Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 04)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 04)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“اُس میں آپ کا یا اقدس کا تو کوئی قصور نہیں ہے اور آپ بات کو بہت گہرائی میں جاکر سوچ رہے ہیں”ایسا کچھ نہیں ہوگا جیسا آپ کو لگ رہا ہے اگر آپ کو لگتا ہے وہ دونوں بھائی اقدس کو نقصان پہچانے کی کوشش کرینگے تو یہ ایک بہت پچکانہ سوچ ہے”اُن کو تو یاد بھی نہیں ہے اِس لیے ایک بار میری بات پر غور ضرور کیجئے گا۔۔”اِس میں اقدس کی بھلائی بھی ہوگی۔۔فاحا نے کچھ توقع بعد اُس سے کہا تو اسیر کی نظریں اقدس پر گئ جو بس خاموشی سے اُن کو بات کرتا سُن رہی تھی۔
“ہم اِس بارے میں بعد میں بات کرینگے۔۔اسیر نے بات کا سلسلہ ختم کیا
“ٹھیک ہے آپ وقت لے او
“اقدس
“اقدس
“فاحا اسیر سے کچھ کہنے والی تھی جب جانے کون”اُونچی آواز میں اقدس کا نام لیتا اندر کی طرف آنے لگا تھا جس پر فاحا اسیر کو دیکھتی ایکدم سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی کیونکہ یہ آواز وہ اچھے سے پہچان گئ تھی اور جان تو اسیر بھی گیا تھا تبھی اُس کے چہرے پر نافہم قسم کے تاثرات نُمایاں ہوئے تھے۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمارے کمرے میں آنے کی؟اسیر نے دیبا کو اپنے کمرے میں آتا دیکھا تو سرد لہجے میں اُس سے بولا
“میں تمہارے کمرے میں اِس لیے آئی ہوں کیونکہ یہاں میری بیٹی ہے اور تم مجھے اپنے کمرے میں آنے سے روک نہیں سکتے اور نہ اقدس سے ملنے پر روک سکتے ہو۔۔۔دیبا اپنی نظریں اقدس پر جمائی طنز لہجے میں اُس سے بولی
“بابا جان ہمیں اِن سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔اقدس اسیر کی ٹانگوں سے چُپک سی گئ تھی
“سُن لیا اب جاؤ یہاں سے۔۔اسیر نے ناگواری سے اُس کو دیکھ کر کہا
“اقدس کیا ہوگیا ہے تمہیں؟”تم مجھ سے بات نہیں کرو گی؟”میں تمہاری ماں ہوں۔۔دیبا حیرت سے اقدس کا ردعمل دیکھ کر بولی وہ تو یہ سوچ کر آئی تھی کہ اقدس اُس کو دیکھ کر لپٹ جائے گی لیکن جو اب اُس کے سامنے ہورہا تھا وہ کافی غیرمتوقع تھا
“ہماری نئ مما آگئ ہے اب آپ کی اقدس کو کوئی ضرورت نہیں آپ بہت سخت لہجے میں بات کرتی ہو اور ایسے ہم سے کوئی بھی بات نہیں کرتا۔۔اقدس بغیر اُس کو دیکھ کر بولی جس پر دیبا کی نظر اب فاحا پر پڑی تھی۔
“اوہ تو تم آگئ اسیر کی زندگی میں حیرت ہے کافی جلدی میں تم دونوں کی شادی ہوگئ۔۔۔دیبا بازو سینے پر باندھے خاموش کھڑی فاحا کو دیکھ کر بولی
“آپ کو یہاں سے جانا چاہیے اقدس بچی ہے اور سب سے بڑی بات آپ سے خوفزدہ بھی ہے۔۔فاحا نے اُس کی بات نظرانداز کرتے کہا
“اِس کو خوفزدہ کرنے والے بھی تو تم دونوں ہو۔۔دیبا نفرت سے اُن کو دیکھ کر بولی
“وہ آپ کے کرتوت ہیں۔۔فاحا کی زبان سے بے اختیار نکلا
“کس کے کرتوت کیا ہیں وہ بھی تم دونوں کو اچھے سے بتاؤں گی اور اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ رکھوں گی دیکھتی ہوں کون ہے درمیان میں آنے والا۔۔دیبا چبا چبا کر لفظ ادا کرنے لگی
“بہت جلدی تمہارے اندر ماں کی ممتا جاگی ہے اِس کو دوبارہ سے سُلادو۔۔اسیر نے خاصے طنز انداز میں اُس سے کہا
“اچھے سے سُلا تو میں کسی اور کو دوں گی۔۔دیبا فاحا کو دیکھ کر پُراسرار لہجے میں کہتی وہاں رُکی نہیں تھی۔۔
“تو یہ وجہ تھی جو آپ اقدس کو یہاں رکھنے پر راضی نہیں تھے؟اُس کے جانے کے بعد فاحا نے اسیر سے سوال کیا
“ہاں یہ وجہ تھی اور حویلی کے باقی افراد جو پورا دن جانے کیا کیا اور کونسی باتیں کرتے ہیں”یہاں ہم ہوتے ہیں تو اپنا وقت اقدس کے ساتھ اُس کے کمرے میں گُزارتے ہیں لیکن ہماری غیرموجودگی وہ اُن سب کے ساتھ بیٹھتی ہے اور ہم نہیں چاہتے ہیں کہ یہاں کی تھوڑی بھی آلودگی ہماری بیٹی کے کپڑوں پر لگے۔۔اسیر نے اپنی بھاری سنجیدہ آواز میں اُس کو جواب دیا جس کو سُن لینے کے بعد فاحا کے پاس کچھ اور کہنے کو بچہ نہیں تھا۔”لیکن ایک خیال کے تحت اُس نے اسیر کو دیکھا جس کے چہرے پر اب تھوڑی پریشانی رقم تھی
“اب تو شہر میں لالی آپی بھی ہیں آپ چاہے تو وہاں بھی اقدس کو چھوڑ سکتے ہیں” میری بہنوں پر تو آپ کو اعتبار نہیں اپنی بہن پر تو ہوگا وہ تو اقدس کی پھوپھو ہے۔ ۔فاحا نے بغور اُس کو دیکھ کر کہا
“بات اعتبار کی نہیں ہے ہمیں بس وقت چاہیے سوچنے کا۔ ۔اسیر نے صاف اُس کو ٹال مٹول دیا تھا







“کل سے تم بھی آفس آجانا کچھ معاملات کمپنی کے تم نے ہینڈل کرنے ہیں یا تم کہو تو الگ سے سیٹ اپ کرکے دوں۔۔۔زوریز لاؤنج میں سوہان کے ساتھ بیٹھا کافی پی رہا تھا جب میشا اور آریان بھی وہاں آئے تو زوریز نے اُس سے کہا
“زوریز سیریسلی کل؟”میری شادی کو ابھی تین دن ہوئے ہیں اور تم چاہتے ہو میں آفس جوائن کرلوں نو وے۔۔آریان نے جھٹ سے انکار کیا تھا
“تم نے خود کہا تھا کہ شادی کے بعد تم بزنس دیکھو گے۔۔زوریز نے جیسے اُس کو یاد کروایا
“ہاں کہا تھا لیکن یہ تھوڑئی کہا تھا کہ شادی کے فوری بعد میں بورنگ سی میٹنگ دیکھنے پڑوں گا ظاہر ہے ابھی نئ نئ شادی ہوئی ہے اُس کو انجوائے کروں گا میں کمپنی کہی بھاگ تھوڑئی رہی۔۔آریان نے جان چُھڑوانے والے انداز میں اُس سے کہا
“میں بھی کہی بھاگے نہیں جارہی تو تم آرام سے اپنا آفس دیکھو اور خوب ترقی کرو۔۔میشا نے اُس کو کام سے اِتنا گریز برتتا دیکھا تو معصومیت سے بولی
“ابھی ہمیں ایک دوسرے کو وقت دینا چاہیے تاکہ ایک دوسرے کو جان پائے۔۔آریان نے اُس کو گھور کر کہا
“ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے تو پوری زندگی پڑی ہے اب ایک دو دن میں تھوڑئی نہ ہوجائے گا سب۔۔۔میشا نے آرام سے کہا
“ہاں تو کام بھی ایک یا دو دن کا نہیں ہے”پوری زندگی کا ہے جو ہوتا رہے گا تمہیں زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں دو وقت کی روٹی تمہیں آرام سے کھیلادوں گا۔۔آریان نے کہا تو میشا کا منہ حیرت سے کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا اور اُن دونوں کو آج کے دن بھی لڑتا دیکھ کر سوہان نے اپنا سر پکڑ لیا تھا اور زوریز بس اپنا سر نفی میں ہلا کر رہ گیا تھا
“تم کتنے کام چور ہو۔۔۔میشا نے تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہا
“میں کوئی کام چور نہیں ہوں ایک ذمیدار شخص ہوں۔۔۔آریان احتجاجاً بولا
“نظر آرہا ہے کہ تم کتنے ذمیدار ہو۔۔۔میشا طنز ہوئی
“اگر تم دونوں کا ہوگیا ہو تو میں کیا کچھ بول سکتی ہوں؟سوہان نے اُن دونوں کے درمیان مداخلت کی
“ہاں کہو۔۔میشا اُس کی طرف متوجہ ہوئی
“میں چاہتی ہوں کہ فاحا اور عاشر کو دعوت پر بُلانا چاہیے مانا کہ اُن کی شادی ہمارے ساتھ ہوئی ہے پر اگر الگ سے ہوتی تو ہمیں دعوت پر تو اُن کو بُلاتے نہ؟سوہان نے کہا تو اُس کی بات سے میشا متفق ہوئی
“آپ کا آئیڈیا اچھا ہے جب آپ کہو اُن کو آنے کا کہہ سکتیں ہیں۔۔زوریز اُس کی بات سن کر بولا
“کچھ سیکھو اپنے بھائی سے کیسے اپنی بیوی کی بات مان رہا ہے۔۔میشا نے آریان کو ٹھوکا مار کر کہا
“اگر مجھے اپنے بھائی جیسا بنانا چاہتی ہو تو خود بھابھی سوہان کی طرح سُلجھے ہوئے مزاج کی بنو سوہان کی بہن ہونے سے تمہیں زوریز جیسا شوہر نہیں مل سکتا۔۔آریان نے آخر میں ڈرامائی انداز میں اُس سے کہا تو میشا خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھا
“جلال انصر”ہاشم کاردار”ولید لُغاری ایک طرف اور تم بھی اُنہی کے طرف۔۔میشا نے دانت پیس کر اُس کو دیکھ کر کہا
“اب یہ تینوں کون ہیں؟آریان کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے تھے
“میرے ایکس بوائے فرینڈز ہیں ملنا چاہوں گے اُن سے؟میشا نے قدرے شرما کر اُس سے کہا
“شرم نہیں آتی شوہر کے سامنے اپنے ایکس بوائے فرینڈز کا ذکر کرتے ہوئے۔۔۔آریان نے اُس کو شرمندہ کرنا چاہا
“کیوں جی جیسے کو تیسا ملتا ہے تم بھی تو مشہور پلے بوائے ہو اب اگر میں نے تین چار بوائے فرینڈز اپنے ماضی میں بنالیئے تو کیا ہوا وہ تو ماضی تھا نہ اور ماضی تو سب کا ہوتا ہے۔۔میشا نے معصومیت کے تمام رکارڈ توڑ کر کہا تو آریان کی شکل دیکھنے لائق ہوئی تھی
“بھابھی
“آریان نے سوہان کو درمیان میں گھسیٹنا چاہا
“ہاں کیا ہوا؟سوہان اُس کی طرف متوجہ ہوئی
“بھابھی کے دیور چپ رہنا۔۔میشا گڑبڑا سی گئ تھی
“آپ کو پتا ہے اِس نے ابھی مجھے کیا بتایا؟آریان نے سوہان کو دیکھ کر کہا
“کیا بتایا ہے؟سوہان وارن کرتی نظروں سے میشا کو دیکھتی آریان سے بولی
“اِس نے مجھے “جلال انصر”ہاشم کاردار”ولید لُغاری کے بارے میں بتایا اور کہا وہ تینوں ایک طرف اور تم بھی اُس طرف۔۔آریان نے کسی بچے کی طرح میشا کی شکایت اُس سے لگائی تو وہ الجھ کر میشا کو دیکھنے لگی جس نے جواب میں اپنے دانتوں کی نُمائش کی تھی۔
“جانے سے پہلے اِتنا بتادو یہ تینوں ہیں کون؟ زوریز نے سوہان کے من میں آیا سوال آریان سے کیا
“اب میں آپ کو کیا بتاؤ مجھے تو بتاتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے۔۔آریان افسوس بھرے لہجے میں کہا
“زیادہ اوور ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں میں نے جسٹ مذاق کیا تھا۔میشا کو لگا وہ ساری گفتگو نہ فاش کردے اِس لیے خود ہی کہہ ڈالا
“نہیں آریان کو بتانے دو یہ “جلال انصر”ہاشم کاردار”ولید لُغاری کون ہیں؟سوہان کی سوئی جیسے ایک بات پر اٹک گئ تھی۔
“کیسی بہن ہو آپ جو اپنی چھوٹی بہن سے اِس قدر غفلت کا شکار ہے۔۔آریان اب سوہان کو افسوس کرتی نظروں سے دیکھنے لگا جو ابھی تک اُن کی بات سمجھ ہی نہیں پائی تھی لیکن میشا نے باقاعدہ اپنا سر پکڑ لیا تھا
“ایسی بات نہیں ہے میں سب کچھ جانتی ہوں میشا اور فاحا کے بارے میں اُن کی چھوٹی سے چھوٹی بات مجھے پتا ہے۔۔۔سوہان نے سنجیدگی سے کہا
“ڈونٹ ٹیل می کہ تم نے مجھے ماموں بنایا ہے۔۔آریان گردن ترچھی کیے میشا کو دیکھنے لگا جس نے اُس کی بات پر اپنی مسکراہٹ ضبط کی تھی
تم تو میرے شوہر ہو اور میں کوئی اِتنی بُری بھی نہیں جو شوہر کو ماموں بنائے۔۔میشا نے جس انداز میں اُس سے کہا اُس پر آریان جان گیا کہ وہ ماموں بن چُکا ہے
“چھوڑے اِن تین کارٹونز کو یہ بتائے کہ کب دعوت کرنی ہے۔۔؟آریان نے سرجھٹک کر پوچھا
“کل یا پڑسو۔۔۔جواب میشا نے دیا تھا
“ٹھیک ہے آپ لوگ ڈیسائیڈ کرلے پھر جب وہ چاروں آئے۔۔۔زوریز نے کہا
“چار نہیں پانچ فاحا کی اب ایک بیٹی ہے دراصل بائے ون گیٹ ون فری والا معاملہ ہے۔۔میشا نے جلدی سے کہا تو سوہان تاسف سے اُس کو دیکھنے لگی لیکن زوریز مسکرایا تھا۔





ایک کپ چائے کا مل سکتا ہے؟فاحا اپنے کمرے میں جارہی تھی جب نوریز ملک نے اُس کو دیکھ کر کہا
“جی میں لاتی ہوں۔۔فاحا اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہتی باورچی خانے کی طرف بڑھ گئ جہاں دیبا پہلے سے موجود تھی۔
“ارے واہ نئ نویلی دولہن کو اِتنی جلدی باورچی خانے کا دیدار کروایا جارہا ہے بہت بُری بات ہے۔۔۔دیبا فاحا کو دیکھ کر طنز مسکراہٹ سے بولی
“آپ کو کوئی اعتراض ہے یا میرے یہاں آنے پر کوئی تکلیف “یا پھر مجھے دیکھ کر آپ کو مرچیں لگ رہی ہیں۔۔فاحا اُس کی بات سن کر پرسوچ لہجے میں بولی تو دیبا کا چہرہ سرخ انار ہوا تھا
“تمہیں کیا لگتا ہے تم اپنی بہنوں اور اسیر کی شے پر میرے مقابل آؤ گی تو میں تمہیں چھوڑ دوں گی؟دیبا اُس کو گھور کر بولی جو اُس کو اگنور کرتی چائے کا پانی گرم کررہی تھی۔
“فاحا کے پاس اِتنا وقت نہیں ہوتا جو آپ کے بارے میں سوچے خیر میں کسی کی بھی شے پر نہیں ہوں”لیکن اپنے راستے میں پڑا کنکر فاحا کو اپنے پاؤ سے ہٹانا بخوبی آتا ہے اِس لیے آپ کیرفُل رہے۔۔فاحا اُس کو دیکھ کر آہستہ مگر سخت لہجے میں بولی
“میں چاہوں نہ ابھی تمہارا گلا گھونٹ کر مارسکتی ہوں۔۔دیبا نے کچا چباجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“اور اگر فاحا چاہے نہ تو ابھی آپ کے دونوں ہاتھ اِس گرم پانی میں ڈال سکتی ہے۔۔۔فاحا دوبدو بولی تھی جس کو سُن کر دیبا ہکا بکا رہ گئ تھی اُس سے بے نیاز فاحا اب پانی میں دودھ ڈال رہی تھی۔
تم خود کو سمجھنے کیا لگی ہو؟دیبا نے اُس کا بازو دبوچے اُس کا رُخ اپنی طرف کیا تو فاحا نے پہلے اُس کے ہاتھ کو دیکھا جو اُس کے بازو پر تھا پھر دیبا کو دیکھا جو آگ اُگلتی نظروں سے اُس کو گھور رہی تھی
“وہی جو میں ہوں”اسیر ملک کی زوجہ”اقدس کی نئ مما اِس گاؤں کے سردار کی سردارنی اور اِس حویلی کے فیصلے کرنے والی فاحا اسیر ملک دیکھ لے نکاح کے دو بولوں نے پل بھر میں مجھے کیا سے کیا بنادیا ہے۔۔فاحا اُس کے سینے میں مزید آگ کے شعلے بھڑکاتی ہوئی بولی
“مجھے یقین نہیں ہوتا اسیر کے سامنے خاموشی کا مُظاہرہ کرنے والی میرے سامنے یوں چونچ مار رہی ہے۔۔دیبا اُس کا بازو جھٹکے سے آزاد کرتی بولی
“پہلی بار فاحا نے اُن کے سامنے خاموشی کا مُظاہرہ کبھی نہیں کیا دوسری بات فاحا خاموش رہتی بھی ہے تو وہ خاموش ہوتی ہے اندھی نہیں ہے۔۔فاحا نے طنز انداز میں کہہ کر چولہے کی آنچ دھیمی کی کیونکہ اُس کی چائے تیار ہوگئ تھی۔
“اِس چائے میں ایک چٹکی زہر بھی ملادو۔۔دیبا اُس کا پرسکون چہرہ دیکھ کر جل کر بولی
“آپ کے لیے نہیں بنارہی جب آپ کے لیے بناؤں گی تو اِن شاءاللہ ایک نہیں دو چٹکی زہر کا خاص خیال کروں گی۔۔۔فاحا کب میں چائے انڈیلتی اُس کو ہکا بُکا چھوڑ کر باورچی خانے سے باہر نکل گئ تھی۔
“اِس کو تو میں چھوڑوں گی نہیں”آآآہ۔۔دیبا بے خیالی میں اپنا ہاتھ زور سے چولہے پر مارتی بڑبڑانے لگی جب گرم چولہا ہونے کی وجہ سے اُس کا ہاتھ جل گیا تھا۔
“چائے۔۔۔۔فاحا باہر آتی نوریز ملک کے سامنے چائے کا کپ رکھا
“ایک منٹ بیٹھ جاؤ۔۔فاحا چائے دے کر جانے لگی تو نوریز ملک نے بیحد آہستہ آواز میں اُس سے کہا
“آپ کو کوئی کام ہے تو بتائے کیونکہ مجھے اقدس کے پاس جانا ہے وہ کمرے میں اکیلی ہے۔۔فاحا نے اُن کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا تو وہ ہولے سے مُسکرائے
“بیٹھ جاؤ۔۔نوریز ملک نے محض اِتنا کہا تو وہ بیٹھ گئ
“معافی کا طلبگار میں تم تینوں سے تاعمر رہوں گا”میں اِس اُمید کے ساتھ کہ ایک دن تم لوگوں کو یہ احساس ہوگا کہ معاف کرنے والا بہت افضل ہوتا ہے۔۔۔نوریز ملک نے غیرمعی نقطے کو گھور کر اُس سے کہا
“بیشک معاف کرنے والا افضل ہوتا ہے اور اللہ کے سامنے اُس اِنسان کا رتبہ بھی بڑا ہوتا ہے لیکن بعض دفع ہمارے جسموں پر نہیں بلکہ ہماری روح پر ایسا گھاؤ ہوتا ہے جو کبھی بھر نہیں پاتا اور ہم چاہنے کے باوجود سامنے والے کو معاف نہیں کر پاتے۔۔۔فاحا اُن کی بات پر سنجیدگی سے بولی
“تم میں سے کسی نے کوشش ہی نہیں کی مجھے معاف کرنے کی۔۔نوریز ملک عجیب مسکراہٹ سے بولے
“شاید کیونکہ آپ کو معاف کرنا ہمارے اختیار میں نہیں اور یقین جانے اگر آپ کو معاف کر بھی دے تو جیسی آپ ہم سے توقعات وابستہ کرنا چاہتے ہیں اُن کا ہونا ممکن نہیں ہے۔۔۔فاحا بنا کسی لگی لپٹی کے کہتے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“اقدس کے لیے تمہارا پیار دیکھ کر خوشی ہوئی اللہ تمہیں اسیر کے ساتھ ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔فاحا ابھی چند قدم آگے بھری تھی جب نوریز ملک کے یہ الفاظ اُس کے کانوں پر پڑے
آمین۔۔۔فاحا جواباً کہتی وہاں سے چلی گئ”پیچھے نوریز ملک تھے اور اُن کے پچھتاوے





“کچھ وقت بعد
“آج اُن سب کی شادیوں کو تین ماہ کا وقت گُزرچُکا تھا ہنستے مسکراتے خوشیوں کو محسوس کیے اُن میں مگن یہ تین ماہ کا وقت کیسے گُزرا تھا کسی کو پتا نہیں چلا تھا”اور آج دُرانی ہاؤس میں خوشیوں کا سماں تھا کیونکہ آج زوریز کی سالگرہ کا دن تھا جو وہ کبھی مناتا نہیں تھا”لیکن شادی کے بعد پہلی سالگرہ تھی جو سوہان اور آریان نے مل کر منانے کا سوچا تھا”زوریز نے منع تو بہت کیا تھا پر اُس کی کسی نے بھی نہیں تھی سُنی
“میں کوئی بچہ تو نہیں جس کی سالگرہ منائی جارہی ہے۔۔۔زوریز نے بُرا منہ بناکر سوہان سے کہا جو اُس کی ٹائی باندھ رہی تھی۔
“چھوٹی بچی تو میں بھی نہیں تھی پر آپ نے منائی تھی نہ۔۔۔سوہان اُس کو دیکھ کر ہلکی مسکراہٹ سے بولی
“ہاں لیکن تب الگ بات تھی آپ اپنا کیس بھی جیتی تھیں اور ایسے میں ڈبل سیلیبریشن کا پلان بنا بس۔۔زوریز نے کہا
“آپ مسکرائے منہ نہ بنائے سالگرہ منانا کوئی بُری بات نہیں ہوتی ویسے بھی ہر کوئی مناتا ہے اِس چیز کو۔۔۔سوہان نے اُس کو سمجھانے کی خاطر کہا
“آپ کے کہنے پر میں تیار ہوں ورنہ میرا کوئی اِرادہ نہیں تھا۔۔زوریز نے خود کو آئینے میں دیکھ کر کہا وہ آج براؤن کلر کے تھری پیس میں ملبوس بالوں کو ہمیشہ کی طرح جیل سے سیٹ کیے ہوا تھا چہرے پر ہلکی بیئرڈ اُس کی وجاہت میں چار چاند لگا رہی تھی”جبکہ سوہان نے آج براؤن کلر کی نفیس ساڑھی زیب تن کی تھی جس کے پلو پر بہت بھاری کام کیا گیا تھا”بالوں کو جوڑے میں قید کرنے کے بعد اُس نے ہمیشہ کی طرح حجاب کا استعمال کیا تھا چہرے پر لائیٹ میک اپ کے ساتھ سوہان زوریز کو پہلے کی نسبت اور زیادہ پیاری لگی تھی
“آپ کا بہت شکریہ اب نیچے آئے سب لوگ آپ کا انتظار کررہے ہیں۔۔سوہان نے عجلت کا مُظاہرہ کیا
“آپ کا نہیں ہمارا یعنی ہم دونوں کا۔۔۔زوریز نے اپنا ہاتھ اُس کے سامنے کیا تو سوہان نے مسکراکر اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ دیا
“وہ دونوں نیچے آئے تو اسیر فاحا اقدس”آریان میشا”عاشر لالی ساجدہ بیگم بُوا اور حاشر وہ سب پہلے سے موجود کھڑے تھے۔
“”اکتیسویں سالگرہ مُبارک ہو زوئی۔۔۔آریان اُس کے بغلگیر ہوکر مُبارکباد دینے لگا تو زوریز نے اُس کو گھورا
“اکتیسویں لگانا ضروری تھا کیا؟زوریز نے کہا تو سرجُھکائے سوہان نے اپنی مسکراہٹ ضبط کرنے کی کوشش کی تھی۔
Age conscious.
میشا زوریز کا ردعمل دیکھ کر آہستہ آواز میں بڑبڑائی تھی۔
“یہ ضروری تھا وہ دیکھو تمہارے کیک پر بھی بڑا سا 31 لکھا ہوا ہے تاکہ تمہیں یاد ہو کہ تمہاری عمر کتنی ہے۔۔۔آریان نے ٹیبل پر موجود کیک کی طرف اِشارہ کرکے بتایا تو زوریز نے دانت پر دانت جمائے آریان کو دیکھا کیونکہ صرف کیک پر ہی نہیں سامنے بورڈ پر خوبصورت سے کارڈ پر بھی لکھا ہوا تھا کہ اکتیسویں سالگرہ مُبارک ہو بھائی
“تمہارے دماغ میں یہ آئیڈیاز آتے کہاں سے ہیں؟زوریز نے بڑی سنجیدگی سے سوال کیا تھا
“آپ غُصہ کیوں ہورہے ہیں اکتیسویں کے ہیں بھی تو یہ تو جسٹ نمبرز ہوتے ہیں ورنہ آپ اپنی عمر سے بہت کم ایج کے لگتے ہو۔۔فاحا نے زوریز کو دیکھ کر مسکراکر کہا تو اِس بار اسیر نے فاحا کو گھورا تھا
“کتنا کم بارہ یا تیرہ سال کا لگ رہا ہے آپ کو؟اسیر نے جس انداز میں اُس سے سوال کیا اُس پر فاحا کو سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ واقعی میں سوال تھا یا طنز
“پچیس کے۔۔۔فاحا نے کچھ سوچ کر بتایا
“آپ آریان کو چھوڑے اور کیک کاٹے۔۔میشا نے اپنی اسکن کلر کی میکسی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے زوریز سے کہا
“تمہیں بڑی کیک کی پڑی ہے جیسے زندگی میں کبھی کیک کھایا ہی نہ ہو۔۔آریان کو جیسے اُس کے ساتھ لڑنے کا موقع مل گیا تھا۔
“تم بھی تو اکتیس اکتیس ایسے بول رہے ہو جیسے خود تم نے اکتیس برس کا ہونا ہی نہیں ہے۔۔۔میشا بھی جواباً دوبدو بولی
“کیا آپ دونوں شرافت کے ساتھ نہیں رہ سکتے؟فاحا اُن دونوں کو لڑتا دیکھ کر ناک منہ چڑھا کر بولی تو آریان کا ہاتھ بے ساختہ اپنے دل پر پڑا تھا
“یہ شرافت کون ہے؟آریان نے ڈرامائی انداز میں اُس سے کہا
“فاحا کے کہنے کا مطلب ہے انسانوں کی طرح بیہیو نہیں کرسکتے۔۔فاحا نے گویا مطلب سمجھایا
“میں بھی شرافت سے جیتا مگر
“مجھ کو شریفوں سے لگتا تھا ڈر
“سب کو پتا تھا میں کمزور ہوں
“اِس لیے آج میں کچھ اور ہوں
“کچھ اور ہوں
کچھ اور ہوں
“فاحا نے مطلب بتایا تو آریان کے اندر کا سنگر جاگ اُٹھا تھا
‘آگر کچھ بن گئے ہو تو وہاں آجانا میں کیک کاٹنے والا ہوں۔۔۔زوریز آریان کو گھورتا سوہان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے کیک کی طرف بڑھا تھا
“میلا تھوڑئی ہے جو اگر آپ نے بھابھی کا ہاتھ چھوڑا تو وہ گُم ہوجائے گی۔۔آریان نے مسکراہٹ دبائے اُس سے کہا پر اِس بار زوریز نے اُس کو کوئی جواب نہیں تھا بس خاموشی سے نائیف سوہان کو پکڑائی تھی جو کنڈیلز جلا رہی تھی”پھر اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اُس نے کیک کاٹنا شروع کیا تھا میشا اور فاحا بے ساختہ مسکرائی تھی۔
“میرا بھائی اِتنا رومانٹک ہے یہ بات مجھے آج کیوں پتا لگی ہے؟آریان کان کی لو کُھجاتا بڑبڑایا تھا
“ظاہر ہے اب ہر کوئی تمہاری طرح بس چوول بازی تو نہیں کرتا نہ ویسے تو بڑا کہتے تھے میں تم سے پاکستان کے قرضے جتنی محبت کرتا ہوں لیکن اِس محبت میں تم نے مجھے ایک منہ دیکھائی کا تُحفہ تک نہیں دیا تھا۔۔آریان کی بڑبڑاہٹ میشا کے کانوں سے پوشیدہ کیسے رہ سکتی تھی۔
“تم نے کونسا اِس عرصے میں خالص بیویوں والی حرکت کی ہے۔۔آریان نے اُلٹا سارا ملبہ اُس پر ڈالا
“تم
“آپو آپ نے جیجو کا تحفہ کونسا لیا ہے۔۔۔میشا آریان کو باتیں سُنانے لگی تھی جب اچانک فاحا نے سوہان سے پوچھا جس کو سب سے پہلے زوریز کیک کِھیلا رہا تھا
“میرے لیے تو یہ خود ایک تُحفہ ہے۔۔جواب زوریز نے دیا تھا جس پر ہوٹنگ شروع ہوگئ تھی
“اِس خوشی میں یہ سارا کیک تمہارا۔۔۔۔میشا آگے بڑھ کر کیک کا بڑا پیس لیکر سوہان کو کِھیلانے لگی”سوہان نے انکار کرنا چاہا لیکن میشا نہیں مانی پھر اچانک سوہان کو اُبکائی سی آئی تو وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھتی وہاں سے بھاگی تھی”اُس کی اِس حرکت پر زوریز خاصا پریشان سا ہوگیا تھا تبھی اُن سب کو چھوڑتا وہ سوہان کے پیچھے گیا
“کیک میں کچھ ملا ہوا تو نہیں۔۔۔میشا ہونٹوں پر اُنگلی رکھے پرسوچ انداز میں بڑبڑائی
“فاحا آپ ٹھیک ہو۔۔اُسی وقت خاموش کھڑی فاحا کا بھی جی متلانے لگا تو اسیر نے فکرمندی سے اُس کو دیکھا جو اُس دور رہنے کا اِشارہ کرتی وہاں سے بھاگی تھی لیکن جہاں پہلے ہر کوئی پریشان ہوا تھا وہی ساجدہ بیگم اور بُوا نے ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھا تھا۔
“کیا ایسے کیوں گھور رہے ہو؟میشا نے خود پر آریان کی نظروں کو محسوس کیا تو پوچھا
“دیکھ رہا ہوں بلکہ انتظار کررہا ہوں کہ تمہیں کب اُبکائی آنی ہے اور تم کب کہاں منہ پر ہاتھ رکھے بھاگنے والی ہو۔۔۔آریان نے اپنے دیکھنے کی وجہ بتائی تو میشا نے دانت کچکچائے تھے۔۔
