Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 40)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“آج آپ ہمیں گاؤں چھوڑ آئیے گا۔۔”اگلے دن اقدس نے آتش کو دیکھ کر کہا جو اپنے کلائی میں گھڑی پہن رہا تھا۔

“خیریت ہے؟”کچھ دن پہلے تو وہاں سے آئی ہو۔۔”اور اب پھر سے وہاں جانا ہے تم نے۔۔”اُن کا تمہارے بغیر دل نہیں لگتا یا تمہارا یہاں میرے ساتھ دل نہیں لگ رہا؟۔”آتش نے اُس کی بات پر پوچھا

“آپ کو ہماری ساس بن نے کی ضرورت نہیں۔۔۔”اقدس نے اُس کے ایسے سوال پر دانت پیسے۔۔”جس کا لہجہ کسی روایتی ساس سے کم نہ تھا

“ساس نہیں میں تو تمہاری سانس بننا چاہتا ہوں۔۔”جس کے بغیر تمہارا جینا دُشوار ہوجائے۔۔”آتش اُس کے چڑنے پر محفوظ ہوکر بولا

“آپ چھوڑ آئے گے یا نہیں؟”اگر نہیں تو صاف لفظوں میں بول دے۔۔”ہم اپنے بھائی کو کہہ دینگے۔۔”اقدس اُس کی بات کو اگنور کرتی بولی

“یہاں آؤ زرا۔۔۔”آتش نے اُس کو اپنے پاس آنے کا کہا

“کیوں؟”اپنی جگہ جم کر کھڑی ہوتی اقدس نے سوال کیا

“آؤ تو سہی۔۔”آتش نے پھر کہا تو وہ آہستہ چلتی ہوئی اُس کے سامنے کھڑی ہوئی

“یہاں بیٹھو۔۔”آتش نے اُس کو اپنے پہلو میں بِٹھایا

“بات کیا ہے؟”اقدس زچ ہوئی

“جو میں پوچھ رہا ہوں۔۔”اُس کا سچی سچی جواب دینا بغیر کسی جھول کے۔۔۔۔”آتش نے سنجیدگی سے کہا

“ہم ہمیشہ سچ ہی بولتے۔۔۔”اقدس نے بھی جواباً سنجیدگی سے کہا

“ہاں تو میں پوچھ رہا تھا۔۔”کہ کیا تمہارا دل نہیں چاہتا ایک خوبصورت سی اُداس شام کی طرح ایک جگہ ہو۔۔”جہاں سوائے سکون کے کچھ اور نہ ہو۔۔”یعنی تم اور میں اُس رومانٹک سی پیس فُل جگہ پر اکیلے ہوں۔۔۔”ارد گرد ہلکی میوزک کی آواز ہو۔”اور پھر ہم پیاری سی باتیں کریں۔۔”کیا تمہارا دل نہیں چاہتا ایسا کچھ؟”میرے ساتھ وقت گُزارنے کا؟”آتش نے پوچھا تو وہ جو کسی سنجیدہ بات کی اُس سے توقع رکھے ہوئے تھے۔۔”اچھی خاصی تپ اُٹھی

“نہیں ہمارا دل ایسا نہیں چاہتا۔۔۔”اقدس نے سنجیدگی سے جواب دیا

“واقعی میں نہیں چاہتا؟”آتش کو یقین نہیں آیا

“جی ہمارا دل ایسی فضول فرمائش نہیں کرتا۔۔۔”اقدس نے پھر سے کہا

“سوچ لو۔۔”شوہر ہوں تمہارا ایسی خواہش ہر بیوی کی ہوتی ہے۔۔۔”آتش نے اُس کو اُکسایا

“ہوگی۔”لیکن ہماری نہیں ہے۔۔”اقدس بھی اپنی نام کی ایک تھی

“سچ میں نہیں ہے؟”آتش نے آئبرو اُپر کیے پھر سے پوچھا

“نہیں ہے۔۔”اور کتنی بار بتائے؟”اقدس چڑ کر بولی

“نہیں ہے؟”آتش بغور اُس کے تاثرات جانچ کر بولا

“نہیں ہے۔۔۔۔اقدس نے صبر کا گھونٹ بھر کر جواب دیا اور جیسے ہی وہ اُٹھنے لگی۔۔”آتش نے ہاتھ پکڑ کر اُس کو روک دیا۔۔۔

“نہیں ہے ایسی کوئی خواہش؟”مسکراہٹ دبائے آتش نے سوال کیا

“نہیں ہے۔۔۔”اقدس نے اب کی چبا چباکر لفظ ادا کیا

“ٹھیک ہے پھر تیار ہوجاؤ۔۔”تمہیں تمہارے گاؤں چھوڑ آؤں۔۔”آتش اچانک اُس کا ہاتھ چھوڑ کر بولا تو اقدس بس اُس کا پل میں بدلتا ہوا روپ دیکھتی رہ گئ۔۔”یہ شخص اُس کی سمجھ سے دور تھا۔۔”بہت دور

“اگر وہاں آپ ہوگے تو اچھا رہے گا۔ ۔”دراصل ماہی کو کچھ لوگ دیکھنے آرہے ہیں۔”اقدس کو اب فاحا کی تاکید یاد آئی تو کہا

“مجھے ضروری کام ہے۔۔”وہاں رُک نہیں سکتا۔”ویسے بھی تمہاری پوری کزن پلٹن ہوگی۔ ۔”میری کیا ضرورت وہاں۔ ۔”اپنے کندھوں پر شال اچھے طرح اوڑھ کر آتش نے سنجیدگی سے جواب دیا

“آپ داماد ہیں۔۔”آپ کا ہونا ضروری تھا۔ ۔”خیر آپ کی مرضی۔ ۔۔”اقدس ایک نظر اُس کو دیکھ کر کہتی وارڈروب سے اپنی چادر نکالنے لگی

“میں ضرور ہوتا۔ ۔”لیکن ایک اسمبلی ہے۔ ۔”اور ڈیڈ کا کہنا ہے مجھے وہاں ہونا چاہیے۔ ۔۔”آتش نے جیسے اپنے ناآنے کی وضاحت پیش کی۔۔”اور وہ ایسے وضاحت پہلی بار دے رہا تھا

“پتا ہے آتش آپ لوگوں کی فیملی کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ “اقدس اُس کے روبرو کھڑی ہوتی بولی

“میری فیملی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں۔ ۔”آتش نے بتایا

“آپ لوگوں میں فیملی ویلیوز نہیں۔۔۔”آپ کے لیے آپ لوگوں کا کام فرسٹ پیوریریٹی میں آتا ہے۔۔”آپ کو لگتا ہے شاید ہماری کزن پلٹن کو کوئی کام نہیں ہوتا۔ ۔”لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ۔”فیملی پر کوئی بات ہوتی ہے تو وہ اپنے ضروری سے ضروری کام کو چھوڑ آتے ہیں۔ ۔”اگر کوئی میٹنگ امپورٹنٹ ہو تو اُس کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ ۔”چاہے بعد میں نقصان جتنا کیوں نہ ہو۔ ۔”اقدس اُس کو دیکھ کر طنز مسکراہٹ سے بتانے لگی تو آتش خاموش رہا

“میں ایسا ہی ہوں۔ ۔۔”اور تمہیں مجھے ایسے قبول کرنا ہوگا۔ ۔۔”تم سے جُڑے ہر رشتے کو قبول کرلیا ہے۔۔”اُن کا احترام ہے میرے لیے۔۔”لیکن تھوڑی تھوڑی باتوں پر وہ اُن کے گھٹنوں کے پاس نہیں بیٹھ سکتا۔ ۔”مجھے یوں بار بار اپنی بیوی کے ساتھ میکے جانا پسند نہیں ہوتا۔ ۔”کچھ توقع بعد آتش نے سنجیدگی سے جواباً کہا

“آپ کی مرضی۔ ۔”اقدس اُس کی بات پر بس یہی بول پائی

“میرے اندر فیملی ویلیوز ہیں یا نہیں لیکن ٹرسٹ می اگر کبھی تمہیں میری ضرورت پڑی تو اپنا ہر ضروری کام چھوڑ کر تمہارے پاس آجاؤں گا۔۔۔۔”اُس کو خاموش دیکھ کر آتش اپنا پہلا عقیدت بھرا لمس اُس کے ماتھے پر چھوڑتا کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔”پیچھے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھتی اقدس اپنی جگہ ساکت وجامد کھڑی رہی

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“مان کہاں ہے؟ “نظر نہیں آرہا۔ ۔۔”وہ سب حویلی آئے تو المان کو ناپاکر اُس کے مطلق پوچھا

“وہ اپنے کمرے میں ہے۔۔۔”فاحا نے بتایا

“وہ زیادہ وقت اب اپنے کمرے میں نہیں رہنے لگا؟”میشا فاحا کی بات سن کر بولی

“ہاں بس وہ آجکل پرائیویٹ اسٹڈی کرتا ہے۔ ۔”فاحا نے بتایا

“ہم مل کر آتے ہیں۔ ۔”رایان “زوہان اور سکندر کو اِشارہ کرتا اُن سے بولا

“ہاں کوشش کیجئے گا کہ وہ کمرے سے باہر آئے۔ ۔”فاحا نے اُن تینوں کو دیکھ کر کہا

“جی ضرور کیوں نہیں۔۔”اِس بار زوہان نے کہا پھر وہ تینوں وہاں سے اُٹھ کر مان کے کمرے کی طرف بڑھ گئے

“مان نے کچھ بتایا کہ وہ انگریزی گانے سیکھنے گیا تھا تو کیا بنا؟ “سوہان نے اُن لوگوں کے جانے کے بعد فاحا سے پوچھا

“آپو وہ کچھ بتاتا نہیں۔ ۔”اسیر نے بھی منع کیا ہوا ہے کہ اگر وہ کچھ بتانا نہیں چاہتا تو ہم میں سے کوئی اُس کو فورس نہ کرے۔ ۔۔”فاحا نے گہری سانس بھر کر کہا

“مجھے پتا چلا ہے اُس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ ۔”اور وہ کیوں بنا ہے ایسا۔۔”میشا نے بتایا تو وہ سب الرٹ ہوتیں اُس کو دیکھنے لگیں

“موم آپ کو پتا ہے؟”عیشا جو اپنے سیل فون میں مصروف تھی۔ ۔”میشا کی بات پر کافی حیران ہوتیں بولی

“ہاں وہ۔ ۔”میشا کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اب کیا بتائے؟ “کیونکہ وہ تو عیشا کی موجودگی کو فراموش کرگئ تھی۔

“آپو بتائے نہ کیا آپ کو سچائی کا پتا چل گیا؟ “مان کہاں اور کس حال میں تھا؟ “آپ کو انداز ہے میں کتنا پریشان ہوتی ہوں اُس کو یوں خاموش دیکھ کر۔ ۔”فاحا بے چینی سے پوچھنے لگی

“فاحی وہ

“سردارنی صاحبہ مہمان آگئے ہیں۔ ۔”میشا ابھی اُن کو کچھ بتانے لگی تھی۔ ۔”جب ملازمہ نے آکر بتایا تو اُس کی بات درمیان میں رہ گئ

“اِس مطلق بعد میں بات ہوگی۔ ۔”میشا نے فاحا کو دیکھ کر کہا تو اُس نے سراثبات میں ہلایا

__________________________

“مان ہمیں نہیں پتا توں کیوں ہم سے یوں بیگانہ ہوگیا ہے۔ ۔”لیکن یار تیرا ہم سے ایسا گریز ہمیں ٹینشن میں ڈال رہا ہے۔ ۔”توں ہم سے ایسے کیوں ملتا ہے۔ ۔”جیسے ہم کافی انجان لوگ ہو۔ ۔۔”سکندر مان کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔ ۔”جس نے آج پرپل گول گلے والی شرٹ کے ساتھ وائیٹ پینٹ پہنی ہوئی تھی۔

“ایسی بات نہیں۔۔”ہم بھلا تم لوگوں سے گریز کیوں برتے گے؟”المان نے اپنے لہجے کو نارمل بنانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا

“تم بدل گئے ہو۔ ۔”تمہارا ڈریسنگ اسٹائیل تک بدل گیا ہے۔۔”اب دیکھو نہ ابھی بھی کیسا کلر پہنا ہوا ہے۔۔رایان کو بس اُس کے کپڑوں کی فکر تھی

“ٹھیک تو ہے۔ ۔”المان کو اُس کا اعتراض سمجھ میں نہیں آیا

“ہاں لیکن پہلے تو کبھی تم نے ایسے کپڑے نہیں پہنے۔ ۔”اب پہننے کی کوئی خاص وجہ؟”رایان نے پوچھا

“کپڑوں کو چھوڑو یہ بتاؤ تم نے ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی رابطہ کیوں نہیں رکھا تھا؟”زوہان ڈائریکٹ مدعے کی بات پر آیا تھا

“ہم واپس آگئے ہیں نہ۔۔”تو کیا یہ ضروری نہیں؟”سچائی ساری جان کر تم لوگوں نے کیا کرنا ہے؟”المان نے سنجیدگی سے کہا

“ہمارا جاننا اگر ضروری نہیں تو تم پہلے جیسے بن جاؤ۔۔”اپنی خاموشی کا قفل توڑدو۔۔”یقین کرو پھر ہم تم سے پوچھے گے نہیں کہ اِن چھ سالوں میں کیا ہوا۔۔”زوہان نے کہا تو المان کو سمجھ نہیں آیا کہ اب وہ کیا جواب دے؟

“کیا ہوا چُپ کیوں ہوگئے ہو؟”سکندر نے اُس کو چُپ دیکھ کر پوچھا

“ہم پہلے کی طرح ہیں۔۔”تم لوگوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔۔”المان نے بتایا

“اچھا واقعی تو توں پہلے کی طرح کال میسج کرکے لمبی گپ شپ کیوں نہیں کرتا؟”کل جب جگو کو ہم زچ کررہے تھے تو بجائے تم ہمارے ساتھ دینے کے چیخنے کیوں لگے تھے؟”سکندر نے اِس بار جو سوال اُٹھایا اُس پر وہ اپنی جگہ پہلو بدلتا رہ گیا تھا

“ہاں اور کیا تم نے سکندر کو مبارکباد دی ہے۔۔”وہ ایک سنگر بن چُکا ہے۔۔”وہ مقام اُس نے حاصل کیا ہے جس کا خواب تم دونوں نے مل کر دیکھا تھا۔۔”رایان نے بھی کہا

“مبارکباد دینا تو دور کی بات ہے پر کیا توں نے میرا کوئی گانا سُنا بھی ہے؟”سکندر طنزیہ لہجے میں بولا

“ہم نے کوئی گانا نہیں سُنا۔۔”دراصل ہمارے اندر یہ سارے شوق ختم ہوچُکے ہیں۔۔”المان نے صاف گوئی کا مُظاہرہ کیا

“کیسا شوق؟”گانا سُننے کا یا گانے کا؟”ویسے ایک انٹرسٹنگ بات بتاؤ اِن چھ سالوں میں نے سکی کے گانوں کو سُن سُن کر اپنا دماغ خراب کرلیا ہے۔۔”آئے مین اکیلا بیٹھا ہوتا ہوں تو گُنگُناتا ہی رہتا ہوں۔۔”رایان نے کہا تو سکندر ہنس پڑا تھا اور زوہان نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا۔۔”اُن دونوں کو” رایان کی قیامت خیز ادائیں یاد آگئیں تھیں۔۔۔

“ہمارے یہ دونوں شوق ختم ہوچُکے ہیں۔۔”ہم یہی کوشش کرتے ہیں کہ خود کو گانا سُننے سے اور گانے سے باز رکھے۔”اب دیکھو نہ جو وقت تم نے گانا سُننے میں لگایا اگر وہ وقت قرآن کی تلاوت میں لگاتے تو ایک دو سے زیادہ آیتیں تمہیں حفظ ہوجاتیں۔۔۔۔۔”المان نے کہا تو وہ تینوں چونک کر ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے

“کیا مطلب تمہارا؟”زوہان نے حیرت سے اُس کو دیکھا

“بابا سائیں گانے نہیں سُنا کرتے تھے تو ہمیں کافی عجیب لگتا تھا۔۔”لیکن اب یہ بات عجیب نہیں لگتی۔۔”ہم اُن کی طرح بننا چاہتے تھے۔۔”پہلے ہی اُن کی بات نہ مان کر اپنی ضد میں آکر نقصان کروالیا ہے لیکن اب بس بہت ہوگیا۔۔”اب ہم ایسی کوئی حماقت کرنے کے حق میں نہیں۔۔۔”المان کی باتوں نے اُن کو اُلجھن میں ڈال دیا تھا۔۔”وہ ایک لفظ بھی اُس کی بات کا سمجھ نہیں پائے تھے

“مان اگر تم بات کو گول مٹول کرنے کے بجائے صاف لفظوں میں کروگے تو ہمیں سمجھنے میں آسانی ہوگی۔۔۔”سکندر سرجھٹک کر بولا

“بات آسان ہے کہ ہم سنگر نہیں بننا چاہتے۔۔۔”اور نہ کوئی گانا سُننا ہمیں پسند ہے۔۔۔۔۔”المان نے سنجیدگی سے بتایا

“اچانک اِتنی بڑی تبدیلی کی کوئی خاص وجہ؟”رایان نے پوچھا

“یہ بتاؤ تم لندن گئے تھے یا نہیں؟”زوہان نے بھی اپنا سوال آگے کیا

“ہم گئے تھے۔۔۔۔المان نے بتایا

“تو اِتنے سال کیا کیا تم نے؟”سکندر تنک کر بولا وہ بلاوجہ چڑ رہا تھا

“ہم نے کچھ نہیں کیا۔۔۔”المان نے سادہ لہجے میں کہا

“آئے تھنک تمہیں اور تمہارے دماغ کو ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔”رایان کو وہ کچھ ٹھیک نہ لگا

“ہم بلکل ٹھیک ہیں۔۔۔”المان نے بتایا

“مہمان آگئے ہوگے۔۔”میں اُن کو دیکھنے جارہا ہوں۔۔سکندر اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُن سے کہتا کمرے سے باہر چلاگیا

“مان تم کب سے ہم سے بات چُھپانے لگے ہو؟””ہم چاروں کا رشتہ تو آئینے کی طرح تھا۔۔”جس کے آگے کوئی بھی بات چُھپ نہیں رہ سکتی تھی پھر اب کیا ہوگیا ہے؟”تم نے ہمارے درمیان یہ کیسی دیوار قائم کرلی ہے۔۔”جس کو ہم سب توڑ نہیں سکتے۔۔۔ زوہان کے لہجے میں افسوس تھا جس کو محسوس کرتا وہ اپنا سرجُھکا گیا تھا

“اگر تمہیں کوئی انسکیورٹی ہے تو وہ شیئر کرسکتے ہو۔۔۔”مطلب تمہیں کس چیز کا ڈر ہے؟”ہمیں بتاؤ ہم مل کر کوئی حل تلاش کرینگے۔۔۔”پر یوں بغیر کچھ جانے تمہیں یوں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔۔۔”رایان نے بھی سنجیدگی سے کہا

“میری طرف دیکھ۔۔۔”زوہان اُٹھ کر اُس کے پاس بیٹھا

“تمہارے اندر جو بھی غبار ہے نہ اُس کو آج باہر پھینک۔۔”یقین کرو توں جو کچھ بتائے گا وہ اِس کمرے کی چار دیواروں سے باہر نہیں جائے گا۔۔۔”اور نہ تم پر کوئی بات آئے گی۔۔”ہماری نظروں میں۔۔”ہمارے دِلوں میں جو تیرے لیے آج مقام ہے ہمیشہ وہی رہے گا۔۔”رایان بھی اُس کے پاس آتا اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر بولا تو المان مزید اُن سے سچائی چُھپا نہ سکا۔۔”اور جو کچھ تھا اُس نے وہ آج سب بول دیا۔۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“ماضی:

“تمہیں خود پر ترس نہیں آتا؟”ایک سال سے ہماری قید میں ہو۔۔۔۔”یہ لو فون اور اپنے باپ سے بولو کہ وہ اُس منحوس فاحا کو طلاق دے۔۔۔”ورنہ ایسے تیری جان میں نہیں چھوڑنے والی۔۔۔۔دیبا زنجیروں میں جکڑے المان کے زخمی وجود کو دیکھتی کاٹ بھرے لہجے میں بولی تو وہ اپنی آنکھوں کو بامشکل کھولتا اُس کو دیکھنے کی سعی کرنے لگا۔۔۔۔

“شاید تمہیں پتا نہیں۔۔”ہم کس کی اولاد ہیں۔۔۔”ہم المان اسیر ملک ہیں۔۔”جو تم جیسی گھٹیا ذہنیت کی عورت کی باتوں میں ہرگز نہیں آئے گے۔۔”المان نے کہا تو اُس نے سختی سے اُس کے بالوں کو جکڑا

“دیکھ تُجھے پتا نہیں یہاں جتنی ڈیمانڈ لڑکیوں کی ہوتی ہے۔۔”اُتنی تم جیسے حسین مردوں کی بھی ہوتی ہے۔۔”اگر ہماری بات نہ مانی تو نقصان اُٹھائے گا۔۔”دیبا نے کہا تو وہ تلخ سا مسکرایا

“ہمارا وجود کتوں کے آگے بھی کرو گی نہ تو بھی نہ ہم تمہاری بات مانے گے اور نہ کسی کے آگے جھکے گے۔۔۔”بس کوشش کرنا ہمیں یہاں سے رہائی نہ ملے۔۔۔”کیونکہ اگر ہماری رہائی ہوئی نہ تو تمہاری خیر نہیں ہوگی۔۔۔”المان نے سرسراتے لہجے میں کہا تو دیبا کا پورا چہرہ غُصے کی شدت سے لال ہوگیا تھا

چٹاخ

چٹاخ

“باپ کی طرح غرور دِکھا رہا ہے۔۔”اُس کے چہرے پر تھپڑ مارتی وہ پاگل ہونے کے در پر تھی

“تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔”ہمارا یا ہمارے والدین کا تم کچھ بگاڑ سکتی ہو؟”اگر یہ لگتا ہے تو تمہاری سوچ ہے۔۔۔”ہم تمہارے ہاتھ لگ گئے۔۔۔”لیکن اب مزید تم ہماری فیملی کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔۔۔”المان اُس کو نفرت سے دیکھتا ہوا بولا

“پتا ہے کیا جہاں تم ہو۔۔۔”پہلے میں وہاں تمہاری بہن ما

“ہماری بہن کا نام اپنی اِس غلیظ زبان سے مت نکالنا۔۔”المان اُس کی بات کا مطلب سمجھتا غیض و غضب کے عالم میں چلاکر بولا تو وہ شیطانی قہقہقہ لگاکر ہنس پڑی۔۔”پھر چلتی ہوئی ایک جگہ آئی وہاں سے بالٹی میں موجود یخ ٹھنڈا پانی وہ اُس کے اُپر گِرانے لگی تو اُس کا پورا وجود سرد پڑنے لگا تھا۔۔۔”لیکن دیبا رُکی نہیں تھی۔۔”اپنی حسد کی آگ میں جلتی وہ ہر طرح سے اُس کو ٹارچر کرنے میں لگی تھی۔۔”جس کو اپنے وجود پر سہن کرنا اُنیس سالہ المان کے لیے کافی مشکل تھا۔۔

__________________________

“المان کو اُس زندان میں رہے مزید ایک سال اور گُزر چُکا تھا۔۔”یہی اُس کی پوری زندگی گُزرجاتی لیکن وہاں موجود ایک بزرگ نے اُس کی قابلِ رحم حالت پر ترس کھاکر کسی کی موجودگی ناپاکر اُس کو رہا کردیا تھا۔۔”سوائے اُس کو اُس زندان سے باہر کرنے کے وہ اُس کی کوئی اور مدد نہیں کرپایا تھا۔۔”ایک تو المان کا پورا وجود زخمی تھا۔۔”دوسرا وہ یہاں کے راستوں سے بھی انجان تھا۔۔”اُس کو نہیں تھا پتا وہ اپنی ایسی حالت میں کہاں؟”کس کے پاس جارہا ہے؟”اُس کا پورا دماغ ماؤف ہوچکا تھا۔۔”وہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔۔”یونہی وہ گِرتے پِڑتے روڈ کراس کرنے لگا تھا۔۔”جب ایک گاڑی اُس کو ہٹ کرچُکی تھی۔۔

“اُس کے بعد جب اُس کو ہوش آیا تو خود کو انجان جگہ پایا۔۔۔۔

“فائنلی تمہیں ہوش آگیا۔۔”اپنے آس پاس انجان آواز کو سن کر اُس نے گردن ترچھی کرکے دیکھا تو پاس صوفے پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے کوئی شاہانہ انداز میں بیٹھا تھا۔۔”یہ چہرہ اُس کے لیے نیا نہ تھا۔۔۔”شکل اُس کو جانی پہچانی سی لگ رہی تھی۔۔”پر اُس کو یاد نہ آیا کہ یہ چہرہ اُس نے کہا کب؟”کیسے دیکھا

“ہم کہاں ہیں؟”المان نے بیحد آہستگی سے پوچھا

“جنت الفردوس جانے والے راستے میں ہیں۔۔”اِن شاءاللہ جلدی ہمارا داخلہ جنت میں ہوجائے گا۔۔”جہاں ستر حوریں ہمیں خوش آمدید کہینگی۔۔”وہ جواب میں چل کر اُس کے پاس آکر بولا تو المان ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا

“ہم سمجھے نہیں۔۔”المان نے کہا تو وہ زیر لب مسکرایا

“تم زندہ ہو۔۔”اِس بات کی مبارکباد وصول کرو۔۔”تم کومہ سے باہر نکلے ہو۔۔”وہ بھی ایک سال بعد۔۔”اُس شخص نے بتایا تو المان بے یقین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگا

“کومہ؟”المان زیر لب بڑبڑایا

“جی کومہ۔۔”ویسے یہاں تمہاری کوئی فیملی نہیں۔۔”مجھے معلوم ہوا تم پاکستان سے ہو۔۔۔”تو کب چل رہے ہو پاکستان؟”ایکچوئلی میں تمہیں تمہاری ایسی کنڈیشن میں اُن کے پاس لیجانا بہتر نہ سمجھا کیونکہ رپورٹس سے معلوم ہوا کہ کسی نے۔۔۔”وہ اِتنا کہتا خاموش ہوگیا

“ہمارے پورے وجود میں آپ کو جلتے کوئلوں کے نشان ملے گے۔۔”المان اُفسردہ سانس خارج کرتا بولا

“تمہارا ایکسیڈنٹ میری گاڑی سے ہوا تھا۔۔”تو میں نے سوچا تمہارا جو نقصان میری وجہ سے ہوا ہے اُس کو پورا کردینا چاہیے۔۔۔”میں یہی ہوں۔۔”تمہیں میری طرف سے جو ہیلپ چاہیے۔۔”وہ بول دو۔۔”پاکستان جانا ہے نہیں جانا؟”یہ تمہارا فیصلہ ہوگا۔۔”اور میں ایک مشورہ دوں گا پہلے تمہیں دماغی طور پر سہی ہونا چاہیے۔۔”خوامخواہ نہیں تو تمہارے والدین پریشان ہوجائے گے۔۔”اُس نے کہا تو المان سے کوئی بھی جواب بن نہیں پایا تھا

“کیا ہوا؟”خاموش کیوں ہو؟”المان کو کچھ بھی نہ بولتا دیکھ کر اُس نے پوچھا

“آپ کا بہت شکریہ لیکن اب ہمیں آپ کی کوئی مدد نہیں چاہیے۔۔”ہم اپنے والدین کے پاس بھی نہیں جائے گے۔۔”ہم نے کونسا اُن کو کوئی خوشی دی ہے۔۔”ہم ایک نافرمان اولاد ہیں۔۔”اور اچھا ہوا جو ہمارا یہ حال ہوا۔۔”ہم اِس سے زیادہ بُرا ڈیزرو کرتے تھے۔۔”آپ نے ہمیں کیوں بچایا؟”آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔۔”المان پاس پڑی چیزوں کو توڑتا ہوا چیختا چلانے لگا تو وہ لب بھینچ کر اُس کی حالت کو دیکھنے لگا۔

“ینگ مین رلیکس کام ڈاؤن کچھ بھی نہیں ہوا۔۔”گہرا سانس لو اور خود کو پرسکون کرو۔۔”وہ اُس کو اپنے ساتھ لگاتا تسلی آمیز لہجے میں بولا جس پر المان اپنا سر زورشور سے نفی میں ہلانے لگا

“ہم نے غلط کیا۔۔”المان بولا

“تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔۔”بس گہری سانس لو۔۔اور خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرو۔۔”اُس کی حالت کے پیش نظر وہ سمجھانے والے انداز میں کہنے لگا تو المان کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا تھا

“ڈونٹ کرائے۔۔”تم مرد ہو اور مرد کو رونا یا نااُمید ہونا جچتا نہیں۔۔”تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا اُس پر تمہیں ہوش گنوانے کی ضرورت نہیں۔۔”بُرا خواب سمجھ کر بھول جاؤ۔۔”اُس کو رونے کا دیکھ کر وہ بولا

“ہمیں نافرمانی کی سزا ملی ہے۔۔”المان نے بتایا

“خُدا کی قضا اور سزا دونوں میں راضی ہونا سیکھو۔۔”زندگی ہمیشہ ایک ڈگری پر نہیں چلتی۔۔”اُتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ اور اُس کی خوبصورتی ہیں۔۔”وہ بغیر اُس کو قصوروار ٹھیرائے بولا تو المان اِس بار چُپ کرگیا تھا۔۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“حال

“اُس کے بعد ہماری زمیداری اُنہوں نے ایک بڑے بھائی کی طرح نبھائی تھی۔۔”ہمارے سارے ڈاکیومنٹس تو گُم ہوگئے تھے۔۔”پھر اُنہوں نے ہماری ہر چیزی جیسے تیسے کرکے نیو بنوائی۔۔”اور شاید ہم یہاں واپس آنے کی ہمت ابھی بھی نہ کرتے۔۔”پر اُنہوں نے سمجھایا تو ہم میں یہاں آنے کی ہمت پیدا ہوئی۔۔۔”المان بغیر سانس لیے اُن دونوں کو بتاتا گیا تھا۔۔”جو وہ سانس روکے اُس کی ہر ایک ایک بات کو غور سے سُن رہے تھے۔۔”اُن کے پاس جہاں ڈھیر ساری باتیں ہوتیں تھیں۔۔”اب ایک لفظ بھی کہنے کو بچا نہیں تھا۔۔”پھر جانے زوہان اور رایان کو کیا ہوا جو ایک لفظ بھی کہے بنا اُٹھ کھڑے ہوئے اور المان کو بھی کھڑا کیے اُس کو اپنے ساتھ لگایا۔۔”اُن تینوں کی آنکھیں نم تھیں۔۔”لیکن ہونٹوں پر قفل لگایا ہوا تھا۔۔”نا اُنہوں نے افسوس کا اِظہار کیا تھا۔۔”نہ اُن دونوں میں سے کسی نے ایک لفظ تسلی کا اُس کو دیا تھا۔”اور نہ ہی پھر اُنہوں نے اُس کو یہ سب بھولنے کا کہا تھا۔۔”کیونکہ اُن کو پتا تھا۔۔”نہ اُن کے افسوس سے المان کا کل بدلا جاسکتا تھا۔۔۔”اور نہ تسلی کے الفاظ کام آنے تھے۔۔۔”اور نہ ہی سب بھولنا اِتنا آسان کام تھا۔۔”تبھی اُن دونوں نے بنا کچھ کہے اُس کو اپنی اپنی موجودگی کا احساس کروایا تھا۔۔”اُس کو بتایا تھا کہ وہ ہمیشہ ساتھ تھے اور ہمیشہ رہے گے۔۔

“بہت ایموشنل ڈرامہ ہوگیا۔۔”اب ہمیں باہر جانا چاہیے۔۔”دیکھے تو سہی کونسا نمونہ آیا ہے ہماری ماہی کو دیکھنے۔۔”کچھ توقع بعد رایان اُن دونوں سے الگ ہوتا اپنے لہجے کو ہشاش بشاش بنائے بولا

“ماہی خوش نہ تھی۔۔”المان نے بتایا

“تو چلو ہمیں اپنے اپنے حصے کا رول پلے کرنا چاہیے۔۔”تاکہ اُن لوگوں کو واپس جانے میں کوئی مسئلہ پیش نہ آئے۔۔”رایان انگڑائی بھر کر بولا تو زوہان مسکرایا

“اماں سائیں تم لوگوں کو بلواتی مدد کے لیے ہیں۔۔”اور ایک تم ہو جو فساد برپا کرنے کے چکروں میں ہو۔۔”المان افسوس سے اُس کو دیکھ کر بولا

“یہ اپن کا ٹیلنٹ ہے جس پر ہم نے کبھی غرور نہیں کیا۔۔”اب ماہ دولت کی تعریف بہت ہوگئ ہے۔۔”نیچے چلنے کی کرو۔۔”رایان نے کالر جہاڑ کر کہا اور کمرے سے باہر جانے لگا تو وہ دونوں اُس کی تقلید میں باہر جانے لگے

____________________

“ماہا آپ لوگوں سے بعد پہلے اکیلے میں اِن موصوف کے ساتھ ملنا چاہتیں ہیں۔۔”عیشا ڈرائینگ روم میں آتی بولی تو ہر کوئی چونک پڑا تھا۔۔”لیکن موصوف صاحب جلدی سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔”جس پر سکندر نے ناگوار نظروں سے اُس کی پُھرتی کو دیکھا تھا

“تمہیں کس کیڑے نے کاٹ لیا جو یوں اُچھل کر کھڑے ہوئے ہو۔۔سکندر طنز لہجے میں اُس کو دیکھ کر بولا

“گلوکار جی ایسی کوئی بات نہیں دراصل میں کافی کُھلی سوچ کا مالک ہوں۔۔”اور ہمسفر بھی مجھے ایسی چاہیے ہوئے تھی۔۔”تو موم میں مس ماہا سے مل کر آپ کو اپڈیٹ دیتا ہوں۔۔”وہ لڑکا ایک ہی بار میں سب کو جواب دیتا ڈرائینگ روم سے نکلنے لگا تو عیشا نے حیرت سے اُس کی پشت کو دیکھا تھا جس نے یہ تک پوچھنا گوارہ نہیں کیا تھا کہ ملنا کہاں ہے؟جبکہ فاحا نے اپنا سر پکڑلیا تھا۔۔”وہ جان گئ تھی کہ ضرور اُس نے کوئی کانڈ ضرور کرنا تھا

“وہ یہاں سے وہاں دیکھتا جانے لگا تھا۔۔”جب پلر سے نظر آتے پلو کو دیکھ کر اپنے بالوں کو سہی کرتا وہ دانت نکالتا پلر کے قریب ہونے لگا

“ہیلو مس ماہا۔۔”وہ پلر کے قریب پُہنچ کر بولا تو دیکھا جہاں ماہا خود کا چہرہ ڈوپٹے میں چُھپائے کھڑی تھی

“آپ

آہو جی ہم کو شمیا آتی۔۔”وہ اُس کو ایسے دیکھتا اُلجھن کا شکار ہوتا کچھ کہنے لگا تھا۔۔”جب ماہا تین بار لفٹ والے پلر کے گول بھاگتی پھر رائٹ والے پلر کے گرد چار بار ڈورتی گہری گہری سانس بھرتی بتانے لگی تو وہ پریشان ہوگیا۔۔”وہ سرتا پیر اُس کا جائزہ لینے لگا تو اُس کے پیر دیکھ کر چونک گیا۔۔”کیونکہ ایک پاؤ میں شوز تھا تو دوسرے میں جتی تھی

“یہ کیا ہے؟”اُس کے پاؤں کو دیکھ کر وہ اُلجھن آمیز لہجے میں بے تُکہ سوال کرتا ہوا بولا تو ماہا نے اپنی ٹانگ اُس کے چہرے تک اُپر کی پھر زور سے پاؤ اُس کے منہ پر مارا

“آہو جی یہ امارا پاؤ ہے۔۔”ماہا نے اُچھل اُچھل کر بتایا تو نیچے گرا ہوا وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھتا ہراساں نظروں سے اُس کو دیکھتا رہ گیا۔۔”جس نے اُس کا منہ سُجھا کر اِتنا نارمل ری ایکٹ کیا تھا۔۔”سُونے پر سُہاگہ اُس کی لینگویج سُن کر اُس کے ہوش خطا کرگئے

“تھاڈے کو موت آگئ کیا؟”ڈوپٹہ اُلٹ کر ماہا نے سوال کیا تو کالے چہرے پر یہ بڑے بڑے اُس کے سفید دانت دیکھ کر وہ غش کھاتا بیہوش ہوگیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *