Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 37)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 37)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“مان۔۔”اقدس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بولے؟”کیسا ری ایکٹ کریں۔۔”جبکہ اپنی شرٹ پہنتا المان اُس کے پاس بیٹھا
“ہماری غیرموجودگی نے پریشان کرنے کے بجائے آپ لوگوں کو شک وشبیہات میں رکھا۔۔”آپ سب کو لگا کہ ہم نے راہ فرار تلاش کردی۔۔”لیکن ایسا نہیں تھا۔۔”ہم تو کب کا مرجاتے وہاں رہ کر اگر ہماری کوئی مدد نہیں کرتا۔۔”المان نے کہا تو اپنی آنسو صاف کرکے اقدس نے اُس کو دیکھا جس کے چہرے پر گہری سنجیدگی کا تاثر تھا
“کس نے مدد کی تھی؟”اور آپ اُس عورت کے چنگل سے آزاد ہوئے کیسے؟”اقدس نے ہمت کرکے پوچھا
“تھا ایک مسیحا ہے۔۔”جس نے آزادی دِلوائی۔۔”ہم تو انجان مُلک میں زخمی وجود کے ساتھ جانے کہاں جانے لگے تھے۔۔”تب ہمارا ایکسیڈنٹ اُن کی گاڑی سے ہوا۔۔”ہوش آیا تو اُنہوں نے بتایا کہ ایک سال بعد آیا ہے۔۔”ہماری مینٹلی کنڈیشن بہت خراب تھی۔۔”اُنہوں نے بھرپور طریقے سے ہر لحاظ سے خیال رکھا۔۔”بغیر ماتھے پر شکن لائے۔۔”ہمیں یقین نہیں آتا کہ اِس جہاں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔۔”جو بغیر کسی غرض کے آپ کی مدد کرتے ہیں۔۔”المان اُس کی بات کے جواب میں یہ بولا تو اقدس کی اُلجھن مزید بڑھ گئ تھی۔
“وہ لڑکی کون تھی جو اُس دن کسی ڈاکیومنٹس کی بات کررہی تھی؟”نانو نے بتایا تھا کہ تم خالی ہاتھ آئے ہو۔۔”تمہارا باقی کا سامان ڈاکیومینٹس؟”اقدس نے جاننا چاہا۔۔”اُس کے دماغ میں سوالوں کا انبار تھا۔۔”جس کا جواب بس المان دے سکتا تھا۔۔”لیکن وہ تو بس بات کو گُھما پِھرا کر بیان کررہا تھا۔۔
“ہمارے سارے ڈاکیومینٹس جو پہلے تھے۔۔”پاسپوٹ وغیرہ شُناختی کارڈ اِن کو دوبارہ حاصل کرنے میں جینی نے ہماری مدد کی تھی۔۔”ہمارے اندر جینے کی چاہ ختم ہوگئ تھی۔”اُس چاہ کو بحال جینی نے کیا تھا۔۔”وہ ایک سائکاٹرسٹ ہے۔۔”المان نے بتایا
“تمہارا مسیحا کون تھا؟”اقدس کو جو بات پریشان کررہی تھی۔۔”وہ پوچھ بیٹھی
“”نام بتانے کی ضرورت نہیں۔۔”کیونکہ اُنہوں نے کہا تھا نیکی وہ ہوتی ہے۔۔”جو بائیں ہاتھ سے کرو تو دائیں ہاتھ کو خبر بھی نہ پڑے۔۔”جو بار بار بتایا جائے یا جتایا جائے وہ نیکی نہیں ہوتی وہ احسان ہوتا ہے۔۔”جس میں احساس نہیں ہوتا جبکہ نیکی میں احساس چُھپا ہوتا ہے دوسرے انسان کے لیے۔۔”المان نے جواب دیا تو اقدس اُس کے جواب پر لاجواب ہوئی۔۔”اُن کا المان واقعی بڑا ہوگیا تھا۔۔”شاید وقت سے پہلے سمجھدار ہوگیا تھا۔۔
“لیکن نام بتانے سے کیا ہوجائے گا؟”ہم سب اُس کا شکریہ ادا کرینگے۔۔”اقدس نے کہا
“بابا سائیں نے کہا تھا کہ آپ کو آپ کے سسرال چھوڑ آنا ہے۔۔”جواب میں المان نے اُس کی بات بدل کر کہا
“سسرال؟”اقدس چونک گئ۔
“آپ کے شوہر کی کال آئی تھی۔۔”اُن کے پاس۔۔”ڈرائیور بھیجنا چاہتے تھے۔۔”تو بابا سائیں نے انکار کیا۔۔”المان نے بتایا
“اُن لوگوں کو اب ہمارا خیال آیا۔۔اقدس سرجھٹک کر بولی
“کیوں کیا آپ وہاں خوش نہیں؟”المان نے پوچھا
“خوش؟”تمہیں پتا ہے وہ گھر نہیں ایک ہوٹل ہے۔۔”جہاں انسان کچھ وقت کے لیے رہتا ہے پھر چلا جاتا ہے۔۔”اقدس نے بتایا
“ہمیں آپ کی بات سمجھ نہیں آئی؟”المان ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا
“چھوڑو اِن باتوں کو اور ہماری بات سُنو۔۔”تم دوبارہ سے اپنی پڑھائی کو کنٹینو کرو۔۔”یا پھر وہ خواب پورا یہاں کرو۔۔جس کو لیے تم یہاں سے گئے تھے۔”اقدس نے کہا تو وہ مسکرایا اور اقدس نے اُس کو ایسے مسکراتا دیکھا تو اُس کو محسوس ہوا جیسے آج اُس کے ڈمپلز بھی اُداس تھے
“انگلش گانے گانا چاہتے تھے۔۔”لیکن اب ہماری ایسی کوئی خُواہش نہیں۔۔”ہمارے دین میں سنگنگ کی اِجازت نہیں گائکی کو حرام کہا جاتا ہے۔۔”اور ہمارے بابا سائیں نے کبھی ہمیں حرام کھانے نہیں دیا۔۔”پہلے اُن کا اعتراض سمجھ نہیں آتا تھا۔۔”لیکن اب آگیا ہے۔۔”ہم جان گئے کہ والدین کی پناہوں سے نکلے گے تو یہ دُنیا نوچ کھائے گی۔۔”ہمیں لگتا تھا کہ بابا سائیں بس یہاں ہمیں اِس گاؤں میں قید کرنا چاہتے ہیں۔۔”لیکن ایسا نہیں تھا وہ بس اِس دنیا کا بھیانک روپ ہمیں دِکھانا نہیں چاہتے تھے۔۔”اُٹھارہ سال تک کسی نے ہم سے اُونچی آواز میں بات نہ کی تھی۔۔”کسی نے غُصے بھری نگاہ سے ہمیں دِکھا تک نہیں تھا۔۔”جہاں بھی جاتے لوگ جُھک کر ملتے کیوں ملتے؟”بابا سائیں کی وجہ سے احتراماً ایسے ملتے۔۔”یہاں سے دور گئے تو ہمارے بابا سائیں کا بس نام تھا وہ نہیں تھے۔۔”جبکہ یہاں تو اُن کی پرچھائی بھی ہمیں سورج کی کڑی دھوپ سے بچاتی تھی۔۔المان نے کہا تو اقدس بس حیران ہوتی اُس کا چہرہ دیکھنے لگی تھی
“مان تمہاری ایسی باتیں ہمیں افسردہ کررہی ہیں۔۔”اقدس اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر بولی
“ہم خوش ہیں۔۔”بس بات کرنے کو دل نہیں چاہتا اِس لیے کم بولتے ہیں۔۔”ورنہ مایوسی والی کوئی بات نہیں۔۔”المان اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا بولا
“لیکن پھر بھی افسوس ہورہا ہے تمہیں کتنی محبت تھی۔۔”سنگنگ سے اور کتنا خوش ہوکر یہاں سے گئے تھے۔۔”اقدس کو اچھا نہیں لگ رہا تھا کچھ بھی
“کہتے ہیں محبت اُللہ سے ہو تو بندگی بن جاتی ہے
محبت اُستاد سے ہو تو روشنی بن جاتی ہے
محبت دولت سے ہو تو مرض بن جاتی ہے
محبت انسان سے ہو تو زندگی بن جاتی ہے
محبت والدین سے ہو تو عبادت بن جاتی ہے
محبت محمد سے ہو تو دُنیا اور آخرت بن جاتی ہے
“آپ کو لگتا ہے ہم نااُمید ہوچکے ہیں۔۔”ہم نااُمید نہیں ایک مرد کو ناُمید ہونا جچتا نہیں۔۔”ویسے بھی وہ فرماتا ہے۔
“ناُمید تمہیں تباہ کردے گی۔۔
“اللہ نے نہ تمہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ بیزار ہوا ہے۔۔”المان ہلکی مسکراہٹ سجائے بولا۔۔”اُس کو واقعی کوئی افسوس نہیں تھا کہ اُس کا خواب پورا نہیں ہوا۔۔”ادھورا رہ گیا
“تم واقعی خوش ہو؟”اور کیا یہ سب بابا سائیں اماں سائیں کو بتاؤ گے؟”اقدس نے پوچھا
“اُن کو پتا چلے گا تو اُن کو تکلیف ہوگی۔۔”اِس لیے جو جیسا چل رہا ہے۔۔”اُس کو ویسے چلنے دے۔۔”المان نے سنجیدگی سے بتایا
“تمہیں عیشا سے بات کرلینی چاہیے۔۔”تمہیں پتا نہیں اُس کی زندگی کتنی متاثر ہوئی ہے۔۔”رشتے آئے دن اُس کے آتے تھے۔۔”لیکن اُن کو ٹائیم نہیں ملا جواب میں لوگ بہتان بازی عیشو پر لگانے لگے کہ ضرور اُس میں کوئی خامی ہوگی۔۔”اقدس نے کہا
“ہم اُس سے کیا بات کریں؟”المان نے اُلٹا اُس سے سوال کیا
“جو بات ہے۔۔”وہ چھ سالوں سے تمہارے نام پر بیٹھی ہوئی ہے۔۔”تمہیں اب اُس کو اپنانا چاہیے۔۔”اقدس نے سنجیدگی سے کہا
“آپ شاید بھول گئ ہیں۔۔”ہمارے ساتھ جو کچھ ہوچکا ہے اُس کے بعد ہم رُخصتی کی بات کریں؟”کیا ہم اُس کے قابل ہیں؟”کیا چاہتی ہیں آپ ہم ساری زندگی سرجُھکاکر اُس کے سامنے آئے؟”المان تلخی انداز میں گویا ہوا
“ایسی بات کیوں کررہے ہو؟”اقدس کو دُکھ پُہنچا
“پھر ہم کیا بات کریں؟”ہم اُس سے بات کرینگے۔۔”لیکن رُخصتی کی نہیں بلکہ یہ بتانے کہ کیا ابھی بھی وہ ایسے شخص سے شادی کرے گی۔۔”جس کے ساتھ حبشی لوگوں نے زیادتی کی ہے۔۔”اُس سے اپنی ہوس پوری کی
“خُدا کا واسطہ ہے۔۔”ایسی باتیں نہ کرو۔۔”اقدس سے اُس کی ایسی باتیں سُننا محال ہوئیں
“آپ سُن کر تڑپ اُٹھی ہیں۔۔”ہم نے تو اپنے وجود پر یہ سب سہا ہے۔۔”یقین جانے کبھی کبھار خود سے گِھن آتی ہے۔۔”المان نے کہا تو اقدس لب بھینچ کر بس اُس کو دیکھتی رہ گئ۔
“تم مرد ہو۔۔”بھول جاؤ۔۔”اور فرض کرو اگر خدانخواستہ یہی سب عیشا کے ساتھ ہوا ہوتا تو کیا تم اُس کو چھوڑدیتے؟”اپناتے نہیں۔؟اقدس نے سنجیدگی سے سوال کیا
“اگر زندہ رہتی تو ضرور اپناتا۔۔”لیکن آپو دو سالوں کا ٹارچر کوئی لڑکی برداشت نہیں کرسکتی۔۔”آپ ایسی باتیں منہ سے نہ نکالیں کہتے ہیں کبھی کبھار قبولیت کا وقت بھی ہوتا ہے۔ “المان نے کہا تو اب اقدس کے پاس جیسے الفاظ ختم ہوچکے تھے۔
“باہر آجائیے گا۔۔”آپ کو آپ کے سسرال ڈراپ کردوں گا۔۔”اُس کو خاموش بیٹھا پاکر المان سنجیدگی سے کہتا کمرے سے باہر چلاگیا۔








“تم نے دوسری شادی نہیں کی؟”خوریہ کے لہجے میں حیرانگی واضع تھی۔۔”اُس کو تو یہی لگا تھا کہ وہ دوسری شادی کرکے اُس کو بھول بھال گیا ہوگا
“نہیں میں پہلی بیوی کے ہوتے دوسری شادی کیوں کرتا؟”عفان نے اُلٹا اُس سے سوال کیا
“بیوی؟”اُس کے ایسے طرزِ خطاب پر وہ جیسے سکتے میں آئی تھی
“اِس میں حیران ہونے والی کیا بات ہے؟”آپ شاید بھول چُکی ہیں کہ ہمارا نکاح ہوگیا تھا۔۔”عفان اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا
“مجھے یاد ہے۔۔”اور میں خلع بھی چاہتی ہوں۔۔”خوریہ نے سنجیدگی سے کہا
“وجہ جان سکتا ہوں؟”ہماری ملاقات سالوں بعد ہوئی ہے۔۔”جانتا ہوں مجھے آپ کو تلاش کرنا چاہیے تھا۔۔”اور میں نے اپنی طرف سے آپ کو ہر جگہ تلاش کیا بھی تھا۔۔”پر جانتا نہیں تھا کہ آپ یہاں ہوگی کراچی میں۔۔”ورنہ میں سیدھا یہاں آتا۔۔”عفان نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا
“تم جانتے ہو نہ میں تمہارے بھائی کی منگ تھی۔۔”خوریہ نے سنجیدگی سے جیسے اُس کو یاد کروایا
“جی آپ اُن کی منگ تھیں۔”یہ بات میں جانتا ہوں۔۔”لیکن اب آپ میری بیوی ہیں۔۔”بھائی نے شادی کرلی ہے۔۔”اُن کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا ہمارے نکاح سے۔۔”جب اُس کو پتا لگا تھا کہ نارمل ری ایکشن تھا ۔”عفان جواباً بولا
“اچھا تو حور کو چھوڑدو گے؟”خوریہ بازو سینے پر باندھے الگ سوال کرنے لگی
“چھوڑنے والی بات کہاں سے آگئ؟”وہ بس میری منگ تھی۔۔”لیکن اب آپ میری بیوی ہیں۔۔”عفان آج اُس کو کافی مختلف لگا
“تمہیں کیا ہوا ہے؟”ایسے بات کیوں کررہے ہو؟”خوریہ سے رہا نہ گیا تو پوچھا
“میں ہمیشہ سے ایسا ہی ہوں۔۔”بس آپ نے کبھی غور نہیں کیا۔۔”عفان نے کہا تو وہ خاموش سی اُس کا چہرہ دیکھنے لگی
“نمبر دے دیجئے۔۔”اپنا یا پھر آنٹی کا۔۔”اُس کو چُپ دیکھ کر عفان نے کہا
“ابا کیسے ہیں؟”اور تم یہاں کیسے؟”خوریہ نے جیسے اُس کی بات سُنی نہ تھی
“انکل کا پتا نہیں۔۔”وہ بغیر بتائے کہی چلے گئے تھے۔۔”البتہ میں یہاں اپنے بوس کے ساتھ آیا تھا۔۔”ایک میٹنگ کے سلسلے میں۔۔”عفان نے بتایا
“دیکھو آنسٹلی میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں۔۔”میں تمہارے ساتھ زندگی نہیں گُزار سکتی۔۔”شادی جیسا ورڈ میری زندگی میں نہیں آتا۔۔”حورم نے اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا
“میں جانتا ہوں۔۔”آپ مجھے بہت غلط انسان سمجھتی ہیں۔۔”کیونکہ میں آپ کے فادر کی پسند ہوں۔۔”لیکن کیا آپ مجھ پر یقین نہیں کرسکتیں؟”یا مجھے ایک وجہ بتائے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ میں غلط ہوں۔۔”لڑکیوں کی عزت نہیں کرتا۔۔”اُن کو اپنے پاؤں کی جُتی سمجھتا ہوں۔۔”عفاب نے اُس کی بات سے یہی اخذ کیا
“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔”خوریہ مختصر بولی
“میں آپ کے گھر آؤں گا۔۔”وہاں پھر تفصیل سے بات ہوگی۔۔”شہر کا پتا لگ چُکا ہے۔۔”گھر کا ایڈریس بھی مل جائے گا۔۔”عفان نے کہا تو خوریہ نے کچھ بھی نہیں کہا









“یہ چھ اقساط ہیں۔۔”اسکرپٹ سامنے رکھ کر حوریہ نے بتایا
“ہمم سہی لیکن باقی اپیسوڈ بھی جلدی لکھ کر دیجئے گا۔۔”ہمیں شوٹنگ جلدی اسٹارٹ کرنی ہے۔۔”چینل کے مالک نے کہا تو حوریہ نے سراثبات میں ہلایا تھا
“اِن شاءاللہ ایک ہفتے تک آپ کو وہ بھی مل جائے گی۔۔”حوریہ نے مثبت جواب دیا
“آپ کا لکھا ہوا زبردست ہے۔۔”بس ویوورز کو اگر پسند آئے۔۔”اور ریٹنگ اچھی آئی تو ہم آپ سے ڈرامے لکھواتے رہینگے۔۔
“اِن شاءاللہ بیسٹ رہے گا۔۔”یہ میرا پہلا لکھا ہوگا جو ٹی وی پر آن ہوگا۔۔”حوریہ پرجوش سی تھی۔۔









“آگیا یاد شوہر تمہیں؟”اقدس گھر آکر سیدھا اپنے کمرے میں آئی تو آتش اُس کو دیکھ کر بولا
“جی جیسے آپ کو آگیا کہ آپ کی ایک بیوی بھی ہے۔۔”اقدس جواباً طنز انداز میں بولی
“کول۔۔”تم نے کیا مجھے یاد کیا؟”آتش شوخ ہوا
“ہمارا ابھی اِتنا بُرا وقت نہیں آیا۔۔”سرجھٹک کر کہتی وہ اپنی شال اُتار کر وارڈروب میں رکھنے لگی
“میں نے تمہاری اپائمنٹ لی ہے۔۔”آتش نے اُس کو دیکھ کر اِس بار سنجیدگی سے کہا
“کیسی اپائمنٹ؟”اقدس کو سمجھ میں نہیں آیا
“اُس رات کے واقعے کے بعد مجھے احساس ہوا جیسے تم اِس نشان کی وجہ سے مینٹلی بہت اپسیٹ ہو۔۔”تو سوچا اِس کی سرجری تمہیں کروالینی چاہیے۔۔”ورنہ تم سے مجھے بڑا خطرہ ہے۔۔”آتش نے ہاتھ کھڑے کیے کہا
“اچھا مذاق تھا۔۔”اقدس نے اُس کی بات کو سیریس نہیں لیا
“میں سیریس ہوں۔۔”آئے مین میں واقعی میں چاہتا ہوں کہ تمہیں سرجری کروالینی چاہیے۔۔”جیسے میں نے کروائی۔۔”آتش نے کہا تو اقدس نے چونک کر سراُٹھاکر اُس کو دیکھا
“آپ نے اِتنی چھوٹی سی چوٹ پر سرجری کروائی؟”اقدس یقین کرنے سے قاصر تھی
“سیریسلی؟”میرے وجاہت سے بھرپور وجیہہ چہرے کا نقشہ بدل کر تم کہہ رہی ہو چھوٹی سی بات ہے؟”آرام سے محترمہ میرا دل کمزور ہے ہارٹ اٹیک بھی آسکتا ہے۔۔آتش تو اُس کی بات پر بدک اُٹھا تھا
“ہمیں آپ سے بحث میں نہیں پڑنا۔۔”اقدس نے سنجیدگی سے کہا وہ آلریڈی المان کی وجہ سے پریشان تھی.۔۔”اُپر سے آتش کی ایسی باتوں سے اُس کو اکتاہٹ ہونے لگی تھی
“لگتا ہے میری یاد تمہیں کچھ زیادہ آئی۔۔”لیکن یار کیا کروں۔۔”میری مصروفیت کا اندازہ لگالوں کہ سرکُھجانے کی بھی فرصت نہیں ملتی۔۔”پر میں نے اسپیشلی فار یو اپنے مصروفیت سے بھرے دِنوں سے ایک ہفتہ نکال لیا ہے۔۔”تو تم جہاں کہو گی میں وہاں تمہیں گھومانے لے جاؤں گا۔۔”آتش نے کافی نارمل انداز میں اُس سے کہا
“آپ نے ہم سے شادی کیوں کی؟”اقدس زچ ہوکر بولی
“تمہارے ماں باپ نے شادی کیوں کی تھی؟”آتش نے اُلٹا اُس سے سوال کیا
“یہ کیا بات ہوئی؟”اقدس اُس کی بات سمجھ میں نہیں آئی
“کبھی بائیولاجی نہیں پڑھی کیا؟”آتش نے پوچھا تو پہلے اقدس کو کچھ سمجھ نہیں آیا لیکن جیسے ہی سمجھ آیا صوفے پر پڑا کشن اُٹھاکر اُس کے منہ پر مارا اور کمرے سے باہر نکل گئ۔۔”اُس کو سمجھ آیا کہ اُس کے حصے میں نہایت بے شرم قسم کا انسان آیا ہے۔۔
“پورے پاکستان کا منسٹر ہوں۔۔”اور گھر میں یہ عزت ہے۔۔”کشن کو گھورتی نگاہوں سے دیکھتا وہ تپ کر بڑبڑایا۔۔”پھر سرجھٹک کر اُس کشن کو سینے سے لگاتا لیٹ گیا







“ڈیڈ آپ فری ہیں؟”زوہان زوریز کے پاس آتا اُس سے پوچھنے لگا جو لیپ ٹاپ گود میں لیتا کوئی ضروری کام کرنے میں مصروف تھا
“ہاں کیوں کیا کوئی بات کرنی ہے؟”زوریز لیپ ٹاپ کی اسکرین کو بند کرتا اُس کی طرف متوجہ ہوا
“جی بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔”زوہان نے گہری سانس بھر کر اُس کو بتایا
“کرو میں سُن رہا ہوں۔۔”زوریز نے سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
“آفاق لُغاری کو تو آپ جانتے ہوگے۔۔”زوہان نے بولنا شروع کیا
“جانتا تو بہت وقت سے ہوں۔۔”اور اب تو خیر سے تمہاری آپو کا سسر ہے وہ۔۔”زوریز نے جواباً کہا
“جی دراصل میں چاہتا ہوں۔۔”آپ اُن کی طرف جائے میرا رشتہ لیکر۔۔’زوہان نے کہا تو زوریز یکدم سیدھا ہوکر بیٹھا
“تمہارے رشتے کی بات کرنے؟”کیا تم اُن کی بیٹی کو لائیک کرتے ہو؟”زوریز کو کافی حیرانگی ہوئی تھی اُس کی بات سُن کر جبکہ زوہان کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے
“جی میں پسند کرتا ہوں ایشال لُغاری کو۔”زوریز کو دیکھ کر اُس نے بتایا تو وہ مسکرایا
“اگر ایسی بات ہے تو میں اور سوہان جلد جائے گے اُن کی طرف بات کرنے۔۔”لیکن یہ سب کب سے چل رہا ہے؟”زوریز نے مسکراکر پوچھا۔۔”تو زوہان کو بہانا نہیں مل پایا
“ڈیڈ دراصل وہ اپنی فیملی سے خوش نہیں۔۔”آئے مین اُس نے بچپن سے اکیلے زندگی گُزاری ہے۔۔”اُس کے والدین نے اُس کو وہ پیار اور توجہ نہ دی۔۔”جو ایک اولاد کو اپنے والدین سے چاہیے ہوتی ہے۔۔”اور یہی وجہ ہے کہ وہ کافی نیگیٹو سوچتی ہے۔۔”جو پیار محبت اُس کو اپنی فیملی سے نہیں ملا وہ باہر کے لوگوں سے تلاش کرتی ہے۔۔”اُس کو ہماری فیملی اپنی آئیڈیل لگتی ہے۔۔”تو بس میں اُس کو اپنی فیملی کا حصہ بنانا چاہتا ہوں۔۔زوہان نے اچھے لفظوں کا چُناؤ کرکے بتایا۔۔”اُس نے اپنے لفظوں میں یہ شو نہیں کروایا کہ ایشال اُس سے شادی کرنا چاہتی ہے یا اُس کا اُس پر پریشر ہے۔۔”وہ نہیں تھا چاہتا کہ اُس کے مطلق کوئی اپنے دماغ میں غلط تاثر لائے۔۔”کیونکہ جتنا اُس نے ایشال کو جانا تھا اُس میں وہ یہی جان پایا تھا کہ وہ بگڑی ہوئی ضرور تھی۔۔”لیکن اِتنی نہیں کہ کوئی اُس کو سُدھار نہ پائے
“میں اُس بچی سے سالوں پہلے مل چُکا ہوں۔۔’کافی نائیس بچی ہے۔۔”مجھے کوئی ایشو نہیں اگر تمہاری پسند وہ ہے تو یقیناً سوہان بھی مائینڈ نہیں کرے گی۔۔”آفٹر آل زندگی تم نے گُزارنی ہے۔۔”زوریز نے مثبت جواب دیا تو زوہان مسکرایا۔۔”وہ نہیں تھا جانتا ایشال اُس کے لیے سہی ہے یا نہیں۔۔”لیکن اُس کے باوجود وہ اُس کو اپنی زندگی میں شامل کرنے لگا تھا۔۔”کیونکہ اُس کو اب اپنی زبان کا پاس رکھنا تھا۔۔
_____________________
“تم نے واپس لاہور نہیں جانا کیا؟”عیشا نے لاؤنج میں رایان کو آرام سے بیٹھا دیکھا تو سوال کیا
“سوری؟
“کیا آپ نے یہ مجھ سے بات کی؟”رایان کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا
“بدقسمتی سے ہاں۔۔”اور تم یہاں کب سے پڑے ہو۔”لاہور نہیں جانا واپس؟”عیشا کے لہجے میں ناگواری تھی
“یہاں آنا۔۔”رایان نے اُس کو صوفے پر بیٹھنے کا اِشارہ کیا
“کیوں؟”عیشا نے اُس کو گھورا
“یقین نہیں آرہا۔۔”آئے میں بزنس وومن عیشا دُرانی مجھ ناچیز کو مُخاطب ہورہی ہے۔۔”یہ انہونی کیسے ہوگئ؟”رایان فل ڈرامائی انداز میں بولا
“تم سے تو بات کرنا فضول ہے۔۔۔عیشا آہستگی سے بڑبڑاتی جانے لگی تو رایان اُس کے راستے میں حائل ہوا
“عیشو ریئلی سوری۔۔”لیکن پلیز یار اپنی ناراضگی کو ختم کردو۔۔”میں بہت مس کرتا ہوں۔۔”ہماری لڑائی کو۔۔رایان نے اُس کو دیکھ کر اِس بار سنجیدگی سے کہا تبھی گھر میں المان داخل ہوا تھا۔۔”وہ دونوں اُس کو یہاں دیکھ کر حیران ہوئے تھے۔۔”کیونکہ اُن کو المان کے آنے کی اُمید نہ تھی
“ہم تم سے بات کرنے آئے ہیں۔۔المان نے ڈائریکٹ عیشا کو مُخاطب کیا تھا۔۔”جس پر وہ جو اُس کو دیکھ کر اپنے کمرے میں جانے لگی تھی۔۔”اُس کے الفاظ نے اُس کو وہاں رُکنے پر مجبور کردیا
“چل جگو نیمے نیمے قدموں سے نکل جا۔۔”لگتا ہے فائنل قسط کا پرومو جاری ہونے والا ہے۔۔”رایان اُن دونوں کے چہرے پر چھائی سنجیدگی کو دیکھ کر بڑبڑاتا دبے پاؤں وہاں سے چلاگیا
