Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 10)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 10)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“تم لوگوں کو اب یونی جوائن کرنا چاہیے پڑھائی کا حرج ہورہا ہے۔۔۔زوریز نے ناشتے کے ٹائیم “عیشا زوہان اور رایان سے کہا
“جی ڈیڈ آج ہم نے تیاری کرلی ہے۔۔زوہان نے بتایا
“اچھی بات ہے سکندر اور مان کا کیا کہنا ہے؟زوریز نے پوچھا
“وہ دونوں ابھی اپنے والد صاحب کے شکنجے میں ہیں آئے گے وہ دونوں بھی۔۔۔جواب عیشا نے دیا تھا
“اچھی بات ہے کہ اُن کو عقل آئی۔۔سوہان زوہان کے سامنے جوس کا گلاس رکھتی ہوئی بولی
“لیکن وہ اِتنی جلدی اپنی ضد سے ہٹنے والے نہیں ہیں آپ کو تو پتا ہے مان کتنا ضدی یے”خالو جان جتنا اُس کو روک رہے ہیں وہ اُتنا ہڈ دھڑمی کا مُظاہرہ کررہا ہے۔۔زوہان نے سوہان کی بات پر آیا
“جانے مان کس پر چلاگیا مسٹر ہم ہم کھڑوس ضرور تھا لیکن اِس قدر ضدی بھی نہیں تھا اور نہ اُس کے ایسے عجیب وغریب شوق تھے۔۔میشا پرسوچ لہجے میں بولی
“ہر ایک اپنی زندگی اپنے طریقے سے گُزارنا چاہتا ہے اور اگر اُن کو سِنگنگ کا شوق ہے تو عاشر اور اسیر کو اِس بارے میں سوچ کر اِجازت دینی چاہیے کوئی بڑی بات نہیں اگر ایسی فرمائش مجھ سے رایان کرتا تو میں اعتراض نہ اُٹھاتا۔۔آریان شانے اُچکاکر بولا تو رایان کو کمینی سی خوشی ہونے لگی
“آ میں حصہ لوں تو کوئی پاپولر ہیرو کاسٹ ہوجاؤں فلم میں؟رایان اپنا ناشتہ بھول کر آریان سے بولا
“میں تو اعتراض نہیں کروں گا لیکن ہیرو بننے کے لیے خوبصورت شکل کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔۔آریان نے گویا اپنی بات مکمل کی تو رایان کی شکل دیکھنے لائق ہوئی تھی
“بلکل اِس لیے تو آج تک میرے علاوہ تم سے کوئی اور لڑکی شادی پہ راضی نہ ہوئی رایان بھی تو تمہاری کاپی ہے۔۔۔میشا کو کہاں آریان کا رایان کو ایسے کہنا برداشت ہوا تھا تبھی کہا تو اِس بار آریان کی شکل دیکھنے لائق ہوئی تھی۔
“تمہیں کبھی میری قدر نہیں ہوگی۔۔آریان میشا کو گھورتے ہوئے بولا تو زوہان نے اِشارے سے عیشا اور رایان کو اُٹھنے کا بولا تھا
“بہت قدر ہے تمہاری اگر یقین کرو تو۔۔میشا نے معصومیت سے کہا
“میرا بِیگ لانا۔۔زوہان کے پیچھے جاتے رایان نے عیشا سے کہا
“ہاں لیکن سکندر کو کال کرنا وہ ریڈی ہونے میں بہت وقت لگاتا ہے۔۔عیشا نے کہا
“اُس کو میں نے میسیج کردیا ہے تم بس حجاب لگاکر جلدی سے باہر آؤ۔۔زوہان نے سنجیدگی سے کہا
“بس پانچ منٹ میں آتی ہوں۔۔عیشا اِتنا کہتی اندر کو بھاگی تھی۔







“اقدس آپ فری ہیں؟فاحا اقدس کے کمرے میں آتی اُس سے مستفسر ہوئی جو بیڈ پر بیٹھی کتاب کا مطالعہ کرنے میں مصروف تھی۔
“جی مما آپ آجائے۔۔اقدس نے کتاب بند کرکے مسکراکر اُس سے کہا
“مجھے اسیر نے کہا کہ میں آپ سے بات کروں۔۔فاحا نے اُس کے پاس بیٹھ کر کہا
“ایسی کیا بات ہے مما جو بابا جان نے خود کہنے کے بجائے آپ کو یہاں بھیجا ہے۔۔اقدس نے جاننا چاہا
“آپ کی پڑھائی تو ایک سال پہلے ختم ہوچُکی ہے اور آپ کے لیے ایک رشتہ آیا اور اسیر نے فاحا سے کہا کہ آپ کو بتاؤں وہ لوگ کل آپ کو دیکھنے آرہے ہیں۔۔۔فاحا نے اُس کی ٹھوڑی چھو کر کہا تو اقدس کے چہرے پر ایک سایہ آکر لہرایا تھا
“چوتھا
چوتھا؟اقدس نے کہا تو فاحا اُس کا لفظ دوہراتی ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی
“یہ چوتھا رشتہ ہوگا جو ہمارے لیے آئے گا اور مما ہمیں شادی نہیں کرنی کیونکہ ہمیں پتا ہے کوئی بھی ہم سے شادی نہیں کرے گا کیونکہ ہم بدصورت ہیں”اور کل بھی وہ ہوگا جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور ایک سچویشن کو ہم بار بار دیکھنا نہیں چاہتے ہم میں اِتنی ہمت نہیں ہے آپ پلیز سمجھنے کی کوشش کرے اور بابا جان کو بھی سمجھائے کہ اقدس یہاں حویلی میں رہنا چاہتی ہے۔۔اقدس اُس کے ہاتھوں کو پکڑتی التجائیہ انداز میں بولی تو فاحا کا جیسے دل تڑپ اُٹھا تھا اُس کو اقدس کی ایسی مایوس کن باتیں پسند نہیں آئیں تھیں
“اقدس آپ فاحا اور اسیر کی جان ہو آپ بہت خوبصورت ہو اِتنا کہ آپ کی سوچ ہے اور کچھ کم ظرف لوگوں کی وجہ سے آپ احساس کمتری کا شکار نہ ہو اُن لوگوں سے رشتے کی بات نہ بنی اچھی بات ہے آپ کے قابل نہ تھے وہ لیکن اِس بار جہاں بات ہونے جارہی ہے وہ آپ کے بابا جان کے جاننے والے ہیں اِس لیے آپ ٹینشن نہ لو کوئی بے فکر رہو۔۔فاحا نے نرم لہجے میں اُس کو سمجھاتے ہوئے بولی تو اقدس کے چہرے پر زخمی مسکراہٹ نے احاطہ کیا وہ جانتی تھی یہ دل بہلانے کی باتیں تھی ورنہ حقیقت سے تو وہ اچھے سے واقف تھی اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ کل بھی وہ ہوگا جو پہلے ہوچکا ہے۔۔
“ہم خوبصورت تھے لیکن اب نہیں ہیں۔۔اقدس نے کہہ کر اپنا گال اُس کے سامنے کیا تو فاحا نے دیکھا اُس کے گال کی سائیڈ پر کان کے کچھ پاس ایک گہرا کٹ تھا جس نے اقدس کی خوبصورتی کو لوگوں کے سامنے کم کردیا تھا وہ کٹ کوئی اِتنا بڑا نہیں تھا لیکن گہرا تھا پر خراب ہوگیا تھا اقدس کے کُھڑچنے کی وجہ سے اسیر نے اُس کا ہر طرح سے علاج کروایا تھا وہ جانتا تھا یہ نشان سرجری سے ٹھیک ہوگا لیکن جب یہ زخم اقدس کو آیا تھا تب وہ چودہ پندرہ سال کی چھوٹی بچی تھی اور اُس نے رو رو کر اسیر سے واعدہ لیا تھا کہ وہ اُس کی سرجری نہیں کروائے گا اور اسیر نے واعدہ کر بھی لیا تھا کیونکہ اُس وقت اقدس جس قدر خوفزدہ تھی ایسے میں اگر وہ اقدس کی بات نہ مانتا تو ڈر کی وجہ سے شاید اُس کا دل بند ہوجاتا “خیر اسیر نے اُس وقت تو اُس کی بات مان لی تھی پر جب اقدس بیس سال کی ہوئی تو اسیر نے پھر سے سرجری کی بات تھی پر ہمیشہ کی طرح اقدس کا وہی جواب کہ وہ کبھی سرجری نہیں کروائے گی اِس داغ کی وجہ سے اُس کو کالج سے لیکر یونیورسٹی تک جانے کتنے لوگوں نے اُس کا مذاق اُڑایا تھا پر اقدس کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا اور نہ اُس نے اپنا فیصلہ بدلنے کا سوچا تھا اور جب اقدس نے پڑھائی پوری کرلی تو اُس کے لیے رشتے بھی آنے لگے تھے پر جب اُن کی نظر اقدس کے چہرے پر موجود نشان پر پڑتی تو وہ رشتے سے انکار کردیتے کیونکہ اُن کو لڑکی کا چہرہ بلکل صاف شفاف چاہیے تھا ریجکشن کا احساس کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے اِس بات کا اندازہ اقدس کو بخوبی تھا اور اُس کو ایسے حال میں دیکھ کر فاحا کا دل بھر آیا تھا اُس نے آگے بڑھ کر اقدس کو اپنے ساتھ لگایا تھا وہ سمجھ نہیں پائی کہ کن الفاظوں سے وہ اُس کو تسلی کروائے”یا دلاسہ دے فاحا اچھے سے جانتی تھی کہ اُس کی کوئی بھی دلیل اقدس کے سامنے کارآمد ثابت نہیں ہوگی۔
“آپ کی ایسی باتیں میرا دل چیریتی ہیں اقدس ایسی باتیں نہ کیا کرو۔۔فاحا نے خود کو سنبھال کر اُس سے کہا
ہم نہیں کرینگے پر آپ پلیز بابا جان سے بول دے ہمیں شادی نہیں کرنی۔۔اقدس نے جواباً کہا
“اسیر بہت خوش ہے اور ماشااللہ سے اب آپ کی عمر شادی کی ہے وہ آپ کے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں اور اقدس جوان بیٹیاں جب ہوجائے تو والدین کو چاہیے اُن کو اُن کے گھر کا کردے ورنہ والدین پر بھی گُناہ ہوتا ہے۔۔فاحا نے کیسے بھی کرکے اُس کو راضی کرنا چاہا
“گُناہ کیسا؟”جب ہم خود ایسا نہیں چاہتے تو۔۔اقدس بھی اپنی جگہ بضد تھی۔
“اقدس والدین کے فرائض کو سمجھو اور ہمیں حق دو کہ ہم آپ کے لیے اچھا سا فیصلہ لے بھلا آپ کب تک یوں اکیلے زندگی گُزارا کرینگی؟فاحا نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی اقدس کو رضامند کرنے کے لیے
“ٹھیک ہے آپ دونوں اگر اِس میں خوش ہوتے ہیں تو سہی پر ہماری بھی ایک شرط ہے۔۔اقدس نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں کہا تو جہاں فاحا پہلے خوش ہوئی تھی وہی لفظ”شرط”نے اُس کو چونکنے پر مجبور کردیا
“کیسی شرط؟فاحا نے پوچھا
“ای ٹی سی جو بھی آرہا ہے یہ رشتہ چوتھا رشتہ آخری ہوگا جو حویلی میں ہمارے لیے آئے گا اِس بار بھی ہمیں ریجکٹ کیا گیا تو آپ واعدہ کرے کہ بابا جان کو راضی کرے گی کہ یہاں کوئی پانچواں رشتہ نہیں آئے گا اور اگر کل بات نہیں بنی تو بابا جان کو ہماری ایک بات ماننا ہوگی۔۔اقدس نے بتایا
“کیسی بات؟اقدس نے پوچھا
“وہ ہم بابا جان کو بتائے گے تب جب رشتے کی بات نہ بنی تو۔۔اقدس نے کہا
“اِن شاءاللہ اِس بار سب اچھا ہوگا آپ اچھے کی اُمید رکھو۔۔فاحا اُس کا ماتھا چوم کر بولی تو اقدس مسکرا بھی نہ پائی تھی۔








“کیا ہم اندر آسکتے ہیں؟وہ چاروں اپنے ڈپارٹمنٹ میں آکر کلاس میں داخل ہونے لگے تو لیکچر کب کا شروع ہوچکا تھا جس پر سکندر نے مری مری آواز میں پروفیسر کو اپنی جانب متوجہ کیا تو پروفیسر کے ساتھ ساتھ پوری کلاس میں موجود اسٹوڈنٹس کا دھیان بھی اُن کی طرف ہوا تھا جو لائن میں کھڑے تھے”پروفیسر نے جب اُن کو دیکھا تو اُن کے ماتھے پر گہرے بل نمایاں ہوئے تھے مارکر سائیڈ پر کرکے اُنہوں نے اپنا دھیان اُن پر کیا
“کیا آپ کو پتا ہے یونی کب شروع ہوا تھا؟ پروفیسر نے اُن چاروں پر کڑی نظریں ڈال کر پوچھا” تو زوہان نے سکندر کو اور سکندر نے رایان کو پھر رایان نے ببل چباتی عیشا کو دیکھا جس نے شانے اُچکائے دیئے تھے کہ اُس کو نہیں پتا
“پروفیسر آج ہمارا پہلا دن ہے تو ہمیں نہیں پتا اِس یونی کی تاریخی تاریخ کا۔ ۔۔رایان نے کان کی لُو کُھجاکر بتایا تو پورا کلاس کھی کھی کرنے لگا تھا” البتہ اپنی سیٹ پر بیٹھا المان نے پروفیسر سے چوری اپنا سیل فون باہر نکالا تھا
“میں نے تاریخی ڈیٹ نہیں پوچھی۔ ۔۔پروفیسر نے سخت نظروں سے اُن کو گھورا
“پروفیسر پھر یہ تو ایکزائکلی وقت گارڈ کو ہوگا پتا کیونکہ یونی کی گیٹ وہی کھولتا ہے۔ ۔۔سکندر نے اپنی عقل موجب جواب دیا
“چھ بجے یا پھر فائنل سات بجے تک یونی کُھل جاتا ہوگا۔ ۔۔عیشا نے بھی اپنا تُکا لگایا لیکن زوہان خاموش سا کھڑا تھا
“یونی آپ لوگوں کی ایک ماہ سے شروع ہوئی ہے اور آپ لوگ اب آئے ہیں کلاسس اٹینڈ کرنے اور وہ بھی پہلے دن اِتنا لیٹ۔۔۔پروفیسر کو اپنے سوالوں پر اُن کا جواب سُن کر چکر سا آنے لگا تھا تبھی سیدھے طریقے سے بات کی
“پہلی کلاس تو ہماری نو بجے تھی اور اب نو بج کر دس ہوئے یعنی ہم وقت پر آئے تھے پر آپ نے اپنے سوالوں میں ایسا اُلجھایا کہ دس منٹ کیسے گُزر گئے ہمیں پتا ہی نہیں چلا۔۔رایان نے اپنے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے سارا ملبہ پروفیسر پر ڈالا تو زوہان کے علاوہ عیشا اور سکندر نے تائید میں اپنا سراثبات میں ہلایا تھا۔
“گیٹ آؤٹ فرام مائے کلاس۔۔۔پروفیسر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا تبھی اُن چاروں کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا
“پر لیکچر ختم ہونے میں تو ابھی بہت وقت ہے۔ ۔۔سکندر نے اپنے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھ کر اُن سے کہا
“گیٹ آؤٹ۔۔۔پروفیسر نے پہلے سے زیادہ اپنے لہجے کو سخت بنایا
“میں بھی؟زوہان نے بڑی معصومیت سے پوچھا تو کلاس میں بیٹھی گرلز نے اُس کو دیکھنا شروع کیا تھا’جو اپنے باپ کی کاپی تھا بس ایک چیز کا فرق تھا اور وہ تھا زوہان کی آنکھوں کا
“جی آپ بھی۔۔پروفیسر نے اُس کو گھورا
“بٹ سر میرا کیا قصور؟زوہان احتجاجاً بولا کیونکہ وہ تو اِن تینوں کی وجہ سے لیٹ ہوا تھا اور پہلے ہی دن پہلی ہی کلاس میں اُس کو باہر نکالا جارہا تھا جو اُس کو برداشت نہیں ہورہا تھا
“عزت نفس کا تقاضا یہی ہے کہ اگر کوئی گیٹ آؤٹ بولے تو آؤٹ ہوجانا چاہیے۔۔عیشا نے اُس کے کان کے پاس جُھک کر شاعرانہ انداز میں کہا تو بیک وقت اُن تینوں نے اُس کو گھورا تھا
“ہاں لیکن بڑوں کے سخت لہجے میں اُن کا پیار چُھپا ہوا ہوتا ہے تو ہمیں محسوس کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اِن کے سخت لہجے میں چُھپی محبت کو۔ ۔۔سکندر نے اپنی طرف سے عقلمندی کا مُظاہرہ کیا
“فرسٹ ڈے ہے اگلی بار ایسا نہیں ہوگا وی آر سوری پروفیسر۔ ۔۔زوہان نے سنجیدگی سے پروفیسر کو دیکھ کر کہا جو اُن کو آپس میں کھسر پھسر کرتا دیکھ رہا تھا۔
“تم لوگوں کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟ پروفیسر نے بغور اُن کی ڈریسنگ کو دیکھ کر پوچھا” زوہان سکندر اور رایان یہ تینوں بلیک شرٹ اور وائیٹ پینٹ میں ملبوس تھے جبکہ تینوں کے بال اُن کی پیشانی پر لاپرواہ بکھرے پڑے تھے” دوسری چیز یہ کہ وہ تینوں کلین شیو تھے لیکن اُن کے باوجود وہ تینوں ایک دوسرے کو مات دے رہے تھے۔۔”اور اگر بات کی جائے عیشا کی تو وہ بلیک گھٹنوں تک آتے فراق اور پاجامے ملبوس تھی اور بال اُس کے حجاب میں قید تھے۔۔۔
“ہم بڈیز ہیں۔۔جواب عیشا نے پرجوش انداز میں دیا تھا
“ڈیٹھ لگانا بھول گئ ہو۔ ۔۔دور بیٹھے المان کے کان میں عیشا کا جواب پڑا تو اُس کی زبان نے دغابازی کری جس پر پروفیسر کی نظریں المان پر گئ تھی جو کالے شلوار قمیض میں ملبوس اپنے سیاہ بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے ارد گرد سے بے نیاز بیٹھا تھا لیکن وہ اُس کو پتا تھا کہ اُس کے کان اُن چاروں کی طرف تھے۔۔
“یہ ہم جیتے جاگتوں کو ڈیٹھ بوڈیز بول رہا ہے۔ ۔سکندر ہونک بنا اُن سے بولا تھا
“کمینہ
کمینہ
کمینہ۔ ۔
“سکندر کی بات پر بیک وقت اُن تینوں نے المان کو نئے القابات سے نوازہ تھا جس میں اُونچی آواز اِس بار زوہان کی تھی۔
“آپ بھی کھڑے ہوجائے۔۔پروفیسر نے اپنی توپوں کا رُخ اُن چاروں سے ہٹا کر المان کی طرف کیا تو وہ خوشی سے کھڑا ہوگیا تھا البتہ اُس نے ظاہر ہونے نہیں دیا
“ہم تو ڈوبے گے ساتھ میں تمہیں بھی لے ڈوبے گے صنم۔۔عیشا اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر آہستہ آواز میں بڑبڑائی تھی
“جی سر؟المان نے انجان کر پوچھا
“آپ کی تعریف؟پروفیسر نے اُس کو بھی آج دیکھا تھا
“جتنی کرے اُتنی کم ہے۔۔المان نے اپنے سلکی سیاہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا تو پوری کلاس میں اسٹوڈنٹس کا قہقہقہ چھوٹ گیا تھا جس پر عیشا نے طنز مسکراہٹ سے اُس کو دیکھا تھا
“اب لگتا ہے کلاس سے نہیں یونی سے باہر نکالا جائے گا وہ بھی دھکے مار کر۔۔المان کی بات پر پروفیسر کو اِتنے غُصے سے دیکھ کر زوہان آہستگی سے بولا تھا
“ٹیلنٹ ہے پینڈو کو دیکھا کیسے یونی میں بھی شلوار قمیض پہن کر آیا ہے۔۔عیشا نے اب غور سے اُس کی ڈریسنگ کو دیکھا تو بولے بنا نہ رہ پائی
“کیوں کیا یونی کے گیٹ میں یہ لکھا ہوا کہ شلوار قمیض پہن کر یہاں کوئی داخل نہ ہو؟سکندر کو عیشا کی بات بے تُکی سی لگی
“ہاں اور پلیز تم المان کو پینڈو مت بولا کرو اِس کا سینس آف ڈریسنگ کمال سے جمال ہوتا ہے۔۔رایان نے بھی سکندر کا بھرپور ساتھ دیا
“پھر تم دونوں بھی اُس کو کاپی کیا کرو نہ؟عیشا طنز ہوئی تو وہ دونوں خاموش ہوئے تھے
“آپ بھی اِن کے ساتھ باہر جائے۔۔پروفیسر نے سنجیدگی سے المان کو کہا
“کہاں سر؟”اور کیوں؟المان نے بے نیازی کی حد کردی”تو حوریہ جو اُس کے پاس سے ایک سیٹ چھوڑے دوسری پر بیٹھی ہوئی تھی اُس نے بغور المان کو دیکھا جب وہ کلاس میں داخل ہوئی تھی تو اُس کو المان اپنی ڈریسنگ کی وجہ سے اُس کو بہت سوبر سا لگا تھا اور اُس نے پروفیسر کی غیرموجودگی میں اُس کے اِرد گرد لڑکیوں کو بھی دیکھا تھا پر وہ کسی کو بھی دیکھ تک نہیں رہا تھا جس سے اُس کا ایمپریشن حوریہ پر اچھا پڑا تھا لیکن اب جس انداز میں باتیں کررہا تھا اُس پر حوریہ کے خیالات اُس کے لیے بدل سے گئے تھے۔”باقی اُن چاروں کو وہ دیکھ نہیں سکتی تھی بس آواز سُن سکتی تھی کیونکہ اُس نے اپنے بیٹھنے کے لیے آخری سیٹ کو منتخب کیا تھا وہ چاہتی تھی کسی کی بھی نظر اُس پر نہ پڑے اُس کو لگ رہا تھا جیسے ہر کوئی اُس کا مذاق اُڑائے گا یونی میں داخل ہونے کے بعد اُس کو یہاں آنے پر جیسے پچھتاوا ہوا تھا”جہاں ہر لڑکا لڑکی ماڈرن خوبصورت کپڑوں میں ملبوس تھے وہی وہ سادہ سے شلوار قمیض میں خود کو کالی چادر میں لپیٹے ہوئے تھی اور نظریں جُھکاتی اپنے ڈپارٹمنٹ میں آنے کے بعد اُس نے شکر کا سانس لیا تھا۔۔”اُس کو اب ایسا لگ رہا تھا یونی میں جیسے اُس کے یہ چند سال بہت کھٹن گُزرنے والے ہیں اور روز اُس نے احساس کمتری کے گہرے جذبے سے گُزرنا ہے۔۔
“مجھے بحث میں اُلجھا کر لیکچر کا وقت کوئی ضائع نہ کرے جلدی سے باہر نکلو سب۔۔۔پروفیسر نے اُن کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
“سر فرسٹ ڈے معاف کردو نہ پرومیس اگلی بار ایسا ہو تو آپ پورا سال ہمیں کلاس میں اینٹر ہونے نہ دیجئے گا۔۔رایان نے مسکین شکل بناکر کہا
“نہیں اگر ہمیں باہر نکالنے سے پروفیسر کو خوشی ملتی ہے تو ہمیں اُن کو یہ خوشی دے دینی چاہیے۔۔المان اِشاروں کِناروں میں جانے اُس کو کیا سمجھاتا ہوا بولا جس پر زوہان نے تیکھی نظروں سے اُس کو دیکھا جو پڑھائی سے ایسے بھاگتا ہو جیسے بچہ انجیکشن سے
“یہ فرسٹ اور لاسٹ وارننگ ہے اُس کے بعد کوئی چانس نہیں ملے گا۔۔پروفیسر کو المان کی بات کا تو نہیں البتہ رایان کی مسکین شکل پر ترس ضرور آیا تھا۔”تبھی کہا تو زوہان اور عیشا نے بے ساختہ شکر کا سانس ادا کیا تھا
شکریہ سر۔۔سکندر جلدی سے کہتا جو خالی سیٹ اُس کو نظر آئی اُس پر بیٹھ گیا”اور عیشا چلتی ہوئی ناک منہ سکیڑ کر المان کے پاس والی سیٹ پر جاکر بیٹھی تھی کیونکہ اُس جگہ وہ آرام سے لیکچر سُن سکتی تھی۔”البتہ پوری کلاس میں نظریں ڈوراتا رایان سوچ میں پڑگیا کہ وہ کہاں؟”اور کس کے ساتھ بیٹھے یکایک اُس کی چیل جیسی نگاہوں نے الگ تھلگ بیٹھی حوریہ کو دیکھ لیا تھا جو خاموش سی بغیر کسی پر بھی نظر ڈورائے رجسٹر میں کچھ لکھنے میں مصروف تھی”اور بیک وقت رایان کے کانوں میں اقدس کے جُملے نے جیسے رس گھولا تھا۔
“ہمیں لگتا ہے جیسے رایان کی نیچر ہے ایسے میں اُس کو کوئی معصوم سی کم گو لڑکی ملے گی۔۔”
“رایان کو پوری کلاس میں وہ سادگی کا پیکر لگی تھی جو خود کو چادر میں چُھپائے ہوئے تھی اُس کو دیکھ کر رایان کان کی لو کُھجاتا خود بھی آخری والی سیٹ پر حوریہ کے پاس جاکر بیٹھا تھا۔۔”اور زوہان کو جبکہ سامنے والی سیٹ خالی ملی تھی اُس نے اپنی کتابیں رکھی تو سیٹ کی سائیڈ پر اُس کو ایک چِٹ نظر آئی جس کو زوہان نے کھینچ کر سیٹ سے علیحدہ کیا اور غور سے اُس کو دیکھنے لگا جہاں خوبصورت ہینڈ رائٹنگ میں”ایشال لغاری لکھا ہوا تھا۔۔”نام پڑھ کر زوہان نے چِٹ کو مٹھی میں دبوچ کر نیچے پھینک دیا تھا پھر سرجھٹک کر اپنی جگہ پر بیٹھتا وہ اپنا سارا فوکس پروفیسر پر کرنے لگا جنہوں نے اپنا لیکچر کنٹینو کیا تھا۔
