Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 39)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“اماں سائیں مان بھائی کہاں ہیں؟”ماہا فاحا کو دیکھ کر پوچھنے لگی جو ابھی حویلی میں داخل ہوئی تھی

“مان گھر پر نہیں کیا؟”اپنی چادر اُتارتی فاحا چونک پڑی۔۔”اب ایک لمحے کے لیے بھی اگر وہ حویلی میں نظر نہیں آتا تھا تو وہ پریشان ہوجایا کرتی تھی۔

“نہیں آپ جب باہر گاؤں کی عورتوں کے مسائل جان رہی تھی۔۔”شاید وہ تب کہی چلے گئے تھے۔۔”ماہا نے بتایا

“اقدس کو کال ملاؤ۔۔”کیا پتا شہر اُس کے پاس گیا ہو۔۔”فاحا نے پریشانی سے کہا

“آپ پریشان نہ ہو۔۔”ماہا کال کرتی ہے۔۔”ماہا اُس کو پرسکون کرتی اقدس کو کال ملانے لگی تھی۔۔”جب اُس کے سیل فون پر سکندر کی کال آنا شروع ہوئی تو۔۔”اُس نے فاحا کو دیکھا

“کیا ہوا؟”کس کا فون ہے؟”فاحا نے پوچھا

“سکندر بھائی کا فون ہے۔۔”ماہا نے بتایا

“ہاں تو اُٹھاؤ کیا پتا مان اِن کی طرف گیا ہو۔۔”فاحا نے کہا تو وہ سر کو جنبش دیتی کال اُٹھا گئ۔۔

“مان گھر آگیا؟”اُس نے سیل فون کان پر رکھا تو دوسری طرف سے سکندر نے چھوٹتے ہی مان کا پوچھا

“نہیں لیکن کیا وہ شہر آئے ہوئے تھے؟”ماہا نے بتانے کے بعد پوچھا

“ہاں اور ابھی پانچ منٹ پہلے پھوپھو کے گھر سے نکلا تو سوچا پوچھ لوں۔۔”سکندر نے بتایا تو ماہا نے فاحا کو دیکھا جس کی نظریں اُس پر جمی ہوئیں تھیں

“سکندر بھائی ہماری حویلی خالہ سوہان کے گھر کے پاس نہیں۔۔”اور نہ شہر سے گاؤں آنے کا سفر پانچ منٹ کا ہوتا ہے۔۔”ماہا نے طنز لہجے میں کہا تو اپنی عقل پر ماتم کرتا سکندر آنکھوں کو زور سے میچ گیا تھا

“ہونہہ جانتا ہوں۔۔”سکندر اِتنا کہتا کال کاٹ گیا تھا

“آپ پریشان نہ ہو۔۔”وہ شہر گئے ہیں۔۔”پر کیا ہوتا جو ماہا کو بتاکر جاتے۔۔”اُس نے بھی ساتھ جانا تھا۔۔”ماہا نے منہ بسور کر بتایا

“اِس لیے تو بتاکر نہیں گیا۔۔”خیر تم اُس کا کمرہ دیکھ آؤ اگر ملازمہ نے صفائی نہیں کی تو اپنی نگرانی میں کروالینا۔۔”فاحا نے اُس کی بات پر اُس کو دیکھ کر کہا

“ہاں دیکھ کر آتے ہیں ہم۔۔”ماہا نے کہا اور ابھی وہ جانے لگی تھی۔۔”جب فاحا نے کسی خیال کے تحت اُس کو آواز دی

“ماہی کل اچھے سے تیار ہوجانا۔۔

“کیوں کل کیا کسی کی شادی ہے؟”ماہا نے ناسمجھی سے پوچھا

“شادی نہیں کسی کی۔۔”لیکن دوسرے گاؤں سے تمہارا رشتہ آیا ہے۔۔”کچھ لوگ تمہیں دیکھنے آئے گے۔۔”فاحا نے مسکراکر بتایا

“لیکن اماں سائیں ماہا کو ابھی پڑھنا ہے۔۔”اور یہ اچانک سے ہمارے رشتے کی بات کیسے آگئ؟”ماہا اپنی حیرت کو چُھپاتی اُس کو دیکھ کر پوچھنے لگی۔

“پریشان کیوں ہوتی ہو؟”ابھی بس دیکھنے آرہے ہیں۔۔”رشتہ پکا ہوگا بھی تو نکاح کی حدتک رخصتی تمہاری پڑھائی کے بعد ہوگی۔۔”فاحا نے نرمی سے بتایا

“اوو تو یعنی سب کچھ طے ہے۔۔”ماہا کو بس مروتً بتایا جارہا ہے۔۔”اور ظاہری بات ہے نکاح تک آپ نے ایویں تو نہیں سوچ لیا ہوگا۔۔”رشتہ پکا کرینگے تبھی تو آپ نے ایسا کہا۔۔”ماہا کا موڈ بُری طرح سے آف ہوگیا تھا

“ماہی مسئلہ کیا ہے؟”شادی تو تمہاری ہونی ہے نہ؟”فاحا کو اُس کا اعتراض کرنا سمجھ میں نہیں آیا

“لیکن ابھی ماہا کو نہیں کرنی۔۔”ماہا نے زچ ہوکر بتایا

“ابھی ہو بھی نہیں۔۔”کل صرف بات ہوگی۔۔”اسیر کو رشتہ مُناسب لگے گا تو ہی وہ بات کو آگے بڑھائے گے۔۔”فاحا نے اُس کو دیکھ کر تسلی آمیز لہجے میں کہا تو ماہا خاموش ہوگئ۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“آج مان کا ری ایکشن کافی عجیب تھا۔۔”وہ چاروں رات کے وقت لان میں موجود آج کا واقعہ ڈسکس کررہے تھے۔۔”دور فاصلے پر “زوریز آریان”سوہان اور میشا وہ چاروں الگ اپنی باتوں میں مصروف تھے

“وہ کافی ڈسٹرب تھا۔۔”زوہان نے کہا

“تم لوگوں کو ضرورت کیا تھی؟”ایسا ڈرامہ کرنے کی۔۔”وہ ڈر گیا تھا آخر کو اکلوتا سالا تھا میں اُس کا۔۔”اگر میری عزت لٹ جاتی۔۔”تباہ”ہوجاتی۔۔”برباد”ہوجاتی۔۔”تو وہ دُنیا والوں کو کیا منہ دِکھاتا؟”رایان خود کو بری کرتا سارا ملبہ اُن دونوں پر ڈال کر بولا تو وہ دونوں اُس کو گھورنے لگے۔۔”جبکہ عیشا اپنی سوچو میں گُم تھی۔۔

“ویٹ ویٹ۔۔”یہ شروع کس نے کیا تھا؟”سکندر نے طنز لہجے میں پوچھا

“میں نے بس اپنے ٹیلنٹ کو تم لوگوں کے سامنے ظاہر کیا تھا۔۔”اور توبہ توبہ اَسْتَغْفِرُاللّٰه تم لوگوں نے اپنی ٹھرکپن جھاڑ دی تھی۔۔”یعنی میں کوئی راستے کا مال تھا۔۔”رایان کانوں کو ہاتھ لگائے اُن دونوں کو خشمگین نگاہوں سے دیکھ کر بولا

“گائیز کیا تم لوگوں کو نہیں لگتا کہ ایسی کوئی بات ہے۔۔”جس سے ہمیں انجان رکھا گیا ہے۔۔”عیشا نے اچانک سے اُن لوگوں سے کہا تو وہ تینوں اُس کی طرف متوجہ ہوئے

“چھ سالوں میں۔۔’مان کہاں تھا؟”کیوں رابطہ نہیں کیا ہم سے؟”کس کے ساتھ تھا؟”اور اِن سالوں میں اُس نے کیا کیا؟”اِن ساری باتوں سے ہم انجان ہیں۔۔”سکندر نے اُس کی بات کے جواب میں کہا

“لیکن پوائنٹ کی بات یہ ہے کہ کیا وہاں اُس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا تھا؟”کیونکہ آج جو کچھ ہم نے دیکھا۔۔”اور جو مان نے کیا وہ کوئی نارمل انسان نہیں کرسکتا۔۔”زوہان پرسوچ لہجے میں بولا

“کریکٹ یہی بات ہے اور اسپیشلی یہ کہ وہ تم تینوں سے خوفزدہ کیوں ہوگیا تھا؟”آئے مین اُس نے ایسا بیہیو کیا جیسے کچھ اُس نے غلط دیکھ لیا ہو۔۔”کچھ بہت غلط جس کا اثر اُس کے دماغ میں ابھی تک ہے۔۔”اور سِڈنلی ویسا اُس نے دوبارہ دیکھا تبھی وہ اپنے ہوش میں نہیں تھا۔۔”عیشا نے زوہان کی بات سے اتفاق کیا

“لٹرلی مجھے بھی یہ لگتا ہے کہ کیونکہ مان جیسا شخص اگر ایسا ری ایکٹ کریں تو میک شیور کوئی چھوٹی نہیں بلکہ بڑی وجہ ہے۔۔”سکندر نے بھی کہا۔۔”رایان جبکہ اِس وقت چپ تھا

ہاں وہ بہت الگ ہے مین۔۔”وہ الگ ٹائیپ کا ہے۔۔”تم تینوں سے تو ہمیشہ مختلف رہا ہے۔۔”اُس کی ہر چیز۔۔”اُس کا ہر کام تم تینوں سے مختلف رہا ہے۔۔عیشا نے اُن تینوں کو دیکھ کر کہا

“ہاں پہلے وہ شلوار قمیض پہنتا تھا۔۔”جیسے خالو پہنتے ہیں۔”کبھی کبھار پینٹ شرٹ بھی پہنتا تھا۔۔”پر وہ جب سے آیا ہے گول گلے والی شرٹس پہن رہا ہے۔۔”اُس نے دوبارہ شلوار قمیض یا بٹنوں والی شرٹ کا استعمال نہیں کیا۔ ۔رایان نے کہا تو اُن تینوں نے تپی ہوئی نظروں سے اُس کو دیکھا

“سوچ سوچ کر عقل لڑا لڑا کر بھی تم بولے بھی تو بولے کیا۔۔”سکندر نفی میں سرہلاکر بولا تو رایان نے منہ بسورا

“میں نے عقل لگائی ہے۔۔”اور بہت سوچ ویچار سے یہی اخذ کرپایا ہوں کہ وہ پہلے نارمل تھا۔۔”اُس کی حرکتیں بھی نارمل تھیں۔۔”لیکن جس وقت تم دونوں میرے ساتھ زبردستی کرنے لگے تھے تو تب اُس کی حالت غیر ہوگئ تھی۔۔”رایان نے جتاتی نظروں سے اُن کو دیکھ کر بولا تو وہ الرٹ ہوئے تھے۔۔”البتہ عیشا اُس کی بات پر تھوڑا اٹک گئ تھی

“زبردستی؟”عیشا کو سمجھ نہیں آیا تھا

“ویسے واقعی تم میں عقل ہے۔۔”یعنی اللہ نے تمہیں عقل جیسی نعمت دی ہے۔۔”ہم تینوں بس یہ ڈسکس کررہے ہیں کہ مان نے ایسا کیوں کیا؟”اُس کا ری ایکشن عجیب کیوں تھا۔۔”جبکہ ہم نے یہ نہیں سوچا کہ اچانک کیا دیکھ کر اُس نے ایسا کیا۔۔”سکندر سمجھنے والے انداز میں سر کو جنبش دے کر بولا

“میں جب اپنی آواز کا رس ارد گرد گھول رہا تھا۔۔”تو ایسا ویسا کچھ نہیں تھا ہوا مان کے ساتھ۔”اب اگر ہم نے پوری سچائی جاننی ہے تو جو زوہان نے اور تم نے کیا ویسے اگین کرنا پڑے گا۔۔”یا پھر ایسا کچھ اُس کے سامنے پلے کرنا پڑے گا۔۔”جس میں کوئی چیخ رہا ہوں۔۔”چلا رہا ہوں۔۔”تکلیف میں ہو۔۔”رایان نے بھرپور سنجیدگی کا مُظاہرہ کیا تھا۔۔

“تم لوگوں نے کیا کیا تھا؟”کوئی ڈیٹیل سے مجھے بتائے گا؟”عیشا زچ ہوئی

“تم لڑکی ہو لڑکوں کی باتوں سے دور رہو۔۔”رایان نے اُس کو دیکھ کر آرام سے کہا تو جواب میں عیشا نے ایک تگڑی گھوری سے اُس کو نوازہ

“اِس کی بات پر غور نہ کرو۔۔”دراصل ہم نے بس ایک مذاق کیا تھا۔ ۔”ٹرسٹ می اگر تم وہاں ہوتی تو ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہوجاتی۔ ۔”سکندر نے بتایا

“اگر صورتحال ایسی فنی تھی تو وہ ایسا شدید ردعمل کیوں دینے لگا؟ “اور تم میں سے کسی نے اُس پر غور نہیں کیا تھا؟ “آئے مین مذاق کرنے کا ایک وقت ہوتا ہے اور ایک حد ہوتی ہے۔ ۔”عیشا کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہے

“وہی تو ہم سوچ رہے ہیں کہ اُس نے ایسا کیوں کیا؟ “زوہان اُس کی بات پر سنجیدگی سے بولا

“جیسا رایان نے کہا ہے وہ کرکے دیکھ لو۔ ۔”اگر کچھ ہاتھ نہ آیا تو ہم موم ڈیڈ سے بات کرینگے یا پھر اُس کی اپائمنٹ کسی سائکاٹرسٹ سے لینگے۔ ۔”عیشا اِتنا کہتی اُٹھ کھڑی ہوئی تو اُس کے سیل فون پر میسج آیا

“کل ہم نے گاؤں جانا ہے۔ ۔”موقع اچھا ہے تم لوگوں کے پاس۔ ۔”ویسے سکندر تم سے المان کی اٹیچمنٹ زیادہ تھی۔ ۔”سنگنگ بھی دونوں ساتھ کرنا چاہتے تھے تو تمہیں ایک بار کُھل کر اُس سے بات کرلینی چاہیے۔۔”ہوسکتا ہے وہ اپنی دل کی بات تم سے شیئر کرے۔ ۔”عیشا اپنا سیل فون آف کرتی اُس سے بولی

“یہ جو مان آیا ہے یہ وہ نہیں ہے عیشو۔۔”جو ہمارے گلے لگ کر رو کر گیا تھا۔ ۔”یہ تو کوئی اور ہے جو نہ سکی کو جانتا ہے۔ ۔”نہ جگو اور نہ کسی ہانی کو۔۔”سکندر نے اُس کی بات پر کہا تو وہ خاموش ہوگئ

“یہ بتاؤ گاؤں کیوں جانا ہے؟”زوہان نے پوچھا

“ماہی کو دیکھنے کچھ لوگ آرہے ہیں۔۔”عیشا نے بتایا

“اچانک سے؟”سکندر کو حیرت ہوئی

“بتاکر آرہے ہیں۔۔”نہ بتاکر آتے تو تمہارا منہ پھاڑ کر کہنا بنتا تھا کہ اچانک سے۔۔”رایان اُس کی نقل اُتار کر بولا

“وہ ابھی پڑھ رہی ہے۔۔”اِس لیے میں نے کہا۔۔”سکندر نے کہا

“اُس کی پڑھائی پوری ہوگی تو آگے معاملات طے ہوگے ابھی جسٹ رشتہ پکا ہوگا۔۔عیشا نے بتایا

“ہوپ سو کہ بات بن جائے۔۔”زوہان نے کہا

“کیوں؟”تُجھے کیوں اِتنی جلدی ہے اُس کی شادی کی؟”سکندر نے اُس کو گھور کر پوچھا

“لڑکیاں جتنی جلدی اپنے گھر کی ہوجائے اُتنی اچھی بات ہوتی ہے۔۔”رایان چور نگاہوں سے عیشا کو دیکھ کر بولا

“گُڈ نائٹ۔۔”وہ رایان کو اگنور کرکے کہتی گھر کے اندر کی طرف بڑھ گئ

“اب اللہ کریں کل مان ہاتھ آجائے۔۔”رایان نے عیشا کے جانے کے بعد کہا

“مجھے لگ رہا ہے۔۔”ہمیں عیشو اور مان کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔۔”مطلب ایسا کچھ پلان کرنا چاہیے جس سے اُن کو ایک دوسرے کے ساتھ وقت بتانے کا موقع مل جائے۔۔زوہان نے کچھ سوچ کر کہا

“ہانی خیر ہے نہ؟”آجکل تم کافی رومانوی گفتگو کرنے لگ پڑے ہو؟”رایان نے شوخ نگاہوں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“اب اِس میں کونسی رومانوی بات تھی؟”دونوں کا نکاح ہوچکا ہے۔۔”اور نکاح سے پہلے یا نکاح کے بعد اُن دونوں کو آپس میں کچھ باتیں کرلینی چاہیے تھیں۔۔”یہ سہی ہوتا۔۔”زوہان کا انداز ہنوز پرسوچ تھا

“تو وہ کونسی جگہ ہوگی؟”سکندر نے پوچھا

“ہم کسی بہانے عیشو کو مان کے کمرے میں بھیجے گے اُس کے بعد باہر سے دروازہ لاک کردینگے۔۔”زوہان نے کہا تو رایان کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ آئی

“سکی یقین کر یا نہ کر ہمارا ہانی بگڑ چُکا ہے یا پھر رومانٹک فلمز دیکھنے لگا ہے۔۔”مطلب دیکھو تو سہی کیسے جھٹ پٹ چٹ پٹے مشورے دے رہا ہے۔۔”رایان نے اپنی امڈ آنے والی مسکراہٹ کو ضبط کرتے ہوئے “درمیاں میں سکندر کو گھسیٹ کر بولا

“نہیں ویسے ہانی کی بات قابلِ غور ہے۔۔۔”جو ہم نے کیا اُس سے مان کی حالت کافی حدتک بِگڑ چُکی تھی۔۔”اب اگر ویسا ہم پھر سے کرتے ہیں تو ہوسکتا ہے اُس کا غلط اثر نکل آئے۔ ۔”پر اگر عیشو اور مان کو اکیلے میں وقت گُزارنے کا موقع ملے گا تو۔ ۔”مجھے یقین ہے۔ ۔”وہ کوئی باتیں وغیرہ تو لازمی کرینگے۔ ۔”اور جب دو انسان مل بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں تو بات سے بات نکل آتی ہے۔۔”اور اِن باتوں میں یہ بھی ظاہر ہوسکتا ہے کہ مان کہاں تھا؟ “کس کے ساتھ تھا؟ “اور وہ یوں اچانک آنے کے بعد اِتنا بدلا بدلا ہوا سا کیوں ہے؟”سارے سوالوں کے جوابات ہمیں مل جائے گے۔ ۔”سکندر سنجیدگی سے بولا

“ٹھیک ہے ایسا کرکے دیکھ لیتے ہیں۔۔”رایان شانے اُچکاکر بولا

“ویسے وہ آج اُس سے کیا بات کرنے آیا تھا؟ “زوہان کو اب یاد آیا تو پوچھا

“پتا نہیں۔۔”رایان نے لاعلمی کا اِظہار کیا

“مجھے مان کی بہت ٹیشن ہورہی ہے۔۔”مطلب ہمارے ایک چھوٹے سے مذاق پر اُس کی حالت خراب ہوئی تھی۔ ۔”سکندر شرمندگی سے بولا

“ہاں تم دونوں کو ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ۔”رایان نے جواباً کہا

“شروعات تم نے کی تھی۔ ۔”تم اگر واحیات گانے نہ گاتے تو بات اِس حد تک بڑھتی ہی نہ۔ ۔”زوہان اُس کو گھور کر بولا

“میری نہ بات سُنو۔۔۔”میری کوئی غلطی نہ تھی۔ ۔”یہ سارا تم دونوں کا کیا دھڑا ہے۔ ۔”میرا منہ تو بند تھا ۔”رایان نے اپنا دامن صاف کرکے کہا

“آپس میں لڑنا بند کرو۔۔”سکندر نے کہا تو وہ دونوں خاموش ہوگئے تھے جبکہ سکندر اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔

“کہاں؟”اُس کو اُٹھتا دیکھ کر زوہان نے پوچھا

“گھر جارہا ہوں بہت وقت ہوگیا ہے۔۔”سکندر ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھ کر بتانے لگا

“تو آج یہی رُک جا۔ ۔”زوہان نے کہا

“نہیں ایک دو کام ہیں۔ ۔”وہ کرنے ہیں۔ ۔”سکندر نے کہا

“اِس وقت کونسے کام ہیں تمہیں؟ “رایان نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھ کر سوال کیا

“میرا کنسرٹ ہے۔ ۔”اُس کا وارڈروب میں خود سلیکٹ کرتا ہوں۔ ۔”تو بس وہ دیکھوں گا۔ ۔”اُس کے بعد دعا سے بھی ملنا۔ ۔”سکندر نے بتایا

“یہ کونسا وقت ہے نامحرم لڑکی سے ملنے کا؟ “نہیں مطلب کوئی حیا ہوتی ہے۔ ۔”کوئی شرم ہوتی ہے۔ ۔”رایان نے کانوں کو ہاتھ لگائے اُس سے کہا

“اب تمہیں حاجن\ حاجی بننے کی ضرورت نہیں۔ ۔”سکندر اُس کو دیکھ کر سرجھٹک کر بولا

“نہیں اِس کا بات کرنے کا طریقہ غلط ہے۔ ۔”پر بات سہی ہے تم اُس لڑکی سے رات کے اِس ٹائیم کیوں اور کہاں ملو گے؟ “گیارہ بج رہے ہیں۔۔”زوہان نے بھی کہا

“کیا ہوگیا ہے تم دونوں کو؟ “ہم کسی غلط نیت سے نہیں ملنے والے تو چِل کرو۔ ۔سکندر نے اُن کو رلیکس کرنے کی خاطر کہا

“اکیلے مت ملنا۔۔”پھر

“شٹ اپ۔ ۔”رایان ابھی اُس کو کچھ کہنے لگا تھا۔”جب سکندر نے اُس کو ٹوک کر کہا

“مرضی ہے بھئ۔ ۔۔”ہر انسان اپنے اعمال کا ذمیدار خود ہے میں تو بس تمہیں خبردار کرنا چاہتا تھا ۔”رایان لاپرواہ انداز میں بولا

“میری چھوڑو اپنے اعمال پر دھیان دو۔۔”سکندر نے طنز کہا

“چڑ کیوں رہا ہے اِتنا؟”جگو نے کوئی غلط بات نہیں کی۔۔”زوہان کو سکندر کا ایسے چڑنا سمجھ میں نہیں آیا

“مجھے دیر ہورہی ہے۔ ۔”سکندر محض اِتنا بول کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔ ۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“آواز کم کرو۔۔”آتش اپنے چہرے پر تکیہ رکھ کر اقدس سے بولا جس نے رات کے پہر ٹی وی کی آواز کو تیز کرلیا تھا۔ ۔”اور وہ جو سارے دن کا تھکا ہوا اب سونا چاہتا تھا۔ ۔۔”لیکن تیز آواز پر وہ بُری طرح سے ڈسٹرب ہوا

“ہم کم آواز پر ٹی وی نہیں دیکھتے۔”گیم شو دیکھتی اقدس نے جتانے والے انداز میں کہا۔ ۔”حقیقتاً اُس کو اِس شو میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا۔ ۔”وہ بس آتش کو غُصہ دلانے کی خاطر یہ سب کررہی تھی۔ ۔”تاکہ وہ ہائپر ہوتا اُس سے اُونچی آواز میں بات کرے۔ ۔

“باہر بھی ٹی وی ہے ایسا کرو۔۔”وہاں دیکھو۔ “لیکن مجھے سونے دو۔ ۔آتش نے اُس کی طرف کروٹ لیکر کہا

“گھر میں اور بھی کمرے ہیں۔ ۔”ایسا کریں آپ وہاں سوجائے۔ ۔۔”اقدس نے اُلٹا اُس کو مشورہ دیا

“زوجہ تنگ نہیں کرو۔ ۔”جو بول رہا ہوں وہ کرو۔۔آتش نے اِس بار سنجیدگی سے کہا

“اب کیا یہاں ہم اپنی مرضی سے کوئی شو تک نہیں دیکھ سکتے؟ “اقدس نے بھی جواباً سنجیدگی سے کہا

“یہ رات کا کونسا وقت ہے شو دیکھنے کا؟”آتش نے ضبط سے سوال کیا

11:33pm

اقدس نے وال کلاک پر وقت دیکھ کر اُس کو بتایا تو آتش اُس کو گھورنے لگا۔ ۔

“تم یعنی ایسے نہیں مانو گی؟”کو۔ ۔ “اُس کی آنکھوں سے عینک اُتارے آتش نے اُس سے سوال کیا

“ہماری عینک واپس کرو۔ ۔۔”اقدس نے سنجیدگی سے کہا

“پہلے ٹی وی آف کرو۔ ۔”اور خاموشی سے سوجاؤ۔۔”آتش اُس کی عینک پہن کر پرسکون لہجے میں بولا

“ہمیں زچ نہ کرے۔۔اقدس نے ضبط سے کہا

“اچھا جو کچھ دیر پہلے تم کررہی تھی وہ کیا تھا؟”یعنی شوہر تھکا ہوا گھر آتا ہے تو بجائے اِس کے کہ تم اُس کی خدمت کرو۔۔”اُلٹا اُس کو تم ڈسٹرب کررہی ہو۔۔۔آتش نے اُس کو شرمندہ کرنے کی کوشش کی

“تو آپ آج گھر نہ آتے۔۔”وہاں رہتے جہاں اکثر ہوتے ہیں۔۔اقدس نے طنز ہوکر کہا

“اچھا ایسا کیا؟”یعنی تم میری غیرموجودگی میں مجھے مس کرتی ہو۔۔”آتش آرام سے اُس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ کر بولا

“اُفففف یہ کیا حرکت ہے؟”اپنا بھاری سراُٹھائے۔۔اقدس اُس کی آنکھوں سے اپنی عینک اُتار کر تنبیہہ کرتی نظروں سے دیکھ کر بولی

“زوجہ سر دبادو یقین کرو۔ ۔”بڑا دکھ رہا ہے۔ ۔۔”لگتا ہے تمہاری نظر ضرورت سے زیادہ کمزور ہے۔ ۔”عینک پہننا بھاری پڑگئ۔ ۔۔”آتش جیسے اُس کی کوئی بات سُن نہیں رہا تھا

“ہماری کم نظر سے آپ کے سردرد سے کیا لینا دینا؟ “ٹی وی آف کرلیا ہے اب آپ آرام سے اپنی نیند پورے کریں۔ ۔۔”اقدس نے جان چُھڑانے کی خاطر کہا۔ ۔”اگر اُس کو اندازہ ہوتا کہ اُس کی چال اُس پر بھاری پڑے گی تو وہ ایسا کچھ نہ کرتی

“ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے۔ ۔”اب میں ایسے سوؤں گا یقین کرو۔۔”بڑا سکون مل رہا ہے۔۔۔آتش پرسکون سا آنکھیں موند کر بولا

“آپ کو بس اپنے سکون کی پڑی ہے۔۔۔”ہمارا کیا ہوگا؟”آپ اُٹھے یہ کیا بچے بن گئے ہیں۔۔”اقدس اُس کو تاسف سے دیکھ کر بولی

“ہمارے کوئی بچے نہیں نہ تو تم اُن کو مس کرتی ہوگی۔۔”تو سوچا کیوں نہ اُن کی کمی میں پوری کردوں۔۔”آتش اُس کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر بولا تو اقدس ماسوائے اُس کو گھورنے کے کچھ اور نہ کرپائی

“بیڈ کراؤن سے ٹیک لگالوں۔۔۔”میں تمہارا ہوں۔۔”ساری عمر پڑی ہے۔۔”آرام سے دیکھ لینا۔۔”آتش کو خود پر اُس کی نظروں کا ارتکاز محسوس ہوا تو کہا۔۔”لیکن اِس بار بھی اقدس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔”جس پر آتش اپنی ایک آنکھ کھولتا اُس کو دیکھنے لگا۔۔۔”

“اگر ساری رات جاگنا ہے تو میرے بالوں میں انگلیاں چلاؤ۔۔”یقین کرو بہت تھکا ہوا ہوں۔۔۔”آتش نے فرمائشی انداز میں کہا تو اقدس بس صبر کا گھونٹ بھرتی رہ گئ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *