Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq (Episode 09)

Salam Ishq by Rimsha Hussain

“اگلے دن عیشا میشا کے ہمراہ گاؤں آئی تھی تاکہ اقدس سے سوری بول پائے”وہ سوری بس زوریز کے کہنے پر اُس سے مانگنے والی تھی اور زوہان کی وجہ سے ورنہ اُس کو نہیں تھا لگتا کہ اُس نے ایسا کچھ بولا تھا جو کسی سے سوری بولے”لیکن المان سے پھر بھی وہ سور کرنے والی نہیں تھی کیونکہ اُس کو اپنے علاوہ کسی اور کا اٹیٹیوڈ رتی برابر بھی پسند نہیں ہوتا تھا پھر المان سے معافی مانگنا تو بہت دور کی بات تھی۔

“راکاس گھوم گیا ہے کیا حویلی جو تم اِتنا خاموش ہو اور اقدس بھی چُپ چاپ ہے۔میشا نے آج خلاف توقع فاحا کو کچھ زیادہ خاموش دیکھا تو بولے بنا نہ رہ پائی

“خالہ مان بھائی نے بابا جان سے کہا اُس کو دبئ جانے دیا جائے تاکہ وہ اپنے سنگر ہونے کا ڈریم پورا کرپائے لیکن بابا جان نے صاف منع کیا اور کہا کہ اُس کو اپنی پڑھائی پوری کرنی ہے اُس کے بعد اُن کی گدی کو سنبھالنا ہے سنگر وہ نہیں بن سکتے کیونکہ یہ مراثیوں کا کام ہوتا ہے گانا بجانا اور ناچ گانا کرنا۔ ۔جواب ماہا نے فرفر دیا تھا جس پر اُس کی آخری بات پر عیشا کی ہنسی نکل گئ تھی جس کو اُس نے بڑی مشکل سے ضبط کیا تھا۔

“بابا جان کو یہ گانے وغیرہ شروع سے نہیں پسند ہم نے اُن کو کبھی گانا سُنتے ہوئے نہیں دیکھا تو مان کو وہ کیسے ایسے شعبے میں جانے کی اِجازت دینگے ویسے بھی مان کی عمر تو ابھی پڑھنے کی ہے۔ ۔اقدس نے بھی گہری سانس بھر کر بتایا کیونکہ وہ خود پریشان تھی المان کی ضد کی وجہ سے جو جانے کبھی چھوٹتی”چھوٹتی بھی یا نہیں

“یونی میں اُن کی کلاسس بھی تو شروع ہوگئ ہیں پر مان اور سِکی کی وجہ سے یہ تینوں بھی نہیں جاتے۔ ۔میشا نے دونوں کی بات کے جواب میں کہا

“وہ ہے کہاں؟عیشا اپنے چارو اِطراف دیکھ کر پوچھنے لگی”اُس کو پتا تھا اِس وقت المان کافی غُصے میں ہوگا اور وہ اُس کے غُصے کو مزید ہوا دینا چاہتی تھی اُس کو تپانا چاہتی تھی آخر کل کا حساب بھی تو لینا تھا نہ اُس کو

“اپنے کمرے میں ہے صبح سے باہر نہیں آیا۔ ۔فاحا نے پریشان کن لہجے میں بتایا

“پیاری خالہ جان آپ پریشان نہ ہو میں ابھی اُس کو باہر لاتی ہوں۔ ۔عیشا اپنی جگہ سے اُٹھ کر مسکراکر بولی

“مسکرا تو ایسے رہی آپ جیسے آپ کی مان بھائی سے بہت بنتی ہو اور مان بھائی آپ کی بہت مانتے ہو بس آپ کے کہنے کی دیر ہے اور وہ بھاگم بھاگ چلے آئے گے۔ ۔ماہا نے عیشا کو مسکراتا دیکھا تو ناک منہ چڑھا کر بولی

“صاف گو ہونا اچھی بات ہے لیکن منہ پھٹ ہونا بہت بُری بات ہے۔ ۔عیشا اُس کو گھور کر بولی تو ماہا نے منہ بسورا تھا

“اچھا خیال سے جائیے گا۔ ۔ماہا نے اُس کو سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تو کہا

“کیوں؟عیشا نے مڑ کر اُس کو دیکھا

“مان بھائی کافی غُصے میں ہوگے۔ ۔ماہا نے بتایا

“تو؟ عیشا اُس کی بات کا مطلب سمجھ نہیں پائی

“تو بی کیئرفُل غُصے میں آکر وہ کہی آپ کا سر نہ پھاڑ دے اگر ایسا ہوگیا تو ماہا آپ جیسی دوسری بہن کہاں سے لائے گی۔ ۔ماہا نے محبت لٹاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا جس پر عیشا دانت کچکچا کر اُس کو دیکھ کر تیز تیز سیڑھیاں چڑھنے لگی۔

“آہم آر یو دیئر المان جانی؟المان کے کمرے پاس پہنچ کر عیشا نے دروازے کو کھول کر چِڑاتے انداز میں المان کو دیکھا تو اُس نے چونک کر اپنا سراُٹھایا تو نظریں عیشا کی نگاہوں سے ٹکرائیں تھیں جس کو دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں گویا خون اُتر آیا تھا

تم میرے کمرے میں کیا کررہی ہو؟” نکلو یہاں سے۔۔۔وہ جو کمرے میں بیٹھا پاؤ جھلا رہا تھا جب اُس نے عیشا کو اپنے کمرے میں دیکھا تو اُس کی سُرمئ آنکھوں میں نفرت بھرا تاثر نُمایاں ہوا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا وہ یہاں اُس کی بے بسی کا تماشا دیکھنے آئی تھی تبھی تو اُس کے چہرے پر گہری مسکراہٹ تھی جو المان کو زہر سے بھی زیادہ بُری لگی تھی”اُس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ جانے کیا کردیتا

“ارے ارے پیارے کزن نالاج کیوں ہورہے ہو میں تو تمہیں حوصلہ دینے آئی تھی۔۔عیشا نے معصومیت سے کہا

“گیٹ آؤٹ۔۔المان نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے بھینچ کر بڑے ضبط سے اُس کو جانے کا کہا

“سُنا ہے تمہاری اپیل ریجیکٹ کردی گئ ہے ویسے کزن تمہیں سِنگر بننے کا شوق کیوں چڑھا ہے؟”کیا تمہارا اُٹھنا بیٹھنا مراثیوں میں ہے؟عیشا نے بڑے رازدرانہ انداز میں اُس سے کہا تو المان دندناتا اُس کے سر پہ کھڑا ہوا تھا۔

“اگر تم چاہتی ہو میں تمہیں دھکے دے کر کمرے سے باہر نا نکالوں تو اچھا اِس میں ہے کہ خود یہاں سے چلی جاؤ کیونکہ اگر مجھے غُصہ آیا نہ تو میں بھول جاؤں گا کہ تم میری خالہ کی بیٹی ہو۔۔اُس کا بازو سختی سے دبوچ کر المان نے گویا اُس کو وارن کیا تھا جس پر عیشا نے اپنی ٹانگ اُس کی ٹانگ میں پھنسا کر ایک جھٹکا دیا تھا جس پر المان نے بڑی مشکل سے خود کو گِرنے سے بچایا تھا۔

“تم

“آ ہاں بلکل بھی نہیں پیارے کزن اگر تم المان اسیر ملک ہو تو میں عیشا عرف عیشو ملک ہوں مجھ سے پنگا نیور ایور چنگا اگر تم چاہتے ہو میں یہاں تمیں تمہارے کمرے میں نیلوں نیل نہ کروں تو مجھے ہاتھ لگانے کی غلطی’غلطی سے بھی مت کرنا۔۔۔المان جو غُصے سے اُس کی طرف بڑھنے لگا تھا لیکن عیشا نے جلدی سے سائیڈ پر ہوکر اُس سے کہا تو المان نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچ کر کھاجانے والی نظروں سے عیشا کو دیکھا جو شاید پیدا ہی اُس کا سکون برباد کرنے کے لیے ہوئی تھی۔

“کیوں آئی ہو یہاں؟اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر المان نے سنجیدگی سے پوچھا

“تمہارا ماتم کُناں چہرہ دیکھنے آئی تھی اور یقین کرو جیسا سوچا تھا اُس سے بھیانک لگ رہا ہے۔ ۔عیشا نے بڑی معصومیت سے کہا

“تمہیں پتا ہے تم نفرت کرنے لائق ہو تمہیں دیکھ کر میرا خون کھول اُٹھتا ہے اگر زندگی میں کبھی کسی کو قتل کرنے کا ایک موقع ملتا تو آئے سویئر میرے ہاتھوں سے وہ تمہارا ہوتا اِس قدر نفرت ہے مجھے تم سے”پتا نہیں کیوں کب سے لیکن ہے”کیونکہ میں تمہیں دیکھتا ہوں تو میرا خون کھول اُٹھتا ہے” مجھے وحشت سی ہوتی ہے دل چاہتا ہے کھڑے کھڑے تمہیں شوٹ کرلوں۔ ۔المان کو جانے کیا ہوا تھا جو اُس کی بات پر عیشا کو دونوں بازو سے سختی سے دبوچ کر چنگاڑتی آواز میں بولا تو عیشا کو اپنے وجود میں سنسی سی ڈورتی محسوس ہوئی وہ کافی حیران نظروں سے المان کو دیکھنے لگی”جس کے چہرے پر اُس کے لیے نفرت بھرے تاثرات تھے” مانا کہ وہ بھی المان کو کچھ خاص پسند نہیں کیا کرتی تھی” لیکن جتنے بڑے الفاظ المان نے منہ سے ادا کیے تھے اُن کا تصور تو عیشا نے کبھی نہیں کیا تھا”اُس کا پسندیدہ کام لوگوں کو زچ کرنا تھا اور بچپن سے وہ یہ کام بخوبی کرتی آئی ہے لیکن المان کو زیادہ چڑانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت تنگ ہوتا تھا اور اوور ری ایکٹ کرتا تھا جو بات عیشا کو مزہ دیتی تھی تبھی وہ اپنے ہاتھ آیا موقع کبھی گنواتی نہیں تھی اور آج ایسا نہیں تھا کہ وہ ہرٹ ہوئی تھی وہ اپنے لیئے المان کے خیالات جان کر بس حیران ہوئی تھی کیونکہ زندگی میں پہلی بار کسی نے اُس سے نفرت کا اِظہار کیا تھا

“میری شکل کیا دیکھ رہی ہو نکلو باہر۔ ۔عیشا اُس کو دیکھتی اپنے ہی خیالوں میں گم تھی جب المان نے جھٹکے سے اُس کے بازو آزاد کرکے کمرے سے باہر نکالا تھا اور” ٹھاہ” کی آواز سے دروازہ بند بھی کیا تھا جس کی آواز سے عیشا یکدم ہوش میں آئی تھی

“تم لوزر انسان خود کو سمجھتے کیا ہو؟ “تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے یعنی عیشا آریان دُرانی کو یوں کمرے سے باہر نکالنے کی؟”اللہ کرے تم دُنیا کے فلوپ سنگر بنو اور تم بس زنگر کھاتے رہ جاؤ” تمہاری شادی اندھی منڈی لولی لنگڑی سے ہو” جو بات کرے تو اُس کے منہ سے جھاگ آئے”اُس کی ناک بھی گوبر سے بھری ہوئی ہو”دانت بھی پیلے اور کالے ہو”مسورے تو سِرے سے نہ ہو”تم جہنم میں جاؤ”جہنمی انسان تم پاگل ہوجاؤ”اینڈ آئے ہیٹ یو مور دین یو۔۔عیشا اُس کے کمرے کا دروازہ زور سے پیٹتی بددعائیں دینے لگیں جو المان کے کانوں تک پہنچ نہیں پائی تھیں پر عیشا کا غُصے سے بُرا حال ہوگیا تھا”اُس کو کیسے بھی کرکے اپنی بھڑاس نکالنی تھی۔

“سوہان خالہ کے بیٹے اور فاحا خالہ کے بیٹے میں کتنا فرق ہے آج جس طرح مان نے مجھے باتیں سُنائیں ہیں اور یوں کمرے سے باہر دھکیلا ہے اگر یہاں ہانی ہوتا تو وہ کبھی ایسا نہ کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ لڑکیوں کو کیسے ٹریٹ کیا جاتا ہے” اور میں بھی کتنی بدھو ہوں جو مان کو ہانی سے کمپیئر کررہی ہوں بھلا مان ہانی جیسا کیسے ہوسکتا ہے ہانی کا پلرا ہر لحاظ سے بیٹر ہے کیونکہ اُس میں ایگو نہیں ہے اور مان میں ایگو کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ۔”پر ظاہر ہے جیسا باپ ہوگا ویسا بیٹا ہوگا” موم بتاتی جو ہیں خالو اسیر میں اٹیٹیوڈ بہت ہوتا تھا تو ظاہر ہے المان نے بھی ویسے ہونا تھا پر بڑے بابا ایسے نہیں میں نے کبھی اُن کو غُصہ کرتے نہیں دیکھا اور یہی وجہ ہے کہ ہانی اِتنی سویٹ نیچر کا مالک ہے۔ ۔لیکن جو مان نے میرے ساتھ کیا ہے نہ وہ میں کبھی نہیں بھولوں گی۔ ۔عیشا آہستہ آہستہ قدم لیتی خود سے باتیں کرنے میں مگن تھی اور زوہان کے ساتھ المان کو سوچنے لگی آج المان نے جو کیا تھا وہ عیشا کے لیے ناقابلِ یقین اور ناقابلِ برداشت تھا۔

“خیر میں کیوں اُس کے بارے میں سوچ رہی ہوں وہ کونسا اِتنا امپورٹنٹ ہے۔ ۔عیشا نے جلدی سے اپنا سرجھٹکا تھا

❣
❣
❣
❣
❣
❣
❣

“تمہارا کچھ کام ہوا؟ حوریہ اپنے گھر میں موجود لان میں پودو کو پانی دے رہی تھی جب اُس کی کزن نے اُس سے سوال کیا

“دعا کرو ہوجائے کیونکہ مجھے آثار نظر نہیں آرہے۔۔حوریہ نے گہری سانس بھر کر جواب دیا”اُس کے لہجے میں مایوسی کا عنصر صاف نُمایاں ہوا تھا

“میرے پاس ایک سولِٹ آئیڈیا ہے جس سے تم ارننگ آسانی سے کرسکتی ہو۔۔کرن نے اُس کے پاس آکر رازدرانہ انداز میں بتایا

“اگر یہ سولِٹ آئیڈیا گھر سے باہر جاب کرنے کا ہے تو مجھے نہ بتاؤ کیونکہ ابا میری ٹانگیں توڑ کر ہمیشہ کے لیے گھر میں بیٹھا دینگے۔۔حوریہ نے اُس کی بات سن کر سرجھٹک کر کہا

“ارے یار حور ایسا کچھ نہیں تمہارے ناولز سے ریلیٹڈ ہے۔۔کرن نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا

“اچھا پھر بتاؤ کیا آئیڈیا ہے تمہارا؟حوریہ کو اب جاننے کا اشتیاق ہوا

“تمہارے ناولز میں کیا ہوتا ہے؟کرن نے سوال کیا

“وہی جو اکثر ناولز میں ہوتا ہے اور ابھی تو میں نے لکھنا سٹارٹ کیا ہے آگے آگے مزید امپروومنٹ آجائے گا لکھنے میں اور تمہیں پتا ہے میں گوگل سے مشکل ترین الفاظ سرچ کرکے اپنے ناولز میں لکھتی ہوں تاکہ ڈائجسٹ والوں کو میرا ناول معیاری لگے۔۔حوریہ نے مسکراکر بتایا اُس کو لکھنے کا بہت شوق ہوتا تھا اور وہ اپنی زندگی میں اچھا لکھ کر بہترین لکھاری بننا چاہتی تھی

“ڈیئر سویٹ کزن تمہیں اپنے ناولز کے لیے کسی ڈائجسٹ کے ادارے کا محتاج نہیں ہونا پڑے گا اگر میں جیسا کہوں گی تم ویسا کرتی جاؤ گی نہ تو دیکھنا دن دُگنی رات چُکنی ترقی کرو گی۔۔کرن نے فخریہ انداز میں بتایا

“تم نے آخری کہاوت غلط بولی ہے۔۔حوریہ کو جیسے یہی بات سمجھ آئی تھی

“کہاوت کو چھوڑو اور جو میں سُنارہی ہوں اُس کو سمجھو۔۔کرن نے اُس کے سر پہ چپت لگاکر کہا

“تم سُناؤ جس وجہ سے تم اِتنا پرجوش ہو۔۔حوریہ مطلب کی بات پر آئی تھی

“تمہیں اپنے لکھنے کا انداز بدلنا ہوگا جیسے ڈائجسٹ رائٹر لکھتی ہیں یا پھر جو ادارے کے لیے معیاری ہوتے ہیں اُن کو چھوڑنا ہوگا۔۔کرن نے اُس کو سجھانا شروع کیا

“پھر اپنے ناول میں کیا دوں میں؟حوریہ کے سر پہ سے گُزری کرن کی باتیں

“رومانس۔۔کرن نے کہا

“ہاں تو میں رومانس دیتی ہوں اور رومانس کے بغیر ناول تو اِن کمپلیٹ ہوتا ہے۔۔حوریہ نے اپنی سمجھ کر مُطابق اُس کو جواب دیا

“تم کیسا رومانس لکھتی ہو؟کرن نے بغور اُس کے چہرے کا جائزہ لیا وہ حوریہ کو اچھے سے جانتی تھی جو ایک شائے قسم کی لڑکی تھی لیکن جو ابھی اُس نے روانگی میں کہا ایسے میں کرن کو لگا جیسے وہ کسی اور چیز کے مطلق بول رہی ہو کیونکہ اُس کی سوچ مُطابق اگر حوریہ اُس کی بات سمجھتی تو ضرور اُس کے چہرے پر لالی بِکھرتی

“رومانس کیسا کا کیا مطلب جو ہوتا ہے وہ ہوتا ہے”تم پاکستانی ڈرامے نہیں دیکھتی کیا یا ناولز تم بھی تو پڑھتی ہو تمہیں بھی پتا ہوگا۔۔حوریہ اُس کو دیکھ کر بولی جو اُلجھن زدہ نظروں سے اُس کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے جانے کیا ہوگیا ہو

“میں نے کبھی ڈائجسٹ نہیں پڑھا اور نہ شوق ہے مجھے پاکستانی ڈرامے دیکھنے کا میرے رومانس لفظ کہنے کا مطلب تھا بولڈ لکھو اور تمہیں پتا نہیں ایسے ناولز کی بہت ڈیمانڈ ہوتی ہے اور اگر تم لکھ کر یوٹیوب پر اپنا چینل بناکر اپلوڈ کروں گی تو یقین جانو بہت فیمس ہوجاؤ گی کیونکہ یوٹیوب پر بہت کمائی ہوتی ہے اور ایک اچھی رائٹر وہ ہوتی ہے جو اپنے قارئین کے بتاگئے طریقوں کی ویلیو کرتی ہے اُن کو مدعے نظر رکھ کر لکھتی ہے۔”سوچو اگر تمہاری کوئی بھی ویڈیو وائرل ہوگئ تو تم ڈالرز سے کھیلوں گی ناکہ اِن ڈائجسٹوں والوں کا مُحتاج ہونا پڑے گا تمہیں۔۔۔کرن نے کہا تو حوریہ حیران پریشان سی کرن کو دیکھنے لگی اُس کو یقین نہ آیا کہ یہ کہنے والی اُس کی کزن ہے جو بچپن کی دوست بھی ہے اُس کی پر آج وہ کیسا اُس کو مشورہ دے رہی تھی وہ اُس کو گُناہوں کی دلدل میں دُھنس جانے کا بول رہی تھی جہاں واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا کیونکہ ایسی چیز میں لذت جو ہوتی ہے اور کوئی شک نہیں کہ مکھیاں ہمیشہ خراب چیزوں کے گرد منڈلاتی ہیں”جو چیز شفاف ہو اور ڈھکی ہوئیں ہو وہ چیزیں ایسی مکھیوں سے بچی ہوئیں ہوتیں ہیں۔

“کرن تمہیں پتا ہے تم مجھے کیا کرنے کا بول رہی ہو؟حوریہ کو وحشت سی ہونے لگی تھی

“اِس میں بڑی بات کیا ہے؟آجکل ایسی اسٹوریز کو پسند کیا جاتا ہے اور تم زرا مجھے بتاؤ ڈائجسٹ کے تین چار لکھاریوں کے علاوہ کوئی انسان کسی اور رائٹر کو جانتا ہے؟”جن کے ناول ہر ماہ ڈائجسٹ میں شعاع ہوتے ہیں”نہیں جانتا لیکن تمہیں پتا ہے جو رائٹرز بولڈ لکھتی اُن کی فالونگ بہت ہوتی ہے”ناول ٹاپ پر جاتا ہے اور تم کیوں اپنی محنت اپنا وقت ویسٹ کرنے پر تُلی ہوئی ہو میری مانو اور عیش کرو۔۔کرن کے انداز میں کوئی لچک نہ تھی وہ کسی ہچکچاہٹ کے بغیر اُس کو مشورے دے رہی تھی

“کیا وہ ناولز تم اپنی بڑی یا چھوٹی بہن کے سامنے پڑھ سکتی ہو؟”کیا اُن کو کہہ سکتی ہو کہ فلاں ناول کا ناول ریڈ کیا تھا بہت بولڈ اور اوسم تھا؟حوریہ نے اُس سے کہا تو چند پل کے لیے کرن کچھ بول نہیں پائی

“نہیں بتاسکتی نہ؟حوریہ کو جیسے اُس کی خاموشی میں چُھپا جواب مل گیا

“کسی اور کے سامنے ڈسکس کیوں کرنا؟کرن نے سرجھٹک کر کہا

“ہاں سہی بات ہے کسی کے سامنے ڈسکس کیوں کرنا اور تمہیں پتا ہے اگر گھر میں کسی کو پتا لگا کہ تم ناول کے نام سے کیا پڑھتی ہو تو تمہیں ایسی شرمندگی ہوگی جو کبھی تم اُن کے آگے سراُٹھا نہیں پاؤ گی اور دوسرے جہاں میں اپنے رب کے آگے جوابدے الگ سے ہوگی”میں نے الحمد اللہ پڑھا نہیں ایسا ناول پر جانتی ہوں جو پڑھتے ہوگے اُن کو چسکا لگتا ہو اور زیادہ پڑھنے کی تشنگی بھی ہوگی پر کرن تم میری دوست ہو میں تبھی کہہ رہی ہو ایسے فحاشی ناولز گُناہ تو ہیں لیکن ایسے ناولز سے اُن لڑکیوں کی معصومیت ختم ہوجاتی ہے جن کو ایسے پتا نہیں ہوتا ناولز کی دُنیا ایک فنٹاسی اور امیجینیشن کی دُنیا ہے جہاں ہم جو پڑھتے ہیں اُس کو اپنے خیالوں میں لاتے ہیں یا کچھ خیالات دماغ میں خودبخود گھر کرجاتے ہیں اور ہماری سوچے خراب ہونے لگتیں ہیں پر ہمیں احساس نہیں ہوتا بیہودگی سے دور رہنا اچھی بات ہے”تم مجھے بتاؤ کیا ہماری بڑی بہنوں نے کبھی آکر ہم سے یہ کہا کہ میاں بیوی کے درمیان کیسا ریلیشن شِپ ہوتا ہے؟یا اُن کی حدود کیا ہوتی ہے؟،”اُنہوں نے نہیں بتایا کیونکہ وہ جانتی ہیں جب وقت آئے گا تو خودبخود ہمیں پتا لگ جائے گا وہ ہمیں وقت سے پہلے بتاکر ہماری معصومیت کو چھیننا نہیں چاہتیں کیونکہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے کچھ ایسی باتیں ہوتیں ہیں جو راز میں رہے تو اچھا ہوتا ہے اللہ نے میاں بیوی کا پردہ رکھا ہے جو ایک پاک مقدس بندھن ہے لیکن آج اِس پاک بندھن کو رومانس کے نام سے پامال کیا جاتا ہے۔”بس یہی بتایا جاتا ہے کہ ہونٹ گُلابی ہوگے تو شوہر اٹریکٹ ہوگا”کمر پتلی ہوگی تو شوہر کی من پسند بیوی بنو گی چہرہ حسین وترین ہوگا تو شوہر کی نظریں بیوی پر سے ہٹے گی نہیں وہ بس تمہارا طلبگار رہے گا تو کیا میاں بیوی کا رشتہ بس جسمانی ہوتا ہے؟”اُن دونوں کے درمیان کچھ نہیں ہوتا میاں بیوی کے پاک رشتے میں بہت سی چیزیں ہوتیں ہیں اور جو بولڈ ناولز میں ہوتا ہے نہ وہ اصل زندگی میں نہیں ہوتا لیکن کم عمر لڑکیاں جو ہماری طرح سترہ یا اٹھارہ کی ہوتیں ہیں اُن کے کوڑے دماغوں میں بس ایک بات چھپی ہوتی ہے کہ جیسا ناولز میں ہوتا ہے اب شادی کے بعد میرے ساتھ بھی میرا شوہر ویسے کرے گا۔”پر اصل زندگی میں یہ نہیں ہوتا اور میں اپنے الفاظوں سے کسی کی جھوٹی امیدوں کو باندھ کر اُن کو ہرگز نہیں توڑوں گی۔۔حوریہ نے اپنے ازلی ٹھیڑے ہوئے لہجے میں اُس کو سمجھانے کی غرض سے کہا اور یہ بھی باور کروایا کہ وہ اُس کی بات کبھی مان نہیں سکتی

“میں یہ سب اپنے لیے نہیں تمہارے بھلے کے لیے بول رہی ہو”وائرل تمہارا ناول ہوگا’ ٹاپ پر تمہارا ناول ہوگا اُس میں فائدہ بھی تمکو ملے گا مجھ ایک آنا نہیں ملے گا اور تم مجھے ایسے جتانے والے انداز میں بات کررہی ہو جیسے میں گُناہ کی مورت اور خود تم دودہ کی دھلی ہو جو اب مولانی بن کر مجھے لیکچر دے رہی ہو۔۔کرن اُس کی بات پر سرجھٹک کر بولی اُس کو جیسے ناگوار لگیں تھیں حوریہ کی باتیں

“فحاشی لکھنے کی وجہ سے میرے اعمال میں گناہ بھی بڑھے گے تمہیں یہ بھی کہنا چاہیے تھا۔۔”دیکھو کرن دودہ کا دُھلا کوئی بھی نہیں ہوتا پر پڑھنا گُناہ ہے تو سوچو لکھنا کتنا گُناہ ہوگا میں آج ایسا لکھوں بھی تو جو پڑھتے ہیں اُن کو گُناہ ملے گا سو ملے گا لیکن مجھے ڈبل ملے گا کیونکہ میں نے ایسی بے حیائی پھیلائی اور جو اُن کو شعاع کرے گا گُناہ کے زمر میں وہ بھی آئے گا کیونکہ اُس نے ایسی چیزوں کو پروموٹ کیا سوچو کتنا بڑا گُناہ ہوگا ایک ناول سے اِتنے سارے لوگ بُرے بن جائے گے اور ہم اپنے اللہ کو کیا منہ دیکھائے گے؟”میں کچھ بہترین لکھنا چاہتی ہوں جو موٹیویٹ ہو اور اثرانداز ہو تاکہ اگر کوئی پڑھے تو کتنے ہی پل وہ اُن لفظوں کے شکنجے میں آجائے اور اُس بارے میں سوچے اُن کو پتا ہو کہ جس زندگی میں وہ بے خوف ہوکر ہر بری چیز میں حصہ لے رہے ہیں وہ زندگی چار دن کی ہے”میں اپنے لکھے سے کسی کے لیے اصلاح کا ذریعہ بننا چاہتی ہوں گُمراہ کا نہیں” کسی کی کامیابی کی سیڑھی بننا چاہتی ہوں۔۔”ایسا ناول لکھنا چاہتی ہوں میں جھوٹی فیم کے لیے فحاشی نہیں لکھنا چاہتی تھی۔۔”میں ایسا نہیں کرسکتی میری ایسی تربیت نہیں میری ماں کی ایسی پرورش نہیں اور نہ مجھے اُنہوں نے ایسی چیزوں میں اِنوالو کیا ہے تمہیں پتا ہے میں اپنا تمہیں ذاتی ایکسپیرینس بتاتی ہوں میں کچھ اچھا سا پڑھتی ہوں نہ جو لاجواب کرتا ہے تو میرے دل میں سب سے پہلے یہ بات آتی ہے کہ لکھا اِتنا پیار ہے تو لکھنے والا کیسا ہوگا؟”وہ کتنا اچھا ہوگا اور سوچو جو شرمندہ کرنے والا لکھتی ہیں اُن کا کوئی پڑھنے والا اُس بارے میں کیا سوچتا ہوگا؟حوریہ کا اپنا ایک نظریہ تھا جو پختگی سے بھرپور تھا

“کل تم دیکھنا اپنے اِن لفظوں پر پچھتاؤ گی کیونکہ تب تمہیں میری بات سہی لگے گی۔۔کرن نے گویا اُس کو کُھلا چیلینج دیا

“اِن شاءاللہ ایسا دن کبھی نہیں آئے گا مجھے اپنے لکھے پر پورا یقین ہے”اور ایسے رومانس کا سہارا وہ لکھاری لیتا ہوگا جس کو لگتا ہو کہ ایسے اُس کا لکھا کوئی نہیں پڑھے گا”میں اپنے ناولز میں ایسا کچھ دوں گی کہ لوگ پڑھنے اور سراہنے پر مجبور ہوجائے گے۔۔حوریہ مبہم مسکراہٹ سے اُس کو دیکھ کر بولی

“تم بھی یہی ہو میں بھی یہی ہوں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔۔کرن سنجیدگی سے کہہ کر باہر کے دروازے کی طرف بڑھ گئ تھی”حوریہ نے بھی اُس کو روکنے کی کوشش نہیں وہ بس گہری سانس ہوا میں سُپرد کرتی اپنے کمرے میں موجود اسٹڈی ٹیبل کے پاس آئی

“یہ قلم کتنا قیمتی ہے اور کیا کچھ کرسکتا ہے اِس بات کا اندازہ شاید تم نہ لگا پاؤ(ٹیبل پر پڑا پین حوریہ نے اپنے ہاتھ میں لیا) اِس میں بہت سی پاور ہوتی ہے”یہ کسی کی زندگی سنوار(نکاح)بھی سکتا ہے اور اُجاڑ(طلاق) بھی سکتا ہے بشرطکہ جہاں آپ کے سائن ہو وہاں کچھ غلط لکھا ہوا نہ ہو۔۔”میں نے اِس قلم کو اُٹھا کر خود پر ایک بہت بڑی زمیداری ڈالی ہے کسی رائٹر کی زندگی آسان نہیں ہوتی اُس کو ایسے لفظوں کا چُناؤ کرنا پڑتا ہے جس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو جو کسی کے لیے گُناہ کا سبب نہ بنے بلکہ اِس کو صدقہ جاریہ سمجھ کر کاغذ پر لکیریں کھینچنی چاہیے ایسی لکیریں جس کی چھاپ بہت گہری ہو اور دل موہ لینے والی ہو۔۔”میں آج اِس قلم سے جو لکھوں گی کل بارگارہ میں مجھ سے اُس کے بارے میں پوچھا جائے گا اور میں پھر جب سہی ہوگی تو کوئی ڈر نہیں ہوگا مجھے۔۔۔کرسی گھسیٹ کر بیٹھتی حوریہ سوچو میں جیسے گُم ہوگئ تھی آج اُس کو احساس ہوا تھا کہ زندگی میں کچھ بھی آسان نہیں ہوتا لیکن آج وہ جان پائی کہ قلم اٹھانا آسان کام نہیں ہوتا اگر ہاتھ میں لیا ہے تو اُس کا حق بھی ادا کرنا ہوگا جو حوریہ کرے گی۔۔”ضرور کرے گی۔حوریہ نے خود کو دلاسہ اور اعتماد دیا تھا۔

“میرے ہاتھوں میں قلم ہے کوئی اسلحہ تو نہیں

“رومانس نہ لکھوں”کوئی مسئلہ تو نہیں

“اپنا ایک رجسٹر ہاتھ میں لیکر پین کو دیکھتی حوریہ ہنس کر بڑبڑائی تھی پھر سر پر چپت لگائے اپنا کام کرنے لگی جو ناول لکھنے کا تھا۔

“یہ کرن سے باہر کیا باتیں ہورہی تھیں؟کیوں آئی تھی کرن اور اندر آئے بنا واپس بھی چلی گئ؟اُس کو بیٹھے ہوئے ابھی پانچ منٹ ہوئے تھے”جب کمرے میں خوریہ آتی اُس سے پوچھنے لگی

“کچھ نہیں بس حاتم تائی کی قبر سے اُن کی روح لات مار نکل کر کرن میں سمائی تھی۔۔”جو مجھے اچھا نہیں لگا تو میں نے دوسری لات مار کر اُن کو اپنی جگہ (قبر)پر چھوڑا۔۔حوریہ نے سرجھٹک بتایا تو خوریہ ناسمجھی سے اُس کی پشت کو دیکھنے لگی

“کیا مطلب؟خوریہ چل کر اُس کے پاس آئی

“کچھ خاص نہیں آج پتا نہیں کیا باتیں لیکر آئی تھی”میں تو سن کر چکرا سی گئ آپ کو بتاؤں گی نہ آپ بھی دم بخد رہ جاؤ گی کہ ہماری کزن ایسا بھی بول سکتی ہے۔۔حوریہ نے اُس کی طرف دیکھ کر بتایا

“ایسا بھی کیا بول دیا اُس نے کُھل کر بتاؤ۔۔خوریہ کو اُس کی باتیں ابھی تک سمجھ میں نہیں آئی تھی

“کیا کہوں میں آپ کو مجھے گھر سے باہر نکلوانے کا پکا اِرادہ تھا”یعنی وہ چاہتی تھی بولڈ کے نام سے اپنے ہاتھوں سے فحاشی ناول لکھوں”میاں بیوی کی بیڈروم میں ہوتے لمحات کو قلم کے ذریعے ایکسپوز کروں کیونکہ وہ کہتی ہے کچھ قارئین خوش ہوتے ہیں اگر اُن کو خوش ہونا ہے تو بالیووڈ کی فلمز دیکھے یا اپنی ماں بہن سے پوچھے نہ اُن کے پروائیویٹ مومنٹ میں کیا ہوتا ہے یا کیا ہوا تھا” مجھ سے ایسا گند لکھواکر میری تزلیل کیوں کروانا چاہتی ہے؟”وہ کیا سمجھتی ہے ایسے رومانس کے بغیر ناول اِن کمپلیٹ ہوتا ہے؟مانا رومانس پارٹ آف لائیف ہوتا ہے لیکن رومانس کا مطلب میری ڈکشنری میں کچھ اور ہوتا ہے جو کرن جیسی سوچ رکھنے والے لوگ سمجھ نہیں سکتے۔”ویسے بھی میں ڈائجسٹ کے لیے لکھنا چاہتی ہوں اُن کو پتا ہے کہ اصل ناولز ہوتے کونسے ہیں۔حوریہ لکھنا بند کرتے خوریہ کو بتاتی گئ جو خوریہ بڑی سنجیدگی سے سُن بھی رہی تھی

“تمہاری ابھی عمر ایسی نہیں جو تم یہ باتیں کسی سے بھی ڈسکس کرو دیکھو حور میں نے تمہارے ناول لکھنے کا گھر میں کسی کو نہیں بتایا تمہارے کہے کا مان رکھا ہے پر تم دوبارہ ایسی کوئی بھی بات کرن یا کسی اور سے مت کرنا”کہتے ہیں اپنی گفتگو کو بھی پاک رکھنا چاہیے نہیں تو حیا کم ہوتی ہے اور ایک چیز کا پردہ لڑکیوں کو ہمیشہ رکھنا چاہیے۔خوریہ اُس کی بات کے احتتام پر سنجیدگی سے بولی تھی

“ہاں تو میں نے کب کسی سے کُھلے الفاظوں والی ایسی گفتگو کی میں نے بس کرن کا نظریہ بتایا اور ناول لکھنے میں اماں ابا کو نہ لایا کرو میں کوئی گُناہ والا کام نہیں کرتی لیکن جب تم ایسے بولتی ہو تو خوامخواہ ایسے لگتا ہے جیسے میں کوئی گُناہ والا کام کرتی ہو۔۔حوریہ ناراض لہجے میں بولی

“چُھپ کر کام تو گُناہ والے ہوتے ہیں۔۔خوریہ نے سرسری لہجے میں کہا

“صرف گُناہ والے نہیں جب والدین کا ہاتھ سر پہ نہ ہو تو اولاد اپنی زندگی میں ہر کام چُھپ کر کرتی ہے اِس ڈر سے کہ اُس کو بلاوجہ کی روک ٹوک کا سامنا نہ کرنا پڑے”اگر ابا ہمیں اعتماد میں لیتے تو یقین کرو اپنا ہر لکھا ابا کو سُناتی جب پہلا ناول شعاع ہوتا تو خوشی سے پہلے ابا کو دیکھاتی لیکن ہماری ایسی قسمت کہاں۔حوریہ حسرت بھری سانس خارج کرتی بولی

“لو کھول لیا تم نے اپنے دُکھو کا پٹوارا۔۔خوریہ اُس کو تاسف سے دیکھ کر اپنے گلے سے ڈوپٹہ اُتار کر بیڈ پر ٹانگیں سیدھی کیے لیٹ گئ

“میری چھوڑو اور یہ سُنو کہ تمہاری دوست میہوش نے مجھے کال کیا تھا تم شاید اُس کا کال ریسیو نہیں کررہی تھی”خیریت ہے نہ کوئی لڑائی وغیرہ کا سین ہے تو بتاؤ میں صلح کروالیتی ہوں۔۔۔حوریہ نے پیش کش کی

“اماں نے منع کیا ہے اُس سے بات کرنے کا کیونکہ اب اُس کی شادی ہوگئ ہے اور اماں کا ماننا ہے جب دوست کی شادی ہوجائے تو اُس سے بات چیت کم کردینی چاہیے کیونکہ پھر اُس دوست کے پاس سِوائے اپنی میریڈ لائیف ڈسکس کرنے کے اور کچھ نہیں ہوتا”اور جب میری شادی ہو تو میں بھی ایسا کروں بس اپنا وقت گھرداری میں لگاؤں۔۔خوریہ نے بتایا تو حوریہ ہونک بنی اُس کا منہ تکنے لگی جس نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے آنکھیں موندی ہوئیں تھیں

“بڑی کوئی عجیب متفق ہے”شکر ہے ایسے نادر خیالات ابا کے دماغ میں نہیں آئے ابھی تک ورنہ تو وہ ماہرہ اور ماریہ آپیا سے بات کرنے بھی نہ دیتے میں تو بھئ آج نماز کے بعد دو شکرانے کے نفل ادا کروں گی۔۔حوریہ جھرجھری سی لیکر بولی

“بُری بات ہے حور۔۔خوریہ نے اُس کو ٹوکا

“بہت بُرا لوجک ہے اب یہ کیا بات ہوئی”خیر میں یہ اپنے ناول میں ضرور لکھوں گی کہ جب آپ کی دوست کی شادی ہوجائے تو اُن سے قطعیً تعلق ہونا چاہیے کیونکہ اُس دوست کے پاس سِوائے میریڈ لائیف ڈسکس کرنے کے کچھ اور نہیں ہوتا”اور یار میں کبھی کبھار سوچتی ہوں کہ اگر میں اپنے گھر کے حالات اور ماحول مطابق ناول لکھوں گی نہ تو ہر پڑھنے والا ہنسے گا اور مذاق اُڑائے کا کہ جانے کیسا جاہلانہ سوچ رکھنے والا خاندان ہے۔۔۔حوریہ نے ہنس کر کہا

“جب سے تم نے لکھنا شروع کیا ہے نہ ہر ایک چھوٹی سی چھوٹی بات جو آس پاس ہوتی ہے تم نے اُس کو اپنے ناول میں لکھنا ہوتا ہے”رائٹرز شہر شہر مُلک مُلک گھومتی ہیں اور وہاں کہ خوبصورت نظارے اپنی نوٹ بُک میں لکھ کر اپنے ناولز میں ایڈ کرتیں ہیں اور ایک تم ہو جو جانے کیا سوچتی ہو۔۔خوریہ نے جیسے اُس کی عقل پر ماتم کیا

“بی بی شہر شہر مُلک مُلک گھومنے کے لیے جیب میں پیسوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے خالی جیب والوں کو تو لوکل بس میں جگہ نہیں ملتی اور جن رائٹرز کی تم بات کررہی ہو نہ وہ بڑی رائٹرز ہیں اگر میں بھی اُس مقام پر آئی تو دیکھنا میں بھی ایسے کروں گی۔۔”کبھی آمریکہ تو کبھی لندن”کبھی آسٹریلیاں تو کبھی دبئ”کبھی نیویارک تو کبھی

“اچھا بس بس میں جان گئ اِتنا تفصیل سے بتانے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔۔حوریہ خیالوں میں گُم اُس کو بتاتی جارہی تھی جب خوریہ نے اُس کو بریک لگائی تھی

“میں ایسا کروں گی۔۔۔حوریہ نے منہ بسورا

“یونی اُوپن ہے نہ تمہارا سُنا ہے یونی میں بڑے بڑے گھروں کے خوبصورت امیر ترین لڑکے پڑتے ہیں تم نہ اُس کی شخصیت کو دیکھ کر اپنے ناولز میں لکھنا ویسے بھی تم کہتی ہو نہ تمہیں خوبصورتی بیان کرنے میں مسئلہ پیش آتا ہے تو بھئ تمہارا یہ مسئلہ تو حل ہوگیا۔۔۔خوریہ نے اپنے ہاتھ جہاڑے

“میں وہاں پڑھنے جاؤں گی لڑکوں کو تاڑنے نہیں اور کیا پتا کسی ایک سے مجھے محبت ہوگئ تو پھر؟حوریہ کو جیسے اُس کی بات کچھ خاص پسند نہیں آئی

“تو پھر تم ابا کے آگے اُس کو لانا پہلے وہ اُس کا کام تمام کرینگے پھر تمہارا۔۔خوریہ نے ہنسی دبائے کہا

“یونی میں ہر کوئی میری طرح اسکالرشپ پر نہیں آیا ہوگا بلکہ اپنے باپ کے پیسوں سے آیا ہوگا یعنی بڑے پہنچے ہوئے خاندان سے ہوگا خیر جو ہوگا نہیں اُس کے بارے میں سوچا کیوں جائے”ویسے ہماری بڑی بہنوں کے بھی ڈبل اسٹینڈر ہوتے ہیں پہلے تم نے کہا ایسی باتیں نہ کرو عمر نہیں ہے تمہاری بے حیائی پھیلتی ہے گفتگو کا بھی پردہ ہوتا ہے اور اب تم مشورے دے رہی ہو کہ میں لڑکوں کو دیکھوں کتنی بُری بات ہے۔۔۔حوریہ بات کرتے کرتے آخر میں افسوس بھرے لہجے میں بولی تو خوریہ نے ایک کشن اُٹھاکر دے مارا

“میں اپنے وقت کی مشہور رائٹر بنوں گی اور گھر میں میری یہ عزت ہے۔۔حوریہ تو جیسے تپ اُٹھی تبھی وہ کشن اُٹھاکر اُس کی طرف پھینکا

“بنی نہیں ہو ابھی جب بن جاؤ پھر کہنا۔۔خوریہ نے جیسے جتایا تو حوریہ اُس کو گھورتی اپنے کام کی طرف متوجہ ہوئی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *