Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 26)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“ہم یہ کہاں جاء رہے ہیں؟”ریسٹورنٹ میرا نہیں خیال کہ اِس طرف ہے۔۔۔”اور باقی لوگ کہاں ہیں؟اپنی چادر کا کونہ مضبوطی سے پکڑتی حوریہ رایان سے بولی

“یار حور تم پریشان نہ بہت جلدی ہوجایا کرتی ہو۔۔۔”ہلانکہ میں بتاچُکا ہوں کہ وہ لوگ ہمارا پارک میں ویٹ کررہے ہیں۔۔۔”رایان اُس کی بات سن کر اپنا سر نفی میں ہلاکر کہا تھا۔۔”اور ابھی وہ روڈ کراس کرنے لگے تھے جب اچانک ایک گاڑی اُن کے سامنے رُکی تھی۔۔”جس کو دیکھ کر رایان تو نارمل تاثرات سجائے کھڑا رہا پر حوریہ کے جسم کا پورا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا۔۔”وہ سانس روکے گاڑی سے اُترنے والی شخصیت کو دیکھ رہی تھی۔۔”جس میں کوئی اور نہیں بلکہ “عباس صاحب تھے

“ابا

“حوریہ نے بے ساختہ اپنے سوکھے ہونٹوں پر زبان پھیری تھی

“ابا؟”ابھی کچھ ہوا نہیں اور ویلن موصوف نے اینٹری مار دی۔۔۔رایان کا منہ گیا تھا”جبکہ عباس صاحب اُن دونوں کے قریب آکر حوریہ کو سخت نگاہوں سے دیکھنے لگے۔۔”کیونکہ اُن کے تن بدن میں آگ لگانے کے لیے اُن دونوں کا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں دیکھنا کافی تھا۔۔”جو روڈ کراس کرتے ہوئے بے خیالی میں رایان نے اُس کا پکڑا ہوا تھا

“میری بیٹی کا ہاتھ چھوڑو۔۔۔۔رایان کو دیکھ کر عباس صاحب نے کاٹ دار لہجے میں کہا

“انکل السلام علیکم دراصل میں سب سے پہلے آپ سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔”پر سوچا پہلے حور سے بات کروں۔۔۔رایان نے اُن کے مخاطب ہونے پر وضاحت کرنا شروع کردی۔۔”جبکہ حوریہ نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ رایان کے ہاتھ سے چُھڑوایا تھا

“ابا میں آپ کو سب بتاتی ہوں۔۔رایان کے جواب میں عباس صاحب کو غُصے میں دیکھتی حوریہ نے جلدی سے کہا

“تم گھر چلو۔۔۔”وہاں سب بات ہوگی۔۔اُس کا ہاتھ سختی سے دبوچ کر عباس صاحب نے کہا اور اپنے ساتھ لے جانے لگے۔

“انکل

“برخودار تم ہمارے درمیاں نہ آؤ تو بہتر ہوگا۔۔”ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔رایان کچھ کہنے لگا تھا جب عباس صاحب نے کٹیلی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“لیکن آپ کو ایک بار ہماری بات سُن لینی چاہیے۔۔۔رایان اِس بار قدرے سنجیدگی سے بولا

“رایان خُدا کا واسطہ ہے تم یہاں سے جاؤ۔۔۔حوریہ نے گھبرائے ہوئے لہجے میں اُس سے کہا اُس کو ڈر تھا کہ کہی وہ کوئی اُلٹی سیدھی بات کرکے اُس کو مزید پریشانی میں نہ ڈال دے۔۔۔

“حور رلیکس ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔رایان نے اُس کو خود پر یقین کروانا چاہا۔۔”وہ نہیں تھا جانتا کہ اُس کی باتیں عباس صاحب کو کس قدر غُصے دلا رہی تھی۔۔۔

“انکل آپ یہاں اور یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔؟عفان جو حوریہ کے یونی جارہا تھا راستے میں عباس صاحب اور حوریہ کے ساتھ ایک انجانے لڑکے کو دیکھ کر وہ معاملہ سمجھنے کی کوشش کرنے لگا

“بیٹا وہ

“عباس صاحب کا سر جیسے شرمندگی سے جُھک گیا تھا

“ابا آپ کو اپنا سرجُھکانے کی کوئی ضرورت نہیں ایسا کچھ نہیں جیسا آپ کو لگ رہا۔۔۔”حوریہ کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیسے اپنی پارسائی کا یقین دلوائے

“تم نافرمان چُپ کرجاؤ۔۔عباس صاحب نفرت بھری نگاہوں سے اُس کو دیکھتا گاڑی میں دھکیلنے لگا

“انکل ایسا کچھ نہیں آپ کو غلطفہمی ہوئی ہے۔”حور کی کوئی غلطی نہیں ہے وہ معصوم ہے۔۔۔رایان اُن کی گاڑی میں کے آگے آکر بولا تو عفان نے اُس کا گریبان پکٹا تھا

“اپنی حد میں رہو۔۔۔رایان نے اُس کو گھورا

“اچھا میں حد میں رہوں؟”تم میری منگ کے ساتھ عشق معشوقی بھی کرو اور میں کیا خاموش تماشائی کا رول پلے کروں گا۔۔۔عفان نے کہنے کے ساتھ ہی ایک مُکہ اُس کے چہرے پر مارا تھا۔۔”یہ اِتنا اچانک ہوا تھا کہ اُس کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔

“تیری تو توں نے میرے بھائی کو ہاتھ کیسے لگایا میں تُجھے چھوڑوں گی نہیں۔۔۔رایان اور حور کو نہ آتا دیکھ کر وہ تینوں باہر آئے تو کسی لڑکے سے رایان کو مار کھاتا دیکھ کر جہاں زوہان اور سکندر حیران ہوئے تھے۔۔”وہی عیشا کا میٹر گھوم گیا تھا تبھی آستین چڑھاتی وہ تیز قدموں سے چلتی اُن کی طرف آئی تھی اور پوری قوت لگاکر اُس نے عفان کو مُکہ مار کر رایان کا حساب برابر کیا تھا۔۔”اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ عفان کو جانے کہاں پُہنچا جاتی

“لڑکی ہو اِس لیے لحاظ کرگیا۔۔”اگر لڑکا ہوتی تو ٹھیک ٹھاک جواب دیتا۔۔۔اپنی ناک سے بہتے خون کو دیکھ کر وہ عیشا کو گھور کر بولا

“اُس کو کیا دھمکا رہا ہے یہاں ہم سے بات کر۔۔سکندر نے جواباً اُس کو گھورا تھا

“میں بچوں کے منہ لگنا پسند نہیں کرتا۔۔”باری باری اُن پر نگاہ ڈال کر عفان طنز ہوا

“بچوں کو نہیں مارتے میں تو جیسے عمران خان تھا نہ جس کو فری میں دھو ڈالا۔۔۔اپنی جیب سے سیل فون نکال کر اُس کی کیمرہ آن کرکے اپنے خوبصورت چہرے پر نیل کا نشان دیکھ کر رایان کلس کر اُس کی بات سن کر بولا تو عیشا اور سکندر سخت نگاہوں سے عفان کو دیکھنے لگے جبکہ زوہان کی نظریں گاڑی میں بیٹھی حوریہ پر تھیں جو مسلسل روتی ہوئی عباس صاحب کو کچھ بول رہی تھی۔۔”اور وہ سوائے غُصہ کرنے کے کچھ اور کرنے کو تیار نہ تھے۔۔”سارا معاملہ سمجھ آنے پر زوہان کو عفان سے زیادہ غُصہ رایان پر آیا تھا جس کی جلدبازی نے ایک لڑکی کے لیے مشکلات کھڑی کردی تھی۔۔”حوریہ جس قدر یونی میں محتاط رہا کرتی تھی۔۔۔” ایسے میں زوہان کو اُس کی فیملی بیک گراؤنڈ کا اندازہ بخوبی ہوچکا تھا

“تم لوگوں کی یہ تربیت کی ہے والدین نے؟”کہ پڑھائی کے بہانے یہ نیچ حرکتیں کرتے پِھرو۔۔۔عباس صاحب بھی عفان کے ساتھ کھڑے ہوکر ناگوار لہجے میں بولے تو عفان نے غُصے سے ایک بار پھر رایان کو دیکھنے لگا جو اِشاروں کِناروں میں اُس کو دھمکانے میں مصروف تھا۔۔”لیکن اِشارے کے علاوہ کُچھ اور نہ وہ کرپایا تھا کیونکہ وہ اُٹھارہ سال کا تھا اور اُس کی جسامت ابھی اِتنی مضبوط بھی نہ تھی کہ وہ خود سے چار سے پانچ سال بڑے لڑکے کو ہیرو بن کر مار پاتا وہ جانتا تھا اگر وہ ایک مُکہ مارے گا تو جواب میں عفان دو مارے گا۔۔”کیونکہ عیشا کا لحاظ وہ کرگیا تھا۔۔”اُس کا نہیں کرے گا یہ وہ بخوبی جان گیا تھا۔۔”لیکن اُس کی جگہ”المان ہوتا تو وہ یقیناً عفان کو دھو ڈالتا کیونکہ وہ اپنی عمر سے بڑا لگتا تھا۔۔”ایک تو گاؤں کی وجہ سے اُس کی خوراک اُن سے الگ تھی۔۔”وہ آئلی چیزیں دودہ لسی “وغیرہ یہ سب آسانی سے کھاجاتا تھا۔۔”جو اُس کی طاقت کو بڑھا دیتی تھی دوسرا وہ اپنی فٹنگ کا بھی خیال اُن تینوں سے زیادہ رکھتا تھا پر المان نہیں تو اگر زوہان اور سکندر اُس کا ساتھ دیتے تو زبردست ہوجاتا وہ آسانی سے عفان کو دھو سکتا تھا۔۔۔”پر زوہان کے سرد تاثرات دیکھ کر اُس کو ایسا ہونا ناممکن سا لگا تھا۔۔”وہ بھی تب جب غلطی اُس کی ہو

“ہمارے والدین کی تربیت اور پرورش کو چھوڑے آپ اپنی تربیت یاد کرے اُس کے بعد اپنی بیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھے۔۔۔”زوہان نے جواباً عام لفظوں میں گہری بات اُن کو سمجھادی تھی جس پر ایک پل کو عباس صاحب لاجواب ہوئے تھے

“زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔عفان غُصے سے کہتا اُس کو بھی مارنے والا تھا لیکن زوہان نے اُس کا ہاتھ درمیان میں ہی روک لیا تھا

“ہاتھوں کا استعمال کرنا ہمیں بھی آتا ہے۔۔۔”لیکن ہر چیز کا وقت ہوتا ہے۔۔”اور آپ کو بھی یہی مشورہ دوں گا میں کہ جوش میں آکر ہوش گنوانے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔”اپنی بہن پر آپ کو اعتبار ہونا چاہیے۔۔۔زوہان نے اُس کا ہاتھ چھوڑ کر سنجیدگی سے کہا لیکن اُس کی آخری بات پر عفان کے ماتھے پر بل نمایاں ہوئے تھے

“بہن نہیں منگ ہے میری جس پر تم لوگوں نے بُری نظر ڈالنے کی جُرئت کی ہے۔۔۔عفان ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر بولا تو اُن چاروں کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔۔”حوریہ نے کبھی اُن کو اپنی منگنی شدہ ہونے کا نہیں بتایا تھا۔۔”اور اب جب اُن کو پتا لگا تو یقین کرنا اُن کے لیے ازحد مشکل تھا

“ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟”رایان تقریباً چیخا تھا

“ایسا ہے اور تم زیادہ اچھلو مت۔۔۔”نکاح پر آجانا ہمارے۔۔۔۔عفان اُس کو دیکھ کر طنز بولا”جبکہ رایان گاڑی کی طرف بڑھا تھا

“تم کیوں چاہتے ہو تمہاری وجہ سے میں اپنی بیٹی کا گلا گھونٹ کر اُس کو موت کے گھاٹ اُتاروں؟عباس صاحب اُس کے راستے میں حائل ہوکر بولے تو رایان ششدر سا اُن کا منہ تکتا رہ گیا

“کیسے باپ ہو آپ جس کو اپنی بیٹی پر اعتبار نہیں۔۔”بس اُس کا ہاتھ کسی لڑکے کے ہاتھ میں دیکھ کر خود سے مفروضہ قائم کرلیا۔۔۔”اور پبلک میں تماشا الگ سے لگا رہے۔۔۔۔رایان افسوس سے اُن کو دیکھ کر بولا

“جگو گھر چل توں۔۔”ایسے سفاک لوگوں سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔سکندر اُس کی طرف آکر بولا۔۔”عباس صاحب ایک نظر اُس پر ڈالے گاڑی میں بیٹھ گئے تھے۔۔”عفان بھی ایک اچٹنی نگاہ اُن پر ڈالے اپنی بائیک کے پاس آیا

“کیسے یار گھر چلوں۔۔”وہ جانے کیا سلوک کرینگے اُس بیچاری کے ساتھ۔۔”ہمیں اُنہیں فالو کرنا چاہیے۔۔۔رایان پریشانی سے بولا

“آج آلریڈی بہت تماشا لگ چُکا ہے۔۔”اب گھر چلنے کی کرو۔۔”اگر موم ڈیڈ میں سے کسی کو بھی تمہارے کارنامے کی بھنک بھی پڑگئ تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔عیشا نے طنز لہجے میں کہہ کر بہت کچھ باور کروایا تھا۔۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“آفاق لُغاری تیسری بار الیکشن جیتے تھے۔۔”جس کی وجہ سے اُنہوں نے ایک بہت بڑی پارٹی آرگنائز کی تھی۔۔”جس میں شہر بھر کے نامور شخصیت انوائٹ تھے۔۔۔”اور زوریز دُرانی میں اُس پارٹی میں شامل تھا۔۔”کیونکہ انویٹیشن آریان اور اُس کو بھی ملا تھا۔۔”جس پر وہ تو آیا تھا پر آریان نہیں آیا تھا کیونکہ اُس کو سیاسی لوگوں سے زیادہ میل جول پسند نہ ہوتا تھا۔۔۔”کیونکہ اُن کے پاس کام کے علاوہ کوئی اور گفتگو نہیں ہوتی تھی کرنے کو اور آریان تو سدا کا ایسی باتوں سے کوفت کھاتا تھا۔۔۔

“پرفیکٹ فیملی۔۔۔۔بڑے سے ہال کی سیڑھیوں سے آفاق لُغاری اپنی مسز اور بچوں کے ساتھ آئے تو ایک خُاتون نے کہا تھا جو زوریز نے بخوبی سُنا تھا جبھی اُس کی نظروں کا مرکوز وہ چاروں بن گئے تھے۔۔”جہاں آج آتش اپنے لاپرواہ حُلیے میں نہ تھا۔۔”بلکہ بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس وہ خود کو سوبر ظاہر کرنے کی پوری کوشش کررہا تھا۔۔”لیکن وہ الگ بات تھی کہ اُس کے اندر پڑا کیڑا اُس کو بار بار کاٹ رہا تھا۔۔”اُس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ اپنا کورٹ اُٹھاکر شرٹ کے اُپری تین چار بٹن کھول کر وہ چِل مارتا لیکن ہمیشہ کی طرح ایسی پارٹیوں میں اُن چاروں کو ایک ساتھ رہنا ہوتا تھا ایک آئیڈیل فیملی شو کروانے کے لیے وہ الگ بات ہوتی تھی کہ وہ سِوائے اِن پارٹیز کے علاوہ ایک ساتھ کبھی نہیں ہوتے تھے۔۔”دوسری طرف بلیک پاؤں کو چھوتے سلیولیس گاؤن میں ملبوس ایشال کافی اکتائی ہوئی لگ رہی تھی۔۔”بالوں کو جوڑے میں مقید کیے مناسب میک اپ کے ساتھ وہ ہر دیکھنے والی نظر کا مرکز تھی۔۔”میڈیا والوں نے ایک ساتھ جانے کتنی تصاویر اُن کی کھینچی ہوئی تھی

“میں چھوٹی بچی نہیں میرا بازو چھوڑے۔۔۔۔ایشال نے دھیمی آواز میں مسز لُغازی سے کہا جن کا نام وردہ تھا

“خاموش یہی کھڑی رہو ورنہ اپنے باپ کا پتا ہے تمہیں۔۔وردہ لُغاری نے تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“ایک فیم حاصل کرنے کے لیے آپ لوگوں کے ڈرامے ختم نہیں ہوتے لیکن میں اب اکتاچُکی ہوں۔۔۔ایشال اکتائے لہجے میں کہتی اپنے گاؤن کو سنبھالتی جانے لگی جب اچانک اُس کا پاؤں کسی چیز میں اٹکا تھا لیکن اُس سے پہلے وہ گِرتی زوریز نے نرمی سے اُس کا ہاتھ پکڑ کر گِرنے سے بچایا تھا

“آرام سے بچہ۔۔۔کسی کی نرم آواز سن کر ایشال نے چونک کر اُس کو دیکھا جس کی نظریں اب اپنے سیل فون پر تھیں۔۔۔”زوریز کو دیکھ کر ایشال کا ماتھا کھٹکا تھا۔۔”وہ آس پاس اُٹھتے شور کو اگنور کرتی بغور زوریز کو دیکھنے لگی۔

“ایکسیوز می؟”ایشال نے اُس کو مُخاطب کیا کیونکہ وہ اُس کا جُھکا ہوا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی

“جی؟زوریز اُس کی طرف متوجہ ہوتا سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا تو سامنے کھڑی شخصیت اُس کو دیکھی دیکھی سے لگی

“سوری پر کیا ہم پہلے مل چُکے ہیں۔۔۔ایشال ستائش بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی

“شاید لیکن میں شیور نہیں کیونکہ انسان بہت سے لوگوں سے ملتا ہے۔۔’جن میں کچھ چہرے تو ہمیں یاد رہتے ہیں۔۔”اور کچھ اکثر ہم بھول جایا کرتے ہیں۔۔۔زوریز نے اُس کی بات کا خوبصورت جواب دیا تو ایشال جواباً مسکراتی جانے لگی۔۔”جب اچانک اُس کے دماغ میں کچھ کلک ہوا تھا۔۔”تبھی دوبارہ زوریز کے روبرو آ کھڑی ہوئی

“اگر میں غلط نہیں تو آپ زوریز دُرانی ہیں۔۔”اور آپ کی بیوی کا نام سوہان ملک اُپسس سوری آئے مین اُن کا نام سوہان زوریز دُرانی ہے۔۔”جو بیرسٹر ہیں”اور آپ کا ایک بیٹا بھی ہے نیلی آنکھوں والا زوہان دُرانی۔۔”آپ کا ایک نٹ کھٹ سے بھائی اور بھتیجا بھی ہے۔۔”رایان دُرانی سن آف یوئر برادر آریان دُرانی اور ایک بھتیجی بھی ہے۔۔”عیشا دُرانی جو اپنی ماں میشا دُرانی کی کاپی ہے۔۔” اور آپ سارے اکھٹے رہتے ہو رائٹ؟ایشال غور سے اُس کا چہرہ دیکھتی بولتی گئ تو زوریز کو کوئی اچنبھا نہیں ہوا تھا۔۔”کیونکہ اُن کی زندگی میں لوگوں کو اِتنا پتا تو ہوتا ہے۔۔”پر یہ سامنے کھڑی چھوٹی سی لڑکی اُس کی فیملی میں اِتنا انٹرسٹ کیوں لے رہی تھی؟”یہ بات اُس کو کچھ سمجھ میں نہیں آئی

“جی میرا نام زوریز دُرانی ہے۔۔”لیکن آپ کو کیسے پتا؟زوریز نے ہنوز نرم لہجے میں جواب دے کر پوچھا

“زوہان آپ کا بیٹا میرا کلاس فیلو ہے۔۔۔”اور میں اُس سے مل چُکی ہوں تبھی آپ سے ایسی وائبس آئیں بائے دا وے وہ آپ کی ڈیٹو کاپی ہے۔۔”لیکن نیچر وائیز مجھے آپ زیادہ اچھے لگے۔۔۔”وہ کافی سڑا ہوا رہتا ہے ہر وقت۔۔۔ایشال نے اب بے تکلف انداز میں اُس سے بات چیت کرنا شروع کردی تھی

“وہ نیچر وائیز اپنی والدہ پر گیا ہے۔ “وہ بھی ایسے سنجیدہ رہتی ہے۔۔”کام کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کرتی۔۔۔زوریز نے مسکراکر جواب دیا

“تو وہ آپ کو بورنگ سی نہیں لگتی؟”سوری ٹو سے لیکن بوائز کو زیادہ تر چہکتی ہوئی گرلز اٹریکٹ کرتیں ہیں نہ۔۔؟ایشال نے اِس بار تھوڑا ہچکچاہٹ سے پوچھا

“نظر کو جو بھاجاتی ہے دل کو بس وہ اٹریکٹ کرتی ہے۔۔”اور جو چیز دل کو پسند آجائے اُس سے پھر کوئی بور نہیں ہوتا۔۔۔زوریز نے کہا تو ایشال لاجواب ہوئی

“نیلی آنکھوں والا لکی ہے جس کے والدین آپ کے جیسے ہیں۔۔۔ایشال نے سرجھٹک کر کہا تو وہ گہرا مسکرایا

“آپ لکی نہیں؟”کیونکہ آپ بھی تو اپنے بھائی کے ساتھ پکس بنوا رہی تھیں۔۔۔زوریز نے کہا تو ایشال کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔۔”اب وہ اُس کو کیا بتاتی کہ جس کے ساتھ مل کر وہ کچھ وقت پہلے تصویریں بنوارہی تھی۔۔”اکیلے میں وہ دونوں ایک دوسرے کے بال نوچا کرتے ہیں۔۔”بلکہ گھر سے باہر وہ ایک پرفیکٹ سسٹر اینڈ برادرز ہیں۔۔

“آپ کے والد بھی نامور شخصیت کے مالک ہیں۔۔۔زوریز نے مزید کہا

“ہاں لیکن مجھے یہ چیزیں اٹریکٹ نہیں کرتیں۔۔”مینز میں اپنی لائیف میں کچھ اور چاہتی ہوں۔۔”اور آنسٹلی اسپیکنگ کہ میں اِس لگژری لائیف سے کافی فیڈ اپ ہوں۔۔۔”یہ چیزیں مجھے خوشی نہیں دیتی کیونکہ جو میں چاہتی ہوں وہ سب میں پیسے زیور سے حاصل نہیں کرسکتی تو پھر اِس شاندار گھر اور مالدار ہونے کا کیا فائدہ؟”ایشال نے کہا تو اُس کی باتیں زوریز کو کافی عجیب لگی۔۔”وہ محسوس کرسکتا تھا اُس کے الفاظوں میں چُھپی محرومی کو۔۔”لیکن جان نہ پایا کہ سامنے کھڑی لڑکی کے پاس آخر ایسی کیا چیز نہیں؟”جو ایسے خوشحال گھرانے میں رہ کر مطمئن نہیں تھی۔۔”وہ گھر جس کی چاہ ہر انسان کو ہوتی ہے۔۔۔

“میں سمجھا نہیں؟’مطلب آپ خوش کیوں نہیں۔۔؟زوریز نے پوچھا

“آپ کو پہلے اپنا انٹرڈیوشن دیتی ہوں۔۔”میرا نام ایشال لُغاری ہے اور ہر کوئی مجھے”ایش کہہ کر مُخاطب ہوتا ہے۔۔”غلط الفاظوں میں آئے دن میرا یہ چہرہ اخبارات کی زینت بنتا ہے۔۔”ہاں کبھی کبھار اچھے الفاظوں میں بھی آجاتی ہوں۔۔۔”اور لوگ آئے مین میری ایج کی لڑکیاں مجھے رشک بھری نگاہ سے دیکھتی ہیں۔۔”ہلانکہ مجھ میں ایسا کچھ بھی نہیں۔۔۔ایشال نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اُس سے کہا”اُس کو نہیں تھا پتا وہ کیوں آخر اپنے دل کا حال زوریز سے کر رہی تھی۔۔”جس سے وہ آج شاید پہلی مرتبہ مل رہی تھی۔۔”شاید عام لوگوں کی طرح اُس کے اندر بھی یہ خواہش بیدار ہوئی تھی کہ کوئی اجنبی سا شخص اُس کو ملے جس سے وہ اپنے سارے دل کا حال بیان کرے۔۔”کیونکہ اجنبی شخص اُس کو راستے میں پھر تو نہیں ملے گا نہ اور نہ کوئی ڈر ہوگا اُس کو

“آپ تو پیاری سی بچی ہو پھر ایسی باتوں کا مقصد؟”زوریز اُس کی باتوں سے اُلجھن کا شکار ہوگیا تھا

“وہ دیکھ رہے ہیں۔۔۔ایشال نے وائن کی پوری بوتل پکڑے آتش کی طرف اِشارہ کیا جو مسکرا مسکرا کر ایک لڑکی سے بات کرنے میں محو تھا

“آپ کا بھائی آتش لُغاری۔۔؟زوریز ایک نظر آتش پر ڈالتا دوبارہ اُس کی طرف متوجہ ہوا

“ہاں وہ میرا بھائی ہے۔۔”لیکن بچپن سے اُس نے میری ہر وہ چیز چھینی ہے جس سے میں کلوز ہوتی تھی۔۔”میں اُس سے نفرت کرتی ہوں۔۔۔”کیونکہ آتش لُغاری کے آگے موم ڈیڈ کو کبھی میں نظر نہیں آئی۔۔”آج جس پر پیار لُٹایا جارہا تھا نہ اِن لوگوں کے سامنے اُس کا وجود سالوں سے اگنور ہوتا آرہا ہے۔۔”میرے دل کو سکون نہیں ہے۔۔”اور یہی وجہ ہے کہ میں اپنی لائیف سے خوش نہیں۔۔۔۔ایشال کی آنکھوں میں پانی جمع ہوگیا تھا۔۔”تبھی اِتنا کہتی وہ چلی گئ تھی۔۔”اُس کے جانے کے بعد زوریز نے غور سے آتش کو دیکھا جو اپنی دُنیا میں مگن تھا۔۔”اگل بگل میں لڑکیوں کو کھڑا کیے وہ جانے اُن سے کیا باتیں کررہا تھا۔۔”اگر وہ بس اُس کی شکل دیکھتا تو “ماشااللہ کہتا۔۔”لیکن اِس وقت وہ جس پوزیشن میں تھا۔۔”ایسے میں وہ بس یہی بول سکتا تھا۔۔

اَسْتَغْفِرُاللّٰه

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“اپنے کمرے میں جاؤ۔۔”اور خبردار جو کمرے سے باہر ایک قدم بھی رکھا تو ٹانگیں توڑ کر ایک جگہ بند کردوں گا۔۔۔گھر پُہنچ کر حوریہ اپنے باپ کے قہر کا نشانہ بنی تھی۔۔”اُس کا روتا بلکتا وجود دیکھ کر رافیہ بیگم کو ہول اُٹھ رہے تھے۔۔”خوریہ بھی معاملہ سمجھنے کی کوشش کرنے میں لگی ہوئی تھی

“ہو کیا ہے جو آپ نے پورا گھر سر پر اُٹھالیا ہے؟”رافیہ بیگم اپنے ساتھ روتی ہوئی حوریہ کو لگاتی پریشانی سے بولی

“اِس کا باہر آنا جانا بند کر۔۔”کل اِس کا عفان کے ساتھ نکاح ہے اور دو جوڑوں میں اِس کو میں رُخصت کرنے لگا ہوں۔۔۔عباس صاحب نے اپنا فیصلہ سُنایا تو ہچکیاں کھاتا حوریہ کا وجود تھما تھا

“ابا اچانک آپ کو کیا ہوگیا ہے؟”حور بھی چھوٹی ہے۔۔”آپ اُس پر شادی جیسی بڑی زمیداری کیسے ڈال سکتے ہیں۔۔”وہ بھی اُس عفان کے ساتھ رخصت کرنے کا سوچ رہے؟”جس کے اندر احساس نامی کوئی چیز موجود نہیں۔۔۔خوریہ ہمیشہ کی طرح حوریہ کی ڈھال بن کر کھڑی ہوئی تھی۔۔”چاہے اُس کو اپنے باپ سے بات کرتے ہوئے ڈر لگتا تھا لیکن اِس وقت “بہن کا پیار ڈر پر حاوی تھا

“تم چاہتی ہو تمہارا عرفان کے ساتھ ابھی نکاح نہ ہو تو خاموش رہو۔۔۔عباس صاحب نے وارننگ بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“ابا پوری بات بتائے پہلے آپ۔۔”اُس کے بعد جو ظلم کرنا ہے ہم پر وہ کیجئے گا۔۔”کیونکہ اِتنا تو ہمیں پتا ہے جن لڑکیوں کا باپ عباس عباسی ہوتا ہے اُن لڑکیوں کی زندگیوں میں کوئی شہزادہ آنے سے تو رہا۔۔”اُن کی زندگی میں عفان اور عرفان جیسے لوگ ہی آتے ہیں۔۔”بھلا جس لڑکی باپ عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتا ہو اُس شخص کی بیٹی کو کوئی اپنے سر کا تاج کیسے بنا سکتا ہے۔۔”آپ نے اماں کو کبھی عزت نہ دی۔۔”دوسروں کی بیٹی سے ناانصافی کی ہے تو آپ کی بیٹی کے ساتھ انصاف کیسے ہوسکتا ہے۔۔”جوش میں آتی خوریہ کیا کچھ بول چُکی تھی اُس کو اندازہ نہ تھا۔۔”پر اُس کو اپنے باپ کا بلاوجہ کا “ظلم “شک اب جیسے مزید برداشت نہیں ہوتا تھا۔۔

“گُستاخ

چٹاخ

چٹاخ

“خوریہ کی ایسی زبان درازی پر عباس صاحب نے در پہ در اُس کے چہرے پر تھپڑوں کی بوچھاڑ کردی تھی۔۔”خوریہ کو اُن کے قہر سے بچانے کی خاطر رافیہ بیگم مزید خوف میں سمیٹ کر کھڑی ہوتی حوریہ کو چھوڑتی عباس صاحب کے پاس جاکر خوریہ کو اُن سے دور کرنے لگی۔۔”لیکن عباس صاحب نے ایک دھکا اُن کو پیچھے کی طرف دیا تھا جس سے اُن کا سر میز پر زور سے لگا تھا۔

“اماں۔۔۔

“حوریہ چیختی رافیہ بیگم کے پاس آئی تھی

“انکل کیا ہوگیا ہے۔۔”سنبھالے خود کو اِن کا کیا قصور ہے۔۔”جو مارے جارہے ہیں۔۔۔عفان ابھی اندر آیا تو سامنے والا منظر دیکھ کر جلدی سے خوریہ کو اپنے پیچھے کیا تھا جس کا پورا منہ سوجھن کا شکار ہوگیا تھا۔۔”کیونکہ غُصے میں آکر عباس صاحب نے بہت زور سے تھپڑ مارے تھے اُس کو اگر بروقت عفان نہ آتا تو کوئی بعید نہیں تھا کہ وہ آج اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی۔۔۔”رافیہ بیگم کے ماتھے سے رستے خون کو دیکھتی اُن سے نظریں ہٹائے حوریہ اپنے باپ کو دیکھنے لگی۔۔”اُس کو یقین نہیں آیا کہ کوئی شخص اِتنا ظالم بھی ہوسکتا ہے۔۔

“باپ کے آگے زبان چلاتی ہے میں اِس کی زبان کھینچ لوں گا۔۔۔عباس صاحب کا بلیٹ پریشر فل ہائے ہوگیا تھا

“آپ پرسکون ہوجائے پہلے۔۔اور آپ اپنے کمرے میں جائے۔۔۔عباس صاحب کو گہرے سانس بھرتا ہوا دیکھ کر کہتا وہ آخر میں سنجیدگی سے خوریہ کو دیکھ کر بولا جس میں ہلنے جُلنے کی سکت نہ بچی تھی۔۔”اُس کا باپ نفرت کا اِظہار تو ہر وقت کرتا تھا۔۔”لیکن ہاتھ پہلی بار اُٹھایا تھا اور وہ بھی پوری قوت سے جس پر خوریہ کا پورا دماغ مفلوج ہوچکا تھا۔۔”اُس کو یقین نہیں آرہا تھا اُس کے چند الفاظ نے عباس صاحب کو اِس قدر غُصہ دلاگئے تھے۔۔”اُن کی انا کو ٹھینس پُہنچی تھی کہ ایک بیٹی نے اُن سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حقیقت کا آئینہ دِکھایا تھا۔۔۔”یہ کہاں کا انصاف تھا؟”مرد خود جو چاہے کرے”لیکن ایک عورت اپنے حق کے لیے آواز بھی نہ اُٹھائے

“خوریہ

اُس کو ایک جگہ اسٹل کھڑا دیکھ کر عفان نے اُس کا کندھا ہلایا تو وہ لہراکر اُس کے بازو میں جھول گئ تھی۔۔”پہلے اُس کا کِھلا ہوا چہرہ یاد کرکے اور اب اُس کو ہوش وحواسوں سے بیگانہ ایسے حال میں دیکھ کر عفان نے لمبا سانس اپنے اندر کھینچ کر “عباس صاحب کو دیکھا جو اب شاید اپنے بلیٹ پریشر کی دوا کھارہے تھے۔”ایک نظر اُن پر ڈالتا عفان خوریہ کو بانہوں میں اُٹھائے باہر کی طرف بڑھا تھا۔۔”حوریہ بھی سہارے سے رافیہ بیگم کو کھڑا کرتی اندر لیجانے لگی تھی۔۔”جبکہ ایک پندرہ سالہ ساحر تھا جو یہ سارا منظر پلر کے پیچھے چُھپ کر بڑی خاموشی دیکھ رہا تھا۔۔”آج جو کچھ عباس صاحب نے کیا وہ سب اُس کے دماغ میں چھپ سا گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *