Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 15)

Salam Ishq by Rimsha Hussain
 

واٹ دا میری ناک پھوڑ ڈالی تم نے۔۔اپنی ناک پر ہاتھ رکھتا رایان اُس کو گھورنے لگا”یہی حال کچھ سکندر کا تھا”جو ماہا کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا

“شکر کرو”کہ ابھی ناک کو توڑا پھوڑا ہے ورنہ دل تو میرا چاہ رہا ہے”تمہاری ہڈی پسلی ایک کردوں۔۔عیشا نے کڑے تیوروں سے اُس کو گھور کر کہا تو رایان نے باہر کو ڈور لگائی تھی۔”اُن کو ایسے دیکھ کر اقدس بھی وہاں سے چلی گئ تھی”کچھ سوچ کر زوہان بھی اقدس کے پیچھے گیا۔”اب ڈرائنگ روم میں ماہا اور سکندر کے علاوہ کوئی نہ تھا کیونکہ عیشا ہاتھوں کو آپس میں مسلتی رایان کے پیچھے بھاگی تھی۔

“تم چٹکی یہ کیا تھا؟سکندر نے بڑی مشکل سے کہا”پیسٹری سے چہرہ بھرا ہونے کی وجہ سے بول نہیں پارہا تھا کیونکہ لب ہِلانے سے بالوں سے اور ناک پر لگی پیسٹری اُس کے منہ میں جانے کو بے چین تھی

“آپ کے ایکشن کا ری ایکشن”آپ نے کیا سوچا ماہا کی شان میں ایسی باتیں کرینگے تو وہ خاموش رہ کر تالیاں بجائے گی؟”نو نیور ماہا نے کبھی ظلم پر خاموش رہنا سیکھا ہی نہیں۔۔ماہا کمر پر ہاتھ ٹِکائے بولی تو سکندر یہ سوچنے لگ پڑا کہ اُس نے کونسے ظلم کے پہاڑ ماہا پر توڑ دیئے تھے

“میرا چہرہ بگاڑا تم نے ہے تو اِس کو صاف بھی تمکو کرنا پڑے گا۔۔سکندر اُس کو دیکھ کر حکیمہ لہجے میں بولا

“ہونہہ سوچ ہے آپ کی کہ ماہا ایسا کرے گی۔”خیر سامنے سے ہٹے ماہا کو باہر جانا ہے۔۔ماہا سرجھٹک کر کہتی سائیڈ سے گُزرنے لگی”جب رایان نے اُس کا راستہ روکا

“میں جو کہتا ہوں”وہ کرتا ہوں۔۔”اور تمہیں بھی وہ کرنا ہوگا مس ماہا جو میں نے کہا۔۔سکندر نے دانت پر دانت جمائے کہا

“ماہا کے گھر میں کھڑے ہوکر آپ ماہا پر حکم نہیں چلاسکتے۔۔۔ماہا اُس کو گھور کر بولی

“ماہا میرا دماغ تمہاری اِس حرکت پر پہلے ہی گُھوما ہوا ہے”مجھے مزید کچھ سخت کرنے پر اُکساؤ مت۔۔سکندر نے اُس کا ہاتھ سختی سے دبوچا

“ہاتھ چھوڑے ہماراا”ورنہ پم چیخ پڑے گے۔۔ماہا اپنا ہاتھ چُھڑوانے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی اُس سے بولی

“جو کرنا ہے کرو”مجھے اُس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”آئے ریئلی ڈونٹ کیئر لیکن اُس سے پہلے وہ کرو جو میں نے کہا ہے”اور خبردار جو میرے سامنے”ہم ہم”کی رٹ لگائی بھی تو۔۔سکندر نے جیسے اُس کی بات کو سُنا ہی نہ ہو”لیکن اُس کی آخری بات پر ماہا نے سہم کر اُس کو دیکھا

“ہاتھ چھوڑے ماہا کا”پھر وہ کرے گی آپ کا چہرہ صاف۔۔ماہا نے بنا اُس کو دیکھ کر کہا”تو ایک نظر اُس پر ڈالتا سکندر نے ماہا کے ہاتھ کو چھوڑ کر اُس کے ڈوپٹے کو تھام کر اپنا چہرہ صاف کرنے لگا جس پر اپنے نیو ڈریس کا یہ حشر ہوتا دیکھ کر ماہا کا دل چاہا تیز آواز میں روئے”لیکن وہ خاموش رہی کیونکہ وہ جانتی تھی اُس کے رونے دھونے سے سکندر کو کوئی فرق نہیں پڑے گا

“آئیندہ ایسی حرکت کرنے سے پہلے سؤ مرتبہ سوچنا۔۔سکندر اُس کے ڈوپٹے کو چھوڑ کر بولا تو ایک قدم پیچھے لیتی ماہا نے ٹیبل سے پانی کا گلاس اُٹھایا

“آپ بھی ماہا کی ایسی تعریف کرنے سے اب گریز کیجئے گا ورنہ ماہا کوئی لحاظ نہیں کرے گی۔ماہا نے بھی سنجیدگی سے کہا

“کرٹون جیسی شکل کی تعریف تو میں ایسے کروں گا۔”لیکن تمہارا کوئی رائٹ نہیں بنتا مجھ سے ایسے پیش آنے کا ورنہ ٹیلر میں تمہیں دیکھا چُکا ہوں۔۔سکندر نے دانت پر دانت جمائے کہا

“اگر غلطی کی ہے تو اُس کا ازالہ بھی ماہا کرے گی۔۔ماہا نے کہا اور وہ پانی کا گلاس اُس کے چہرے پر گِرایا تھا لیکن اِس بار اُس نے وہاں رہنے کی جُرئت نہ کی تھی”جلدی سے باہر کو بھاگی تھی”پیچھے سکندر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا ضبط کرتا رہ گیا”وہ جانتا تھا ماہا کا کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔’چاہے وہ نظر معصوم آتی تھی لیکن وہ اچھے سے یہ بھی جانتا تھا کہ معصومیت کا تعلق ماہا سے دور دور تک کوئی بھی نہیں تھا

❤

“کیوں کرتی ہو آپ ایسا؟زوہان اقدس کے پیچھے حویلی کے باغیچے میں آیا تھا”جہاں مالی پودوں کو پانی دے رہا تھا”اور اقدس خاموش سی بس اُس کو دیکھنے میں تھی

“کیونکہ جو ہمیں دیکھنے آتے ہیں”اُن کو اپنے گھر کے لیے بہو نہیں چاہیے ہوتی”اور نہ بیٹے کے لیے بیوی”اُن کی توقعات ایک لڑکی سے بہت ہوتی ہے۔”تمہیں پتا ہے ہانی”لڑکی چاہے جتنی بھی خوبصورت کیوں نہ ہو”لیکن اُس کی زندگی میں ایسا دن ضرور آتا ہے”جب اچھی بھلی لڑکیوں کے ہوش کام کرنا بند ہوجاتے ہیں۔”کیونکہ کسی کو لڑکی کی ناک پسند نہیں آتی تو کسی کے ہونٹ”کسی لڑکی کی ہائیٹ چھوٹی ہو تو اُس کے لیے مسئلہ بڑی ہو تو بھی اُس کے لیے مسئلہ۔۔”لوگ تھوڑی تھوڑی چیزوں پر ایک احساسات رکھنے والی لڑکی کو بدصورت کہہ کر چلے جاتے ہیں”اور جس نے بھی یہ کہا ہے نہ خوب کہا ہے کہ بدصورت کہہ کر چلتے ہیں”مذاق انسان کا اُڑاتے ہیں یا مصور کا؟”کچھ لڑکیاں عام سی ہوتی ہیں”عام زندگی گُزارنا چاہتی ہیں”اور عام سی خواہشات ہوتیں ہیں اُن کی”اور وہ اپنے کردار کو سُنوارنے میں برسو لگاتیں ہیں”لیکن کوئی صورت سنوارنے والا بازی لے جاتا ہے۔۔اقدس اُس کے سوال پر کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولتی چلی گئ تھی

“لیکن اقدس آپو آپ مین پوائنٹ کو سمجھ نہیں رہی”آپ بہت زیادہ خوبصورت ہیں”اور جو یہ نشان ہے وہ ایک طرح سے مصنوعی ہے جو آپ کی سرجری سے ختم ہوجائے تو پھر آپ کیوں منع کررہی ہیں خالو کو؟”اپنا نہیں تو اُن کا سوچے خالو آپ کے لیے بہت فکرمند ہوتے ہیں۔۔۔زوہان نے اُس کی ساری باتوں کے جواب میں بولا

“ہانی اگر یہ نشان نہ ہوتا تو زندگی کا مطلب سمجھ کیسے آتا؟”اِس نشان کی وجہ سے بہت لوگوں کا اصلی چہرہ سامنا آیا ہے۔۔”تم چھوٹے تھے بہت اور تمہیں یاد ہو نہ ہو جب ہمیں چوٹ آئی تھی اسکول کے فنکشن میں ہم نے ہیر کا کردار ادا کرنا تھا ہم اُس کے لیے بہت پرجوش تھے”لیکن پھر ہمیں پارٹیسپیٹ کرنے نہیں دیا گیا کیونکہ ہماری سینئر نے کہا تھا جو ڈائریکٹر کا رول ادا کررہی تھی اُس نے کہا کہ ہیر کے چہرے پر داغ نہیں ہوتا تھا ہمیں نکالا گیا اور ہم یہ بھی بول نہ پائے کہ ہیر کے کردار سے اُس کی لو اسٹوری کو ظاہر کرنا تھا ناکہ اُس کی خوبصورتی کو۔۔۔”یہ زندگی کی ہماری پہلی ریجیکشن تھی ہمیں بہت سے بھی زیادہ بہت تکلیف ہوئی تھی کیونکہ تب ہماری عمر چودہ سال کی تھی آنسو پر ہمارا اختیار نہ تھا اور نہ چھوٹی باتوں کو اگنور کرنا ہمارے بس میں”بابا جان کی فکر پہ ہم بھی فکرمند ہوتے ہیں لیکن وہ بھی چاہتے ہیں کہ ہماری جس سے شادی ہو وہ چہرے کی خوبصورتی کا پُجاری نہ ہو۔۔اقدس نے کہا

“آپ کو کیا اب تکلیف نہیں ہوتی؟زوہان نے پوچھا

“تکلیف کیسی؟اقدس نے اُلٹا اُس سے سوال کیا

“پہلے کی ریجیکشن کو بھول جائے اور آج کے بارے میں بتائے”آج تو آپ پر آپ کی چھوٹی بہن کو ترجیح دی گئ ہے۔۔زوہان نے کہا تو بے ساختہ اقدس مسکرائی

“ماہی ہم سے الگ نہیں اور ہمیں تکلیف بلکل بھی نہیں ہوئی “ہم چاہتے تو میک اپ کا سہارا لیکر اِس داغ کو چُھپا بھی سکتے تھے”لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا”پتا ہے کیوں؟”کیونکہ ہانی اگر تمہاری رنگت سانولی ہے اور اپنی ایسی رنگت سے تمہیں کوئی مسئلہ نہیں تم خوش ہو کیونکہ اللہ نے خود تمہیں ایسا بنایا ہے”تم موٹے ہو اور پتلا ہونے کی تم میں کوئی خُواہش نہیں تو ہانی اگر کوئی ایرہ غیرہ آکر تمہاری رنگت کا نشانہ بنائے”یا پھر تمہاری ہائیٹ یا ویٹ پر تمہیں کوئی اُس سے فرق نہیں پڑے گا”اِس کی وجہ یہ کہ تم خود مطمئن ہو۔””سب سے بڑی بات خود کا مطمئن ہونا ضروری ہوتا ہے”اور جب انسان خود مطمئن ہوتا ہے نہ تو کسی کی کوئی بھی بات کا فرق ہمیں نہیں پڑتا”بولنے والے بولتے رہ جاتے ہیں۔۔”اقدس نے کہا تو اِس بار زوہان لاجواب ہوا تھا کیونکہ اُس کو اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا

“تو یعنی سانولی رنگت اور موٹاپے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے؟زوہان کو یہ کہتے ہوئے جانے کیوں ہنسی آرہی تھی

“موٹاپا زیادہ ہو تو اُس کو کم کیا جاسکتا ہے”لیکن پریشان نہیں ہونا چاہیے”اور نہ سانولی رنگت میں کوئی عیب ہے”ہم دیکھتے ہیں آجکل پارلر کے بہانے لوگ وقتی لُطف اندروز ہونے کے لیے کسی سانولی رنگت والی لڑکی کو نشانہ بناتے ہیں”خیر یہ بات شاید تمہارے سوال سے ہٹ کر ہے تو ہم بس اِتنا کہے گے پریشانی والی کوئی بات نہیں ہمیں یہ سوچ کر خود کو مطمئن رکھنا چاہیے کہ اگر اللہ نے ہمیں ایسا بنایا ہے تو ضرور اُس میں پاک پروردگار کی کوئی مصلحت ہوگی یا اُنہوں نے کچھ سوچ کر ہمیں ایسا بنایا ہوگا۔۔۔اقدس نے اُس کو دیکھ کر جواب دیا

“اچھا تو اِن باتوں کو رہنے دیتے ہیں”آپ یہ بتائے کہ اب کیا اِرادہ ہے آپ کا؟زوہان نے باتوں کا رُخ بدلا

“ہم بابا جان سے اِجازت لینگے۔۔اقدس نے بتایا

“اِجازت لیکن کس چیز کی؟زوہان نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر پوچھا

“ہم شہر کی کسی یونی میں جاب کرنا چاہتے ہیں۔۔”اگر بابا جان نے اِجازت دی تو یہ بہت اچھا ہوجائے گا”ہماری زندگی ایک نئے سفر کی طرف گامزن ہوگی۔۔اقدس نے کہا تو زوہان مسکرایا

“پھر آپ اُس یونی میں آنا جہاں ہم سب اسٹڈی کرتے ہیں۔۔زوہان نے فٹ سے کہا

“یونی میں اپلائے کرنا ہوتا ہے”ریکوئسٹ بھیجنی ہوتی ہے پھر کہی کام بنتا ہے۔۔۔اقدس نے اپنی معلومات مطابق اُس کو جواب دیا

“ہاں تو کیا آپ کو اپنی قابلیت پر یقین نہیں؟زوہان نے پوچھا

“یقین تو اِنسان کو خود پر ہونا چاہیے”جبھی تو وہ اپنے خوابوں کو پورا کرسکتا ہے۔اقدس شانے اُچکاکر بتایا

“بس پھر آپ ہماری یونی میں کوشش کریں”اِن شاءاللہ کام بن جائے گا پھر۔۔زوہان پُریقین لہجے میں بولا

“اِن شاءاللہ لیکن بس ابھی ہمارے لیے بابا جان کی اجازت ضروری ہے۔اقدس نے کہا تو زوہان اِس بار خاموش رہا

🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂
🍂

“المان اپنے کمرے میں آیا تھا تو اُس کو احساس شدت سے ہواکہ اُس نے اسیر سے بہت بُرے طریقے سے بات کی ہے”اُس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔”تب بھلے اُس کا موڈ خراب تھا یا وہ غُصے میں بھی تھا”لیکن ایسے جذبات میں بھی اُس کو رشتوں کا احترام ہونا چاہیے تھا۔۔”اپنی اِس حرکت پر کافی نادم تھا”سارا دن وہ کمرے سے باہر بھی نہیں گیا “لیکن اُس کو اب جیسے لگا کہ اسیر فری ہوگا تو اُس نے سوچا کیوں نہ اپنی غلطی پر معافی مانگی جائے”یہی سوچ کر وہ اپنے کمرے سے باہر نکلنے لگا تھا جب عین سامنے اسیر سے اُس کا سامنا ہوا”شاید وہ بھی اُس کے کمرے میں کوئی بات کرنے آرہا تھا۔

السلام علیکم بابا جان و

وعلیکم السلام ہم ضروری بات کرنے آئے ہیں آپ سے۔۔المان کی ابھی بات مکمل ہوئی بھی نہیں تھی جب اسیر ملک نے اُس کی بات کے درمیاں میں کہا

“جی۔۔المان اُس کے اندازِ گفتگو پر شرمندہ سا ہوگیا

“ہم نے فیصلہ لیا ہے کہ تم جو کرنا چاہتے ہو اُس کی راہ میں ہم رُکاوٹ پیدا نہیں کرینگے

“بابا جان ہم

“ہماری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی۔۔اسیر کے ایسے کہنے پر المان اُس سے”سوری”کرنے والا تھا”جب اسیر نے پھر اُس کی بات کو کاٹا تو وہ بس سرجھکائے کھڑا رہا

“تمہیں سنگر بننا ہے”بن جاؤ۔۔”ایکٹر بننا ہے وہ بھی بن جاؤ۔۔لندن جانا ہے”آمریکا آفریکا۔۔”تمہاری مرضی ہے لیکن اُس سے پہلے ہماری ایک شرط ہے۔۔۔اسیر نے بے لچک انداز میں اُس سے کہا تو المان جو سرجھکائے اُس کی باتوں کو سُن رہا تھا اسیر کی آخری بات پر چونک کر اُس نے اپنا سراُٹھایا

“کیِسی شرط؟لہجے میں تھوڑی حیرانگی تھی

“تمہیں پاکستان سے جانے سے پہلے نکاح کرنا ہوگا۔۔اگر تمہیں ہماری یہ شرط منظور ہے تو ہمیں بھی تمہاری کسی بھی خواہش پر اعتراض نہیں۔۔۔اسیر کا جُملا کسی بم کی طرح المان کو اپنے سر پر پھٹتا محسوس ہوا تھا”وہ حیرانگی میں غوطہ زن ہوتا اپنے باپ کو دیکھنے لگا جو پرسکون کھڑا اُس کے ہر بدلتے تاثر کو دیکھ رہا تھا

“ننکاح؟المان سے سہی”نکاح”لفظ بولا نہیں گیا

“ہاں کیوں کیا تمہیں اعتراض ہے؟”ہلانکہ اِس میں بُرائی نہیں کوئی۔۔اسیر اُس کی بات کے جواب میں بولا

“بابا جان اگر آپ یہ ناراضگی کی وجہ سے کررہے ہیں”تو ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں۔”ہمیں اندازہ ہے کہ ہمارا لہجہ کافی گُستاخ تھا پر آپ پلیز ایسا بڑا فیصلہ نہ لے۔۔المان اُس کی بات پر جلدی سے بولا

“ہم ناراض نہیں”بہت سوچ ویچار کے بعد فیصلہ لیا ہے”اب اگر تمہیں اعتراض نہیں تو تم سِنگر بن سکتے ہو۔اور ہاں لندن جانے کی تمہیں جلدی تو ہے لیکن ابھی تمہارا پاسپورٹ نہیں بنا۔”وہ تب بنے گا جب تم نکاح پر حامی بھرو گے۔۔۔اسیر کی اِس بات پر وہ شرمندہ سا ہوگیا”کیونکہ وہ سمجھے ہوئے تھا”جیسے اسلام آباد سے کراچی”پھر کراچی سے لاہور جایا جاتا ہے”پاکستان سے دوسرے مُلک بھی ویسے جایا جاتا ہوگا۔”پاسپورٹ کا وہ سِرے سے بھول گیا تھا

“بابا جان پاسپورٹ کا مسئلہ نہیں وہ تو ایک ماہ بعد بن جائے گا۔۔”پر نکاح کس سے؟اور کیوں؟المان اُلجھن کا شکار ہوا

“تمہارا نکاح۔۔”یہاں تمہارے واپس آنے کی ضمانت ہوگا۔۔۔اسیر کی بات المان کے سر پر سے گُزری

“ضمانت سے کیا مُراد؟”کیا آپ کو ہم پر بھروسہ نہیں؟المان نے اُس کی بات کا الگ سے مطلب اخذ کیا

“تمہارا کیا بھروسہ؟”لندن جاکر اپنے لیے کوئی گوری پسند کرلوں اور یہاں ایک پیغام بھیجو کہ اب تم پاکستان کبھی نہیں آؤگے۔۔”وہی رہو گے”یہاں گاؤں میں تو تمہارا دل ویسے بھی نہیں لگتا۔ اسیر نے بغیر کسی تاثر سے کہا

“آپ کو ہم پر بھروسہ ہونا چاہیے۔۔المان نے سنجیدگی سے کہا”اُس کو تکلیف ہوئی تھی

“تھمادو پھر بھروسے کی ڈور۔۔اسیر نے شانے اُچکاکر اُس سے کہا

“نکاح بہت بڑی کمنٹمنٹ ہے اور ابھی ہم اِن چیزوں کے لیے تیار نہیں۔۔المان کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیسے اسیر کو سمجھائے

“ایک ماہ کا وقت ہے تمہارے پاس۔۔”خود کو تیار کرلوں”اگر اُس سے پہلے تم نے کوئی فیصلہ لیا تو اچھی بات ہے۔۔”ورنہ ایک ماہ بعد کسی نتیجے پر پُہنچ کر تمہیں ہمارے پاس آکر اپنے فیصلے سے آگاہ کرنا ہوگا۔۔”اور تب تک ہم کوشش کرینگے کہ تمہارا پاسپورٹ جلدی بن جائے۔۔”پھر یہاں ایک طرف تمہارے دستخط نکاح نامے پر اور دوسری طرف تمہارے دوسرے ہاتھ میں پاسپورٹ ہوگا۔۔”تم اپنا خواب پورا کرسکتے ہو۔۔اسیر نے جیسے رہائی کا کوئی آپشن نہیں دیا اُس کو

“اِجازت نہیں تھی دینی تو صاف الفاظوں میں کہہ دیتے یوں نکاح کا کیوں بول رہے؟المان اپنا سرجھٹک کر بولا

“ہمیں اعتراض تھا”لیکن اب نہیں ہے کیونکہ پتا چل گیا آج کہ ہماری اولاد اب بڑی ہوگئ ہے”اِتنی کہ اپنے لیے ہر اچھا بُرا بخوبی سمجھ سکتی ہے۔۔”ہم زور زبردستی کرکے اُن سے اپنی کوئی بات منوا نہیں سکتے۔۔اسیر نے کہا تو منہ پر بات مارنے والا”المان اُس سے یہ تک نہیں بول پایا کہ ابھی جو نکاح کی شرط سامنے رکھی ہوئی ہے۔۔وہ ایک طرح سے زبردستی ہی ہے”کیونکہ اُس کو یہ اچھے سے پتا تھا کہ اپنی یہ عادت اُس نے اپنے والدین سے ہی لی ہے”اور وہ اگر ایسا کچھ اسیر سے کہتا تو جواب میں پھر اسیر ملک اُس سے ایسی کوئی بات کرتا جس میں اُس کی بولتی بند ہوجاتی”کیونکہ باپ باپ ہوتا ہے

“لڑکی کون ہوگی؟المان کے دماغ میں اچانک سے خیال آیا کیونکہ اُس کو اب دماغ میں آیا کہ “نکاح اُس کا کسی لڑکی سے ہوگا

کیا نکاح کے لیے راضی ہو؟اسیر نے اُلٹا اُس سے سوال کیا

“آپ نے ایک ماہ کا وقت دیا تھا۔۔المان نے جیسے یاد کروانا چاہا

“سہی ہے جب مان جاؤ گے تو لڑکی کا پتا بھی چل جائے گا۔۔اسیر نے کہا تو المان کو اُس کی بات عجیب لگی

“لڑکی کون ہے؟”اِس بات کا جواب تو آپ کو دینا چاہیے۔۔المان نے احتجاجاً کہا

“تمہاری”ہاں”اُس لڑکی سے مُلاقات کروا لے گی”تم زیادہ پریشان نہ ہو۔۔اسیر نے اُس کی بات پر محض اِتنا کہا

“سارے دھماکے ایک بار کرتے تو اچھا تھا”دوبارہ شاید کوئی اور بم خود پر گِرتا برداشت نہ کرپائے ہم۔۔المان اُس کی بات پر سرجھٹک کر بولا تو اسیر پہلی بار مُسکرایا

“آج کے لیے اِتنا ڈوز کافی ہے۔۔”کیونکہ ایک جھٹکا ملا ہے دوسرا بھی آج ملے تو پھر شاید تم سہن نہ کرپاؤ۔۔”کچھ گیپ کے بعد ملے تو چانس ہیں سہن کے۔۔اسیر اِتنا کہتا لمبے لمبے ڈُگ بھرتا وہاں سے چلاگیا۔”پیچھے المان تب تک اُس کی پشت کو دیکھتا رہا جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہوا

💮

“بابا جان آپ سے بات کرنا تھی۔۔۔اقدس اسیر کے کمرے کے دروازے پاس کھڑی اُس سے بولی تو فاحا نے چونک کر اُس کو دیکھا پھر اسیر کو جو سونے کی تیاری میں تھا

“آجاؤ۔۔۔اسیر نے مسکراکر اُس کو اِجازت دی تو اقدس آہستہ سے چلتی ہوئی اُس کے پاس آئی

“آپ سے بات کرنی ہے کچھ۔۔۔اقدس نے سرجُھکا کر بتایا

“آپ کی ماں نے بتایا تھا”آؤ بیٹھو اور بتاؤ کیا بات کرنی ہے؟اسیر نے اُس کو اپنے ساتھ بیٹھنے کا اِشارہ کیا”وہ سمجھ گیا تھا کہ اب اقدس اپنی کوئی بات منوائے گی”کیونکہ رشتہ جو نہیں تھا ہوا

“ہم شہر جانا چاہتے ہیں۔۔اقدس نے بتایا

“شہر اپنی خالا سے ملنے یا پُھوپھو سے؟اسیر نے پوچھا

“ملنے کے لیے نہیں۔۔اقدس نے اپنا سر نفی میں ہلا

“پھر؟اسیر نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھا

“ہم چاہتے ہیں شہر کی کسی یونی میں آپ ہماری جاب کی بات کرے”ہم کسی یونی میں لیکچرار بننا چاہتے ہیں”اگر آپ اجازت دے تو۔۔۔اقدس نے ُپرامید نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو اسیر نے فاحا کو دیکھا جو خود اُس کو دیکھے جارہی تھی

“جاب کیوں؟اسیر نے پوچھا

“کچھ الگ کرنا چاہتے ہیں۔۔”خود کو مصروف رکھنا چاہتے ہیں”حویلی میں ہمارے لائق کوئی کام نہیں ہوتا”یہاں جو اسکولز ہیں اور آپ نے کالج بنوایا ہے وہاں ہمیں کوئی ٹیچر کی نظر سے نہیں دیکھتا”گاؤں کے سردار کی بیٹی جیاں ٹریٹ کیا جاتا”ہر کوئی ہمارے آگے پِیچھے گھومتا ہے جو بات ہمیں اچھی نہیں لگتی۔”شہر جائے گے تو ہر کوئی ہمیں عام لوگوں کی طرح ٹریٹ کرینگے۔۔۔اقدس نے کہا تو اسیر نے گہری سانس لی

“شہر میں کیا آپ سوہان یا لالی کے پاس رہے گی؟”ہم نے بچپن میں وہاں آپ کو نہیں چھوڑا تو سوچے اب کیسے رہنے کی اِجازت دینگے؟”اگر یہاں جو مسئلہ ہے وہ حل ہوجائے تو کیا آپ کالج یا اسکول میں گاؤں کے اندر جاب کرینگی؟اسیر کی اُس کی بات کے جواب میں سنجیدگی سے بولا

“میری مانے تو حو اقدس چاہتی ہے وہ کریں”مان کا بھی آنے جانے کا مسئلہ ہوتا ہے۔”روز صبح جلدی اُٹھ کر اُس کو گاؤں سے شہر کے لیے نکلنا پڑتا ہے۔۔”ماہی بھی پریشان ہوتی ہے”اُس کی کالج کی پڑھائی کو شروع ہوئے ایک ماہ ہوگیا ہے لیکن وہ مطمئن نہیں ہاسٹل کا ماحول اُس کو پسند نہیں آتا”پہلے اُس کو اپنی روم میٹ سے مسئلہ تھا تو اب ساتھ والے روم سے اُس کو مسئلہ ہے۔۔”اگر اقدس بھی شہر جاکر جاب کرنا چاہتی ہے تو شہر میں آپ کوئی چھوٹا سا اپارٹمنٹ دیکھ لے جو یونی اور ماہی کے کالج کے قریب ہو”یہ سب وہاں رہنگے۔۔”حویلی سے ملازمہ اور ڈائیور بھی ساتھ ہوگا تو آپ کو بھی کوئی ٹینشن نہیں ہوگی۔۔۔اسیر کی بات پر اقدس کی اُتری ہوئی شکل دیکھ کر فاحا نے درمیان میں مُداخلت کرتے ہوئے سارا کچھ ترتیب میں دے دیا تو اقدس کا چہرہ کِھل اُٹھا تھا

“آپ کی بات بھی سہی لیکن ایسے اگر حویلی کے تینوں بچے شہر میں رہائش پذیر ہوگے تو حویلی تو خالی ہوجائے گی۔۔اسیر مطمئن نہ ہوپایا

“مان کو تو آپ نے دوسرے مُلک بھیجنے کا سوچ لیا ہے”اور ماہی بھی ہاسٹل میں رہے یا اپنے اپارٹمنٹ میں اُس سے کیا فرق پڑے گا؟”بس ایک اقدس کا اضافہ ہوگا تو یہ کڑوا گھونٹ پی لے۔۔”اقدس کی خوشی کا سوال ہے۔”ویسے بھی ہفتہ کے دن تو ہماری اقدس حویلی میں ہی ہوا کرے گی۔۔۔فاحا نے ہر دلیل دے کر اُس کو راضی کرنے کی بھرپور کوشش کی

“ٹھیک ہے”ہم دیکھتے ہیں۔۔جیسا ہماری اقدس چاہتی ہے ویسے ہوگا۔۔۔اسیر نیم رضامند ہوکر بولا تو اقدس خوش ہوتی اُس کے سینے سے لگی تھی

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤

سب کی نظریں یونی گیٹ سے داخل ہوتی اسپورٹس بائیک پر جمی ہوئی تھی” ہر ایک کو یہی لگا تھا کہ ہیلمنٹ اُترنے سے جو چہرہ سامنے آئے گا وہ کسی لڑکے کا ہوگا پر ایسا نہیں ہوا تھا۔ ۔

“بائیک کو روکنے کے بعد اُس نے جب ہیلمنٹ کو اُتارا تو سیاہ گھنے بال کسی آبشار کی طرح پشت پر گِرے تھے” جس پر اُس نے اپنے سر کو دائیں بائیں ہِلاکر چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجائے ہر ایک کی اُڑی رنگت کو دیکھا تھا وہ جانتی تھی ہر کی بدلتی کیفیت کو وہ ایشال لُغاری تھی جو ہر بار ہر ایک کو اپنے ہر عمل سے چونکا دیتی تھی۔

“یہ پھلجڑی کون ہے؟رایان نے جب ایشال کو دیکھا تو حیرت سے بولا”اور لفظ”پُھلجڑی”پر عیشا نے تھپر اُس کے بازو پر دے مارا تھا

“دیکھی دیکھی ہوئی سی لگ رہی ہے۔۔سکندر پرسوچ نظروں سے ایشال کو دیکھ کر کہا

“یار یہ ایشال لُغاری ہے جو آئے دن میئگرین کی زینت بنتی ہے۔۔عیشا نے اُن دونوں کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے بتایا

“اچھا پر ایسی پاپولر ہستی ہماری یونی میں کیا کررہی ہے؟رایان مزید حیرانگی بھرے لہجے میں بولا

“پاپولر کیسے ہوئی؟”کونسا کوئی اچھے کام کی وجہ سے آتی ہے۔۔”لیٹ نائٹ پارٹیز میں جانا”لڑکوں سے دوستی کرنا”اِس کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے”اور اپنے اِن کاموں کی وجہ سے وہ اخباروں کی سرخیوں میں ٹاپ پر ہوتی ہے۔۔۔عیشا نے جتاتی نظروں سے اُن کو دیکھا

“تو کیا ہوا؟”ہر ایک کی اپنی زندگی ہے وہ جیسے چاہے گُزارے”یہ ہر انسان کا رائٹ ہے۔۔”المان جو ابھی آیا تھا اُن کی باتوں کی نوعیت کو جان کر اپنا نظریہ پیش کرنے لگا

“ہر انسان کی نہ کچھ حدود ہوتیں ہیں”پھر چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی”اگر دونوں میں سے کوئی بھی اپنی حدود کو کراس کرنے کی کوشش کرے گا”تو اُس کا ایمپریشن کبھی لوگوں پر اچھا نہیں پڑے گا۔۔عیشا نے طنز لہجے میں المان کو اُس کی بات کا جواب دیا

“ہم انسان دوسرے انسان کو خوش کرنے تو دُنیا میں نہیں آئے نہ؟المان نے اُس کی بات سے اختلاف اُٹھایا

“کسی نے کہا ہے کہ آپکی حدود آپ کو دوسروں سے منفرد بناتی ہے”اور صرف منفرد ہی نہیں”بلکہ آپ کے مضبوط کردار کی عکاسی کرتی ہے۔۔عیشا اِتنا کہتی وہاں سے جانے لگی۔۔تو رایان نے داد دیتی نظروں سے عیشا کی پشت کو دیکھا تھا جبکہ المان نے اپنا سرجھٹکا تھا

“ایش تمہیں پتا ہے تمہاری بیٹھنے والی سیٹ پر کسی اور نے اپنا قبضہ جمالیا ہے۔۔۔ایشال بنا کسی پر نظر ڈالے اپنے دھیان میں سیل فون کو استعمال میں لائے چلتی جارہی تھی جب اُس کی دوست نے اُس کے پاس چلتے بتایا تو”ایشال کے قدموں کو بریک لگی تھی”اور وہ رک کر آئبرو اُپر کیے اپنی دوست کو دیکھنے لگی

“ریئلی؟”تو یعنی میری غیرحاضری میں میری جگہ پر یعنی ایشال لغاری کی جگہ پر بیٹھنے کی جُرئت کی ہے”میں اُس کا منہ نہ نوچ لوں۔۔اپنے لمبے ناخنوں کو دیکھتی ایشال دانت پر دانت جمائے بولی تھی

“یار ایش وہ لڑکا بہت شاندار پرسنائلٹی کا مالک ہے۔۔اُس نے پرجوش لہجے میں بتایا

“وہ میری سیٹ پر بیٹھا ہے”اِس کا حساب اُس کو دینا پڑے گا”میری بلا سے بھاڑ میں جائے اُس کی شاندار پرسنائلٹی میں نے اُس کا اچار نہیں ڈالنا۔۔کہنے کے ساتھ ہی ایشال نے اپنا سیل فون اور بیگ پاس گُزرتی لڑکی کو دیا اور خود اپنی جیکٹ کی کہنیوں کو فولڈ کرتی رُخ اپنے ڈپارٹمنٹ کی طرف کیا تھا پہلی ہی نظر اپنے بیٹھنے والی جگہ پر پڑی تھی”جہاں کوئی اور بیٹھا نظر آیا۔۔ایشال نے خاصی ناگوار نظروں سے”زوہان کو دیکھا جو میرون کلر کی شرٹ کے ساتھ بلیک جیکٹ میں تھا”بال نفاست سے سیٹ تھے”جبکہ نظروں کا مرکز اپنے پاس کُھلی کتاب کی طرف تھا۔۔”

“نام کیا ہے اِس کا؟ایشال نے لاپرواہ بیٹھے زوہان سے نظریں ہٹائے اپنی دوست سے پوچھا

“زوہان زوریز۔۔اُس نے بتایا تو ایشال چلتی ہوئی زوہان کے سر پہ کھڑی ہوئی”سیٹ پر اپنے ہاتھ سے نوک کیا تو زوہان نے سراُٹھایا جہاں ڈارگ گرین کلر کی شرٹ کے اُپر بلیک جیکٹ اور ڈارک گرین ٹائٹس جو اُس کے ٹخنوں سے تھوڑا اُپر تھی اُس میں ملبوس”بالوں کو پشت پر کُھلا چھوڑے”پاؤں میں جبکہ ڈریس سے میچ شوز پہنے ہوئے ایشال لُغاری کھڑی خاصی ناپسندیدہ نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی”اپنے حُلیے سے زوہان کو وہ اسٹوڈنٹ کم ماڈل زیادہ لگی تھی”کیونکہ خوبصورت چہرے پر میک اپ کی بدولت مزید سنوارا ہوا تھا”ہونٹوں پر بھی کافی ڈارک لپ اسٹک کا شیڈ تھا”جس سے ہر ایک کی نظروں کا مرکز وہ تھی

“جی؟اس کے ایسے حُلیے پر نظریں ہٹائے بغیر اُس کو دیکھے زوہان نے پوچھا

“یہ میں بیٹھتی ہوں”اِس لیے تم اُٹھو اور کہی اور جاکر بیٹھو۔۔ایشال نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں اُس سے کہا

“آج میں بیٹھا ہوں”آپ اپنے لیے کوئی اور سیٹ جاکر دیکھے۔۔۔جواب تُرنت آیا تھا جس پر ایشال نے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینچ کر زوہان کو گھورا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *