Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 25)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 25)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
چھوٹو۔۔۔۔
حوریہ اپنے کمرے سے باہر آتی اپنے چھوٹے بھائی”ساحل”کو آوازیں دینے لگی جو ابھی باہر سے آیا تھا
“کیا کام ہے؟ساحل منہ بناکر اُس کے پاس آیا
“میرا کام ہوا جو میں نے تمہیں کرنے کا بولا تھا؟حوریہ نے بے چینی سے پوچھا
“جی میں آپ کی وہ کتاب لایا تھا اماں کے پاس ہے۔۔ساحل نے بتایا تو حوریہ خوشی سے اُس کا ماتھا چومتی کچن میں آئی تھی جہاں “رافیہ بیگم”کچن کی صفائی کرنے میں مصروف تھی
“آپ کیوں صفائی کررہی ہیں؟خوریہ کہاں ہے؟”حوریہ نے اُن کو دیکھ کر پوچھا
“وہ کپڑے دھونے میں مصروف ہے۔۔”تم بتاؤ کچن کا کیسے رُخ کرلیا؟رافیہ بیگم نے پوچھا تو اُس کو یاد آیا کہ وہ یہاں کیوں آئی ہے
“اماں ساحل نے آپ کو ڈائجسٹ لاکر دیا ہے نہ وہ کہاں ہے؟حوریہ نے بے صبری کا مُظاہرہ کیا
“فریج کے اُپر پڑا ہے۔۔۔رافیہ بیگم نے کہا تو حوریہ فریج سے ڈائجسٹ اُٹھاتی اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی۔۔
“کمرے میں داخل ہوکر”اللہ کا نام لیا اور اُس نے جلدی سے پہلے صفحوں میں ساری رائٹرز کے نام دیکھے۔۔۔”پھر اچانک ایک نام پر اُس کی نظریں ٹھیر سی گئ۔۔۔
“تیری نظر کا کمال، حوریہ عباسی 128
“اپنا ناول شائع ہوتا ناول دیکھ کر اُس کو یقین نہیں آیا۔۔”وہ بار بار پلیکیں جِھپکائیں اپنے نام کو دیکھنے لگی۔۔”اُس کے لکھنے کی شروعات ہوچُکی تھی۔۔”اُس کا پہلا ناول ڈائجسٹ میں شائع ہوچُکا تھا۔۔”اور یہ مقام اُس کی کامیابی کا تھا۔۔۔
“اماں
“اماں
خوریہ
خوریہ
“کہاں ہیں آپ دونوں؟”رسالے کو مضبوطی سے پکڑتی وہ اندھا دُھند باہر کو بھاگ کر آئی تھی۔
“کیا ہوا خیریت تو ہے؟خوریہ جو لان سے ابھی گھر میں آئی تھی۔۔”حیرت سے حوریہ کا چہرہ دیکھنے لگی جس کی آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی
“خوریہ
خوریہ
“میں آج بہت بہت خوش ہوں۔۔۔۔۔”حوریہ اُس کا ہاتھ پکڑتی گول گول گُھماکر اُس سے کہتی اپنے گلے لگاگئ
“اچھا لیکن ہوا کیا ہے۔۔”کچھ بتاؤ تو؟اپنے گُھومتے سر کو تھامتی خوریہ اُس سے پوچھنے لگی
“ہاں حور کیا بات ہے۔۔؟رافیہ بیگم نے بھی پوچھا
“یہ دیکھے آپ دونوں۔۔۔۔”کامیابی کی طرف میرا پہلا قدم۔۔۔حوریہ نے چہک کر رسالا کھول کر اُن کے سامنے کیا۔۔۔”خوریہ بھی حیران رہ گئ۔۔
“تیرا ناول اپروو ہوگیا؟”صفحہ نمبر ١٢٨ کھول کر خوریہ نے حیرانگی سے پوچھا
“ہاں نہ اور یہ وہ ناول ہے جو دو ماہ پہلے میں نے اِن کو ای میل پر بھیجا تھا۔۔۔۔حوریہ نے خوشی سے جھوم کر بتایا
“بہت مُبارک ہو۔۔”میں نہ کہتی تھی کہ اللہ تیری ضرور سُنے گا۔۔۔۔رافیہ بیگم اُس کا خوشی سے چہکتا چہرہ دیکھ کر خود بھی مسکراکر بولی
“ہاں اماں آپ نے سہی کہا تھا۔۔”میں خوامخواہ جلدی اُداس ہوجایا کرتیں ہوں۔۔۔حوریہ جواباً جلدی سے بولی
“تو کیا اب آپ پیسے کماؤں گی۔۔”ویسے اِس ناول پر آپ کو ادارے والے کتنے پیسے دینگے؟ساحل جو اب تک خاموش تھا اُس نے سوال کیا
“ابھی پیسے کہاں؟”یہ میرا پہلا ناول ہے اور ابھی یہی بڑی بات ہے کہ اِس کو رسالے میں شائع ہونے کی جگہ ملی۔۔۔حوریہ نے اُس کی بات پر گہری سانس بھر کر کہا
“ہاں تو ہر چیز جھٹ پٹ سے تھوڑئی نہ ہوجاتی ہے۔۔”وقت لگتا ہے آہستہ آہستہ سب کچھ ہوجائے گا۔۔”اور جیسے یہ ناول آیا ہے دیکھنا باقی کے تیرے ناول بھی آنے لگے گے۔۔۔خوریہ نے اُس کو اپنے ساتھ لگائے کہا
“ہاں اللہ کریں بس یہ سلسلہ قائم رہے۔۔۔حوریہ دعائیہ انداز میں بولی
“رہے گا بس تم یہ رسالہ اپنے کمرے میں لے جاؤ۔۔”تمہارے ابا نے دیکھا تو غُصہ ہوگے۔۔۔رافیہ بیگم نے اُس کو دیکھ کر کہا
“ہاں چھوٹو اور یہ تو پانچ روپے پکڑ پاس والی دُکان سے میٹھائی لیکر آہ۔۔”ہماری حور کا ناول شائع ہوا ہے خوشی سیلیبریٹ کرنا تو بنتی ہے۔۔۔خوریہ نے ساحل کو دیکھ کر کہا
“آپی پانچ سؤ میں ایک دو لڈو مشکل سے آئے ایک دو ہزار دے تاکہ اچھی اسپیشل والی میٹھائی حلوائی سے بنواؤں۔۔۔پانچ سؤ کو دیکھ کر ساحل نے ناک منہ چڑھایا تھا
“زیادہ بھے بھے نہ کر جو کہا ہے وہ کرو۔۔”میں تب تک چائے کے لیے گرم پانی چولہے پر ڈالتی ہوں۔۔۔خوریہ اُس کو آنکھیں دِکھاکر بولی
“پکوڑے بھی ساتھ بنائیے گا۔۔”میں نے کوئی شوق نہیں چائے کے ساتھ میٹھائی کھانے کا۔۔”یہ غریبوں والا شوق آپ لوگوں کو ہوتا ہے۔۔اُس سے پانچ سؤ کا نوٹ لیتا ساحل بولا
“کتنی لمبی زبان ہوگئ ہے اِس کی۔۔۔خوریہ نے دانت پیس کر ساحل کی پشت کو دیکھا
“اُس کو چھوڑ آ میرے ساتھ۔۔۔حوریہ نے مسکراکر اُس سے کہا
“ابھی چائے کیا توں بنائے گی؟خوریہ نے کہا تو حوریہ نے دانتوں کی نُمائش کرکے اُس سے فاصلہ اختیار کیا
“گھر کے کام پر تو اِس لڑکی کو موت پڑتی ہے۔۔رافیہ بیگم نے تاسف سے”حوریہ کو دیکھ کر کہا
“ایسی ویسی موت اور آپ زرا اِس کا ناول پڑھ کر تو دیکھے۔۔”پانچ منٹ میں ہیروئن کباب تل لیتی ہیں۔۔”اور دو منٹ میں آتا گوندھ لیتی ہے۔۔”اُس کے بعد بریانی دس منٹ میں پکالیتی ہے۔۔خوریہ نے موقعے پر چونکا مارا تو حوریہ نے جھٹ سے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھا
“یہ کیا بکے جارہی ہو؟حوریہ نے اُس کو گھورا
“کیا کچھ غلط بولا کیا؟’تم نے خود ہی تو بتایا تھا کہ ہیروئن سُلجھی ہوئی سلچھڑی ہے اور لڑک
“اچھا میری ماں اب بس کرو۔۔”اماں کے سامنے پول کھولنی ضروری ہے کیا۔۔؟حوریہ نے پھر سے اُس کے منہ پر ہاتھ جمایا تو خوریہ نے آنکھیں گُھمائی تھیں









“ہمیں خوشی ہوئی کہ آپ یہاں آئے۔۔میشا نے زاویار کو دیکھ کر اُس سے کہا جو اُس کے کیبن میں بیٹھا تھا
“مجھے تو آنا ہی تھا آپ بتائے۔۔”آپ کو میری کیا ضرورت پڑگئ تھی۔۔؟”زاویار نے سنجیدگی سے کہا
“ایک کیس کے سلسلے میں آپ کی مدد چاہیے تھی۔۔”یہاں اسلام آباد میں ایک بار پھر گرلز اسمگلنگ کا کام شروع ہوگیا ہے۔۔”اور زرائع سے یہ پتا لگا ہے کہ اِس میں سیاسی لوگوں کا بھی ہاتھ ہے۔۔”میرا مطلب کہ وہ بھی اِس جُرم میں ملوث ہیں۔۔میشا نے سنجیدگی سے سب کچھ اُس کو بتایا
“یہ کام میں سنبھال لوں گا اُس میں آپ پریشان نہ ہو۔۔”میں نے آلریڈی ایسا کیس پہلے بھی ہینڈل کیا تھا۔۔۔زاویار نے کہا
“ہاں لیکن اِس بار یہ سب کچھ مجھے سنبھالنا ہے۔۔”آپ سے مجھے بس ایک فیور چاہیے تھی۔۔”اُس کے بعد آپ کا کام ختم ہوجائے گا۔۔۔میشا نے کہا
“کیسی فیور؟زاویار نے پوچھا
“اُن نامور شخصیت کے نام آپ مجھے پتاکر کے دے کہ وہ کون ہیں؟”اُس کے بعد میرا کام ہے۔۔”میں کیسے اُن کو روکتی ہوں اور سلاخوں کے پیچھے ڈالتی ہوں۔۔”اُن کا پردہ فاش کرنا میرا کام ہوگا۔۔۔میشا نے بتایا
“آپ کو کسی پر شک ہے؟زاویار نے پوچھا
“شک نہیں ہے کیونکہ یہاں ہر کوئی اپنے چہرے پر نقاب لیے گھوم رہا ہے۔۔”اور بغیر کسی ثبوت پر کسی ایک کو نشانہ بنانا حماقت کے سِوا کچھ اور نہیں ہوگا۔۔”میشا نے اُس کی بات پر گہری سانس بھر کر کہا
“ٹھیک ہے فائن میں پندرہ دنوں کے اندر اُن شخصیات کا نام آپ کو بتادوں گا۔۔۔زاویار نے کہا اور اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا
“مسٹر زاوی تھنکس اگین۔۔۔میشا بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کر بولی
“نو نیڈ۔۔زاویا نے کہا اور وہ وہاں سے چلاگیا










“یار مان کے بنا کتنا سناٹا ہے۔۔”مزہ ہی نہیں آرہا عجیب بوریت سی محسوس ہورہی ہے۔۔۔سکندر نے اُن لوگوں کو دیکھ کر کہا جو یونی گراؤنڈ میں بیٹھے ہوئے تھے
“ہاں یار سہی بول رہا ہے۔۔”مجھے بھی اُس کی بہت یاد آرہی ہے۔۔”جانے کہاں؟”اور کس حال میں ہوگا۔۔۔رایان بھی اُس کی بات سے اتفاق کرتا بولا
“کیا مطلب کہاں؟”اور کس حال میں ہوگا؟”اچھے بھلے حال میں ہوگا تم لوگوں کو اُس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔”اسائمنٹ بناتی عیشا نے اُن کو لتاڑا
“وہ سب تو ٹھیک ہے پر دو دن ہوگئے ہیں۔۔”مان کا کوئی اتا پتا نہیں۔۔زوہان اُن کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا
“ہاں بات تو تیری بھی سہی ہے۔۔”اُس نے کال کرنا تو دور ایک مسیج بھی نہیں کیا یہ بتانے کے لیے کہ وہ خیریت سے پُہنچ گیا ہے۔۔۔۔سکندر نے بھی کہا
“اِس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں۔۔”وہ ویسے بھی یہاں سے اور یہاں کے ماحول سے بیزار تھا۔۔”تو چلاگیا ہے۔۔”اب بھول جاؤ کہ وہ واپس آئے گا۔۔۔عیشا نے سرجھٹک کر کہا
“سوچ سمجھ کر بولو مجازی خُدا ہے اب وہ تمہارا۔۔۔رایان اُس کے سر پر چپت مارکر بولا
“بلا بلا۔۔۔عیشا نے ہزار منہ کے زاویئے بگاڑ کر کہا
“گائیز آپ لوگ یہاں ہیں اور میں پوری یونی میں آپ کو تلاش کررہی تھی۔۔۔وہ ابھی آپس میں باتیں کررہے تھے جب حوریہ اُن کے پاس آکر عیشا کو دیکھ کر بولی
“آگئ میرے دل کا سکون۔۔۔اُس کو دیکھ کر رایان کی باچھیں کُھل گئیں
تم ہمیں تلاش کررہی تھی خیریت؟عیشا رایان کو گھورتی حوریہ سے بولی
“میرے پاس تم لوگوں کے لیے ایک خوشخبری ہے۔۔۔حوریہ نے چہک کر بتایا
“ابھی تو ہماری شادی نہیں ہوئی” پھر یہ خوشخبری کیسے آگئ؟ رایان اُس کی بات پر کافی حیرت زدہ لہجے میں بولا تو۔۔”زوہان نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا جب حوریہ ہونک بنی اُس کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔”جیسے سمجھنے کی کوشش کررہی ہو کہ یہ ابھی اُس نے کیا سُنا
“میرے کہنے کا مطلب تھا کہ میرے پاس ایک خوشخبری ہے۔۔”دراصل اِس ماہنامہ شعاع میں میرا ناول بھی شائع ہوگیا ہے۔۔۔حوریہ نے سنبھل کر بتایا
“اووو واؤ پھر تو تمہیں بہت بہت مبارک ہو۔۔۔عیشا اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُس کو مبارکباد پیش کرنے لگی
Congratulations.
“اُن تینوں نے بھی اُس کو مبارکباد دی
“تھینک یو۔۔حوریہ نے مسکراکر اُن کو دیکھا
“بس تھینک یو سے کام نہیں چلے گا۔۔”تمہیں ہمیں ٹریٹ دینی ہوگی۔۔۔رایان نے جھٹ سے کہا
“ہاں کیوں نہیں۔۔۔حوریہ نے خوشدلی کا مُظاہرہ کیا
“تو چلو پھر۔۔۔رایان تو گھوڑے پر سوار تھا
“ابھی ہماری کلاس کا ٹائیم ہے۔۔۔زوہان نے اُن کو دیکھ کر کہا
“کلاس کے بعد۔۔۔حوریہ نے زوہان کی بات پر کہا
“ویسے وہ رسالہ لائی ہو تم ساتھ؟عیشا نے پوچھا
“ہاں میں لائی ہوں۔۔حوریہ نے بتایا
“مجھے دینا پھر پڑھ کر تو دیکھو کیا لکھا ہے تم نے۔۔عیشا نے شوخ لہجے میں اُس سے کہا تو حوریہ مسکرائی
“پاگلوں کی طرح اُس کو دیکھنا چھوڑ اور اپنی پڑھائی پر فوکس کر۔۔۔سکندر نے رایان کی نظریں مسلسل حوریہ پر اٹکی دیکھی تو طنز کہا
“پڑھائی بھی ہوجائے گی۔۔”لیکن یار میں نہ اُس کو پرپوز کرنا چاہتا ہوں۔۔۔رایان نے قدرے شرما کر کہا
“چاچو کو اگر پتا چل گیا نہ تو مار مار کر حشر بگاڑ دینگے تمہارا۔۔۔”اپنے فیوچر کے بارے میں سوچو اِن سب کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے۔۔زوہان نے ملامت کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا۔۔”حوریہ اور عیشا یہ دونوں جبکہ وہاں سے چلی گئیں تھیں
“ڈیڈو کیوں مارینگے؟”ویسے بھی پرپوز کرنے میں کیا جائے گا؟رایان نے منہ بسورا
“توں گھوڑے پر کیوں سوار ہے اِتنا؟”ابھی ہماری ایج اِن چیزوں کے لیے نہیں ہے۔۔سکندر نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا
“ایج کیوں نہیں ہے؟”یہی تو ایج ہوتی ہے پیار محبت کرنے کی۔۔”کتنا مزہ آئے گا جب پڑھائی اور پیار ایک ساتھ ہوگے۔۔۔رایان اپنی سوچو میں مگن تھا۔
“کوشش کرکے دیکھ۔۔۔زوہان نے سرجھٹک کر کہا
“ویسے میری مان ابھی اپنی اِس ٹھرک پن والی نس کو دبا۔۔”تین سال بعد جب ہم اِس یونی کو الوداع کرینگے تو توں پرپوز کرلینا۔۔”دین شادی والا سین بھی پاسبیل ہوسکتا ہے۔۔۔سکندر نے اُس کو مشورہ دیتے ہوئے کہا
“نہیں نہ تب شادی اور اب نکاح کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟”سچی یقین کرو اُس کا اگنور کرنا دل پر”ٹھاہ”کرکے لگتا ہے۔۔۔رایان اُن دونوں میں سے کسی کی بھی سُننے کو تیار نہ تھا
“توں ابھی کلاس کی طرف چل اُس کے بعد جو کرنا ہے۔۔”کرلینا ہم نہیں رُوکے گے۔۔۔زوہان نے اُن کو کلاس کا ہوش دلوایا
“پھر پرومس کرو کل اچھا سا موقع بناؤں گے تاکہ میں اُس کو پرپوز کرپاؤں۔۔۔رایان کلاس کی طرف چلتا اُن سے بولا
“اُس کی توں ٹینشن نہ لے میں ہوں نہ یہاں جو قریبی پارک ہے نہ وہاں اچھا سا موقع بناؤں گا۔۔سکندر اُس کا کندھا تھپتھپاکر تسلی کروانے لگا تو رایان کی باچھیں کُھل گئ تھیں۔۔”اُس کو اب بس کل کا انتظار تھا










“آپ کچھ کر کیوں نہیں رہے؟”دو دن ہوگئے ہیں لیکن مان کی طرف سے کوئی خیر و خبر نہیں آئی۔۔”نجانے ہمارا بیٹا کیسا ہوگا؟فاحا اسیر کو دیکھ کر بے تابی سے بولی جو ابھی ڈیرے سے آیا تھا
“ہم نے پتا کروایا ہے۔۔”وہ لندن کی فلائٹ میں بیٹھ گیا تھا۔۔”اب کال کیوں نہیں کررہا۔۔”یہ ہمیں بھی نہیں پتا۔۔اسیر اُس کی بات سن کر سنجیدگی سے بولا
“یہ کیا بات ہوئی آخر؟”اگر وہ لندن پُہنچ گیا ہے تو ہمیں کال کیوں نہیں کی؟فاحا کو سمجھ میں نہیں آیا
“فاحا آپ کی پریشانی بلاوجہ ہے۔۔”وہ چھوٹا بچہ نہیں ہے۔۔سمجھدار ہے بالغ ہے۔۔”دو دن کال نہیں کی تو ٹینشن نہ لے۔۔”کر لے گا کبھی نہ کبھی جیسے اُس کو وقت مل جائے گا۔۔اسیر اُس کی فکرمندی دیکھ کر تحمل سے بولا
“ہم پریشان کیوں نہ ہو؟”وہ اپنی ماں کو یہ بتانے کے لیے تو فون کرسکتا تھا نہ کہ وہ خیریت سے پہنچ گیا ہے۔۔”لیکن نہیں کی ایسے میں کیا میں پریشان بھی نہ ہو۔؟فاحا اُس کے ساتھ بیٹھ کر بولی
“مان کا سیل فون سوئچ آف جارہا ہے۔۔”ہوسکتا ہے کہ اُس کا موبائیل گم ہوگیا ہو۔۔”اور اب جب نیا لے گا تو فون کرلے گا۔۔۔اسیر نے کہا تو فاحا نے گہری سانس خارج کی
“یہی بات ہوگی نہ؟”کوئی اور ٹینشن والی بات تو نہیں ہوگی نہ؟فاحا نے پھر سے پوچھا
“یہی بات ہوگی۔۔۔اسیر نے اُس کو اپنے ساتھ لگائے کہا تو فاحا نے دل میں المان کی سلامتی کے لیے دعا کی










Hello little sister.
آتش ہال میں ایشال کے ساتھ بیٹھ کر خوشگوار لہجے میں اُس سے بولا
“میرا موڈ خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔جواب میں ایشال نے بے لچک انداز میں اُس سے کہا تو آتش ہنس پڑا
“کول خیر یہ بتاؤ کہ موم ڈیڈ کہاں ہیں؟آتش نے اُس سے پوچھا تو ایشال جو میگزین پڑھ رہی تھی۔۔”اُس کو ایسے دیکھنے لگی جیسے اُس کا دماغی توازن خراب ہو
“کیا ہوا؟”ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟آتش نے اُس کی ناک دباکر پوچھا
“موم ڈیڈ کو آپ نے کس وقت گھر میں دِکھا ہے جو اِس وقت نہ دیکھ کر پریشان ہورہے ہیں؟”اگر دماغی توازن سٹک گیا ہے تو اپنا علاج کراؤ۔۔۔ایشال نے خاصے طنز لہجے میں اُس سے کہا
Actually you are right”im biggest fool.
آتش اُس کی بات پر مصنوعی افسوس سے بولا تو ایشال نے اپنا سراثبات میں ہلایا تھا۔۔”جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ اِس میں تو کوئی شک نہیں
یوئر پونی از ویری پریٹی آئے لِو اِٹ۔۔۔ایشال کو پرسکون دیکھ کر آتش کو بوریت سی ہونے لگی تبھی اُس کے بالوں سے پونی تیزی سے نکال کر کہتا وہ اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔”جبکہ اپنے بالوں میں کھینچاؤ محسوس کرکے ایشال کا غُصے کے مارے حال بُرا ہونے لگا تھا۔
“آتش میری پونی مجھے واپس کرو۔۔”ورنہ میں جان سے ماردوں گی تمہیں۔۔۔ایشال نے چیخ کر اُس سے کہا لیکن اُس کا غُصے میں لال پیلا چہرہ دیکھ کر آتش شوخی سے آنکھ وِنک کر کے باہر نکل گیا۔۔”اگر وہ ایشال کو زچ نہ کرتا تو کیسے ممکن تھا کہ اُس کا دن بیسٹ گُزرتا
“ایک بار مجھے تمہاری کمزوری مل جائے اُس کے بعد ایسا ماروں گی کہ پانی تک نصیب نہیں ہوگا۔۔۔جہاں سے آتش گیا تھا وہاں اپنی نظریں جماتی ایشال نفرت انگیز لہجے میں اُس سے گویا ہوئی تھی۔۔۔”جبکہ آتش تو بغیر اُس کے اِرادوں کو جانے باہر تازہ ہوا کھانے نکل پڑا تھا








“حور کل مجھے تم سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن آج موقع ملا ہے تو میں گنوانا نہیں چاہتا۔۔۔رایان لائبریری میں آکر حوریہ کو دیکھ کر بولا
“کونسی بات؟حوریہ نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“یہاں نہیں آج تمہیں ہمیں ٹریٹ دینی ہے نہ تو وہاں بات کروں گا۔۔رایان نے بتایا
“کل دے نہیں پائی تھی لیکن آج دوں گی۔۔”پر ضروری کلاس بھی لینی ہے۔۔”اِس درمیاں وقت ختم ہوجاتا ہے۔”اور ٹریٹ نہیں دے پاتی۔حوریہ کو ٹینشن ہوئی
“آج اگر ایک کلاس نہیں لے گے تو کوئی بڑی بات نہیں۔۔”تم اُٹھو اور ہمارے ساتھ چلو۔۔۔رایان نے آرام سے کہا
“ابھی لیکن کہاں؟”حوریہ اپنی جگہ سے اُٹھتی استہفامیہ نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی
“جہاں ہم جانے والے ہیں نہ وہاں وقت لگ سکتا ہے تو اِس لیے اگر تم چاہتی ہوں کہ اپنے گھر جلدی جاؤ تو جو میں کہہ رہا ہوں وہ کرو۔۔۔رایان نے عجلت کا مُظاہرہ کیا تو حوریہ اپنی کتابیں سمیٹنے لگی
“ایک بات تو بتادو بھلا کہ جہاں ہم جارہے ہیں وہ جگہ تو قریب ہے نہ؟”کیونکہ اگر وقت زیادہ لگ گیا تو میرے لیے مسئلہ ہوجائے گا۔۔۔حوریہ نے ہچکچاہٹ سے پوچھا
“اُففففف ایک تو تم ڈرتی بہت زیادہ ہو کچھ نہیں ہوتا چِل کرو۔۔”ویسے بھی آج تم ہمیں ٹریٹ دینے والی ہو تو یہ بات تو اپنے گھر میں بتائی ہوگی۔۔۔رایان نے کہا تو حوریہ محض سرہلا پائی جانے کیوں اُس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔”ایسے لگ رہا تھا اُس کو جیسے کچھ غلط ہونے والا ہے۔۔۔








“حور کہاں ہے؟عفان ایک نظر خوریہ پر ڈالے اپنی نظریں پھیر کر پوچھا کیونکہ وہ ڈوپٹے سے بے نیاز تھی۔۔”جبکہ وہ جو ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھی۔۔”عفان کی آمد پر چونک گئ
“تمہیں اپنے گھر میں چین نہیں ہے کیا؟اپنا ڈوپٹہ سہی سے شانوں پر پھیلاکر خوریہ نے بدمزہ ہوکر پوچھا
“میں آپ سے بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔۔”حور کو بلائے میں اُس کو لینے آیا ہوں۔۔۔عفان نے سنجیدگی سے کہا
“ہاں میں تو جیسے تمہارے آنے کا انتظار کررہی تھی کہ تم آؤ اور ہماری بحث ہو۔۔۔اُس کی بات پر خوریہ نے سرجھٹکا
“حور کو بُلائے تاکہ میں اُس کو لے جاؤں۔۔۔عفان نے ضبط سے کہا
“کہاں لے کر جانا ہے اُس کو؟خوریہ مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھا
“موم نے کہا ہے کوئی ضروری کام ہے اُن کو حور سے۔۔۔عفان نے بتایا
“وہ نہیں آسکتی۔۔لیکن اگر کام ضروری ہے تو میں آسکتی ہوں۔۔خوریہ نے شانِ بے نیازی سے کہا
“وہ کیوں نہیں آسکتی؟عفان نے تپ کر پوچھا
“کیونکہ اِس ٹائیم وہ اپنی یونی میں ہوتی ہے۔۔۔خوریہ نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بتایا
“تین بجے اُس کی کونسی ہے؟عفان کو جان کر غُصہ آیا
“ایکسٹرا کلاسس بھی ہوتیں ہیں۔۔۔”تمہیں زیادہ اوور بننے کی ضرورت نہیں۔۔خوریہ نے اُس کو ٹوک کر کہا تو اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے بھینچتا عفان باہر کی طرف بڑھا
“رکو عفی کہاں جارہے ہو؟”اُس کو ایسے خطرناک تیوری چڑھائے باہر جاتا دیکھ کر خوریہ کو تفتیش ہوئی تبھی آگے بڑھ کر اُس کے راستے میں حائل ہوتی بولی
“حور کی یونی تاکہ پتا لگواسکوں کہ اِس وقت کونسی ایکسٹرا کلاس ہے۔۔۔عفان نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
“تم بھی یونی میں پڑھتے ہو اور اچھے سے جانتے ہو سب کچھ پھر ایسے جاہلوں کی طرح ری ایکٹ کیوں کررہے ہو؟”جبکہ میں تمہارے ساتھ چلنے کو تیار ہوں۔۔خوریہ نے اُس کو دیکھ کر اِس بار قدرے دھیمے لہجے میں کہا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ عفان حوریہ کی یونیورسٹی جاکر کوئی بھی تماشا کرے
“لیکن میں یہاں آپ کو نہیں اُس کو لینے آیا ہوں۔۔”تو برائے مہربانی راستے سے ہٹے۔۔۔عفان نے سنجیدگی سے کہا
“آنٹی کو کیا کام ہے؟خوریہ نے پوچھا
“حور کو بتادوں گا۔۔عفان نے جواب دی
“عفی
خوریہ نے کچھ کہنا چاہا جب اچانک عفان نے اُس کا بازو سختی سے دبوچ لیا
“میں بھائی کی وجہ سے آپ کا لحاظ اور آپ کی عزت کرتا ہوں۔۔”اِس لیے اپنے برتاؤ سے مجھے مجبور نہ کرے کہ میں آپ کو بھی ویسے ٹریٹ کروں جیسے باقیوں کو کرتا ہوں۔۔۔عفان اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے لچک انداز میں کہا تو خوریہ نے ضبط سے اِس سر پِھرے انسان کو دیکھا جو بلاوجہ بات کو بڑھانے میں لگا ہوا تھا
“اگر تمہیں واقعی میں یونی جانا ہے تو جاؤ۔۔”لیکن عفان خبردار جو وہاں تم نے کوئی بھی بدتمیزی کا مظاہرہ کرکے حور کو ٹینشن میں ڈالا بھی تو کیونکہ تمہارا حشر بگاڑنے میں خوریہ عباس یہ نہیں سوچے گی کہ تم اُس کی بہن کے منگیتر ہو۔۔۔خوریہ چیلنج کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی
“بھائی سے کہتا ہوں۔۔”پاکستان آکر آپ پر لگام ڈالے۔۔۔ایک جھٹکے میں اُس کا بازو چھوڑ کر کہتا عفان لمبے لمبے ڈُگ بھرتا چلاگیا۔۔”پیچھے خوریہ نے کچھ سوچ کر اپنا رُخ اندر کی طرف کیا تاکہ حور کو کال کرکے عفان کے آنے کا بتا پائے۔۔۔”کیونکہ وہ جانتی تھی کہ حوریہ نے آج گھر آنے میں دیر کیوں لگائی تھی۔۔”حوریہ نے اُس کو بتایا ہوا تھا کہ آج اُس نے کچھ دوستوں کو ٹریٹ دینی ہے۔۔
