Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 30)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“میں آپ کی عزت کرتا ہوں۔۔”مجھے مجبور نہ کرے کہ میں آپ کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آؤں۔۔”اِس لیے خاموشی سے میرے ہاتھ کھول دے۔۔۔زوہان نے گہری سانس بھر کر اُس کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا

“پہلے کہو مس ایشال لُغاری تم مجھے قبول ہو۔۔۔”ایشال اُس کو دیکھ کر بولی

“میں آپ سے نکاح نہیں کرسکتا۔۔”اور میں تو یہ تک سمجھ نہیں پارہا کہ آپ نے مجھے اغوا کیوں کیا ہے؟”زوہان اُس کو دیکھ کر بولا

“اِتنے ناسمجھ تو نہیں جو جان نہ پاؤ کہ میں نے تمہیں یہاں کیوں اغوا کیا ہے۔۔”ہلانکہ میں آلریڈی بتاچُکی ہوں کہ مجھے تم سے نکاح کرنا ہے۔۔”ایشال اُس کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولی

“میں بھی بتاچُکا ہوں کہ میں آپ سے نکاح نہیں کرسکتا تو کیا آپ کو میری بات وہ سمجھ نہیں آرہی؟”زوہان چڑ کر بولا

“میں تمہیں ایسے جانے نہیں دوں گی پھر۔۔ایشال شانے اُچکاکر کہتی اپنی جگہ پر بیٹھ گئ

“ٹھیک ہے اگر تمہیں مجھ سے نکاح کرنے کا شوق ہے تو وہ میں پورا کردیتا ہوں۔ ۔”لیکن یوں اِس طرح یہاں نہیں۔ ۔زوہان کچھ سوچ کر اُس سے بولا۔۔”وہ آپ سے تم تک آگیا تھا

“تو پھر کیسے؟ “ایشال ناسمجھی سے اُس کو دیکھ کر بولی

“میں اپنے والدین کو تمہارے گھر بھیجوں گا۔ ۔”پھر پروپر طریقے سے نکاح ہوگا۔ ۔’لیکن خفیہ نکاح نہیں کروں گا میں چاہے پھر تم مجھے یہاں ساری عمر قید کیوں نہ کرو۔ ۔زوہان نے کہا تو ایشال سوچ میں پڑگئ

“میں کیسے یقین کرلوں کہ تم اپنی بات سے مکر نہیں جاؤ گے۔۔۔ایشال نے اُس کو دیکھ کر کہا

“اُس یقین کے ساتھ جس یقین کے ساتھ تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے دباؤ میں آکر میں تمہیں دُنیا والوں کے سامنے بیوی تسلیم کروں گا۔۔”آزاد ہونے کے بعد طلاق نہیں دوں گا۔۔زوہان نے اُس کا چہرہ دیکھ کر کہا تو ایشال پل بھر میں لاجواب ہوئی تھی۔۔”اُس کو زوہان کی آفر بُری نہ لگی تھی

“ٹھیک ہے میں تمہیں چھوڑدیتی ہوں۔ ۔”اگر تم ڈنکے کی چوٹ پر مجھے اپنا بنانا چاہتے ہو تو سہی ہے اپنے پیرینٹس کو بھیج دینا۔۔ایشال نیم رضامند ہوتی بولی

“میرے ہاتھ۔ ۔زوہان نے یاد کروایا

“مرد ہو تو اپنی زبان کا پاس رکھنا ورنہ میرے پاس اور بھی آپشنز ہیں۔ ۔ایشال نے ڈھکے چُھپے الفاظ میں اُس کو بہت کچھ باور کروایا تھا

“ہاتھ چھوڑو تم۔ ۔”زوہان نے بیزارگی سے کہا تو ایشال اُس پر یقین کرتی اُس کے ہاتھ کھولنے لگی۔

“گن پوائنٹ پر نہیں سہی۔۔”سب کے سامنے ضرور ہوگا۔ ۔”اور میرے ساتھ کوئی چیٹنگ مت کرنا جس طرح آج اغوا کیا ہے۔ “اگین بھی کرسکتی ہوں۔ ۔ایشال اُس کے ہاتھ کھولنے کے بعد وارن کرنے لگی۔ ۔”جو اپنی شرٹ جھاڑ رہا تھا۔

“میرا سیل فون کہاں ہے؟ “جواب میں زوہان نے یہ کہا

“میں لاتی ہوں۔ ۔”لیکن پہلے یہ بتاؤ اپنے والدین کو کب بھیجو گے؟”ایشال نے بے قراری سے پوچھا

“اِس ماہ بھیج دوں گا۔۔”تم کوئی تاریخ بتادینا۔۔”زوہان نے کوفت سے کہا اُس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ بیٹھے بیٹھائے اُس کے گلے میں کونسی مصیبت پڑگئ ہے۔

“ٹھیک ہے تمہاری فون میں اپنا نمبر آلریڈی میں نے سیو کرلیا ہے۔۔”تمہیں اپڈیٹ دیتی رہوں گی۔۔”ایشال کافی پرجوش لہجے میں بولی تھی۔”لیکن اِس بار زوہان نے اُس کو کوئی جواب دینا ضروری نہ سمجھا تھا۔۔”اُس کو بس یہاں سے جانے کی پڑی تھی۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“وہ لڑکی کہاں ہے جس کو تم لوگ پکڑ کر لائے ہو؟”فام ہاؤس میں آتا آتش سنجیدگی سے وہاں موجود آدمیوں سے پوچھنے لگا

“سر وہ اُپر والے کمرے میں ہے۔۔”ایک آدمی نے فوراً تابعداری سے بتایا

“کسی نے اُس کے ساتھ کوئی بدتمیزی تو نہیں کی؟”آتش نے جانچتی نظروں سے ہر ایک کو دیکھا

“نہیں سر قسم لے۔۔”اُنہوں نے جلدی سے کہا تو آتش گہری سانس بھرتا لمبے لمبے ڈُگ بھرتا اُپر کمرے میں آیا تو کمرے کے دروازہ کھولتے ہی اُس کی نظر سر گھٹنوں کے درمیاں گرائے بیٹھی لڑکی پر گئ۔۔”جو شاید رونے میں مصروف تھی۔۔”یہ دیکھ کر آتش نے اپنے کان کی لو کھجائی اور غور سے اُس لڑکی کا جائزہ لینے لگا جو ریڈ کلر کے شلوار قمیض میں ملبوس سر پہ نیٹ کا لال ڈوپٹہ پہنے ہوئے تھی۔۔”چادر جبکہ اُس کے پاؤں کے پاس پڑی تھی۔۔

“سُنو مس واٹ ایور۔۔۔آتش نے اُس کو مُخاطب کیا تو اُس لڑکی نے ڈر کر اپنا سراُٹھایا تو سامنے کھڑی شخصیت کو دیکھ کر جہاں وجود میں غُصے کی سرد لہر ڈوری تھی۔۔”وہی آنکھوں میں بے یقینی سی بھی تھی۔۔”اور یہی حال آتش لُغاری کا بھی تھا۔۔”وہ بہت غور سے اُس کا چہرہ دیکھتا کچھ سوچنے میں لگا ہوا تھا۔۔”یہ چہرہ اُس کو کافی جانا پہچانا سا لگا تھا۔۔”پر وہ اُس سے کہاں ملا تھا؟”یہ اُس کو یاد کرنے پر بھی یاد نہیں آرہا تھا۔۔

“ہمیں اندازہ لگانا چاہیے تھا کہ ایسی گھٹیاں”واحیات حرکت”آتش لُغاری کے علاوہ کوئی اور نہیں کرسکتا۔۔اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی وہ اچانک چیخ کر بولی تو آتش کے دماغ میں کچھ کلک ہوا تھا۔۔

“مس ہم ہم عرف راجکماری یہ تم ہو؟”یار عینک کہاں گئ تمہاری؟”مجھے پہچاننے میں مسئلہ ہورہا تھا۔۔آتش کافی حیران نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا تو دوسری طرف جو اقدس تھی۔ ۔”وہ اُس کا ایسا کول ری ایکشن دیکھ کر مزید آگ بگوالہ ہوئی تھی۔ ۔”تبھی آگے بڑھ کر ایک زناٹے دار تھپڑ اُس کے خوبصورت چہرے پر رسید کیا تو اپنے گال پہ ہاتھ رکھتا شدید غُصے کے عالم میں آتش اُس کو گھورنے لگا۔۔”یہ اُس کی زندگی کا پہلا تھپڑ تھا جو کسی نے اُس کو مارا تھا۔ ۔”وہ بھی ایک لڑکی نے۔۔”جو پہلے تو سر گھٹنوں کے درمیاں گرائے کافی اُس کو معصوم لگی لیکن اب اُس کے عمل نے شدید غُصے میں مبتلا کردیا تھا۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟ “مجھے یعنی آتش لُغاری کو تھپڑ مارنے کی۔ ۔”آتش اُس کے دونوں بازو سختی سے دبوچتا غرایا تھا۔۔’کہاں وہ اُس کے ساتھ دوستانہ لہجے میں بات کررہا تھا۔۔”اور کہاں وہ تھی جو اُس کے چہرے پر تھپڑ مار چُکی تھی

“ٹھیک ویسے جیسے تمہاری ہمت ہوئی ہمیں اغوا کرنے کی۔ ۔”مسٹر آتش لُغاری ہوگا تمہارا اِس دُنیا میں بڑا نام۔ ۔”لیکن ہمیں اغوا کرکے تم نے اپنی شامت کو آواز دی ہے۔ ۔اقدس اُس کو دیکھ کر نڈر ہوکر بے خوف لہجے میں بولی تو آتش دانت پیس کر اُس کو دیکھنے لگا۔ ۔”جو بغیر کچھ جانے اُس پر چڑھائی کرنے میں مصروف تھی۔۔”اُس کو تو یہاں آنے سے پہلے یہ تک نہیں پتا تھا کہ جس لڑکی کو وہ یہاں آزاد کرنے آرہا ہے وہ کوئی اُس کی جانی پہچانی”مس ہم ہم ہوگی

“کول تو یعنی ہم نے اپنی شامت کو آواز دی ہے۔ ۔اُس کو ایک جھٹکے سے چھوڑتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرے آتش خود کو رلیکس کرنے کی کوشش کرتا ہوا بولا

“ہاں بلکل۔ ۔اقدس نے کاٹ کھانے والی نظروں سے اُس کو دیکھا۔۔”پہلے جہاں خود کو انجان جگہ دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوئی تھی وہی اب آتش کو دیکھ کر ڈر تو دور جا سویا تھا لیکن غُصہ اُس کو بہت آرہا تھا۔۔

“تو مس پھولن دیوی اب کیا کیا جائے؟ “تم تو میری قید میں آچُکی ہو۔ ۔۔”اب میں جو چاہے تمہارے ساتھ کرسکتا ہوں۔ ۔”آفٹر آل تم نے میرے گال پر تماچا مارا ہے تو اُس کا حساب تو تمہیں دینے ہوگا نہ۔ ۔۔آتش سرتا پیر گہری نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہتا اُس کے اوسان خطا کرچُکا تھا۔ ۔

“ہمیں غلط نگاہوں سے دیکھنے کی جُرئت بھی نہ کرنا۔ ۔”ورنہ ہمارے بابا سائیں تمہیں چیر پھاڑ کے رکھ دینگے۔ ۔۔اپنے قدم پیچھے کی جانب کھسکاتی اقدس اُس کو وارن کرنے لگی تو آتش قہقہہ لگاکر ہنس پڑا

“تمہارے پیارے بابا سائیں کو کون بتائے گا کہ تم ہماری قید میں ہو۔ ۔”بیڈ پر پرسکون انداز میں بیٹھتا آتش اُس سے سوال گو ہوا

“دیکھو ہم نہیں جانتے تمہاری نیت کیا ہے۔ ۔”لیکن تمہیں اللہ کا واسطہ ہے ہمیں یہاں سے جانے دو۔۔۔”ہمارا واعدہ ہے ہم تمہارے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتائے گے۔ ۔اقدس اُس کو دیکھ کر ملتجی لہجے میں بولی

“یہاں آؤ۔۔۔آتش نے اُس کو اپنی طرف آنے کا کہا تو اقدس کا سر نفی میں ہلا تھا۔۔”وہ چاہے آتش کو بُرا انسان سمجھتی تھی لیکن جیسے سالوں پہلے وہ اُس کو پروٹیکٹ کرچُکا تھا اُس کے بعد وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ ایسی خصلت کا مالک ہوگا

“چلو میں ہی آجاتا ہوں۔۔آتش اُس کی سوچ سے بے نیاز اُٹھ کر کہنے لگا تو اقدس نے باہر کو ڈور لگائی تھی۔۔”لیکن دروازے سے پُہچنے سے پہلے ہی آتش اُس کے راستے میں حائل ہوا

“سویٹ ہارٹ تم مجھ سے ڈر ایسے رہی ہو۔۔”جیسے مجھے جانتی نہ ہو۔۔”یا پھر ہماری یہ پہلی ملاقات ہے۔۔آتش کو اُس کا ایسا کترانا پسند نہ آیا تبھی اِتنا کہتا وہ اُس کے رُخسار کو چھونے لگا تھا جب وہ بدک کر اُس سے دور کھڑی ہوئی

“تم لگتا ہے ہوش میں نہیں ہو۔۔اقدس کپکپاہٹ بھرے لہجے میں بولی

“لڑکیاں میرے آگے پیچھے مکھیوں کی طرح منڈلاتی ہیں۔۔”اور تم گریز برت رہی ہو۔۔اپنا ہاتھ واپس کھینچ کر آتش اُس کو دیکھ کر بولا

