Salam Ishq by Rimsha Hussain NovelR50581 Salam Ishq (Episode 21)
Rate this Novel
Salam Ishq (Episode 21)
Salam Ishq by Rimsha Hussain
“ڈرائیونگ سیٹ سنبھالنے کے بعد آتش نے پہلے پہل گہری سانس بھر کر خود کو کمپوز کیا” پھر انجانے راستوں میں گاڑی ڈرائیو کرنے لگا” کیونکہ وہ جانتا تھا۔ ۔”میڈیا والے ابھی تک اُس کی تاک میں ہوگے” اور پھر جو اُس نے کیا تھا اُس پر تو ایک الگ تہلکہ مچ گیا ۔ہوگا۔ ۔”
“گاڑی میں دونوں کے درمیاں ایک الگ قسم کی خاموشی تھی” دونوں میں سے کسی نے بھی خاموشی کا قفل توڑنے کی کوشش نہ کی تھی۔ “ایک اقدس تھی جو خاموش آنسو بہانے میں مصروف تھی تو دوسرا”آتش تھا جو اسٹیرنگ پر ہاتھ کی گرفت کو مضبوط کیے اپنے اندر اشتعال کو دبانے کی کوشش کررہا تھا۔”وہ بہت کوشش کرتا تھا کہ خود پر اور اپنے غُصے پر قابو پائے لیکن ایسا ضرور ہوتا اُس کی زندگی میں جس وجہ سے وہ آپے سے باہر ہوجاتا
“ہم کہاں جارہے ہیں؟اقدس کی حالت تھوڑی بہتر ہوئی تو ونڈو سے باہر انجانے راستوں کو دیکھتی وہ گردن موڑ کر آتش کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“اپنے گھر کا ایڈریس بتاؤ۔۔”تمہیں میں وہاں ڈراپ کروں۔۔۔جواب میں آتش نے سنجیدگی سے یہ کہا تو ایک بار اقدس نے ونڈو سے باہر دیکھا جہاں کسی بھی زے روح کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔”شاید وہ بہت دور گاڑی کو لایا تھا۔۔۔”یا وہ ٹھیک سے کچھ جانتی نہ تھی
“تم مجھے واپس مال چھوڑ آؤ۔۔”ہمارے گھروالے پریشان ہورہے ہوگے۔۔۔اقدس نے کہا تو گاڑی کو اچانک ایک جھٹکا لگا تھا۔
“آر یو میڈ؟”اِتنا ہونے کے بعد بھی تم گھر جانے کے بجائے واپس مال کا رُخ کرنا چاہتی ہو۔۔۔آتش کو جیسے یقین نہ آیا
“ہم گھر نہیں جاسکتے یوں اکیلے”اِس لیے تم سے بولا ویسے بھی ہمیں کسی نے دیکھا نہیں تھا۔”تم مال سے کچھ دور گاڑی روکنا باقی کا راستہ ہم پیدل جائے گے۔۔اقدس نے اُنگلیاں چٹخاتے ہوئے کہا تو آتش کو یاد آیا کہ جس کو اُس نے پہلی بار دیکھا تو وہ کوئی اور تھی”اور اب جو اُس کے سامنے بیٹھی تھی” وہ تو کوئی اور تھی جس کے چہرے پر خوف کے سائے تھے۔۔”
“کیا ہر لڑکی اپنی عزت کے لیے اِتنا سینسٹو ہوتی ہے۔۔؟اقدس کے کپکپاتے ہاتھوں کو دیکھ کر بے اختیار اُس کے دماغ میں یہ سوال آیا تھا
“تمہیں اب خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں” میں ہینڈل کرلوں گا سب کچھ۔ ۔”تم پر یا تمہاری عزت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ ۔۔۔آتش نے اُس کو تسلی دی۔۔”جانے کیوں لیکن وہ نہیں تھا چاہتا کہ وہ پریشان ہو” شاید اُس کی وجہ سے سامنے بیٹھی لڑکی کی امیج خراب ہونے لگی تھی۔
“تم پھر مجھے مال چھوڑ آؤ۔۔۔اقدس نے اُس کی طرف دیکھ کر کہا تو غیرشعوری طور پر آتش کی نظریں جو اُس کے چہرے کا طواف کررہی تھیں”اُس کی نظریں بھٹک کر اقدس کے گال پر موجود کِٹ کے نشان پر گئ۔جو کافی گہرا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے تازہ ہو
“کیا تم پر کسی نے کانچ کا وار کیا تھا یا پھر تمہارا چہرہ کسی کانچ سے ٹکرایا تھا؟”نشان کافی پکا معلوم ہورہا ہے”ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی نے خاص اِس مخصوص جگہ کو چُن کر نشانہ بنایا ہوا تھا۔ ۔”تبھی کٹ پھیلا ہوا نہیں ہے۔ ۔اگر گِرنے سے ہوتا تو اِتنی صفائی سے بس ایک جگہ پر نہ ہوتا۔ ۔۔آتش تجسس کے مارے اُس سے پوچھنے لگا تو اقدس نے چونک کر اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر آتش کو دیکھا جس کی نظروں میں اُس کٹ کو دیکھ کر سوائے جاننے کا تجسس اور اشتیاق کے کچھ اور نہ تھا۔ “عموماً جیسے پہلی بار کوئی دیکھتا تو یا اُن نظروں میں” ترس” ہمدردی ہوتی یا پھر اُن کے چہرے کے تاثرات بِگڑ جاتے ناگواری میں ڈھل جاتے” لیکن آتش کے چہرے کے نہ تو تاثرات بِگڑے تھے اور نہ اُس کی آنکھوں میں یہ نشان دیکھ کر کوئی ہمدردی ہلکورے کھارہی تھی” اگر اُس کے چہرے پر کچھ ظاہر تھا تو بس جاننے کا تجسس تھا۔ ۔
“یہ ہمارے سوال کا جواب نہیں اور نہ یہ جاننا تمہارے لیے ضروری ہے۔ ۔۔اپنی چادر کو چہرے پر سہی کرتی اقدس سنجیدگی سے بولی تو آتش جو کافی باریک بینی سے اُس نشان کا جائزہ لے رہا تھا۔”اقدس کی اِس حرکت پر وہ اُس کو گھورنے لگا جس نے اپنا چہرہ کور کرلیا تھا۔
“انتہا کی بے مروت لڑکی ہوں” میں نے تمہیں سیو کیا” تمہیں پروٹیکٹ کیا۔۔اور اب تم بجائے میرے شکر گُزار ہونے کے اٹیٹیوڈ دیکھا رہی ہو۔ ۔آتش تپے ہوئے لہجے میں اُس سے بولا
“ہم نے تمہیں کوئی اٹیٹیوڈ نہیں دِکھایا” ہمیں بس پسند نہیں کہ کوئی ہمارے پرسنلز میں گُھسے۔ ۔اقدس نے سنجیدگی سے جواب دیا
“اوو ریئلی”لیکن جو تم میرے پرسنلز میں گُھسی اُس کے بارے میں کیا کہنا چاہوں گی۔ “مس ہم ہم “عرف چشمش پلس راجکماری؟ آتش نے طنز انداز میں اُس سے کہا
“ہم آپ کے پرسنلز میں کب گُھسے؟اقدس کو حیرانگی ہوئی
“اِتنی معصوم مت بنو ابھی جو سارا رائتہ پِھلا ہوا ہے نہ وہ تمہاری بدولت ہوا ہے۔ نہ تم چینجنگ روم میں آتی اور نہ یہ سب کچھ ہوتا۔ ۔آتش نے کہا تو اقدس کا چہرہ لال ہوا تھا
“ہماری غلطی نہ تھی تمہاری غلطی تھی۔”اگر آپ کو اپنے پرسنلز کا اِتنا خیال ہے تو دروازے کو لاک لگانا چاہیے تھا۔ ۔’ورنہ ہمیں کوئی الہام تھوڑئی ہونا تھا۔اقدس اپنا دفاع کرکے بولی
“میں نہ لڑکا ہوں اگر مجھے کوئی اور یا تم دیکھ بھی لیتی تو ٹرسٹ می” مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا” کیونکہ میری باڈی ہے ہی دیکھنے لائق اُس کو چُھپاکر میں اُس کے ساتھ زیادتی قطعیً نہیں کروں گا۔”پر تمہیں دروازہ ناک کرکے آنا چاہیے تھا ۔آتش نے سرجھٹک کر شوخ لہجے میں کہا تو اقدس کافی عجیب نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی۔
“مال کے چینجنگ روم میں اگر کوئی جاتا ہے تو وہ ناک تو نہیں کرتا۔ ۔اقدس کو اُس کی بات کو عجیب لگی تبھی اُس کو حیرت سے دیکھ کر بولی
“ایسے مت دیکھو۔۔”اور میں لڑکا ہوں تم لڑکی ہوں” اگر چینجنگ روم میں ناک کرنا تمہیں مشکل لگتا ہے تو اینٹر ہونے کے بعد جھٹ سے لاک لگانے سے بہتر ہے کہ پہلے دیکھو کہ اندر آلریڈی کوئی موجود تو نہیں۔۔”میری جگہ وہاں کوئی اور بھی ہوسکتا تھا”جو میری طرح نیک اور شریف تو بلکل بھی نہ ہوتا۔ ۔آتش نے سنجیدہ بات کرنے میں بھی خود کی تعریف کرنا ضروری سمجھا تھا”جس پر اقدس جو غور سے اُس کی بات کو سُن کر دل ہی دل میں شرمندہ ہورہی تھی اُس کی آخری بات پر اُس کو ایسے دیکھنے لگی جیسے بول رہی ہو کہ” نیک اور شریف تم” چھوڑو جانے دو ایسی مذاق کی باتیں
“ہم آگے سے خیال رکھیں گے۔۔۔اقدس نے محض اِتنا کہا
“تمہیں خیال رکھنا چاہیے بھی کیونکہ بہت پُرانی بات ہے” کسی سے سُنا تھا کہ ایک عورت کی عزت کانچ کی چوڑیوں کی طرح نازک ہوتی ہے۔ ۔آتش آج انداز ہی نرالہ تھا
“گاڑی کو ریورس کرو اب تم۔ ۔اقدس نے کہا
“ڈونٹ وری یہاں تمہیں کھاجانے کی نیت سے نہیں لایا میں۔۔۔”آتش لُغاری ہوں میں اور میرا ٹیسٹ اِتنا بُرا بھی نہیں۔ ۔۔آتش عجیب نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا تو بے ساختہ اقدس نے اپنی چادر کے دامن کو مضبوطی سے پکڑا تھا”جبکہ آتش کا اِرادہ اب واپس مال جانے کا تھا۔ ‘کیونکہ وہ اقدس سے مزید بحث میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔
“اب یہاں گاڑی کیوں روک دی؟آتش نے اچانک ایک جگہ گاڑی روکی تو اقدس نے سوال کیا”کیونکہ جہاں آتش نے گاڑی کو روکا تھا وہاں چھوٹی سی دُکانیں تھیں جہاں دکان کے باہر کچھ چادریں اور کپڑے لٹکے ہوئے تھے۔۔”اور کچھ “اسٹالز” تھے جہاں رنگی برنگی چوڑیاں موجود تھیں۔ “اِس جگہ میں ایسی چیزوں کو دیکھ کر اقدس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ آخر اپنے ساتھ یہاں کیوں لایا تھا
“ویٹ کرو۔ ۔آتش اُس سے اِتنا کہتا سیٹ بیلٹ کھول کر گاڑی سے باہر نکلا تھا”اقدس جبکہ گاڑی میں بیٹھتی اُس کو جاتا دیکھنے لگی جو ایک دکان پر گیا تھا جہاں زنانہ کپڑے موجود تھے اور باہر چادریں تھیں۔ ۔۔
“ٹھیک پانچ منٹ بعد آتش دوبارہ گاڑی میں بیٹھا تھا اور ہاتھ میں پکڑا شاپر اُس کی گود میں رکھا تو اقدس کبھی چونک کر شاپر کو دیکھتی تو کبھی دوبارہ گاڑی ڈرائیو کرتے آتش کو” جس کا دھیان سڑک پر تھا
“یہ کیا ہے؟ اقدس نے بلآخر خود ہی سوال کیا
“کھول کر دیکھ لو۔ ۔آتش نے کہا تو اقدس نے ایک نظر اُس پر ڈال کر وہ شاپر کھولا تو نظر ایک چادر پر پڑی جس میں شیشے لگے ہوئے تھے اور وہ نہایت خوبصورت تھی۔ ۔
“یہ چادر؟اقدس شاپر سے چادر کو نکالتی سوالیہ نظروں سے آتش کو دیکھنے لگی
“چادر چینج کرلوں۔ ۔”تمہارا چہرہ سامنے نہیں آیا لیکن تمہارا عکس تھوڑا بہت اُس میں آیا ہے اور میں نہیں چاہوں گا کہ دوبارہ مال میں تم اِس چادر میں جاؤ۔۔”کیونکہ وہاں کے کچھ لوگوں نے تمہیں دیکھا ہوگا میرے ساتھ باہر جاتے ہوئے۔۔۔آتش نے کافی سنجیدگی سے اُس کو جواب دیا تو اقدس مشکور نگاہوں سے اُس کا خوبصورت چہرہ دیکھنے لگی جو نظر تو بہت لاپرواہ آتا تھا پر وہ تھا نہیں۔۔”جس چیز کے بارے میں اُس کو خود سوچنا چاہیے تھا اُس کے بارے میں آتش نے سوچا تھا
“شکریہ۔۔۔اقدس نے تشکرانہ لہجے میں کہا
“مال کا راستہ قریب ہے میں گاڑی روکنے لگا ہوں۔۔”تم جلدی سے یہ پہن لو۔۔اور وہ اُتار دو۔۔۔آتش نے کہا تو اقدس کشمکش میں مبتلا ہوگئ
“ہم آپ کے سامنے چادر کیسے بدل سکتے ہیں؟اقدس کے لہجے میں پریشانی تھی
“محترمہ میں اپنے سامنے تمہیں کپڑے بدلنے کے لیے نہیں بول رہا”جسٹ چادر چینج کرنے کو بول رہا ہوں۔۔۔آتش نے اُس کی بات پر خاصے تپے ہوئے انداز میں کہا تو اقدس آنکھیں پھلائے اُس کو گھورنے لگی جو بات کرتے ہوئے شاید زرا برابر بھی نہیں سوچتا تھا تبھی اِتنی بے باک بات اُس نے آرام سے بول دی تھی وہ بھی ایک لڑکی سے
“تم کتنے بے شرم ہو نہ۔۔اقدس کو اُس پر تاؤ آیا
“میرے شرمیلے ہونے سے تمہیں کیا فائدہ ہوگا؟”اپنی بہن کی شادی کروانی ہے کیا مجھ سے؟جواب میں آتش نے اُس کو تپانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی
“تم گاڑی سے باہر نکلو ہم یہ چادر اُوڑھ کر پھر آجائے گے۔۔اقدس نے اُس کی بات کو اگنور کرکے کہا
“مس شرم حیا کا پیکر میرا بی پی ہائے مت کرو۔۔”ویسے بھی میں بھی تو تمہارے سامنے شرٹ لیس کھڑا تھا اب تم بھی چادر چینج کرسکتی ہو میرے سامنے”میں بُرا نہیں مانوں گا۔۔”حساب برابر ہوجائے گا۔۔۔آتش کی ایسی باتوں سے اب اقدس کا بی پی ہائے ہونے لگا تھا۔
“پکڑو اپنی چادر ہمیں نہیں چاہیے۔ ۔اقدس نے وہ چادر اُس کی طرف پھینکی تو آتش نے گاڑی کو سائیڈ پر روک کر اپنا رُخ اُس کی طرف کیا تھا
“میرے یہ کسی کام کی نہیں اور بے فکر ہوجاؤ میں نکل رہا ہوں”اور تم بھی زرا گاڑی سے جلدی باہر آنا تمہاری منزل پہنچ گئ ہے۔۔۔آتش تاسف سے اُس کو دیکھ کر کہتا گاڑی سے باہر نکل گیا تو سرجھٹک کر اقدس ونڈو کے شیشے چڑھاتی اپنی اوڑھی چادر کو اُتار کر آتش کی دِلائی چادر کو اُوڑھ کر وہ باہر آئی جہاں آتش اُس کے انتظار میں تھا
“تم اب جاؤ۔۔اقدس نے باہر آکر اُس سے کہا تو آتش نے سرتا پیر غور سے اُس کو دیکھا
“یہ چادر تم پر سوٹ کررہی ہے اگر پتا ہوتا تو دو تین چار اور بھی لے آتا۔۔پہلے ستائشی لہجے میں کہتا آخر میں آتش نے جیسے افسوس کا اِظہار کیا تھا
“یہ کتنے کی ہے ہم تمہیں اِس کے پیسے دے دینگے۔۔اقدس نے جواب میں جو کہا اُس کو سُن کر آتش خاصا بدمزہ ہوا تھا
“میرے پاس پیسوں کی کمی نہیں۔۔آتش نے گویا جتایا تھا
“اچھی بات ہے لیکن یہ چادر لینا اگر ہماری مجبوری نہ ہوتی تو ہم کبھی آپ سے نہ لیتے۔۔اقدس نے سنجیدگی سے کہا
“ابھی مال جاؤ تمہارے گھروالے تمہارے انتظار میں کھڑے ہوگے۔۔۔”اور ہاں ایسی خودداری کا دوبارہ مُظاہرہ تب کرنا جب ہاتھ میں پیسے ہو۔۔آتش اُس کے خالی ہاتھوں کو دیکھ کر طنز کہا تو اقدس بھنا اُٹھی تھی۔”اُس کو کم وقت میں اندازہ ہوگیا کہ یہ بندہ بات کرتے ہوئے زرا بھی کسی کا لحاظ نہیں کرتا تھا۔۔”تبھی تو منہ پھاڑ کر اُس سے ایسے کہا ورنہ کوئی بھی لڑکا کسی بھی لڑکی سے یوں مُخاطب نہیں ہوتا تھا۔
“تم زرا بھی کسی سے بات کرتے ہوئے سوچتے نہیں۔ ۔اقدس نے سخت لہجے میں اُس سے پوچھا تھا
“جی کیونکہ میں تمہارا یا کسی اور کا سِیوک نہیں ہوں۔ ۔”اور نہ میں کسی سے ڈرتا ہوں میں آتش ہوں” آتش لُغاری جس کے لیے ایک دُنیا مرتی ہے۔ ۔۔آتش کے لہجے میں غرور جھلک رہا تھا۔ ۔
“تمہیں پتا ہے تم شکل سے کافی مہذب گھرانے سے لگتے ہو۔ ۔”لیکن جب تم اپنے منہ کو کھولنے کی زحمت دیتے ہو نہ یقین کرو” کسی سڑک چھاپ گھرانے سے تمہارا تعلق ظاہر ہوتا ہے۔ ۔اقدس خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی”اُس کو آتش کا ایسا تکبر بھرا انداز پسند نہیں آیا تھا۔ ۔
“سڑک چھاپ گھرانہ کول۔۔آتش اپنی بیئرڈ پر ہاتھ پھیرتا ہنس پڑا لیکن پھر بولا
“تمہاری نظریں” تمہارا انداز کافی پُہنچا ہوا معلوم ہورہا ہے۔ ۔”میری مانو مورچا بناکر “گلے میں مالائیں پہن کر اور ہاتھوں میں تسبیح پکڑ کر اُس میں بیٹھ جاؤ۔۔”ٹرسٹ می دور دور سے لوگ تم سے اپنی شُناخت جاننے کے لیے آئے گے۔۔”اور تم بیٹھے بیٹھے کڑور پتی بن جاؤ گی۔۔۔اُس کی ایسی بے تُکی بات پر اقدس بس اُفسوس بھری نظروں سے اُس کو دیکھتی رہ گئ یہ نہ بتا پائی کہ “وہ ایک زمیندار سردار کی پہلی اور لاڈلی بیٹی ہے جس کے پاس پیسوں کی کمی نہیں اور نہ اُس کے ایسے مشوروں کی۔۔
“ہمیں جانا چاہیے۔ ۔اقدس اِتنا کہتی جانے کے لیے پلٹی
“سُنو۔ ۔آتش نے اُس کو جاتا ہوا دیکھا تو اچانک سنجیدگی سے آواز دی
“کیا ہے؟اقدس کو لگا شاید اُس نے کوئی سیریس کام والی بات کرنے کے لیے آواز دی ہوگی۔
“تمہیں مجھ میں کیا چیز اٹریکٹو لگی؟ “ویسے تو میں پورا اٹریکٹو بوائے ہوں۔ ۔”پر آج تم نے مجھے شرٹ لیس دیکھا تو کیا پسند آیا؟”میری باڈی کی بناوٹ” میرے سکس پیکس” یا پھر میرے مسلز۔۔”ویسے میری نابی بھی بہت پیاری ہے۔ ۔۔آتش کے پوچھے جانے سوالوں پر”اقدس گِرنے کے در پر تھی۔ ۔”اُس کو بس اب جیسے یقین ہوگیا کہ یہ انتہا کا بے شرم انسان تھا تبھی تو دانت نچلے ہونٹ پر دبائے ایسے رسیلے انداز میں ایک لڑکی سے ایسے سوالات پوچھ رہا تھا۔ ۔
چھی یک بے حیا انسان۔ ۔۔اقدس اُس کو نئے القابات سے نوازتی رُکی نہیں تھی جبکہ پیچھے آتش کا چھت پھاڑ قہقہقہ گونجا تھا
“ویری کیوٹ لیڈی۔ ۔۔اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرے اقدس کا ہوائیاں اُڑا چہرہ یاد کرکے آتش بے اختیار بڑبڑایا تھا

مال داخل ہوکر اقدس نے اپنا رویہ نارمل رکھا تھا۔ “اور یہاں آکر اُس کو کچھ عجیب نہیں لگا”ہر کوئی اپنے کام میں مصروف تھا” جیسے تھوڑی دیر پہلے یہاں کچھ ہوا ہی نہ ہو
“آپو یار آپ یہاں ہو ہم لوگوں نے آپ کی تلاش میں پورا مال چھان مارا ہے۔ ۔۔اچانک اپنے پیچھے ماہا کی آواز کو سن کر اقدس کے چہرے پر سایہ آکر لہرایا تھا
“ہاں وہ ہم
“یہ چادر آپ نے کہاں سے لی؟ “بہت پیاری ہے”ماہا کو بھی چاہیے” بتائے نہ اور آپ کی پہلے والی کہاں گئ؟”کیا آپ نے ایک چادر کی تلاش میں خود کو غائب کرلیا تھا۔۔اقدس کوئی بہانا بنانے والی تھی لیکن اُس سے پہلے ماہا نے پوچھا تو اُس سے اب بھی کوئی جواب بن نہ پایا
“ہم نے یہ یہاں سے نہیں لی اور چادر کو چھوڑ یہ بتا باقی لوگ کہاں ہیں؟اقدس نے اُس کا دھیان بٹانا چاہا
“وہ لوگ مال کے پارکنگ ایریا میں ہیں۔”سب نے شاپنگ کرلی ہے بس آپ کا انتظار تھا اور کیا آپ نے ابھی تک کچھ لیا نہیں؟”یا پھر کاؤنٹر کے یہاں چھوڑ آئیں ہیں؟اُس کے خالی ہاتھوں کو دیکھ کر ماہا نے سوال کیا
“ہمیں کچھ چاہیے نہیں تھا کپڑے ہیں”تم بس آؤ یہاں سے چلیں۔۔اقدس نے جیسے جان چُھڑوائی تھی
“ایسے کیسے ہم یہاں شاپنگ کرنے آئے تھے۔۔”اور ایک آپ ہیں جو بول رہی ہیں کہ کچھ بھی نہیں چاہیے۔ماہا حیران ہوئی تھی
“ماہی ہم نے بولا نہ اب تم کوئی ضد مت کرو۔۔اقدس نے بیزارگی کا مُظاہرہ کیا
“آئے پھر۔۔ماہا شانے اُچکاکر بولی تو اقدس نے گہری سانس بھری تھی








“لیڈی ڈیانا اپنی صدی کی حسیں ترین عورت تھیں” لیکن اُن کو اُن کے شوہر نے دوسری عورت کے لیے چھوڑدیا تھا۔ ۔”اور حیرت انگیز طور آجکل ہر لڑکی کے ذہن میں اِس بات کو بیٹھایا جاتا ہے کہ اگر وہ خوبصورت ہوگی تو اُس کا شوہر اُس کو چاہے گا۔ ۔”اُس کی ہر بات پر لبیک بولے گا۔ ۔”لیکن ایسا نہیں ہے۔ ۔”کسی مرد کو اپنے قابو میں کرنے کے لیے حسیں ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ ۔”مرد کو حیادار عورت چاہیے ہوتی ہے۔ ۔”جو اُس کی ہر بات کا ہر چیز کا خاص خیال رکھے۔ ۔”اُس کا ہر کام اُس کے کہے بغیر کرے۔ ۔”اُس کو اپنا ایسا عادی بنائے کہ اُس مرد کا اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور جگہ دل کبھی نہ لگے۔ ۔”ایک مرد چاہے تو عام نقوش والی لڑکی کے ساتھ بھی تاعمر اپنا رشتہ نبھاسکتا ہے۔ ۔”اُس کا وفادار رہ سکتا ہے۔ ۔”ظاہری خوبصورتی وقت کے ساتھ ڈھلتی جاتی ہے۔ ۔”لیکن جو سیرت ہوتی ہے وہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ ۔”لڑکی ہو یا لڑکا اُن کو اپنی خوبصورتی پر اِترانا قطعیً نہیں چاہیے۔۔”کیونکہ اُپر بیٹھا خُدا ہماری صورتوں کو دیکھ کر ہماری قسمت نہیں لکھتا۔ ۔”وہ کچھ اور سوچتا ہے اور یہ بعید کوئی نہیں جانتا اور نہ جان سکتا ہے۔۔”میرے ناول کی کہانی بھی کچھ یوں ہیں۔ “جہاں یہ دِکھایا جائے گا کہ اصل خوبصورتی کیا ہوتی ہے؟کسی کا چہرہ اچھا ہونا یا پھر کسی کا کردار خوبصورت ہونا۔ ۔”میری کہانی میں دو کردار ہوگے۔ “ایک حسین ترین اور دوسری عام نین نقوش والی سادہ لڑکی کی۔ ۔
“پیپر پر لکھ کر اُس نے اپنا قلم سائیڈ پر رکھا تھا اور اپنا سر ٹیبل پر گِرایا تھا
“کیا ہوا تمہاری کہانی کا احتتام ہوا”؟خوریہ نے چائے کا کپ اُس کے آگے رکھ کر پوچھا
“اِس بار کہانی لکھی نہیں جارہی۔۔۔حوریہ نے مایوسی سے بتایا
“وہ کیوں؟”تمہارے پاس تو کہانیوں کی کمی نہیں ہوتی” پلاٹ پتا ہوتا ہے بس ڈائیلاگز لکھنے کی دیر ہوتی ہے اور تم ہمارے خاندان کی وہ جینئس لڑکی ہو” جو ایک دن میں پوری کہانی کو سوچ لیتی ہے” ابتدہ سے لیکر احتتام تک۔ ۔خوریہ کو اُس کی بات جیسے سمجھ میں نہیں آئی تھی
“ادارے سے کوئی رسپانس نہیں ملا اور اِس درمیاں اگر میں اُن کو ایک اور کہانی بھیجتی ہوں تو یہ بھی ہاتھ سے چلی جائے گی۔ ۔حوریہ نے بتایا
“میری جاں مایوس مت ہو ابا جلدی دوپہر کی نماز ادا کرنے پاس والی مسجد میں جائے گے۔ ۔اُس کے بعد تم باآسانی سے ادارے کے آنر کو کال کرسکتی ہو میرا مطلب جو وہاں کی انتظامیہ ہوتی ہے۔ ۔”تمہیں بھی تو نمبر دیتے وقت یہ بولا گیا تھا نہ ایک بجے یا پھر دو بجے کے قریب بات ہوسکتی ہے تو آج کا دن اچھا ہے تم کال پر پوچھ لینا کہ تمہارے ناولز کا کیا بنا۔ ۔خوریہ نے کہا تو حوریہ نے چونک کر اُس کو دیکھا تھا
“ارے ہاں میں وہاں جا نہیں سکتی پر فون تو کرکے پوچھ سکتی ہوں۔ ۔حوریہ کے چہرے پر اچانک گہری مسکراہٹ نے احاطہ کرلیا تھا
“بلکل جی اب شکل کو سہی کرو اور چائے پیو میں تب تک دیکھتی ہوں کہ ابا گئے ہیں یا نہیں ورنہ ریسیور اور کریڈل یہی اُٹھالاتی ہوں۔ ۔خوریہ نے مزاحیہ انداز میں اُس سے کہا تو حوریہ ہنس پڑی تھی جبکہ خوریہ نے باہر کا رُخ کیا تھا۔
