہان کو سمجھ نہیں آیا وہ کیسے بتائے زوریز کو
“از ایوری تھنگ آل رائٹ؟زوریز کو فکر ہوئی
“آپ بُوا سے پوچھے۔۔۔سوہان نے بنا اُس کو دیکھ کر کہا تو زوریز کے گلے کی گلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی تھی۔
“آپ کی وہ بُوا کافی عجیب ہے۔۔۔زوریز جھرجھری سی لیکر بولا
“کیوں کیا ہوا؟سوہان نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا
“کچھ نہیں ہوا چھوڑے آپ یہ بتائے کہ اب آپ کیسا فیل کررہی ہیں؟زوریز نے اپنی ساری توجہ اُس پر مبذول کی
“میں اب بہت اچھا فیل کررہی ہوں۔۔”سوہان نے بتایا
“ویری گُڈ لیکن اچانک کیسے؟زوریز مسکراکر پوچھنے لگا
“میں یہ خود آپ کو بتانا چاہتی ہوں لیکن مجھ میں بتانے کی ہمت نہیں ہورہی”مجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیا کہوں اور کیسے کہوں؟سوہان اپنی انگلیاں چٹخانے لگی اُس کا یہ انداز”اور اُس کا یہ گھبرایا ہوا روپ زوریز کے لیے بلکل نیا تھا آج سے پہلے اُس نے کبھی سوہان کو ایسے نہیں دیکھا تھا وہ بولڈ نہ سہی لیکن پراعتماد قسم کی ضرور تھی جو ہمیشہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی تھی لیکن آج تو سوہان اُس کو دیکھ تک نہیں رہی تھی
“لگتا ہے آپ کو بُخار ہوا ہے۔۔زوریز تھوڑا آگے آکر اُس کا ماتھا چھو کر بولا
“مُجھے بُخار نہیں ہے۔۔۔سوہان نے جلدی سے کہا
“پھر آپ نازک حسیناؤں کی طرح ری ایکٹ کیوں کررہی ہیں؟”یہ بات نا تو زوریز نے طنز میں کہی تھی اور نہ مذاق میں سوہان کو ایسے دیکھ کر وہ واقعی میں پریشان ہوگیا تھا”جبھی ایسا بولا”پر اُس کی بات نے سوہان کا دماغ گھوما کے رکھ دیا تھا تبھی آگے آکر اِس تھپڑ اُس کے کندھے پر مارا
“میں کوئی نازک حسینا نہیں میں پریگننٹ ہوں۔۔۔سوہان کے منہ سے بے اختیار پھسلا تو زوریز جو ابھی اُس کے تھپڑ سے سنبھل نہیں پایا تھا اُس کے الفاظوں نے جیسے اُس کو چونکا سا دیا تھا
“سوری آپ دوبارہ کہنا۔۔۔زوریز بے چینی سے اُس کو دیکھ کر بولا جس پر سوہان کا گلا خشک ہوا تھا اُس نے اپنی بے اختیاری پر خود کو جی بھر کر کوسا تھا
“زوریز وہ
“میں کیا؟
زوریز سے صبر نہیں ہورہا تھا وہ بار بار وہ سُننا چاہتا تھا جو سوہان بتانے سے کترا رہی تھی۔
“زوریز وہ آپ باپ بننے جارہے ہو۔۔۔۔سوہان نے بلآخر اُس کو بتایا تو کتنے ہی پل زوریز سکتے کی کیفیت میں اُس کا چہرہ تکتا رہ گیا وہ جیسے ابھی تک یقین نہیں کرپا رہا تھا کہ جو ابھی اُس نے سُنا وہ سچ تھا یہ کانوں کا دھوکہ
“میں باپ؟زوریز کے جیسے الفاظ ختم ہوگئے تھے اور اِس بار سوہان نے نم نظروں سے اُس کو دیکھ کر اپنا سرہلایا تھا جس پر زوریز نے اُس کو اپنے گلے لگایا تھا۔۔
“مجھے سمجھ میں نہیں آرہا میں کیسے ری ایکٹ کروں”آپ کا بہت شکریہ مجھے اِتنی بڑی خوشی دینے کے لیے۔۔۔زوریز اُس کے ہاتھ عقیدت سے چوم کر بولا
“زوریز یہ ابھی بُوا اور ساجدہ آنٹی نے اندازًہ موجب کہا ہے سچ کیا ہے وہ جب ڈاکٹر آئے گی تو پتا چلے گا۔۔۔سوہان نے آہستگی سے اُس کو دیکھ کر کہا اُس کا دل اندیکھے خدشات میں پڑگیا تھا جانے کیوں اُس کو اپنی خوشقسمتی پر یقین نہیں آتا تھا
“اِن شاءاللہ”اِن شاءاللہ ایسا ہی ہوگا اور اگر ہماری پہلی بیٹی ہوئی تو ہم اُس کا نام سُہانہ رکھے گے۔۔۔زوریز نے نام تک سوچ لیا تھا
“سُہانہ بہت بُرا نام ہے آپ کو پتا ہے جب آریان کو میں نے پہلی بار اپنا نام بتایا تھا تو اُس نے کہا کہ آپ کا نام سُہان نہیں سُہانہ ہوگا کیونکہ سُہان تو لڑکوں کا نام ہوتا ہے۔۔۔زوریز کی بات پر سوہان نے اپنی شکل بُری بنائی تھی۔
“سوہان سہانہ میں فرق ہے اور میں سُہانہ اپنی بیٹی کا نام رکھنا چاہتا ہوں۔۔۔زوریز بھی اپنا جگہ بضد تھا
“اچھا اور اگر بیٹا ہوا تو؟؟سوہان نے بحث نہیں کی
“اگر بیٹا ہوا تو دونوں کے ناموں کو مُلاکر ایک نام بنائے گے۔۔۔زوریز نے سوچ کر بتایا
“جیسے کہ؟سوہان نے جاننا چاہا
“جیسے کہ زوریز کا”زو”اور سوہان کا”ہان۔۔۔زوریز نے مسکراکر بتایا
“آپ کا مطلب زوہان؟سوہان حیسے ساری بات جان گئ
“جی زوہان۔۔۔زوریز نے سر کو جنبش دے کر کہا
“اِس نام کا مطلب کیا ہوا؟
“زوہان نام کا مطلب ہے خُدا کا تحفہ۔۔۔زوریز نے بتایا تو سوہان کی آنکھوں میں ستائش اُبھری
“کافی اچھا نام ہے اور مطلب تو اِس سے زیادہ اچھا اور خوبصورت ہے میری دعا ہے پھر ہمارا پہلا بیٹا ہو۔۔۔سوہان نے کہا
“بیٹا ہو یا بیٹی بس صحتیاب ہو۔۔۔”اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو ہماری اولاد اِس سے پھر فرق نہیں ہوگا کہ کون بیٹا اور بیٹی۔۔۔۔زوریز اُس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر بولا جبھی وہاں میشا ڈاکٹر کو لیکر آئی تھی جس کو دیکھ کر زوریز سوہان کے پاس سے اُٹھ گیا تھا۔”ڈاکٹرنی جبکہ اُس کا چیک اپ کرنے لگی تھی۔




“ٹھیک ہو؟اسیر نے فاحا کو واشروم سے باہر نکلتا دیکھا تو جلدی سے اُس کی طرف بڑھا تھا
“جی میں ٹھیک ہوں۔ ۔۔فاحا اپنے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجائے بولی لیکن اسیر کو یقین نہ آیا
“ہمیں ہسپتال چلنا چاہیے کیونکہ ہمیں معاملہ کچھ اور لگ رہا ہے۔۔۔”اسیر غور سے اُس کی زرد پڑتی رنگت کو دیکھ کر بولا
“فوڈ پوائزن ہوگیا ہے شاید اور کوئی معاملہ نہیں۔۔۔فاحا نے بیڈ پر بیٹھ کر اُس سے کہا تو اسیر بھی اُس کے پاس آیا
“صبح سے آپ نے کچھ کھایا نہیں تو فوڈ پوائزن کیسی؟ اسیر کا انداز تفتیشی افسر جیسا تھا۔
“ایسی اُلٹیاں دو دِنوں سے ہیں۔ ۔۔فاحا نے لاپرواہ انداز میں اُس کو بتایا جس کو سُن کر اسیر کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے تھے
“اُٹھو ہم ابھی کے ابھی ڈاکٹر کے پاس جائینگے۔ ۔اسیر نے بے لچک انداز میں اُس سے کہا
“اِس کی کوئی ضرورت نہیں ڈاکٹر آلریڈی یہاں ہے۔ ۔میشا کی آواز پر وہ دونوں ایک ساتھ چونک کر دروازے کی طرف دیکھنے لگے جہاں میشا کے ڈاکٹر کے ساتھ کھڑی تھی جنہوں نے سوہان کا معائنہ کرنے کے بعد اُن کو خوشخبری سُنائی تھی جس کو سن کر زوریز اور سوہان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا” اور پھر میشا اُس کو فاحا کے پاس لائی تھی اِس اُمید کے ساتھ کہ شاید یہاں بھی کوئی خوشخبری ہو۔
“اِس کی ضرورت تو نہیں۔ ۔فاحا نے اُن کو روکنا چاہا پر کوئی اُس کی بات سُننے کو تیار نہ تھا۔ ۔”اور ڈاکٹر اُس کا چیک اپ کرنے کے بعد مسکراکر اسیر اور میشا کو دیکھنے لگی۔
“یہ بھی پریگننٹ ہیں ڈبل خوشخبری آپ کو مُبارک ہو۔ ۔ڈاکٹر نے کہا تو اسیر حیرانگی اور خوشی کے ملتے جُلتے تاثرات کے ساتھ فاحا کو دیکھنے لگا جس کے پلے ڈاکٹر کی بات نہیں آئی تھی
“کونسی خوشخبری؟فاحا نے ناسمجھی سے پوچھا تو اُس کی اِس قدر معصومیت پر اسیر واری صدقے ہوا تھا۔
“آپ ماں بننے والی ہیں۔ ۔ڈاکٹر نے صاف الفاظوں میں اُس کو بتایا جس کو سن لینے کے بعد فاحا کا پورا چہرہ سرخ پڑگیا تھا۔
“مبارک ہو بہنا تم نے سوہان کی کاپی کرلی۔ ۔میشا اُس کے ساتھ لگی بولی لیکن اسیر ابھی تک کچھ بولا نہیں تھا۔
‘کیا وہ بھی؟ فاحا کو حیرت ہوئی
“ہاں جی وہ بھی۔ ۔میشا نے سراثبات میں ہلایا
“میں اُن سے جاکر ملتی ہوں۔ ۔فاحا پرجوش ہوکر کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی تو اسیر نے اُس کو گھورا
“آرام سے بیٹھی رہو۔ ۔اسیر نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا
“ہاں تم یہاں بیٹھو میں ڈاکٹر کو باہر تک چھوڑ کر آتی ہوں۔ ۔میشا نے کہا اور لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئ
“”آپ نے مجھے ڈانٹا۔ ۔۔فاحا ناراض لہجے میں اسیر کو دیکھ کر بولی
“ہم نے کب ڈانٹا آپ کو؟ اسیر کو حیرانگی ہوئی
“ابھی میشو آپو اور ڈاکٹرنی کے سامنے آپ نے مجھے بہت بُری طرح سے ڈانٹا۔۔فاحا نے کہا تو اسیر اُس کو دیکھتا رہ گیا
“ہم نے یہ آپ کو ڈانٹا نہیں تھا۔ ۔اسیر نے وضاحت دینی چاہی
“اِس کو ڈانٹنا کہتے ہیں جو آپ نے ڈانٹا اور اب مکر رہے ہیں۔ ۔۔فاحا چٹخ کر بولی تھی
“فاحا جس انداز سے آپ اُٹھ کھڑی تھی اُس وجہ سے شاید ہم سخت ہوگئے ہو لیکن دیکھے اب آپ خیر سے اُمید سے ہیں اور آپ کو اپنا خیال رکھنا چاہیے۔ ۔اسیر اُس کی طرف آتا اُس کو کندھوں سے تھام کر بولا” جب اُس کی شادی مرضی کے خلاف ان چاہی عورت سے ہوئی تھی تو لفظ”اولاد” پر وہ پگھل سا گیا تھا اور اب یہاں تو بات من چاہی چھوٹی سی لڑکی کی تھی جس کو وہ دل وجاں سے چاہنے لگا تھا جس کا پتا اُس کو خود بھی نہیں ہوا تھا بس وہ یہ جانتا تھا کہ فاحا اُس کا ہونا اُس کے لیے اِتنا ضروری تھا جیسے زندہ رہنے کے لیے آکسیجن
“ہاں وہ میں۔ ۔۔فاحا کی زبان کو قفل لگ گیا تھا
“کیا ہوا؟ اسیر اُس کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا
“آپ خوش ہیں؟ اپنی انگلیاں چٹخاتی فاحا اُس سے سوال کرنے لگی اُس کو اب اسیر سے حیا محسوس ہونے لگی تھی۔۔
“آپ بتائے کیا آپ خوش ہیں؟اسیر نے اُلٹا اُس سے سوال کیا
“ہاں پتا نہیں فاحا بہت کنفیوز ہے۔ ۔فاحا نے الجھن زدہ لہجے میں کہا اُس کو سمجھ میں نہیں آیا وہ کیسا ری ایکٹ کرے
“ہم بہت خوش ہیں اور آپ کو بھی خوش ہونا چاہیے۔ ۔اسیر اُس کا ماتھا چوم کر بولا
“اگر بیٹی ہوئی تو آپ اظہارِ محبت کرینگے؟فاحا کو بس ایک بات پڑی تھی جس کو سُن کر اسیر نے لب دانتو تلے دبایا تھا
“آپ کو ہم سے اِظہار محبت سُننا کیا پسند ہے؟اسیر نے مسکراکر پوچھا تو فاحا کی نظر اُس کے گالوں پر نمودار ہوتے گڑھو پر پڑی
“ہر بیوی کو ہوتی ہے ایسے فاحا کو بھی ہے”ہمیں آپ کے منہ سے اِظہار محبت سُننا ہے۔ ۔”میں دعا کروں گی کہ ہماری اولاد میں پہلی بیٹی ہو۔۔فاحا نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھ کر کہا اسیر ہولے سے مسکرایا
“تو آپ کیا بیٹی اِس وجہ سے چاہتی ہے تاکہ ہم سے محبت نامہ سُننے کو موقع ملے آپ کو؟ اسیر نے پوچھا
“جی ورنہ فاحا کو تو بیٹا چاہیے۔ ۔۔”تاکہ حویلی کو وارث دے سکوں۔ ۔فاحا نے سراثبات میں ہلایا
“وارث صرف بیٹا نہیں ہوتا بیٹیاں بھی ہوتیں ہیں۔ ۔اسیر نے اُس کی بات سن کر کہا
“ہاں لیکن ہماری ایک بیٹی تو آلریڈی ہے نہ۔ ۔۔فاحا نے کہا تو اُس کے لہجے میں اقدس کے لیے پیار کو دیکھ کر اسیر نے پرسکون سانس خارج کیا تھا اور جُھک کر اُس کے ماتھے کا بوسہ لیا تھا
“بیٹا ہو یا بیٹی ہمیں دونوں عزیز ہوگا باقی لفظی محبت ہے کہنا ضروری نہیں ہوتا” اصل محبت وہ ہوتی ہے جو آپ کو سامنے والے کے ہر انداز میں محسوس ہو۔ ۔اسیر نے کہا تو اُس کی بات پر فاحا لاجواب ہوئی تھی۔







“تمہارا منہ کیوں غُبارے کی طرح پُھولا ہوا ہے؟ سب کے جانے کے بعد میشا اپنے کمرے میں آئی تو آریان کو منہ پُھولائے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے دیکھا تو پوچھا
“اگر اُس دن تم اسکلیٹو نہ لاتی تو آج تمہیں بھی اُبکائی آتی تم سے چھوٹی بہن نے بھی بڑی خبر دی ہے اور تمہیں اُس سے زرا جیلسی نہیں ہوئی؟آریان نے کہا تو اُس کی بات پر میشا ہونک بن کر اُس کا چہرہ تکنے لگی
“تمہارا لگتا ہے دماغ خراب ہوگیا ہے۔۔میشا نے اُس کو گھورا
“مجھے کچھ نہیں پتا مجھے بس چاند جیسی بیٹی یا بیٹا چاہیے۔۔آریان بضد ہوکر بولا
“آریا بچوں جیسی باتیں مت کرو یہ ساری باتیں اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اگر سوہان فاحا کو اللہ نے ایک ساتھ خوشی سے نوازا ہے تو اِن شاءاللہ اُن کے صدقے ہمیں بھی یہ خوشی دے گا تم زرا خود پر کنٹرول پاؤ باتیں ایسے کررہے ہو جیسے میرے کبرڈ میں اولاد پڑی ہے بس تمہیں دینے کی دیر ہے۔۔۔میشا اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولی تو آریان بھی تھوڑا سنجیدہ ہوتا اُس کو دیکھنے لگا اُس نے ہمیشہ کی طرح بس اُس کو زچ کرنے کی خاطر جلدی مچائی ہوئی تھی لیکن اُس کو اندازہ ہوگیا تھا کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جن پر میشا اکثر بہت سنجیدگی کا مُظاہرہ کرنے لگ پڑتی تھی۔
“یہاں آؤ۔۔آریان نے اُس کو اپنے پاس آنے کا اِشارہ دیا
“کیا ہے؟ میشا چل کر اُس کے پاس بیٹھی
“میں جانتا ہوں اولاد دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اب کیا میں عجلت کا مُظاہرہ کرکے تمہیں تنگ بھی نہیں کرسکتا”عام شادی شدہ کپل کی طرح مجھے بھی شوق ہے اولاد کا لیکن میں بس ایسے تمہیں کہہ رہا تھا میں دیکھنا چاہتا تھا تمہارا ری ایکشن۔۔۔آریان نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر کہا
“سوری۔۔میشا نے بس اِتنا کہا تو آریان آنکھیں پھاڑے اُس کو دیکھنے لگا
“سوری؟آریان نے الجھن بھری نظروں سے میشا کو دیکھنے لگا اُس کو یقین نہ آیا کہ میشا اُس کو بھی سوری بول سکتی ہے
“زیادہ اوور ایکٹنگ کرنے کی اب ضرورت نہیں تمہیں میں جانتی ہوں” تم سے کبھی کبھار میں زیادہ ہارڈ ہوجاتی ہوں”
“بدتمیزی بھی کرتی ہو۔ ۔۔میشا آہستہ آہستہ کچھ کہنے والی تھی جب آریان اُس کی بات درمیان میں کاٹ کر بولا
“ہاں تو وہ میں ایسے ہی کروں گی خود کو بدلنے والی میں ہرگز نہیں”میں ساری زندگی ایسے رہوں گی کیونکہ پسند بھی تم نے مجھے ایسے کیا تھا۔ ۔میشا اُس کو دیکھ کر جتانے والے انداز میں بولی تو وہ خاصا بدمزہ ہوا تھا۔
“تو یعنی تم نے پکا اِرادہ کیا ہوا ہے جہنم میں جانے کا؟ آریان کو جیسے یقین سا ہوگیا کہ اُس کی زندگی میں میشا سُدھرنے والی نہیں وہ اُس کو سُدھار ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ جو کام اُس کی بڑی بہن نہ کرپائی وہ بھلا آریان کیسے کرسکتا تھا بس خود کو دلاسہ دے سکتا تھا۔
” تم بھی کوئی میرے فرمانبردار شوہر نہیں ہو ظاہر ہے میری بدتمیزی والی ادا تمہیں بھاء گئ تھی جبھی تو شادی کی ورنہ کیوں کرتے؟اب میں تمہیں اپنی اُس ادا سے محروم تو نہیں رکھ سکتی نہ۔ ۔۔میشا معصومیت کی حدیں توڑ کر بولی تو آریان نے تپ کر تکیہ اُٹھا کر اُس کے چہرے پر دے مارا تو اُس کی ایسی شکل دیکھ کر میشا کا قہقہہ چھوٹ گیا تھا








“ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟اگلے دن وہ سب باہر لان میں چائے سے لطف اندروز ہورہے تھے جب زوریز نے خود پر مسلسل آریان کی نظروں کا ارتکاز محسوس کیا تو آئبرو اُپر کیے اُس سے سوال داغا
“میں سوچ رہا تھا۔۔آریان اِتنا کہتا خاموش ہوگیا تو چائے پیتی سوہان نے بھی اِس بار اُس کو دیکھا
“مجھے بھی شامل کرو اور بتاؤ کیا سوچ رہے ہو۔۔میشا کو تجسس ہوا
“میں یہ سوچ رہا تھا نہیں مطلب مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے زوئی اور بھابھی کا بچہ یا بچی گونگا پیدا ہوگا۔۔آریان نے اپنی بیئرڈ پر ہاتھ پھیر کر کہا تو زوریز نے اُس کو گھورا تھا لیکن سوہان کو اچھو سا لگا تھا
“ہمیشہ فضول ہی بولنا اور سوچنا۔۔میشا نے ایک تھپڑ اُس کے بازو پر مارا تھا جبکہ زوریز فکرمند سا سوہان کی پیٹھ سہلا رہا تھا
“یار جنرل بات ہے اب تم اِن دونوں کو دیکھ لو کس قدر کم گو ہیں۔۔”تو ظاہر ہے بچے نے بھی ایسے ہونا ہے بچہ تو اپنے والدین کو بولتا دیکھ کر بولنا سیکھتا ہے اور یہاں تو یک نہ شد دو شد ہیں۔۔آریان نے کہا تو زوریز نے بے ساختہ اپنا سر نفی میں ہلایا تھا لیکن سوہان چائے کا ایک آخری گھونٹ بھرے اپنا چہرہ دوسری طرف کیے اپنی مسکراہٹ کو چُھپانے کی کوشش کی تھی”آریان زوریز کا بھائی تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اُس کا بڑا بھائی بھی باتونی قسم کا تھا پر اُس کی ساری باتیں باہر سوہان کے سامنے آتی تھی اب وہ اُس کو کیا بتاتی کہ جس کو وہ کم گو سمجھ رہا ہے وہ جب کمرے میں اُس سے باتیں کرنا لگتا تھا تو چُپ ہونے کا نام بھی نہیں لیتا تھا۔۔”اور وہ خود بھی تو اپنی ڈھیر ساری باتیں زوریز سے کیا کرتی تھی جو بہت دلچسپی سے اُس کو سُنتا اور سمجھتا تھا۔
“ایسا کچھ نہیں ہوگا میں اُس کی خالہ پلس چچی ہوگی اچھے سے ٹرین کروں گی۔میشا نے گردن اکڑا کر کہا
“ہاں اُن کے پاس ہی رہنا لیکن میرے بچوں سے دور رہنا۔۔آریان نے اُس کو دیکھ کر جھٹ سے کہا تو میشا نے دانت پیس کر اُس کو گھورا
“تمہیں کبھی کبھار کونسا کیڑا کاٹتا ہے جس کی خارش تم چاہتے ہو میں دور کروں؟میشا نے بڑی سنجیدگی سے اُس کو دیکھ کر کہا جس پر وہ زوریز اور سوہان کی موجودگی کے باوجود گڑبڑا سا گیا تھا۔
“کوئی بھی نہیں میں تو بس یہ بول رہا تھا کہ آج تم بہت پیاری لگ رہی ہو خیریت ہے نہ کہی تمہاری طرف بھی تو کوئی خوشخبری نہیں؟آریان نے جلدی سے پنترا بدل کر کہا تو اُس کی ایسی گفتگو پر میشا کا پورا چہرہ سرخ انار ہوا تھا اُس کو سب کے سامنے آریان کی کسی ایسی بات کی توقع ہرگز نہ تھی” جبھی وہ اُس کے پاؤں پر اپنا پاؤ زور سے مارتی وہاں سے اُٹھ کر گھر کے اندر چلی گئ تھی
“توں اِسی کے قابل ہے۔۔زوریز نے آریان کو اپنا پاؤ پکڑتا ہوا دیکھا تو چڑاتی مسکراہٹ سے بولا
“اللہ کریں بھابھی میں بھی میشو رانی کی روح سما جائے۔۔”ویسے بھی تم اپنی خیر منایو کیونکہ میں نے سُنا ہے پریگنسی میں حاملہ عورتوں کا ٹیمپریچر کب ہائے ہوجائے پتا نہیں چلتا اور کب وہ اپنے آپے سے نکل کر شوہر پر حملا آور ہو اِس بات کا بھی کچھ پتا نہیں چلتا سو یو کیئر فل۔۔آریان نے اُس کو دیکھ کر گویا خبرادر کیا تھا
“جانے پھر وہ کیسی گھڑی ہوگی”جب ایسی حالت میں میشا تمہارے سامنے کھڑی ہوگی۔۔زوریز نے جیسے جلے پر نمک کا کیا تھا اور آریان بیچارا اپنا سا منہ لیکر رہ گیا تھا۔