“ہمیں یہاں سے جانا ہے۔۔اقدس محض اِتنا بولی

“ایک دن ہر کوئی یہاں سے جائے گا۔”یہ دُنیا فانی ہے۔۔”کوئی نہیں بچے گا یہاں اگر کوئی رہے گا تو اللہ اور اُس کے رسول کا نام ۔آتش جواباً اُپر کی جانب اِشارہ کرتا بولا

“ہمیں یہاں سے جانے دو۔۔اقدس نے ضبط سے کہا

“ہم آپ کو یہاں سے کیوں جانے دے؟”آتش مسکراہٹ دبائے پوچھنے لگا

“آپ کیا چاہتے ہیں؟”اقدس نے گہری سانس بھر کر پوچھا

“بتیس سال کا ہوچکا ہوں۔۔”اور اب سوچ رہا ہوں شادی کرلوں۔۔آتش نے معصوم شکل بنائے بتایا

“تو کرلوں۔۔۔اقدس نے بیزارگی سے کہا

“کرلوں؟”آتش شرارت بھری نظروں سے اُس کو دیکھا

“ہاں کرلوں۔۔”لیکن پہلے ہمیں جانے دو۔۔اقدس بغیر اُس کی طرف دیکھے بولی

“تمہارے بغیر یہ نکاح کیسے پاسبیل ہے سویٹ ہارٹ۔۔آتش اُس کی بات کے جواب میں بولا

“ہم کوئی ویڈنگ پلائنر نہیں۔۔اقدس نے طنز نگاہوں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“ہاں لیکن جوان جہاں خوبصورت لڑکی تو ہو نہ۔۔”شادی کے لیے ایک عدد لڑکی کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔۔آتش نے اُس کو جیسے اہم معلومات فراہم کی

“ہمیں تمہاری بات کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔۔اقدس کو اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹیاں بجتی سُنائی دی

“اب تو کوئی چھوٹی کاکی تو نہیں جس کو میری بات سمجھ میں نہ آئے۔۔”خیر صاف لفظوں میں کہتا ہوں۔۔”تمہارا اور میرا یعنی ہمارا نکاح ہوگا آج۔۔”کوئی چوں چراں مت کرنا۔۔”تمہارا تھپڑ برداشت کرگیا ہوں کچھ اور برداشت نہیں کروں گا۔۔”اُس کے گرد چکر کاٹتا آتش اُس کو اپنے عزائم سے واقف کرنے لگا تو اقدس کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا

“نکاح؟”اقدس کو لگا شاید اُس کو سُننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے

“جی ہاں نکاح۔۔آتش نے اپنا سراثبات میں ہلایا

“ای ایسا نہیں ہوسکتا۔. اقدس نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا۔۔”وہ ہراساں نظروں سے آتش کو دیکھنے لگی جو کافی پرسکون حالت میں کھڑا تھا

“دُنیا میں ہر چیز ہوسکتی ہے۔۔”ویسے تمہارا نام کیا ہے؟”آفٹر آل اللہ کے حکم سے ہم ٹو بی میاں بیوی بننے جارہے ہیں تو ایٹلیسٹ نام جاننا تو میرا ضروری ہے نہ؟”آتش کو اچانک خیال آیا تو اُس سے پوچھا جس پر اقدس متعجب نگاہوں سے اُس کو دیکھنے لگی۔۔”وہ جان نہ پائی کہ سامنے کھڑا شخص اگر واقعی میں اُس کا نام تک نہیں جانتا تو پھر اُس کو اغواہ کیوں کیا گیا ہے؟”دوسرا وہ نکاح جیسا اِتنا بڑا فیصلہ کیسے لے سکتا ہے؟”وہ انجان تھی کہ سامنے کھڑا شخص آتش لُغاری تھا جو چٹکیوں میں بنا کچھ سوچ کر فیصلہ کرلیا کرتا تھا۔۔”وہ کب کیا کرجائے یہ اُس کے علاوہ کسی دوسرے انسان کو پتا نہیں چلتا تھا۔

“آپ کو ہم سے نکاح کیوں کرنا ہے؟”اقدس نے اپنے سوکھے پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر اُس سے پوچھا

“نکاح کیوں کیا جاتا ہے؟”تمہیں نہیں پتا؟”اپنی فیملی بنانے کے لیے اور فیملی کیسے بنتی ہے یہ بھی میں بتاؤں کیا تم نے کبھی بائیولاجی نہیں پڑھی؟”آتش تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولا تو اقدس کا پورا منہ حیرت کے مارے کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا۔۔”اُس کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اِس قدر بے شرمی والی بات بھی کرسکتا ہے۔۔”پر ایک بات پر اُس کو یقین ہوگیا کہ دُنیا یہاں سے وہاں ہوسکتی ہے۔۔”ہر چیز بدل سکتی ہے۔۔”لیکن آتش لُغاری کی ڈھٹائی کم ہونے کے بجائے بڑھتی جائے گی۔۔”اُس میں بدلنے والا کوئی سسٹم نہیں وہ اپنے نام کا ایک تھا مسٹر کول۔۔”جس سے بات کیے کوئی دوسرا کول نہیں رہ سکتا تھا۔۔”اپنا سر پکڑے دیوار پر پیٹ ضرور سکتا تھا۔۔”جیسے ابھی اقدس کا چاہ رہا تھا

“تم بہت بے شرم انسان ہو۔۔”اقدس نے افسوس سے اُس کو دیکھ کر کہا

“کافی جلدی پتا چل گیا ہے تمہیں۔۔”آتش کو جیسے کوئی فرق نہیں پڑا

“پر ہم تمہارا کوئی بھی فیصلہ نہیں مانے گے۔۔”اور نہ نکاح کرینگے۔۔اقدس مضبوط لہجے میں بولی

“محترمہ ہم پوچھ نہیں۔۔”بتارہے ہیں آج آپ کا ہم ناچیز کے ساتھ نکاح ہوگا۔۔۔آتش نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا

“آپ ہماری مرضی کے خلاف۔۔”ہمارے ساتھ ایسا کچھ نہیں کرسکتے۔۔اقدس نے تببیہہ کی

“میں کیا کرسکتا ہوں۔۔”اور کیا نہیں اِن باتوں کا ابھی تمہیں سہی سے اندازہ نہیں ہوا۔۔”آتش ہاتھ کھڑے کیے بولا

“تم تو کسی کے ساتھ بھی شادی کرسکتے ہو۔۔”ہر لڑکی تمہیں اپنا بنائے گی۔۔”ہمیں بس جانے دو دیکھو۔۔”تم ایک خوبصورت مکمل انسان ہو۔”اگر ہم سے تمہاری شادی ہوئی تو لوگ تمہارا مذاق اُڑائے گے۔۔”یہ دیکھو ہمارے چہرے پر داغ۔۔۔اقدس نے کیسے بھی کرکے اُس کو منانا چاہا تبھی اُس کے سامنے کھڑی ہوتی اپنا نشان اُس کو دِکھایا

“داغ چاند کو خوبصورت بناتا ہے۔۔”مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔آتش شانے اُچکاکر آرام سے بولا تو اقدس دنگ سی اُس کو دیکھنے لگی۔۔”جس کو اُس کے چہرے پر موجود نشان سے کوئی فرق نہ پڑا تھا۔۔”ہلانکہ ہر ایک انسان کو اُس کے اِس نشان سے بہت زیادہ فرق پڑتا تھا

“لیکن ہمارا نکاح آلریڈی ہوچکا ہے۔۔”اِس بار اقدس نے جو کہا اُس کو سُن کر چونکنے کی باری آتش کی تھی

“ریئلی؟”آتش حیرت سے سرتا پیر اُس کو دیکھنے لگا جو اُس کو میریڈ کہی سے بھی نہ لگی تھی پھر ایک خیال اُس کے دماغ میں آیا کہ”سامنے کھڑی لڑکی اُس کو ڈبل کراس کرنے کی کوششوں میں ہے۔۔”اور وہ اب اِتنا بیوقوف بھی نہ تھا کہ کسی کے ہاتھوں بیوقوف بن جاتا

“تم میریڈ نہیں ہو۔۔”میں جانتا ہوں۔”آتش اُس کو گھورتی نگاہوں سے دیکھ کر بولا تو اقدس اپنی جگہ پہلو بدلتی رہ گئ۔

“ہمارا اور تمہارا نکاح نہیں ہوسکتا۔۔”کیونکہ ہمیں اِتنا تو پتا ہے کہ تم نے خاص ہمیں نکاح کے لیے تو اغوا نہیں کروایا تمہارا مقصد کوئی اور ہے۔۔”اپنا لہجہ مضبوط کیے اقدس نے اُس سے کہا تو آتش اُس کے ٹھیک اندازے پر کافی ایمپریس ہوا

“کول لیکن سویٹ ہارٹ تمہارا حُسن دیکھ کر نہ میری نیت بدل گئ ہے تو آج کی تاریخ میں نکاح تو ہوکر رہے گا۔۔”آتش نے ہاتھ کھڑے کیے کہا

“ہم سے ایسی چیپ باتیں نہ کرے آپ۔۔”اقدس کا پورا چہرہ سُرخ ہوا تھا

“باتیں نہیں کرتے نکاح کرتے ہیں۔۔”تم یہی بیٹھو میں سارا ارینجمنٹ کرکے آتا ہوں۔۔آتش اُس کو بیٹھنے کا اِشارہ کرکے بولا

“تم

“نکاح کا جوڑا کیسے ہونا چاہیے تمہارا؟”اپنا فیورٹ کلر بتادو۔۔”پھر یہ نہ کہنا کہ جوڑا میری پسند کا نہیں۔یقین کرو لڑکیوں کی اِس چک چک سے میں کافی اریٹیٹ ہوتا ہوں۔۔۔اقدس اُس سے کچھ کہنے لگی جب آتش اُس کی بات درمیاں میں کاٹ کر ایسے بولا جیسے دونوں کی لو میریج ہو۔۔

“کیا تم پاگل ہو؟”ہم یہاں تمہیں کیا بول رہے ہیں۔۔”اور تم جوابات کونسے دے رہے ہو۔۔اقدس کو آتش کوئی پاگل انسان لگا

“دیکھو پکی عمر کی ہوگئ ہو تم بھی۔۔”میری بتیس سالہ عمر کو چھوڑو لڑکوں کی کوئی عمر نہیں دیکھتا تم بس خود پر رحم کھاؤ۔۔”بیٹھے بیٹھائے۔۔”پکے ہوئے پھل کی طرح ایک ہینڈسم،ہاٹ”چارمنگ پرسنائلٹی والا لڑکا مل رہا یے تو یوں ناشُکری نہ کرو۔۔”من کی بات منہ سے بول دو۔۔”میں کسی سے کہوں گا نہیں۔۔”بات کرتے کرتے اچانک آتش گُنگُنانے لگا تو اقدس خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی جو خود کو بار بار “بتیس سال کا تو بول رہا تھا لیکن ساتھ میں”لڑکا” بھی لگا رہا تھا

“ہمیں پکا پکایا پھل نہیں چاہیے۔۔اقدس نے سرجھٹک کر کہا

“لیکن مجھے بچپن سے چاند کو پانے کی خواہش تھی۔۔”آج موقع مل رہا ہے اُس کو پانے کا تو میں ضائع نہیں کروں گا۔۔اُس کے برعکس آتش نے کافی پرسکون ہوکر کہا

“ہماری بات سُنو تم۔۔اقدس نے زچ ہوکر کہا

“سُناؤ میں ہمہ تن گوش ہیں۔۔”آپ اپنے لفظوں کا سور میرے کانوں میں پھونک سکتی ہیں۔۔”ہمارے یہ دونوں کان آپ کی آواز سُننے کو بے قرار ہیں۔۔آتش نے کافی سنجیدگی سے غیر سنجیدہ بات کہی تو اقدس کا دل چاہا اپنا سر دیوار پر مارے۔۔”جانے اِس بندے کے ساتھ کیا مسئلہ تھا جو خود تو کبھی سیریس ہوتا نہیں تھا۔”باقیوں کا خون خشک کردیا کرتا تھا اپنی اِن بے تُکی باتوں سے

“تم کیوں چاہتے ہو کہ ہم نکاح خواہ کے سامنے انکار کرے۔۔اقدس نے سنجیدگی سے کہا

“نو سویٹ ہارٹ تم ایسا نہیں کرو گی۔۔”کیونکہ یہاں سے باہر جانے کے سارے راستے مسدود ہیں تم جہاں جہاں جاؤ گی۔۔”وہاں وہاں مجھے پاؤ گی تو پلیز ایسی کوشش نہ کرنا۔۔آتش اُس کی ناک دباکر بولا تو اقدس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیسے اپنی جان اِس پاگل سے چُھڑوائے جو بلاوجہ ہاتھ منہ دھو کر اُس کے پیچھے پڑگیا تھا

“ہم سے نکاح کرکے آپ کو کیا ملے گا؟”اقدس بے بس ہوئی

“لو کرلی نہ بیوقوفوں والی بات کیا ہی کیا ملے گا؟”مجھے تم اور تمہیں میں مل جاؤں گا بس۔۔۔”ہاں سلامی میں ایک دو جوتے تمہارے بابا سائیں کے ملے تو وہ الگ بات ہے۔۔آتش جو کمرے سے باہر جانے لگا تھا اُس کی بات پر رُک کر اُس سے بولا

“تمہیں یہ سب کچھ اِتنا آسان لگ رہا ہے؟”تمہیں اندازہ ہے تمہارے اِس قدم سے ہماری کتنی رسوائی ہوگی۔۔اقدس افسوس سے اُس کو دیکھ کر بولی

“رسوائی کیوں؟”ہم کونسا کوئی غلط کام کررہے ہیں۔۔”ماشااللہ سے دونوں میچیور پرسن لوگ ہیں۔۔”شادی کی عمر ہے۔۔”ارے تمہاری عمر کی لڑکیاں پانچ پانچ بچوں کو پالتی ہیں۔۔”اور ایک تم ہو جس کو ابھی بھی کنوارہ رہنے کا بھوت سوار ہے۔۔”کیا ماں باپ کے گھر پر بیٹھ کر اُن کو گُناہگار بنا رہی ہو۔۔”کرلوں شادی پرومس ہنی مون وہاں منائے گے۔۔”جہاں تم کہو گی۔۔آتش نے بازو سینے پر باندھ کر اُس سے کہا تو اقدس غصیلے نظروں سے اُس کو گھورنے لگی

“جانتا ہوں بہت ڈیشنگ ہوں۔۔”لیکن اپنی نظروں پر زرا اختیار پاؤ۔۔”نکاح ہوجانے دو پھر حق سے دیکھنا۔۔۔آتش نے اُس کو تپانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی

“ہم تم سے نکاح نہیں کرے گے۔۔۔اقدس نے چیخ کر کہا

“تمہاری مرضی ہے مادام مجھے کوئی مسئلہ نہیں تمہارے ساتھ ایسے رہنے میں۔۔”نکاح کا تو میں تمہاری آسانی کے لیے کہہ رہا تھا۔۔”لیکن تم بغیر نکاح کے بھی کمفرٹیبل ہو تو ایز یو وِش مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔۔”اپنی بات کرنے کے بعد کمرے کا دروازہ لاک کرتا آتش اُس طرف بڑھنے لگا تو اقدس آنکھیں پھیلائے اُس کو دیکھنے لگی۔۔” جو اپنی واسکوٹ کے بٹن کھولتا اُس کی طرف آنے لگا تھا۔۔

💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮
💮

“سیل فون آف ہونے کی وجہ سے اپنے لیے وہ کوئی پبلک ٹرانسپورٹ کا بندوست نہ کرپائی تھی تبھی ماہا بس اسٹاپ پر کھڑی”بس کا انتظار کرنے میں مصروف تھی۔۔”جب ایک بڑی گاڑی اُس کے سامنے رکی تھی۔۔”لیکن ماہا نے ایک غلط نگاہ اُس گاڑی پر نہ ڈالی تھی۔

“آؤ میں چھوڑدیتا ہوں۔۔”جانی پہچانی آواز سن کر ماہا نے گردن موڑ کر دیکھا جہاں “بلیک ہوڈی کے اُپر وائٹ جیکٹ پہنے وائٹ جینز پینٹ میں ہاتھ پھنسائے کھڑا سکندر اُس کو دیکھ رہا تھا۔۔”اُس کا یہ کیجوئل ویئر لُک وہ آمنے سامنے لائیو پہلی بار دیکھ رہی تھی۔”یا جو شخص اُس کے سامنے کھڑا تھا اُس کو وہ دیکھ ہی شاید پہلی بار رہی تھی۔

“نو تھینکس۔۔”اُس پر سے نظریں ہٹاتی ماہا نے انکار کیا

“گاڑی میں انتظار کررہا ہوں آجانا۔۔ایک اچٹنی نظر اُس کے سنجیدہ چہرے پر ڈال کر کہتا وہ گاڑی میں واپس بیٹھ گیا۔۔’تو اُس کو فل اگنور کرتی ماہا ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھنے لگی۔۔”جہاں ابھی بس کو آنے میں دس منٹس تھے۔۔”دوسری طرف سکندر نے اُس کو ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھ کر تیز ہارن دیا تو ماہا نے ناگواری سے اُس کی گاڑی کو دیکھا پھر سرجھٹک کر اپنے بیگ سے ایئر فون نکال کر کان میں ڈالی تھی۔۔”اب اُس کا سیل فون آف تھا یہ بات اُس کو پتا تھی سکندر کو نہیں۔۔”لیکن اُس کی حرکت پر سکندر آگ بگولہ ہوتا گاڑی سے باہر نکلتا اُس کے سر پہ نازل ہوا

“کانوں میں مسئلہ سُنائی نہیں دے رہا جو میں بول رہا ہوں۔۔”سکندر اُس کا بازو دبوچے غرانے والے انداز میں بولا تو اُس کو ماہا کوئی کرارہ جواب دینے والی تھی کہ نظر ایک گاڑی پر پڑی اُس کو گاڑی وہ جانتی تھی۔۔”تبھی اُس کا ہاتھ جھٹک کر خاموشی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئ تو اُس کی حرکت نے سکندر کو حیران کردیا۔۔”اُس کو اب ماہا سے اِتنی تابعداری کی بھی اُمید نہ تھی۔۔”پر جو بھی تھا وہ بھی گاڑی میں بیٹھ کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی

“اگر لالی پاپ کی شکل والی کی وجہ سے مجھے بیک سیٹ پر بیٹھنے کا کہا نہ آپ نے تو سوچ ہے آپ کی کہ ماہا کیا کرے گی آپ کے ساتھ۔۔”سکندر نے اگنیشن میں چابی گھمائی تو ماہا نے سنجیدگی سے بھرپور آواز میں اُس سے کہا تو سکندر کے سر پہ سے گُزری تھی اُس کی بات لیکن اُس کی طرف سے کسی نے گاڑی کا شیشہ ناک کیا تو وہ اُس کی طرف متوجہ ہوا

“دعا تم یہاں؟”شیشہ نیچے کیا تو دعا خان کو دیکھ کر وہ سرپرائزڈ ہوا

“ہاں میں ڈارلنگ وہ دراصل ہم ساتھ لنچ کرنے والے تھے تو سوچا ایک ساتھ جاتے ہیں۔۔”ڈرائیور کو میں نے واپس بھیج دیا۔۔”دعا نے کہا تو سکندر مسکرایا

“اچھا کیا بیٹھ جاؤ گاڑی میں۔۔۔سکندر نے کہا

“فرنٹ سیٹ پر کوئی اور موجود ہے۔۔”میں تمہاری فیانسی ہوئی تو وہاں مجھے ہونا چاہیے نہ۔۔دعا نے کہا تو سکندر کے مسکراہٹ پل بھر میں سمٹ گئ تھی

“اگر لالی پاپ کی شکل والی کی وجہ سے مجھے بیک سیٹ پر بیٹھنے کا کہا نہ آپ نے تو سوچ ہے آپ کی کہ ماہا کیا کرے گی آپ کے ساتھ۔۔””

“دعا کی بات پر اُس کے کانوں میں ماہا کے الفاظ گونجے تو وہ جانا ماہا کی بات کا مطلب۔۔”اُس نے گردن موڑ کر ماہا کو دیکھا جو کتاب کھولے ایسے بیٹھی جیسے اُس کے آس پاس کوئی اور نہ تھا۔۔

“دعا یہ میری کزن ہے۔۔۔”سکندر نے ماہا کی طرف اِشارہ کیے اُس سے کہا

“اوو ہائے۔۔دعا نے منہ ٹیرھا کرکے اُس کو مخاطب کیا لیکن جواب میں ماہا نے یہ زحمت بھی نہ کی تھی۔

“ویری روڈ۔۔دعا نروٹھے پن سے سکندر کو دیکھ کر بولی

“ہا

“یہی کھڑے رہنا ہے تو بتادے۔۔”ماہا کے پاس اور بھی کام ہے۔۔”اُس کو دیر ہورہی ہے۔۔”سکندر دعا سے کچھ کہنے والا تھا جب کتاب کو زور سے بند کرکے سکندر کو دیکھ کر ماہا نے کہا تو کچھ پل کے لیے اُس کا دل اُچھل پڑا تھا وہ جان نہ پایا کہ یہ ماہا میں اچانک کونسا بھوت سوار ہوگیا۔۔”جبکہ دعا منہ کھولے اُس کی ٹون کو دیکھ رہی تھی جو اُس نے سکندر کے لیے استعمال کی تھی

“یو گرل تم میں تمیز نہیں یہ کیسے بات کررہی ہو ڈارلنگ سے؟”دعا اپنا چہرہ گاڑی میں گُھساتی اُس کو گھور کر بولی

“ایسے گھورے مت اسکن میں پمپلز ونکلز پڑجائے گے پھر کیمرے میں اچھا لُک نہیں آئے گا آپ کا۔”ماہا نے اُلٹا اُس کو مشورہ دیتے کہا تو دعا جھٹ سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگی۔

“کچھ نہیں ہوا رلیکس۔۔سکندر ماہا کو گھورتا دعا سے بولا

“اپنی کزن سے بیک سیٹ پر بیٹھنے کا کہو۔۔۔دعا نے لاڈ سے کہا تو سکندر نے ہونٹوں پر زبان پھیر کر ماہا کو دیکھا جو اُس کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کہنا چاہتی ہو

“بھول کر بھی یہ مت کہیے گا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *