Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Salam Ishq by Rimsha Hussain

آریان تم کہاں ہو؟میشا نے آریان کو نیچے نہیں دیکھا تو آواز دے کر پوچھا"کیونکہ اُس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ گھپ اندھیرے کی وجہ سے آریان اُس کو نظر نہیں آرہا یا پھر وہ تھا ہی نہیں
"آریان کیا تم زندہ ہو؟میشا نے پھر سے اُس کو آواز دی
"ہاں ابھی تک زندہ ہوں لیکن اگر تم بیوہ بننا نہیں چاہتی تو جلدی سے میری مدد کرو۔۔اچانک آریان کی آواز سُن کر میشا کا دل اُچھل کر حلق تک آیا تھا"آریان کی آواز بہت بھاری تھی اور جب وہ اُونچی آواز میں بات کرتا تو ایسا لگتا جیسے گرج رہا ہو"پر اگر آہستہ آواز میں بات کرے تو ٹھیک تھا"دوسرا اُس کو اپنے سامنے کسی اور کی اُونچی آواز برداشت کہاں ہوتی تھی یا اُس نے کب کسی کو اِتنا موقع دیا تھا کہ کوئی اُس کے سامنے اِتنا بولے یا ایسے بولے
"تم ہو کہاں ڈفر؟میشا تھوڑا مزید جُھک کر کھڑکی کے نیچے دیکھنے لگی۔
"وہی ہوں جہاں تمہاری بٹن جیسی آنکھیں نہیں پُہنچ پارہی اندھی نہ ہو تو۔۔آریان کی تپی ہوئی آواز سُن کر میشا کو تاؤ تو بہت آیا تھا لیکن یہ وقت تحمل مظاہری کرنے کا تھا تبھی اُس نے جانے کیسے خود پر ضبط کیا تھا
"اگر آج کے دن کسی کریم کا استعمال کرلیتے تو زیادہ نہیں تو اندھیرے میں تمہاری شکل ہی نظر آجاتی۔۔میشا نے طنز آواز میں اُس سے کہا
"جتنے گز بھر کر تم نے اپنے چہرے پر میک اپ تھوپا ہے نہ اُس کے باوجود اور اُس کے ساتھ تمہاری شکل اِتنی گوری نہیں لگ رہی تھی جتنا میں اِس وقت رات کی تاریخی میں بغیر کسی مصنوعی چیز کے گورا لگ رہا ہوں۔۔آریان نے سوچا جان جاتی ہے تو چلی جائے لیکن پُھلجڑی چھوڑنے کا موقع نہ جائے
"ہاں ہاں تم تو چاند کی طرح چمک رہے ہو اب بتاؤ گے بھی یا نہیں کہ ہو کہاں تم؟میشا طنز بولی
دو نمبری پولیس آفیسرنی پائمپ کے پاس لٹکا ہوا ہوں اگر وہ نظر آجاتا تو اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر میری مدد کرو۔۔آریان نے دانت کچکچاکر اُس سے کہا
"واٹ پائمپ؟میشا حیرت سے بڑبڑاتی تھوڑا مزید جُھکی تو اُس کو آریان پائمپ کو پکڑے لٹکتا ہوا نظر آیا یعنی اُس میں کوئی بعید نہیں تھا کہ اگر یہاں پائمپ نہ ہوتا تو آریان کی ہڈیوں کو آج ٹوٹنے سے کوئی بھی بچا نہیں سکتا تھا
"اگر دیدار کرلیا ہو تو مجھے بچانے کی سوچو میں مزید پائمپ کے آسرے لٹک نہیں سکتا۔۔آریان سراُٹھاتا اُس کو کھاجانے والی نظروں سے دیکھ کر بولا وہ دونوں بھی اپنی دُنیا کے عجیب قسم کا جوڑا تھا"جہاں دولہن (skeleton) کو سنبھالتی گِر پڑی تھی تو کبھی دولہا (skeleton) کے ڈر سے کھڑکی پھلانگتے ہوئے گِر پڑا تھا اور اب پائمپ کے آسرے تھا جس کی چکنائی سے بار بار اُس کے ہاتھ پھسل رہے تھے
"میرے ہاتھ اِتنے بھی لمبے نہیں جو تم تک پہنچ پائے۔۔میشا نے گویا اُس کی عقل پر ماتم کیا
"قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں تو تمہارے ہاتھ کیوں ٹیڈی ہیں؟"کیا تم قانون کے ساتھ وفادار نہیں؟"یا بس دس بیس فٹ کی زبان پالی ہوئی ہے جو مجھ تک تو کیا آس پاس ہر کسی تک ُپہنچ رہی ہے۔۔آریان جھنجھلاہٹ سے بھری آواز میں اُس سے بولا
اگر ایسا ہوتا تو تمہارا بھائی لائیٹیں مارتا ہوا ضرور آتا اور اگر واقعی میں تم چاہتے ہو تمہیں پائمپ سے لٹکتا ہوا کوئی نہ دیکھے تو مجھ سے زرا عزت سے بات کرو۔۔میشا نے جتاتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا
"جان بچ گئ تو کہی سے کسی عزت کو ڈھونڈ کر تمہارا شکریہ ادا کروں گا لیکن یار ابھی تو بچاؤ میرا سانس خُشک ہورہا ہے۔"اور پتا نہیں کس منحوس نے اِس پائمپ کو دھویا اِتنا نرم ہے کہ بار بار میرا ہاتھ پھسل رہا ہے۔آریان اُس سے کہتا آخر میں پائمپ کو گھورتی ہوئی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
"تمہارا کوئی حال نہیں میں کچھ کرتی ہوں۔۔میشا سرجھٹک کر اُس سے کہتی بیڈ سے چادر کو پکڑا۔۔"پھر کھڑکی کے پاس اُس کو مضبوط سے باندھتی باقی کا ایک سِرا نیچے پھینکا
"اِس کو پکڑ کر اُپر آنے کی کوشش کرو۔۔میشا نے جلدی سے اُس کو کہا
"کیا تم پاگل ہو؟"یا فلمیں زیادہ دیکھتی ہو میں اِس کو پکڑ کر کیسے آسکتا ہوں؟آریان کو میشا کا آئیڈیا بے تُکہ سا لگا اُس کو ڈر لگ رہا تھا اگر وہ چادر کو پکڑے گا تو کہی گِر پِڑ کر شادی کی پہلی رات شہید نہ ہوجائے
"جس طرح پائمپ کو اپنی محبوبہ سمجھ کر مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے ٹھیک ویسے اِس چادر کو بھی اپنی گرل فرینڈ سمجھ کر چپک جاؤ اور اُپر آنے کی کوشش کرو۔۔میشا نے دانت پہ دانت جمائے اُس سے کہا
"دیکھو اگر اب تم ایسی باتیں کروگی تو مجھے شرم آئے گی۔۔آریان اِس کرٹیکل حالت میں بھی باز نہیں آیا تھا۔
"اگر شرم زیادہ محسوس ہورہی ہے تو اُس میں ڈوب کر مرجاؤ۔۔میشا کا دل چاہ رہا تھا وہ اپنا سر دیوار پہ دے مارے عجیب صورتحال میں وہ پھسی ہوئی تھی"یہاں ایک طرف سارے دن کی تھکاوٹ سے اُس کا بدن چور تھا اور وہ آرام کرنا چاہتی تھی تو دوسری طرف ایک آریان تھا جو زندگی اور موت کے درمیان کھڑا ہونے کے باوجود بھی مسخراپن کرنے میں لگا ہوا تھا۔
"خیر میرا اِرادہ تمہیں بیوہ کرنے کا بلکل بھی نہیں ہے ابھی تو ہم دونوں کو مل کر بیس تیس بچے پیدا کرنے ہیں۔۔آریان کلمہ پڑھ کر چادر کو مضبوط سے پکڑے شوخ لہجے میں بولا تو میشا کا دل چاہا چادر کو جہاں اُس نے مضبوطی سے باندھا تھا وہاں سے اُس کو کھول کر آریان کو اُونچائی سے گِرائے جو کافی ڈھیٹ ہڈی تھا
"اِس کے سہارے اُپر آنے کی کوشش کرو۔۔میشا نے اُس کی بات کو اگنور کیا
"ہائے کُوالٹی وارئٹی کا یہ ایک فائدہ ہوتا ہے کہ آپ اچھے کپڑے والی چادر کو باندھ کر اچھے سے جھولا جھول کر اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرسکتے ہو۔۔آریان واقعی میں چادر سے چپکتا ایک پاؤ اپنا زور سے دیوار پہ مار کر یہاں وہاں جھولنے لگا تو میشا کا منہ حیرت کے مارے پورا کُھلا کا کُھلا رہ گیا تھا جو کسی بچے کی طرح جھولا جھول ایسے رہا تھا جیسے واقعی میں کوئی جھولا ہو یہاں اُس کے جان کے لالے پڑے ہوئے تھے اور وہاں اُس کو یہ چیز ایک ایڈوینچر کی پڑی تھی
"کیا تم پاگل ہو؟"اگر چادر پھٹ گئ نہ تو لیتے رہنا تم جھولا۔۔میشا نے اُس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا
"پاگل ہوں تبھی تو تم سے پہلی نظر میں پیار کیا ورنہ خود سوچو اور اپنے آپ کو آئینے میں دیکھو کہ کیا کوئی عقلمند انسان اپنے ہوش وحواسو میں رہ کر تم سے پیار کرسکتا ہے؟آریان اُپر چڑھنے کی آہستہ آہستہ کوشش کرتا اُس سے بولا
"تمہیں اُپر ہی آنا ہے اِس لیے مجھے مجبور مت کرو کہ میں اپنے ہاتھوں کی کُھجلی تمہاری پیٹھ کو مار کر ختم کروں۔۔میشا نے اُس کو وارن کیا
"جو آج تم نے میرے ساتھ کیا ہے نہ وہ اچھا بلکل بھی نہیں تھا"تمہاری وجہ سے میری ہڈیاں ٹوٹنے والی تھیں۔آریان نے کہا
"تو تمہیں کس نے کہا تھا کھڑکی کے پاس کھڑے ہونے کو اِتنا بڑا کمرہ تھا لیکن نہیں تم نے تو تیسمار خان کی نقلی کاپی بننا تھا۔۔میشا نے اُس کو اب بس تھوڑا دور دیکھا تو سیدھی ہوکر کھڑی ہوگئ
"اِس وقت تو مجھے اپنا آپ دھوم تھری والا عامر خان لگ رہا ہے۔۔آریان نے فخریہ انداز میں اُس کو بتایا اور اپنا ہاتھ اُپر کیا جو میشا نے آگے بڑھ کر تھام کر اُس کو ایک جھٹکا دیا تو اُس کا خود کا پاؤ پھر سے لہنگے میں اِٹکا تھا اور دوبارہ سے گِری تھی لیکن اِس بار اُس کو چوٹ پہلے کی نسبت زیادہ آئی تھی کیونکہ ایک تو اُس کا سر زور سے فرش پر لگا تھا دوسرا آریان کا بھاری وجود بھی اُس پہ گِرا تھا۔
"میرا سر۔۔میشا کراہ اُٹھی
"دیکھو اگر سر پہ گہری چوٹ آئی ہے تمہاری تو اور یاداشت چلی گئ ہے تو سب کچھ بھول جانا لیکن یہ مت بھولنا کہ آج ہمارا نکاح ہوا ہے وہ بھی تازہ ترین فریش سا۔۔آریان اُس کا گال تھپتھپا کر اپنی طرف متوجہ کرکے بولا تو میشا نے تنگ ہوکر ایک لات اُس کے پیٹ پہ مار کر دور کیا تو وہ اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھتا سائیڈ پہ گِرا پڑا تھا بلآخر آریان میشا کے ارتکاب کا حصہ بن چُکا تھا۔
"نہایت ہی کوئی بدتمیزی قسم کے انسان ہو بجائے میری طبیعت پوچھنے کے تمہیں بس یہ پڑی کہ میں نکاح نہ بھول چُکی ہوں۔۔میشا نے اُٹھ کر اُس کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا لیکن جواب میں آریان وہی لیٹتا ہنسی سے لوٹ پھوٹ ہونے لگا کیونکہ اُس کو اپنا پائمپ سے لٹکنا یاد تو نہیں آیا تھا ہاں البتہ میشا کا گِر کر عجیب وغریب حُلیہ ضرور یاد آیا تھا" جس پر اُس کی ہنسی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا تو دوسری طرف میشا کو لگا شاید وہ اپنی کچھ دیر قبل ہوئی حالت کے بارے میں سوچ کر ہنس رہا ہے" اِس لیے جہاں پہلے اُس کو ہنسنے کا موقع نہیں ملا تھا اب وہ بھی ہنس پڑی تھی"لیکن دونوں ہی ایک دوسرے کی ہنسی سے انجان تھے اگر اُن کو وجہ پتا لگ جاتی تو کوئی شک نہیں تھا کہ وہ دونوں ایک بار پھر لڑنے لگ جاتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *