Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 13)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 13)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
تمہارا پہلا دن کیسا گُزرا یونی میں؟حوریہ گھر واپس آئی تو خوریہ اُس کو پانی کا گلاس پکڑاتی ہوئی پوچھنے لگی
“ٹھیک تھا بس۔ ۔حوریہ پانی کا گلاس خالی کرتی مختصر بتانے لگی
“کیوں کیا ہوا ہے؟ “منہ کیوں بنا ہوا ہے تمہارا؟خوریہ نے اُچنبھے سے اُس کو دیکھا کیونکہ صبح یونی جانے وقت وہ کافی پرجوش تھی”لیکن اِس وقت اُس کے چہرے پر خوشی کی ہلکی رمق تک نہ تھی۔
“اماں کدھر ہے۔۔۔؟حوریہ نے اُس کا سوال اگنور کیا
“پڑوس میں گئ ہے توں وہ بتا جو پوچھا ہے۔۔”خوریہ نے اُس کو ٹٹولا
“میں یونی گئ ایسا لگا جیسے وہاں کوئی فقیرنی داخل ہوئی ہے۔ ۔حوریہ نے اپنا سر ہاتھوں میں گِرائے بتایا
“واٹ؟ خوریہ نے اُس کو گھورا
“کیا واٹ سہی تو بول رہی ہوں” لڑکیوں کی ڈریسنگ چیک کرنی چاہی تھی تمہیں” ایسا لگ رہا تھا جیسے یونی میں نہیں فیشن شو میں آئی ہو کیا نیو ڈریسس تھے” میچنگ جوتے میچنگ ایئررنگز”میچنگ یونی بیگ بھی تھا اور تمہیں نہیں پتا اُن کے پاس کیا کچھ تھا اور میری کلاس میں کزنز کا جو باؤنڈ تھا اُن کا سواگ دیکھنا چاہیے تھا”میں تمہیں کس کس کے بارے میں بتاؤں سمجھ نہیں آرہا”اور مجھے دیکھو تم زرا ٹوٹی ہوئی چپل کو پچاس بار تو جڑوایا ہوگا۔”اور یہ ڈریس دیکھو سال پہلے عید پر ابا نے خرید کردیا ہے اور جہاں لڑکیاں یونی کے فرسٹ ڈے میں اِتنا پرجوش ہوکر تیار شیار ہوکر کانفڈنٹلی جاتی ہیں وہاں میں اِس حُلیے میں گئ ہوں۔”پتا نہیں یونی کے انتظامیہ کو کیا مسئلہ ہے جہاں اسکول کالجوں میں اسٹوڈنٹس یونیفارم کے بغیر نہیں جاتے “امیر ہو یا غریب سب کو ایک جیسے گیٹ اپ میں جانا ہوتا ہے جہاں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سب شاگردز ایک اہمیت کے حامل ہیں۔۔”اُن میں کون کیا ہے؟”کسی کو پتا نہیں ہوتا کسی کو کسی چیز میں احساس کمتری کا شکار ہونا نہیں پڑتا کیونکہ وہاں ہر کوئی اپنا یونیفارم چمکاتا ہے۔”وہاں اگر کوئی چھوٹا بڑا ہوتا بھی ہے تو وہ ہوتا ہے جس کی قابلیت زیادہ ہو۔۔اور ایسا ماحول کیا کسی یونیورسٹی میں نہیں ہوسکتا؟”کیا کوئی یونی کا یونیفارم نہیں ہوسکتا؟”جہاں ہم جیسی لڑکیاں بھی خود کو ایزی محسوس کرپائے کیونکہ وہاں تو امیر گھروں کی لڑکیاں واک بھی ایسے کرتیں ہیں جیسے ماڈلنگ کے شو میں ریمپ پر چل رہی ہوں”تم بتاؤ پھر ہم جیسے میڈکل کلاس کے لوگ کہاں جائے؟”جہاں اُن کی قابلیت سے زیادہ اُس کے ظاہری حُلیے سے جج کیا جاتا ہے۔۔”ہم یونی پڑھنے اعتماد حاصل کرنے جاتے ہیں یا جو اپنا بنا بنایا اعتماد ہے اُس کو کھونے؟حوریہ بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئ اُس کے پاس سوالوں کا ایک انبار تھا لیکن جواب ایک بھی نہ تھا۔” اور اُس درمیان اُس نے کھینچ کر اپنی چادر کو دور پھینکا تھا جو گھر میں داخل ہوتی رفیہ بیگم کے پاؤں کے پاس گِری تھی
“حور کیا ہوگیا ہے؟”کیوں ایسی مایوس کُن اور”ناشکری والی باتیں کرنے لگی ہو؟خوریہ کو حیرت ہوئی اُس کا ایسا ردعمل دیکھ کر خاص طور پر جو وہ سوالات لیکر آئی تھی۔”جن کو سُن کر تو اُس کا دماغ چکرا سا گیا تھا۔
“تو میں اور کیا کروں؟حوریہ نے اُلٹا اُس سے سوال کیا
“اپنی ظاہری شخصیت کو سنوارو”خود کو ایسا بناؤ کہ لوگ تمہارے جیسی بننے کی چاہ کرے ناکہ خود تم دوسروں کی طرح زندگی جینے کی چاہ کرو”خود کو ایسا مضبوط بناؤ کہ کسی دوسرے کی کوئی بھی بات تمہیں پریشان نہ کرپائے اور نہ احساس کمتری جیسا مرض تمہیں لاحق ہو”ایسا خود کو بناؤ کہ لوگ تم پر رشک کرے۔۔”مہنگے ترین کپڑوں سے کچھ نہیں ہوتا جن کو تم نے ایسے حُلیے میں دیکھا وہ اُن والدین کی اولادیں تھیں جو اگر فیل بھی ہوتے تو اُن کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔”اُن کے لیے پیسا سب کچھ ہوتا ہے ڈگریاں آج کل پیسوں سے بھی مل جاتیں ہیں”جعلی ڈگریاں”لفظ تو تم نے سُنا ہوگا۔۔”جن کو مہنگے کپڑوں میں دیکھ کر خود کا ہوش گنوادیا ہے اُن اسٹوڈنٹس نے وہ کپڑے وہ میچنگ چیزیں اپنے پیسوں سے نہیں لیئی اپنے باپ کے پیسے کا عیش ہے اور کچھ نہیں۔۔”انسان کے پاس اُس کی قابلیت اُس کا دماغ اپنا ذاتی ہوتا ہے جس کو استعمال کرکے وہ پوری دُنیا کو فتح کرسکتا ہے”انسان کی عقل وہ کام کرسکتی ہے جو پیسا نہیں کرسکتا۔۔”پیسوں سے چاہے سب کچھ مل جائے لیکن کچھ چیزیں پیسوں سے بھی حاصل نہیں ہوتیں جیسے اِنسان کی قابلیت”اِنسان کا اخلاق “انسان کا ہنر کوئی اُس سے خرید نہیں سکتا چاہے پھر وہ اپنی پوری دولت کیوں نہ اُس کے نام کردے۔۔جواب خوریہ کے بجائے رافیہ بیگم نے اُس کو دیا تھا جس پر دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا جہاں وہ اُس کی چادر فرش سے اُٹھائے ہاتھوں میں پکڑے ہوئی تھی۔
“میں خود ایسا بننا چاہتی ہوں پر کیا کروں مجھے لوگوں کی نظروں میں اپنے لیے تمسخراپن نظر آتا ہے۔۔حوریہ تھکے ہوئے انداز میں بولی
“تم حوریہ عباسی ہو اور یہ بات بس اپنے دماغ میں بیٹھالو نہ کوئی تمہارے جیسا بن سکتا ہے اور نہ تم کسی اور جیسی بن سکتی ہو۔۔”اگر کامیاب ہونا چاہتی ہو تو پہلے دوسروں کے بارے میں سوچنا چھوڑ دو بس اپنے بارے میں سوچو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچو اگر بس لوگوں کو مہنگے ترین لباس میں دیکھ کر خود کو کمتر سمجھنے لگو گی تو کبھی آگے بڑھ نہیں پاؤ گی۔۔رفیہ بیگم نے نرم لہجے میں اُس کو سمجھایا
“اور اگر تمہیں اپنے کپڑوں سے مسئلہ ہے تو تم عبایا پہن کر جاؤ”کیونکہ تمہارے پوائنٹ آف ویوو سے یونیورسٹیز میں یونیفارم نہیں آجانے تم فیوچر کی رائٹر ہو وزیرِ اعظم نہیں باقی شکل تمہاری کسی شہزادی سے کم نہیں۔”دوسرا کچھ یونیورسٹیز میں یونیفارم سسٹم ہوتا ہے لیکن یہ چیزیں میٹر نہیں کرتی”تمہیں خود میں اعتماد بحال کرنا ہوگا۔خوریہ بھی اُس کے ماتھے پر چپت لگائے بولی
‘چادر میری بڑی ہے کسی عبائے سے کم نہیں۔۔اپنے ہاتھوں کو گھورتی حوریہ نے محض اِتنا کہا
“حور میری بچی کیوں اُداس ہوتی ہو اللہ نے تمہیں سب کچھ تو دیا ہے”تم کیوں خود سے اُونچے لوگوں کو دیکھتی ہو اگر اپنے سے نیچے لوگوں کو دیکھوں گی تو تمہیں پتا چلے اللہ نے جس حال میں تمہیں رکھا ہے”وہ بہت بہترین حال میں رکھا ہے”اللہ نے تمہیں خوبصورت آنکھوں سے نوازا ہے”جس سے تم دُنیا کو دیکھ سکتی ہو”اللہ نے تمہارے نین نقش کو پیارا بنایا ہے تمہیں پیاری رنگت سے نوازا ہے”تمہارے ہاتھ پاؤ سہی سلامت ہے تمہارا آئے کیو لیول اچھا ہے”سینس آف ہومر اچھا ہے سب سے بڑی بات تم ایک تندرست زندگی جی رہی ہو””اگر پروردگار چاہتا تو تمہیں موٹی بدصورت لڑکی بنا سکتا تھا تمہیں ہاتھ پاؤ سے معذور بناسکتا تھا لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا اگر کرتا تو سِوائے رونے کے میں یا تم کیا کرتے؟”اللہ کے فیصلوں میں کیوں کی گُنجائش نہیں نکلتی بس اللہ سے یہ کہا کرو اللہ جن کو آپ نے سب کچھ دیا ہے اُس کے صدقے ہمیں بھی وہ نوازے”لیکن کبھی بلاوجہ کے شکوے کبھی اپنے رب سے نہ کرنا”اور نہ یہ کہا کرو کہ مجھے ایسا کیوں بنایا ؟”میرے پاس وہ کیوں نہیں ہے؟”یہ سب سہی نہیں ہوتا اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی بہتری چُھپی ہوتی ہے اور تم بس اپنے رب کا شکر ادا کیا کرو کہ تمہیں والدین دیئے ہیں”تمہارے سر پر اُن کا ہاتھ ہے”بہنیں ہیں بھائی ہے”تمہیں علم کی روشنی سے نواز رہا ہے اور کیا چاہیے تمہیں؟”کیا یہ سب ایک خوشحال زندگی کے لیے کافی نہیں؟”کیا تمہیں اور بھی چیزوں کی چاہ ہے؟”جس کی چاہ میں انسان اپنے رب کو بھول جاتا ہے۔”ہر ایک کی اپنی زندگی ہوتی ہے تمہیں بھی اپنی زندگی سے مطمئن ہونا چاہیے”جو دیا ہے اُس پر شکر کرو اور جو نہیں ہے اُس پر صبر کرو۔۔رفیہ بیگم نے کہا تو اُن کی اِس بات نے حوریہ کو شرمندہ سا کردیا تھا۔
“جن چیزوں کی وجہ سے تم آج مایوس ہوئی ہو نہ حور”یہ وہ چیز ہیں جن سے کچھ لڑکیاں سہی غلط کا فرق فراموش کر بیٹھتی ہیں اور اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے اُجاڑ بیٹھتی ہیں دور کے ڈھول سُہانے ہوتے ہیں”تم بس خود سے مطمئن ہوجاؤ پھر کوئی دنیاوی چیز تمہیں ایمپریس نہیں کرپائے گی جو ضروری نہیں ہوتی بس دماغ کا فتور ہوتا ہے۔۔خوریہ کی بات نے جیسے آخری کیل ٹھوکنے کا کام کیا
“میں اللہ سے سوری کروں گی بس پہلا دن تھا تو ہر چیز کو دماغ پر سوار کردیا۔۔حوریہ اُن کو دیکھ کر بولی
“کوئی بات نہیں تم ہاتھ منہ دھو آؤ میں تب تک دسترخوان لگاتی ہوں اور تمہارے ابا آئے تو اُن سے کچھ پیسوں کا کہوں گی تاکہ تمہارے لیے نئے کپڑے بھی بنوا سکوں۔۔رفیہ بیگم اُس کا ماتھا چوم کر بولی تو حوریہ مسکرا بھی نہ پائی تھی۔








بلیک کُھلی جینز پر اُس نے وائٹ شرٹ اور اُس کے اُپر بلیک جیکٹ پہنی ہوئی تھی جو آگے کو کُھلی ہوئی تھی اور اُس کے سلیولیس اُس نے کہنیوں تک فولڈ کی ہوئیں تھیں”ایک ہاتھ کی کلائی میں خوبصورت گھڑی پہنی تھی تو دوسرے ہاتھ کی کلائی میں خوبصورت سا بریسلیٹ ڈالا ہوا تھا”نازک خوبصورت انگلی میں ایک چھلا اُس نے پہنا ہوا تھا جبکہ بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا جس کی چند آوارہ لٹیں دونوں طرف گالوں پر گُستاخی کرنے میں مصروف تھیں اُس کی رنگت بہت گوری تھی جس وجہ سے گرندن کی ہری نسیں صاف نمایاں ہوئیں تھیں اور اِس وقت اُس کے ماتھے پر چند بلوں کا اضافہ ہوا تھا جبکہ گول مٹول سبز آنکھوں میں بیزارگی بھرا تاثر نمایاں ہوا تھا اور اِن تاثرات کے ساتھ وہ ہاتھ میں واٹر بوتل پکڑے اپنے گھر میں داخل ہوئی تھی”کندھے پر بیگ لٹکا ہوا تھا جس کو اُس نے لاپرواہ انداز میں صوفے پر اُچھالا اور خود دوسرے کاؤنچ پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے آرام سے بیٹھی اپنا سیل فون استعمال کرنے لگی
“ایشال میڈم جوس۔۔اُس کو ابھی بیٹھے ایک منٹ ہی ہوا تھا جب ملازمہ نے جوس اُس کی طرف بڑھایا تو اُس نے اپنی سبز آنکھیں اُٹھائے ملازمہ کو دیکھا جو اُس کے ایسے دیکھنے پر خوامخواہ گڑبڑا سی گئ تھی
“میری غیرموجودگی میں کوئی گھر میں آیا تھا؟جوس کا گلاس اُس کو ٹیبل پر رکھنے کا اِشارہ دیتی وہ سنجیدگی سے استفسار ہوئی
“جی پولیس لوگ آئے تھے۔۔ملازمہ نے بتایا تو وہ الرٹ ہوئی
“آتش لُغاری کو پکڑنے؟اپنے ہونٹوں پر طنز مسکراہٹ سجائے اُس نے پوچھا
“جی۔۔اُس نے تابعداری سے اپنا سراثبات میں ہلایا
“تو یعنی وہ آج رات جیل کی سلاخوں میں گُزارے گا؟اُس کے خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ گہری سے گہری ہوتی گئ تھی
“نہیں جی وہ آتش بابا نے تو اپنی باتوں سے سہی پولیس آفیسرنی کا دماغ گُھمایا تھا وہ تو جی اُن سے ایسے گپ شپ لگارہے تھے جیسے وہ کوئی اُن کی خاص مہمان ہو۔۔ملازمہ نے بتایا تو کچھ قبل غائب ہوئے بل پھر سے نمودار ہوئے تھے اور اُس نے سخت نگاہوں سے ملازمہ کو دیکھا جس نے اپنی نظریں نیچے گاڑھ لی تھیں۔۔
“کہاں ہے اب وہ؟اِس بار لہجے میں بیزارگی صاف نمایاں تھی
“پول سائیڈ پر ڈبکیاں لگارہے ہیں اور گانا گاء رہے ہیں کہ ٹھنڈے ٹھنڈے پانی سے روز نہانا چاہیے”دماغ فریش اور جسم پرسکون ہوتا ہے۔۔ملازمہ نے ضرورت سے زیادہ اُس کو جواب میں بتایا تو وہ اپنی سبز آنکھوں میں غُصہ سموتی جھٹکے سے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی”اُس کا رُخ اب گھر کی پچھلی سائیڈ پر بنا پول سائیڈ کی جانب تھا
“آجاؤ اِن دا بیج یاراں
“پھوٹو میری کھینچ
“پھوٹی قسمت ہوگی تیری جے تو میری بات نہ مانی
“آج بلیو ہے پانی پانی پانی
“اور دن بھی ثانی ثانی ثانی
“وہ جب پول سائیڈ کی طرف آئی تو کانوں کے پردے پھاڑنے والی آواز نے اُس کا استقبال کیا تھا جس پر تپ کر اُس نے آتش کا پڑا فون اُٹھایا اور اُس چلتے گانے کو اسٹاپ دیا
“ہیلو لِٹل سسٹر ہاؤ آر یو؟گانا بند ہونے کی آواز پر آتش نے اپنا سر اُٹھایا تھا اور اپنے گیلے بالوں کو ایک جھٹکا دے کر اُس نے ایشال کو مُخاطب کیا جو کافی ناگوار نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی
“سینڈی کو تم نے مارا تھا؟وہ تھوڑا پول کے قریب کھڑی ہوتی سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں سوال گو ہوئی
“ہاں کافی چِک چِک کررہا تھا اور تمہیں تو پتا ہے مجھے لوگوں کا اِتنا بولنا زیادہ پسند نہیں ہوتا۔۔آتش کندھے اُچکاکر آرام سے بولا تھا اور تیرتا ہوا اُس کے پاس آیا اور وہاں سے اپنا فریش جوس اُٹھایا”ایشال کا کیا بھروسہ تھا کہ اُس کا جواب سن کر وہ جوس سوئم پول میں گِرا دیتی
“تمہیں ذرا شرمندگی نہیں نہ؟ایشال نے افسوس سے اُس کو دیکھ کر پوچھا
“شرمندگی وہ کیا ہوتی ہے؟آتش کافی حیران نظروں سے اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگا جیسے زندگی میں”شرمندگی”لفظ اُس نے آج سے پہلے کبھی نہ سُنا ہو
“کیوں مارا اُس کو؟”اور مجھے آج بتادو میرے فرینڈز کو مار کر تمہیں کیا سکون ملتا ہے؟ایشال بازو سینے پر باندھتی اُس سے پوچھنے لگی تب تک آتش جوس کا گلاس خالی کرچُکا تھا
“وہ ٹاول اُٹھاکر دینا۔۔آتش نے اُس کے برعکس کافی پرسکون لہجے میں سامنے کی طرف اِشارہ کرکے اُس سے کہا
“تمہارے باپ کی نوکر نہیں ہوں خود آؤ اور اُٹھا کر لے جاؤ۔۔آتش کے ایسے حاکمانہ انداز نے اُس کو سرتا پیر تپادیا تھا
مانا کہ باپ کی نوکر نہیں لیکن باپ کی بیٹی تو ہو نہ جاؤ شاباش اپنے بڑے بھائی کی بات کو مانو۔۔آتش نے اُس کو پچکارا
“آتش میرا دماغ خراب کرنے کی تمہیں ضرورت نہیں ہے جو میں نے سوال کیا ہے”اُس کا بس مجھے جواب دو اُس کے بعد میں یہاں سے چلی جاؤں گی تمہاری یہ منحوس شکل دیکھنے کا مجھے کوئی شوق نہیں ہے۔۔ایشال نے تپی ہوئی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
کول تمہیں میری شکل منحوس لگتی ہے جس کے پیچھے ایک دُنیا ہے”خیر تم تو میرے حُسن سے بچپن سے جلتی آئی ہو یہ میرے لیے کوئی بڑی بات نہیں”اور اب تمہیں تمہارے جواب مل جائے گا”میں پول سے باہر نکلوں پھر تفصیل سے تمہیں بتاتا ہوں پر ابھی میں شرٹ لیس ہوں اور اپنی لِٹل سسٹر کے سامنے یوں کھڑا ہونے مجھے شرم دلا رہا ہے تو پیاری بہنا جاؤ اور ٹاول مجھے پکڑاؤ۔۔آتش نے بنا سانس لیے کہا تو ایشال بس خاموش سی اُس کو دیکھنے لگی جو پول کی گہرائی میں اُترا ہوا تھا سِوائے اُس کے سر کے وہ پورا پانی کے اندر تھا”پر وہ جانتی تھی جب تک وہ اُس کی بات مان نہیں لیتی وہ اُس کو اُس کا جواب نہیں دے گا تبھی ناچار ٹاول اُٹھائے اُس کی طرف پھینکا جو آتش نے بڑی مہارت سے کیچ کرلیا تھا۔
“اب اپنا نازک مخملی سا ہاتھ دو تاکہ میں باہر آجاؤں۔۔بالوں کو تولیہ سے رگڑ کر وہ ایشال کے قریب پُہنچ کر اپنا ہاتھ اُس کی طرف بڑھا کر بولا
“ایشال لُغاری کی فطرت میں دُشمنوں سے ہاتھ ملانا نہیں”اِس لیے خود ہی باہر آجاؤ۔۔ایشال نے اُس کے ہاتھ کو اگنور کیا تو اپنا ہاتھ سر کی طرف لیجاتا آتش نے اچانک سے اُس کی ٹانگ کو ایک جھٹکا دے کر پول میں گِرایا تھا اور خود وہ پول سے باہر نکل کر ایشال کو دیکھ کر اُس نے جاندار قہقہقہ لگایا تھا جس کے جوڑے میں مقید بال کُھل کر اُس کے چہرے پر آ گِرے تھے جبکہ چہرہ غُصے کی شدت سے سرخ ہوگیا تھا”آتش نے پل بھر میں اُس کا اچھا خاصا حُلیہ بگاڑ لیا تھا
“ہر وقت غُصے میں رہا کرتی ہو پانی ٹھنڈا ہے پانچ منٹ یہاں گُزار کر دماغ کو ٹھنڈا کرو پھر بات ہوگی”بائے۔۔۔آتش اُس کو جلانے والی مسکراہٹ سے دیکھ کر کہتا وہاں سے چلاگیا تھا پیچھے ایشال نے اپنا ہاتھ زور سے پانی میں مارا تھا۔۔
“تم نے جو یہ آج حرکت کی ہے نہ اُس کا حساب تو میں تم سے اچھے سے لوں گی۔۔۔چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتی وہ تیرتی ہوئی پول سے باہر نکلی تھی۔۔”کپڑے گیلے ہونے کی وجہ سے اُس کو ٹھنڈ کا احساس ہونے لگا تھا۔۔”موسم جیسا بھی ہو آتش دن میں جانے کتنی بار نہاتا تھا پر اِن سردیوں میں ایشال کو ایسا کوئی شوق نہیں تھا اور وہ جانتی تھی آتش نے جان کر اُس کو پانی میں گِرایا تھا تاکہ اُس کے غُصے کو مزید ہوا دے سکے۔۔
“کس کی کافی ہے یہ؟اپنے گیلے کپڑوں کو جھاڑتی وہ کمرے کی طرف جانے لگی تھی”جب اُس کا سامنا کافی پکڑے ملازمہ سے ہوا
“ایشال میڈم جی یہ وہ آتش بابا کی کافی ہے اُنہوں نے کہا تھا پانچ منٹ میں کافی مل جائے”چار منٹ ہوچکے ہیں آپ یہاں سے پلیز ہٹے تاکہ میں پانچویں منٹ میں اُن کے کمرے میں جا پاؤں۔۔۔ملازمہ نے جلدی جلدی میں اُس سے کہا تو ایشال کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ نے بسیرا کرلیا تھا
“اِس کافی کی اُس سے زیادہ مجھے ضرورت ہے تمہیں نظر نہیں سردی سے میں کتنا تھرتھر کانپ رہی ہوں۔۔ایشال ٹرے سے کافی کا مگ اُٹھائے بولی تو ملازمہ کے حواس خطا ہوئے تھے۔
“ایشال میڈم جی پلیز واپس کرے آپ کو پتا ہے آتش بابا کو غُصہ جلدی آجاتا ہے۔۔”میں آپ کے لیے دوسری کافی بنا لاتی ہوں یہ بلیک کافی تو آپ پیتی بھی نہیں یہاں تو بس یہ بلیک کافی آتش بابا پیتے ہیں۔۔۔ملازمہ گڑبڑاتی جلدی سے اُس کو دیکھ کر کہنے لگی لیکن تب تک ایشال نے گرم کڑوی کافی کا گھونٹ اپنے اندر انڈیل دیا تھا
“اُپسس اب تو میں نے اِس کافی کو اپنا جھوٹا کرلیا ہے اور تمہیں تو پتا ہے آتش بابا کافی میرا جھوٹا نہیں پیتے۔۔ایشال نے خاصے افسوس بھرے لہجے میں اُس کو دیکھ کر کہا
“یہ
“میں نے کافی کا بولا تھا کہاں مرے ہوئے ہو سب کے سب؟ملازمہ ابھی اُس سے کچھ کہنے لگی تھی جب آندی طوفان کی طرح آتش اپنے کمرے سے باہر نکل کر اُونچی آواز میں بولا
“کول مائینڈڈ سویٹ بِگ برادر یہ کافی کا کپ تو میں نے پی لیا۔۔۔ایشال اُس کی طرف رُخ پلٹتی مسکراکر بولی
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے مگ میں کافی پینے کی۔۔۔آتش نے کڑے چتونوں نے اُس کو دیکھا تھا”کچھ دیر پہلے والی مسکراہٹ اُس کے چہرے سے یکسر غائب تھی’وہ ایسا ہی تو تھا پل میں تولہ پل میں ماشہ۔۔”کبھی کبھی بڑی سے بڑی کو اگنور کرنے والا تو کبھی چھوٹی سی بات کو بھی بڑا بنا کر پورا گھر سر پر اُٹھانے والا
“ایسے۔۔۔
“کہنے کے ساتھ ایشال نے گہرا گھونٹ کافی کا لیا تھا جو آتش کو تپانے کے لیے کافی تھا
“تم کیوں میرے ہاتھوں سے قتل ہونا چاہتی ہو۔۔آتش بڑے ضبط سے بولا
“جسٹ کافی پینے میں تم اپنی چھوٹی بہن کا قتل کروگے”کتنی بُری بات ہے نہ چچچچہ۔۔۔۔۔ایشال مسکین شکل بنائے بولی تو آتش دندناتا اُس کے نزدیک آتا ہاتھ سے کافی کا مگ چِھیننے والے انداز میں لیکر زور سے دیوار پر مارا تھا جس پر کافی نے اپنا گہرا اثر دیوار پر چھاپ لیا تھا جبکہ مگ دیوار سے لگتا زور سے فرش پر گِرکر کئ ٹکروں میں تقسیم ہوا تھا”اُس کی اِس حرکت نے ایشال کو سکون پہنچایا تھا”وہ جانتی جو تھی کہ یہ مگ اُس کا فیورٹ تھا اور خود آج اُس نے اپنی پسندیدہ چیز کو توڑا تھا”وہ تو اپنی معمولی سے معمولی چیز کے لیے بھی بیحد پوزیسیو ہوتا تھا۔۔
“میری چیزوں کو ہاتھ مت لگایا کرو۔۔۔آتش وارننگ بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا۔۔”تو چہرہ دوسری طرف کرتی ایشال ہنس پڑی تھی
“تمہاری چیزوں پر تو میں تھوکنا بھی پسند نہ کروں”لیکن کیا ہے نہ بِگ برادر مجھے تمہارا یہ تپا ہوا چہرہ دیکھنا تھا میرا بہت دل چاہ رہا تھا اور یہ سویٹنس مسکراہٹ وغیرہ یہ تمہاری پرسنائلٹی پر سوٹ نہیں کرتی تو وہ کام مت کیا کرو جو تمہاری ذات سے وابستہ نہ ہو۔۔۔۔”کول لفظ تمہارا تکیہ کلام ہے لیکن خود تم کول بلکل بھی نہیں ہو۔۔اُس کے ماتھے پر اُبھری ہوئی نیلی رگوں کو دیکھ کر وہ طنز مسکراہٹ سے بولی تھی
“میں
رضیہ اپنے آتش بابا کو بلیٹ پریشر کی دوائیں دو کہی جوانی میں دماغ کی نسیں نہ پھٹ جائے۔آتش غُصے میں اُس کو کچھ سُنانے والا تھا جب ایشال اُس کی بات درمیان میں کاٹتی ملازمہ سے کہہ کر سائیڈ سے گُزرگئ تھی”جس پر آتش نے زور سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ لیا تھا” کہنے کو وہ بہن بھائی تھے”اور وہ عمر میں اُس سے نو سال بڑا تھا لیکن لڑتے ایسے تھے جیسے ٹین ایجر کے ہو دونوں”خیر ایشال تو اٹھارہ سال کی تھی پر اُس سے لڑتا آتش بھی چھوٹا بن جاتا ہے اور اتفاقً جب کبھی ایک ساتھ گھر میں دونوں ہو تو بس ایک دوسرے کو تپانے کے منصوبے بنایا کرتے تھے۔۔”وہ بہن بھائی کم ایک دوسرے کے جانی دُشمن تھے اِتنے کہ دونوں کے درمیان اگر تیسرا کوئی آتا تو دونوں میں سے کوئی نہ کوئی ایک اُس کا نام ونشان تک مٹادیا کرتا تھا۔”ایک دوسرے کو تکلیف پُہنچاکر اُن کو سکون سا آتا تھا وہ اِس دُنیا کے یونیک قسم کے بھائی بہن تھے جو ایک دوسرے کی محبت میں تیسرے کو نہیں تھے مارتے بلکہ دُشمنی میں کسی تیسرے کو مارا کرتے تھے۔
“آتش بابا لاؤ آپ کے لیے بلیٹ پریشر کی دوا صبح آپ نے نہیں تھی لی؟ملازمہ نے ڈر ڈر کر پوچھا تو آتش کھا جانے والی نظروں سے اُس کو گھورتا وہاں سے چلاگیا تھا۔۔









“آج ہماری خوشی کے چہرے پر خوشی کیوں نہیں؟آریان شام کے وقت گھر لوٹا تو ہال میں عیشا کو خاموش دیکھا تو اُس کو عجیب لگا کیونکہ اکثر جب بھی وہ گھر آتا تھا تو اُس کی چیخے گھر میں سُنائی دیتی تھیں یا پھر اُس کا قہقہقہ گونجتا تھا لیکن وہ کبھی اِس قدر چُپ نہیں بیٹھا کرتی تھی جس طرح آج بیٹھی تھی۔
“پہلے آپ یہ بتائے کہ مجھ سے کیا کام ہے؟”کیونکہ خوشی آپ مجھے تب بولتے ہیں جب کوئی کام نکوالنا ہو تو۔۔۔عیشا نے منہ بسور کر کہا تو آریان کھسیانا سا ہوگیا
“اب یہ تو غلط بات ہے کیا تم اب اپنے باپ کی محبت کو بھی یہ نام دو گی؟آریان نے مصنوعی گھوری سے اُس کو نواز کر کہا تو عیشا نے اپنا سر اُس کے سینے پر ٹِکایا
“عیشو کیا بات ہے؟آریان سہی معنوں میں پریشان ہوا تھا
“مجھ سے کوئی بھی پیار نہیں کرتا۔۔۔عیشا نے بتایا
‘ایسا کس نے کہا مجھے نام بتاؤ؟۔”میں خبر لیتا ہوں اُس کی’تم اپنے باپ لاڈلی بیٹی ہو” اور تمہیں پتا ہے زوئی ہانی سے بھی اِتنا پیار نہیں کرتا جتنا تم سے کرتا ہے۔۔آریان اُس کا ماتھا چوم کر”زوریز کا حوالہ دیتا بولا تو عیشا مسکرائی
“آج ہانی نے کافی روڈلی بات کی آپ کو پتا ہے میری بات کوئی اِتنی ناگوار بھی نہ تھی۔۔عیشا نے شکایت لگائی
“کیا بولا تھا تم نے؟اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر آریان نے نرمی سے پوچھا تو عیشا نے شروع سے لیکر آخر تک اُس کو ساری بات بتائی
“اب ڈیڈ آپ ہی بتاؤ اِس میں غلط کیا کہا تھا؟”بس اپنا نظریہ ہی بتایا تھا۔۔عیشا نے کہا تو آریان نے گہری سانس اپنے اندر کھینچی
“اول تو تمہیں ایسا نہیں چاہیے تھا کہنا”اقدس تم سب سے بڑی ہے اور ہانی سے بھی وہ پورے سات سال بڑی ہے۔۔۔”وہ اُس کو آپو کہتا ہے”اُس کی عزت کرتا ہے اور اگر کوئی مرد ایسے الفاظ سُنے گا تو اُس کا غُصہ تو آئے گا نہ۔۔آریان نے جواباً کہا
“اِس میں کوئی بڑی بات تو نہیں فاحا خالہ بھی تو خالو سے آٹھ سال چھوٹی ہیں۔عیشا نے کہا
” ہر کا اپنا نقطہ نظریہ ہوتا ہے۔۔”ضروری نہیں جیسا تم سوچتی ہو سامنے والا بھی ویسا سوچتا ہو”اور اگر بات کی جائے اسیر کی تو وہ مرد ہے مرد خود سے کم عمر لڑکی سے شادی تو کرسکتا ہے پر خود سے بڑی عمر کی لڑکی سے شادی کبھی نہیں کرسکتا”۔۔اِس لیے دوبارہ ہانی سے ایسی باتیں نہ کرنا ہوسکتا ہے وہ پھر اِن باتوں کے بارے میں سوچنے لگ پڑے کیونکہ خوشی میری جان میرا بچہ سوچو پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا اور تم کیا چاہو گی ایسا کہ ہانی اپنی آپو کو غلط وے سے دیکھنے لگے؟”اُس کا نظریہ بدل جائے؟آریان اُس کو اپنے ساتھ لگائے بولا تو”عیشا سر خوبخود نفی میں ہلا تھا
“ڈیڈ میں آپ کا پوائنٹ آف سمجھ رہی ہوں لیکن کوئی بُرائی تو نہیں اگر دو لوگوں کی آپس میں انڈرسٹینڈنگ ہے تو مسئلہ کیا ہے۔۔۔عیشا ابھی تک اصل بات پر نہیں تھی آئی جو آریان اُس کو سمجھانے کی کوشش کررہا تھا
“تمہیں پتا ہے اقدس کس کی بیٹی ہے؟آریان نے سوال کیا تو عیشا عجیب نظروں سے اُس کا چہرہ تکنے لگی
“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟اُس کے ایسے دیکھنے پر پر آریان مسکرایا
“مجھے پتا ہے وہ خالو کی بیٹی ہے۔۔”اور بھلا یہ کیسا سوال ہوا۔۔۔عیشا سرجھٹک کر بولی
“وہ اسیر ملک کی پہلی لاڈلی بیٹی ہے۔۔”وہ اسیر ملک جس کی شادی اُس کی مرضی کے برخلاف ہوئی تھی”جو عمر میں اُس سے بڑی تھی جس کے لیے اُس کے دل میں کبھی پیار کا احساس نہیں جاگا تو بیٹا جی وہ شخص اپنی بیٹی کی شادی کیا کبھی ایسے لڑکے سے کروائے گا جو اقدس سے چھوٹا ہو اِس لیے بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو بات کو ہر پہلو سے’خاص طور پر دوبارہ ہانی سے ایسی کوئی بات مت کرنا ورنہ ہمارے لیے مسئلہ کھڑا ہوسکتا ہے۔۔’اب اُٹھو میرے لیے کافی بناؤ میشو رانی کو آج گھر آنے میں وقت لگ جائے گا۔۔۔آریان اُس کا ماتھا چوم کر کہتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔”پیچھے عیشا بھی اپنا موڈ سہی کرتی کچن کی طرف بڑھی تھی۔
