Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 49)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“رُخصتی کا وقت ہوا تو رایان اور سکندر کو اچانک یاد آگیا تھا کہ اُن لوگوں نے زوہان کے ساتھ مل کر المان کے لیے ایک سرپرائز پلان کیا تھا۔۔”اور پلان وہ تھا جو کچھ سال قبل اُنہوں نے المان کو اُس کے نکاح کے دن تنگ کیا تھا اُس کی ویڈیو کو ہال میں چلا دیا تھا۔۔”جس کو ہر کوئی دیکھتا المان کے ری ایکٹ اور اُن کی چھیڑ چھاڑ پر ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہورہا تھا۔۔”لیکن المان اپنی جگہ پہلو بدلتا رہ گیا تھا۔۔”کیونکہ جن نظروں سے اُس کو عیشا دیکھ رہی تھی۔۔”ایسے میں اُس کو پکا یقین ہوگیا تھا کہ اب اُس کی خیر نہ تھی۔۔”ساری عمر اب عیشا نے اُس کو طعنہ مار کر زچ کرکے چھوڑنا ہے۔۔”دوسرا اُس کو اُن تینوں پر بھی تاؤ آیا تھا جنہوں نے اُس کو بھنک تک نہ پڑنے دی تھی اِس ویڈیو کی

“موم آتش جیجو آپ سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔۔رایان نے دانتوں کی نُمائش کرتے میشا کو بتایا تو وہ چونک کر آتش کو دیکھنے لگی جو رایان کی چلاکی پر عش عش کر اُٹھا تھا

“کیا بات کرنی ہے؟”میشا نے آتش کو دیکھ کر پوچھا

“کافی اچھی باتیں ہیں۔۔”اگر آپ کو مناسب لگے تو کہیں بیٹھ جاتے ہیں۔۔”آتش نے شوخ نگاہوں سے اُس کو دیکھ کر بولا تو رایان ہونک بنا آتش کو دیکھنے لگا

“تم اپنی اوش باش حرکتوں سے باز ابھی تک نہیں آئے۔۔”میشا نے کافی افسوس سے اُس کو دیکھ کر کہا

“یہ میرا اسٹائیل ہے آپ خوامخواہ اُس کو اوش باش حرکتیں بول رہی۔۔”آتش نے ایسے ظاہر کیا جیسے اُس کو کافی افسوس ہوا ہو میشا کی بات پر

“مسٹر یہ میری ماں ہے۔۔”رایان میں غیرت جاگی

“ہاں تو میں نے کب کہا یہ میری ماں ہیں؟”آتش نے بائیں آئبرو اُپر کیے اُس سے سوال کیا

“کہا نہیں تو کہہ دو مگر میری موم سے ایسے بات کرنے کی میں آپ کو اجازت قطعاً نہیں دوں گا۔۔”لہذا باتوں کو گول مال کرنے سے اچھا ہے کہ ڈائریکٹ موضوع پر آئے۔۔”رایان نے جھٹ سے کہا

“مسٹر اُردو اور انگریزی کے مکسچر مضمون اگر آپ کی اجازت درُکار ہو تو میں آپ کی والدہ محترمہ سے اکیلے میں بات کرسکتا ہوں؟”آتش نے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجا کر اُس سے کہا

“اکیلے میں کیوں؟”رایان نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھا

“تمہاری تعریف کروں گا تو تم شرم سے مر نہ جاؤں میرا مطلب شرم سے لال گُلنار نہ ہوجاؤ اِس لیے تھوڑے اگر تنہائی کے لمحات مل جائے گے تو میں اپنی بات آرام سے بیان کردوں گا۔۔”آتش نے اُس کو دیکھ کر دانت پیس کر کہا تو رایان کی بتیسی کُھل چُکی تھی۔۔”جبکہ بازوں سینے پر باندھتی میشا اُن دونوں کو تاسف سے دیکھ رہی تھی جن کی باتیں اُس کے سر پہ سے گُزر رہی تھیں

“اچھا اگر ایسی بات ہے تو میں پانچ منٹ کا وقت آپ کو دے دیتا ہوں۔۔”اِس اُمید کے ساتھ کہ آپ محض کام کی بات کرو گے۔۔۔”رایان نے کچھ سوچ کر کہا

“جی بلکل۔۔”آتش نے سر کو جنبش دیتے کہا تو وہ وہاں سے چلاگیا

“آخر ماجرہ کیا ہے؟”میشا نے رایان کے جانے کے بعد اُس سے کہا

“دراصل آپ کے بیٹے نے اپنے لیے ایک وکیل ہائیر کیا ہے اور وہ وکیل میں ہوں۔۔”آتش نے بتایا

“کیس کونسا؟”میشا نے پوچھا

“وہ اپنی بربادی چاہتا ہے۔۔”آتش نے بتایا

“کیا بکواس ہے یہ؟”میشا نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا

“وہ شادی کرنا چاہتا ہے تو شادی خانہ بربادی ہوئی نہ۔۔”آتش نے پھر کہا سیدھی بات کرنا مسٹر کول نے سیکھا کہاں تھا؟

“یہ بات تمہیں سہی لفظوں میں کرنی نہیں آئی کیا؟”میشا افسوس سے اُس کو دیکھ کر بولی

“آپ کو ڈھکی چُھپی باتوں کو سمجھ نہیں آتا کیا؟”پولیس میں ہو نہ تو؟”تو آپ کو کوڈ ورڈنگ آنا چاہیے۔۔”آتش نے اُلٹا اُس پہ الزام لگایا

“پہلے یہ بتاؤ تم نے میرج بیورو کب سے کھول لیا ہے؟”میشا نے طنزیہ پوچھا

“جب سے آپ اماؤں نے اپنا دل سخت کرلیا ہے۔۔”آتش نے جواب فوراً سے دیا تھا۔۔”آخر ایسا ممکن تھا کہ سامنے آتش ہو اور اپنی حاضر جوابی سے باز رہے

“اِس بکواس کا مطلب؟”میشا کو سمجھ نہیں آیا

“اِس بکواس کا مطلب کافی آسان ہے۔۔”رایان نے لڑکی کو پسند کرلیا ہے وہ یہاں موجود ہے اور اگلے ماہ وہ شادی کرنا چاہتا ہے۔۔”اِس اُمید کے ساتھ کہ آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔۔”ویسے مسئلہ کرکے آپ محض اُس کی جوانی برباد کرے گی۔۔آتش نے آخر میں خاصے افسوس بھرے لہجے میں بتایا

“اچھا واقعی؟”میشا نے طنزیہ نگاہوں سے اُس کو دیکھا

“ہاں واقعی اگر آپ اُس معصوم بھولے بھالے کی شادی نہیں کروائے گی تو میں یا کوئی اور درمیان میں ضرور آئے گا تو بہتری اِسی میں ہے کہ اُس کی فریاد کو سُنا جائے۔۔”آتش نے ہاتھ کھڑے کیے آرام سے کہا

“بھولا بھالا معصوم رایان کو بول کر تم اُس کی بے عزتی کررہے ہو۔۔”کیونکہ وہ اِن الفاظ پر پورا نہیں اُترتا۔۔”میشا نے سرجھٹک کر کہا

“اچھا تو میں اپنے ورڈ واپس لیتا ہوں۔۔”آپ اُس شیطان کے باپ کی شادی کروادے۔۔”اِس سے پہلے اُس جن پر کسی چڑیل کا سایہ پڑجائے۔۔”آتش نے ہاتھ کھڑے کیے اُس سے کہا

“ویسے آتش تمہیں نہیں لگتا تم یہ بات مجھ آرام سے اور طریقے سے کرسکتے تھے۔”یوں بات کو طویل کرنے کی ضرورت نہ تھی۔۔”اور میں کوئی ٹپیکل ماں نہیں ہوں۔۔”مجھے اپنے بیٹے کی خوشی عزیز ہے اگر یہ بات وہ خود مجھ سے کرتا تو میں بھی۔۔”میں نے راضی ہوجانا تھا۔۔”میشا نے کہا تو وہ مسکرایا

“اُس نے نہیں کہا کیونکہ میں نے اپنی ٹانگ کو درمیان میں گُھسانا ضروری سمجھا۔۔”اینی ویز اگلی شادی ملاقات ہوگی۔۔”آتش نے کہا

“کیوں کیا بس تم شادیوں میں شرکت کرنے آتے ہو؟”اُس کے علاوہ تم کسی سے ملتے نہیں؟”میشا کو اُس کی آخری بات تھوڑی عجیب لگی

“اگر آپ ملنے میں انٹرسٹڈ ہیں تو کوئی نہ کوئی موقع بنادیتے ہیں۔۔”مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔۔”ویسے بھی میں خوبصورت عورتوں اور لڑکیوں کا دل نہیں کرتا۔”آپ تو پھر بھی میری ساس کی بہن ہوں۔۔”آتش اُس کو دیکھ کر بے باکی سے آنکھ ونک کرتا بولا تو میشا کا پورا منہ حیرت سے کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا۔۔

“انتہا کے ایکسٹرا لیول کے بے شرم انسان ہو۔۔۔”میشا نے بڑے ضبط سے کہا ورنہ ہاتھ میں خارش اُس کو ہونے لگی تھی

“زوجہ کہتی ہے کہ “بے شرم لفظ بہت چھوٹا ہے میرے لیے خیر آپ پہلے موڈ بنائے پھر آرام سے میری تعریف کرلیجئے گا۔۔”آتش ڈھیٹائی سے مسکراکر بولا

“تمہیں شرم واقعی میں چھو کر نہیں گُزری؟”میشا نے کھاجانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا

“آتی ہے لیکن میں اُس کو اپنے قریب آنے نہیں دیتا نامحرم ہے نہ۔۔”مجھے چھونے کا حق تو بس میری زوجہ کا ہے۔۔۔”آتش نے اُس کو تپانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی۔۔”جس پر میشا تھوڑا کھٹک سی گئ اُس کو محسوس ہوا جیسے اقدس وہاں نہ تھی لیکن پھر بھی آتش کی زبان پر کسی نہ کسی بہانے اُس کا ذکر کررہا تھا

“کیا ہوا موڈ بنا کیا؟”اُس کو خاموش دیکھ کر آتش نے شرارت سے پوچھا

“تمہیں پتا ہے؟”تم دُنیا کے واحد شخص ہو جو اپنی بیوی کی خالہ کے ساتھ فلرٹ کررہے ہو۔۔”میشا کا بس نہیں چلا ورنہ وہ اُس کا گلا دبادیتی

“بس اپنے موجود اِن خصوصیات کے باوجود میں نے کبھی خود پر غرور نہیں کیا۔۔”خیر آپ بتاؤ کیا پلان بنایا آپ نے؟”آتش کو بس اپنی پڑی تھی

“مجھے لگتا ہے ایک بار مجھے تمہیں آریان کے سامنے کھڑا کردینا چاہیے۔۔”یہی سہی رہے گا۔”کیونکہ میں اقدس کی وجہ سے تمہیں برداشت کررہی ہوں۔۔”میشا کا پارہ ہائے ہونے لگا تھا

وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن پتا ہے کیا؟”میں لڑکوں پر یا مردوں کو ویسی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔۔”اللہ نے کافی حیا اور شرم والا بنایا ہے۔۔۔”آتش نے رازدرانہ انداز میں اُس کو بتایا تو اُس کی بات کا مطلب سمجھتی میشا نے بے ساختہ اَسْتَغْفِرُاللّٰه پڑھا تھا

“تو وہ شرم حیا ابھی تیل لینی گئ ہے؟میشا نے دانت پیسے

“نہیں آپ کو دیکھ کر ایک خیال بہت تیزی سے آیا کہ جس نے کی شرم اُس کے پھوٹے کرم۔۔”آتش نے اپنی طرف سے کام کی بات اُس کو بتائی

“تم نہ ڈوب کے مرجاؤ۔۔”میشا کو احساس ہوا کہ وہ بھلا کیوں اُس کی ایسی فضول باتوں کو سُن رہی ہے؟”تبھی وہاں سے جانے لگی جب اُس کو جاتا دیکھ کر آتش نے کہا

“آپ ساتھ آتی ڈوبنے تو کمپنی مل جاتی اور بور ہونے سے بھی بچ جاؤں گا۔۔۔آتش نے اُس کو جاتا دیکھا تو اُس نے رایان کی تلاش میں نظریں ڈورائی جو”پانچ منٹ کا بول کر جانے کہاں غائب ہوگیا تھا۔۔”پر وہ جلدی اُس کو نظر آیا جو سامنے والی ٹیبل پر بیٹھا بریانی سے خوب انصاف کررہا تھا۔۔”اُس کو یوں کھاتا ہوا دیکھ کر آتش نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“رُخصتی کے بعد عیشا المان کے کمرے میں بیٹھی اُس کا انتظار کررہی تھی۔۔”جس کو ماہا نے راستے میں کھڑا کردیا تھا۔”اور نیگ مانگنے میں مصروف تھی جو دینے میں وہ نخرے دِکھا رہا تھا۔۔”لیکن جب وہ کمرے میں آیا تو عیشا کو دیکھا تو حیران ہوا جو گونگھٹ چہرے پر گِرائے کافی مشرقی انداز میں بیٹھی اُس کا انتظار کررہی تھی۔۔پہلے کہاں اُس کے سامنے بے باک ہونے کا مظاہرہ کرتی تھی اور اب وہ یوں بیٹھی تھی۔۔”اپنی تمام سوچو کو جھٹک کر وہ اُس کے پاس آتا بیڈ پر بیٹھنے لگا تو عیشا نے اپنے پاؤں سیدھے کرلیئے تھے

“پاؤں ہٹاؤ ہمیں بیٹھنا ہے۔۔”المان نے اُس کو ٹوکا

“شادی کی پہلی رات کوئی بھی شوہر اپنی بیوی کو ٹوکتا نہیں۔۔”عیشا نے اُس کے علم میں اضافہ کیا

“ٹھیک ہے پر ہم بیٹھے کہاں؟”المان نے پوچھا

“مجھے میری منہ دِکھائی دو پہلے اُس کے بعد چہرہ بھی دیکھ لینا اور بیٹھ بھی جانا۔۔”المان کی بات پر اُس نے جواباً کہا

“تو یہ سارا ڈرامہ منہ دِکھائی کے لیے تھا؟”المان اب جیسے ساری بات جان گیا

“جی بلکل۔۔”عیشا نے اپنا سراثبات میں ہلایا

“اچھا ویٹ۔۔۔”المان نے کہا اور وارڈروب کی طرف بڑھ کر وہاں سے ایک پاکٹ اُٹھاکر اُس کی گود میں رکھا

“یہ کیا ہے؟”بہت بڑا نیکلس ہے کیا؟”عیشا نے شرارت سے پوچھا

“کھول کر دیکھ لوں۔۔۔”المان نے کہا

لیکن اب یہ گھونگھٹ اُٹھاؤ۔۔”عیشا نے کہا تو وہ جلدی سے اُس کے چہرے سے گھونگھٹ اُٹھانے لگا تو مسکرایا جبکہ عیشا تجسس کا شکار ہوتی پیکٹ سے رِبن اُتارنے کے بعد کور ہٹایا تو پیکٹ میں موجود چیز کو دیکھ کر وہ حیران ہوئی کیونکہ اندر کوئی نیکلس نہیں بلکہ”سرمئ”رنگ کا حجاب تھا۔۔”اور حیران وہ اِس وجہ سے ہوئی کہ المان نے اُس کو منہ دِکھائی میں حجاب گفٹ کیا تھا

“مان یہ؟”عیشا کو سمجھ نہیں آیا کہ کہے

“ہمیں نہیں پتا تم نے اپنا سر ننگا کیوں کیا؟”لیکن اب ہمیں لگتا ہے نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ تم دوبارہ سے حجاب لینا شروع کرو۔۔”تم چاہوں تو خالو کی کمپنی میں ویسے کام کرسکتی ہو ہمیں یا کسی اور کو مسئلہ نہیں ہوگا۔۔”پر وہاں تم اب حجاب لوں گی۔۔”ایسا نہیں کہ ہماری سوچ تنگ ہے۔۔یا ہمیں تم پر اعتبار نہیں”بلکہ ایسا ہم اِس وجہ سے چاہتے ہیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ تمہیں بغیر ڈوپٹے کے کوئی اور دیکھے یا ہمارے علاوہ کسی اور کی نظر تمہارے بالوں پر پڑے۔۔”ہم بس اِتنا چاہتے ہیں کہ جیسے تم پہلے حجاب لیتی تھی اب بھی ویسے لینا شروع کرو۔۔”یہ ہمارا آرڈر نہیں ہماری ریکوئسٹ ہے اور اِس ریکوئسٹ کو پورا کرنا نہ کرنا تمہارے اختیار میں ہے۔۔”ہمیں پتا ہے کہ ہم کسی کو زبردستی حجاب کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔۔”تم بیوی ہو ہماری تمہیں ایسا کہنا ہمارا فرض تھا۔۔”ہم پر واجب تھا یا جو بھی ہے لیکن ہم نے بول دیا۔۔”اب تمہاری مرضی ہے۔۔”المان نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھ کر بولتا گیا تو وہ دم سادھے بس اُس کو سُنتی رہی آج اُس کو اپنا آپ المان کے لفظوں پر جکڑتا محسوس ہوا

“مان تمہارا تحفہ بہت خوبصورت ہے۔۔”شاید کسی نے اِتنا خوبصورت تحفہ اپنی بیوی کو یوں منہ دکھائی میں دیا ہوگا۔۔”میں نادم ہوں اپنے بہک جانے پر۔۔”میں نادم ہوں اُس دن پر جس دن میرا ڈوپٹہ سر سے کندھے پر آیا تھا اور میں شرمسار ہوں اُس دن پر جب میرا کندھے پر موجود ڈوپٹہ اُتر کر جانے کہاں غائب ہوگیا اور میں ننگے سر جانے کہاں کہاں چلتی رہی۔۔”باتیں کی میٹنگز اٹینڈ کی لائیو شو پر آئی۔۔”میں واقعی میں خود کو کافی بُرا محسوس کرنے لگی ہوں۔۔”عیشا ندامت سے چور لہجے میں بولی

“ہمارا مقصد تمہیں شرمندہ کرنے کا نہیں تھا۔۔”ہم نے بس ایک خواہش ظاہر کی ہے۔۔”تمہیں نہیں پتا ہمیں تم بہت اچھی لگتی ہوں تب جب تم نے حجاب پہنا ہوتا ہے۔۔”اسکول کالج تک کا سفر ہم نے ساتھ طے کیا تھا اور اللہ جانتا ہے ہم نے کبھی تمہیں یوں نہیں دیکھا تھا پر اُس دن جب تم کیجوئل لباس میں کُھلے بالوں کے ساتھ ہمارے سامنے پُراعتماد کے ساتھ چلتی ہمیں اگنور کرکے گئ تو ہماری نظروں میں ستائش نہ اُبھری تھی۔۔”ہم بس بے یقین تھے کہ عیشا کو کیا ہوگیا ہے؟”وہ ایسی کیوں بن گئ ہے؟”جب چھوٹی تھی تو خود کو سنبھال کر رکھتی تھی تو اب خود کو ظاہر کیوں کرنے لگی ہے؟”پھر پتا لگا تم نے آفس جوائن کیا اچھی بات تھی لیکن آفس جوائن کرنے کی شرط بے حجاب ہونا تو نہیں ہوتی؟”المان کی باتوں پر عیشا کچھ بول نہیں پائی تھی

“میں نے شاید بہت لوگوں کو ڈس پوائنٹ کیا ہے۔۔”جب میں نے نیولی حجاب اُتارا تھا تو موم مجھے دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی اور پھر کہا اُنہوں نے مجھے دیکھ کر کہ تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔”اور جب تم باہر جاؤ گی نہ تو ایسا جُملا تمہیں ہر کوئی بولے گا۔۔”کوئی تمہارے بال دیکھے گا تو کوئی تمہارا چہرے دیکھا۔۔”اور کوئی تمہیں اِتنی باریک بینی سے دیکھے گا کہ اُس کو تمہاری کمر کا سائیز پتا چل جائے گا۔۔”دل کو خوش کرجانے والے جُملے اب تمہارے منتظر ہوگے۔۔”پھر اُنہوں نے کہا کہ ہم ملک سسٹرز نے عیش و آرام کی زندگی بسر تب کی جب ہاتھ میں ڈگری آئی تب عیش و آرام نہیں تھا لیکن سکون ضرور تھا۔ ورنہ اُس سے پہلے وہ بس بس میں دھکے کھاتیں رہیں اور ٹیکسیوں میں سفر کیا۔۔”پھر کبھی بس اسٹاپ پر کھڑی ہوکر جون جولائی جیسے گرم مہینوں میں کسی سواری کا انتظار کیا۔۔”تب اُن کے سر پہ حجاب ہوتا تھا اور چہرے پر سورج کی گرم کرنیں اُن کے پورے چہرے کو جھلسایا کرتیں تھیں۔۔”ایسا لگتا جیسے اُن کے بال پیچھے والی گردن پر پسینے کی وجہ سے چپک گئے ہیں۔۔”اور سانس بس رُکنے والا ہے۔۔”بہت بار خیال آیا حجاب اُتار کر گلے میں کسی مفلر اسٹائل میں باندھ دیا جائے۔۔”لیکن پھر دوسرا خیال آتا کہ اگر ایسا کیا تو کچھ لوگوں کی ایسی نظریں پڑے گی کہ اُس کے بعد بس چہرہ نہیں بلکہ پورا جسم کسی ان دیکھی آگ میں جھلستا محسوس ہوگا بس یہی خیال اُن کو حجاب اُتارنے نہیں دیتا تھا۔۔”میں تب اُن کی باتوں کا مطلب سمجھ نہیں پائی تھی یا سمجھنا چاہتی نہیں تھی۔۔۔”پہلے پہل عجیب لگتا تھا لیکن پھر عادت پڑگئ۔۔”ہانی میری طرف دیکھتا نہیں تھا مجھے لگتا تھا وہ ایسا ہے کسی کو بھی نظر بھر نہیں دیکھتا پھر جب تم نے حجاب کے مطلق مجھ سے پوچھا تو تب میں پہلی بار کھٹک سی گئ تھی کیونکہ ایسا سوال میں ہر ایک سے ایکسپیٹ کرسکتی تھی۔۔”پر تم سے نہیں پھر مجھے موم کی باتوں کا مطلب سمجھ آگیا۔۔”ہانی کا گریز بھی سمجھ آگیا۔۔”لیکن خودسری اِتنی چڑھی ہوئی تھی کہ دوبارہ حجاب پہننے کا دل نہیں کیا۔۔۔”میں بھول چُکی تھی کہ میں اپنا کتنا نقصان کرچُکی ہوں۔۔”مجھے نہ دیکھ کر زوہان نے اپنا ایمان بچالیا تھا۔۔”پر شاید میرا ایمان ڈگمگا چُکا تھا۔۔”میں نے شاید حجاب کی ویلیوز کو جاناں نہیں تھا۔۔”عیشا کو جیسے کُھل کر بات کرنے کا موقع مل گیا تھا کبھی کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولتی چلی گئ تھی اور المان خاموشی سے اُس کی باتوں کو سُن رہا تھا۔

“ایک بات کہوں؟”المان نے کہا

“کہو؟”وہ اُس کی طرف متوجہ ہوئی

“ہمیں اچھے سے یاد ہے ماہی گیارہ بارہ سال کی تھی جب اُس نے اچانک سے حویلی سے باہر نکلنا چھوڑدیا تھا۔۔”اماں سائیں نے وجہ دریافت کی تو اُس نے کہا ماہا جب باہر جاتی ہے تو باہر کھڑا ہر مرد اُس کو دیکھ کر مسکراتا ہے اور یہ مسکراہٹ اُس کو کافی عجیب لگتی ہے۔۔۔”ماہا کو بے سکونی ہوتی ہے اُس کو اچھا نہیں لگتا باہر نکلنا کیونکہ دل بھی بہت گھبراتا ہے۔۔۔”پھر اماں سائیں نے اُس سے کہا کہ تمہیں کیسے پتا کہ سارے لوگ تمہیں دیکھ کر مسکراتے ہیں؟”اِس کا مطلب یہی ہوا کہ تم بھی اُن سب کو دیکھتی ہوگی۔۔”اور اگر اپنی بے سکونی کو ختم کرنا ہے تو اگلی بار باہر جاؤ تو نظریں نیچے کرکے جانا پھر تمہیں کچھ عجیب نہیں لگے گا اور نہ تمہیں کسی کی نظریں یا مسکراہٹ عجیب لگے گی۔۔”پھر اگلے دن ایسا ہوا جب ماہا باہر گئ اور واپس آئی تو اماں سائیں نے پوچھا آج تمہارا دل گھبرایا باہر جانے سے یا تمہیں کوئی ڈر لگا؟”تو وہ مسکرائی اور بولی نہیں اماں آج تو کافی سکون محسوس ہوا ایسا لگا جیسے میں آزاد ہوں۔۔”ماہا باہر گئ لیکن اُس نے کسی کو کسی کو بھی نہیں دیکھا وہ نظریں جُھکا کر چلی اور اب وہ ہمیشہ ایسا کرے گی۔۔”المان اِتنا کہتا خاموش ہوگیا اور عیشا کو دیکھنے لگا جو کافی اُلجھن آمیز نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی

“تم سوچ رہی ہوگی کہ ہم نے تمہیں یہ سب کیوں بتایا؟”المان نے کہا تو وہ اپنا سراثبات میں ہلانے لگی

“ماہا بارہ سال کی تھی محض۔۔” وہ جان گئ کہ جو نظریں اُس پر ہیں وہ سہی نہیں ہے۔۔”پر تم بیس سال کی تھی تمہیں اپنا آپ حجاب کے بغیر عجیب نہیں لگا پتا ہے کیوں؟”تم پوچھو کیوں؟”المان نے بات کرتے کرتے اچانک خاموش بیٹھی عیشا سے کہا

“کیوں؟”عیشا نے پوچھا کیونکہ جواب اُس کے پاس نہیں تھا جبکہ بات بھی اُس کی ہورہی تھی

“کیونکہ تم نے خود پر پڑنے والی نظروں پر غور نہیں کیا اگر کیا ہوتا تو خود کو بے حجاب نہ بناتی۔۔”جو خالہ نے سوچا وہ کبھی تم نے نہیں سوچا اگر سوچتی تو شاید ایسا کچھ نہ ہوا ہوتا۔۔۔”المان نے ہلکی مسکراہٹ سے بتایا تو وہ جان گئ اُس کی بات کا مطلب

“میں ساری اپنی غلطیوں کو مانتی ہوں۔۔”اور تمہارا شکریہ مان۔۔یہ حجاب بہت قیمتی ہے اور شاید اِس کی اہمیت میں جان گئ ہوں آج۔۔”جو مجھے کسی اور نہ سمجھایا وہ ایک شوہر ہونے کی خاطر تم نے مجھے سمجھایا ایسے کہ مجھے یہ نہیں لگا کہ تم میری تزلیل کررہے ہو یا شک۔۔”مجھے تم تنگ ذہین نہیں لگے پر یقین جانو مجھے کافی اچھا لگا فخر محسوس ہوا اپنے والدین کے انتخاب پر۔۔”اور آج واقعی تم مجھے اپنے شوہر لگے۔۔”المان جو کافی سیریس ہوکر اُس کی بات کو سُن رہا تھا اُس کی آخری بات پر ہنس پڑا

“ہنسے کیوں؟”عیشا نے اُس کو گھورا

“ایسے ہی دل نے کہا۔۔”المان نے شانے اُچکاکر بتایا

“دل نے ایسا کیوں کہا؟”اگلا سوال

“ہمیں احساس ہوا جیسے ہم نے کافی سیریس ٹاپک چھیڑ لیا ہے ہلانکہ آج کے دن ایسی کوئی باتیں نہیں کرتا۔۔”المان نے کہا تو اِس بار وہ ہنس پڑی

“اچھا یہ بتاؤ ہمارے جانے کے بعد تم نے ہمیں مس کیا تھا؟”المان نے کسی خیال کے تحت اُس سے پوچھا

“ہاں کیا تھا۔۔”عیشا نے صاف گوئی کا مُظاہرہ کیا

“واقعی؟”المان کو یقین نہ آیا

“اللہ کی قسم واقعی۔۔”عیشا نے فوراً سے تیز آواز میں کہا تو المان ہنسا تو اُس کو ہنستا دیکھ کر بے وجہ وہ بھی ہنس پڑی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *